رمضان کی تربیت کے دیرپا اثرات

محمد عبد اللہ جاوید

رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ رمضان المبارک دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے جدا ہوگیا۔ پتا نہیں چلا کہ کس تیزی کے ساتھ اس کے شب وروز گزر گئے۔ جب ہم گزرے ہوئے ماہ مبارک کی آمد کا تصور کرتے ہیں تو ایک خوش گوار ماحول کی یاد ذہنوں میں تازہ ہوجاتی ہے۔ ایسا ماحول جس میں ہر طرف خیر ہی خیر تھا۔ لیکن اس کے بعد عمومی ماحول پر غور کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ماہ مبارک کے شایان شان استقبال اور اہتمام کے لیے کوئی دوسری ہی مخلوق اس زمین پر اترآئی تھی۔ جب سے رمضان رخصت ہوا، ساتھ ہی وہ تمام اچھی خصلتیں بھی جدا ہوگئیں جو ہماری پہچان بنی ہوئی تھیں۔ جو ہمارے شوق عبادت اور جذبہ ایمانی کی عکاسی کیا کرتی تھیں۔

رمضان المبارک میں روزہ جیسی اہم عبادت کے اہتمام کے بعد بھی یہ صورت حال دعوت غور و فکر دیتی ہے۔ اس عظیم عبادت کا اہتمام بہت ہی خصوصی انداز سے ہوتا ہے۔ دراصل روزہ اخلاص و للہیت کے ساتھ کی جانے والی انتہائی عمدہ عبادت ہے۔ اس کا اہتمام اس قدر حساسیت کے ساتھ ہوتا ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی گوارا نہیں کی جاتی۔ وضو کے دوران پانی کی صرف ایک بوند کو حلق سے نیچے جانے کے لیے پلک جھپکنے سے بھی کم وقت درکار ہوتا ہے، لیکن پانی کی اتنی کم مقداراور وقت کی اس قدر کم مدت کے لیے بھی کوئی بندہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ عبادت کے ایسے احسن انداز سے اہتمام کے باوجود اس کے اثرات زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پاتے؟

روزہ کو فرض قرار دینے کی وجہ یہی بتائی گئی کہ اس کے ذریعے تقویٰ پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے کی ساری زندگی، تقوی کی زندگی ہو۔ اس کا کوئی لمحہ بھی اللہ کی محبت، اس کی یاد اور اس کی نعمتوں کے چھن جانے کے خوف سے خالی نہ ہو۔ ایسی مومنانہ زندگی کے لیے تقویٰ اسی طرح لازم ہے جیسے ایک فرض شناس سپاہی کے لیے نظم و ڈسپلن اور ذمہ داریوں کا شعور ضروری ہوتا ہے۔ ان اعلیٰ صفات کے بغیر وہ دشمن سے تو کیا خود اپنے وجود ہی سے زبردست نقصان اٹھانے کا سزاوار بنے گا۔ تقویٰ وہ اعلیٰ صفت ہے جو ایک بندے کو ہمیشہ راہ خدا میں مصروف اور شیطان کی چالوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ جس دل میں تقوی ہو اس کا وجود سراپا رحمت بن جاتا ہے۔ روزوں کے ذریعے اس بات کی ٹریننگ ملتی ہے کہ تقوی حاصل کرنے کے لیے نمازوں کی پابندی، قیام اللیل، برائیوں سے اجتناب اور نفس پر کنڑول، صلہ رحمی اور ہمدردی و غم خواری کا معاملہ روا رکھنا بڑا آسان ہے۔ اللہ رب العالمین اس ماہ مبارک کے اہتمام کے ذریعے یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ نیکیوں پر چلنا اور برائیوں سے بچنا ممکن ہے، اور یہ ہر ایک کے بس کی بات ہے۔ جو بندہ اس حقیقت کو پا لیتا ہے اللہ کی تائید ونصرت سے اسے تقویٰ کی زندگی میسر آتی ہے۔

رمضان المبارک کے اہتمام کی بدولت کئی ایک عظیم نعمتیں میسر آئی تھیں۔ جن کے سبب نیکی کی راہ پر چلنا بڑا آسان محسوس ہوتا تھا۔ ان نعمتوں اور برکتوں کی یاد پھر سے ذہنوں میں تازہ ہو اور یہ چاہ و طلب بھی پیدا ہو کہ ساری زندگی، تقوی کی زندگی بن جائے۔ جس کا ہر پل اللہ کی بندگی میں اسی طرح بسر ہو جیسے رمضان کریم میں ہوتا تھا۔

(۱) صبر

اس ماہ مبارک میں ہمارے اندر صبر کا مادہ نمایاں طور پر موجود تھا۔ شب و روز کے بیشتر معاملات میں اس کا بھر پور اظہار ہوتا تھا۔ سچ بات یہ ہے کہ صبر کی توفیق اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ صفت روشنی کے مانند ہے جس کا حامل بندہ کبھی گم راہی کے اندھیروں میں نہیں بھٹکتا۔ قرآن مجید بتاتا ہے کہ صبر جیسی عظیم صفت کے حاملین کو اللہ تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے، یہ صفت ان کے اندر دوسری اہم مومنانہ صفات کو نشو و نما دینے کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآن ہم پر واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بے حد پسند فرماتا ہے۔(آل عمران:146) عزم و حوصلہ اور اولوالعزمی صابروں کی پہچان ہوتی ہے۔ (الاحقاف:35) سب سے بڑھ کر یہ کہ صبر کرنے والوں کے ساتھ خود اللہ کی بابرکت ذات رہتی ہے۔ (البقرہ:153) ذرا غور کریں تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں صبر کی صورت میں کیسی بڑی دولت ہاتھ آئی ہے۔ کیا یہ دانش مندی ہوگی کہ اس کو غفلت اور لاپروائی سے ضائع کیا جائے؟ نہیں بلکہ دانش مندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس عظیم نعمت کو اخلاق و کردار کا ایک اٹوٹ حصہ بنانے کے لیے بھرپور توجہ دی جائے۔

  • رمضان کے شب و روز کی عبادات کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے اپنے دل کو یہ سمجھایا جائے کہ صبر کرنا آسان ہے، اور ہر حال میں کیا جاسکتا ہے۔
  • ہر معاملہ میں صبر سے کام لینے کا مزاج بنائیں، اپنا بھی اور اپنے اہل وعیال کا بھی۔ دن بھر میں انجام دیے گئے ایسے تمام کاموں کا رات میں احتساب کیا جائے جو جلد بازی یا بے صبری میں کیے گئے ہوں۔ آئندہ ان پر قابو پانے کا مصمم ارادہ کیا جائے۔
  • کسی کے غلط رویہ پر۔ کسی کی نامناسب بات پر، وقت پر کسی کام کے نہ ہونے پر، اپنے مزاج کے خلاف کوئی معاملہ ہونے پر، کیا صبر کا دامن ہاتھ سے جاتا رہتا ہے؟ اس پر بھر پورتوجہ رہے۔
  • یہ بھی دیکھا جائے کہ ایسی کتنی عبادتیں کی جاتی ہیں، جو صبر نہ ہونے کی صورت میں بے جان محسوس ہوتی ہیں۔ جن کے اہتمام میں دل نہیں لگتا؟
  • ابتلا و آزمائش اور ناسازگار حالات کے باوجود کیاعبادات اور راہ خدا میں سرگرمی کی وہی کیفیت برقرار رہتی ہے؟ یا تھکاوٹ اور کم زوری کا غلبہ رہتا ہے؟
  • ان امور کے پیش نظر روز مرہ کے کاموں پر کڑی نظر ہو۔ بارگاہ رب العزت میں خصوصی دعا بھی ہو کہ تادم حیات کسی بھی معاملہ میں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے
  • قرآن کی یہ دعا ہمیشہ ساتھ رہے: رَبَّنَـآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّـنَا مُسْلِمِیْنَ۔ (الاعراف:126)

اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماںبردار ہوں۔

(۲) تعلق باللہ

صبر کے علاوہ اس بابرکت مہینہ میں ایسی کئی ایک خوبیاں بیدار ہوئی تھیں جن سے تعلق باللہ مضبوط تر ہوجاتا ہے۔ نمازوں کی پابندی، راتوں میں قیام، تلاوت کلام مجید، توبہ واستغفار، ذکر واذکار اور دعائوں کا خصوصی اہتمام، بندگان خدا سے محبت و شفقت کا معاملہ وغیرہ۔ قرآن مجید ہمیں ایسے بندوں سے متعارف کراتا ہے جن کا اللہ رب العالمین سے بڑا گہرا تعلق تھا، اور بتایا ہے کہ وہ کن کن نعمتوں سے بہرہ ور ہوں گے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ ان کے واسطے اللہ کی طرف سے اجر عظیم کی بشارت ہے۔ (البقرہ:277) عجز و انکسار اور خشوع و خضوع ان کا نمایاں وصف ہوتا ہے۔ (المائدہ:55) وہ ایمان میں سچے و پکے ہوتے ہیں۔ (الاعراف:170) صبر کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والے ہوتے ہیں۔ (الرعد:22) یوں کام یابی اور کامرانی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ (المومنون:1-2) رمضان المبارک میں اللہ سے تعلق مضبوط کرنے والے ان اعمال کو انجام دینے کے لیے میسر آئی آمادگی اور جذبے اللہ کا بڑا فضل سمجھنا چاہیے۔ اس میں کسی قسم کی کمی کو گوارا نہ کیا جائے۔

یہ بات کبھی ذہن سے اوجھل نہ ہو کہ قرب الہیٰ کا بڑا ہی موثر ذریعہ نماز ہے۔ نماز کے قیام کے ذریعے ہی سے سچے ایمان کی پہچان ہوگی۔ اور اسی کے ذریعے سے اللہ کے دین کے قیام کی راہیں ہم وار ہوں گی۔

پابندیٔ جماعت اور تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازوں کا اہتمام بڑا آسان ہے۔ مگر وہ جُڑا ہوا ہے اخلاص و للہیت کے ساتھ۔ لہذا اس کے لیے آمادگی اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، مزاج کی پہچان بن جائے۔ بچوں میں نماز سے متعلق بیدار ہوئے شعور کو نہ صرف زندہ رکھا جائے بلکہ اس میں بتدریج بہتری لانے کی بھی کوشش ہو۔ انھیں اپنے ساتھ مسجد لے جائیں، نماز میں پڑھی جانے والی آیات کی تشریح سنائیں اور گھر میں بھی نوافل کے اہتمام کی جانب توجہ دلائیں۔ اگر بچے شعور کی عمر کو پہنچے ہوں تو انھیں نفل روزوں کی اہمیت بھی بتلائی جائے۔ اور بچوں پر احسن طریقے سے واضح کیا جائے کہ ان عبادات کے اہتمام سے شخصیت پر کیسے شان دار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رات کے پچھلے پہر اٹھنے اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے کی عادت کوباقی رکھا جائے۔ حسب استطاعت تہجد اور دیگر نوافل کا اہتمام ہو۔ رسول اکرم ﷺ کے اس ارشاد مبارک کے پیش نظر ہر ایک کو نمازوں کے ذریعے اپنا گھر سجانے اور سنوارنے کی فکر ہونی چاہیے:

اَمَّا صَلاَۃُ الرَّجُلِ فِیْ بَیْتِهِ فَنُوْرٌ فَنَوِّرُوْا بُیُوْتَـکُمْ (ابن ماجہ)

آدمی جو نماز اپنے گھر میں ادا کرتا ہے وہ سراپا نور کے مانند ہے، تو پھر اپنے گھروں کو خوب روشن کرو۔

اللہ سے تعلق کا اظہار اور بھی کئی اعلیٰ صفات سے ہوتا ہے۔ جتنا ممکن ہوسکے انھیں پیدا کرنے کی کوشش ہو اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعا کا اہتمام ہو:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ نَفْسًا مُّطْمَئِنَّةً تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ وَتَرْضٰی بِقَضَائِكَ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ (طبرانی)

اے اللہ میں تجھ سے ایسا نفس مانگتا ہوں جسے تیری جانب سے اطمینان نصیب ہو۔ جسے مرنے کے بعد تجھ سے ملاقات کا پورا پورا یقین ہو۔ اور تیرے ہر فیصلہ پر وہ راضی و مطمئن ہو اور جو کچھ تیری جانب سے عطا ہو اس پر وہ قانع ہو۔

(۳) قرآن کریم سے گہرا شغف

ماہ رمضان میں روزوں کا اہتمام، صبح و شام قرآن مجید کی تلاوت اور تراویح میں اس کی آیات سننے کا نظم خاص معمولات میں سے رہا۔ یہ ماہ مبارک ماہ قرآن سے عبارت ہے۔ الحمد للہ اس کے دوران ہر ایک کی کوشش یہی رہی کہ وہ کم سے کم ایک مرتبہ قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرلے۔ اور جو پڑھنا نہ جانتا تھا اس کا یہ جذبہ رہا کہ مکمل قرآن مجید کو سننے کا اہتمام کیا جائے۔ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ اللہ کوئی ہم کلام ہورہا ہے۔ وہ قرآن مجید تو پڑھتا ہے لیکن حقیقت میں اپنے رحیم و کریم آقا سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس لیے اس کی تلاوت کرنا، اس کو سننا اور سنانا اور اس کی تعلیم دینا بڑا افضل کام بتایا گیا۔ اللہ کے خاص بندوں کی پہچان ہوتی ہے کہ ان کا قرآن مجید سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ وہ جوں ہی اسے سنتے ہیں ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (الانفال:2 اور السجدہ:15)۔ یہ قرآن مجید کا حق ہے کہ اس کے ساتھ ایک بندہ مومن کا ایسا ہی تعلق ہو۔ وہ اس پر غور و فکر کرے۔ (النساء82 اور محمد:24) جب پڑھا جائے تو اسے توجہ اور خاموشی سے سنے۔ (الاعراف:204) اس طرح جو شخص نیک روش اختیار کرے اس کے لیے کام یابی و کامرانی کی بشارت ہے۔ (الاسراء:9) رمضان المبارک میں قرآن کریم سے قائم ہوئے اس تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے:

  • ہر دن، دن کا کوئی حصہ تلاوت قرآن مجید کے لیے مخصوص ہو۔ قرآن کریم سے اس قدر گہرا تعلق پیدا ہوجائے کہ جس دن اس کی تلاوت نہ ہو، اس دن ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہونے لگے۔ اگر اس کی آیتوں پر عمل نہ ہو تو دل بے قراری اور بے اطمینانی محسوس کرنے لگے۔
  • قرآن کریم کی آیات پر غور و فکر اور انھیں یاد کرنے کا اہتمام اس کتاب ہدایت سے تعلق کو مضبوط کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس کے توسط سے ایک شخص نہ صرف قرآن کریم سے بلکہ پوری کائنات سے اپنا تعلق قائم کرلیتا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، جس کام میں مصروف رہتا ہے اورجس چیز پر نگاہ ڈالتا ہے … غرض اس کا ہر معاملہ قرآنی فکر و مزاج کے مطابق بن جاتا ہے، گویا وہ ایک چلتا پھرتا قرآن ہے۔
  • بچوں کا قرآن کریم سے گہرا لگاؤ پیدا کرنے کے لیے خصوصی تربیت کا نظم ہو۔ جنت اور جہنم کے مناظر کو بہتر انداز سے سمجھایا جائے۔ جنت کی نعمتوں کی چاہت اور جہنم کے عذاب سے بچنے کی فکر پیدا کی جائے۔ ان کے عادات واخلاق سے خدائی احکاموں اور قرآنی قصوں کا بڑا گہرا ربط و تعلق قائم ہو۔
  • بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے والدین کی جانب سے ایک خاص وقت مقرر ہو۔ انھیں زیادہ سے زیادہ قرآن کو یاد کرنے اور اسے سینے میں محفوظ رکھنے کی تلقین ہو۔
  • دوران تعلیم بچوں کو قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ یا پھر ہائی اسکول کی تعلیم سے قبل ایک یا دو سال تعلیم کو منقطع کرکے قرآن مجید حفظ کرایا جاسکتا ہے۔ اس عرصہ کے بعد اسکولی تعلیم جاری رکھنے کی پوری گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔ لیکن یہ دونوں صورتیں حالات، بچے کی ذہانت اور آمادگی پر منحصر ہیں۔
  • سماعت قرآن کی محفلیں بعد رمضان کے بھی منعقد ہوں۔ جن میں چند آیات کی تلاوت کے ساتھ ان کی تفسیر بیان کرنے کا نظم ہو۔ خواتین کے اندر بھی سماعتِ قرآن کا شوق پیدا کیا جائے اور ان محفلوں میں شریک کیا جائے۔
  • قرآن سیکھنا اور سکھانا ہر ایک کا محبوب مشغلہ بن جائے۔ خاص کر خواتین کو اپنے پڑو س کی بچیوں کی تعلیم و تربیت کا خصوصی نظم کرنا چاہیے۔ اگر ہر خاتون سالانہ صرف چار پانچ بچیوں ہی کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری لے تو ان شاء اللہ یہ معاشرہ، اللہ اور اس کے رسولﷺ کا پسندیدہ معاشرہ بن جائے گا۔
  • قرآن کریم سے گہرا شغف پیدا کرنا اور ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنا اللہ رب العالمین کی توفیق پر منحصر ہے، اس لیے اس کے حضور دعا کرنی چاہیے:

اَللّٰھُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِیْ لِذِکْركَ وَارْزُقْنِیْ طَاعَتَكَ وَطَاعَةَ رَسُوْلِكَ وَعَمَلاً بِکِتَابِكَ (طبرانی)

اے اللہ تو اپنے ذکر کے لیے میرے دل کے کان کھول دے۔ اور مجھے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کی اور اپنی کتاب قرآن مجید پر عمل کی توفیق نصیب فرما۔

(۴) دعا اور ذکر و اذکار

رمضان المبارک کی عبادتوں میں سے خاص مصروفیات ذکر و اذکار اور دعاؤں سے متعلق تھیں۔ ذکر اس شعور کے ساتھ کیا گیا کہ اس کا بے انتہا اجر ہے اور دعا اس جذبہ کے ساتھ کہ اللہ روزے دار کی دعا قبول فرماتا ہے، رد نہیں کرتا۔ یہ یقین بھی رہا کہ افطار سے قبل کی جانے والی دعائیں بڑی مقبول ہوتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ذکر و اذکار اور دعاؤں کا اہتمام ہر حال میں باعث خیر ہے۔ اللہ کی یاد سے جب بھی کسی بندے کے ہونٹ ہلتے ہیں، اللہ اس کے قریب ہوجاتا ہے۔ جب جب دعا کی جائے تو اللہ اس کا جواب دیتا ہے اور خالی ہاتھ لوٹانے سے اس کو شرم آتی ہے۔ پھر اس قرآن میں ہم نے سنا کہ فلاح و کام یابی کے لیے اللہ کی کثرت سے یاد ضروری ہے۔ (الجمعۃ:10)’ اللہ کے نیک بندے ہر حال میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔ (آل عمران :191) یہ فضیلت ہے ان اذکار کی، پھر تو ہماری دن بھر کی سرگرمیاں ان کے بغیر ادھوری محسوس ہونی چاہئیں:

  • اللہ کے ذکر کا کثرت سے اہتمام ہو۔ ذہنی یکسوئی اور آمادگی پیدا کرنے کے لیے نمازوں کے اوقات کے علاوہ دن کے مناسب اوقات کا تعین ہونا چاہیے۔
  • جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعامانگی جائے، اسی یقین کی کیفیت سے مانگی جائے کہ میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے۔
  • اہل و عیال کو بھی ذکر و اذکار اور دعاؤں کا پابند بنانا چاہیے۔ گھر کا ماحول اس طرح کا ہو کہ بچے فطری انداز سے ان کی تربیت حاصل کرنے لگیں۔ گھر میں داخل ہوتے وقت، کھانا کھاتے وقت بلند آواز میں دعا پڑھنا، مختلف اوقات کی دعاؤں کا اہتمام کرنا، ذکر و اذکار اور دعاؤں کا چارٹ گھر کی دیواروں پر آویزاں کرنا اور بچے دعائیں یاد کریں تو انھیں خصوصی انعامات دینا وغیرہ سے افراد خاندان کی مزاج سازی میں مدد مل سکتی ہے۔
  • اللہ رب العالمین سے التجا ہو کہ اسی کی توفیق وہدایت سے ذکر و اذکاراور دعاؤں کا اہتمام ممکن ہے:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ اُعَظِّمُ شُکْرَكَ وَاُکْثِرُ ذِکْرَكَ وَاَتَّبِعُ نُصْحَكَ وَاَحْفَظُ وَصِیَّتَكَ (ترمذی)

اے اللہ مجھے ایسا بنادے کہ میں تیری نعمتوں کی عظمت کو سمجھوں، تیرا ذکر کثرت سے کیا کروں، تیری نصیحتوں کی تابعداری کروں اور تیری وصیتوں کو خوب یاد رکھوں.

(۵) یکسوئی کے ساتھ عبادت کا اہتمام

رمضان کے مہینے میں روزہ اور نماز کے علاوہ رمضان میں کی گئی دیگر عبادتوں میں یکسوئی اور دلجمعی کا بڑا خاص معاملہ رہا۔ اس ماہ مبارک میں یکسوئی حاصل کرنے کی موثر ٹریننگ ملی۔ مصروف سے مصروف ترین شخص بھی نماز اور افطار وغیرہ کے لیے اپنا وقت فارغ کرتا تھا۔ اس کی مزید تربیت کے لیے اعتکاف کی بھی خصوصی ہدایت کی گئی تھی۔ اللہ کی بندگی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پوری یکسوئی کے ساتھ ایک بندہ اپنے رب کی جانب متوجہ رہے۔ قرآن مجید کی تلاوت سے واضح ہوا کہ کسی شخص کا عبادت کے لیے یکسو ہونا، سیدنا ابراھیمؑ کے اسوہ کی حقیقی معنوں میں پیروی کرنا ہے۔ (البقرہ:135)، بندگی رب کے لیے یکسو ہوجانا حقیقت میں اپنی فطرت پر قائم رہنا ہے۔ (الروم:30) دین کی اخلاص کے ساتھ پیروی یکسوئی کے بغیر ممکن نہیں۔ (البینۃ:5) اللہ کی بندگی کے شایان شان یہ بات ہوگی کہ ایک بندہ پوری طرح یکسوہوکر، حنیف بن کر اپنی زندگی بسر کرے۔

  • نماز کی ادائیگی اور قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کے موقع پر توجہ کا کیا عالم رہتا ہے۔ اس کا بے لاگ جائزہ اور سختی سے خود احتسابی ہو۔
  • یکسوئی کا تعلق دل سے ہے۔ اگر دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے بڑھ کر کسی اور کی محبت ہو تو یکسوئی میں خلل پڑے گا۔ اس لیے بار بار دل کا جائزہ لینا، دن بھر کی مصروفیات میں سے ایک اہم ترین مصروفیت بن جائے۔
  • نماز، ذکر و اذکار، دعا، قرآن کریم کی تلاوت کا شخصیت پر بڑا گہرا اثر اسی وقت پڑسکتا ہے جب کہ ان کا توجہ اور یکسوئی سے اہتمام ہو۔ اس کے لیے اوقات کا تعین بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسا مزاج بنے کہ ان عبادتوں کا اہتمام ان کے متعینہ اوقات میں ہو، دنیا کی کوئی مصروفیت اور کسی کی محبت اس کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔
  • رمضان کے اس موقع پر دنیا سے بے رغبتی، قناعت پسندی، اخراجات میں میانہ روی اختیار کرنے کا جو جذبہ بیدار ہوا ہے، اسے اسی طرح باقی رکھنے کی جی توڑ کوشش ہو۔ یہ وہ اعلیٰ اوصاف ہیں جن کے ذریعے ایک بندہ قرب الہی کی منزلوں کو بڑی آسانی کے ساتھ طے کرتا چلا جاتا ہے۔ اعلیٰ معیار زندگی کے بجائے کم سے کم سامان زندگی پر راضی ہونے کا مزاج بنایا جائے۔ مختصر سامان زندگی سے مراد کیا ہے کہ جس پر رضامند رہنے کے لیے مکمل اطمینان نصیب ہو؟ رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں:

مَنْ اَصْبَحَ مِنْکُمٰ آمِناً فِیْ سِرْبِهٖ مُعَافاً فِیْ جَسَدِہٖ عِنْدَہٗ قُوْتُ یَوْم فَکَانَّماَ حِیْزَتْ لَهُ الدُّنْیاَ بحَذَافِیْرِھَا. (ترمذی)

جو تم میں سے اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان سے بے خوف ہو، اس کا جسم ٹھیک ٹھاک ہو اور ایک روز کی خوراک اس کے پاس ہو تو گویا دنیا پورے ساز و سامان سمیت اس کے پاس جمع کردی گئی۔

  • دین اسلام پر یکسوئی سے عمل کا یہ عالم ہو کہ چلنا پھرنا، اٹھنا اور بیٹھنا سب اسی کے مطابق ہو، اور لبوں پر رب العالمین سے یہ دعا:

اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَائِمًا واحْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَاعِدًا وَاحْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ رَاقِدًا۔ (حاکم)

اے اللہ کھڑے ہونے کی حالت میں تو میری حفاظت اسلام کے ساتھ فرما۔ بیٹھے رہنے کی حالت میں تو میری حفاظت اسلام کے ساتھ فرما۔ سوتے رہنے کی حالت میں تو میری حفاظت اسلام کے ساتھ فرما۔

(۶) نفس پر کنڑول

رمضان میں بڑے گناہ تو دور کی بات بندوں نے تو خدا کی ذرا سی نافرمانی سے بھی بچنے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کیا تھا۔ ان گناہوں سے مسلسل بچتے ہوئے اس پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ برائیوں سے بچنا اور نفس پر مکمل کنڑول رکھنا نہایت آسان ہے۔ اس دوران قرآن مجید نے بھی ہماری ذہن سازی اسی طرز پر کی کہ اللہ کے نیک بندوں کا اگر برائیوں پر سے گزر ہو تو وہ شریفانہ طریقہ سے گزرجاتے ہیں۔ (الفرقان:72) اگر وہ بشری کم زوری سے کوئی برائی کر بیٹھیں تو فوری اپنے رب کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں۔ (آل عمران :135) اور وہ کبھی باطل خیالات و افکار کی اتباع نہیں کرتے۔ (الانعام:151) تقوی کی زندگی تقاضا کرتی ہے کہ فکر سازی کا کام اسی نہج پر ہوتا رہے۔

  • دل و دماغ ہمیشہ اس بات پر مطمین رہیں کہ گناہوں سے بچنا نہایت آسان ہے۔ اس فکر کے سبب ایک ایسا آہنی عزم بیدار ہو جو حتی الامکان گناہوں سے دور رکھے۔
  • جب کبھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو فوری نیک کام کرنے کا مزاج بنے۔ گناہوں سے باز رہنے کا یہ ایک زریں اصول ہے جو ہمیں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بتایا ہے۔
  • رمضان میں روزوں کا اہتمام، درحقیقت شکر کا ایک رویہ ہے۔ اللہ کی جانب سے اس ماہ مبارک میں قرآن مجید جیسی عظیم نعمت کا ملنا انتہائی مسرت و شادمانی کا موقع ہے، اس لیے دل کھول کر خوشیاں منائی جائیں۔ (یونس57-58) اورساتھ ہی ساتھ جذبہ شکر سے سرشار ہوکر اللہ کی عبادت بھی کی جائے۔ (البقرہ:185) یہی رمضان اور روزوں کی حقیقت ہے۔ لہذا جب بھی کوئی خوشی میسر آئے، کام یابی ملے یا کوئی یادگار دن آجائے تو بجائے غلط رسوم و رواج میں پڑنے کے خوشی منانے کے اس الہی طریقے کو اپنایا جائے۔ خوشی منانے کا طریقہ ایسا ہو کہ ہر پل خوشی دینے والے رحیم و کریم آقا کو یاد رکھا جائے، اس کی نافرمانی کی قطعاً گنجائش نہ رہے۔
  • گناہوں سے بچنا اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ سے ہر وقت یہ توفیق طلب کرنے کا اہتمام ہو:

اَللّٰھُمَّ جَنِّبْـنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (طبرانی)

اے اللہ ہمیں کھلی اور چھپی ہر طرح کی بے حیائیوں سے محفوظ رکھ۔

(۷) مواسات و رحمت

بڑی خاص تاکید کی گئی تھی کہ اس ماہ مبارک میں ہمدردی اور غم خواری اور مواسات و رحمت کا بھر پور مظاہرہ کیا جائے۔ غریبوں کے دکھ درد کو محسوس کیا جائے۔ ماتحتوں کے کام کے بوجھ کو ہلکا کیا جائے۔ اعزہ و اقربا کی خبر گیری کی جائے۔ الحمد للہ اس کا بڑی حد تک پاس و لحاظ رکھا گیا۔ اس ماہ کی ٹریننگ ہی کچھ اس نوعیت کی تھی کہ ہر ایک کا دکھ درد محسوس ہونے لگا، بھوک اور پیاس کی شدت معلوم ہوئی، کم زوری کی حالت میں کام کرنے کی دشواری کا پتا چلا اور رزق کی کشادگی کی اہمیت معلوم ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دوسرے پر رحم و کرم کا معاملہ دین کے اصولوں میں سے ہے۔ رمضان میں تلاوت کرتے ہوئے قرآن مجید ہمارے ذہنوں کو بار بار متوجہ کرتا رہا کہ اللہ کے سچے بندے رشتوں کو جوڑنے والے ہوتے ہیں۔ (الرعد:21) وہ قرابت داروں اور یتیموں سے حسن سلوک کرتے ہیں۔ (البقرہ:177) لوگوں کے قصوروں کو معاف کرتے ہیں۔ (آل عمران:134) اور یہ کہ عفو و درگزر سے کام لینا تقویٰ کی پہچان ہے۔ (البقرہ:237)۔ لہذا ہر بندے کی یہ پہچان بن جائے کہ وہ جہاں رہے سراپا رحمت بن کر رہے۔

  • ہر حال میں اللہ کے فضل و کرم کا شعور تازہ رکھنا چاہیے۔ ہمدردی و غمخواری وقتی معاملہ نہ رہے، بلکہ انھیں اپنا شعار بنانے کی حتی الوسع کوشش ہو۔ افراد خاندان اور ایک مقصد کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے درمیان کے رشتوں کو ہمیشہ صحیح اور خوش گوار حالت میں قائم رکھنے پر توجہ ہو۔
  • جن لوگوں کے ہم ذمہ دار بنائے گئے ہیں، ان کے ساتھ ہمیشہ رحم و کرم کامعاملہ ہونا چاہیے۔ ایک صحابیؓکے عرض کرنے پر کہ ہم اپنے نوکروں کی غلطیوں کو کس حد تک معاف کریں۔آپﷺ نے فرمایا:

اُعْفُ عَنْهٗ کُلَّ یَوْمٍ سَبَعِیْنَ مَرَّۃً (ابوداؤد و ترمذی)

دن میں ستر مرتبہ ان کی غلطیوں سے درگزر کرو۔

  • جن کی پرورش کی ذمہ داری ہے، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں کسی قسم کی لاپروائی نہ ہو۔ رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد ہمارے رویوں کو درست کرنے والا بن جائے:

کَفٰی بِالرَّجُلِ اِثْمًا اَنْ یَّحْبِسَ عَمَّنْ یَّمْلِكُ قُوْتَهٗ. (مسلم)

انسان کی تباہی و بربادی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ جس کی روزی اس کے ذمہ ہو اسے وہ روکے رکھےَ۔

  • اعزہ و اقربا پر خرچ کرنے کے لیے اپنے مال و دولت کا ایک متعینہ حصہ ہو۔ اس کی اتنی زبردست تاکید کی گئی ہے کہ اگر کوئی رشتہ دار سخت دشمنی بھی کرتا ہو تو اس کی بھی امداد کی جانی چاہیے۔ ایک صحابیؓکے سوال پر رسول اکرم ﷺ نے بہترین صدقہ کے بارے میں فرمایا:

عَلیَ ذِیْ الرَّحِمِ الْکَاشِحْ (ترغیب وترہیب)

آدمی کا ایسا صدقہ افضل ہے جو وہ اپنے ایک ایسے غریب رشتہ دار کو دے جو اس سے سخت دشمنی کرتا ہو۔

  • صالح اعمال انجام دینے کے لیے ایک بندہ کو بس اللہ سے استعانت طلب کرنے ہی کی فکر دامن گیر رہنی چاہیے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُكَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنَ (موطا امام مالک)

اے اللہ میں تجھ سے اچھا عمل کرنے اور برے اعمال کو چھوڑ دینے کی توفیق مانگتا ہوں۔ اور اس توفیق کا بھی طلب گار ہوں کہ مجھے تیرے مسکین بندوں سے محبت ہو۔

(۸) اصلاح امت

مسلمانوں میں محبت و یگانگت اور باہمی اتفاق کی ایک بڑی خوش گوار فضا اس ماہ میں بنی رہی۔ مختلف مقامات پر سحر و افطار اور دیگر کاموں کے موقع پر تمام مسلمان ایک ہوکر نظم میں جڑجاتے تھے۔ مسلکی اختلافات اور گروہی تعصبات کا پتا ہی نہیں تھا۔ اس کیفیت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ ملت ملت واحدہ ہے۔ اس لیے جب اتحاد ملت کی بات کی جاتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی پانی کے اجزا ہیڈروجن اور آکسیجن کو ایک ساتھ رہنے کی زور دار تاکید کررہا ہو۔ جیسے پانی کے وجود سے ان دو اجزا کی جدائی کا تصور ممکن نہیں اسی طرح امت کے عدم اتحاد کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اس لیے جب اتحاد ملت کہا جائے تو اس کا مطلب یہی لینا چاہیے کہ افرادِ ملت کو ایک مقصد کے تحت اسلامی اجتماعیت سے وابستہ کیا جائے۔

  • مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش متعینہ مقصد کے ساتھ ہو۔ مقصد کے بغیر نہ اجتماعیت ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
  • جن مساجد اور مدارس اور اداروں سے تعلقات بنے ہیں، انھیں باقی رکھنے کی ایسی کوششیں ہوں کہ مل جل کر ایک مقصد کے تحت کام کرنے اور مختلف مسائل کو حل کرنے کا ذہن بنے۔
  • مقامی سطح کے ایسے مسائل کی نشان دہی کرلی جائے جن کے حل کے لیے ملت کے افراد اور اداروں کا تعاون لیا جاسکتا ہو۔ جیسے کورونا وبا کی وجہ سے بے روزگاری کا عام ہونا، تعلیمی بیداری، نادار اور یتیموں کی خبر گیری وغیرہ۔
  • یہ بات تمام لوگوں کے ذہنوں میں بیدار رہے کہ ملت کا وجود اللہ کی بندگی اور غلامی کرتے ہوئے اس کے بندوں کو راہ راست پر لانے کے لیے ہے۔ اس ضمن میں ایسی کوششیں ہوں کہ افرادِ ملت انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں میں اسلامی احکامات کی مکمل پابندی کرنے والے بن جائیں۔ اور برادران وطن میں دعوت دین کا شعور اور جذبہ بھی ان کے اندر بیدار ہو۔ انھیں اچھی طرح احساس ہو کہ وہ ایک داعی گروہ ہیں۔
  • ملت کے اداروں کو صحت مند خطوط پر چلانے کی صورتوں پر تبادلہ خیال کا ماحول بنانا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ معاشرہ میں ان کا وجود مثبت اور تعمیری ہو۔
  • اصلاح معاشرہ کے لیے مساجد کے کردار کو بہتر بنانے، رمضان کے مہینے میں سحری اور افطار کے لیے آواز دینے کا ایک ضابطہ بنانے، مسجدوں اور محلوں میں بچوں کے کردار کو بہتر بنانے، مستحق لوگوں کی امداد کرنے، غیر ضروری امور پر خرچ کرنے کے بجائے واقعی ضرورتوں پر پیسہ خرچ کرنے جیسے کاموں کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار ہو۔
  • رب کریم سے خصوصی دعا کا اہتمام ہو کہ وہ اس ملت پر رحم فرمائے۔ ہمارے درمیان الفت و محبت ہو، اور ہم ہر طرح کی آفات و بلیات سے محفوظ رہیں:

اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ ذَاتَ بَیْـنِنَا وَ اَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِنَا وَاھْدِنَا سُبُلَ السَّلاَمِ وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (طبرانی)

اے اللہ ہمارے آپس کے تعلقات درست فرمادے۔ اور ہمارے دلوں کو جوڑ دے، ان میں محبت پیدا فرما اور ہمیں سلامتی کے راستوں پر چلا اور ہمیں ہر طرح کے اندھیروں سے نکال کر کھلی روشنی میں لے آ۔

لَـعَلَّکُمْ تَـتَّـقُوْن امید کہ تم متقی و پرہیز گار بنو

رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے متعلق واضح کیے گئے ان چند امور کے پیش نظر، انفرادی و اجتماعی سطحوں پر کوشش ہونی چاہیے۔ یہ موجودہ حالات میں اور بھی ضروری ہے کیوں کہ درپیش وبائی حالات اور مابعد کورونا پیدا ہونے والی صورت حال کی بہتری کے لیے امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کو بڑا نمایاں رول ادا کرنا ہے۔ اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس پر توکل اللہ کے رسولﷺ سے محبت اور آپ کی پیروی والی زندگی کو یقینی بنانا چاہیے۔ اسی سے ممکن ہے کہ ہمارے اندر تقوی کی وہ مطلوبہ مقدار برقرار رہے گی جس سے ایک مومنانہ زندگی گزاری جاسکتی ہے، جو روزے کے الہی منشا لعلکم تتقون کے شایان شان بھی ہوگی۔

اَللّٰھُمَّ ٰاتِ نُفُوْسَنَا تَقْوٰھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکّٰھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا (مسلم)

اے للہ ہمارے نفس کو تقویٰ عطا فرمااور اس کو پاک و صاف کردے اور اس کی نشو و نما فرما، تو ہی سب سے اچھا تزکیہ فرمانے والا ہے، تو ہی اس کا نگہبان اور مالک و مولیٰ ہے۔

جون 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau