پرعزم وژن، پر اثر مشن

الامین مشن، مغربی بنگال

سید شجاعت حسینی | آیت اللہ فاروق

مراری ریلوے اسٹیشن سے متصل روپرامپور گاؤں مغربی بنگال کا ایک پس ماندہ مقام ہے۔ جہاں آبادی مزدور پیشہ اکثریت پر مشتمل ہے۔ خواتین بیڑی بنانے کاکام کرتی ہیں ۔ ڈراپ آوٹ اور جہالت کے اس گھٹا ٹوپ ماحول میں جہاں کسی محروم بچے کے لیے تابناک مستقبل کاخواب دیکھنا بھی ناممکن لگتا ہے، ایک یتیم نوجوان نے حوصلوں کی روشن تاریخ رقم کی۔

چار سال کی عمرمیں والد اور والدہ کے سائے سے محروم ہوکر وہ یتیمی کی آزمائش سے دوچار ہوگیا۔ اپنے بھائی کے تعاون کے سہارے اس ہونہارنے اسکولنگ مکمل کی۔ اس کے بعدکامیابیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ میڈیکل انٹرنس میں نمایاں مقام، پوسٹ گریجویشن انٹرنس ایکزام میں اعلیٰ رینک، نارتھ بنگال میڈیکل کالج سے ایم ایس کی تکمیل، پیڈریٹک سرجری میں اختصاص کی صرف ۱۰ سیٹوں کے لیے سخت مسابقتی امتحان میں چوتھا رینک، گولڈ میڈل کے ساتھ اسپیشلائزین کی تکمیل، اور ملک کے نہایت معیاری اسپتال ایس ایس کے ایم کولکتہ کے پیڈریٹک سرجری ڈپارٹمنٹ میں اعلیٰ مقام!

ہادی الزماں کا حیرت انگیز تعلیمی سفر کسی افسانے سے کم نہیں ۔ یہ افسانہ بھی شاید ادھورا ہوتا اگر اسکولنگ کے بعد الامین مشن کی مخلصانہ سرپرستی ساتھ نہ ہوتی۔ سرزمین بنگال، الامین مشن کی رقم کردہ ایسی سیکڑوں داستانوں کی گواہ ہے۔

پس منظر اور قیام

بنگال کا سماجی وتاریخی منظرنامہ کئی تلخ تصویروں سے عبارت ہے۔ ململ اور ریشم کی صنعت، دیگر مقامی صنعتیں، بین الاقوامی تجارت اور وسائل کی کثرت نے سترہویں صدی سے قبل بنگال کو عالمی سطح پر ایک مالدارریاست کا مقام عطا کیا تھا۔ کئی مورخین نے لکھا کہ دنیا سلطنت بنگال کو the richest country to trade with کی حیثیت سے جانتی تھی۔ یہی سبب ہے کہ بنگال کے زرخیز علاقوں نے پے در پے پرتگالی، ڈچ، فرانسیسی، آسٹرین اور برطانوی نوآبادیاتی استحصال کا مزہ چکھا۔ کلکتہ کے راستے ہندوستان میں داخلے کے بعد بنگال انگریزی سامراج اور ان کی چالبازیوں کا دو سو سال تک تختہ مشق بنا رہا۔ نتیجتاً متحدہ بنگال کا شاداب اور وسیع علاقہ تیزی سے استحصال اور بے بسی کی ڈگر پر چل پڑا۔

بنگال اور متصلہ علاقے دوسری جنگ عظیم میں سامراجی کھلاڑیوں کی بربریت کا نشانہ بھی بنے۔ مرکزی شہر کلکتہ جاپانی ائیر فورس کی بمباری کا شکار ہوا۔ اس مصیبت کے فوری بعد صدی کے بدترین قحط نے بنگال کوبیکس کردیا اس کے بعد ۱۹۴۶ کے تباہ کن فسادات کا سلسلہ، تقسیم در تقسیم کا کرب،۱۹۷۱ جنگ کے اثرات اور ملکی سیاست کے داؤ پیچ۔ ان پیہم مصائب نے برصغیر کے اس زرخیز خطے کو خوش حال یاد ایام سے کوسوں دور کردیا۔

مسلمان ان مصائب کا زیادہ شکار ہوئے۔ بالخصوص تقسیم نے آبادی کے قابل عنصر کوغیر متناسب خانوں میں بانٹ کر رکھ دیا۔ نتیجتاً مغربی بنگال کے مسلم سماج کے حصے میں غربت، نیم خواندگی، تعصب، پست ہمتی اور سیاسی استحصال کی کڑوی سوغات آئی۔ ان جان فرسا حالات نے عزائم پر بھی سخت وار کیا اور کم و بیش ۳۰ سال کسی قابل ذکر اجتماعی کارگزاری کے بغیر بیت گئے۔

اس ماحول میں قوم کے چند محسنین نے ۱۹۷۶ میں ہاوڑہ ضلع میں ایک مدرسے کی بنیاد ڈالی۔ جسے حکومتی منظوری کے لیے مزید ۶ سال انتظار کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ شیخ حنیف، غلام حفیظ، ڈاکٹر معظم حسین، سابق رکن پارلیمان مرنال سین اور صنعت کار مشتاق حسین صاحبان کی انتھک محنت نے ادارے کو اپنے ابتدائی دور میں وژن اور وسائل کی مضبوط بنیاد فراہم کی۔ جناب نورالاسلام اس نوخیز مدرسے کے روح رواں تھے۔ سرکاری منظوری کے فوراً بعد انھوں نے مدرسے کے نصاب میں عصری علوم کی شمولیت کا آغاز کیا۔ اور ایک علیٰحدہ ادارے ‘‘انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر’’ کی بنیاد ڈالی۔ ۱۹۸۶ میں ادارے کی وسعت کے لیے نور الاسلام صاحب نے تحریک علی گڑھ کی تاریخ بنگال میں دہرائی۔ اس تعلیمی تحریک کو عوامی مشن بنادیا۔ گاؤں کے ہر گھرسے ایک مشت چاول کی مقدار بطور عطیہ جمع کی گئی اور ان پرخلوص اعانتوں کے سہارے ادارے کی عمارت تعمیر ہوئی جس نے دیکھتے دیکھتے ترقی کی سیڑھی پر ایک بھرپور جست لگائی۔

عوامی امنگوں کا امین ادارہ اپنی زبردست ترقی اور وسعت کے بعد آج الامین مشن کہلاتا ہے۔ آج اپنی نتیجہ خیز کار گزاری کی بدولت الامین مشن بنگال کے عوام کا ہی نہیں بلکہ کئی صنعت کاروں اور مخیر لوگوں کے اعتماد کا امین بھی ہے۔

وسعت، ترقی اور نتائج

۸۷۔ ۱۹۸۶ میں وژنری ٹیچر نورالاسلام صاحب نے محض ۱۱ طلبا سے ‘‘الامین مشن’’ کا آغاز کیا تھا اور آج اس مشن کے تحت ۶۰ سے زائد تعلیمی ادارے بنگال کے طول و عرض میں عمدہ نتائج کے پھل بانٹ رہے ہیں ۔ ۱۹۹۲ میں بوائز ہاسٹل، اور ۱۹۹۹ میں الامین مشن اسٹڈی سرکل کے قیام کے ساتھ مقابلہ جاتی کامیابیوں کی رفتار تیز ہوگئی۔ اسٹڈی سرکل کے ذریعے میڈیکل، سول سروس، اسکول سروس کمیشن وغیرہ مسابقتی امتحانات کی تیاری جدیدٹکنالوجی اور عصری سہولیات کے ساتھ یہاں فراہم کی جاتی ہے۔

آج الامین مشن کے مرکزی کیمپس میں ۱۳۰۰ سے زائد طلبا رہائش پذیر ہیں ۔ جملہ ۱۸ریزیڈنشیل کیمپسوں میں ہزاروں طلبا شب وروز محنت کے ذریعے الامین کے وژن کو حقیقت میں ڈھال رہے ہیں ۔

مشن کے تحت ۲۰ ہزارسے زائد طلبا تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ یہاں سے تعلیم پانے والے ہزاروں طلبا اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں ۔ ۳ ہزار ڈاکٹر، بے شمار قابل انجینیر، افسران، اساتذہ، پروفیسر، محققین اور پروفیشنل جیسے قیمتی انسانی وسائل کا تحفہ الامین نے بنگالی سماج اور ملک کو دیا۔ الامین مشن کے تحت تین درجن سے زائد پرائمری اسکول قائم ہیں ۔ ہائی مدرسہ اکزامنیشن کے ساتھ ویسٹ بنگال بورڈآف سیکنڈری ایجوکیشن کا نصاب یہاں رائج ہے۔

الامین مشن سے فیض پانے والے سیکڑوں طلبا ہرسال میڈیکل کالجوں میں داخلہ پاتے ہیں ۔ ان کی اوسط سالانہ تعداد۳۰۰ ہے۔ گذشتہ سال یہ تعداد ۴۰۰ سے تجاوز کرگئی۔ اس حیرت انگیز کامیابی نے کئی اخبارات کی سرخیوں میں جگہ پائی۔ الامین مشن کی نیک نامی اور اعتماد کا عالم یہ ہے کہ اگر بنگال میں میڈیکل و انجینئرنگ کے مقابلہ جاتی امتحانات کی بات ہو تو لوگ بلاتفریق الامین مشن کا ہی حوالہ دیتے ہیں ۔

سنٹر آف ایکسلنس فار ہائر اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، سوشل سروس یونٹ، الامین مشن میڈیکل ریسرچ سنٹر، ہیلتھ کیر یونٹس اکا قیام ادارے کے عزائم میں شامل ہے۔

ندرت اورانفرادیت

الامین مشن نے ایک چھوٹے مدرسے سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور آج شمال اور شمال مشرقی ہند کی ایک ممتاز اور منفرد تعلیمی تحریک کا مقام پاچکا ہے۔ شمالی ہند میں اس نوعیت کی تعلیمی تحریک کی کمی کا شدید احساس ہوتا رہا ہے جس کا اظہار دانشوران قوم اکثر کرتے ہیں ۔ الامین مشن اس حوالے سے نہ صرف ممتاز مقام رکھتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے سیکھنے کا ذریعہ اور اقدام کا محرک ثابت ہوسکتا ہے۔

الامین نے اپنی فیض رسانی کا دائرہ محدود نہیں رکھا۔ راست الحاق نہ رکھنے والے ادارے بھی مشن کے تجربات اور وژن سے مختلف اسکیموں کے تحت فیض پاتے ہیں ۔ یہ ادارے الامین سے اپنی وابستگی کا نمایاں اظہار بھی کرتے ہیں ۔

الامین مشن اکیڈمی ایک ایسا ہی پروگرام ہے جس کے تحت بنگال کے غریب ذہین اقلیتی طلبا کی تلاش کی جاتی ہے اور انھیں ضروری وسائل کی فراہمی کے ذریعے مین اسٹریم مسابقت سے جوڑا جاتا ہے۔ اس سے فیضیاب ہونے والوں کی کثیر تعدادغریب اور پس ماندہ گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے جنھیں مناسب تربیت میسر ہوجائے تو بآسانی مسابقت کی بازی مارلیتے ہیں ۔ ان طلبا نے ریاست میں اول مقام(۲۰۰۷) کے ساتھ ساتھ اعلیٰ رینک کی طویل فہرست کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کیا۔

زندگی نو کے لیے آیت اللہ فاروق سے بات کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری الامین مشن جناب نور االاسلام کہتے ہیں کہ الامین مشن محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ان طلبا کے لیے گھر اور خاندان بھی ہے۔ ہماری توجہات کا مرکز ہمیشہ غریب ذہین طلبا رہے۔ صرف علم سے آراستہ کرنا ہمارا مشن نہیں بلکہ کونسلنگ اور ہمہ جہت تربیت بھی ہماری خدمات کا حصہ ہیں ۔

الامین مشن بے روزگار نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کی اسکیمیں اور نتیجہ خیز پروگرام بھی رکھتا ہے۔

ایوارڈس اوراعزازات

الامین مشن ریاستی حکومت کے اعلیٰ اعزاز بنگا ببھوشن سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔

ملک کے معروف میڈیا گروپ دی ٹیلیگراف کی جانب سے دئیے جانے والے بیسٹ اسکول ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹ آف آنر کے کئی اعزازات کاالامین مشن مستحق ٹھہرا۔ قومی میڈیا ( بالخصوص ٹائمز آف انڈیا اور دی ٹیلی گراف ) نے کئی ستائشی مضامین الامین کی کارگزاری اور پس ماندہ طبقات کے طلبا کے لیے اس کی نتیجہ خیز کوششوں کے حوالے سے شائع کیے۔ ٹائمزآف انڈیا ( کولکتہ ) نے اپنی ۱۹ جون۲۰۱۵ کی اشاعت میں الامین مشن کی کامیابیوں کا تفصیلی ذکر کیا اور اس کی تعلیمی خدمات کو بے مثل قرار دیا۔

Its contribution to the arena of education is unparallel: TNN

امریکی ادارے ایفمی کے ۲۸ ویں بین الاقوامی کنونشن میں الامین مشن کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا۔

پیغام عمل

1  برطانوی خاتون ڈیبراگوڈارڈ نے ایک نگینہ جڑی انگوٹھی تقریباً ۱۰ پونڈ کی معمولی قیمت کے عوض خریدی تھی اور کچھ دن استعمال کے بعد اکتا کر چھوڑ دیا اور بھول گئی۔ ۳۳ سال بعد جب نظر پڑی تو معاشی مسائل سے پریشان ڈیبرا نے سوچا کہ بیچ دوں تو شایدچند پونڈ نصیب ہوجائیں ۔ جوہری نے دیکھ کر حیرت سے کہا کہ تم کہاں دس بیس پونڈ میں الجھی ہو، تمھیں پتہ بھی ہے کہ ایک خالص ہیرا تمھاری قسمت بدلنے کے لیے بے قرار ہے۔ چند سال قبل دی سن اور بی بی سی نے انگوٹھی کے نیلام کی خبر نشر کی تھی جس کے مطابق جوہر شناس نظروں نے ڈیبرا گوڈارڈ کو ساڑھے سات لاکھ پونڈ کی خطیر رقم سے نواز دیا۔

واقعہ یہ ہے کہ ڈیبرا گوڈارڈ سا پریشان حال ہمارا سماج بے شمارہیروں کو نگینہ مان کر قحط الرجال کا ماتم اٹھائے ہوئے ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہیروں کی نہیں جوہر شناس نظروں کی کمی ہے۔ بنگال میں یہ کام الامین مشن بساط بھر کررہا ہے۔ ٹو سرکل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق الامین مشن کے تحت زیر تعلیم طلباء میں ۲۵ فیصد وہ غریب بچے ہیں جو میرٹ معیار کے مطابق نہایت ذہین ہیں ۔ الامین انھیں منتخب کرکے مکمل مفت تعلیم فراہم کرتا ہے۔ مزید ۳۵ فیصد طلبا وہ ہیں جو نصف فیس اد اکرتے ہیں ۔ تعلیمی کمرشیلائزیشن کی پھیلتی وبا کے بیچ ایسے مخلصانہ اور بے لوث جذبے کی قدر لازمی ہےجس کے سہارے مستقبل میں ہم جدیدصلاحیتوں سے مالامال انسانی وسائل کی تمنا کرسکتے ہیں ۔

2  الامین مشن ایک اقلیتی ادارہ ہے۔ یہاں مسلم طلبا و طالبات کی اکثریت ہے لیکن پورے سماج کا اعتماد اسے حاصل ہے۔ کامیابیوں کے عمدہ ریکارڈ نے نہ صرف اسے احترام کے مقام سے نوازا بلکہ دیگر طبقات میں بھی مقبولیت بڑھائی۔ قیام کے ابتدائی دور میں الامین مشن کو معروف فلم ساز اور رکن پارلیمان مرینال سین کے بشمول دیگر علم دوست برداران وطن کا تعاون حاصل رہا۔ مین اسٹریم انگریزی میڈیا بھی اس کی خدمات کا معترف رہا۔ الامین کے معاونین کو حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس میں رعایت ( اکزیمپشن ) حاصل ہے۔

ایک تکثیری سماج میں تعاون و اشتراک کا مزاج اہم رول ادا کرتا ہے۔ اسی اپروچ کے ذریعے سماج کے مختلف طبقات میں قبولیت بھی حاصل ہوتی ہے اور قومی مسابقت کے معیار تک رسائی بھی ممکن ہوتی ہے۔

3 الامین مشن کی وسعت بھی حیرت انگیز ہے۔ بنگال کے تمام اضلاع میں موثر موجودگی درج کروانے کے بعدآسام، بہار، اتر پردیش اور دہلی میں پھیلاؤ کے عزائم لائق تحسین ہیں ۔ شمالی ہند میں آبادی کا حجم اور تعلیمی تحریکات کی کمی کا تقاضا ہے کہ الامین جیسی تجربہ کار تحریکات کا خیر مقدم ہو اور تمام مفادات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی تعاون کا ماحول پروان چڑھے۔

4  الامین کا سفر ایک مدرسے کی حیثیت سے شروع ہوا تھا جس نے مدرسہ بورڈ سے الحاق کے ساتھ عصری علوم کی منازل طئے کیں ۔ بنگال مدرسہ بورڈ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ جونیر سطح پر عصری مضامین کے ساتھ مدارس کے نصاب کا مختصر حصہ شامل ہوتا ہے۔ سینیر سطح پر مدارس کا اعلیٰ نصاب شامل ہوتا ہے لیکن اس نوعیت کے ادارے بہت کم ہیں ۔

دینی مدارس میں عصری علوم اور اسکولی نصاب میں دینی علوم کی شمولیت کی بحث بہت پرانی ہے۔ ہر دو طرف دلائل ہیں ۔ مدرسہ بورڈکے طریقہ کار کو پسند کرنے والے اسے مدرسہ اور عصری علوم کا سنگم قرار دیتے ہیں لیکن ناقدین کے پاس اس پیٹرن کی معنویت کو رد کرنے کے کئی دلائل بھی ہیں ۔ ان مباحث سے قطع نظر بنگالی اداروں کا پیٹرن ایک عمومی کیس اسٹڈی ضرور ہو سکتا ہے کہ کیسے ہم ان اداروں کی آزادی برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم اور تقاضوں سے ہم آہنگ کریں ۔ انھیں مرکزی نظام اور جوابدہی کا پابند بنائیں ۔ خاندانی تسلط سے آزاد کرائیں ۔ ہر چھوٹے موٹے ادارے کو خودساختہ آٹونامس بننے سے روکیں تاکہ ان اداروں کا اعتماد اور معنویت بڑھے۔ امتحانات کا مرکزی معیار اور اتھاریٹی طئے کریں ۔ نصاب، اکاؤنٹس اور آڈیٹنگ کے حوالے سے الحاق کے مرکزی نظم کا پابند بنائیں ۔ وغیرہ

5 پیڑ پودے ماحول سے نمی، روشنی اور غذا پاتے ہیں اور آکسیجن کی بے پناہ دولت لَوٹاتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے انسان کم زور واقع ہوا ہو، لیکن احسان شناسی کے دلربا مناظر مظاہر فطرت میں جابجا عیاں ہیں ۔ الامین مشن نے ان صالح روایات کی عمدہ مثال بھی قائم کی۔ یہاں سے فارغ ہونے والے کئی طلبا اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے بعد اس ادارے کا تعاو ن بھی کرتے ہیں ۔ نورالاسلام صاحب خوشی سے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ الامین کے فارغین کی ایک بڑی تعداد نے کسی وقت سماج کا سہارا ضرور لیا لیکن آج ان کی پہچان سماج کو دینے والوں کی ہے۔ یہی اس ادارے کی پہچان بھی ہے۔

اے ایم یو اور چند دیگراداروں کے فارغین میں مادر علمی سے وابستگی کاجذبہ نمایاں ضرور ہے لیکن بالعموم ہمارا سماج اس حوالے سے پیچھے نظر آتا ہے۔ کسی ادارے کی خدمت، سماج کا تعاون، یا اسکالرشپ کے سہارے نے کبھی علم و ترقی کی راہ دکھائی تھی تو آج احسان شناسی کا تقاضا ہے کہ فارغین اپنے اداروں اور سماج کو اس سے بہتر وسائل سے نوازنے کی کوشش کریں ۔

وَ اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ (سورۃ القصص)

احسان کر جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا۔

مارچ 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau