استدراک

محمد رضی الاسلام ندوی

زندگی نو، جون ۲۰۱۶ء میں’ رسائل ومسائل کے کالم کے تحت شائع ہونے والے جوابات میں بعض غلطیوں کی جانب برادر مکرم ڈاکٹر محی الدین غازی نے توجہ دلائی ہے۔

میراث کے مسئلہ میں لکھا گیا تھا : ’’ ماں کی جائیداد میں اس کے حقیقی بیٹے کی موجودگی میں سوتیلے بیٹے کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔‘‘

صحیح بات یہ ہے کہ میراث میں سوتیلے بیٹے کا کوئی حصہ نہیں ہوتا،چاہے حقیقی بیٹا موجود ہو یا نہ ہو۔

’حضر میں جمع بین الصلوٰتین ‘ کے موضو ع پر جواب میں لکھا گیا تھا کہ ’’ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بغیر خوف اور بغیر سفر کے ،ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔‘‘

صحیح بات یہ ہے کہ اس روایت میں صراحت ہے کہ اس موقع پر آپؐ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی اکٹھی پڑھی تھیں۔

اسی میں آگے لکھا گیا تھا کہ ’’ خود اس حدیث کے راوی حضرت ابن عباسؓ سے ثابت نہیں ہے کہ وہ حضر میں جمع بین الصلوٰتین کرتے تھے ۔‘‘ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے ۔ اس لیے کہ صحیح مسلم ہی میں مذکور ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓنےکم از کم ایک بار مدینہ میں رہتے ہوئے مغرب اورعشاء کی نمازوں کو جمع کیا تھا ۔

ان روایات پر شرح مسلم میں امام نوویؒ نے جو کچھ لکھا ہے اسے یہاں نقل کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

’’ صحیح مسلم میں مذکوران روایات کے سلسلے میں علماء نے مختلف تاویلات کی ہیں اور مختلف موقف اختیار کیے ہیں ۔ ترمذیؒ نے اپنی کتاب کے آخر میں لکھا ہے :’’ میری کتاب میں ایک حدیث بھی ایسی نہیں ہے جس کے متروک العمل ہونے پر امت کا اتفاق ہوگیا ہو، سوائے حدیث ابن عباس کے ، جس میں مدینہ میں( یعنی حضر میں ) رہتے ہوئے بغیر خوف اوربغیر بارش کے جمع بین الصلوٰتین کی بات کہی گئی ہے‘‘۔ …..یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ اس کے متروک العمل ہونے پر علماء کا اتفاق نہیں ہے ، بلکہ اس سلسلے میں ان کے مختلف اقوال ہیں:

بعض حضرات نے یہ تاویل کی ہے کہ آپؐ نے بارش کے عذر کی بنا پر دونمازوں کو جمع کیا تھا ۔یہ قول بعض قدیم اکابر کا ہے ، لیکن ناقابل قبول ہے، اس لیے کہ دوسری روایت میں صراحت ہے کہ وہ بارش کا موقع نہ تھا ۔

بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ اس وقت بدلی تھی ۔ آپؐ نے ظہر کی نماز ادا کی ۔ پھر بدلی چھٹ گئی اوراندازہ ہوا کہ عصر کا وقت شروع ہوگیا ہے ، چنانچہ آپؐ نے عصر کی نماز اداکرلی۔ یہ تاویل بھی درست نہیں، اس لیے کہ اس موقع پر مغرب اورعشاء کی نمازوں کوبھی اکٹھی پڑھنے کی صراحت ہے اوران میں وقت کے سلسلے میں وہ اشتباہ نہیں ہوسکتا جوظہر وعصر میں ہوا تھا ۔

بعض حضرات نے یہ تاویل کی ہے کہ آپ ؐ نے پہلی نماز ( یعنی ظہر اورمغرب )کوآخر وقت میں اور دوسری نماز (یعنی عصر اور عشاء ) کواول وقت میں ادا فرمایا تھا ۔ یہ صورت ظاہر ی جمع کی تھی۔ یہ تاویل بھی کم زور ہے ، اس لیے کہ یہ ظاہر ی صورت کے  خلاف ہے ۔ حضرت ابن عباسؓ نے اپنے عمل پر اس سے استدلال کیا تھا او ر حضرت ابوہریرہؓ نے ان کی تائید کی تھی ، جس کی بنا پر یہ تاویل قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔

بعض حضرات کہتےہیں کہ ایسا آپ نے مرض یا اسی طرح کے کسی اورعذر کی بنا پر کیا تھا ۔ اس تاویل کو امام احمد، قاضی حسین ، خطابی، متولی اوررویانی نے اختیار کیا ہے ۔

ائمہ کی ایک جماعت وقتِ ضرورت دو نمازوں (یعنی ظہر وعصر اورمغرب وعشاء ) کو جمع کرنا جائز قرار دیتی ہے ۔ بہ شرطے کہ اس کوعادت نہ بنالیا جائے۔ یہ ابن سیرین اوراشہب مالکی کا قول ہے ۔ اسے خطابی نے شوافع میں سے قفال اور شاشی کبیر سے ، انہوں نے ابواسحاق مروزی سے اور انہوں نے اصحاب الحدیث کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے ۔ ابن المنذر نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے ۔ ابن عباسؓ کی بھی یہی رائے معلوم ہوتی ہے ، اس لیے کہ انہوں نے کہا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈالیں ۔ انہوںنے اس کی وجہ مرض یا کوئی اورعذر نہیں قرار دیا تھا ۔ واللہ اعلم ‘‘

(شرح صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین ، باب جواز الجمع بین الصلاتین فی الحضر )

جولائی 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau