وہ انقلابی رات

صبح دس بجے کا وقت تھا۔ ایک صاحب ہمارے آفس میں تشریف لائے اور آتے ہی انھوں نے بڑے اضطراب کے ساتھ مولانا محمد فاروق خاں صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ انھوں نے بتایا کہ میں مولانا کا بہت احسان مند ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ ہمیں تجسس ہوا کہ مولانا نے ان پر کیا احسان کیا ہے اور یہ کس بات کے لیے اُن کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے انھیں ادب سے بٹھایا اور ان سے اپنا تعارف کرانے کی گزارش کی۔ انھوں نے بتایا کہ میں فلاں جگہ کا رہنے والا ہوں۔ جلد ہی ڈپٹی کمشنر سیل ٹیکس کے عہدے سے ریٹائر ہوا ہوں۔ جس وقت میں اپنی سروس میں تھا میرا چپراسی ایک مسلمان تھا۔ میں نے اس کے کاموں سے خوش ہوکر اسے ترقی دلا دی۔ وہ مسلمان ملازم بہت خوش ہوا اور اس نے خیال کیا کہ میں نے اس کا پرموشن کرکے اس پر کوئی بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اس نے ارادہ کیا کہ اسے میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور ساتھ ہی کوئی قیمتی تحفہ بھی پیش کرنا چاہیے۔ تحفے میں دینے کے لیے اس مسلم ملازم نے بہت سی چیزوں پر غور کیا مگرکسی چیز کو بھی میرے شایانِ شان نہ سمجھا۔ وہ مجھے کوئی ایسا تحفہ دینا چاہتا تھا جو دنیا کا سب سے قیمتی تحفہ ہو۔ وہ اس سلسلے میں برابر فکر مند اور کوشاں رہا اورآخر مجھے دینے کے لیے اس نے ایک قیمتی اور بے مثال تحفہ تلاش کر ہی لیا۔

ایک دن وہ مسلم ملازم صاف ستھرے کاغذ میں پیک وہ تحفہ لے کر میرے گھر حاضر ہوا۔ میں نے اسے بڑی محبت سے ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ بیٹھنے کے بعد کسی تاخیر کے بغیر اس نے کہا: کمشنر صاحب! آپ نے پرموشن دلاکر مجھ غریب پر اور میرے گھر والوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ میں آپ کے احسان کا بدلہ تو کیا شکریہ بھی ادا نہیں کرسکتا۔ میری دلی خواہش تھی کہ میں آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کروں۔ صاحب! یقین جانیے میرے نزدیک آپ کو پیش کرنے کے لیے اس سے زیادہ قیمتی تحفہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا جو میں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اسے قبول فرمائیں گے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے تحفے کا پیکٹ میری طرف بڑھا دیا۔ وہ اتنا خوش تھا کہ پھولے نہیں سمارہا تھا۔ میں نے وہ پیکٹ لے کر ایک طرف رکھتے ہوئے رسماً اس سے کہا کہ بھائی اس کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ میں نے اس کی ہلکی پھلکی تواضع کے بعد اسے رخصت کیا۔

اس مسلمان ملازم کے جاتے ہی میں نے فوراً اس پیکٹ کو کھولا تو وہ قرآن مجید کا ہندی ترجمہ تھا۔ اسے دیکھ کر میرا موڈ خراب ہوگیا، کیونکہ میں قرآن کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس نے قرآن کو سب سے زیادہ قیمتی تحفہ کہہ کر میرے ساتھ بھدا مذاق کیا ہے۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرے گا تو شاید میں اسے پرموشن ہی نہ دلاتا۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید وہ میری اہلیہ کے لیے سونے کا کوئی قیمتی سیٹ لایا ہوگا۔ میں نے اس قرآن کو حقارت کے ساتھ الماری کے ایک گوشے میں رکھ دیا۔

رات کو حسبِ معمول جب میں اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹا تو میرے دماغ میں اس مسلم ملازم کے یہ الفاظ گونجنے لگے ’’صاحب! یقین جانیے میرے نزدیک آپ کو پیش کرنے کے لیے اس سے زیادہ قیمتی تحفہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔‘‘ یہ خیال آتے ہی میری نیند اڑگئی اور میں کروٹیں بدلنے لگا۔ میری بیوی میرے قریب لیٹی ہوئی تھی، اُس نے میری بے چینی اور بے قراری کو دیکھ کر میری طبیعت کے بارے میں دریافت کیا اور کہنے لگی کہ لگتا ہے کہ آپ کے آفس میں آپ کے ساتھ پھر کوئی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ میں نے آپ سے بارہا کہا ہے کہ آپ رشوت جیسے کاموں سے بچاکریں ورنہ آپ اسی طرح ذہنی اور قلبی بے چینی میں مبتلا رہیں گے۔ میں نے اپنی بیوی کو جھڑکتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے جو تم سمجھ رہی ہو۔ جب اُس نے دیکھا کہ میں بار بار کروٹیں بدل رہا ہوں تو وہ قدرے غصے سے اٹھی اور دوسرے کمرے میں سونے کے لیے چلی گئی۔ میں پہلے تو سونے کی کوشش کرتا رہا، مگر جب اس میں کامیابی نہ ملی تو بستر سے اٹھ بیٹھا۔ لائٹ جلائی تو دیکھا کہ رات کے تین بجے ہیں۔ میں اپنے ڈرائنگ روم میں گیا اور قرآن مجید کا ہندی ترجمہ اٹھاکر لے آیا اور اپنے بستر پر اسے پڑھنے کے لیے بیٹھ گیا۔ میںنے جیسے ہی اسے کھولا تو پہلے ہی صفحے پر لکھی ہوئی یہ عبارت مجھے نظر آئی :’’اس عظیم کتاب کو پاک صاف ہوکر پڑھیں۔‘‘ میں یک لخت چونکا اور پھر فوراً ہی قرآن مجید کو الماری میں رکھ کر غسل کرنے کے لیے چلا گیا۔ نہا دھوکر واپس آیا اور الماری میں سے دھلے کپڑے نکال کر پہنے۔ قرآن مجید کو اٹھایا اور خاموشی سے پڑھنا شروع کردیا۔ جیسے جیسے اسے پڑھتا جاتا اس کا اثر میرے دل و دماغ پر پڑتا جاتا۔ میں نے بہت سارے صفحات ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالے۔ اس کی سلیس، معیاری اور مؤثر زبان اور اعلیٰ تعلیمات نے مجھے اتنا متاثر کردیا کہ میں پکار اٹھا کہ یہ کلام انسانی کلام نہیں ہوسکتا۔ یہ تو خدائی کلام ہی ہے۔

میں نے مختلف مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا، لیکن پہلے ہی دن میں نے محسوس کرلیا کہ کوئی بھی مذہبی کتاب قرآن مجید کے مقابل کی نہیں۔ میرے دل نے یہ گواہی دی اور میں سوچنے لگا کہ میں نے اپنے مسلم ملازم کو پرموشن دلا کر اس پر احسان نہیں کیا بلکہ حقیقت میں کلام الٰہی کا یہ بے مثال تحفہ مجھے دے کر اس ملازم نے مجھ پر احسانِ عظیم کیا ہے۔

اب تو میرا روز کا یہ معمول ہوگیا کہ صبح چار بجے اٹھتا، غسل کرتا اور پھر اس عظیم کتاب کو لے کر ا س کا مطالعہ شروع کردیتا۔ دورانِ مطالعہ بارہا ایسا ہوتا کہ میں اپنے پر قابو نہ رکھ پاتا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے۔ مجھے اپنی سابقہ زندگی پر افسوس اور ندامت ہوتی اور میں اپنے اندر یہ عزم پیدا کرنے کی کوشش کرتا کہ آئندہ کی زندگی رب العالمین کے اس ہدایت نامے کے مطابق ہی بسر کرنی ہے۔ میں نے قرآن سے متاثر ہوکر بفضلہ تعالیٰ رشوت لینی چھوڑ دی، شراب نوشی چھوڑ دی، دیگر برائیوں سے توبہ کی اور پوری لگن کے ساتھ بھلائیوں کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ اس کے بعد ہی میں اپنے غیر مسلم احباب اور دوستوں کو قرآن مجید کی اس عظمت سے آگاہ کرنے لگا۔

کمشنر صاحب یہ بیان کرنے کے بعد چند لمحے خاموش رہے اور پھر بولے کہ میں اس وقت اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ مترجم قرآن مولانا محمد فاروق خاں صاحب سے ملاقات کرکے پوری ہندی دنیا کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کروں۔ کیونکہ انھوں نے کلامِ الٰہی قرآن مجید کا عربی سے ہندی میں ترجمہ کرکے عربی نہ جاننے والے کروڑوں انسانوں کو رب کے پیغام اور ہدایات سے روشناس کرایا ہے اور اس طرح ان پر احسانِ عظیم کیا ہے۔ میں اپنے جذبات کی تکمیل کے لیے اپنے محسن مولانا موصوف کے احترام میں آج روزہ رکھ کر حاضر ہوا ہوں اور ریلوے اسٹیشن سے پیدل ہی آیا ہوں۔ شاید اس طرح میں عقیدت و محبت اور شکریے کا یہ معمولی نذرانہ اُن کی خدمت میں پیش کرنے کا حق ادا کرسکوں۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

وہ انقلابی رات

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223