تحریک اسلامی کے کاموں میں توازن کیوں اور کیسے؟

سید شکیل احمد انور

تحریک اسلامی اوراس کے کاموں کا تعین اور ان کاموں کی انجام دہی میںمطلوب توازن قیادت کی ذمے داری ہے۔ تحریکی قیادت امیر جماعت اور ان کی مجلس شوریٰ فراہم کرتی ہے، جس کی ذمے داری ہے:

تحریکی منصوبہ بندسرگرمیوںکی مقصد، نصب العین اور طریقۂ کار کے مطابق انجام دہی،تحریکی کاموں کومعیار مطلوب اور اہداف کے حصول کے لیے نتیجہ خیز بنانا۔مختلف مسالک، مزاجوں اور اپنے ڈھنگ سے کام کرنے کے عادی نوواردین کو ضروری تحریکی تربیتی نصاب سے گزارنا اور مقصد وطریق کار کی روح سے آشنا کرنا۔ تاکہ وہ اپنے مزاج کو اس سے ہم آہنگ کرلیں اور تحریکی کاموں میں عدم توازن کاباعث نہ ہوں۔ اس کے لیے تحریکی صفوں میں نوواردین، مسلکی گروہوں، متشدد مزاج اور انتہاپسند وار تجاعی طرزفکرکے حاملین کے داخلے کو مناسب مراحل تربیت سے گزارنے سے مشروط کیاجائے۔تاکہ وہ کسی داخلی کشمکش کے فاعل و عامل نہ بنیں۔

دستورجماعت میں مختلف تحریکوں کی مزاج شناسی، میقاتی پروگرام میں اصول و مقاصد، حکمت عملی اور ترجیحات کو بیان کیاگیاہے اور جماعت کی سرگرمیوں میں میدان عمل کی قیادت انھیں متوازن رکھنے میں اہم کردار نبھاسکتی ہے اور ایک باخبر ، تحریکی مزاج شناس اور سرگرم عمل قیادت، بخوبی یہ منصب ادا کرتی ہے۔

تحریکی قیادت پالیسی و پروگرام بناتی ہے اور مقامی یاحلقہ جاتی قیادتوں کے تعاون سے ان کا نفاذ عمل میں لاتی ہے۔ مختلف تحریکی ادارے، اخبارات ورسائل اور مہمات ان سرگرمیوں کی ترجمانی کرتے ہیں جو نفاذ کے عمل کے دوران انجام پاتی ہیں۔ وابستگان تحریک (Cadre) کو صحیح و متوازن فکر ولائحہ عمل دینا تحریکی قیادت کا کام ہے اور اس لائحہ عمل پرموزوں و مناسب طریقے پر کاربند رکھنا بھی اس کی ذمے داری ہے۔ وابستگان کی ہمہ جہتی تربیت تربیت گاہوں میں بھی اور میدان عمل میں بھی ہر سطح کے ذمے داروں کے ذریعے کی جاتی رہے تو منزل کی سمت گامزن رہنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ تحریکی قافلے کے راہی اپنی ضرورتوں اور مشکلات ومسائل کااظہار سالار قافلہ سے کریں اور اس کا مناسب بندوبست کرنا اس کی ذمے داری ہے۔

اس سلسلے میں یہ امر بھی ضروری توجہ کامستحق ہے کہ تحریک کی مرکزی قیادت، میدان عمل کی ذیلی قیادتوں اور وابستگان و کارکنان کے درمیان کامل فکری آہنگی اور عملی تعاون (Rapport) موجود ہو۔ وہ اس کے احکام و ہدایات پر تہہ دل سے عامل ہوں اور اس کے تئیں خلوص، محبت و اطاعت اور خیرسگالی کا رشتہ رکھیں اور اپنے مقصد و نصب العین سے گہرا عشق وارفتگی کے پیمانے پر قائم رکھیں ۔

فکرو عمل میں توازن و عدم توازن کامسئلہ کب پیداہوتاہے؟ فکر پر قدامت کی چھاپ ہو اور حالات حاضرہ کے تقاضے اعمال اور عملی طریقوں میں جدت پسندی کااظہار کرنے لگیں تو تحریکی قیادت اپنی حکمت عملی پر ﴿اپنے اصولوں سے روگردانی کیے بغیر﴾ نظرثانی کرتی ہے اور وابستگان وکارکنان کی ذہن سازی کرکے انھیں میدان عمل میں اتارتی ہے۔ اگر یہ کام یعنی حکمت عملی پر نظرثانی اور کارکنوں کی ذہن سازی نہ کی جائے تو قدیم فکر اور جدید عملی تقاضوں میں ٹکراؤ ہوگا اور تحریک فکروعمل کے تضاد کاشکار ہوجائے گی۔ اس صورت حال کاتحریکی حالات حاضرہ کے تناظر میں بھی مشاہدہ کیا جارہا ہے اور بحث و نظرکا موضوع بن رہی ہے۔

جہاں تک دین و سیاست یا دینی معاملات و دنیوی امور کے بیان میں توازن و عدم توازن کا سوال ہے تو اصلاً یہ سوچ ہی غلط ہے۔ کیونکہ اسلام میں دین و دنیادو الگ الگ میدان کار نہیں ہیں۔ خالصتاً دنیوی کاموں کابھی احکام الٰہی و سنت نبوی کی روشنی میں انجام دینا عین دینی تقاضا ہے اور آخرت میں اس کا اجر و رضائے الٰہی کا حصول یقینی ہے۔ دراصل غیرمتوازن ذہن و فکر کے لوگ ہی اس طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح کار دعوت میں براہ راست اور بالواسطہ طریقہ کار کی بحث بھی اکثر ایسے ہی افراد اٹھاتے ہیں۔ کون نہیں جانتاکہ دعوت حق صرف عقائد پر اصرار کا نام نہیں ہے۔ انسانی مسائل کے حل میں اسلام کی حقانیت کو اجاگر کرنا بھی کاردعوت ہی ہے۔ کیا ’سود‘ اور ’پردہ‘ نامی کتاب جومولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی معرکہ آرا تصانیف ہیں، اسلام کے صرف معاشی و معاشرتی پہلوؤں کو واضح کرتی ہیں؟ حالاں کہ وہ مادہ پرست تہذیب کے حامیوں کو چیلنج بھی کرتی ہیں کہ اسلام کے جیسا متوازن اور مبنی برانصاف معاشی و معاشرتی نظام پیش کرکے تو بتائیں؟

ایک داعی حق جب مختلف دنیوی مسائل اور ان کے حل کو موضوع گفتگو یا اظہار خیالات کے لیے منتخب کرتاہے تو وہ خالص دنیا داروں کے انداز میں صرف روٹی ،کپڑا اور مکان کے گرد نہیں گھومتا، وہ کائنات اور خالق کائنات، اس کی رضا اور آخرت میں دنیوی اعمال کی جزاو سزا اور دنیوی زندگی میں ہدایات الٰہی کا پاس ولحاظ کرنے پر بھی متوجہ کرتاہے۔ رضائے الٰہی کا حصول اور فلاح اخروی کاراستہ دنیا سے پرے نہیں، بل کہ اس کے بیچوں بیچ سے ہوکر گزرتاہے۔ حضرت عمرؓ کے الفاظ میں کانٹوں بھری راہ میں دامن بچاکر صحیح سلامت نکل جانا ہی خوف خدا ﴿تقویٰ﴾ کی حامل زندگی کاطرہ امتیاز ہے۔ اس زندگی کے حصول کے لیے گوشہ نشین ہونے کی نہیں،بل کہ جہاد زندگانی کی راہ دکھلائی گئی ہے۔

قطع نظر ان امور کے جو حکمت عملی اور اصولی و نظریاتی پہلوؤں میں توازن و عدم توازن کی بحث کرتے ہیں۔ چند عملی معاملات و مسائل مثلاً تحریک کی توسیع اور اس کے داخلی استحکام میں ان پہلوؤں کو اٹھانا جو مصالح تحریک میں اہمیت کے حامل ہیں، غلط نہیں ہیں، مگر یہ مباحثہ اندرون خانہ ہو نہ کہ سربازار۔ اس کاخیال رکھنا ضروری ہے۔

بے ساختہ نڈر ہونا ایک بات ہے اور منھ پھٹ اور دہقانی ہونا دوسری بات ہے۔ جو لوگ مزاج شناسِ تحریک ہیں وہ ان باتوں کاضرور لحاظ کرتے ہیں ۔ حدیث دیگراں کامعاملہ مختلف ہے۔

فروری 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau