انحرافی جنسی رويے، نفسی معاشرتی ڈسکورس +LGBTQ اور گلابی معاشيات – 13

ڈاکٹر محمد رضوان

رائد پریڈ ہوں یا قوس قزح والے جھنڈے، سپریم کورٹ کے آرڈر ہوں یا مشہور ہستیوں کے پوڈکاسٹ، ہم جنس پرستوں کے حقوق کی ریلیاں ہوں یا شو بزنس کے ذریعے مختلف لوگوں کا اپنے آپ کو جنسی دوئی کے باہر کا باور کرانا۔ یہ سارے مظاہر ایک عام آدمی کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا واقعی اس قسم کے انحرافی رویے رکھنے والے اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں؟ کیا واقعی انسانیت وسیع پیمانے پر بنیادی جنسی اخلاقیات سے عاری ہو چکی ہے؟ کیا فی الواقع دنیا میں انحرافی جنسی رویے مشرق سے مغرب تک عام ہو چکے ہیں؟

ان تمام سوالات کے جوابات میں ایک اہم پہلو معاشیات کا ہے، اسے گلابی معاشیات سے تعبیر سے کیا جاتا ہے۔ اس پہلو کے حوالے سے دو طرح کے نقطہ نظر عام ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ سب معاشی مفادات کا کھیل ہے۔ +LGBTQ والے افراد کا ایک بڑا مارکیٹ ہے۔ ان کی ضرورتیں عام جنسیت رکھنے والے افراد سے ذرا مختلف ہوتی ہیں۔ اس سماج کے لیے مارکیٹ مصنوعی ضرورتیں تشکیل کر رہا ہے۔ سماجی جبر (persecution) کی بنا پر ان کے لیے محفوظ سماجی مقامات کی کمی ہوئی ہے۔ جہاں وہ آزادانہ میل جول کر سکیں۔ ایک خاص طرح کے جنسی بیانیے کے ’’گماشتوں‘‘ کی حیثیت سے وہ ایک خاص قسم کا صارفی رجحان (consumption pattern) رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ایک مارکیٹ کا ایکوسسٹم تشکیل پاتا ہے۔ اس مارکیٹ کے تحت اشتہارات اور دیگر پہلوؤں سے سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں تو گویا یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس بیانیے کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ حالاں کہ یہ محض ایک مارکیٹ کا بلبلہ (bubble) ہے۔

ایک دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ایک بیانیہ پوری دنیا میں بڑی شدو مد کے ساتھ رائج ہو رہا ہے۔ اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مارکیٹ وجود میں آرہا ہے۔ یعنی مارکیٹ اس بیانیے کو مہمیز (pedal) لگاتا ہے، ضرورت کی تشکیل کر رہا ہے۔ یعنی ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مارکیٹ بیانیہ مہمیز لگاتا ہے، مصنوعی اور غیر ضروری طور پر تعداد اور اثر دونوں کو دکھا رہا ہے۔ اس لیے اس بیانیہ کا اتنا شور ہے، ورنہ یہ اتنی بڑی بات نہیں۔

دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ضرورتیں تشکیل پا چکی ہیں، ایک مارکیٹ وجود میں آچکا ہے۔ اسی کے تحت ’’ڈیمانڈ اور سپلائی‘‘ کے قانون کی یہ ساری ہماہمی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں باتیں جزوی طور پر صحیح ہیں۔ ایک طرف تو مارکیٹ وجود میں آچکا۔ دوسری طرف اس مارکیٹ کو مزید بڑھانے اور اس سے زیادہ سے زیادہ منافع کشید کرنے کے لیے اس طرح کے بیانیوں کو مشتہر کیا جاتا ہے، اور ان کی پذیرائی کی جاتی ہے۔

اس کا ایک تیسرا پہلو یہ ہے کہ یوروپ مرکوز سیکولرزم کی اہم ترین ضرورت یہ بھی ہے کہ ہر وہ بیانیہ جو مذہب کے حوالے سے ہو اس کی بیخ کنی کی جائے۔ کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوا تو مذہب دوبارہ اسی حیثیت پر فائز ہو جائے گا، جس سے اتارنے کے لیے سیکولرزم کو کئی سو سال لگے ہیں۔

اب چوں کہ سارے ساختی مذاہب جنسی دوئی والے بیانیے کے حامی ہیں۔ صرف اور صرف عورت اور مرد کے خانوں میں جنسیت کو تقسیم کرتے ہیں اور دیگر جنسی رویوں کو غیر فطری بتاتے ہیں۔ ان رویوں میں مبتلا افراد کو ’قابل تعزیر‘ سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے افعال پر سخت سزائیں تجویز کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس بیانیے کے خلاف جنسی سیالیت والے بیانیے کو ہر ممکن طریقے سے  رائج کیا جائے۔

چوں کہ سیکولر ہیومینزم ایک آزادانہ مارکیٹ کا بھی علم بردار ہے۔ اس لیے اس مارکیٹ کے لیے گنجائش (space) پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔ ان دو باتوں کی بنا پر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ایک آزاد مارکیٹ، سیکولر انسانی اقدار پر مبنی معاشرت سے تعامل کرتا ہے۔ +LGBTQ کے حوالے سے دیکھنے پر یہ پوری تصویر بالکل صاف ہو جاتی ہے۔

چناں چہ اس نتیجہ پر پہنچنا آسان ہو جاتا ہے کہ دراصل ایک آزاد مارکیٹ اس طرح کے بیانیوں کا مکمل سپورٹ کرتا ہے اس کے لیے اسپیس فراہم کرتا ہے، بلکہ ندرت اور تخلیقیت کے ساتھ نئی ضرورتوں کی تشکیل بھی کرتا ہے۔

+LGBTQ کی اس مارکیٹ کو ’گلابی معاشیات‘ کہا جاتا ہے۔

لفظ گلابی (pink)کی تاریخ بھی بہت دل چسپ ہے۔ نازی کیمپ میں وہ قیدی جو مرد ہم جنسیے ہوتے تھے انھیں ایک گلابی رنگ کا بیج دیا جاتا تھا۔ کیمپ میں ان کے بیرک الگ ہوتے تھے۔[1]

قارئین جانتے ہیں کہ اس وقت کی دنیا کے بیشتر حصوں کی طرح جرمنی میں بھی ہم جنسیت پر پابندی تھی اور اسے ایک بڑا جرم تصور کیا جاتا تھا۔ اس پہلو سے جرمنی میں ہم جنسیت پر عامل افراد پر جبر کی بہت ساری داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو پروپیگنڈہ ہیں، بعض جزوی حقائق پر مبنی ہیں اور بعض مظلومیت زدگی (victimhood) کو رواج دینے کے لیے بیان کی جاتی ہیں۔ نازی کیمپ میں مرد ہم جنس پرستوں کے حالات پر بھی تحقیقات موجود ہیں۔ جو اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔[2]

اس بیج کے گلابی رنگ کو +LGBTQ لابی نے ایک علامت کے طور پر متعارف کروایا اور ان کی ضرورتوں کے لیے وجود میں آئے مارکیٹ کو ’گلابی مارکیٹ‘ سے متعارف کروایا۔ اس طرح سے گویا انھوں نے اپنے آپ کو اور اس بیانیے کو اس رنگ سے موسوم کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ’’یہ مارکیٹ اور معاشیات اس عزت نفس کی اور اس بیانیے کی قبولیت کی ’بازیافت‘ ہے۔ اور دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ لے کہ جبر، رد اور ظلم  کی اس بھیانک تاریخ سے اس بیانیے نے کس طرح ایک لمبا سفر طے کرکے اپنے آپ کو منوا لیا ہے۔‘‘

اس طرح بیک وقت دو مقاصد حاصل ہو گئے۔ ایک تو یہ کہ بیانیے کو درکار ضروری ’مارکیٹ‘ سپورٹ حاصل ہو گیا۔ ایک بار جب مارکیٹ تشکیل پا جائے تو پھر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بہت وقت لگتا ہے اور مارکیٹ فورسز کا اپنا ایک توازن ہوتا ہے۔ دوسرے مذہبیت بطور خاص ’عیسائیت‘ کے تصورِ حیات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے ماحول سازگار کرنے کی طرف تیزی سے پیش رفت ہو گئی۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ گلابی معاشیات ایک تیزی سے ابھرتا ہوا تحقیقی میدان ہے۔ اس پر سیکڑوں مقالات ہیں۔ اس کے تجزیہ نگار ہیں۔ مارکیٹ پروجیکشن ہیں۔ برطانیہ میں گلابی پاونڈ کی اصطلاح اخبار گارجین میں 1984 ہی میں متعارف ہوگئی تھی۔ گلابی پاؤنڈ کا مطلب +LGBTQ افراد کی قوتِ خرید ہے۔ اسی طرز پر امریکہ میں ڈوروتھی ڈالر(Dorothy Dollar)کی اصطلاح عام ہے۔ مندرجہ ذیل لنک پر گلابی معاشیات کے جدید ترین اعداد شمار دیے گئے ہیں:

https://www.lgbt-capital.com/docs/Estimated_LGBT-GDP_(table)_-_2023.pdf

اس سائٹ پر موجود جدول کی صحت اور سائنٹفک سطح پر معتبر ہونے کے سلسلے میں خود اس جدول کے نیچے یہ عبارت موجود ہے۔

’’اس جدول میں ڈیٹا صرف معلوماتی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے، +LGBTQ کیپیٹل مینیجمنٹ لمیٹیڈ  اس کی درستی اور مطابقت کی یقین دہانی نہیں کرتا‘‘۔[3]

کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے ڈسکلیمر قانونی نوعیت کی ضابطہ کی کارروائی ہوتے ہیں۔ اور اس ڈیٹا میں کچھ نہ کچھ سچائی  تو ہوگی۔ اس دلیل کو اگر مان بھی لیا جائے تو درج ذیل اعتراضات اس پر وارد ہوتے ہیں۔

جی ڈی پی کی تعریف کا تعین

+LGBTQ افراد کی تعداد (volume)

اشاریاتی سقم (statistical flaws)

بعض حوالوں اور پہلوؤں سے جی ڈی پی بجائے خود ایک متنازع (contested) اصطلاح ہے۔ حالاں کہ یہ مستعمل ہے۔ لیکن اس کی افادیت پر، اس کے استعمال پر، اس کے اندر لچک پذیری پر اختلافات کا ایک وسیع کینوس موجود ہے۔ ان تمام کے باوجود یہ بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن جب اس کا اطلاق +LGBTQ افراد کے ذریعے وجود میں آنے والی جی ڈی پی پر کیا جائے گا تو اس کے نتائج پر سوالات فطری طور پر اٹھیں گے۔ اوپر دیے گئے تینوں پہلو ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

مثلا +LGBTQ  افراد کی تعداد سے جی ڈی پی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

اب اوپر کے جدول پر غور کریں تو ہندوستان میں +LGBTQ کی تعداد ۶۶ ملین بتائی گئی ہے یعنی تقریبًا ساڑھے چھ کروڑ افراد اور ان کی قوت خرید ۲۰۲۳ میں اندازًا 168 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

اب سب سے پہلے تو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ یہ +LGBTQ افراد کا تخمینہ کیسے لگایا گیا۔ کیوں کہ ابھی تک ملک میں اس آبادی کا کوئی خصوصی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ یہ بس ایک اندازہ ہے۔ اندازہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ اور بہت زیادہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ اب جب سارے اعداد و شمار صرف اندازے کے مطابق ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ سارے شماریاتی طریقے انھی اعداد و شمار کی بنا پر استعمال کیے جائیں گے۔ جب ایسا ہوگا تو اس میں ایک بڑا شماریاتی سقم در آئے گا۔

گلابی معاشیات کے اکا دکا ناقدین اوپر بیان کیے گئے نکتے کی تائید کرتے ہیں۔ وہ اصلًا اس معاشیات کا انکار نہیں کرتے لیکن اس بات کے داعی ہیں کہ گلابی معاشیات کو سائنٹفک حدود کا پابند ہونا چاہیے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا سر کی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ اس طرح کا مارکیٹ وجود میں آگیا ہے اور اس سے جڑے پراڈکٹ اب عام ہیں تو اس سے انکار کے کیا معنی ہیں۔ دراصل انکار کی بات ہے ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کیا فی الواقع اس مارکیٹ کا حجم اتنا ہے یا ایک بلبلہ تخلیق کیا جاتا ہے تاکہ ایک متسلسل (perpetual) حالت (state) بنا کر رکھی جا سکے۔ جس کی بنا پر طلب اور رسد کا سلسلہ جاری رہے تاکہ اس کے ذریعے تحقیق و ندرت کے وسائل بروئے کار لائے جا سکیں اور پھر نئے نئے پروڈکٹ متعارف ہوتے رہیں اور ایک دائروی نظام تشکیل پا جائے۔

گلابی معاشیات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ وہ یہ ہے گذشتہ دہائی میں بڑی تعداد میں ایسے تحقیقی مقالے منظر عام پر آئے جو درج ذیل منظر نامے کو پیش کرتے ہیں۔

+LGBTQ افراد کی ملک کے معاشی مرکزی دھارے (mainstream) میں شمولیت نہ ہونے کی وجہ سے ملک کی GDP کو نقصان پہنچتا ہے۔

+LGBTQ  افراد کو معاشی جدوجہد میں شامل کرنے سے ملک کی GDP بڑھتی ہے۔

معاشی ترقی اور +LGBTQ کی شمولیت ایک دوسرے سے مربوط ہے۔[4]

ہم سمجھتے ہیں اس طرح کی تمام تحقیقات درج ذیل خلا اپنے اندر رکھتی ہیں۔

بڑی معاشی قوتیں جیسے چین اور ہندوستان میں اس بات کے ثبوت خال خال ہی ہیں کہ یہ ایک بڑی +LGBTQ ورک فورس ہے اور اسے مرکزی دھارے میں معاشی جدوجہد سے دور رکھا گیا ہے۔ اور اس لیے یہ فیکٹر ملک کی جی ڈی پی کی کمی کا باعث بن رہا ہے۔

چوں کہ اس ضمن میں اعداد و شمار ہی موجود نہیں ہیں اس لیے تخمینی قدروں (extrapolation) سے کام چلایا جاتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک معاشی جدوجہد +LGBTQ  افراد کی تعداد اور کام کی جگہ پر امتیازی سلوک  اور ظلم کے واضح اعداد و شمار جمع نہ ہو جائیں، اس طرح کے دعوے ان ملکوں کے لیے درست ہو سکتے ہیں جہاں یہ اعداد و شمار اور اس طرح کے اشاریاتی ماڈل ٹیسٹ کر لیے گئے ہیں۔ جیسے بعض مغربی ممالک، لیکن ظاہر سی بات ہے مغربی ممالک کے معاشی ماڈل اور ہندوستانی معاشی ماڈل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ عام طور پر مابعد صنعتی معاشرے ہیں۔ اور یا تو معلومات پر مبنی (knowledge based) معاشی ماڈل بن چکے ہیں یا بننے کے مراحل میں ہیں۔ ہندوستان اور چین مخلوط قسم کے ماڈل اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ہندوستان اب بھی بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ چین کو اب بھی ایک ’مبنی پر صعنتی پیداوار‘ ملک کہا جا سکتا ہے۔ جو دھیرے دھیرے ایک مبنی پر معلومات ماڈل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

ہندوستان جیسے ملک میں جہاں معاشرتی اور جنسی ممنوعے (taboo) اب بھی موجود ہیں وہاں +LGBTQ افراد اپنی شناخت کے اظہار کے بغیر خاموشی سے اسی معاشی جدوجہد میں شریک ہیں۔ اور اپنا معاشی حصہ پیش کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دعوی ہندوستان کے تناظر میں بے محل ٹھہرتا ہے کہ +LGBTQ موافق قوانین GDP کو بڑھانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یقینًا اکا دکا واقعات ہیں جہاں اس طرح کے افراد کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا لیکن یہ عام نہیں ہیں اور اثرات کے اعتبار سے معمولی ہیں۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ اوپر بیان کیا گیا منظرنامہ بھی محض ایک اندازہ ہی ہے یا قیاسی ہے۔ جسے ڈاٹا کا سپورٹ حاصل نہیں ہے۔ لیکن بعینہ یہی بات اس بیانیے کے لیے بھی درست ہے کہ +LGBTQ  دوست قوانین GDP میں اضافے کا باعث بنتے ہیں کیوں کہ ہندوستان کی سطح پر اس طرح کا ڈاٹا  نہیں ہے۔

تقریبًا آدھی دنیا اور دنیا کی دو بڑی معاشی قوتوں کے معتبر ڈاٹا کے بغیر اس طرح کی ظن و تخمین (extrapolation) صحت کے کس درجے میں رکھے جا سکتے ہیں اس کا فیصلہ قارئین خود کر سکتے ہیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کی صنفی یا جنسی شناخت اس کی معاشی سرگرمی کو فیصل کرنے میں یا معاش کے حصول میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ افراد بہرحال آزاد ہیں۔ معاشی سرگرمی کی جگہ پر کسی کو اس کی شناخت کی بنیاد پر ہراساں کرنا بھی کسی طور پر پسندیدہ اور جائز نہیں کہا جا سکتا۔ اصل مسئلہ اس شناخت پر غیر ضروری زور کے حوالے سے ہے۔ شناخت کو اس غیر ضروری زور کے ساتھ ’عموم‘ دلوانے پر ہے۔ اور اس کے لیے کیے جا رہے پروپیگنڈے پر ہے۔

گلابی معاشیات کا ایک اہم پہلو گلابی سرمایہ داری (pink capitalism)ہے۔

گلابی سرمایہ داری کیا ہے؟

گلابی سرمایہ داری سے مراد وہ سماجی/معاشی اور مارکیٹ کے مظاہر ہیں جو عمومی جنسیت کے علی الرغم جنسی رویہ رکھنے والے افراد سے متعلق ہیں۔ یہ دراصل سرمایہ داری، مارکیٹ اکنامی اور جنسی رخ کے اشتراک سے بنتی ہے۔ جس کا ہدف سفید فام، متوسط طبقہ ہوتا ہے۔

گلابی سرمایہ داری اپنی اصل کے اعتبار سے سیکولر انسانی تصورِ حیات کی پیداوار ہے جس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ گلابی سرمایہ داری کے تحت مختلف سرگرمیاں آتی ہیں مثلا +LGBTQ ملبوسات، +LGBTQ دوست، سیاحی مقامات کی تشکیل، +LGBTQ دوست پروڈکٹ جیسے جنسی کھلونے اور ملبوسات، +LGBTQ  دوست بار اور نائٹ کلب، اس طرح کی سرگرمیوں کا ایک وسیع تر اور پرکشش معاشی مستقبل دکھایا جا رہا ہے۔ درج ذیل جدول ملاحظہ ہو۔[5]

نمبر شماراشیاتفصیلمارکیٹ کا حجم
۱ملبوسات اور فیشن+LGBTQکپڑےUS $ 9.4 Tn
۲سیاحت اور سیاحتی مقامت+LGBTQ دوست سیاحتی ہوٹلUS $ 568 Bn
 ۳میڈیا اور تفریح+LGBTQ دوست فلمیں، ڈرامےUS $ 100 Bn
۴صحت اور ادویاتصنف تبدیل کرنے کی سرجریUS $ 1.3 Tn
۵ریلیاں اور دیگر تقاریبPride پریڈ وغیرہUS $ 100 million 1Bn
۶قانونی اور معاشی خدمات+LGBTQ سے متعلق قانونی چارہ جوئیUS $ 1.4 Bn
۷میک اپ و کاسمیٹکس+LGBTQ میک اپ و دیگر کاسمیٹیک زیورات جویلیری وغیرہUS $ 1.8 Bn
۸ٹکنالوجی اور ایپس+LGBTQ ڈیٹنگ ایپسUS $ 1.6 Tn
۹اندرون خانہ زیبائش

(Home and Interior Décor)

+LGBTQ تھیم کی بنیاد پر گھر کی زیبائش بذریعہ +LGBTQ افرادUS $ 100 million to 1 bn

دماغ کو چکرا دینے والے یہ اعداد و شمار مختلف اندازوں کے ہیں جو مالیات کے مختلف پہلووں پر کام کرنے والے ادارے دیتے ہیں، لیکن ان اعداد و شمار کے متعلق درج ذیل حقائق ذہن میں رہنے چاہئیں:

۱۔ یہ مختلف شماریاتی آلات کا استعمال کرکے تخلیق دیے جاتے ہیں۔

۲۔ یہ محض اندازے ہوتے ہیں۔ اس میں احتیاط کے طور پر کئی طرح کی گرفت و توازن (check and balance) کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

۳۔ یہ مشہور زمانہ فرموں کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔ جو اعلی درجے کی کمپیوٹنگ کے ذرائع و وسائل رکھتی ہیں اور شماریات کے اعلی ماہرین کے خدمات حاصل کرتی ہیں۔

۴۔ ان تمام کے باوجود یہ صرف  ’باعلم تخمینے‘ (educated guess) کہلاتے ہیں اور ان میں مکمل طور پر غلط ہونے کا پورا امکان موجود ہوتا ہے۔

اس مقدمہ کی روشنی میں یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ گلابی سرمایہ داری کے ذریعے دکھائے جانے والے سبز باغ ہو سکتا ہے کہ اپنے اندر کچھ حقیقت لیے ہوں۔ لیکن خالص منطقی بنیادوں پر ان کی تشکیل و تعمیر ایک مشکل کام ہے۔

حرف آخر

+LGBTQ کا پورا نفسی معاشرتی ڈسکورس اس بات پر مصر ہے کہ اسے ہر صورت میں ایک فطری رویے کی صورت میں قبول کیا جائے۔ اس طرح کے جنسی رویے رکھنے والے افراد کو نہ صرف یہ کہ ان کے مکمل جنسی حقوق دیے جائیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر علمی سطح پر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے احساسات سے گزرنے والے افراد کو محض جنسی حقوق کی عینک سے نہ دیکھا جائے، بلکہ جس طرح مرد و عورت مل کر ایک خاندان کی تشکیل کرتے ہیں اسی طرح ’دو مرد‘ یا ’دو عورتیں‘ بھی خاندان کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ چناں چہ اس ضمن میں کہا جا رہا ہے کہ ’دو مرد‘ یا ’دو عورتیں‘ بھی اس طرح الفت، مودت، خیر خواہی اور خاندانی استحکام کے نظریات کے تحت زندگی بسر کر سکتے ہیں، جس طرح ایک مرد ایک عورت۔

اس طرح کے بیانیوں کو تقویت دینے والی تحقیقات کی جاتی ہیں۔ میڈیا کے تمام تر ذرائع اور وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بطور خاص سوشل میڈیا میں جنسی سیالیت کو ’معمول کی چیز‘ (norm) بنانے کا کام بہت منظم اور بہت اعلیٰ سطح کی ندرت و تخلیقیت کے ساتھ جاری ہے۔

بغور دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس ڈسکورس نے انتہائی منظم اور اسٹریٹجک اقدامات کے ذریعے عوام بطور خاصی مغربی اقوام میں اپنی معقولیت ثابت کرنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔ مثلًا:

میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں داخلہ اور نفوذ حاصل کیا گیا۔

قانونی لڑائیوں کے ذریعے ۳۲ ممالک میں ہم جنس پرست شادیوں کو قانون جواز دلوایا گیا۔

مارکیٹ میں گلابی معاشیات اور گلابی سرمایہ داری جیسی اصطلاحات وضع کرکے اس کمیونٹی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ایک مارکیٹ ایکو سسٹم تیار کرلیا گیا۔

گلابی سرمایہ کا استعمال کرتے ہوئے سیاست کے میدان میں اسٹریٹجک اقدامات کیے گئے۔ (امریکہ میں انتخابات میں ڈوروتھی ڈالر) کا استعمال اور عدم استعمال دونوں ایک دل چسپ موضوع ہیں جن کا یہ مضمون متحمل نہیں ہے۔ جو قارئین چاہیں وہ اسے یہاں دیکھ سکتے ہیں۔[6]

مذہبی رہ نماؤں اور اداروں میں ’حقوق‘ کے نام پر لچھے دار اصطلاحات اور تصورات کے ذریعے سیندھ لگانے کی کام یاب کوشش۔

سماج کے اجتماعی اخلاق اور اخلاقیات (moral ecology) میں توڑ جوڑ (manipulate) کرنے کی انتہائی منظم اور کام یاب کوششیں۔

لوگوں کی رائے پر ’چلو تم ادھر کو، ہوا ہو جدھر کی‘ (riding with the tide)کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے اثر انداز ہونے کی کام یاب کوشش۔

اوپر دیے گئے ساتوں نکات براہ راست یا بالواسطہ گلابی سرمایہ داری اور گلابی معاشیات کے ساتھ مل کر ایک دائروی سلسلہ (circular continuum) بناتے ہیں۔ جس میں اقدامات میں سرمایہ کاری نتائج کو جنم دیتی ہے۔ پھر یہ نتائج مزید سرمایہ کاری کا باعث بنتے ہیں۔ تحقیق اور ندرت پر مبنی پروڈکٹس کی تشکیل و تخلیق اس سرمایہ کاری کے ذریعے کی جاتی ہے پھر یہ پروڈکٹ مزید سرمایہ کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور یوں یہ دائروی سلسلہ اپنا کام کیے چلا جاتا ہے۔

 

 

[1] Röll W. Homosexual inmates in the Buchenwald Concentration Camp. J Homosex. 1996;31(4):1-28. doi: 10.1300/J082v31n04_01. PMID: 8905527.

[2] Lautmann R. The pink triangle. The persecution of homosexual males in concentration camps in Nazi Germany. J Homosex. 1980-1981 Fall-Winter;6(1-2):141-60. PMID: 7042824.

[3] https://www.lgbt-capital.com/ accessed 24/09/2023

[4] M.V. Lee Badgett, Kees Waaldijk, Yana van der Meulen Rodgers. The relationship between LGBT inclusion and economic development: Macro-level evidence. World Development,Volume 120,2019,Pages 1-14

[5] Compiled by author from different sources

[6] Hawley, J. C. (2015). Gay and Lesbian Culture and Politics. In M. Shally-Jensen (Ed.), American Political Culture: An Encyclopedia (pp. 469-475). ABC-CLIO Press

اکتوبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau