رنج وغم: اسباب اور علاج

عتیق احمد شفیق

احساس نعمت

دکھ اور غم سے نجات کا ایک ذریعہ احساس نعمت ہے، کسی بھی چیز کو اس کی ضد سے آسانی سے پہچاناجاسکتا ہے۔ اگر اندھیرا نہ ہوتا تو روشنی کااحساس نہ ہوتا۔ اگر ٹھنڈک نہ ہوتی تو گرمی کامزا نہ ہوتا۔ اگر بھوک نہ ہوتی تو کھانا کھانے کا کوئی لطف نہ تھا۔اگر پیاس نہ ہوتی تو پانی پینے سے ہمیں کوئی لذت حاصل نہ ہوتی۔ اگر تکلیف نہ ہوتی تو خوشی و مسرت کااحساس بھی نہ ہوپاتا۔ اس طرح جو نعمتیں ہمیں میسر ہیں وہ جب ہم سے چھِن جاتی ہیں یا ان میں کمی آجاتی ہے تو ہم دکھ میں پڑجاتے ہیں۔ جو مختلف مصیبتیں پیش آتی ہیں ان سے اس کے اندر ان نعمتوں کا شمار بھی نہیں کیاجاسکتا، جب انسان ان نعمتوں کا احساس نہیں کرتا تو ناشکری کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انسان کی اس کم زوری کاذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَاٰ تَاکُم مِّن کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوہُ وَاِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّہِ لاَ تُحْصُوہَا اِنَّ الاِنسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّار ﴿ابراہیم:۳۴﴾

’جس نے وہ سب کچھ تمھیں دیاجو تم نے مانگا اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمارکرناچاہوتو نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔‘

اللہ تعالیٰ دنیا کی تمام نعمتوںسے تمام انسانوں کو نہیں نوازتا۔ کچھ کو علم و حکمت سے سرفراز کرتاہے تو کچھ کو دولت و ثروت سے، کسی کو خطابت کافن عطا کرتاہے تو کسی کو فن تحریر، کسی کو خوبصورت اور قوی جسم عطا کرتا ہے تو کسی کو پستہ قد اور کمزور پیدا کرتا ہے۔ اس میں بڑی حکمت پائی جاتی ہے۔ اگریہ حکمت پیش نظر نہ ہوتو جو کچھ آدمی کو ملاہے اس کی بھی وہ قدر نہیں کرسکتا۔ اس کو حقیرسمجھے گا اور صبر و شکر کے جذبات اس کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتے۔

دکھ کا بہترین علاج یہی ہے کہ انسان ان نعمتوں کاادراک کرے جو اس کو اللہ نے عنایت کی ہیں۔ یہی غم کا علاج بھی ہے۔اس سے اس کے اندر شکر کاجذبہ بھی پیدا ہوگا اور شکر اور قدر شناسی کی وجہ سے اللہ اس کو مزید نوازے گا بھی۔

وَمَا بِکُم مِّن نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّہِ  ﴿النحل:۵۳﴾

’تمھارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں۔‘

شکرگزاری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ مزید برکتوں اور انعامات سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

وَاِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِن شَکَرْتُمْ لأَزِیْدَنَّکُم   ﴿ابراہیم:۷﴾

’اور جب کہ تمھارے پروردگار نے تمھیں آگاہ کردیاکہ اگر تم شکرگزاری کروگے تو بے شک میں تمھیں اور زیادہ دوںگا۔‘

وَمَن شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہِ  ﴿النمل:۴۰﴾

’جو شکر گزاری کرتاہے اس کا فائدہ اسی کو ملتاہے۔‘

وَمَن یَشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہِ  ﴿لقمان:۲۱﴾

’جو کوئی شکرکرے گا اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے۔‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حصول قناعت کاطریقہ بتایاہے۔ فرمایا:

انظروا الی من ھو اسفل منکم ولا تنظروا الی من ھو فقکم فہو اجدر ان لاتزدروا نعمۃ اللہ علیکم۔  ﴿مسلم﴾

’تم ان کی طرف دیکھو جو تم سے فروتر ہوں، ان لوگوں کی طرف مت دیکھو جو ﴿دنیوی اعتبار سے﴾ تم سے بڑھ چڑھ کر ہوں۔ یہ بات تمھارے لیے زیادہ مناسب ہے کہ تم پر اللہ کی جو نعمت ہے وہ تمھاری نگاہ میں حقیر نہ ہو۔

اذا نظر احدکم الی من قضل علیہ فی المال والخلق فلینظر الی من ہو أسفل منہ۔ ﴿بخاری﴾

’تم میں سے جب کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال و دولت اور جسمانی ساخت کے لحاظ سے اس سے بڑھ کرہوتوچاہیے کہ وہ کسی ایسے شخص کو دیکھ لے جو ان چیزوں میں اس سے کمتر ہو۔‘

اس سے آدمی کے اندر حرص و طمع کی بہ جائے صبرو شکر کاجذبہ پیداہوگا۔ارشاد ربانی ہے:

وَان تَشْکُرُوا یَرْضَہُ لَکُمْ ﴿زمر:۷﴾

’اگرتم شکرکرو تو وہ اسے تمھارے لیے پسند کرے گا۔

اللہ کی نعمتوںکا اعتراف تشکر اور ممنونیت کے ساتھ کیاجائے۔ اس کا حکم اللہ نے فرمایاہے:

وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّث﴿الضحیٰ:۱۱﴾’اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرو۔‘

اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کاانسان کو شعور حاصل کرناچاہیے ۔تاکہ اس کا دل جذبۂ تشکر سے لبریز ہوجائے۔ اس لیے کہ احساس نعمت کے بغیر انسان ان نعمتوں کی قدر نہیںکرسکتا اور ناقدری کاانجام بُرا ہوتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا۔ ارشاد ربانی ہے:

ثم لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْم  ﴿التکاثر:۸﴾

’پھراس دن تم سے ضرور نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔‘

کفران نعمت اور ناشکری پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

وَلَئِن کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ﴿ابراہیم:۷﴾

’اگرتم ناشکری کروگے تو یقینا میرا عذاب بہت سخت ہے۔‘

ناشکری کاانجام اس دنیا میں بھی بُرا ہوتا ہے ۔ چنانچہ جو لوگ یاقومیں ناشکری اور کفران نعمت پر اترآتی ہیں اللہ ان کو ہلاک کردیتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

أَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ کُفْراً وَأَحَلُّواْ قَوْمَہُمْ دَارَ الْبَوَارِ   ﴿ابراہیم:۸۲﴾

’کیاتم نے ان لوگوں کو دیکھاجنھوں نے اللہ کی نعمت پائی لیکن شکرکو کفر سے بدل ڈالا تو وہ خود بھی ہلک ہوئے اور اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے کھڈ میں گرادیا؟‘

عفو و درگزر

غموںاور دکھوں کاایک علاج یہ ہے کہ آدمی کو اپنی حساس طبیعت پر کنٹرول ہو۔ وہ معاملات کو جذباتی انداز میں ہرگز نہ لے۔ ان کو بڑھاچڑھاکر پیش کرے اور نہ طول دے۔ ایسی چیزوں کو حقیقت پسندی کے ساتھ لے۔ اس سے اس کے اندر منفی جذبات پیدا نہیں ہوں گے پھر وہ پریشان ہونے سے محفوظ رہے گا۔

حضرت انس بن مالکؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہاتھا۔ اس وقت آپ کے جسم پر نجران کی بنی ہوئی موٹے کنارے کی چادر تھی۔ ایک اعرابی آپ کو ملا۔ اس نے نہایت سختی کے ساتھ آپ کی چادر کو پکڑکر کھینچا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھاکہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر چادر کے کنارے کا نشان پڑگیا۔ پھر اس نے کہا: مجھے بھی اللہ کے اس مال میں سے کچھ دوجو تمھارے پاس ہے۔ اس پر آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے، مسکرائے اور پھر اس کو کچھ دینے کا حکم فرمایا۔ ﴿بخاری﴾

ایک یہودی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سختی سے پیش آیا اور بولا:محمد!میرا قرض ادا کردو مجھے معلوم ہے کہ بنوہاشم ﴿قرضوںکی ادائی میں ﴾بہت ٹال مٹول کرتے ہیں۔ ﴿قریب تھاکہ آپ کے صحابہ اس کے ساتھ سخت رویہ اختیارکرتے﴾ کیوںکہ اس نے آپ کو اور آپ کے خاندان کو مطعون کیاتھا، آپ نے اسے صرف مسکراکر ٹال دیا اور اس کاقرض ادا کرنے کاحکم دیا۔ آپ کی اس بردباری اور تحمل کو دیکھ کر وہ یہودی مسلمان ہوگیا۔

امیرالمومنین حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کاگزر ایک شخص کے پاس سے ہوا۔ دھوکے سے آپ اس شخص سے ٹکراگئے۔ اس نے برجستہ کہا:’اندھے ہو؟‘ امیرالمومنین نے کہا:’نہیں‘ ان کے مصاحب وزیرنے اس شخص کو ڈانٹنا چاہا تو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ بولے۔ اس نے تو کچھ بھی نہیں کیاہے۔ اس نے مجھ سے بس اتناپوچھاکہ کیا تم اندھے ہو؟ میں نے اسے جواب دیاکہ نہیں میں اندھا نہیں ہوں۔

ایک شخص امام اعظم ابوحنیفہؒ  کے پاس آیا اور چلاکرکہاکہ ’خدا سے ڈرو‘ امام صاحب کے مصاحبین نے اسے ڈانٹنا چاہا۔ امام صاحب نے فرمایا: چھوڑواسے جانے دو ہم ایسی باتوں کے زیادہ محتاج ہیں۔

قناعت

دکھ، درد اور رنج سے نجات دلانے والی چیز قناعت بھی ہے۔ جس شخص کو قناعت کی دولت نصیب ہوگئی وہ رنج وغم سے محفوظ ہوگیا۔ کیوںکہ جو کچھ اسے ملا ہے ، اس پر وہ اللہ کا شکر گزار رہے گا اور جو کچھ اس کو نہیں ملاہے اس کے لیے فکرمند نہیں ہوگا۔ دولت کی فراوانی اور عیش و عشرت کی آرزو اگر نہیں ہے اور نہ شہرت و ناموری کی کوئی تمناہے تو پھر وہ زیادہ سکون کی زندگی گزارے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قدافلح من اسلم ورزق کفافاوقنعہ‘ اللہُ بما اتاہُ ﴿مسلم﴾

’فلاح وکام رانی سے ہم کنار ہوگیا وہ شخص جس نے اسلام اختیار کیا۔ رزق بھی بقدر ضرورت اسے ملااور خدا نے جو کچھ عطا کیا اس پر اسے قانع بنادیا۔‘

موجودہ دور میں انسان کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے اپنا معیار زندگی بہت بلند کرلیا ہے۔ ہر فرد اونچے محلوں کاخواب دیکھتاہے، ہر بیوی اپنے شوہر سے تاج محل کامطالبہ کرتی نظرآتی ہے۔ جب شوہر شاہجہاں نہیں تو لال قلعہ ، آگرہ کا قلعہ کیسے تعمیر ہو، تاج محل کیسے بنے؟

اولاد اپنے والدین سے شاہانہ ٹھاٹ باٹ کامطالبہ کرتے ہیں لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ دنیا میں کون ہے جس کی ساری تمنائیں پوری ہوگئی ہوں اور اگر کوئی نہیں اور یقینا نہیں تو پرسکون زندگی گزارنے کے لیے قناعت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ناسمجھ لوگ جو دولت قناعت سے عاری ہوتے ہیںاصحاب ثروت کے ٹھاٹ باٹ ،شان و شوکت اور کروفر سے مرعوب ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

اِنَّ قَارُونَ کَانَ مِن قَوْمِ مُوسَی فَبَغَی عَلَیْْہِمْ وَآتَیْْنَاہُ مِنَ الْکُنُوزِ مَا اِنَّ مَفَاتِحَہُ لَتَنُوئ ُ بِالْعُصْبَۃِ أُولِیْ الْقُوَّۃِ اِذْ قَالَ لَہُ قَوْمُہُ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ oوَابْتَغِ فِیْمَا آتَاکَ اللَّہُ الدَّارَ الْآخِرَۃَ وَلَا تَنسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَأَحْسِن کَمَا أَحْسَنَ اللَّہُ اِلَیْْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِیْ الْأَرْضِ اِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ oقَالَ اِنَّمَا أُوتِیْتُہُ عَلَی عِلْمٍ عِندِیْ أَوَلَمْ یَعْلَمْ أَنَّ اللَّہَ قَدْ أَہْلَکَ مِن قَبْلِہِ مِنَ القُرُونِ مَنْ ہُوَ أَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَأَکْثَرُ جَمْعاً وَلَا یُسْأَلُ عَن ذُنُوبِہِمُ الْمُجْرِمُونَ oفَخَرَجَ عَلَی قَوْمِہِ فِیْ زِیْنَتِہِ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُونَ الْحَیَاۃَ الدُّنیَا یَا لَیْْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِیَ قَارُونُ اِنَّہُ لَذُو حَظٍّ عَظِیْمo وَقَالَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَیْْلَکُمْ ثَوَابُ اللَّہِ خَیْْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً وَلَا یُلَقَّاہَا اِلَّا الصَّابِرُونَ oفَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْضَ فَمَا کَانَ لَہُ مِن فِئَۃٍ یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ وَمَا کَانَ مِنَ المُنتَصِرِیْنَo وَأَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَہُ بِالْأَمْسِ یَقُولُونَ وَیْْکَأَنَّ اللَّہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن یَشَائ ُ مِنْ عِبَادِہِ وَیَقْدِرُ لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّہُ عَلَیْْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَیْْکَأَنَّہُ لَا یُفْلِحُ الْکَافِرُونَo                              ﴿قصص:۷۶۔۸۲﴾

’ یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰ کی قوم کاایک شخص تھا پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقتور آدمیوںکی ایک جماعت مشکل سے اٹھاسکتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی وم کے لوگوں نے اس سے کہاکہ پھول نہ جا اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو مال اللہ نے تجھے دیاہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیاہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔ تو اس نے کہا: یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیاگیاہے جو مجھ کو حاصل ہے۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھاکہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکاہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے۔ ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹ میںنکلا جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیاگیا ہے۔ یہ تو بڑا نصیب والا ہے۔ مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے کہ افسوس تمھارے حال پر اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا پھر کوئی اس کے حامیوں کاگروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کرسکا۔ اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کررہے تھے کہنے لگے: افسوس ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنیبندوں میں سے جس کارزق چاہتاہے کشادہ کرتاہے اور جسے چاہتاہے نپا تلا دیتاہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیاہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسادیتا۔ افسوس ہم کو یاد نہ رہاکہ کافر فلاح نہیں پایاکرتے۔

ان آیات سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

۱- صاحب ثروت خود بھی دھوکے میں مبتلاہوجاتاہے کہ رزق کی فراوانی کو اللہ کی مشیت کی بجائے یا تو وہ اپنے علم و قابلیت اور عقلمندی کا نتیجہ سمجھنے لگتاہے یا پھر اس خوش فہمی میں مبتلاہوجاتاہے کہ اللہ اس سے خوش و راضی ہے۔

۲- اللہ مجرموں کو جب پکڑتاہے تو ان کا کوئی مددگارنہیں ہوتا۔

۳- دنیا دار اور کمزور اہل ایمان بھی اہل ثروت کی چمک دمک اور شان و شوکت سے دھوکا کھابیٹھتے ہیں اور دولت مندی کو خوش نصیبی کی علامت سمجھنے لگتے ہیں۔

۴-  ناشکرے مالدار جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تب ان کو معیار بنانے والوں کی آنکھیں کھلتی ہیں۔

۵- ناشکرے اور متکبر لوگوں کے جاہ وجلال اور حشمت و شوکت سے اہل ایمان دھوکانہیں کھاتے انہیں ان کے ایمان کے طفیل دولت قناعت حاصل ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے اندر اتنا تحمل وثابت قدمی پیداہوجاتی ہے کہ حلال طریقے سے رزق کمانے سے کوئی چیز ان کو روک نہیں پاتی ہے۔ فراوانی ، مال کی تمنا میں حرام طریقے کی طرف راغب نہیں ہوتے ہیں۔ وہ مال و دولت کی ہوس کاشکارہوکر ایمان داری، دیانت داری کو دائود پر نہیں لگاتے۔ چاہے اس کے نتیجے میں فاقہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے ، اس کی یہی قناعت پسندی اس کو عمل صالح پر آمادہ کرتی ہے۔ موقف حق پر قائم اور ثابت قدم رکھتی ہے۔

قناعت پسندی کی صفت پیدا کرنے کے لیے لازمی چیز یہ ہے کہ انسان اللہ پر ایمان لائے جیساکہ اس کاحق ہے۔ آخرت کے اجر عظیم کااستحضار، موت کی یاد، دنیا کی حقیقت ان چار چیزوںکو ہمیشہ پیش نظر رکھے۔ قناعت پسندی کی صفت سے متصف ہوجو دنیوی زندگی پرسکون انداز سے گزارے۔

ایمان، توکل اور تقسیم رزق کے ضابطے کا ادراک

دکھوں اور غموںسے نجات کاایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ انسان اللہ پر ایمان لائے، اس پر توکل کرے اور اللہ کے تقسیم رزق کے ضابطے کو سمجھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

انَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَo أُوْلَئِکَ أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ خَالِدِیْنَ فِیْہَا ﴿الاحقاف:۱۲،۱۴﴾

’یقینا جن لوگوں نے کہہ دیاکہ اللہ ہی ہمارا رب ہے پھر اس پر جم گئے ان کے لیے نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ غمگین ہوں گے ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’اگرتم لوگ اللہ پر ایسا توکل کرو جیساکہ اس پرتوکل کرنے کاحق ہے توتم کو وہ اس طرح روزی دے گا جس طرح پرندوں کو دیتاہے۔ وہ صبح کو بھوکے اپنے آشیانوںسے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں۔‘    ﴿حدیث﴾

وقت کا صحیح استعمال

دکھ اور غم سے نجات کاایک ذریعہ یہ ہے کہ ہمارے پاس جو وقت ہے ہم اس کا صحیح استعمال کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم شعوری طورسے اپنی زندگی کاکوئی مقصد و نصب العین متعین کریں اور زندگی کاکوئی لائحہ عمل بنائیں۔ زندگی میں ہمیں جو مہلت عمل ملی ہے اگر ہم اس کی قدر نہیں کریں گے تو دنیا میں بھی پچھتانا پڑے گا اور آخرت میں بھی کف افسوس ملیں گے۔ وقت کاسب سے بہتر استعمال یہ ہے کہ ہم نوجوانی میںاللہ کے دین کو سیکھنے اور اسے سکھانے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کریں اور اس کی تبلیغ و اشاعت کریں۔ وقت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جو بہت تیزرفتاری سے گزرتاچلاجاتاہے برف کے پگھلنے کی طرح خاموشی سے پگھلتارہتاہے۔ ہرگزرنے والے لمحے کے ساتھ ہی انسان کی عمر بھی گھٹتی رہتی ہے۔

فیصلۂ الٰہی پر خوش رہنا

غم اور دکھ کاسب سے اہم علاج یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں اور فیصلہ الٰہی کے آگے سرتسلیم خم کردیں۔ ایک انسان کی خوش بختی اور بدنصیبی کادارومدار اس پر ہے کہ وہ اللہ کے فیصلوں کو برضا و رغبت تسلیم کرتاہے یا نہیں۔ انسان کو خوشی اسی وقت نصیب ہوگی جب وہ اللہ کے فیصلوں کو خوش دلی سے تسلیم کرلے۔ وہ اپنے بارے میں اتنا نہیں جانتاجتنا اللہ اس کے اور اس کی ضروریات کے بارے میں جانتاہے۔ آدمی کا علم ناقص اور محدود ہے اس لیے اسے خدا کے فیصلے پر راضی رہناچاہیے۔ رب کائنات نے فرمایا:

وَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَعَسَی أَن تُحِبُّواْ شَیْْئاً وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُون ﴿البقرہ:۲۱۶﴾

’ہوسکتاہے کہ ایک چیز تمھیں ناگوار ہو اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتاہے کہ ایک چیزتمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بُری ہو ۔ اللہ جانتاہے تم نہیں جانتے۔‘

فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْراً کَثِیْراً  ﴿النساء :۱۹﴾

’ممکن ہے کہ ایک چیز تمھیں ناپسند ہومگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔‘

جب معاملہ یہ ہے کہ تو پھر انسان کو ہر معاملے میں خدا کی مشیت کے آگے سرتسلیم خم کردینا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من سادۃ ابن آدم رضاہ بما قضی الہ لہ ومن شقاوۃ ابن آدم ترکہ استخارۃ اللہ ومن شقاوۃ ابن آدم سخطہ ﴿ترمذی﴾

’یہ ابن آدم کی خوش نصیبی ہے کہ خدا کی جانب سے اس کے لیے جو بھی فیصلہ ہو وہ اس پر راضی رہے اور یہ کہ ابن آدم کی یہ بدنصیبی ہے کہ وہ خدا سے خیر اور بھلائی طلب کرنا ترک کردے اور ابن آدم کی بدبختی یہ بھی ہے کہ خدا کا جو فیصلہ اس کے حق میں ہو اس پر وہ ناخوش ہو۔‘

اللہ کو الہ تسلیم کرلینے کے بعد انسان اس حقیقت کو تسلیم کرلیتاہے کہ جو کچھ ہوتاہے اس کی طرف سے ہوتاہے وہی سب کاحاکم، رازق اور داتا ہے اور اسی کے حکم کے مطابق ساری دنیا کے معاملات انجام پاتے ہیں، عزت و ذلت، دولت و ثروت، شہرت و ناموری، شان وشوکت، طاقت و قوت، علم وحکمت، فضل وکمال اور رزق وغیرہ۔ جس کو جتنا چاہتاہے عطا کرتاہے۔ نفع و ضرر کی ساری قوتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں اس کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نفع و ضرر نہیں پہنچاسکتا۔ اس عقیدے کو مان اور تسلیم کرلینے کے بعد انسان کے اندر وسعت نظر پید ہوجاتی ہے۔ مصیبت میں صبر کا لازوال خزانہ اس کو مل جاتاہے کیوںکہ اس کو اس بات پر پختہ یقین ہوجاتاہے کہ کسی کے دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کسی کے بُرا چاہنے سے کچھ بگڑنہیں سکتا۔

اکتوبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau