غیر انتخابی سیاست

ہندوستان کے تناظر میں

خان یاسر

گر آپ کسی عظیم الشان لشکر کے سالار ہوں، ایک ایسا لشکر جس کے دو مقابل سروں کو ایک ساتھ دیکھنا ممکن نہ ہو، ایک ایسا لشکر جس کے ہراول دستے پر بذات خود ایک لشکر ہونے کا گمان ہوتاہو، ایک ایسا لشکر جس میں لاکھوں پیادہ سپاہ اور ہزاروں شہسوارہوں، ایک ایسا لشکر جس میں تیر اندازوں، نیزہ برداروں اور تلوار بازوں کے آہنی ہتھیاروں کی چمک نگاہوں کو چندھیاتی ہو، ایک ایسا لشکر جو جدید ترین ٹیکنالوجی کے آتشیں ہتھیاروں سے لیس ہو اورجس کے پاس توپیں اور بندوقیں بیشمار اور گولے اورکارتوسوںکا ذخیرہ وافر ہو۔ آپ جب ایک ایسی فوج کی کمان سنبھالیں گے تو یقینا دل میں یہی خواہش ہوگی کہ دشمن سے سامنا کھلے میدان میں ہو، ایک ایسا بڑا میدان جہاںاس عظیم الشان لشکر کی صف بندی ہوسکے، جہاں توپخانہ حرکت کرسکے، جہاں سریع الحرکت گھڑسوار دستہ دشمن کی صفوں کو درہم برہم کردے۔ لیکن اس کے برعکس اگر ایسا ہوا کہ آپ کی فوج مٹھی بھر غیر تربیت یافتہ رضاکاروں پر مشتمل ہو، ایسے رضاکاروں پر جن کے پاس نہ مکمل ہتھیار ہوں نہ انہیں چلانے کی ٹریننگ بلکہ کوئی پتھر اٹھالایا ہو، کسی کے پاس صرف چاقو ہوتو کسی کے پاس کلہاڑی، اور کوئی صرف نقد جان ہتھیلی پر لیے آیا ہو اور آپ کا سامنا ایک ایسے عظیم الشان لشکر سے ہو جس کا تذکرہ اوپر گزرا ہے تو کیا آپ پھر بھی جنگ کے لیے کھلے میدان کا انتخاب کریں گے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ ایسی حالت میں آپ وہی کریں گے جو امام شامل نے بلاد قفقاز میں، امیر عبدالکریم نے مراکش میں، عمر مختار نے لیبیا میں یا ہوچی منہ نے ویتنام میں، ماؤزے تنگ نے چین میں اور چے گو ویرا نے ارجینٹینا میں کیا تھا۔ یعنی دشمن کی منظم فوج کا کھلے میدان میں سامنا کرنے سے گریز؛ دشمن پر اچانک اور آندھی طوفان کی طرح تابڑ توڑ حملہ اور ان کے سنبھلنے سے پہلے ہی اپنے خفیہ مورچوں میں واپسی؛ دشمن کو پہاڑیوں، گھاٹیوں، گلیوں یا جنگلوں میں الجھاکر ان کی صفیں درہم برہم کرنے کی کوشش وغیرہ۔ یہ سب اس لیے تاکہ دشمن کی طاقت یعنی اس کی تعداداس کی کمزوری بن جائے اور آپ کی کمزوری آپ کی طاقت۔ کتاب جنگ کا پہلا اصول یہی ہے کہ میدان جنگ کا انتخاب ایسا ہو کہ ہماری طاقتوں کو کھیل کھیلنے کا موقع ملے اور کمزوریاں کم سے کم نقصاندہ ثابت ہوں۔

سیاست بھی ایک جنگ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہاں کی فوج، ہتھیار، میدان جنگ اور لڑنے کی ادائیں ذرا مختلف ہوتی ہیں، اس کے باوجود جنگ کا پہلا اصول یہاں بھی کارگر ہے۔ مثال کے طور پر کسی ملک میں دو قومیں آباد ہیں۔ ان میں سے ایک اقلیت میں ہے اور دوسری اکثریت میں۔اب اگر اقلیتی گروہ، اکثریتی گروہ کی مخالفت کرتا ہوا الیکشن کے میدان میں داد شجاعت دے تو اسے کسی طرح عقلمندی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ الیکشن اصل میں گنے جانے کاکھیل ہے تولے جانے کا نہیں۔ الیکشن کے کھلے میدان میں لڑنا ہمارے مفروضہ اقلیتی گروہ کے لیے اپنی عددی کمزوری کو عریاں کرنے اور دشمن کو ’آبیل مجھے مار‘ کے طرز پر ایک دعوت نامہ دینے کے مترادف ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا فیصلہ طے شدہ ہے۔ اس کے برعکس غیر انتخابی سیاست کی حیثیت ہمارے استعارے میں ایک ایسی گوریلا جنگ کے مترادف ہے جس میں اصل حیثیت کسی گروہ کی تعداد کو نہیں بلکہ اس کے سیاسی شعور اور حکمت عملی کو حاصل ہوجاتی ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ’کسی ملک‘ کی یہ مثال معاملے کی علمی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ہے، ہندوستان پر اس کا من و عن اطلاق نہیں ہوسکتا۔ وہ اس لیے کہ ہندوستان کا معاملہ ذرا پیچیدہ ہے۔ یہاں بہ لحاظ تعداد مسلمان بلا شبہہ اقلیت میں ہیں لیکن:(۱) اس کے باوجود وہ ۱۵ سے ۱۸ کروڑ کے درمیان ہیں۔ یہ تعداد انہیں دنیا کا دوسرا یا تیسرا سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک بنادیتی ہے۔ (۲) یہاں مسلمانوں کے علاوہ اور بہت سی اقلیتیں ہیں۔ (۳) ہندوستان میں اکثریت کسی یک رنگ و یک جنس (homogenous) گروہ کی نہیں ہے۔ ہندوؤںکے درمیان خود ذات، برادری، زبان، تہذیب، تاریخ اور مذہبی عقائد و رسومات کو لے کر لاتعداد اختلاف پائے جاتے ہیں۔ اس مقالے میں غیر انتخابی سیاست ہندوستان کے تناظر میں کیا رخ اختیار کرسکتی ہے ، اسے کیا رخ اختیار کرنا چاہیے اور اس ضمن میں تحریک اسلامی پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان سوالات پر بحث کی گئی ہے۔

غیر انتخابی سیاست : ایک تعارف

کسی جمہوریت کو جواز بخشنے والی شئے وہاں کے عوام کی سیاسی عمل میں حصہ داری ہے۔ سیاسی عمل میں حصے داری کی ایک شکل تو انتخابات ہیں جس میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے نظریات اور منشور کو عوام کے سامنے رکھتی ہیں اور عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے مختلف سطح پر حکومت سازی میں حصہ لیتے ہیں۔ لیکن حکومت بننے کے بعد کیا؟ کیا کسی جمہوریت میں عوام کی سیاسی حصے داری صرف انتخابات کی حد تک ہے؟ نہیں۔ حکومت اور اس کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونا بھی سیاسی حصہ داری کا اٹوٹ حصہ ہے جس کی صحت یا عدم صحت پر پوری جمہوریت کی صحت یا عدم صحت کا انحصار ہے۔ اسی دوسری قسم کی سیاسی حصہ داری کو اس مقالے میں ہم غیر انتخابی سیاست سے تعبیر کررہے ہیں۔ علم سیاسیات کے لٹریچر میں اس مظہر کی درج ذیل تعریفیں بیان کی گئی ہیں:  (۱)شہریوں کے وہ اقدام جس کے ذریعہ وہ حکومت اور سیاست کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ (ملبراتھ اور گوئل )(۲) شہریوں کی وہ سرگرمیاں جو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حکام کے انتخاب اور ان کی کارکردگی کو متاثر کرنے کے لیے کی جائیں۔ (وربا، نائے اور کِم) (۳)عام شہریوں کی وہ تمام رضا کارانہ سرگرمیاں جس کے ذریعہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ سیاسی نظام کی کسی بھی سطح پر لیے گئے کسی مخصوص سیاسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں۔(کاسے اور مارش)

انتخابی اور غیر انتخابی سیاست کے تعلق کو دو طرح سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلے تصور کے مطابق دونوں دو الگ اور باہم متضاد طریقۂ سیاست ہیں جس میں سے ہر ایک بہرحال دوسرے کی نفی کرتا ہے۔ دوسرا تصور جو میرے نزدیک صحیح تر ہے وہ یہ کہ انتخابی و غیر انتخابی سیاست دراصل دو مختلف مراحل یا مدارج ہیں۔ آئیے اس بات کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایم ڈاسن لکھتے ہیں کہ امریکہ میں روایتی طور پر سیاہ فام نسل کے لوگوں پر الیکشن میں حصہ لینے کے تمام دروازے بند تھے لیکن کالوں نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنی بات منوانے اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے غیر انتخابی راستہ اختیار کیا۔ ریلی، پیٹیشن، میمورنڈم، احتجاجی مظاہرے، بائیکاٹ وغیرہ کے حربے اختیار کیے اور بالآخر اپنا حق حاصل کیا۔ برابری کے قانونی حقوق حاصل کرنے کے بعد سیاہ فام لوگوں کے غیر انتخابی ایکٹوزم میں بھی گراوٹ آئی ہے جسے رینڈل سوین نے اپنے مقالے میں بحث کا موضوع بنایا ہے۔ البتہ کے ٹیٹ نے اس گراوٹ کو غیر انتخابی سیاست سے انتخابی سیاست میں حصہ داری کی جانب ایک تدریجی عمل قرار دیا ہے۔ ہندوستان میں خود انا ہزارے کی تحریک جس طرح عام آدمی پارٹی کے سانچے میں ڈھلی اور خصوصاً دہلی میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے، یہ خود غیر انتخابی سیاست کے انتخابی سیاست میں بتدریج ارتقاء کی ایک مثال ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ غیر انتخابی سیاست کے میدان میں قدم جمائے بغیر انتخابات کی منزل سے کامیاب گزر جانا ناممکن ہے کجا یہ کہ غیر انتخابی سیاست کی سیڑھی پر قدم رکھے بغیر انتخابی میدان میں کود کر وقت اور وسائل کا ضیاع کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتخابی میدان میں جس کسی نے بھی کامیابی حاصل کی ہے ، اپنی غیر انتخابی سیاست کے بل بوتے پر کی ہے، پھر چاہے وہ انڈین نیشنل کانگریس ہو یا اخوان المسلمون۔ یہ واضح رہے کہ ایک بار انتخابی سیاست کے میدان میں عملاً اتر جانے کے بعد بھی غیر انتخابی سیاست کا درازہ بند نہیں ہوجاتا۔ کسی سیاسی پارٹی کا غیر انتخابی ایکٹوزم در اصل اس کی انتخابی کامیابی کی بنیادی اساس ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے فراموش کرنے کا خمیازہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے بھگتا ہے۔

یہ تو جمہوریتوں کی بات ہوئی ، فایونا یاپ تو اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعوی کرتی ہیں کہ غیر جمہوری ریاستیں یا وہ ریاستیں جہاں جمہوریت ہے تو مگر مضبوط نہیں ہے وہاں بھی حکومتی پالیسیوں خصوصاً معاشی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر انتخابی سیاسی ایکٹوزم کا حربہ کارگر ہے۔ اپنے مقالے میں جنوبی کوریا اور سنگا پور کی کیس اسٹڈی پیش کرکے انہوں نے اس دعوے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیا غیر انتخابی سیاست کا دائرہ کار ملکی سطح تک محدود ہے؟ ٹیری اور کیٹ میکڈونالڈ اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ اپنے مقالے میں انہوں نے جس بنیادی سوال کے گرد تحقیق کا تانا بانا بنا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح جمہوری ممالک میں حکمراں اپنے ملک کی عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں، کیا گلوبلائزیشن کے اس دور میں جب ایک ملک کی پالیسی صرف اس ملک پر نہیں بلکہ دیگر ممالک پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، کوئی ایسی صورت پیدا ہوسکتی ہے جب مملکتیں پوری دنیا کے سامنے جوابدہ ہوں ؟ مقالہ نگاران نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر یہ جوابدہی دو طریقے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ نمبر ایک ضلعی، ریاستی اور ملکی سطح پر جس طرح انتخابات ہوتے ہیں اسی طرح عالمی سطح پر بھی انتخابات منعقد کیے جائیں اور نمبر دو یہ کہ غیر انتخابی سیاست کے ذریعہ عالمی سطح پر جوابدہی کے مقصد کو حاصل کیا جائے۔ مقالہ نگاران پہلے امکان کو ناممکن الحصول لہذا خار ج از بحث قرار دیتے ہیں۔ بعد ازاں عالمی سطح پر کپڑے کی صنعت میں کام کررہے کاریگروں کے ساتھ سلوک کے سلسلے میں سوشل ایکٹوزم کے ذریعہ جو بیداری پیدا کی گئی ہے، اس کی مثال دے کر کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر حکومتوں کو جوابدہ بنایا جاسکتا ہے اور ایسا غیر انتخابی سیاست کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

غیر انتخابی سیاست کا ایک روپ انقلابی بھی ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ غیر انتخابی سیاست، انتخابی سیاست سے عوام کی بیزاری کی علامت کے طور پر ابھرتی ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک طاقتور لہر کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ماضی قریب میں عرب بہاریہ اور ہندوستان میں انا ہزارے کی تحریک چند ایسی طاقتور لہروں کی مثالیں ہیں۔ اپنے مقالے میں سجاتا فرنانڈس نے اکیسویں صدی کے اوائل میں لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں پھیلی بے اطمینانی کی لہر اور اس کے غیر انتخابی رخ کا جائزہ لیا ہے۔ یہ بے اطمینانی ویسے تو تمام ہی لاطینی امریکی ممالک میں تھی مگر میکسیکو، برازیل اور وینیزویلا میں بدرجہ اتم پائی جارہی تھی۔ خصوصاً میکسیکو میں اس لہر نے The Other Campaign کی شکل اختیار کرکے شہریوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا۔ اس مہم میں شامل ایکٹوسٹوں نے لوگوں کو ووٹ دینے سے منع نہیں کیا بلکہ رائے دہندگان کو یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ انتخابات کے ذریعہ عوام کو کوئی حقیقی متبادل نہیں ملتا کیونکہ تمام بڑی سیاسی پارٹیاں تقریباً تمام اہم پالیسیوں پر متفق ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کے ذریعہ تبدیلی نہیں آسکتی کیونکہ پورا نظام کرپٹ ہوچکا ہے۔ اس مہم نے میکسیکو کی ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب کیے۔

غیر انتخابی سیاست : ہندوستانی تناظر

ہندوستان میں اسلام اور ہندو فرقہ پرستی کے درمیان عرصے سے ایک کشمکش جاری ہے۔ اس کشمکش کی روح سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی یا تہذیبی ہے جس کے مختلف ابعاد (dimensions) سیاسی، سماجی، معاشی اور روحانی کشمکش کی شکل میں ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ البتہ ایک جمہوریت، اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، ہونے کے ناطے یہاں سیاست کا پہلو تھوڑا ابھرا ہوا ہے، غالباً اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس کشمکش کو اصلاً سیاسی کشمکش سمجھ لیتے ہیں اور یہیں سے طاقت اور اقتدار کی سیاست اور اس کے حصول کے لیے انتخابات میں شرکت وغیرہ کی بحث چل نکلتی ہے۔ یہ انتخابی جمہوریت کے اپنے dynamics ہیں اور کچھ اپنوں کی سادگی اور اوروں کی عیاری بھی ہے کہ ہمیں یہ باور کرادیا گیا ہے کہ جمہوریت میں حق کا حصول اور پالیسی میں مثبت تبدیلی لانے کا عمل انتخابات میں جیت سے مشروط ہے۔ ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو تقسیمِ ملک کے سانحے کے پیچھے بھی جہاں اغیار کی سازشیں نظر آتی ہیں وہیں مسلمانوں میں انگریزوں کے جانے کے بعد ’اقلیت‘ بن جانے کے خوف کا بھی ایک رول دکھائی دیتا ہے۔

ہمارا ماننا یہ ہے کہ ایک جمہوریت میں انتخابات کے میدان جنگ کو واحد میدان جنگ سمجھنا غلط ہے۔ انتخابی میدان میں تو ۵۱ کے بالمقابل ۴۹ بھی ’اقلیت‘ ہے اور ہندوستان کے الیکشن کی بات کریں تو ۲۰ کے بالمقابل ۱۹ بھی ’اقلیت‘ ہے لیکن حقیقت کی دنیا اس قدر ریاضیاتی نہیں ہوتی ہے۔ یہ دنیا آئے دن کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ کا منظر پیش کرتی رہتی ہے۔ غیر انتخابی سیاست کا یہ متبادل ہمارے سامنے ہے۔ سرخروئی کے لیے تعداد شرط نہیں ہے شرط صرف یہ ہے کہ اس میدان میں وہ لوگ آگے بڑھیں جو طالوت کے مسلم ساتھیوں کی طرح پیاس کی شدت میں دریائے اردن کے سامنے ہوتے ہوئے بھی خود پر قابو رکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، جو صبر نہیں کرسکتے، کسی طویل المیعاد مقصد کے لیے جدوجہد نہیں کرسکتے، اور بیج ڈالتے ہی پھل توڑلینا چاہتے ہیں ۔۔۔ غیر انتخابی سیاست ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔

صبر — یہ کیسے صبر کی بات کی جارہی ہے؟ یہاں صبر سے مراد انتخابی میدان کی ہنگامہ خیزیوں کے بالمقابل غیر انتخابی سیاست کی خاموش جدوجہد کو اختیار کرنا ہے۔ پارتھا ناتھ مکھرجی کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں کسی غیر انتخابی تحریک کا انتخابی سیاست کے خوشنما جال میں نہ پھنسنا محال ہے۔ ہر آدمی اپنے ایجنڈے کے جلد سے جلد نفاذ کی لالچ میں اس دلدل میں کود پڑتا ہے جس سے وہ کبھی نکل نہیں سکتا اور اس زمینی کام کو نظر انداز کردیتا ہے جس کے ذریعہ اس کے مقاصد دیر ہی سے سہی مگر حاصل ہونے والے تھے۔ ان کا مقالہ پنجاب میں کسانوں کی تحریک کے ارد گرد گھومتا ہے۔ انہوں نے ۱۹۷۲ء؁ میں شروع ہونے والی کسانوں کی تحریک اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر کیا ہے حتی کہ ملکی سطح پر بھارتیہ کسان یونین کا قیام عمل میں آیا اور پنجاب کے کسانوں کی تحریک اس میں ضم ہوگئی۔ بھارتیہ کسان یونین نے یہ طے کیا کہ وہ سیاسی طور پر غیر جانبدار رہے گی اور ایک پریشر گروپ کی حیثیت سے کام کرے گی تاکہ حکومت پھر چاہے کسی بھی پارٹی کی ہی کیوں نہ ہو بھارتیہ کسان یونین ، کسانوں کے مفادات کے حصول کے لیے، اس پر دباؤ ڈال سکے اور حکومت پر اس کا اثر ہو۔ لیکن ۱۹۸۲ء؁ میں یعنی قیام کے دو سال بعد ہی یونین کی تامل ناڈو شاخ نے سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ دھیرے دھیرے یہ وبا پھیلتی گئی اور کرناٹک، مہاراشٹر اور آخر کار پنجاب میں بھی کسان یونین نے انتخابات میں حصہ لینا شروع کردیا۔ یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ان کسان یونیونوں کو ملک میں کسانوں کی کثیر آبادی کے باوجود انتخابات سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ الٹا بحیثیت ایک پریشر گروپ وہ جتنا کچھ سیاسی فوائد بٹور سکتے تھے اس میں بھی ناکام رہے۔

غیر انتخابی سیاست : لوازمات

وربا، نائے اور کِم نے اپنی کتاب میں اور لے لی نے اپنے مقالے میں لکھا ہے اور صحیح لکھا ہے کہ ملکی سیاسی صورتحال یعنی سماج اور ریاست کے سیاسی سیاق (political context)  کا عوام کی سیاسی حصہ داری پر گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر عوام کی سیاسی حس کو بیدار کرکے ان میں غیر انتخابی سیاست کو فروغ دینا ہے تو ملک کے سیاسی سیاق میں مداخلت کرنی ہوگی۔

میرے خیال میں اب تک ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ہندوستانی جمہوریت میں نہ صرف مثبت تبدیلیوں کی داغ بیل ڈالنے کے لیے بلکہ ہندو فرقہ پرست عناصر کو شکست دینے کے لیے بھی غیر انتخابی سیاست کو پروان چڑھانا ضروری ہے۔ تحریک اسلامی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج اس لیے بھی ہے کہ ہمارے ملک میں اس قسم کی سیاست کا وجود بہت محدود ہے۔ اسے فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ ان عوامل کا پتہ لگایا جائے جس سے کسی ملک میں غیر انتخابی سیاست کو تقویت ملتی ہے اور پھر ان عوامل کی ہندوستانی سماج اور سیاست میں ترویج و اشاعت کی کوشش کی جائے۔ مثال کے طور پر کٹرینا وریب لیکووا نے امریکن پالیٹیکل سائنس ایسوسی ایشن میں دیے گئے اپنے ایک لیکچر میں کہا ہے کہ’’ کسی ریاست میں سیاسی مواقع کی فراوانی شہریوں میں غیر انتخابی سیاسی حصہ داری کے عمل کو بڑھاوا دیتی ہے۔‘‘ مختصراً یہ کہ وریب لی کووا کے مطابق اگر کسی ریاست میں political opportunity structure کو پھیلا دیا جائے تو اس کا فطری نتیجہ غیر انتخابی سیاست میں لوگوں کی دلچسپی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہندوستان میں اس کی ایک اہم مثال حق اطلاعات کا قانون ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عوام کا سیاسی شعور بیدار اور بالیدہ ہوا ہے۔

اسی طرح کوپ مینس فرماتے ہیں کہ ریاستی اداروں میں جس قدر decentralisation ہوگا، عوام کی غیر انتخابی سیاست میں حصہ داری اسی تناسب سے بڑھ جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لامرکزیت کے نتیجے میں ملکی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے کئی متبادل راہیں کھل جائیں گی اور اس مہم میں کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اسی چیز کو وریب لی کووا سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے بہت سارے access points مل جانے سے تعبیر کرتی ہیں۔

غیر انتخابی سیاسی ایکٹوزم کی ایک کامیاب مثال انتھنی تھِگ پین ہیں جنہوں نے امریکہ کی ریاست لاس اینجیلس کے چند پچھڑے ہوئے مقامات پر غربت اور ترقی کے مسائل پر کام کرنے کے لیے ایک گروپ کی تشکیل کی۔ دیگر ایکٹوسٹوں اور این جی اوز کی طرح ان کا مقصد صرف غریب اور پچھڑے ہوئے لوگوں کے لیے کچھ خیرات وغیرہ کا نظم کردینا نہیں تھا بلکہ وہ ان کے سیاسی شعور کو بیدار کرکے انہیں خود اپنے مسائل حل کرنے کے قابل بنانا چاہتے تھے۔ لہذا انہوں نے رضا کاروں کی ایک بڑی ٹیم تیار کی، جنوبی لاس اینجیلس کے چند مقامات کو ہدف بنایا اور ہر ہر محلے میں دودو تین تین رضا کاروں کو تعینات کردیا۔ رضا کاروں کی اس مختصر مگر جفاکش ٹیم نے وہاں لیڈرشپ ٹریننگ پروگرام کیے، ووٹروں کو رجسٹریشن میں مدد کی، ووٹروں کو علاقے کی سیاست، ایشوز اور سیاستدانوں سے روشناس کرایا، اورووٹ ڈالنے کی اہمیت سمجھائی۔ مختصراً یہ کہ انتھنی تھِگ پین اور ان کے رضا کاروں نے مقامی باشندوں کو محلے کا سیاسی سیاق سمجھنے میں مدد دی، انہیں بتایا کہ کونسے فیصلے کس سطح پر لیے جاتے ہیں، پھر ان فیصلوں کو متاثر کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے اس کے لیے مقامی باشندوں کے ساتھ خصوصی اسٹریٹجی سیشنس لیے۔ تھِگ پین کی اس پہل کا نتیجہ صرف بہتر voter turnout کی شکل میں نہیں بلکہ الیکشن کے نتیجوں پر بھی واضح طور پر دکھا۔ ہندوستان میں اس طرح کا تجربہ National Alliance of People’s Movement (NAPM) کے افراد کررہے ہیں۔ ان کے کاموں میں قبائلی، دلت، عورتوں اور اقلیتی گروہوں کو قریب لانا اور ان میں سیاسی شعور بیدار کرنا شامل ہے۔

ہندوستان میں غیر انتخابی سیاست کیسے کی جائے؟

(۱) ایک پختہ سیاسی شعور تقاضا ہے کہ ہمیں یہ پتہ ہو کہ کس مسئلہ کو انتخابات کے ذریعہ حل کرنا ہے اور کس مسئلہ کو غیر انتخابی طریقوں سے۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۴ء؁ کے لوک سبھا انتخابات کا عمل جب شروع ہوا اگر اسی وقت ملک کے مسلم ووٹروں کی پانچ یا دس فیصد تعداد بھی مودی کو بی جے پی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنائے جانے پر سڑکوں پر اتر آتی کہ ’’کیا اب اس ملک میں جمہوریت کا یہی مطلب ہے کہ وہ شخص جس کے دامن پر ہزاروں مسلمانوںکے خون کے دھبے ہیں اب وزیر اعظم بنایا جائے گا؟‘‘ تو میرا دعویٰ ہے کہ اس سے ہندو فرقہ پرستی کی چولیں ہل جاتیں، بین الاقوامی دباؤ، سیکولر حلقے کا پریشر اور مسلمانوں کی کھلی مخالفت کے نتیجے میں مودی کا وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچنا اسی طرح ایک خواب رہ جاتا جس طرح اڈوانی کا رہ گیا۔ یہ سب ممکن تھا مگر غیر انتخابی ایکٹوزم کے ذریعہ۔ مگر ہوا کیا؟ مودی کو ہرانے کے لیے مسلمانوں نے الیکشن کا راستہ چنا، لوک نیتی کی نیشنل الیکشن اسٹڈیز کے مطابق اتر پردیش میں ۹۰ فیصد اور بہار میں ۹۸ فیصد مسلمانوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹنگ کی ہے لیکن نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ دراصل ہم نے میدان جنگ ہی غلط چنا تھا، ہماری ہار یقینی تھی۔ مسلمانوں کے سیاسی شعور کی بیداری اور پختگی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

(۲) انتخابات کو غیر انتخابی ایکٹوزم سے متاثر کرنا، جن ایجنڈوں کی فی الواقع اہمیت ہے انہیں عوام کا ایجنڈا بنانا یہ تجربہ صرف انتھنی تھِگ پین ہی کا نہیں بلکہ حالیہ انتخابات میں آر ایس ایس نے بھی اسی قسم کا رول ادا کیا ہے جس کا خاطر خواہ فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ہے۔ ایک بیان جاری کردینے یا ایک مضمون کے شائع کردینے سے زیادہ پائیدار یہ ہے کہ ہم رائے دہندگان کے گھر تک پہنچیں اور انہیں بتائیں کہ ان کا ووٹ کتنا قیمتی ہے اور اس ووٹ کو ذات اور برادری کی بنیاد پر ضائع نہیں ہونا چاہیے، اس ووٹ کے ذریعہ فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت نہیں ملنی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔

(۳) ہندوستان میں مسلمانوں کی متعدد سیاسی پارٹیوں کا منشور تو ہر انتخاب سے پہلے چھپ جاتا ہے لیکن ہندوستان میں امت مسلمہ کا سیاسی ایجنڈا کیا ہو اور کیوں ہو، اس پر لوگ سر جوڑ کر نہیں بیٹھتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک طویل المیعاد سیاسی ایجنڈا بنایا جائے اور اس پر فی الفور عمل کا آغاز ہو۔ نہ یہ ضروری ہے نہ ممکن کہ اس سیاسی ایجنڈے پر مسلمانوں کی تمام ہی سیاسی و دینی جماعتوں کا اتفاق ہوجائے۔ جتنے بھی لوگ ساتھ آسکیں ان کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

(۴) ہندوستان میں صحافیوں کی کمی نہیں ہے۔ وہ صحافی جن کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ان کی تعداد بھی خاطر خواہ ہے۔ لیکن ایک تہلکہ کو چھوڑ دیں تو تحقیقاتی صحافت کا میدان خالی نظر آتا ہے۔ اسی طرح ہماری دینی و سیاسی جماعتوں میں اب میڈیا اور پبلک ریلیشن کے شعبے تو کھلنے لگے ہیں لیکن آزاد تحقیقاتی ادارے اور تھنک ٹینکس عنقا ہیں ۔ ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی اور معاشی صورتحال کیا ہے یہ جاننے کے لیے ہمیں سچر کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا پڑتا ہے، مدارس میں تعلیم اور انفراسٹرکچر کے کیا مسائل ہیں یہ ہمیں دوسرے بتاتے ہیں، کسی دھماکے کے بعد ہم نہیں جان پاتے کہ پولس کی تحقیقات میں کمزور کڑیاں کونسی ہیں، کسی الیکشن سے پہلے ہم اپنے طور پر نہیں جان سکتے کہ عوام کس رخ پر سوچ رہے ہیں، کچھ جاننے کے لیے ہمیں اسی میڈیا اور انہی تحقیقاتی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو ہزاروں کروڑوں ہی میں سہی مگر بک جاتے ہیں۔ فوراً سے پیشتر اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمان اس ملک میں بڑی تعداد میں آزاد تحقیقاتی اداروں کا ایک جال بچھادیں۔

(۵) مسلمانوں کا مزاج ہنگامی ہے۔ ایک مسئلہ آیا اس پر زوردار ہلّہ ہنگامہ ہوگیا پھر بس، سارا جوش ایک احتجاجی مظاہرہ اور چند منٹوں کی نعرے بازی سے کافور ہوجاتا ہے۔ ضرورت ہے ان احتجاجات کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی۔ مختلف مسائل پر الگ الگ کمیٹیاں اور تنظیمیں بننی چاہئیں بالکل ٹاسک فورس کے طرز پر تاکہ کسی مسئلہ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ مثال کے طور پر بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا معاملہ ہے۔ ایک دو یا دس بیس احتجاجی مظاہروں سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت ہے ان بے گناہ مسلم نوجوانوں کو وکلاء مہیا کرانے کی، ان کے گھروں کا خرچ چلانے کی، رہائی کے بعد انہیں روزگار مہیا کرنے کی، ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر عدالت کے اندر اور عدالت کے باہر اس ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے کی۔ خاطی پولس افسران اور انٹلجنس اہلکاران کو سزا دلانے کے لیے تحریک چلانا وغیرہ بھی اس میں شامل ہے۔

(۶) تحریک اسلامی نے پچھلے کئی سالوں میں خدمت خلق کا کام خوب کیا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اکثر کاموں کی طرح یہ کام بھی adhocism کا شکار ہے۔ ہم خدمت خلق کے کام کو ایک تحریک بنا دینے کے ہنر سے نابلد ہیں۔ شاید ہم نہیں جانتے کہ خدمت خلق کو ایک سیاسی تحریک بنادینے کے نتیجے میں ہی ترکی میں نجم الدین اربکان وزارت عظمیٰ کے عہدے پر پہنچ گئے تھے۔ ہمارے یہاں ہوتا یہ ہے کہ مثلاً کسی علاقے میں ہم نے ایک نل کھول دیا، ایک ایک دواخانہ یااسکول بنوادیا اور پھر واپس دہلی آگئے۔ ضرورت ایک ایسے کیڈر کو تیار کرنے کی ہے جو گاؤں اور دیہاتوں میں باقاعدہ بس کر زمینی سطح سے رائے عامہ کی ہمواری کا کام کرے۔ خصوصاً صحت عامہ اور تعلیم کے شعبے میں ایسے کیڈر کو تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے جو دیہی علاقوں میں آرایس ایس اور مشنریوں کے بالمقابل ایک بہتر سیاسی و سماجی متبادل کے طور پر ابھر سکیں۔

(۷) ہندو فرقہ پرست عناصر ایک طویل عرصے سے اس کوشش میں ہیں کہ ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہندو قوم کے گوناگوںاختلافات کو ختم کرکے انہیں ایک بھگوا پرچم تلے متحد کردیا جائے۔ اس منزل کی جانب ان کا سفر سبک رفتاری سے جاری ہے۔ ہنوز دلّی دور تھی مگر اب تو وہ بھی ان کے ہتھے چڑھ چکی ہے اور ہندو فرقہ پرست طاقتیں ایک بار پھر ہندوستان کی سیاست میں سیاہ و سفید کی مالک بن بیٹھی ہیں۔ اس بار انہیں ایوان میں وہ اکثریت بھی حاصل ہے جس کا انہیں مدتوں سے انتظار تھا۔ دیر یا سویر وہ ملک پر اپنے ایجنڈے کو تھوپنا شروع کریں گے۔ اب یہ اس ملک کے مسلمانوں پر ہے کہ کیا وہ ان کے اقدام کا انتظار کریں گے یا آگے بڑھ کر خود اقدامی پوزیشن میں آئیں گے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان، سماج کے دیگر امن پسند و منصف مزاج افراد کے ساتھ، ہندوستان کے تصور پر بحث چھیڑدیں۔ آئیڈیا آف انڈیا کیا ہے؟ اگر عوام بی جے پی کی حکومت سے یہ سوال پوچھنے لگے کہ ان کے ہندوستان کا تصور کیا ہے اور آیا یہ وہی تصور ہے جو آر ایس ایس کا ہے یا اس سے کچھ مختلف ہے تو آپ دیکھیں گے کہ بی جے پی کس طرح کی بے چینی میں مبتلا ہوتی ہے۔ ارنب گوسوامی نے جب بی جے پی لیڈر اسمرتی ایرانی سے پوچھ لیا کہ ’’آر ایس ایس کے رام مادھو کہہ رہے ہیں کہ تہذیبی طور پر ہندوستانی مسلمان بھی ہندو ہے آپ اس بات سے متفق ہیں یا نہیں؟‘‘ تو اسمرتی ایرانی آئیں بائیں شائیں کرنے لگی تھیں۔ اسی طرح کے سوالوں کی بنیاد پر اگر کوئی تحریک کھڑی ہوجائے تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عوام میں بی جے پی کی ساکھ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔

یہ چند نکات بطور نمونہ پیش کیے گئے ہیں وگرنہ غیر انتخابی سیاست کا میدان بہت وسیع ہے۔ قابل ذکر بات صرف یہ ہے کہ یہ پتہ ماری کا کام ہے، ایسا کام جس کی اہمیت تو بہت ہے لیکن جس میں نہ نام و نمود ہے نہ دولت و ثروت ۔ ہندوستان میں اسلامی انقلاب کا مورخ اس راہ میں اپنی جوانیاں قربان کرنے والوں کو یقینا یاد نہیں رکھ پائے گا لیکن شاید قیامت کے دن اللہ کے دربار میں ان جوانوں اور ان کی جوانیوں پر انبیاء، صدیقین و شہداء بھی رشک کریں گے۔

جولائی 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau