تفسیر قرآن میں سائنس سے استفادہ

غلام حقانی

قرآن مجید کا یہ بھی بڑا اعجاز ہے کہ وہ ہرہر زمانے اور ہر ہر دور سے ہم آہنگ رہا۔ کسی بھی دور میں یہ محسوس نہیں کیاگیاکہ یہ کتاب پرانی ہوچکی اور اب کسی عصری (Latest)کتاب کی ضرورت ہے۔ ہر دور میں اورہر وقت یہ کتاب عصری ہی رہی۔اور آج کے انتہائی ترقی یافتہ دور میںبھی اخلاقی، اقتصادی ،معاشرتی ، عدلی ، حکومتی، داخلی، خارجی،ساینسی غرض کہ ہر اعتبار سے عصری ہی محسوس ہوگی۔ اس کاکوئی بھی مضمون پرانا یا فرسودہ محسوس نہیں ہوگا۔ بلکہ سائنس کے بہت سارے راز ایسے ہیں جن سے پردہ ابھی اٹھاہے اور ان کا ذکر قرآن مجید میں ۰۳۴۱ سال پہلے ہی کردیاگیاتھا۔

ہر دور کے علماے کرام نے قرآن مجید کو اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ لیکن قابل تعریف اور قابل احترام ان کا وہ کارنامہ ہے،جو انھوںنے عوام الناس کے لیے انجام دیا۔ قرآن مجید کے کلام ربانی ہونے کی وجہ سے علماے کرام نے محسوس کیاکہ اگر عام مسلمانوں کو اس بات کا موقع دیاجائے کہ قرآن مجید کو اپنے اپنے طورپر سمجھنے کی کوشش کریں تو سمجھ کے اختلاف کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ جن باریکیوں پر نظر جانی چاہیے ، وہاں تک ہر کسی کی نظر نہیں جاسکتی، قرآن مجید کے مفہوم میں بہت زیادہ اختلافات پیدا ہوجائیںگے۔ اِسی لیے انھوںنے عام مسلمانوں کے لیے اپنے اپنے دور کے اعتبار سے قرآن مجید کی ترجمانی کا بیڑا اٹھایا۔ ساری دنیا میں ایسے علماے کرام کی ایک طویل فہرست ملتی ہے جن کی کاوشوں سے آج عام مسلمان فائدہ اٹھارہے ہیں۔ ہندوستان کے علمابھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور یہاں کی زبان کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوںنے قرآن مجید کے تراجم اور تفاسیر پیش کیں۔ اب تو قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر اردو کے علاوہ ہندی ،تلگو،انگلش اور دوسری زبانوں میں بھی دستیاب ہیں۔ علماے کرام کا یہ احسان امت محمدیہ کبھی بھی فراموش نہیں کرپائے گی۔ لیکن جہاں تک احقرکی معلومات کا تعلق ہے ہندوستان میں قرآن مجید کے سائنٹفک پہلوؤں پر خاطر خواہ روشنی نہیں ڈالی سکی۔

چند مثالیں

قرآن حکیم کی ایک آیت کاٹکڑا ملاحظہ کریں:

وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئاً لَّایَسْتَنْقِذُوْہُ مِنہُ ﴿الحج:۷۳﴾

اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تووہ اُس سے چھڑا بھی نہیں سکتے

آیت کریمہ کے اس حصے سے یہی تاثر لیاجاتاہے کہ جب کوئی مکھی کھانے کی کسی چیز کو لے اڑتی ہے تو مکھی کو پکڑنا اور اُس سے وہ چیز دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقت میں اس آیت مبارکہ میں مُستعمل الفاظ ’’لَایَسْتَنْقِذُوْہُ مِنہ‘‘ کے اس سے زیادہ گہرے معنی ہیں۔دراصل جب مکھی کسی چیز کو پکڑتی ہے تو فوراً ہی اس کے منہ سے ایک قسم کا لعاب خارج ہوتا ہے، جس کو مکھی اُس چیز پر ڈال دیتی ہے۔ فوراً کیمیائی تعامل (Chemical re-action) شروع ہوجاتاہے اور وہ چیز اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہ پاتی۔ اس کے بعد اگر مکھی کو پکڑبھی لیاجائے تو مکھی کی چُرائی ہوئی چیز حاصل نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ وہ اپنی اصل حالت میں برقرار ہی نہیں رہتی۔ مکھی کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی ہوئی اس خصلت یا جبلّت کے آگے یا پھر ایک حقیر مکھی کے آگے انسان کس قدر مجبوراور بے بس ہوجاتاہے۔کیا یہ حقیقت انسان کی آنکھیں کھولنے، اس کے دل کی کایہ پلٹ دینے اور اس کو اپنے معبودانِ باطل کو چھوڑکر اللہ وحدہ’ لاشریک لہ’ کے آگے جھک جانے پر مجبور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے؟

سورۃ النور میں اللہ رب العزت کاارشاد ہے:

اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوجٌ مِّنْ فَوْقِہٰ سَحَابٌ ط ظُلُمٰتٌم بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍط   ﴿النور:۴﴾

یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا جس کے اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے۔ اُس پر ایک اور موج اور اس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے۔

سائنسی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اس آیت کی ویسی تشریح نہیں ہوپائی ، جیسی کہ ہونی چاہیے تھی۔ مثلاً سمندر کے اندر پائے جانے والے اندھیرے اور سمندر کی سطح کے نیچے پائی جانے والی سمندری موجوں کے بارے میں موجودہ تفاسیر میں صراحت نہیں ملتی۔ کیوں کہ ان امور پر سے ماڈرن سائنس کی تحقیقات کے بعد ہی پردہ اٹھا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اِن تحقیقات کے نتائج کو بھی آیت مبارکہ کی تشریح میں شامل کیاجائے۔

تحقیقات کی رو سے سمندر میں اندھیرا دوسو﴿۲۰۰﴾ میٹر کی گہرائی میں پایاجاتا ہے اور ایک ہزار ﴿۱۰۰۰﴾ میٹر کی گہرائی میں تو گھپ اندھیرا چھایاہواہوتا ہے۔ عام غوطہ خورچالیس ﴿۴۰﴾ میٹر کی گہرائی تک تو آسانی کے ساتھ چلے جاتے ہیں، لیکن مزید گہرائی میں جانے کے لیے انھیں مختلف آلات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ دوسو﴿۲۰۰﴾ میٹر یا اس سے زیادہ گہرائی میں جانے کے لیے مناسب روشنی کاانتظام بھی ضروری ہوتا ہے۔ ساکن پانی میں تو دور تک دیکھاجاسکتا ہے، لیکن جب وہی پانی تموج کا شکار ہوجاتا ہے تو رویت (Visibility)تقریباً صفر ہوجاتی ہے۔ سمندر میں گہرائی کے ساتھ ساتھ پانی کی کثافت (Density)میں بھی تبدیلی واقع ہوتی جاتی ہے، جس کی وجہ سے سمندر کی نچلی سطح میں بھی اندرونی موجیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان موجوں کی وجہ سے سمندر کی گہرائی میں پائے جانے والے اندھیرے کے اوپر ایک اور اندھیرا مسلط ہوجاتا ہے۔ ان دو اندھیروں کے اوپر سطح سمندر کی موجوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا اندھیرا۔ ایسی کیفیت میں اگر گھنے بادل بھی چھائے ہوئے ہوں اور رات کی تاریکی بھی ہو تو کیا کسی کو کچھ دکھائی دے سکتا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ یہی کیفیت شرک اور کفر میں لتھڑے ہوئے لوگوں کی ہوتی ہے کہ اُن تک نورِ ایمان کے پہنچنے کے سارے راستے مسدود ہوجاتے ہیں اور انھیں حق کی روشنی بالکل بھی دکھائی نہیں دیتی۔ وہ اندھوں سے بھی بدتر ہوکر رہ جاتے ہیں اور اندھیروں میں بھٹکنے اور ٹھوکریں کھاکھاکر گرپڑنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ بعض مترجمین نے اس آیت کے لفظ ’’بحر‘‘ کا ترجمہ ’’دریا‘‘ کیا ہے۔ لیکن نہ تو دریاؤں میں اتنی گہرائی ہوتی ہے کہ آیت میں مذکور اندھیرے کے پائے جانے کا امکان ہو نہ دریاؤں کی سطح کے نچلے حصّے میں موجوں کے پیدا ہونے کے ہی امکانات ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ’’بحر‘‘ کا ترجمہ گہرا سمندر ہی مناسب ہے۔

زمین کی ساخت

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں پہاڑوں کو میخوں سے تشبیہ دی ہے جیساکہ ذیل کی آیات سے ظاہر ہے:

﴿الف﴾اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰداً oوَّ الْجِبَالَ اَوْ تَاداًo ﴿النبّا:۶،۷﴾

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ نہیں دیا؟

﴿ب﴾ وَاَلقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیدَبِکُمْ۔ ﴿النحل: ۱۵﴾

اور اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑدیں تاکہ زمین تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے

قرآن مجید میں دوسریمقامات پربھی اِسی مضمون کی آیات آئی ہیں، جن کے مفہوم تک پہنچنے کے لیے ہمیں زمین کی بناوٹ پرغور کرنا ضروری ہے۔ ہماری زمین پوری طرح ٹھوس نہیں ہے بلکہ تہہ در تہہ ہے۔ اوپری تہہ جس کو پرت (Crust)کہاجاتاہے پچاس ﴿۵۰﴾ کیلومیٹر تا ایک سو ﴿۱۰۰﴾ کلومیٹر موٹی ہوسکتی ہے۔ سائنس کی زبان میں اس کو سیالک حصّہ (Sialic Portion)کہاجاتا ہے۔ اس کے نیچے پائی جانے والی تہہ کو سیما (Sima)کہاجاتا ہے۔ سیالِک حصّہ سیما کے مقابلے میں زمین کے مرکز سے زیادہ دور ہوجاتا ہے۔ اِسی لیے زمین کی مرکزی کشش سے اتنا ہی آزاد جس کی وجہ سے سیالِک حصہ سیما پر حرکت کرسکتا ہے۔ زمین کی ایک محوری گردش ہے اور ایک مداری گردش۔ محوری گردش کی رفتار تقریباً ایک ہزار چھے سو ستّر﴿۰۷۶۱﴾ کیلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور مداری گردش ایک لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ہے۔ ایسی صورت میںزمین کی اوپری پرت پر دو قسم کی قوتیں اثرانداز ہوتی ہیں:

﴿۱﴾ زمین کی کشش ثقل جو کہ سیالک حصّے کو زمین کے مرکز کی جانب کھینچتی ہے اور اس کو سیما سے متصل رکھنے کی کوشش کرتی ہے ﴿۲﴾ زمین کی محوری گردشیں جو کہ سیالِک حصّے کو سیما سے جدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چونکہ زمین کی محوری اور مداری گردشوں کی مشترکہ قوت زمین کی کشش ثقل سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے احتمال ہوتا ہے کہ زمین کا سیالک حصّہ اُس پر بسنے والوں کو لے کر فضا میں ڈھلک نہ جائے۔ اُس کی مثال لکڑی کے ایک بڑے سے گولے جیسی ہے، جس پر کپڑے کاایک ٹکڑا رکھ دیاجائے۔ جب گولے کو گھمایاجائے گا تو کپڑے کا ٹکڑا گولے سے علیٰحدہ ہوکر دور جاگرے گا۔ لیکن اگر اُسی کپڑے کے ٹکڑے کو کیلوں (Nails)کی مدد سے گولے پر پیوست کردیاجائے تو گولے کو گھمانے کے باوجود وہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرے گا۔ اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کی اوپری پرت کو زمین سے دور جاپڑنے سے روکنے کے لیے پہاڑوں کی میخوں کے ذریعے پیوست کردیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو جو میخوں سے تشبیہ دی ہے، اتنی مکمل (Perfect) تشبیہ کوئی اور ہوہی نہیں سکتی۔ کیوں کہ پہاڑ بھی میخوں ہی کی طرح زمین کے اندر زیادہ گڑے ہوتے ہیں اور اوپر کم نکلے ہوئے ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر ہمالیہ پہاڑ۔ اس کی اوسط بلندی پانچ کلومیٹر ہے۔ لیکن زمین کے اندر کی اس کی جڑ ۸۲ کلومیٹر گہری ہے۔ زمین کے خشکی والے حصّے کا ٪۴۲فیصد پہاڑ ہیں، جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے زمین کی پرت کو اُسی طرح پیوست کردیا ہے جیسے کپڑے کے ٹکڑے کو کیلوں کی مدد سے پیوست کیاجاسکتا ہے۔ تاکہ زمین کی انتہائی تیزرفتار گردش سے وہ اور اس پر بسنے والے فضا میں ڈھلک نہ جائیں۔

عذابِ نار کی معنویت

﴿۴﴾ سورۃ الھمزہ میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

نَارُاللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ oاَلَّتِی تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ o﴿الھمزہ:۶،۷﴾

ان آیتوں کاترجمہ مختلف مترجمین کرام نے مختلف کیا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

﴿۱﴾وہ خدا کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی۔ ﴿مولانا عبدالرشید نعمانی﴾

﴿۲﴾ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی وہ جھانک لیتی ہے دل کو ﴿شیخ الہندمولانامحمودحسن﴾

﴿۳﴾ اللہ کی آگ خوب بھڑکائی ہوئی جودلوں تک پہنچے گی ﴿مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی﴾

﴿۴﴾وہ اللہ کی آگ ہے جو ﴿اللہ کے حکم سے﴾ سلگائی گئی ہے جو کہ ﴿بدن کو لگتے ہی﴾ دلوں تک جاپہنچے گی۔ ﴿مولانا اشرف علی تھانوی﴾

ان تراجم اور بعض تفاسیر سے بھی مجرموں اور گنہ گاروں کے دوزخ میں پہنچنے والے عذاب کی صحیح عکاسی نہیں ہوتی، کیوں کہ دل یا دماغ تک آگ کے پہنچ کر اُن کو جلادینے سے مجرموں کو حقیقی تکلیف نہیں پہنچتی۔ حقیقت میں دل و دماغ کو اس وقت تکلیف پہنچتی ہے، جب ان تک جسم پر ہونے والی اذیت در اذیت کی اطلاع پہنچائی جائے۔ دل و دماغ میں آگ اُس وقت لگتی ہے، جب ان تک ایسی بُری خبریں پہنچائی جائیں، جن میںان کی بے بسی اور ذلت و رسوائی کا سامان ہو۔ احساس ندامت کی آگ تو دوزخ کی حقیقی آگ سے زیادہ ہولناک ہوتی ہے اور یہ گنہ گار کے دل و دماغ میں سلگتی ہے۔ دنیا میں تو بعض بُری خبروں کی اطلاع سے دل کی دھڑکن ہی بند ہوجاتی ہے۔ لیکن آخرت میں دل و دماغ کو صحیح وسالم اور پوری طرح حساس رکھاجاتا ہے اور جسم کے دوسرے حصّوں کو عذاب میں مبتلا کرکے دل و دماغ کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے دل و دماغ انتہائی اذیت میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ اِسی لیے تطلع علی الافدۃ فرمایاگیا ہے۔دلوں کو جسم کے دیگر حصّوں پر ہونے والے عذاب کی اطلاع دی جاتی ہے۔ تاکہ وہ تلملاجائیں اور رسوا کن اذیت میں مبتلاہوجائیں۔

سورۃ النسائ میں اِسی نکتے کی وضاحت کی گئی ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِٰایٰتِناَ سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ نَاراً ط کُلَّمَا نُضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلَْنٰھُمْ جُلُوْداً غَیْرَھَا لِیَذُوْ قُوا الْعَذَابَ ط ﴿النسائ: ۵۶﴾

جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیاانھیں ہم بالیقین آگ میں جھونک دیںگے اور جب ان کے دل کی کھال جل جائے گی تو اُس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں

اس آیت میں واضح طورپر یہ بات بتائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ سے مجرموں اور گنہ گاروں کی کھال یا جلد جل جائے گی، جس کی وجہ سے انھیں سخت تکلیف اور اذیت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جلد کے پوری طرح جلتے ہی اذیت باقی نہیں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ فوراً ہی ایک نئی جِلدپید کریںگے تاکہ وہ آگ میں جلے اور گنہ گاروں کو اذیت میں مبتلا کرے اور یہ عمل مستقلاً دہرایا جاتا رہے گا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ دوزخ کی آگ جِلد کے آگے جانے ہی نہیں پائے گی۔ پھر وہ کس طرح دِل تک جاپہنچے گی۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے جلد کو بے حد حساس بنایا ہے اور اس مقصد کے لیے جلد میں تقریباً دس کروڑ حسی نقطے فراہم فرمائے ہیں، یہ حسی نقطے (Sensory point) تین قسم کے ہوتے ہیں:

  1. طبیعی تبدیلیوں کو محسوس کرنے والے حسی نقطے(Taitile Receptors)
  2. حرارت کی تبدیلیوں کو محسوس کرنے والے نقطے(thermo Receptors)
  3. تکلیف کو محسوس کرنے والے نقطے(Pain Receptors)

جب انسان کو دوزخ کی آگ میں ڈالاجاتا ہے تو دوطرح کے حسی نقطے زیادہ فعال (Active)ہوجاتے ہیں۔ ﴿۱﴾ حرارت کو محسوس کرنے والے حسی نقطے ﴿۲﴾ تکلیف کو محسوس کرنے والے حسی نقطے۔ دوزخ کی ہولناک آگ اور اُس کے درجۂ حرارت کا تو تصور تک محال ہے۔ حرارت کو محسوس کرنے والے حسی نقطے اس حرارت کے بارے میں دماغ کوپیغام پہنچاتے ہیں۔ دنیا کی طرح دوزخ میں حرارت سے بچنے کا کوئی سامان بھی تو نہیں کیاجاسکتا۔ اس لیے دماغ اپنی بے بسی پر تلملاجاتا ہے اور دل بھی سخت اذیّت سے دوچار ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی تکلیف کومحسوس کرنے والے نقطے بھی تکلیف کے پیغام دماغ کو پہنچاتے ہیں۔ دماغ اس تکلیف کو دور کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ اِس لیے دل اور دماغ اذیت در اذیت اور رسوائی کے عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جب جِلد جل جاتی ہے تو حِسی نقاط بھی جل جاتے ہیں اور حرارت و تکلیف کے پیغام دماغ تک نہیں پہنچ پاتے۔ دِل و دماغ اس صورت حال سے راحت محسوس کرسکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فوراً ہی جلی ہوئی جلد کی جگہ نئی جلد پیدا فرمادیتے ہیں اور پھر حرارت ، تکلیف، ذہنی و دلی اذیت اور رسوائی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور گنہ گار اِسی طرح عذاب کا مزہ چکھتے رہتے ہیں۔ حتی کہ موت کی تمنا کرنے لگتے ہیں ۔لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جاتی۔

مجرمین کاانجام

سورۃ العلق کی میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

کَلاَّلَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ ۵لا لَنفساً م بِالنَّاصِیَۃِ oنَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ o ﴿العلق:۱۵-۱۶﴾

ان آیتوں کے مختلف تراجم پیش خدمت ہیں:

﴿۱﴾ یقینا اگر یہ باز نہ رہا تو اس کی چوٹی پکڑکر گھسیٹیںگے ایسی چوٹی جو جھوٹی خطاکار ہے۔  ﴿مولانا محمدعبدالرشید نعمانی﴾

﴿۲﴾ کوئی بات نہیں اگر باز نہ آئے گا ہم گھسیٹیںگے چوٹی پکڑکر۔ کسی چوٹی جھوٹی گنہگار۔ ﴿مولانا محمودحسن ﴾

﴿۳﴾ ہرگز نہیں اگر وہ باز نہ آیاتو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑکر کھینچیںگے اس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطاکار ہے۔ ﴿مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی﴾

﴿۴﴾ ہرگز ﴿ایسا﴾ نہیں ﴿کرنا چاہیے اور﴾ اگر یہ شخص بازنہ آوے گا تو ہم ﴿اس کو﴾ پنٹھے پکڑکر جو کہ دروغ اور خطا میں آلودہ پنٹھے ہیں ﴿جہنم کی طرف﴾ گھسیٹیں گے۔  ﴿مولانا اشرف علی تھانوی﴾

اس ضمن میں ایک نہایت ہی حسّاس اور اہم نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ گھسیٹنے کے عمل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔ انسانی سطح پر تو کسی کو گھسیٹنے کے لیے کسی کا گریبان یادامن یا ہاتھ یا پیر پیشانی کے بال یا چوٹی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اللہ کی ذات اِس کمزوری سے پاک ہے کہ کسی کو گھسیٹنے کے لیے اُسے کسی کی پیشانی کے بال یا کسی کی چوٹی کی حاجت ہو۔ اس کے علاوہ پیشانی کے بال یا چوٹی کے بال جسم کے ایسے حصّے نہیں ہوتے، جنہیں جھوٹا یا خطاکار کہاجاسکے۔ ناصیہ کی پکڑفرماسکتے ہیں، وہ جھوٹی بھی ہوسکتی ہے اور خطاکاربھی۔ ناصیہ دراصل انسانی دماغ کے اگلے حصّے کو کہتے ہیں، جو کہ پیشانی سے متصل ہوتاہے۔ انگلش میں اس کو Frintal lobexکہاجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو انتہائی پیچیدہ دماغ عطا کیاہے اُس کو اُس کے مختلف افعال (Function)کے اعتبار سے کئی حصّوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ اُن میں ناصیہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ ناصیہ حسب ذیل افعال کی ذمہ دار ہوتی ہے:

۱Learningسیکھنااچھی باتیںبُری باتیں
۲Memoryیادداشتاچھے باتوں کیبُری باتوں کی
۳Skillsہنرمندیاچھے کاموں کیبُرے کاموں کی
۴Habitsعادات و اطواراچھے بھیبُرے بھی
۵Intellectualityعقلمندیاچھی عقلبری عقل
۶Under Standingسوجھ بوجھاچھی   یابُری
۷Planningمنصوبہ بندیاچھی باتوں کیبُری باتوں کی
۸Decisionفیصلہ کرنااچھا یابُرا
۹Motivationکسی کام پر اکسانے والی قوتکام اچھا ہویا بُرا

انسان کے ہر اچھے یا بُرے فعل کی ذمہ دار ناصیہ ہوتی ہے۔ اسی کے مطابق اچھا یا بُرا فعل انجام پاتا ہے۔ انسان کی آنکھ، زبان، ہاتھ ، پیر تو وہی کچھ کرتے ہیں، جس کا حکم ناصیہ کی جانب سے انھیں موصول ہوتاہے۔ بالفاظ دیگر ناصیہ سارے نظام زندگی کو کنٹرول کرتی ہے اور ناصیہ کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کنٹرول کرتے ہیں۔ اِسی لیے کسی کو گھسیٹنے کے لیے اللہ تعالیٰ کاناصیہ کو حکم دینا ہی کافی ہے۔ ناصیہ خود اس کو اُدھر ہی گھسیٹے گی،جدھر اللہ تعالیٰ کاحکم ہوگا ۔اسآیت میںاللہ تعالیٰ نے جس شخص کی طرف اشارہ فرمایاہے، وہ بالاتفاق ابوجہل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوھریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نے سرادران قریش سے کہاکہ کیا محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ آپ حضرات کے روبرو اپناچہرہ خاک آلود کرتا ہے؟ جواب دیاگیاکہ ’’ہاں‘‘۔اُس نے کہا ’’لات و عزیٰ کی قسم! اگر میں نے اُس حالت میں اُسے دیکھ لیاتو اُس کی گردن روند دوںگا اورس کا چہرہ مٹی سے رگڑدوںگا‘‘۔ اس کے بعد اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھ لیا اور اس زعم میں چلاکہ آپﷺکی گردن روند دے گا۔ لیکن لوگوں نے اچانک کیا دیکھاکہ وہ ایڑیوں کے بل پلٹ رہاہے اور دونوں ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کررہا ہے۔ لوگوں نے پوچھا ’’ابوالحکم تمہیں کیا ہوا؟‘‘ اس نے کہا: ’’میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے۔ ہولناکیاں ہیں اورپُر ہیں‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگروہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کاایک ایک عضو اُچک لیتے‘‘۔

ناصیہ کی کارکردگی کے متعلّق اس واقعے کاتجزیہ اس طرح کیاجاسکتا ہے کہ جب ابوجہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی کا ناپاک ارادہ کیاتو اس کی ناصیہ میں بُری سوجھ بوجھ پیدا ہوئی، بُرا فیصلہ کیاگیا اور بُری بات کی منصوبہ بندی ہوئی پھر اُس بُری بات کو روبہ عمل لانے کے لیے اُکسانے والی بُری قوت نے اپنااثر دکھایا اور وہ بُری نیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اُسی کی ناصیہ کے ذریعے اس کو اس طرح گھسیٹا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچتے ہی اس نے جب آگ کی خندق ، ہولناکیاں اور پَر دیکھے تو اس کی ناصیہ میں خوفزدگی پیدا ہوگئی اور اُس نے ابوجہل کو اپنے بچاؤ کی خاطر ذلیل وخوار ہوکر ایڑیوںکے بَل لوٹ جانے پر مجبور کردیا۔

سورج اور چاند

سورۃ القیامہ میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

وَخَسَفَ الْقَمَرُoوجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ o ﴿القیامہ: ۸،۹﴾

بظاہر تو یہ دو آیتیں بے حد آسان ہیں۔ لیکن علماسائنسی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ان کے معنی اور مطلب کے سلسلے میں کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے۔ جیساکہ ذیل کے ترجمے اور تفسیر سے ظاہر ہے:

﴿۱﴾مولانا محمد عبدالرشید نعمانی: ترجمہ: اور چاند بے نور ہوجائے اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں۔ تشریح کرتے ہوے مولانا نے لکھا ہے: یہ دراصل تفسیر ابن کثیر کا اردو ترجمہ ہے، جس کے مطابق ’’اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کردیے جائیںگے یعنی دونوں کو بے نور کرکے لپیٹ لیاجائے گا‘‘۔

﴿۲﴾ شیخ الہند مولانا محمودحسن : ترجمہ: اور گہ جائے چاند اور اکٹھے ہوں سورج اور چاند۔

اس کی تشریح کرتے ہوے مولانا شبیر احمد عثمانی نے لکھاہے: یعنی بے نور ہوجائے۔ یعنی بے نور ہونے میں دونوں شریک ہوںگے۔

﴿۳﴾ مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی: ترجمہ: اور چاند بے نور ہوجائے گا اور چاند سورج ملاکر ایک کردیے جائیںگے۔ مولانا اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: یہ قیامت کے پہلے مرحلے میں نظامِ عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بے نور ہوجانے اور چاند سورج کے مل کر ایک ہوجانے کامفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند ہی کی روشنی ختم نہیں ہوگی،جو سورج سے ماخوذ ہے۔ بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بے نور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک اُلٹی چل پڑے گی اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیاجاسکتا ہے کہ چاند یک لخت زمین کی گرفت سے چھوٹ کر نکل جائے گا اور سورج میں جاپڑے گا۔ ممکن ہے کہ کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج ہم نہیں سمجھ سکتے۔

﴿۴﴾مولانا اشرف علی تھانوی: ترجمہ: اور چاند بے نور ہوجائے گا اور ﴿چاند کی کیا تخصیص ہے بلکہ﴾ سورج اور چاند ﴿دونوں﴾ ایک حالت کے ہوجائیںگے۔ ﴿یعنی دونوں بے نور ہوجائیں گے﴾ مولانا محترم نے اس کی تفسیر نہیں فرمائی ہے۔

مندرجہ بالا تراجم و تفاسیر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سارے ہی علمائ ایک نکتے کے بارے میں متفق الرائے ہیں اور وہ یہ کہ قیامت کے موقع پر سورج اور چاند بے نور ہوجانے میں یکساں ہوجائیںگے۔ اس ضمن میں اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنا بے حد ضروری ہے کہ سورج ایک جلتی ہوئی آگ کا گولہ ہے جس میں ہر سکنڈ ایک سو پچاس ﴿۱۵۰﴾ ملین ٹن ہائیڈروجن گیس جلتی رہتی ہے۔ قیامت کے موقع پر گیس کی سپلائی روک دی جائے گی، جس کی وجہ سے سورج بجھ جائے گا۔ نظام شمسی کے تحت نو﴿۹﴾ سیارے جن میں زمین بھی شامل ہے، اور اٹھانوے﴿۹۸﴾ چاند ہیں۔ یہ سب سورج سے روشنی پاکر رات کے اندھیرے میں چمکتے ہیں اور جب سورج بجھ جائے گا یا بے نور ہوجائے گا تو یہ سارے سیارے اور ان کے چاند بھی بے نور ہوجائیںگے۔ پھر کیوں اللہ تعالیٰ نے صرف زمین کے چاند کابطور خاص تذکرہ فرمایا؟ چاند کے بے نور ہوجانے کاایک سبب تو سورج کابجھ جانا ہے۔ لیکن چاند کے بے نور ہونے کا ایک اور سبب بھی ہوسکتاہے جس کی جانب آیت نمبر ۸ میں واضح اشارہ ملتاہے اور وہ یہ کہ چاند کو گہن لگ جائے۔ مکمل چاند گہن ہوتو چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی، اس لیے وہ بے نور ہوجاتاہے۔ چاند گہن کے موقعے پر زمین ، سورج اور چاند کے درمیان اس طرح آجاتی ہے کہ سورج، زمین اورچاند ایک سیدھ میں آجاتے ہیں اور چاند زمین کے پیچھے چھپ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کی روشنی چاند پر نہیں پڑنے پاتی اور وہ بے نور ہوجاتا ہے۔ سورج، زمین اور چاند کے ایک سیدھ میں جمع ہوجانے کے تعلق ہی سے اللہ رب العزت نے فرمایاکہ ’’وجمع الشمس والقمر‘‘ سورج اور چاند جمع کردیے جائیںگے اور یہ واقعہ ’’خسف القمر‘‘ یعنی مکمل چاند گہن کے موقع پر پیش آئے گا۔ اِسی ضمن میںایک اور بات بھی قابل توجہ ہے اور وہ یہ کہ جب سورج بجھ جائے گا تو اس کی کشش بھی جاتی رہے گی ، جس کی وجہ سے اس کے زیر اثر سارے سیارے اور ان کے چاند سورج کی مخالف سمت میں جاگریںگے۔ ان میں زمین بھی شامل ہوگی اور زمین کا چاند بھی جیساکہ سورۃ الانفطار میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے۔

وَاِذَالْکَواکِبْ انْتَشَرَتْo ﴿اور جب کواکب ﴿سیارے﴾ جھڑپڑیں﴾

پھر کس طرح چاند سورج سے جاملے گا۔ اس کے علاوہ چاند زمین کے زیراثر گردش کرنے والاایک نہایت ہی چھوٹا سیارہ ہے۔ اُس میںاتنی طاقت کہاں سے آجائے گی کہ وہ ایک سو پچاس ﴿۱۵۰﴾ ملین کلومیٹر کافاصلہ طے کرکے سورج سے جاملے؟ اِسی طرح زمین کی الٹی گردش کے سبب چاند اور سورج کا مغرب سے نکلنے میں یکساں ہوجانا، اِن آیتوں کا مطلب اس لیے نہیں ہوسکتاکہ اس انداز فکر میں سورج اور چاند کا بے نور ہونا نہیں پایاجاتا۔ مولانا محمد علی الصابونی نے جو مکہ مکرمہ کی جامعہ ام القریٰ کے کلیۃ الشریعہ والدراسات الاسلامیہ میں استاد ہیں، اپنی صفوۃ التفاسیر میں ایک طرف تو فرماتے ہیں کہ چاند اپنی روشنی کھودے گا اور بے نور ہوجائے گا اور دوسری طرف فرماتے ہیں کہ سورج اور چاند کو آگ میں ڈال دیاجائے گا۔ تاکہ کفار کے لیے آگ زیادہ بھڑک اٹھے اور ایک دیگر حوالے سے فرماتے ہیں کہ چاند اور سورج کو سمندر میں گرادیاجائے گا تاکہ ایک بڑی آگ بھڑک اٹھے۔اس تفسیر میں خود قرآن کریم کی مخالفت ہوتی ہے۔ کیوں کہ قیامت کے موقعے ’’اِذَالشمسُ کُوِّرَتo ﴿التکویر:۱﴾ ﴿اور جب سورج کو لپیٹ دیاجائے﴾ سورج اپنی اصلی حالت میںبرقرار ہی نہیں رہے گا اور چاند ایک نہایت ہی چھوٹا سیارہ ہے۔ اس کاآگ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے علاوہ سورج زمین کے مقابلے میںایک سو نو ﴿۱۰۹﴾ گنا بڑا ہے۔ پھر وہ کس طرح زمین کے ایک سمندر میں سماسکے گا؟

فروری 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau