آپ کی رائے

قارئین

مکرمی!                              السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

ابھی عالمی سطح پر حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کی گئی بدترین گستاخی کے خلاف زبردست احتجاج ہورہا تھا، ظاہری صورت حال مسلمانوں کے تھوڑے بہت اتحاد کی تصویر پیش کر رہی تھی، مغرب کی خباثتوں کا اندازہ پوری دنیا کررہی تھی اور مغرب کی اسلام دشمنی اندھوں پر بھی ظاہر ہورہی تھی لیکن اچانک پاکستان کی ایک لڑکی پرہوئے حملے نے عالمی منظرنامے کا رخ موڑ دیا۔

مجھے فی الوقت اس بات سے بحث نہیں ہے کہ یہ حملہ صحیح تھا یا غلط، یہ حملہ طالبان نے کیا تھا یا کسی اور نے، اس حملے کی ذمے داری پاکستانی طالبان نے لی ہے یا اس کی تردید کی ہے ،اورنہ مجھے اس بات پر گفتگو کرنی ہے کہ اس لڑکی کا آئیڈیل بارک اوباما ہے، جس نے نائن الیون کے مصنوعی حملے کے حوالے سے کہاتھا کہ اب اگر اس طرح کا حملہ امریکہ پر ہوا تو ہم خانہ کعبے پر بمباری کرکے اس کوتباہ کردیں گے، یا اس لڑکی کے اوراس کے والدین کے امریکیوں سے زبردست ربط ہیں اوراس لڑکی کی ڈائری کے یہ الفاظ پوری دنیا میں گونج رہے ہیں کہ برقعہ پتھر کے دور کی نشانی ہے اور داڑھی والے کو دیکھ کر مجھے فرعون کی یاد آتی ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ صرف اسی ایک لڑکی پرکیے گئے حملے پر اتنا ہمہ گیر عالمی واویلا کیوں مچایا جارہا ہے ؟ کیا یہ پاکستان کی تاریخ میںپہلا حادثہ ہے، اگر نہیںتوپھر یہ معاملہ کون سی صورت حال کی غمازی کررہا ہے؟

لال مسجد کے کربناک سانحے میں ہزاروں لڑکیوں کے خون ن سے ہولی کھیلی گئی، پوری دنیا کے سامنے ان کو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا اور دیکھنے کے لیے ان کی لاش بھی نہیں ملی، پاکستان کے ڈرون حملوں میںکتنی ہی لڑکیاں موت کے منھ میں جھونک دی گئیں، بے شمار لڑکیاں ہمیشہ کے لیے اپاہج بن گئیں، ہزاروں نے افلاس وبے چارگی کے عالم میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا اور اب تک ہلاکت کا یہ انسانیت سوز سلسلہ پورے آب وتاب کے ساتھ جاری ہے ، لیکن اس پر پوری دنیا کی زبانیں کیوں خاموش ہیں، ان کے لیے کوئی اپنی خدمات دینے کو تیار نہیں ہے ، ان کے لیے کبھی کوئی دعا کا اعلان نہیں کرتا ہے، ان کے لیے انسانی خدمات کے سارے دروازے بند ہیں۔

حقیقت کی یہ تصویر بیان کر رہی ہے کہ معاملہ کیا ہے، الفاظ و معنی کے اس متضاد دور میں الفاظ نے معنی پرغلبہ پالیا ہے۔ مغرب کی اسلام دشمنی پورے طور پرچھلک کر باہر آچکی ہے، اب اس میں شک کے شائبے کی گنجائش نہیں ہے۔ امریکہ نے فلم انوسنس آف مسلمس پر پابندی لگانے کے مطالبے پر کہا کہ اس سے اظہار رائے کی آزادی مجروح ہوگی اور یہ بات ہمارے قانون کے خلاف ہے جب کہ اسی امریکہ میں اور عالمی قوانین میں یہ شق موجود ہے کہ ہولوکاسٹ کا انکارعالمی جرم ہے، کوئی شخص اگر امریکی جھنڈے کو پیر سے مسل دے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور حبشیوں کے خلاف اگر کسی نے کوئی بات کی تو امریکہ کے اندر اس کے خلاف کارروائی کے لیے قانون پایاجاتا ہے لیکن پوری دنیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کی دل آزاری نہیں بلکہ ان پر سب سے شدید حملہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں کی گئی بدترین توہین کے خلاف کارروائی تو دور کی بات ہے اس پرپابندی لگانے سے بھی انکار ہے۔

اس بدبختانہ عمل کے خلاف پوری دنیا میں زبردست احتجاج ہورہا تھا، مسلمانوں میںکچھ بیداری نظر آرہی تھی، ایسا محسوس ہورہا تھا گویا ایک سیل بڑھ رہا ہے لیکن اچانک پاکستان کی چند لڑکیوں پر کسی نے گولی چلائی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک چھوٹے سے شہر میں ہوئے اس معاملے نے عالمی منظرنامہ کا رخ موڑ دیا ، لوگ دوسری چیزوں کو بھول گئے اور پھروہی پرانی بکواس شروع ہوگئی، نظر آتا ہوا تھوڑابہت اتحاد آپسی انتشار کاشکار ہوگیا، شیطانوں نے ناچنا شروع کردیا اور منافقوں کی ٹولیاںزبان وقلم سے لیس ہوکر فریب وجہالت کے میدان کارزارمیں کود پڑیں۔

اس معاملے میں کیاگیا تجزیہ اس نتیجے تک لے جاتاہے کہ حقیقت وہ نہیں ہے جونظرآرہی ہے ، ایک زائنسٹ نے لندن کی ایک لائبریری میںیہ بات کہی تھی کہ اسلام کی جان محمدﷺ﴾ میں ہے، محمدﷺ  کو ختم کردو اسلام خود ختم ہوجائیگا ، یہ پورا کھیل بہت ظاہر بھی ہے اور نہایت باریک بھی ہے۔

امت مسلمہ کی روح طریق محمدی میں ہے، اس کے بغیر اس کاکوئی جسم نہیں ہے ۔ رسولﷺ  کی محبت اس جسم کی جان ہے اور یہ پوری صورت حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک یہ امت پورے طور پر اپنے آپکو محمدی قالب میںنہیں ڈھالے گی، حالات کی موجودہ تصویر اب نذیرعریان بن کر یہ اعلان کر رہی ہے کہ کم از کم اب مسلمانوں کو اسوۂ محمدیﷺ  میں ڈھل جانا چاہیے ، اسی میں ان کے لیے تمام ترقی کا راز ہے۔

محمدطالب جلال ندوی ﴿نئی دہلی﴾

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو !            السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

زندگی نو کا مستقل قاری و خریدار ہوں۔ فکر انگیز مضامین کی اشاعت اس کی خصوصیت ہے ۔ میری ایک گزارش ہے کہ زندگی نو زبان وبیان کے اعتبار سے بھی ایک معیاری رسالہ کہلائے۔ اس میں صحافت کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ قاری کو ادب کی چاشنی محسوس ہو۔ لہٰذا نومبر کے شمار ے کے اشارات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس میں چند اصلاح طلب پہلو ہیں۔

پیرا گراف نمبر دو ’’یہ واقعہ ہے کہ انسانوں…‘‘ یہ جملہ اگر اس طرح ہوتا ’’واقعہ یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان…‘‘ تو زیادہ صحیح ہوتا۔ اگلے جملے میں ’’بھی‘‘ کی تکرار ہے مثلاً رنگ ونسل کا اختلاف بھی ہوتا ہے اور زبان اورعلاقے کا بھی۔ طبیعتوں اور مزاج کااختلاف بھی ہوتاہے اور ذوق و رجحان کا بھی‘‘۔ ان دونوں جملوں میں ’’بھی‘‘ کو کم کیا جاسکتا تھا۔آگے صفحہ ۶ کی ابتدا میں ایک جملہ ہے ’’اب چوں کہ مل جل کر کام کرنا انسانوں کی ضرورت بھی ہے اور ان کی فطرت کا تقاضا بھی‘‘۔ اس جملے میں ’’اب‘‘ اور ’’بھی‘‘ زائد ہیں۔ جملہ اس طرح ہونا چاہیے: ’’چوں کہ مل جل کر رہنا انسانوں کی ضرورت ہے اور ان کی فطرت کا تقاضا بھی‘‘۔ صفحہ ۱۲ کے آخری پیراگراف میں ایک جملہ ہے ’’مگر ان میں سے کوئی بھی نہ تو اس مسئلے کواور اس میں اپنی رائے کو مدارِ دین بنائے اورنہ اس سے اختلاف کرنے والے کو دین سے خارج قرار دے‘‘۔ اس جملے میں پہلا ’’نہ‘‘ زائد ہے۔ جملہ اس طرح ہوتا تو بہتر ہوتا ’’مگر ان میں سے کوئی بھی اس مسئلے کو اور اس میں اپنی رائے کو مدارِ دین بنائے اورنہ اس سے اختلاف کرنے والے کو دین سے خارج قرار دے‘‘۔ جناب رشید حسن خاں نے زائد استعمال ہونے والے الفاظ پر بہت اچھی کتاب لکھی ہے ۔اسے ملحوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اگرتحریر میں تکرار سے بچاجائے، جملے چھوٹے چھوٹے ہوں تو تحریر فصیح کہلاتی ہے۔ البتہ تقریر میں زور دینے کے لیے الفاظ کی تکرار گوارا کی جاسکتی ہے ۔ امید ہے مدیر زندگی نو اس طرف توجہ دیں گے۔ ویسے اشارات دلوں کو جھنجھوڑنے والے ہوتے ہیں۔ میں کوئی ادیب نہیں ہوں ممکن ہے میری اس رائے سے کچھ لوگوں کو اختلاف ہو یا میری اس تحریر میں بھی غلطی ہو۔

ملک اکبر،بھانڈوپ ، ممبئی

مکرمی!                      السلام علیکم ورحمتہ اللہ

ملک کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو دیکھ کر ہمیں چاہیے کہ ملت میں سیاسی شعور کو بیدار کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ کی زندگی کے احوال سے ہم واقف ہیں۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد وہاں کے سیاسی اور سماجی حالات کا مشاہدہ فرمایا۔ یہودیوں کے بڑے بڑے طاقتورقبیلے آباد تھے ۔ ان سے ناجنگ معاہدے (No war Pact) کیے اور جب انھوں نے ان معاہدوں کو توڑا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرار واقعی سزائیں دیں ۔ایک مہتم بالشان حکومت قائم کی ، غرض و ہ تمام کام انجام دیے جنھیں تدبیر مملکت یا سیاست کہا جاتا ہے۔ دین کے تمام احکامات کو نافذ فرمایا۔ اور ثابت کیا کہ اسلام ایک مکمل نظریۂ حیات ہے۔ اور تمام ادیان باطلہ پر غالب کردیا۔ مگر آج ہم آپ ﷺ کی زندگی کے اس اہم پہلو کو نظرانداز کرکے صرف ذکر وفکر عبادت اور ریاضت کو اختیار کرکے اپنی نجات کے لیے کافی سمجھ رہے ہیں۔

موجودہ دور کے احوال میں دین اسلام ہم کو کیا رہنمائی دیتا ہے۔ سیرت النبی ﷺ اور سیرت صحابہ ؓ  سے اخذ کرنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے کورس میں جو چودہ سال تک پڑھایا جاتاہے۔ عصری علوم کے مبادیات خصوصاً سیاسی امور اورمعاشی نظریات کو شامل کرنا ہوگا۔ دینی کورس ختم کرکے بھی طلباء ان علوم کے حصول کی جدوجہد کرسکتے ہیں۔ آج کل کمپیوٹر سائنس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔ غریبی اورافلاس کی وجہ سے جو ذہین لڑکے آگے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ان کو آگے تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانا بھی ایک بڑی خدمت ہے۔

تصنیف و تالیف کے کام میں لگے ہوئے علماء  سے ادباً گزارش ہے کہ وہ دینی علوم پانے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ایک ایسا کورس اور کتابیں تیارکریں جو عالم دین بننے کے بعد تمام عصری علوم کا تعارف کراسکیںاور دعوت دین کے میدان کے بھی وہ شہ سوار بن سکیں۔

ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی

محترمی ! السلام علیکم!

سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش کا ایک مراسلہ ’’زندگی نو‘‘ ستمبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اسے پڑھ کر ہمارے ایک دیرینہ رفیق محترم سید شکیل احمد انور خوشی سے جھوم اٹھے۔ اپنی اس مسرت کا اظہار انھوں نے اپنے ایک مراسلہ ’’زندگی نو‘‘ ماہ نومبر میں ان لفظوں میں کیاہے: ’’ یہ مراسلہ پڑھ کر تازہ ہوا کا جھونکا آتا ہوا محسوس ہوا. دیر آید درست آید کے مصداق ایک صحیح فیصلے کی مدافعت میں قلمی وعملی حق ادا فرمایا ہے‘‘۔

میں اپنے رفیق محترم سے صرف اتنی درخواست کروں گا کہ وہ ان جملوں پرغور فرمائیں: ’’دعوت و اصلاح و خدمت خلق کے کام ہرطرح کی مذمت اور مخالفت سے بچتے ہوئے پچھلے ساٹھ سالوں سے انجام دیئے جاتے رہے۔ اب الیکشن میں حصہ لینے کا ایک اہم اورانقلابی فیصلہ کیا ہے تو ردعمل کی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے.‘‘۔

میرا خیال ہے کہ رفیق محترم نے لاعلمی میں بالکل الٹی بات لکھ دی۔ ابھی تو وہ حضرات بھی بقید حیات ہیں جنھوں نے اس ’’انقلابی فیصلے‘‘ سے قبل کا دور دیکھا ہے۔ اس دور کی تاریخ جماعت کے لٹریچر میں محفوظ ہے۔ ہر کوئی معلوم کرسکتا ہے کہ اس ’’انقلابی فیصلے‘‘ سے قبل کا دور کس قدر سنگین دور تھا۔ ہمارے رفقاءکے لیے اقتدار وقت نے آزمائش کی بھٹیاں تیار کی تھیں۔ مفتیان کرام کے فتوؤں کی بارش ہورہی تھی۔ قیدوبند کے مرحلوں سے گزرنا پڑرہاتھا۔ ہر ایک خفیہ ایجنسیوں کی سخت نگرای میں رہتا تھا۔ یہ کس نے کہہ دیا کہ ’’ہرطرح کی مذمت اور مخالفت سے بچتے ہوئے ‘‘ تحریکی سرگرمیاں جاری تھیں۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ ان انقلابی فیصلوں اور انھیں زیر عمل لانے والی سرگرمیوں نے مخالفتوں کا بالکل صفایا کردیا۔

برادرم شکیل احمد انور نے ایک پارٹی کی جو تصویر پیش فرمائی ہے اس پر مجھے حیرت ہے۔ مذکورہ پارٹی بہرکیف اسلامی پارٹی نہیں ہے۔ اس کے دستور میں درج ہے کہ یہ سیکولرزم، سوشلزم اور ڈیموکریسی پریقین رکھتی ہے اور ان نظریات کو مانتی ہے۔ اس کے دستور اور اصول وضوابط میں قرآن وسنت ، دین وشریعت، توحید، رسالت اورآخرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے وہ انھیں مسائل کو لے کراٹھی ہے جو تمام مذاہب، مسلم وغیرمسلم تمام فرقوں میں مشترک ہیں۔ یہاں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی صاحب ایمان کسی سیکولر پارٹی کی تشکیل اور اس میں شرکت کا تصور بھی کرسکتا ہے؟ جس دین کی اقامت کا ہم نے خدا اور بندگان خدا کو گواہ بناکر حلف لیا ہے اس کے الفاظ اورجملے یہ ہیں: ’’اس دین کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرف سے یکسو ہوکر کی جائے۔ اور انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ فرد کا ارتقائ، معاشرے کی تعمیر اورریاست کی تشکیل سب کچھ اسی دین کے مطابق ہو۔ دستور جماعت میں دوٹوک انداز میں واضح کردیاگیا ہے کہ قرآن و سنت جماعت کی اساس کار ہوں گی، دوسری ساری چیزیں ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیش نظر رکھی جائیں گی جس حد تک قرآن وسنت کی رو سے ان کی گنجائش ہو۔ دستور جماعت میں اس مقصد ، نصب العین اورطریق کارکے ہوتے ہوئے صاحب ایمان کسی غیر اسلامی سیاسی پارٹی کی تشکیل اور اس میں شرکت کا تصور کرسکتاہے۔

برادرم شکیل احمد انور کا ارشاد ہے کہ ’’۱۹۶۰ء سے جو تشکیل جدید برصغیر کے اس خطۂ زمین میں تحریک کی ہوئی ہے اس کا نہایت سنجیدگی و متانت سے کارکنان تحریک مطالعہ فرمائیں اورجن امور میں وہ متفق نہ ہوں انھیں تفرقے کا موجب نہ بننے دیں‘‘۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ لادینی جمہوری نظام کی تائید، اس میں شرکت اور حصے داری،وغیرہ تفرقے کا موجب بنتے ہیںیا ان کے جواز پر عدم اطمینان کااظہار اور قرآن وسنت اور دین وشریعت سے دلائل پیش کرنے کی درخواست باعث تفرقہ ہے؟ آپ کبھی یہ گوارا نہیںکریں گے کہ تنظیم کے نصب العین اور طریقہ کار کے تعلق سے ایسے فیصلے کثرت رائے سے کریں جوناقابل فہم ہوں۔ شرعی حدود سے متجاز ہوں اور آپ یہ دبائو ڈالیں کہ لوگ آنکھیںموند کر خاموشی کے ساتھ ان پر لبیک کہیں۔ ورنہ تفرقہ برپا کرنے کے مجرم قرار دیے جائیں گے۔ برادر محترم ! کچھ تو انصاف سے کام لیں۔

احسن مستقیمی۔میرٹھ

مدیر محترم!                                السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ

ابھی ابھی زندگی نو کا دسمبر ۲۰۱۲ء کا پرچہ ملا جناب ایچ عبدالرقیب صاحب کا مضمون دعوت دین کی منصوبہ بندی بے حد پسند آیا ۔ مولانا نے امت مسلمہ کی آنکھیں کھولنے کے لیے ایک دلکش خاکہ پیش کیا ہے۔ اللہ انھیں جزاے خیر دے اور انھیں ایسے جگا دینے والے مزید مضامین لکھنے کی توفیق دے—آج کل امت مسلمہ ذلیل وخوار ہورہی ہے اس کا بنیادی سبب اتحاد اور منصوبہ بندی کی غیرموجودگی ہے۔ یہ مغربیت کے اتباع کی وجہ سے ہے ۔ مغربیت نے مسلمانوں پر اتنا گہرا اثر ڈال دیا ہے کہ مسلمان اسوہ نبویﷺ  سے دور ہوگئے ہیں اور تفرقے میں پڑگئے ہیں۔ کچھ جماعتیں دعوت کے لیے صاف گوئی سے کام لیتی ہیں اور کچھ لوگوں سے ڈرتی ہیں۔ اللہ مضمون نگاروں کو امت مسلمہ کی آنکھیں کھول دینے والے مضامین لکھنے کی توفیق عطا کرے۔آمین!

والسلام                                سلیم شاکر

مدیر محترم!                                سلام مسنون

زندگی نو ماہ نومبر ۲۰۱۲ء کے اشارات میں دعوت الی اللہ کا ایک اہم پہلو پیش کیاگیا ہے یعنی نہی عن المنکر ۔ آج کی دنیا میں اس فریضے کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے اس لیے کہ اس وقت منکرات جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں تیزی سے پھیلتے جارہے ہیں۔ اِس مضمون میں بجا طور پر اس امر پر زور دیاگیا ہے کہ اہل ِ خیر کے تعاون سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام اُمت مسلمہ کو انجام دینا چاہیے۔ اگر اس کام کی طرف کما حقہ توجہ دی جائے تو انسانی سماج کو زوال سے بچایاجاسکتا ہے خواہ افراد کے قبولِ حق میں ابھی دیر لگے۔

اسلامی تحریک کو ابتدا ہی سے اس پہلو کی طرف توجہ دینی چاہیے تھی۔ اگر ایسا ہوجاتا تو شاید عالمِ انسانیت کی حالت آج اتنی دگرگوں نہ ہوتی۔ یہود ونصاریٰ کا اسلام کے سلسلے میں تعصب بھی کم ہوجاتا۔ میں نے اپنی کتاب Calling  Humanity میں اِس موضوع کا نسبتاً تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔ مغربی دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کو آج بھی یہ موقع حاصل ہے کہ وہ اپنا فرضِ منصبی انجام دے کر مغربی معاشرے کی اصلاح کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ خود عالمِ اسلام میں بھی منکرات پھیل رہے ہیں۔ ان کے ازالے کی طرف مسلم قیادت کو فوراً توجہ کرنی چاہیے۔ میری مذکورہ بالا کتاب ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جو احباب اُس کا مطالعہ کرنا چاہیں براہ کرم مجھ سے ربط قائم کریں۔

شمیم صدیقی۔ امریکہ

[email protected]

مدیرمحترم!                                السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

زندگی نو ﴿دسمبر۲۰۱۲ء﴾ میں انگریزی رسالے The Companion ﴿اکتوبر﴾ کا پوسٹ مارٹم پڑھ کر تعجب آمیز خوشی ہوئی۔ مکتوب نگار نے چونکہ ’’دین کے نام پر کام کرنے والی تنظیم ‘‘ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے لہٰذا چند الفاظ میں وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔

﴿۱﴾ سورہ مائدہ کی آیت ۳۳ کے حوالے سے ڈاکٹر شاہد علی نے لکھا تھا کہ امن ترقی کی بنیاد ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا وجو دممکن نہیں، اسی لئے قرآن حکیم نے ایک قتل ناحق کو ﴿موجودہ اعداد وشمار کی روشنی میں ﴾۶ئ ۱ بلین قتل کے برابر قرار دیا ہے۔ اس مختصر اورواضح بات پر مکتوب نگار پوچھتے ہیں ’’ کیا انصاف کے بغیر امن ممکن بھی ہے؟ ‘‘ یقینا نہیں ہے ، لیکن اس سوال کا منشا کیا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔

﴿۲﴾ سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۶ ﴿لااکراہ فی الدین﴾کے حوالے سے سید قطب شہیدؒ  اور سید اقبال ظہیر کے تفسیری اقتباس پر موصوف اعتراض کرتے ہیں کہ قبل از اسلام واقعات کا تذکرہ کرکے غلط نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ جن واقعات سے استدلال کیاگیا ہے ان کے حوالے کے طور پر ابن جریر ،ابن کثیر، ابودائود اور نسائی کا ذکر کیاگیا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے کہ یہ واقعات قبل از اسلام کے ہیں۔ دونوں واقعات ﴿جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں﴾ صراحت کے ساتھ ’’اسلام قبول کرنے کے لیے زور زبردستی نہیں کی جاسکتی‘‘۔ اس اصول سے متعلق ہیں۔ ایک معمولی عقل وفہم رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ واقعات کسی اعتبار سے زمانہ ماقبل اسلام کے نہیں ہوسکتے۔ ان واقعات کا ارتداد سے دور دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔

﴿۳﴾ مکتوب نگار کے مطابق میری فکری کج روی کی معراج یہ قرار پائی ہے کہ میں نے good اور bad کی کٹیگری پیدا کی ہے۔ ’اچھے‘ اور ’برے‘ کی کٹیگری میری پیدا کردہ ہے، اس اعزاز کے لیے مکتوب نگار کا شکریہ لیکن میں اس اعزاز کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ زیرِ بحث خط کے مطالعے میں یہ سمجھنا خاصا مشکل تھا کہ مکتوب نگار کو اعتراض آخر ہے کس بات پر۔ کیا مکتوب نگار کے نزدیک سارے مسلمان اچھے ہیں؟ یا سارے بُرے ہیں؟ کیا ٹریفک روکنا، لوٹ مار کرنا، جائدادیں جلانا اچھی بات ہے؟ کیا کسی سفیر کا قتل کرنا جائز ہوسکتا ہے؟

﴿۴﴾ اداریے میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ اچھے مسلمان ’’صرف‘‘ وہ ہیں جو کتابیں لکھ کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں،مثال کو کلیہ سمجھ کر یہ معنی مکتوب نگار نے خود پہنائے ہیں ۔ جو کچھ کہا گیا تھا اس کا خلاصا یہ ہے کہ امت مسلمہ میں آج شکایتی رجحان ضرورت سے زیادہ پروان چڑھ چکا ہے، اسی برائی کانتیجہ ہے کہ اپنی غیر فعالیت اور کمزوریوں کی ذمے داری اغیار کے سر مڑھ کر ہم مطمئن ہوجاتے ہیں نیز اس بات پر زور دیاگیا تھا کہ یہ صرف ہماری اجتماعی ذمے داری نہیں بلکہ ہماری انفرادی ذمے داری بھی ہے کہ اہانت رسولﷺ  اور اس قسم کے دیگر فتنوں کے ازالے کی حتی المقدور کوششیں کرتے رہیں۔ ان معاملوں میں تشدد کی راہ اپنانا نہ صرف یہ کہ اسلام کا منشا نہیں بلکہ اسلامی کاز کے لیے سخت مہک بھی ہے۔

﴿۵﴾ موصوف فرماتے ہیں: ’’چار امریکی قتل ہوگئے ، ایک رمشہ مسیح پر مقدمہ ہوگیا، کچھ سفار ت خانوں پر ’’پاگل‘‘ ، ’’جاہل‘‘، ’’برے مسلمانوں‘‘ نے حملہ کردیا تو یہ بہت بڑا جرم سمجھا جارہا ہے ‘‘۔ سوال یہ ہے کہ واقعے سے سراسر غیر متعلق چار امریکیوں کا قتل اور deterrent کے طور پرسفارت خانوں پر حملہ کیا ، مصنف کے نزدیک کارخیر ہے اور کیا اسی کو قرآن ارہاب سے تعبیر کرتا ہے ۔ اگر اُن کی یہ رائے ہے تو مجھے مکتوب نگار کی اس رائے سے سخت اختلاف ہے۔ میرے مطابق سفارت خانوں پر حملہ اور سفیر کا قتل غلط ہے، جرم ہے اور ناموسِ رسالت ﷺ  کی حفاظت کے نام پر فساد فی الارض ہے۔ امت مسلمہ کی پالیسی قرآن وسیرت کی روشنی میں طے ہوگی نہ کہ امریکہ کے سیاہ اعمال کی روشنی میں۔ ارہاب یا deterrrent بننا افراد کا نہیں ریاست کا کام ہے اور اپنے اداریے میں میں نے ’’ریاستیں کیا کریں‘‘ کا نہیں بلکہ ’’افراد کیا کریں‘‘ اس کا ذکر کیا ہے۔

﴿۶﴾ سوال کیاگیا کہ ’’اگر یہ انتہائی بازاری اور گھٹیافلمیں اور کارٹون بنانے لگیں تو اس کا علمی جواب کیا ہوگا؟ ‘’ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہر بازاری چیز کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، علمی تنقید ہو ، علمی انداز سے کی گئی ہوتو جواب دیاجائے گا۔ اتنا وقت ایک اچھے مسلمان کے پاس بہرحال نہیں ہوناچاہیے کہ وہ ہر بازاری اوراوچھی حرکت کا جواب دینے نکل کھڑا ہو، اور ہر کتے کے بھونکنے پر اسے کاٹ کھانے پر دوڑ پڑے۔ ہر جواب کا ایک جواب ہمارے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اور اسلام کی دعوت کا ہتھیار ہے۔ اسی ہتھیار سے مکہ میں بھی اہانتوں کا جواب دیاگیا اور آج بھی کماحقہ دیا جاسکتا ہے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں اسلامی نظام قائم نہیں ہے۔

﴿۷﴾ خط کے اخیر میں موصوف، یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کچھ ان چاہے واقعات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی جنگوں میں بھی پیش آئے تھے، لیکن کیا غزوات بندکردیے گئے؟ بالکل نہیں کئے گئے لیکن ان ’ان چاہے‘ افعال کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی؛ نہ انہیں درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

آخر میں اتنا عرض کرنا ہے کہ علمی وفکری اختلافات کی نہ صرف گنجائش ہے بلکہ اکثرصحتمند اختلافات علمی اور فکری ترقی کی بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن نیتوں پر شک کرنا، یا جس سے ہم متفق نہ ہوں اس کی رائے کو فکری گمراہی قرار دینا، اختلاف کرنے کا ایک غیر صحتمند طریقہ ہے جس سے گریز ضروری ہے۔

خان یاسر، دہلی یونیورسٹی

﴿مدیر(Companion

محترم مدیر زندگیٔ نو!    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

زندگی نو کے اشارات اپنے عنوان کے تحت مفصل اور معلومات افروز بھی ہوتے ہیں کبھی کبھی اشارات موجودہ حالات Burning Issue پر بھی ہوتو بہترہوگا۔ پہلے بھی اشارات موقع محل کے لحاظ سے ہوا کرتے تھے، مسلم ممالک میں ہونے والی تبدیلی کے تعلق سے بھی سرسری طور پر گزرگئے، ان کے پس منظر میں جو عالمی طاقتیں کام کر رہی ہیں، ان کے عزائم کا جائزہ لے کر ان کے اصل مقاصد کو ظاہر کرنا تھا۔

محترم شفیع مونس صاحب کے تعلق سے بہت کچھ پڑھنے کو ملا۔ زندگی کے مختلف روشن پہلو نمایاں ہوئے۔ ہمیں صرف تعریف پر ہی نہیں بلکہ ایسے بلند اخلاق وکردار اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔

۲۰۰۲ء کے کل ہند اجتماع میں جب پہلی مرتبہ شرکت کا موقع ملا تو اُس وقت اکابرین سے ملاقات کا منصوبہ بناکر میں شریک رہا۔ الحمد للہ تقریباًتمام اہم ذمے داروں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں مولاناشفیع مونس صاحب بھی تھے۔ ڈاکٹر عبدالحمید صاحب لکھتے ہیں کہ ذمے داروں پر لاکھوں روپے خرچ ہوجاتے ہیں جو زکوٰۃ اوراعانتوں کی رقم ہے۔ دوروں پر اعانتوں کی رقم خرچ ہوتی ہے مگر موصوف نے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا جو شعبۂ خدمت خلق سے دی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کہیں ارکان، کارکنان اور ذمے داروں کے دوروں پر کھانے کے انتظامات پر بھی اسی شعبے سے خرچ ہوئے ہوں۔ اگرایسا ہوتو یہ ایک بڑی غلطی ہے ۔ ذمے داروں کو چاہیے کہ ان باتوں کا فوراً نوٹس لیں۔ ایسے حالات اس لیے بھی ہوتے ہیں کہ ہر رکن اپنے کو مفتی اعظم سمجھتا ہے ، غلطی کی اصلاح فوراً ہوتو بہتر ہوگا— ورنہ غلط کام جڑ پکڑ چکا تو اس کی اصلاح میں بہت سی رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں۔

’’نئے لٹریچر‘‘ کی ضرورت پر مسلسل پڑھنے کو مل رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ نئے لٹریچر سے کیا مراد ہے؟ پہلے آپ موضوع متعین کیجیے۔ یہ تو معلوم ہوکہ کون سا موضوع تشنہ ہے؟یا کس پر زیادہ کام ہوا؟ اس کے بعد ہی ان پر مواد فراہم ہوسکتا ہے۔ یہ آپ کی تحریک کے لیے بہت بڑی خدمت ہوگی۔ ان شاء اللہ اس خلا کو بھی پُر کیاجاسکتا ہے۔

کوئی رکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ تحریک نے اس ضمن میں کوئی فکر ہی نہ کی ہو، اپنے کو اس سے بالکل فارغ ہی رکھا ہو۔ بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو معاشرے کے موجودہ صورت حال پر لکھی گئیں اور کچھ ملکی، عالمی موضوع پر بھی لکھی گئیں اور کارپوریٹ میڈیا پر بھی ہیں۔ جیسے شادی بیاہ میں اسراف، جہیز اور وراثت، نکاح، طلاق اور وراثت شریعت کے آئینے میں، وغیرہ ، موجود ہ معاشرتی مسائل پر ایک اچھا انتخاب تھا جو مولانا محمد رفیق قاسمی صاحب کے زیرِ نگرانی ترتیب پایا۔

سرمایہ دارانہ استعمار، گلوبلائزیشن اور مسلم نوجوان، سرمایہ دارانہ استعمار اور خواتین دونوں کتابیں سید سعادت اللہ حسینی صاحب نے لکھیں۔ صارفیت ﴿موجودہ صورت حال اسلامی نقطۂ نظر﴾ از محمد عبداللہ جاوید ۔ دونوں نے اپنے اپنے موضوعات سے بالکل انصاف کیا ہے۔ موجودہ صورتحال پر بہترین تبصرے بھی ہیں ،تنقید بھی، ’’سہ ماہی تحقیقاتی اسلامی ‘‘ میں سعادت اللہ صاحب کا ایک مضمون بھی چھپا تھا جس پر مدیر ﴿امیر جماعت﴾ کا ایک نوٹ بھی تھا۔

کارپوریٹ میڈیا اور تحریک اسلامی چیلنج اور تقاضے ، ڈاکٹر الیاس کا مضمون جو ۱۲/ میں شائع ہوا۔ تفصیلی حقائق بھی بیان کیے اور بہترین عکاسی بھی کی۔ اس موضوع پر شاید سعادت اللہ حسینی صاحب نے بھی لکھا ہے۔

تمام کتابیں، یہ موضوعات کچھ نہ کچھ تو ’’نئے لٹریچر‘‘ میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اس کا مطالبہ شوریٰ کے ذمے داروں کی طرف سے ہورہا ہے۔ اگر وہ خود کچھ افراد کو تیار کرتے تو یہ تحریک کے لیے بہت ہی خوش آیند بات ہوتی۔

شارٹ کٹ ہمیشہ نقصاندہ ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنے دلائل پیش کرکے اپنے کو ہی سچ ثابت کرتا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ

شوق پیمبری ہے یہاں سب کو اے خدا

ہر ایک آدمی پہ صحیفہ اتار دے

آج تحریک کا عام فرد کیوں ایسا فرق محسوس کر رہا ہے۔ کچھ عرصے پہلے رکن ایک نمونہ تھا۔ آج کیوں نہیں؟ آج ہم اپنی سوچ کو تحریک کے تابع نہیں کرتے بلکہ تحریک کواپنے فکروں کے تابع کرتے ہیں۔ اپنی سوچ وفکر کے افرا دکو ہم نوا بنانا اوراکثریت کے ذریعے نافذ کرنا تمام باتیں شورائیت اور تحریک دونوں کے لیے صحت مند اور مفید کبھی نہیں ہوسکتی۔

قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے:

’’انسان جلدباز واقع ہوا ہے‘‘۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ صرف ساٹھ سال کے بعد وہ انقلاب آئے جو اقامت دین کا اولین مقصد ہے ۔ اس راہ میں آگے بڑھنے سے پہلے ارکان اور کارکنان میں جو تربیتی جھول ہے، اس کو ٹھیک کرنا بھی تو ضروری ہے ۔ اگرانقلاب آبھی گیا تو کتنے عرصے تک قائم رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے جس بلند اخلاق وکردار کی ضرورت ہے اس خلا کو تو صرف تحریک ہی پرکرسکتی ہے۔ پہلے ہم کو جماعت کے تمام ارکان میں نظم وضبط ، تحریکی مزاج ، شورائیت اور اس کے تقاضوں سے اچھی طرح واقف کرانا، شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔

سب سے اہم کمی تحریکی افراد میں جو محسوس ہوتی ہے وہ تعلق باللہ کی کمی ہے، یہ تعلق جتنا مضبوط ہوگا انقلاب اتنا ہی قریب ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

ڈاکٹر عبدالخالق راشد

محبوب نگر﴿اے پی﴾

جنوری 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau