معذوروں اور بوڑھوں کے حقوق

حافظ کلیم اللہ عمری مدنی

اس سلسلے میں چند اہم سوالات اوران کے جوابات درجِ ذیل ہیں:

سوال کیا اولاد باپ کی زندگی میں ہی جائداد کا مطالبہ کرسکتی ہے؟خاص کر ایسی حالت میں جب کہ والدین کی معاشی حالت بہتر ہو اور اولاد محتاج ہوں ؟

جواب ۔ صورت مسؤلہ میں ازروئے شرع والدین اپنی جائداد کے مالک ہیں لہذا ان کا حسب ضرورت ومصلحت تصرف کرنا درست ہے البتہ زندگی میں جائیدادکی تقسیم کے لئے دو شرعی صورتیں ممکن ہیں ۱۔ مساویانہ تقسیم  ۲۔ لڑکوں کولڑکیوں کے مقابلہ میں دوگنا حصہ دینا ۔ زندگی میں ہبہ کرنیکی صورت میں کسی وارث کو وراثت سے محروم کرنے کی نیت ہر گز نہ ہو  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انما الأعمال بالنیات (صحیح بخاری ) یعنی اعمال کی قبولیت کا دار ومدار نیتوں پر موقوف ہے ،اولاد کو شرعا یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ماں باپ کے زندہ رہتے ہوئے ان کی جائداد میں حصوں کا مطالبہ کریں البتہ ان کی وفات کے بعد اگر کچھ مال رہ جاتا ہے توبشکل ترکہ تقسیم ہوگا  ،  باپ کی ذمہ داری میں اولاد کو خود کفیل بنا نا بھی شامل ہے ، خصوصا جب والدین خوش حال ہوں ، اسی لئے نبی کریم  ﷺسے پورے مال کو صدقہ وخیرات کرنے کا سوال ہوا تو منع فرمایا اور وصیت صرف ایک تہائی مال میں کرنے کی اجازت مرحمت فرماتے ہوئے ارشادفرمایا کہ تمہار ا وارثین کو خوشحال بنا کر چھوڑجانا بہتر ہے اس سے کہ تم انہیں مجبور وبے کس بناکر چھوڑجاؤ، وہ تمہارے بعد لوگوںسے بھیک مانگتے پھریں، دردرکی ٹھوکریں کھائیں،( بخاری ومسلم)

صورت مسؤلہ میں اولاد کاکسی بھی صورت میں والدین سے جائداد کی تقسیم کا مطالبہ جائز نہیں ہے ، خواہ اولاد  محتاج ہو یا نہ ہو ، بلکہ اولاد کا یہ مطالبہ گستاخی پر محمول ہوگا، نیز ہندوانہ رسم ورواج میں شمار ہوگا جو کسی بھی صورت میں مسلمان کے لئے زیب نہیں دیتا ۔

سوال بوڑھوں کے لئے بنائے گئے ہاسٹل کے بارے میں شرعی نقطہ نظر کیا ہے؟کیا کوئی شخص اپنے بزرگوں کو ایسے ہاسٹلوں میں قیام پر مجبور کرسکتا ہے ؟

جواب ۔ والدین کی اطاعت وخدمت اوران کے ساتھ حسنِ سلوک :  والدین خواہ مسلم ہوں یاغیرمسلم، اسلام ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم اورادائیگیِ حقوق کی ترغیب دیتاہے، البتہ شرک کے معاملات میں ان کی اطاعت کو حرام قرار دیتاہے۔ اس لیے کہ اصولی مسائل الگ ہیں اورحسنِ معاشرت اورحقوق کی ادائیگی الگ چیز ہے۔ حضرت اسماء بنت ابو بکر ؓ فرماتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئی جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی ا سے پوچھا کہ کیامیں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ  ا نے فرمایا: ہاں۔ ابن عیینہؒ کابیان ہے کہ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:   لَایَنْہٰکُمُ اللّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِیْ الدِّیْن۔۔(الممتحنہ: ۸) یعنی اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں جنگ نہیں کرتے‘‘۔ (صحیح بخاری  :۹۲۵)

ضعیف والدین کی خدمت اسلام میں واجب ہے، بلکہ حقوق اللہ کے بعد اولین حق والدین کی خدمت او ر ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا، تادم حیات ان کی اطاعت کرنا، انہیں اف تک نہ کہنا، ان کی زندگی میں ان کے حق میں دعا کرتے رہنا اور ان کی وفات کے بعد ان کے حق میں دعا ء مغفرت کرنا، اوران کے دوست واحباب کی عزت کرنا، جیساکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے تعلق سے احکامات وارد ہیں، ارشاد باری تعالی ہے : ’’اور تیرا رب صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا،  اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہو، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرو، بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرو  اور عجز و نیاز سے اُن کے آگے جھکے رہو اور اُن کے حق میں دعا کروکہ اے اللہ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے )پرورش کیا ہے تو بھی اُن ( کے حال )پر رحم فرما ۔ ‘‘( سورۃ الاسرا ء:۲۳۔۲۴)

دور جدید میں مغربی تہذیب نے انسانی اقدار کو پامال کیا،   OLD AGE HOME  جگہ جگہ بنادئے،ضعیف ماں باپ کے قیام کے لئے الگ الگ عمارتیں بنوائیں، والدین کو اپنے گھروں سے دور کردیا، اولاد کی محبت سے جدا کردیا، سماج کے معزز شہریوں کو سماج کا عضو معطل بنادیا، لیکن یہ مغربی تہذیب کی تباہ کاریاں ہیں، اسی تہذیب نے انسان کو انسانیت سے محروم کردیا،جب کہ اسلام نے والدین کو اللہ تعالی کے بعد سب سے اونچا مقام دیا، تادم حیات ان کی خدمت کو واجب قرار دیا، ان کی زندگی کے بعد بھی ان کی مغفرت کی دعا کریں، انکے چھوڑے ہوئے روزوں کا قضا کریں، ان کی جائز وصیتوں کو نافذ کریں ، اولاد ا گر مستطیع ہو تو والدین کی طرف سے حج کریں، اور انہیں ثواب پہنچائیں، صدقہ جاریہ کا انتظام کریں، تاکہ ان کی وفات کے بعد ثواب ملتا رہے، یہ سارے کام بھی صالح اولاد کی ذمہ داریوں میں سے ہیں، نبی کریم  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے ۔  (احمد، نسائی   )  اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ کی رضامندی باپ کی رضامندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔( الادب المفرد للبخاری : ۱/۱۴ )

والدین کی اطاعت وفرمانبرداری ہر حال میں فرض ہے الا یہ کہ ان کی اطاعت میں خالق کی نافرمانی لازم آتی ہو تو اللہ تعالی کو ناراض کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے،مثال کے طورپر والدین شرک پر مجبور کریں، احکام اسلام کی مخالفت کا حکم دیں ، یا شرکیہ امور کی طرف دعوت دیں ، یا بدعات وخرافات کی ترغیب دیں ، اسلام کے خلاف رسم رواج کو اہمیت دیں ، یا ناحق بیوی بچوں پر ظلم کرنے پر آمادہ کریں تو ایسی صورت میں اللہ تعالی او راس کے رسول  ﷺ کی اطاعت ہی واجب ہوگی، خواہ سماج کچھ بھی سوچے،کچھ بھی الزام لگائے، رب کی رضامندی ہر چیز پر مقدم ہوگی ۔جیساکہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے ایمان لانے کی خبر سے ان کی والدہ  ناراض ہوگئی تھی ، کھانا پینا سب بند کردی تھی ، دو دن گز رگئے تھے مگر حضرت سعد نے فرمایا کہ اے ماں اگر تمہاری ایک جان کے بجائے سوجان بھی چلی جائے پھر بھی میں رب کو ناراض نہیں کروں گا،اسلام کے مقابلہ میں شرک کو قبول نہیں کروں گا۔ ( تفسیر صفوۃ التفاسیر :۲ /۴۱۵)    خصوصاًآج کے دور میں ضعیف والدین کا پرسان حال کوئی نہیں ہے الا ما شاء اللہ ، والدین کو ترسا کر اولاد اپنی دنیا میں مگن ہیں، اپنی خوشی کی خاطر ، اپنی راحت کے لئے بوڑھے والدین کو بوجھ سمجھنا انتہائی بداخلاقی کی بات ہے ، وہ شخص خوش نصیب ہے جو تادم حیات ان کی خدمت کرے، ان سے دعا ئیں لے ، او ران کے حق میں دعا بھی کرے، وفات کے بعد بھی انہیں دعاء خیر میں یادرکھے، اللہ تعالی ہم سب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق والدین کی قدر دانی کی توفیق نصیب فرمائے ، آمین۔

جواب۔ یہ ہاسٹل  (OLD AGE HOSTEL)جو بنائے جاتے ہیں ان کی حیثیت صرف اور صرف اضطراری صورت میں جواز کی ہے، مثلا جن کا سماج میں کوئی پرسان حال نہ ہو ، یعنی اصحاب ِفرائض ، عصبات اور ذوی الارحام میں سے کوئی بھی ان ضعیفوں کی دیکھ ریکھ کے لئے تیار نہ ہوتو مسلم معاشرہ / بیت المال / جمعیت یا جماعت کی زیر ِنگرانی اس ہاسٹل میں قیام ممکن ہے تاکہ ان ضعفاء کے لئے دربہ در کی ٹھوکریں کھانے کی نوبت نہ آئے۔

اولادکا حق ہے کہ اپنے والدین کی خدمت کریں ، ان کے رہن سہن کا انتظام کریں ، جہاں اولاد کا قیام ہے اسی جگہ اپنے والدین کے لئے بھی قیام کا انتظام کریں ، والدین کو ان ہاسٹلوں میں قیام پر مجبور کرنا شرعا جائز نہیں ہے ، بلکہ وہ عند اللہ بڑا مجرم شمار ہوگا،کیونکہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم شریعت میں واجب کے درجہ میں ہے ، لہذا کوئی بھی نیک اولاد اپنے بزرگوں کو اپنے گھروں کے ہوتے ہوئے ان ہاسٹلوں میں قیام پر مجبور نہیں کرسکتا ، اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو مسلم معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کی سرزنش کرے ، ان کی تنبیہ کرے ، اور انہیں مجبور کرے کہ وہ معمر افرادکے ساتھ زیادتی نہ کرے ، ان ہاسٹلوں میں قیام پر ہرگز مجبور نہ کریں-

سوال بوڑھاپے کی عمر میں اولاد یا قریبی رشتہ دار موجود نہ ہوں تو ایسی صورت حال میں اجتماعی کفالت کے لئے خصوصی طورپر زکوۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے ؟

جواب۔ زکوۃ کی ادائیگی سے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں،مثال کے طورپر زکوۃ کی ادائیگی سے دلوں کی کدورت دورہوجاتی ہے ،بغض وحسد کا خاتمہ بھی ہوتا ہے ، مال میں برکت کا ذریعہ اور ایک اہم عبادت بھی ہے ، ہمدردی ،خیر خواہی ،باہمی اُلفت ومحبت ، اور بھائی چارگی قائم کرنے کا ذریعہ ہے، جس سے اجتماعی کفالت کاکام انجام پاتا ہے ، زکوۃ کی ادائیگی سے اخوت کی جہانگیری ،محبت کی حکمرانی ، مساوات کی فراوانی ،اور امن عام کا ماحول عام ہوتا ہے ، غربت وافلاس کا خاتمہ زکوۃ کی ادائیگی ہی سے وابستہ ہے،  زکوۃ کے مستحقین مندرجہ ذیل ہیں  ۱) فقراء  ۲) مساکین  ۳)  زکوۃ کے عمل سے متعلق افراد  ۴)  تالیف قلب کے مستحقین  ۵) غلام آزاد کرنے کے لئے  ۶)  مقروض  ۷)  اللہ کی راہ میں ۸) مسافر ( توبہ ۔۶۰ )

صورت مسؤلہ میں ازرؤے شریعت عمررسیدہ افراد جن کا کوئی پرسان ِحال نہ ہو، اور قریبی رشتہ دار بھی کفالت کے لئے تیار نہ ہوں تو ایسی صورت میں زکوۃ کے مستحقین میں خصوصا فقراء اور مساکین کی فہرست میں ایسے افراد بھی شامل ہوں گے، اجتماعی کفالت کی خاطر مالِ زکوۃ سے ان کی خدمت ، قیام وطعام کا نظم وضبط ، اور ان کا علاج ومعالجہ بھی کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ صاحب البدائع والصنائع نے فرمایا ہے کہفی سبیل اللہ عبادۃعن جمیع القرب فیدخل فیہ کل من سعی فی طاعۃ اللہ وسبیل الخیرات اذا کان محتاجا ‘  البدائع والصنائع‘۲/۴۵)یعنی زکوۃ کے مصارف فی سبیل اللہ میں تقرب الی اللہ کے تمام ذرائع میں ہروہ کام جو اللہ کی اطاعت اور خیر کے کاموں پر مشتمل ہوشامل ہے ‘خصوصا کوئی شخص محتاج ہوتو فی سبیل اللہ کے مد میں داخل ہے اور مال زکوۃ سے مدد کی جا سکتی ہے ۔

سوال عمررسیدہ افراد حکومت کی رعایتوں سے مستفید ہونے کے لئے مقررہ حد ِ عمر کو نہ پہنچے ہوں تو ایسی صورت میں حکومت کی رعایتوں سے مذکورہ افراد کا استفادہ جائز ہے ؟

جواب ۔ جمہوری حکومت ہمارے انتخاب سے بنتی ہے اور ہم اس کے کل پرزے ہیں، حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہمارے ٹیکس وانکم ٹیکس اور تجارتی حلال ذرائع وغیرہ بھی ہیں لہذا حکومت کے فنڈ کو غیر مسلم کا فنڈ قرار دینا درست نہیں ہے نیز حکومت اپنی رعایا کی سر پرست اور نگران ہے جس طرح حکومت دیگر مذاہب کے لوگوں کیساتھ تعاون کرتی ہے اسی طرح مسلمانوں کی سرپرستی اور ان کے ساتھ تعاون کرنا یا رعایتیں دینا حکومت کے فرائض منصبی میں داخل ہے، صورت مسؤلہ میں سن رسیدہ افراد کا  مقررہ عمر کو پہنچے بغیر حکومت کی مختلف رعایتوں سے استفاد درست نہیں ہے ، محض دنیوی فائدے کی خاطر جعلی دستاویز کے ذریعہ دھوکہ کے راستہ سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، نیز بعض حضرات محض چند دنیوی فائدے کی خاطر عمر کو گھٹا کر یا بڑھاکر مختلف اسکیموں سے مستفید ہوتے ہیں ، شرعا یہ بھی درست نہیں ہے ، مثلا رٹائر منٹ کو مؤخر کرنے کی غرض سے جھوٹے دستاویز کا سہارا لینابھی دھوکہ دینا ہے، کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’من غشنا فلیس منا‘‘ جودھوکہ دے وہ ہم میںسے نہیں ہے۔ (مسلم ، ابوداؤد، ترمذی ا و ر سنن ابن ماجہ)

مسلمان نام ہے اللہ کے فرمانبردار کا ، اسلام میں حکام کی اطاعت اللہ تعالی اور اس کے رسول  ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کے بعد  واجب ہے بشرطیکہ وہ کسی معصیت کا حکم نہ دیں ، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ، (مسند امام احمد، ۱۰۹۵،الجمع بین الصحیحین، ۱۳۲ ) یعنی خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت وفرمابرداری واجب نہیں ہے، مسلما ن بحیثیت ایک  شہری پر حکومتوں کے قوانین کی پاسداری ضروری ہے ، مثال کے طور پر انکم ٹیکس کی ادائیگی  اس لئے کہ انکم ٹیکس حکومت ِہند کی جانب سے تمام ہندوستانیوں پرعائدکردہ ایک فریضہ ہے جو مفاد عامہ میں صرف کی جاتی ہے ۔واللہ المستعان وہو ولی التوفیق وہو اعلم بالصواب وصلی اللہ علی محمد وبارک وسلم والحمد للہ رب العالمین۔   بتاریخ ۲۶/اکتوبر ۲۰۱۵م

فروری 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau