رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

زکوٰة کون ادا کرے گا؟ 

سوال:   میرے شوہر نے اپنے بڑے بھائی کو کپڑے کی دکان کے لیے چار لاکھ روپے دیے۔  اس پر اب ایک برس گزر گیا ہے۔ اس سے ان کو کوئی منافع نہیں ملتا اور نہ بھائی کے کاروبار میں ان کی شرکت ہے۔ان کے بھائی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کچھ دنوں کے بعد وہ رقم واپس کردیں گے۔ 

براہ کرم وضاحت فرمائیں، اس رقم پر میرے شوہر کو زکوٰة ادا کرنی ہے،یا ان کے بھائی کو، جو اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ 

جواب:  فقہی ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص رقم کا مالک ہے، سال گزرنے کے بعداس پر زکوٰة واجب ہوگی۔ جس نے اس رقم کو قرض پر لے کر اس سے فائدہ اٹھایا ہے، اس پر زکوٰة واجب نہیں۔   بہ ظاہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ جس نے پورے سال رقم سے فائدہ اٹھایا اس پر کچھ واجب نہ ہو اور جس نے قرض دے کر احسان کیا اور رقم سے خود فائدہ اٹھانے کا اسے موقع نہیں ملا، اسے زکوٰة ادا کرنا پڑے۔ لیکن غور کیا جائے تو شریعت کا یہ حکم بالکل قرین ِ عقل ہے۔ 

احادیث میں وقت ِ ضرورت کسی کی مدد کرنے اور اسے قرض دینے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، بلکہ بعض احادیث میں اسے صدقہ سے افضل عمل قرار دیا گیا ہے۔ کوئی شخص قرض دے کر کسی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ بے پایاں اجر کا مستحق قرار پاتا ہے۔ لیکن چوں کہ اس رقم پر اس کی ملکیت برقرار ہے، اس لیے زکوٰة بھی اسی کو ادا کرنی ہوگی۔ 

مذکورہ بالا حکم اس صورت میں ہے جب کہ قرض دار خوش حال ہو اور وہ حسب طلب قرض کی رقم ادا کرنے کے لیے آمادہ اور تیار ہو، لیکن اگر قرض دار تنگ حال ہے اور رقم کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، یا خوش  حال ہے مگر قرض کی رقم ادا نہیں کررہا ہے تو اس صورت میں علما کی بڑی تعداد کی رائے یہ ہےکہ جس سال  اسے قرض کی رقم واپس ملے وہ اس ایک سال کی زکوٰة ادا کردے۔ 

مائیکرو فائنانس سوسائٹی میں سروس چارج کی وصولی 

سوال:  آج سے تقریباً پانچ برس قبل ہم پچیس(۲۵) احباب نے مل کر فیصلہ کیا کہ سودی قرض کی لعنت سے بچنے کے لیے ایک بلا سودی نظام قائم کیا جائے۔ ہر ایک نے دو ہزار روپے جمع کیے۔پچاس ہزار روپے جمع ہوئے۔  ہر ضرورت مند ممبر کو بیس ہزار روپے تک بلا سودی قرض لینے کا اختیار دیا گیا۔دو ممبر کسی اجرت کے بغیر حساب کتاب رکھتے تھے۔ گذشتہ برس طے کیا گیا کہ اس کام کو بڑھایا جائے،اسے بلا سودی سوسائٹی کی شکل دی جائے،اسے رجسٹرڈ کروالیا جائے اور جمہوری طریقے سے اس کے ذمے داروں کا انتخاب ہو،اس کا ایک آفس ہو اور حساب کتاب رکھنے کے لیے حسب ضرورت ملازمین رکھے جائیں۔اس پر عمل کیا گیا۔سیٹ اپ ہوجانے کے بعد اب اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے، مثلاً آفس کا کرایہ، بجلی اور انٹرنیٹ بل، ملازمین کا مشاہرہ،اسٹیشنری وغیرہ۔ ان کی تکمیل کے لیے پہلے طے کیا گیا کہ بورڈ آف ڈائرکٹرس ہی ماہانہ تعاون کریں گے،لیکن ان سے ملنے والی رقم کافی نہیں ہوئی تو فیصلہ کیا گیا کہ ممبروں سے سروس چارج وصول کیا جائے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ فی الحال سروس چارج آٹھ فی صد (8%) وصول کریں گے، جس سے سوسائٹی کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ اخراجات سے زائد رقم جمع ہوئی تو سروس چارج کا فی صد کم کردیں گے، یا بچی ہوئی رقم ممبروں کو واپس کردیں گے۔ 

بعض حضرات بلا سودی قرض پر سروس چارج لینے کو ناجائز کہہ رہے ہیں۔وہ اسے سود ہی کی ایک شکل کہتے ہیں۔ براہ کرم ہماری رہ نمائی فرمائیں۔ کیا ہماری یہ اختیار کردہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟ 

جواب:  آپ کا استفتا موصول ہوا،جس میں آپ نے مائیکروفائنانس سوسائٹی چلانے کے لیے سروس چارج وصول کرنے کے معاملے میں رہ نمائی چاہی ہے۔اس سلسلے میں چند باتیں عرض ہیں: 

۱۔آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا یہ جذبہ قابل ِ قدر ہے کہ لوگوں کو سود کی لعنت سے بچانے کے لیے ایک بلاسودی نظام قائم کیاجائے۔اسی جذبے کے تحت آپ حضرات نے یہ سوسائٹی شروع کی ہے۔ 

۲۔ضروری ہے کہ یہ نظام سود اور شبہ سود سے بالکل پاک ہو،ورنہ سود پر مبنی نظام اور ہمارے قائم کردہ نظام میں فرق ہی کیارہ جائے گا۔قرض پر اضافی رقم لینا سود کہلاتاہے۔اس لیے آئیڈیل تویہ ہے کہ قرض پر اضافی رقم بالکل نہ لی جائے،البتہ نظام کو چلانے کے لیے جو کچھ اخراجات آئیں توانہیں وصول کرنے کی گنجائش ہے۔ 

۳۔اخراجات دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک بلا واسطہ،مثلاً قرض کے مقابلے میں استعمال ہونے والی اسٹیشنری،اس رقم کو اداکرنے پر آنے والا خرچ،رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں وصولی پر آنے والے اخراجات وغیرہ۔  دوسرے بالواسطہ،جیسے آفس کرایہ، فرنیچر، گاڑی، ملازمین کا مشاہرہ،بجلی اور ٹیلی فون کے بل اور آفس کے معمول کے دیگر اخراجات۔ بلا واسطہ آنے والے اخراجات کو قرض پر فیس(سروس چارج) کے ذریعے پوراکیے جانے پر فقہاکا اتفاق ہے،البتہ بالواسطہ اخراجات کی تکمیل سروس چارج کے ذریعے کرنے پر ان کے درمیان اختلاف ہے۔زیادہ تر فقہا اسے ناجائز قرار دیتے ہیں،جب کہ بعض جائز کہتے ہیں۔اس لیے کوشش کی جانی چاہیے کہ یہ مصارف کم از کم اور ناگزیر صورت میں ہوں۔ 

۴۔سروس چارج کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔اس میں سے جو رقم بچ جائے اسے قرض لینے والوں کو واپس کردیناچاہیے۔اس کی بھی شعوری کوشش ہونی چاہیے کہ قرض پر فیس کی شرح آہستہ آہستہ کم کی جاتی رہے،یہاں تک کہ بالکل ختم ہوجائے اور کوئی فیس نہ لی جائے۔نظام کو چلانے کے لیے اخراجات یاتو اصحاب ِ خیر کے مالی تعاون سے پورے کیے جائیں،یا اس کے لیے شرکت،مضاربت،اجارہ اورمرابحہ سے ہونے والے منافع کو استعمال کیاجائے۔ 

ہبہ، وصیت اور وراثت سے متعلق بعض مسائل 

سوال:  میرے والد صاحب کا چند ماہ پہلے انتقال ہوا ہے۔ گذشتہ برس والدہ کا اور اس سے ایک برس قبل میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تھا۔ ہم چار بہنیں اور دو بھائی تھے۔اب ایک بھائی اور ہم چار بہنیں زندہ ہیں۔ میری دادی بھی باحیات ہیں۔ وراثت کی تقسیم سے متعلق میرے چند سوالات ہیں۔  براہ کرم ان کے جوابات مرحمت فرمائیے : 

۱۔ کیا مرحوم بھائی کے بچوں کا مال ِ وراثت میں کچھ حصہ ہوگا؟ 

۲۔ وراثت کس اعتبار سے تقسیم ہوگی ؟اور کس کا کتنا حصہ ہوگا؟ 

۳۔ والد صاحب کا ایک باغ  ۶؍ایکڑ کا تھا۔ اس میں سے ایک ایکڑ انھوں نے ایک موقع پر میرے مرحوم بھائی کو فروخت کردیا تھا۔یہ معاملہ زبانی ہوا تھا۔اس کی کوئی تحریر موجود نہیں ہے۔کیا اس معاملے کا اعتبار کیا جائے گا؟ وراثت پورے باغ میں نافذ ہوگی یا ایک ایکڑ چھوڑ کر؟ 

۴۔ والد صاحب نے حکومت کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے باغ میری والدہ کے نام کردیاتھا۔اس باغ کی وراثت میں  میری دادی کا حصہ ہوگا یا نہیں؟ 

۵۔ میرے والد نے اپنی زندگی میں اپنے مرحوم بیٹے کے بچوں کو دو پلاٹ دے دیے تھے۔ وہ مزید کچھ دینے کو کہاکرتے تھے۔کیاان کی بات کا اعتبار کرتے ہوئے ہمارے لیے اپنے مرحوم بھائی کے بچوں کو کچھ دینا ضروری ہے۔ 

۶۔ میری دادی کہتی رہتی ہیں کہ میں اپنا حصہ اپنے پوتے کے بچوں کو دے دوں گی۔ کیا اسے ان کی وصیت مان لیا جائے؟ 

جواب:  وراثت سے متعلق آپ کے دریافت کردہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں: 

۱۔آپ کے جس بھائی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہوگیا،اس کا حصہ ان کی وراثت میں نہیں ہوگا۔اس لیے آپ کے مرحوم بھائی کے بچوں کو وراثت میں سے کچھ نہیں ملے گا۔البتہ آپ بھائی بہن بہ طور ہمدردی و رشتہ داری  جوکچھ  بھی دیناچاہیں اس کی اجازت ہے اور  وہ  ان شاء اللہ کارِ ثواب  شمار ہوگا۔ 

۲۔اپنے والد کی کل جائیداد کی مالیت نکالیں۔اس کی تقسیم ان کے ورثہ میں حسب ذیل ہوگی: 

ماں(آپ کی دادی)  :    16.7% 

چار بیٹیاں  :   55.6%  ( ہر بیٹی کا حصہ :   13.9%) 

ایک بیٹا   :   27.8% 

۳۔باغ(۶؍ایکڑ)میں سے ایک ایکڑ آپ کے والد نے آپ کے بھائی کو فروخت کردیاتھا۔اگرچہ یہ معاملہ زبانی ہواتھا،لیکن اس کا اعتبار کیاجائے گا اور مرحوم بھائی کے بچے اس کے مالک سمجھے جائیں گے، باقی ۵؍ایکڑ میں وراثت نافذ ہوگی۔ 

۴۔آپ نے لکھاہے کہ آپ کے والد نے حکومت کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے باغ آپ کی والدہ کے نام کیاتھا۔اس صورت میں اگرچہ باغ آپ کی والدہ کے نام سے ہے،لیکن شرعی طورپر وہ آپ کے والد صاحب کا ہی سمجھاجائے گا۔اس بناپر اس کی وراثت میں آپ کی دادی کا بھی حصہ ہوگا۔ (شرط یہ ہے کہ آپ کی والدہ کو یہ بات تسلیم ہو کہ انھوں نے باغ ان کے نام صرف اس غرض سے کیا تھا، یا آپ کے پاس اس کے معتبر شواہد ہوں) 

۵۔آپ کے والد نے اپنی زندگی میں اپنے مرحوم بیٹے کے بچوں کے نام دو پلاٹ کردیے تھے۔وہ بچے ان کے مالک سمجھے جائیں گے۔ وہ جائیداد میں انھیں مزید حصہ دینے کی بات کرتے تھے،عملاً انھوں نے کچھ ہبہ نہیں کیاتھا،اس لیے وعدہ کا اعتبار نہ ہوگا۔ ہبہ (Gift) مستقبل کے وعدے پر نہیں ہوتا۔البتہ آپ لوگ اپنی مرضی سے ہمدردی میں یا رشتہ داری کالحاظ کرتے ہوئے کچھ دیناچاہیں تو دے سکتے ہیں۔ 

۶۔آپ کی دادی کا بھی یہ کہناکہ میں اپنا حصہ اپنے پوتے کے بچوں کو دے دوں گی،کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔انھیں جو کچھ دیناہو،دے دیں۔وہ ان بچوں کو جتنا چاہیں ہبہ کرسکتی ہیں،یا اپنی ملکیت میں سے ایک تہائی تک کی وصیت کرسکتی ہیں۔ انھیں جو کچھ کرنا ہو،کردیں، مستقبل پر نہ ٹالیں۔ 

 

اکتوبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau