رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

پلاٹ پر زکوٰة

سوال: میرے شوہر نے نو سال پہلے ایک پلاٹ لیا تھا۔ اس پر زکاة کیسے نکالی جائے؟ موجودہ قیمت پر یا اسی پرانی قیمت پر جس پر پلاٹ لیا گیا تھا۔ ابھی فوراً اس پلاٹ کو فروخت کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

جواب:
اسلامی شریعت میں مال تجارت پر زکوٰة فرض کی گئی ہے۔ کسی چیز کی بھی تجارت کی جائے، اس پر زکوٰة ادا کرنی ہے۔

اگر کوئی پلاٹ ذاتی استعمال کے لیے خریدا گیا ہو یا کسی کو ہبہ کرنے کا ارادہ ہو تو اس پر زکوٰة نہیں۔

البتہ اگر اسے خریدتے وقت فروخت کرنے کی نیت ہو تو اس کی حیثیت مال تجارت کی ہو جائے گی اور اس پر زکوٰة لازم ہوگی۔

اگر پلاٹ خریدتے وقت اسے ذاتی استعمال میں لانے کا ارادہ تھا، چند سال کے بعد اسے فروخت کرنے کی نیت ہو گئی تو جب سے یہ نیت ہوئی ہو اس وقت سے حساب کرکے اس پر زکوٰة ادا کرنی ہوگی۔

جس پلاٹ کو فروخت کرنے کا ارادہ ہو، ہر سال اس کی مالیت نکالی جائے گی اور اس پر ڈھائی فی صد (2.5) زکوٰة عائد ہوگی۔

پلاٹ کے مالک کو اختیار ہے، چاہے ہر سال اس کی زکوٰة اپنے پاس سے ادا کرتا رہے، یا پلاٹ فروخت ہو اور اس کی رقم ہاتھ میں آئے تب جتنے برس کی زکوٰة ہو، ادا کردے۔

کیا باپ کا مہر بیٹا ادا کر سکتا ہے

سوال: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو، اس پر عرصہ بیت گیا ہو، اس کے لڑکے بڑے ہو گئے ہوں اور برسر روزگار ہوں، کیا اس صورت میں وہ اپنی کمائی ہی سے باپ کا مہر ادا کر سکتے ہیں؟ کیا یہ جائز ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے باپ کو کچھ رقم دیں اور کہیں کہ اس سے آپ ہماری ماں کا مہر ادا کر دیجیے؟

جواب:
نکاح ہوتے ہی مہر کی ادائیگی شریعت میں لازم کی گئی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً (النساء: 4)

’’اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو۔‘‘

اس لیے نکاح کے بعد جلد از جلد بیوی کو مہر ادا کر دینا چاہیے اور بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں مہر کو دو حصوں میں بانٹ دیا جاتا ہے:

مہر معجل: جسے فوراً ادا کیا جائے۔ مہر مؤجل: جسے بعد میں ادا کیا جائے۔

بعض معاشروں میں طے شدہ مہر ہی سے بہت معمولی رقم مہر معجل کے طور پر دے دی جاتی ہے اور باقی کو مہر مؤجل کہ دیا جاتا ہے۔ جس کی کبھی ادائیگی نہیں کی جاتی۔ بعض معاشروں میں تو پوری رقم زندگی بھر ادا نہیں کی جاتی۔ اس لامحدود تاخیر کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے، بلکہ یہ عورت پر ظلم ہے۔ کیوں کہ نقد کی صورت میں اس رقم کی مالیت کم ہوتی رہتی ہے اور عورت اس کی حق دار ہوتے ہوئے بھی زندگی بھر اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاپاتی ہے۔

عورت کو مہر کی رقم ملنی چاہیے۔ اس کی ادائیگی اصلًا شوہر کے ذمے ہے، لیکن کوئی دوسرا بھی اسے ادا کر سکتا ہے۔ مثلًا شوہر کا باپ یا کوئی دوسرا قریبی رشتے دار۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کافی عرصہ گزر جانے کے باوجود مہر ادا نہ کیا ہو اور لڑکے بڑے ہو گئے ہوں تو وہ بھی اپنے باپ کی طرف سے مہر کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔

ورثہ کے حق میں وصیت کو رجسٹرڈ کروانا

سوال: میری عمر اس وقت پچہتر (75) برس ہے۔ میری ملکیت میں دو عدد مکانات ہیں۔ میرا ایک لڑکا اور پانچ لڑکیاں ہیں۔ سب شادی شدہ ہیں۔ اہلیہ بھی با حیات ہیں۔ میں نے مکانوں کی مالیت نکال کر دو برس قبل بچوں میں انھیں اس طرح تقسیم کر دیا ہے کہ پانچ جدید تعمیر شدہ فلیٹ ہر ایک لڑکی کے نام، پچیس برس قبل تعمیر شدہ مکان لڑکے کے نام، دو دکانیں اہلیہ کے نام، سرکاری دفتر سے وصیت نامہ رجسٹرڈ کرا دیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ میرے اور میری اہلیہ کی وفات کے بعد ہی میری اولاد قابض و دخیل ہوگی۔

سوال یہ ہے کہ کیا درج بالا تقسیم اور وصیت نامہ شرعی نقطہ نظر سے درست ہے؟

جواب: کوئی زمین جائیداد دوسرے کو منتقل کرنے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں:

ہبہ (gift): آدمی جس کو بھی اور جتنا بھی ہبہ کرنا چاہے، کر سکتا ہے۔ البتہ اولاد کو ہبہ کرنے کے سلسلے میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ عام حالات میں سب کو برابر دینا چاہیے تاکہ کسی کو شکایت نہ ہو۔

وصیت (will): اس کے سلسلے میں دو ہدایتیں بنیادی ہیں: ایک یہ کہ ورثہ (جن کو وراثت میں حصہ لینا ہو) کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ دوسرے یہ کہ کسی کو مال کے ایک تہائی (1/3) حصے سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جا سکتی۔

فقہا نے ورثہ کے حق میں وصیت کے جواز کی ایک صورت نکالی ہے کہ ورثہ میں سے جس کا جتنا حصہ ہے، اتنے کی صراحت کرکے اسے وصیت کی شکل میں رجسٹرڈ کرایا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اس سے نہ کسی وارث کو زیادہ ملتا ہے نہ کسی کی حق تلفی ہوتی ہے۔

آپ کے ورثہ میں یہ لوگ ہیں: اہلیہ، ایک لڑکا، پانچ لڑکیاں۔

موجودہ صورت حال کے لحاظ سے آپ کی وراثت ان کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگی کہ اہلیہ کو آٹھواں حصہ (12.5) (النساء: 12)، اور باقی شدہ جائداد اولاد کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگی کہ لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دو گنا ملے گا۔ (النساء: 11)، بہ الفاظ دیگر اہلیہ کا حصہ 12.5%، لڑکے کا حصہ 25% اور لڑکیوں کا حصہ 62.5% ہوگا۔ ہر لڑکی کو 12.5% ملے گا۔

آپ کی اہلیہ کے انتقال کے بعد ان کا حصہ اور ان کی ملکیت کی دیگر چیزیں بھی اولاد کے درمیان تقسیم ہو جائیں گی۔

آپ نے جو وصیت نامہ رجسٹرڈ کرایا ہے اس میں یہ لکھوایا ہے کہ آپ کی اور آپ کی اہلیہ کی وفات کے بعد آپ کے بچے اپنے حصوں کے مالک سمجھے جائیں گے۔ گویا آپ نے اپنی کل پراپرٹی کی وصیت اپنی اہلیہ کو اور ان کی وفات کے بعد اپنے بچوں کو کی، یہ درست نہیں ہے۔ آپ کی وفات کے بعد بیوہ اور بچوں میں سے جس کا جتنا حصہ ہے وہ اس کو مل جانا چاہیے۔ اس میں کسی طرح کی تاخیر کا حیلہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔

 

نومبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau