نقدو تبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

فرہنگ کلیاتِ سودا

مصنف :        ڈاکٹر محمد نعیم فلاحی

صفحات: ۴۵۶ ٭ قیمت:۔/۵۰۰ روپے

پتا:    ڈاکٹر محمد نعیم فلاحی 5A7۔وگیان نگر، کوٹا 324005- ﴿راجستھان﴾

زیر نظر کتاب ’فرہنگ کلیاتِ سودا ‘ نوجوان اہل قلم ڈاکٹر محمد نعیم فلاحی کا وہ علمی وتحقیقی کارنامہ ہے، جس پر راجستھان یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی تھی۔

ڈاکٹر محمد نعیم فلاحی کا نام کم از کم تحریک اسلامی ہند کی نئی نسل کے لیے اب گم نام یا غیر معروف نہیں رہا۔ وہ مشہور تحریکی ادارے جامعۃ الفلاح کے ہونہار فاضل ہیں اور ایک مدت تک تحریک کی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) کے سرگرم وفعال کارکن رہے ہیں۔ اس وقت وہ راجستھان یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں معلمی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ طلبہ کی صحیح تعلیم وتربیت ان کی مناسب رہ نمائی اور اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت ان کی شناخت بن چکی ہے۔

مرزا محمد رفیع سودا  اٹھارہویں صدی عیسوی کے استاد شعرائ میں ہیں۔ میر تقی میر  کے ہمعصروں میں اُنھیں نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ اور ان کے ساتھ شب وروز کی شاعرانہ چشمک سے انھیں سب سے بڑا نقصان یہ پہنچا کہ ناقدین نے ان کی طرف وہ توجہ نہیں کی، جس کے وہ واقعی مستحق تھے۔ سودا کوانھیں شاعری کی مختلف اصناف پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ ان کے دیوان کے متعدد نسخے ہندوستان اور اس کے باہر کے کتاب خانوں میں موجود ہیں۔ ان میں بعض مخطوطے ایسے ہیں جو بادشاہوں، نوابوں اور راجائوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ان کے شعری ذخیرے میں قصائد بھی ملتے ہیں اور مثنوی ومراثی بھی اور غزل کے تو وہ مرد میدان ہی تھے۔ ان سب کے ساتھ انھیں ہجو وہزل گوئی میں بھی کمال حاصل تھا۔ چوں کہ ان کی شعریات اپنے ہم عصروں سے مختلف تھی۔ ان کے کلام میں مختلف زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں۔ انھو ںنے اپنے اشعار میں مختلف علوم وفنون ، مختلف پیشوں اور انسانوں کے مختلف گروہوں اور طبقوں کی اصطلاحیں اور محاورے استعمال کیے ہیں، اس لیے اس کی خاطرخواہ ترسیل ’اردو زبان و ادب کے عام قارئین تک نہیں ہوسکی۔ اس بات کو محسوس تو سب نے کیا لیکن عملی اقدام کی توفیق ڈاکٹر محمد نعیم فلاحی کے ہی حصے میں آئی۔

ڈاکٹر محمد نعیم فلاحی نے اپنے تقریباً پچاس صفحے کے مقدمے میں مرزا محمد رفیع سودا  کی شاعری ، ان کے تاریخی و زمانی پس منظر، اس عہد کی فنی ولسانی ہیئت، شعری اسلوب اور تخلیقی رویے پر گفتگو کی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے شیخ چاند، نثار احمد فاروقی، محمد حسن، نورالحسن ہاشمی ، محمد حسن، جمیل جالبی، رشید حسن خاں، خلیق انجم، منظر اعظمی اور فرید احمد برکاتی جیسے عظیم محققین کی کتابوں اور مقالوں کو مرجع بنایاہے۔ یہ بات قارئین کے سوچنے کی ہے کہ جس شعری ذخیرے میں مختلف زمانوں، زبانوں، طبقوں اور گروہوں کی لفظیات، محاورات اور اصطلاحات کا استعمال ہوگا، اس کی فرہنگ کی تیاری میں اسکالر کو کتنی مشقت وعرق ریزی سے گزرنا پڑا ہوگا۔ اس کے لیے لغاتِ کشوری ، فیروزاللغات یا ان جیسی اور دوچار لغات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

بلاشبہ محمد نعیم فلاحی کا یہ کام اردو زبان وادب اور تنقید وتحقیق کی تاریخ میں انھیں تا دیر زندہ وپایندہ رکھے گا اور جب بھی سودا  پر کسی علمی اور وقیع کا م کا ذکر آئے گا محمد نعیم فلاحی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکے گا۔

آنکھوں کے گاؤں تک

مصنف: مبارک جون پوری

صفحات: ۱۹۲ ٭ قیمت: ۔/۲۲۵ روپے

ملنے کا پتا:مبارک جون پوری، مولانا فضل الرحمن فاروقی اپارٹمنٹ ،دیورہی ٹولہ ﴿اصغرآباد﴾ دیوریا﴿یو۔پی﴾

مبارک جون پوری شیراز ہند جون پور کے ان فرزندوں میں ہیں، جو وطن سے دور رہتے ہوئے بھی اپنے نام اور کام سے اس کا نام روشن کیے ہوئے ہیں۔ وہ کم وبیش چار دہائیوں سے صلہ و ستائش سے بے پروا ہوکر اردوزبان وادب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ شعر وسخن سے انھیں فطری مناسبت ہے۔ اس سلسلے میں انھیں فخر مشرق علامہ شفیق جون پوری کے نام ور شاگرد حضرتِ کامل شفیقی مرحوم سے شرفِ تلمذ حاصل رہا ہے، جو اپنے زمانے کے معروف نظم نگاروں میں تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب انتساب بھی انھی کے نام کیا ہے۔

’آنکھوں کے گاؤں‘ تک جناب مبارک جون پوری کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ یہ ایک تکنیکی بات ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی شاعری، سخن وری اور مہارتِ فن کے اعتبار سے درجنوں ایسے شعرا پر بھاری ہیں ،جن کے ایک سے زائد شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔

مبارک جون پوری کی شاعری کا رخ تعمیری ہے۔ فاسد اورسوقیانہ اشعار ان کے ہاں تلاش بسیار کے باوجود بھی نہیں ملتے۔ ان کے اشعار میں سماج میں بڑھتی ہوئی خرابیوں اور اخلاقی و روحانی ناہم واریوں کا درد بھی ہے اور اس کی اصلاح کی فکر مندی کا احساس بھی۔ ان کا شعری رویہ بتاتا ہے کہ وہ ادب کو سماج کا مصلح، مربی اور معلم خیال کرتے ہیں۔درج ذیل اشعار سے میری رائے کی تصویب ہوتی ہے:

جسے میں دیکھ لوں ہوجائے اپنا

مری آنکھوں کو وہ بینائی دے دے

بلندی میں تکبر کا ہے خطرہ

سمندر کی طرح گہرائی دے دے

اس قدر ناآشنا ہوں خود ہی اپنے آپ سے

اپنا ہی چہرہ مجھے لگتا ہے اکثر اجنبی

جو ساری رات مُجرے میں جگی تھی

کھنڈر میں سورہی ہے وہ حویلی

ہمارے عہد میں پامال ہوگئیں قدریں

چمن میں پھول بہت ہیں مگر گلاب نہیں

یہاں میں نے نمونے کے طور پر محض چند اشعار نقل کیے ہیں ۔ ’آنکھوں کے گائوں تک‘ میں اس طرح کے اشعار بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ میں اس اچھی اورسچی شاعری کے لیے اپنے بھائی مبارک جون پوری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ امید کرتا ہوں کہ ان کایہ سفر اسی طرح جاری رہے گا اور ان کی شاعری کا اگلا پڑائو ’ نقاش نقشِ ثانی بہتر کشدزاول‘ کا مصداق ہوگا۔

اپریل 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau