جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور علمِ دین

(4)

سید عبد الباری

جامعہ ملیہ اسلامیہ

ندوہ کے بعد ایک اور اصلاحی قدم اٹھایاگیا۔ اور ایک نئی کوشش جامعہ ملیہ اسلامیہ کی شکل میں ظہور پذیر ہوئی۔ یہ بھی جدید طرز سے مسلمانوں کے اعلیٰ دینی و دنیوی تعلیم کی خاطر قائم ہوا۔ یہاں بھی وہی مقصد کارفرما تھا جو علی گڑھ اور ندوہ کے موسسین کے ذہنوں میں تھا۔ یہاں بھی مقصود نظر یہی تھاکہ ملت کے ایسے باصلاحیت افراد کی تعلیم وتہذیب کا انتظام کیاجائے جو دینی روح اور اسلامی تقاضوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اپنے اندر جدید اسپرٹ اور بیداری کی حرارت بھی رکھتے ہوں۔ چناںچہ ۱۹۲۰۱ میں مولانا محمد علی کے ہاتھوں اس کی بنیاد پڑی۔ مولانا محمد علی مرحوم نے پہلے تو علی گڑھ کی اصلاح کے لیے ہاتھ پیر مارے مگر بعد میں اس سے مایوس ہوکر یہ اقدام کیا۔ اجمل خاں، ڈاکٹر انصاری، عبیداللہ سندھی اور ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب جیسی گہری نظر رکھنے والے اور دور اندیش افراد نے اس کے لیے قربانیاں دیں اور اس کی حمایت میں آواز بلند کی اور بڑی حد تک ملت کی توجہات کو ندوہ اور علی گڑھ سے ہٹاکر اس کی طرف مرکوز کردیا۔ شیخ الہند جیسی پاکبازاور برگزیدہ ہستی نے اس کی تاسیس کے وقت یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔

’’اے نونہالان وطن! جب میں نے دیکھاکہ میرے اس درد کے غمخوار جس میں میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں، مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوںمیں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ﴿جامعہ ملیہ کی شکل میں﴾ ہندوستان کے تاریخی مقاموں اور دیوبند اور علی گڑھ کا رشتہ جوڑا۔‘‘

مگر یہاں بھی توازن و اعتدال کی بنیادیں اتنی غیرواضح اورمبہم تھیں کہ مطلوبہ شے حاصل نہ ہوسکی اور یہ ادارہ ندوہ کے برخلاف مغربیت کے آغوش میں جاگرا۔ جدید تہذیب کے حملوں کی تاب نہ لائی جاسکی۔ یورپ کے دیوہیکل نظریات کے آگے سرجھکادیے گئے۔ اسلامی افکار کی سائنٹفک ترجمانی تو الگ رہی صحیح معنوں میں اسے سمجھنے والے بھی نہ پیدا ہوسکے۔ آج جامعہ کی مرعوب شدہ ذہنیتیں کبھی سیکولرزم اور کبھی سوشلزم کے گن گاتی ہیں اور کبھی متحدہ تہذیب و مشترک کلچر کی شان میںنغمہ سرائی کرکے اپنے خداوندان نعمت کا حق نمک ادا کرتی ہیں۔ طلبا کے اندر تدبر و معاملہ فہمی اور جدید حالات و مسائل کو اسلامی نظریے سے آہنگ کرنے کی صلاحیتیں ابھرنے کے امکانات نہیں۔ مغرب کے افکار کازہریلا پودا آزادی کے ساتھ پورے گلشن پر چھاگیا جس نے قوت نمو اور شادابی چھین لی۔ ایک جسد بے روح کی حیثیت سے اسلام پر نشترزنی کرنے والے تو بہت ہیں، اسلام کی تاریخ کے مختلف ابواب سے ہزاروں لاحاصل نکتے پیدا کرنے والوں کی کمی نہیں۔ اسلام کا رسمی ، بے روح اور مکتبی مطالعہ تو اب بھی کثرت سے ہورہاہے، اسلامی تاریخ، اسلامی تہذیب، اسلامی تمدن اور اسلامی کلچر کی اوراق گردانی تو اب بھی بڑی تیزی کے ساتھ ہورہی ہے اور اسی پر ہر سال کتنی ڈگریاں تقسیم ہورہی ہیں اور نہ جانے کتنے مراتب، فضیلت عطا کیے جارہے ہیں لیکن روح کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھیے تو تاریکی ہی تاریکی ملے گی۔ روشنی کی کوئی کرن نظر نہ آئے گی۔ فضا سرد، ہوائیں سرد، احساسات سرد، جذبات سرد، کسی قلب میں وہ چنگاری نہیں جو بیتاب بنادے۔ کہیں بھی وہ حرارت نہیں جو تحریکیت عطا کرے۔ یہاں سے نکلنے والے نکلتے ہیں اور بے جان لاشوں کی طرح معاشی قبروں میں اتار دیے جاتے ہیں۔ وہ تڑپ، وہ گداز نہیں، جو ہر لمحہ بے چین رکھے۔ وہ بصیرت نہیں جو مومن کااصل مقصد حیات سمجھنے اور اپنے حقیقی فرائض کی یاد تازہ رکھنے میں ہرلمحہ مددگار ثابت ہو۔

تاریخ کے ان ناکام تجربات کے اسباب پر جب آپ غورکریںگے تو محسوس کریں گے کہ یہاں ہر بار ایک بہت بڑی اصولی غلطی ہی ناکامی کا سبب بنی۔ بالخصوص مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کے سلسلے میں اور وہ ہے تعلیم میں متضاد عناصر کی آمیزش، خواہ اس آمیزش میں اسلام اور غیراسلام برابر ہوں یا غیرمساوی اور کم و بیش مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کے الفاظ میں یہاں بالکل دو متضاداور بے جوڑ تعلیمی عناصر کو جوںکا توں لے کر ایک جگہ جمع کردینے کی کوشش کی گئی۔ ان میں یہ صلاحیت پیدا نہیں کی گئی کہ ایک مرکب علمی بن کر کسی ایک کلچر کی خدمت کرسکیں۔ یکجائی اور اجتماع کے باوجود یہ دو قسم کے متبائن و متزاحم عناصر ایک دوسرے سے الگ ہی رہے۔ بلکہ ایک دوسرے کی مزاحمت کرکے طلبا کے ذہن کو دومخالف سمتوں کی طرف کھنچتے رہے۔ اس پر مزید ستم یہ ہواکہ آمیزش غیرمساوی ہوئی۔ مغربی عنصر بہت طاقتور رکھاگیا اور اس کے مقابلے میں اسلامی عنصر نہایت کمزور اور گھٹیالایاگیا۔ اس طرح مغربی افکار جو طاقت ور تھے جن کے پیچھے اقتدارو حکومت کی قوت تھی، جو دل کش ومقبول عام تھے وہ غالب ہوگئے اور سادہ لوح ذہنوں اوردماغوں پر نقش دائم بن کر ثبت ہوگئے۔ ذہنیتیں مغربی سانچوں میں ڈھل گئیں۔ دماغ مغربی اعتقادات میں محو ہوگئے۔ اس طرح ملت کے اپنے خون جگر سے سینچے گئے ان اداروں کے ذریعے خود ملت کو فائدہ تو نہیں پہنچا، البتہ وطنی تحریکیں، باطل نظریات اور غلط افکار نے ان پر قبضہ جمالیا اور ان کھیتوں کو کاٹنا شروع کردیا۔اس امتزاج کے پیشتر یہ نہ سوچا گیاکہ اسلام ایک ہمہ گیر اور جامع و کامل نظریۂ زندگی ہے۔ یہ اور دوسرے مذاہب کی طرح محض اعتقاد و اخلاق کے دائروں تک محدود نہیں۔ اگر اسلام کی وسعت اور انفرادیت کا احساس ہوتا تو یہ اصلاحی اقدامات زیادہ کام یابی کے ساتھ ہوتے اور اس قسم کی پیوند کاری نہ ہوتی جس نے اسلام کا بھی حلیہ بگاڑکررکھ دیا اور جدیدیت سے بھی کسی استفادے کی صلاحیت پیدا نہ کی۔ یورپ پر اگر تنقید بھی کی گئی اور اس کی مخالفت بھی ہوئی تو اس پہلو کو فراموش کرکے کہ ’یورپ سے ہماراجھگڑا اس بات پر نہیں کہ وہ دنیا کا امام نہ بنے اور اس کی جگہ ہم امام بن جائیں۔ بل کہ اصول ومقصد کاجھگڑا ہے۔‘ یہاں زیادہ سے زیادہ یہ کیاگیاکہ ’سمع‘ کا دائرہ حال کی معلومات تک بڑھادیاگیا۔ لیکن بصر وفواد معطل کے معطل ہی رہے۔یہ ادارے ملت کے لیے وہ افرادنہ پیدا کرسکے جو سب کی امامت اور قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں۔ افکار وخیالات اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے پورے دائرے میں انقلاب برپا کردیں۔ ذہن و دماغ سے خدا ناشناس اثرات کو زائل کردیں۔ اس سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ  کی حسب ذیل عبارت ایک جامع تبصرہ کی حیثیت رکھتی ہے :

’یہ ظاہر ہے کہ ہر یونی ورسٹی ﴿یا تعلیمی ادارہ﴾ کسی کلچر کی خادم ہوتی ہے۔ ایسی مجرد تعلیم جو ہر رنگ اور ہر صورت سے خالی ہو نہ آج تک دنیا کی کسی درس گاہ میں دی گئی اور نہ آج دی جارہی ہے۔ ہر درس گاہ کی تعلیم ایک خاص رنگ اور ایک خاص صورت میں ہوتی ہے۔ اس رنگ و صورت کا انتخاب پورے غورو فکر کے بعد اس مخصوص کلچر کی مناسبت سے کیاجاتاہے جس کی خدمت وہ کرنا چاہتی ہے۔‘

اس کے برعکس ان اداروں میں جہاں دینیات اور عربی زبان و ادب کی کثرت تھی اور انگریزی وجدید علوم کا برائے نام نصاب تھا وہاں لوگ دوسری انتہا تک پہنچ گئے۔ جدید علوم کا اتنا ناقص تعارف اور خام مطالعہ کرایاگیا کہ وہ ان کی بنیادوں پر پیداہونے والے اس دور کے گوناگوں مسائل ہی سے واقف نہ ہوسکے۔ یہ برائے نام مطالعہ ان کی روح کو بالیدگی اور ان کے دماغ کو جرأت تنقید اور بے باکی اظہار نہ عطا کرسکا۔ ان میں اتنا تیقن نہ پیدا ہوسکا، جس کی بنیاد پر وہ اسلام کے نقطۂ نظر کو دنیا سے منواسکیں۔ ان کی اسلامی معلومات اور فکر بھی نظریاتی اور غیرعملی بن کر رہ گئی۔ اس سے وہ کوئی فائدہ اٹھانے کے قابل نہ بن سکے۔ اس سے وہ ایسے نکتے نہ اخذ کرسکے جو جدید ذہن کو متاثر کرسکیں۔ بل کہ بعض حالات میں تو ان کا احساس کم تری اور مغربی چمک دمک سے مرعوبیت اتنی زیادہ ہوگئی کہ وہ اظہار حق کے معمولی سے معمولی مواقع تک میںجھجک محسوس کرنے لگے۔ ان میں قدیم علماے حق کی وہ بے باکی و جرأت مندی نہ پیدا ہوسکی جن سے وہ تختہ دار ہو یا طوق وسلاسل چمکتا ہوا خنجر ہو یا گرجتی ہوئی توپ بزم جاہ وجلال ہو یا مقام قہرو غضب ہر جگہ کلمۂ حق ادا کردیتے تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر وہ کون سا مثالی نقشہ ہو جو تمام مذکور بالا خرابیوں کومٹاتے ہوئے ایسا ذہن تیارکرسکے جو مغربی افکار اور علوم جدید پر ناقدانہ و مبصرانہ نگاہ رکھتا ہو اور اسلام کاحقیقی مزاج آشنا ہو۔ اس کے لیے ان جدید تعلیم گاہوں اور ان دو قسم کے اداروں میں سے ہر ایک کی پوری ساخت تبدیل کرنی پڑے گی۔ اس تضاد کو دور کرنا پڑے گا جو موجودہ نصابوں کی دو رخی، تعلیموں میں ہے اور خلفشار و انتشار کا سبب بنتا ہے۔ ان ذہنی و دماغی تربیت گاہوں پر اسلامی تمدن کا رنگ غالب کرنے کے لیے اور اسلام کی عظمت کا نقش بٹھانے کے لیے موجودہ جدید مغربی علوم کو چھان پھٹک کر اور اسلامی اقدار کو جدید مسائل سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جزو تعلیم بنانا پڑے گا۔ موجودہ علوم و فنون کی اختصاصی تعلیم کے ہر شعبے میں اسلام کی روح ڈالنا اور اسلامی تعلیمات کو ان میں جذب کرنا ہوگا تاکہ ان کا مطالعہ کرنے والے نوجوان اور خالی الذہن طلبا کے ذہن و شعور میں مغرب کے بنیادی تصورات کے بجائے اسلام کا اساسی نقطۂ نظر بیٹھ جائے۔ ہمیں علوم کا وہ وجدانی سانچہ تبدیل کرنا ہوگا جو آج مغرب نے ذہن و دماغ پر مسلط کردیا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ  نے ’تعلیمات‘ میں بڑے پتے کی بات کہی ہے:

’اکثر علوم میں اہل مغرب اپنے چندمخصوص اساسی تصورات،بنیادی مفروضات، نقطہ ہائے آغاز اور زاویہ ہائے نظر رکھتے ہیں، جو بجائے خود ثابت شدہ حقائق نہیں بل کہ محض ان کے اپنے وجدانیات ہیں۔ وہ حقائق علمیہ کو اپنے وجدانیات کے سانچے میں ڈھالتے ہیں اور اس سانچے کی مناسبت سے ان کو مرتب کرکے مقبول عوام بنالیتے ہیں۔ اسلام حقائق کا دشمن نہیں بل کہ اسی وجدانی سانچے کا دشمن ہے جس میں ان حقائق کو ڈھالا اور مرتب کیاگیاہے۔ وہ خود اپنا ایک مرکزی تصور، ایک زاویہ نظر ، ایک زاویہ آغاز فکر، ایک وجدانی سانچہ رکھتا ہے جو اپنے اصل فطرت کے اعتبار سے مغربی سانچوں کی عین ضد واقع ہوا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ضلالت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ مغربی علوم وفنون سے حقائق لیتے ہیں۔ بل کہ یہ ہے کہ آپ مغرب ہی سے اس کا وجدانی سانچہ بھی لے لیتے ہیں ۔ اس کلیے کو ملحوظ رکھتے ہوئے سارے علوم اور سارے فنون پرپہلے ایک نظرثانی کرنی ہوگی اور انھیں جدید پیمانے پر مرتب کرناہوگا، پھر یہ مفید ثابت ہوسکیںگے۔ اس طرح چند مجرد اسلامی تصورات کے بجائے ایک نوجوان کے ذہن ودماغ میں ہرطرف سے اسلام کی حقیقت نمایاں ہوتی نظر ائے گی۔ وہ اسلام کے لیے محض شعبۂ دینیات تک ہی محدود ہونے کے بجائے ہر شعبے اور ہر مرحلے میں اسلامی ہدایات سے دوچار ہوسکے گا۔‘‘

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ  نے ’تعلیمات‘ میں تفصیل کے ساتھ جواشارے کیے ہیں اور ایک ہمہ گیر اور جامع نصاب کا نقشہ دے کر اس کی خوبیوں پر روشنی ڈالی ہے ، مجھے اس کی کاملیت اور Practicabilityپر پورا یقین ہے اور اس کی یہاں مزید اعادے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا مگر اس کے لیے جو وسائل و ذرائع اور اس کے انطباق وروبہ عمل لانے کے لیے جیسی مجتہدانہ اور ناقدانہ بصیرت رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے ان کاموجودہ حالات میں قریب قریب فقدان ہے۔ اس سرزمین میں اسے رائج کرنے کے لیے ابھی کسی طرف سے بظاہر کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ ملت کے پاس نہ اتنا سرمایہ ہے نہ اتنا حوصلہ وجرأت ہے، نہ اتنی طاقت واقتدار ہے نہ ایسے باصلاحیت افراد ہیں جو اس بنیادی اور اہم ضرورت کی تکمیل میں معاون ثابت ہوسکیں۔ حکومت کے زیرسایہ جو تعلیمی ادارے ہیں ان میں اس نصاب کے انطباق کا کوئی سوال ہی نہیں۔ ملت اسلامیہ کے جو اپنے ادارے ہیں ان میں اتنا عزم اور اتنی بے باکی و جرأت نہیں ہے کہ وہ حکومت کے مزاج سے ہٹ کر اس کی پسند وناپسند کا لحاظ کیے بغیر اپنے لیے کوئی مفید تدبیر سوچ سکیں اور الگ سے اتنے بڑ ے پیمانے پر کوئی جامعہ یا یونیورسٹی چلانا جو حکومت کی دست برد سے آزاد ہو فی الحال موجودہ صورت حال میں ناممکن ہے۔ ایسی صورت میں یہ بات قابل غور ہے کہ موجودہ بے بضاعتی کے باوجود کیا طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں جو ڈوبتے ہوئے سفینوں کو بچاسکیں اور جدید ذہنی و فکری انتشار و انارکی کے سیلاب کی پشتہ بندی کرسکیں۔ بنیادی اصلاح کے ناممکن الحصول ہونے کی وجہ سے ہمیں ذہنی اصلاح کے نتیجہ بخش ذرائع کی طرف نظر اٹھانی چاہیے۔ فی الحال ضرورت ہے کہ ہم عام طلبا کو منتخب کرنے کے بجائے خصوصی ذہن ودماغ اور احساس و شعور رکھنے والے اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں سے آغاز کار کریں اور انھی کی ذہنی تہذیب و اصلاح کو وسائل و ذرائع کی قلت کے سبب اپنا محور بنائیں۔ انھیں حاصل کرنے کے لیے ہمیں اور کہیں سرکھپانے اور وقت ضائع کرنے کے بجائے موجودہ یونی ورسٹیوں اور کالجوں کی طرف رخ کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ نئی نسل کا سوجھ بوجھ رکھنے والا اور فطری صلاحیتوں اور زرخیزیوں سے مالامال طبقہ تقریباً پچانوے فیصد انھی اداروں کی طرف جارہاہے۔ آج کا ہر طبقہ اپنے معاشی مصالح اور معاشرتی تقاضوں کے تحت اپنی نوخیز نسل کو بلاتکلف اسی طرف بھیج رہاہے۔ ان اداروں کی اگر بنیاد نہیں تبدیل کی جاسکتی تو ان میںاپنی عمروں کے قیمتی حصے بسر کرنے والے ملت کے نوجوانوں کو فراموش بھی نہیں کیاجاسکتا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے گریجویشن تک طالب علم کو مغربی علوم کی مختلف شاخوں میں اچھی خاصی معلومات بہم پہنچادیتے ہیں۔ کم از کم مغرب کے مزاج اور علوم جدیدہ کی بنیادوں سے وہ اتنا واقف ہوچکاہوتا ہے کہ اس کے لیے کسی خاص نقطۂ نظر سے ان کا تجزیہ اور تقابلی مطالعہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ میرا یہ احساس ہے کہ وہاں طلبا کی ایک تعداد ایسی ہوتی ہے جو گریجویشن کے بعد بھی کسی نہ کسی حیثیت سے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی خواہاں ہوتی ہے اور فطری طورپر اپنے اندر ایک کمی محسوس کرتی ہے۔ گریجویشن کی اوسط عمر بیس سال سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ ادارے اس اسٹیج تک طالب علم کی علمی تشنگی کو بجھا نہیں پاتے اور وہ اپنے کو نامکمل سامحسوس کرتا ہے۔ اسے اپنی شخصیت میں ایک خلا سا نظرآتا ہے اگر وہ حساس ہے اور زرخیز دماغ رکھتا ہے تو اپنی ذہنی ناپختگی کو محسوس کرلیتا ہے۔ اس کاماحول اسے سماج کی طرف ڈھکیلتا ہے جس میں غوطہ زنی کرنے کے تصور سے اس کی فطرت لرز اٹھتی ہے، جادۂ حیات پر اپنا زاد سفر ناقص و ناکارہ سمجھتا ہے۔ تعمیر و تشکیل حیات میں وہ اپنے کو اکیلاپاتا ہے۔ اس کے اندر ایک جستجو ہوتی ہے کہ کاش کوئی اس مرحلے میں آگے بڑھ کر اس کا بازو تھام لے، کوئی اسے سہارا دے، کوئی اسے عرفان وآگہی اور طمانیت قلب کی دولت عطا کرے۔ مذہب سے اس کی اب تک کی تعلیم اسے اتنا بیزار کرچکی ہوتی ہے کہ اس طرف وہ بھول کر بھی نظر نہیں اٹھاتا۔ اس کا تصور آتے ہی اس کے ذہن و دماغ میں چند توہمات و کریہہ تصورات ابھرآتے ہیں۔ چنانچہ اسے وہ فراموش کرکے بھرے پورے سماج میں ہوش مند، انسانوں کو، رہنمائوں ، ہمدردوں کو اور غمگساروں کو ڈھونڈتا ہے۔ اس کے اندر کی یہ پیاس نہیں بجھتی خواہ وہ دولت و شہرت کے ڈھیر پر ہی اسے کیوںنہ بٹھادیاجائے۔

ان حالات کی روشنی میں ممکن العمل اور نتیجہ خیز صورت یہ ہے کہ ذکی الحس اور ذہین طلبا کو ہم علم دین کی طرف راغب کریں اور اسلام کے مطالعے کا ان کے اندر اشتیاق بیدار کریں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسا خصوصی نصاب مرتب کیاجائے جو ایک محدود عرصے میں ان طلبا کے سارے ذہنی وجودمیں انقلاب برپاکرکے ایک جدید اسلامی شعور اور دینی فکر کی بنیاد رکھ سکے۔ اس قسم کے نصاب کی خصوصیات اور تقاضوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی پیمانے پر تہذیب فکر اور تربیت دماغ کا یہ طریقہ اگرچہ بعضوں پہلوؤں سے ناقص ہے لیکن غیرمعمولی ذہانت رکھنے والے طلبا کے لیے مفید ہے اوربڑی حد تک عمومی اصلاح کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے موجودہ حالات میں یہی سب سے زیادہ قابل عمل اور مفید مختصر نتیجہ بخش راستہ ہے۔ ابھی یہاں ایک گہرا ذہنی و فکری انقلاب لائے بغیر ماحول کا رخ پلٹنا یا کالجوں اور یونی ورسٹیوں کی طرف بہنے والی نسلوں کا دھارا اسلامیت کی سمت موڑدینا ممکن نہیں۔ اس کے لیے فی الحال ایسے مفکرین ، محققین ، داعیین اور مجتہدین کی ضرورت ہے جو مسائل حاضرہ کا سیر حاصل جائزہ لے کر علم و عقل کی تمام شاخوں میں اسلامی معرفت کا دریا بہادیں۔ جدید اجتماعی علوم کے تمام شعبوں کی اسلامی نظریے کی روشنی میں تطہیر کریں۔ ان کا گہرا ناقدانہ ومبصرانہ تجزیہ کریں اور اس طرح علم و فکر کا اتنا بڑا ذخیرہ اور اتنا وافر مواد فراہم کردیں جو اپنی گہرائی، استدلال، حکمت اور بصیرت سے ذہن و دماغ کو متاثر کرسکے اور ہماری جدید نسلوں کے قلوب سے احساس کم تری اور مرعوبیت کے احساسات کو زائل کرسکے۔یہی مفکرین و محققین ایک اسلامی انقلاب کے لیے راستہ ہموار کرسکتے ہیں اور مستقبل میںمرتب ہونے والے تعلیمی ڈھانچے کے لیے برگ وبار فراہم کرسکتے ہیں۔ انھی کی تحقیق و جستجو اور فکری کاوشوں کی بنیاد پر ان خاکوں میں رنگ بھرا جاسکتا ہے، جنھیںایک بااقتدار اسلامی معاشرے کے لیے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحبؒ  نے پیش فرمایاہے: یہی چند مشعلیں روشن کرکے ہم راستے کے تمام کانٹوں سے بچ سکتے ہیں اور تمام سنگ گراں ہٹاسکتے ہیں اور اسے ایک رواں دواںقافلے کے لیے جو آج نہ سہی کل سرگرم خرام ہونے والا ہے، ہموار و مسطح کرسکتے ہیں۔

یہاں سوال یہ کیاجاسکتا ہے کہ طلبا کا یہ انتخاب یونی ورسٹیوں اور کالجوں سے کرنے کے بجائے دینی اداروں سے کیوں نہیں کیاجاتا۔دین سے گہری واقفیت حاصل کرنے کے بعد طلبا کے لیے ایک مخصوص عرصے میں مغربی علوم اور جدید افکار کے درس کا اہتمام کیوں نہ کیاجائے۔ اس طرح بھی منطقی اعتبار سے وہی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جو یونی ورسٹی سے لائے گئے طلبا کے علم دین کے حصول سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ راستہ زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد ہے۔ میں اس تجویز کی افادیت سے انکار نہیں کرتا جو کسی نہ کسی حد تک مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔ مگر نتائج اس آب وتاب کے ساتھ برآمد نہیں ہوسکتے جو پہلی صورت میں ممکن ہیں۔اول تو یہ دنیا اتنی محدود ہے کہ یہاں ذہین اور صاحب صلاحیت طلبا کے انتخاب کا دائرہ بہت مختصر ہے۔ دوسرے یہ کائنات اتنی منجمد ہے اور یہاں اتنی بے حسی طاری ہے کہ یہاں کے پروردوں کو اس عظیم اور نازک کام کے لیے تیار کرنا ذرا مشکل امر ہے جس کے لیے بے پناہ حوصلہ، لامحدود امنگ اور بے کراں جذبے کی ضرورت ہے۔ یہاں اس خوداعتمادی، ذہنی بلندی، یقین و بلند حوصلگی کے آثار کم نظر آتے ہیں جسے ہم اپنے مجوزہ اضافی نصاب میں طالب علم کے اندر ابھارنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمیں یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں ایسے تشنہ لب بکثرت مل سکتے ہیں جو حق کی تلاش و جستجو میں بے تاب ہیں جو مغربی تعلیم کے زہر ناک اثرات کے باوجود اپنی مومنانہ فطرت کی طلب کو دبا نہیںسکے ہیں اور برابر غیرشعوری طورپر جادۂ حق ڈھونڈنے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ ان کی تشنہ لبی سے فائدہ اٹھاکر حق نما باطل انھیں اکثر فریب دیتا رہتا ہے۔

غرض اسلامی علوم وفنون کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد ڈالنے کے لیے ہمارا مطلوبہ نصاب ان طلبا کے لیے ہوگا جو یونی ورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہوچکے ہیں یا کم از کم گریجویشن مکمل کرچکے ہیں۔ یہ نصاب عربی زبان وادب اور علم دین کے ایسے مختصر مگر زوداثر اور سائنٹفک انتخاب پرمشتمل ہوگا جو جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے قلوب میں شعلۂ ایمان روشن کرسکے، انھیں اسلامی بصیرت عطا کرسکے ساتھ ہی انھیں اس لائق بناسکے کہ وہ حاصل شدہ خطوط پرفراغت کے بعد مزید مطالعہ وتحقیق سے اپنی معلومات ازخودوسیع کرسکیں اور تحقیقی کام جاری رکھ سکیں۔ مگر یہاں عربی زبان و ادب کی مجرد تعلیم اور دین کے مجرد اور یکطرفہ علم کی تدریس کا انتظام نہیں ہوگا۔ ورنہ پھر موجودہ عربی درس گاہوں میں جو خرابیاں ہیں وہی یہاں بھی من وعن ابھر آئیںگی۔ بل کہ یہ مطالعہ اور یہ تدریس جدید مسائل کی روشنی میں ہوگی۔ اسے ہم تقابلی مطالعہ کہہ سکتے ہیں۔ استاد اس بات کی کوشش کرے گا کہ طالب علم کے اندر غورو فکر اور موازنے و تقابل کی صلاحیت پروان چڑھے ، وہ دین کی اصل و فرع کو ممیز کرسکے۔ مسائل کے استنباط کی قوت پیدا کرسکے۔ کھرا اور کھوٹا پہچان لینے کی بصارت حاصل کرسکے۔ اس نصاب میں قرآن کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ بدقسمتی سے اب تک کی عربی درس گاہوں میں اس پرپوری توجہ کا حق نہیں ادا کیاگیا۔ اللہ کی کتاب دین میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ہدایت و راہ نمائی کا سرچشمہ ہے۔یہی دراصل مرضی حق و منشاے الٰہی کو سمجھنے و متاع یقین پیدا کرنے خشیت الٰہی اور خوف خداوندی ابھارنے، قوت تفکر و تفحص حاصل کرنے، اجتہاد نظر اور استدلال کی صلاحیت سے مالامال ہونے اور گوناگوں طریقے سے تفکر و تدبر کرنے اور روئے گیتی پر پھیلے ہوئے مظاہر وشواہد سے شعور ایمان تازہ کرنے کااہم ترین اور بنیادی ذریعہ ہے۔ قرآن کے علاوہ احادیث و فقہ کے پرمغز اور مرکزی حیثیت رکھنے والے منتخبات ان کا جامع تعارف ، ان کے مسائل حاضرہ اور افکار جدیدہ کا کھرا کھوٹا نمایا ںکرنے کی قوت کو سامنے رکھ کر طالب علم کو ان سے روشناس کرایاجائے گا۔ مذاہب فقہ اور ائمہ و مجتہدین کی گرانقدر کاوشوں کی بھی اس طرح تعلیم ہوگی جو ان بالغ نظر طلبا کو ان کا مزاج اچھی طرح سمجھنے اور کتابوںکے مرکزی مضمون تک پہنچنے میںمدد کرسکے۔ دوسری طرف علم دین اور عربی زبان کے اس جامع مطالعہ اوردرس و تدریس کے علاوہ طالب علم پر یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ ساتھ ساتھ علوم جدیدہ کابھی مطالعہ جاری رکھے۔ تاکہ جن مسائل پر اسے نشتر زنی کرنی ہے اور جن کی کجیوں اور خامیوں کو نمایاں کرنا ہے وہ بھی تازہ بہ تازہ نوبہ نو اس کے سامنے آتے رہیں۔

اگست 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau