رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

نماز کا ایک مسئلہ

سوال: ہماری مسجد کے امام کو فجر کی فرض نماز کی پہلی رکعت میں غلطی کے نتیجے میں نماز دہرانا پڑی ۔ ہمارے ایک ساتھی نے ، جس کی پہلی رکعت چھوٹ گئی تھی اور جس نے امام کے ساتھ صرف دوسری رکعت پائی تھی ،  امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت ملا کر اپنی نماز مکمل کرلی ۔ دیگر مصلیوں نے نماز دہرائی ، لیکن اس نے نہیں دہرائی ۔ اس کا استدلال تھا کہ امام صاحب کو پہلی رکعت کی قرا ء ت کی خامیوں کی وجہ سے نماز دہرانی پڑی ، جب کہ میں پہلی رکعت میں موجود ہی نہیں تھا ۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ ہمارے ساتھی کو ایسی صورت میں نمازقضا کرنا پڑے گی یانہیں؟

جواب : پوری نماز ایک اکائی (Unit)ہے ۔ رکعتوں کوالگ الگ کرکے ایک رکعت کودرست اور دوسری رکعت کونادرست قرار دینا صحیح نہیں۔ یا توپوری نماز صحیح ہوگی یا پوری فاسد ہوگی۔ اگر کسی غلطی کی وجہ سے امام صاحب کی نماز فاسد ہوگئی اور انہیں دہرانی پڑی تو تمام مقتدیوں کوبھی نماز دہرانا ہوگی۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جس رکعت میں غلطی تھی ، اس میں شریک نہیں تھا، اس لیے ان کی صحیح رکعت میں ایک اوررکعت شامل کرکے میری نماز درست ہوگئی ۔ اس بنا پر ان صاحب کی نماز نہیں ہوئی ۔ انہیں اس کی قضا کرلینی چاہیے۔

فقہ مالکی میں نمازمیں دورانِ قیام ہاتھ کہاں رکھے جائیں؟

سوال: زندگی نو‘ جنوری ۲۰۱۶ء میں نماز میں ہاتھ باندھنے سے متعلق سوال کے جواب میں آپ نے حدیثوں کا تفصیلی حوالہ دیا ہے، پھر لکھا ہے کہ جمہورعلماء (احناف ، شوافع، حنابلہ) کے نزدیک نمازی کو دورانِ قیام ہاتھ باندھنا چاہئے، البتہ امام مالکؒ سے اس سلسلے میں کئی اقوال مروی ہیں۔ ان اقوال کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک ہاتھوں کا کھلا چھوڑنا یعنی مطلق نہ باندھنا قابل ترجیح  ہے ۔

آپ کے جواب سے مزید چند سوالات ابھرتے ہیں:

۱۔ احادیث کی بیش تر کتابیں بعد کے زمانے میں مرتب ہوئی ہیں ۔ قدیم ترین مجموعۂ احادیث غالباً خود امام مالک ؒ کا مرتب کردہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کی کتاب ’مؤطا‘ میں کیا اس کے متعلق کوئی وضاحت ہے ؟

۲۔ امام مالک کی پوری زندگی مدینہ منورہ میں گزری ۔ انہوںنے طویل عمر پائی۔ عرصہ تک وہ مسجد نبوی میں درس دیتے رہے ۔ انہوں نےمدینہ میں تابعین اورتبع تابعین کی ایک بڑی تعداد کو لمبے عرصے تک مسجد نبوی میں نماز  ادا کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ ہم سب جانتےہیں کہ نماز ایسی عبادت ہے جس کا تواتر وتسلسل رسول اللہ ﷺ کے عہد سے لے کر آج تک قائم ہے اور قیامت تک رہے گا ۔ ظاہر ہے کہ دوسرے ائمہ کے مقابلے میں امام مالکؒ کو اہلِ مدینہ کا تعامل و تواتر دیکھنے کا زیادہ موقع ملا تھا ۔ ایسی صورت میںسوال اٹھتا ہے کہ اہلِ مدینہ کا تواتر وتعامل اس مسئلہ میں کیا رہا ہے ؟

اگران سوالات کی مناسب وضاحت ہوجائے تواس مسئلہ کا شافی جواب مل سکتا ہے ۔

جواب: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے طریقۂ نماز سے متعلق جواحادیث مروی ہیں ، ان میں سے بعض میں یہ صراحت موجود نہیں ہے کہ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد آپ ؐ ہاتھ باندھ لیتے تھے اوربعض میں اس کاذکر ہے ۔ احناف ، شوافع اورحنابلہ نے مؤخر الذکر احادیث کے پیش نظر ہاتھ باندھنے کوسنت قرار دیا ہے، جبکہ امام مالکؒ کے نزدیک وہ احادیث قابلِ ترجیح ہیں جن میں ہاتھ باندھنے کا تذکرہ نہیں ہے ۔

مؤطا امام مالکؒ میں مذکور بعض احادیث میں ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے ۔ مثلاً حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتےہیں:کَانَ النَّاسُ یُوْمَرُوْنَ اَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنٰی عَلَی ذِرَاعِہِ الْیُسْرَیٰ فِیْ الصَّلاَۃِ (حدیث نمبر ۷۰۸)’’لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی نمازمیں اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے۔‘‘

اس حدیث کی بنا پر امام مالکؒ ہاتھ باندھنے کو’مندوب‘ کہتےہیں ، لیکن وہ اسے سنت نہیں قراردیتے ۔  (الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ، عبدالرحمن الجزیری ، دارالکتب العلمیۃ بیروت، ۱۴۲۴ھ : ۱؍۲۲۷)

علامہ ابن رشد مالکیؒ نے اپنی تصنیف ’بدایۃ المجتہد ‘میں امام مالکؒ کے مسلک کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ ہاتھ باندھنا افعال نمازمیں سے نہیں ہے ، بلکہ وہ استعانت کے قبیل سے ہے ۔ اسی لیے امام مالکؒ نے نفل میں اس کی اجازت دی ہے ، فرض میں نہیں ۔‘‘ (بدایۃ المجتہد ، دارالباز ، مکۃ المکرمۃ : ۱؍۱۳۷)

علامہ ابن عبد البر مالکی نے بیان کیا ہے کہ ’’امام مالکؒ زندگی کے آخری لمحے تک ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے رہے ۔‘‘ (فقہ السنۃ ، السید سابق، دارالفکر ، بیروت :۱؍۱۲۳)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کا کیا حکم ہے ؟ فقہاء ثلاثہ اسے مسنون کہتے ہیں ، جبکہ امام مالک مندوب قرار دیتے ہیں۔

گدھا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری؟

سوال: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز سے شائع شدہ جناب طالب ہاشمی کی کتاب ’خیر البشر کے چالیس جاں نثار ‘ میں حضرت معاذ بن جنبل ؓ کے تذکرہ میں ایک جگہ ان کے حوالے سے لکھا ہوا ہے :’’ میں ایک دن گدھے پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوارتھا اورآپؐ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔‘‘ (ص :۳۰۷) یہ بات بڑی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے ۔ گدھا چھوٹے قد اورمعمولی قسم کا جانورہے ۔ اس پر سواری کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ اس کی جسامت اتنی مختصر ہوتی ہے کہ دو اشخاص اس پر سوارہی نہیں ہوسکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گدھے کی سواری زیب نہیں دیتی اورآپؐ کے پیچھے ایک صحابی کا بیٹھنا عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔

مجھے سنہ۲۰۱۱ء میں حج کی سعادت نصیب ہوئی اورتقریباً پینتالیس دنوں تک سعودی عرب میں میرا قیام رہا ۔ اس عرصہ میں مکہ معظمہ ، منیٰ ، عرفات اور مدینہ منورہ وغیر جانا ہوا ۔ پورے سفر میں کہیں بھی مجھے گدھا نظر نہیں آیا ۔کہیں ایسا تونہیں ہے کہ مصنف نے انگریزی الفاظ ASSیا DONKEY کا ترجمہ ’گدھا‘ کردیا ہو ، جب کہ ان الفاظ کا اطلاق خچر پر بھی ہوتا ہے ۔ جسمانی ساخت میں خچر گھوڑے سے کم تر، لیکن اس کی نسل سے ہوتا ہے ۔ اسے سواری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، جب کہ گدھے کوکہیں سوار ی کے لیے نہیں استعمال کیا جاتا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس طرح کے جملوں کا استعمال بے ادبی محسوس ہوتی ہے ۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے جملے خارج کردیے جائیں۔

جواب: سطورِ بالا میں جواشکال ظاہر کیا گیا ہے وہ نقلی اورعقلی دونوں اعتبار سے غلط ہے ۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے جوحدیث مروی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں:کُنْتُ رِدْفَ رَسُوْلِ اللہِ صَلیّٰ اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی حِمَارِ (مسلم :۴۸)’’میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔‘‘

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عربی زبان میں ’حمار‘ اس جانور کوکہا جاتا ہے جسے ہمارے یہاں’ گدھا‘ کہا جاتا ہے ۔

کسی کتاب کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات ضرور ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ کس زمانے اورکس جگہ سے متعلق ہے ؟ زمان ومکان کی تبدیلی سے معانی میں بھی فرق آجاتا ہے ۔ مثا ل کے طورپر ہمارے یہاں ’اُلّو‘ کونحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے ، لیکن یورپی ممالک میں اسے ’عقل ودانش‘ کی نشانی سمجھا گیا ہے ۔ اسی طرح گدھا ہمارے یہاں بے وقوفی کی علامت ہے، جب کہ عرب میں اسے صبر واستقامت کی نشانی قرار دیا گیا ہے ۔ کہا جاتا ہے : فلان أصبر من حمار فی الحروب (فلاں شخص جنگوں میں گدھے سے زیادہ ثابت قدمی کا مظاہر ہ کرتا ہے ) خلافتِ بنی امیہ کے آخری حکم راں کا نام مروان بن محمدتھا ۔ اس کے زمانے میں بہت زیادہ بغاوتیں ہوئیں ، جن کا اس نے بڑی پامردی سے مقابلہ کیا تھا ، اسی لیے اس کا لقب ’الحمار‘ ہوگیا تھا اوراسے ’مروان الحمار‘ کہا جاتا تھا۔

علامہ ابن القیم نے اپنی تصنیف ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں تھے ۔ ان میں فرس (گھوڑا ) ناقۃ (اونٹنی ) جمل (اونٹ) بغلۃ (خچر) شاۃ (بکری) اورحمار(گدھا) کا ذکر ہے ۔ (زاد المعاد فی ہدی خیر العباد ، ابن القیم الجوزیۃ ، تحقیق : شعیب الارنؤؤط ،عبدالقادر الارنؤوط، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، ۱۹۹۸:۱؍۱۲۸۔۱۲۹) احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میںگدھے کوبھی سواری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ مختلف روایتوں میں حضرت سعدبن معاذؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اورحضرت معاذ بن جبلؓ کے گدھے پر سوار ہونے کا ذکر ہے ۔ بعضـ روایات میں ایک گدھے پر دو افراد کے سوار ہونے کی صراحت ہے ۔ مثلاً ایک روایت میں حضرت ابوذر غفاریؓ بھی ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر سوار ہونےکی صراحت کرتے ہیں۔ ( ابوداؤد: ۴۰۰۲)

سائل موصوف کوان کے سفر حج اور سعودی عرب میں ڈیڑھ ماہ قیام کے دوران کہیں گدھا نظر نہیں آیا ، اس کو انہوں نے اس چیز کی دلیل بنا لیا کہ سعودی عرب میں گدھا پایا ہی نہیں جاتا ۔ اگر بکریوں ، دنبوں اوراونٹوں کی قربانی نہ ہوتی تویہ جانوربھی شہری علاقوں میں نظر نہ آتے ۔ پھرکیا یہ چیز دلیل بن سکتی ہے کہ یہ جانور سعودی عرب میں نہیں پائے جاتے۔

کتاب میں لفظ ’ گدھا‘ کا استعمال انگریزی الفاظ ASSیا DONKEYکا ترجمہ کرکے نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ یہ عربی لفظ ’حمار‘ کا ترجمہ ہے۔ عربی زبان میں خچر کے لیے’ بغلۃ‘ اور گدھے کے لیے ’حمار‘ کا لفظ آتاہے ۔عہدِ نبوی میں یہ دونوں جانور پائے جاتے تھے اوردونوں سواری کے لیے مستعمل تھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خچر پر بھی سواری کی ہے اورگدھے پر بھی ۔ اس سے آپؐ کی بے ادبی کا پہلو نہیں نکلتا ۔ کوئی چیز ہمارے عرف میں ناپسندیدہ ہو توضرور ی نہیں کہ دوسری جگہوں پر بھی اسے ناپسند یدہ سمجھا جاتا ہو۔

مئی 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau