روحانیت کی پہلی منزل

روح کی طہارت

محی الدین غازی

اسلام کی تعلیمات کا جائزہ لینے سے کچھ اہم حقیقتیں سامنے آتی ہیں، جیسے:

اسلام میں روحانی طہارت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اس کے لیے بہت سے انتظامات کیے گئے ہیں۔

روحانی طہارت کے یہ سارے انتظامات ہر انسان کی دست رس میں رکھے گئے ہیں،کوئی انسان اپنی روحانی طہارت کے لیے کسی اور کا محتاج نہیں ہے، ہر شخص کواپنی روحانی طہارت کا بیڑا خود اٹھانا ہے۔

اسلام میں روحانی طہارت کے تمام انتظامات انسان کو حقیقی طہارت کا احساس دیتے ہیں۔ اسے طہارت کی کوئی سند نہیں دی جاتی ہے، بلکہ وہ گناہوں کے دلدل سے واقعی باہر آجاتا ہے اور حقیقت میں ایک صاف ستھرا انسان بن جاتا ہے۔

اسلام میں ناپاکی اور گندگی کی بالکل صحیح اور دقیق تشخیص کی گئی ہے۔ ہر طرح کی گندگی کو نشان زد کیا گیا ہے اور کسی بھی گندگی کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔

اسلام میں طہارت کے انتظامات انسان کے وجود کو ہر طرح سے پاک کرتے ہیں۔ اس کی زندگی کا کوئی ظاہری یا باطنی گوشہ طہارت سے محروم نہیں رہتا ہے۔

اسلام میں روحانی طہارت کے انتظام کو دنیا داری کی آلائشوں سے بہت محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس انتظام کی تجارت کاری ممکن نہیں ہے اور نہ اس کے ذریعے لوگوں کے جذبات کا استحصال کیا جاسکتا ہے۔

طہارت آخری منزل نہیں ہے، یہ روحانیت کے سفر کا پہلا ضروری مرحلہ ہے، اس سفر کی منزل نہایت عالی شان ہے۔

اسلام میں روح کی طہارت کے لیے نہایت طاقت ور محرکات موجود ہیں۔

زیر نظر مضمون میں ان حقائق کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

روح کی طہارت

روحانیت کا پہلا سبق روح کی طہارت ہے۔ ناپاک روح اپنا مقام ورتبہ کھودیتی ہے۔ عالم ارواح سے اس کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔اسے اپنے رب کے حضور باریابی نہیں ملتی ہے، رب سے قریب ہونے کا فرحت بخش احساس اس سے سلب ہوجاتا ہے۔

اللہ نے روح کو صاف وشفاف بنایا ہے۔ لیکن جب وہ جسم میں سرایت کرتی اور جسم کو اپنا مسکن بنالیتی ہے تو جسم سے وابستہ بہت سی گندگیاں اسے ناپاک اور آلودہ کرنے کے درپے ہوتی ہیں۔ روح کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ جسم میں رہے مگر اپنی پاکی پر حرف نہ آنے دے، اور اگر کچھ چھینٹیں اس پر آجائیں تو فوراً پاک ہونے کی تدبیر کرے۔

دنیا میں پائی جانے والی گندگیاں پہلے جسم کو لاحق ہوتی ہیں، اور وہاں سے روح کو مَس کرتی ہیں اور مزاحمت نہ ہونے کی صورت میں اندر تک سرایت کرجاتی ہیں۔ دماغ میں گندے خیالات منڈلاتے ہیں، دل میں بہت سی برائیاں ڈیرہ ڈال دیتی ہیں، قدم غلط رخ پر اٹھتے ہیں، ہاتھ برائی کی طرف بڑھتے ہیں، آنکھیں بدنگاہی کا ارتکاب کرتی ہیں، کان خراب باتیں سنتے ہیں، منھ کے راستے معدے میں حرام غذا پہنچتی ہے، رگوں میں خون بن کر بہتی ہے، یہ سب کچھ جسم میں ہورہا ہوتا ہے، لیکن جسم صرف جسم نہیں ہوتا ہے، حقیقت میں تو یہ روح کا مسکن ہوتا ہے اور اسی لیے جسم کی یہ ساری گندگیاں آخر کار روح کو گندا کرتی ہیں۔

جسم میں قیام کے دوران روح کو بہت زیادہ پریشانی جسم کو لاحق ہونے والی گندگیوں سے ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جسم و روح کی تطہیر کا کام مسلسل ہوتا رہے۔

جسم ظاہر ہے اور روح باطن ہے۔ باطن کے احوال ظاہر کو دیکھ کر معلوم ہوتے ہیں، باطن کی اصلاح بھی ظاہر کی اصلاح کے ذریعے ہوتی ہے۔ روح کو راست صاف کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن جسم کی صفائی سے روح کی صفائی ممکن ہے۔ اس کی مثال نماز ہے۔ نماز ایک روحانی عبادت ہے، اس کے لیے روح کی پاکی ضروری ہے۔ لیکن روح کو پاک کرنے کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ وضو کرکے جسم کو پاک کیا جائے، نماز کے لیے جگہ اور لباس کا پاک ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا۔ ان سب چیزوں کی پاکی سےروح کو پاکیزگی کا احساس ملتا ہے۔ غرض روح کی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود پاک رہے اور اپنی ہر چیز کو پاک رکھے۔

روح کی طہارت اللہ کو پسند ہے

طہارت و پاکیزگی کو اپنا شیوہ بنانے والے اور گناہوں سے پاک ہونے کے لیے بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بندے اللہ پاک کو بہت پسند ہیں۔پاک روحیں ہی سعید روحیں ہوتی ہیں، جنھیں اللہ پاک اپنی محبت سے نوازتا ہے۔ فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ یحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیحِبُّ الْمُتَطَهِّرِینَ (البقرة: ۲۲۲) ’’اللہ بار بار پلٹنے والوں اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘

روح پر چھائی گندگی دور ہوجائے اور روح کو خوب پاکیزگی حاصل ہوجائے، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ پاک اپنے جن بندوں کو خصوصی انعام سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے ان کے لیے طہارت کا خصوصی سامان کرتا ہے، اللہ پاک نے رسول پاکﷺ کے اہل خانہ کو وہ پاکیزگی بخش تعلیمات دیں، جن سے وہ اس نعمت کے مستحق بن جائیں، فرمایا:

إِنَّمَا یرِیدُ اللَّهُ لِیذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیتِ وَیطَهِّرَكُمْ تَطْهِیرًا (الأحزاب: ۳۳) ’’اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے‘‘

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ تعلیمات دوسرے انسانوں کے لیے بھی بے حد مفید اور قابل عمل ہیں۔

ایمان پچھلے گناہوں سے نجات دیتا ہے

اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لانے کا احساس روح کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ اس لیے ایمان کو تازہ کرتے رہنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں ایمان لانے کی کیفیت سے بار بار گزرنا چاہیے۔ اپنے آپ کو بار بار یاد دلانا چاہیے کہ میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو پاک ہے، پاکیزگی پسند کرتا ہے اور گندگی کو ناپسند کرتا ہے۔

اللہ پاک نے شرک کو نجاست قرار دیا ہے۔ شرک سے بے شمار نجاستیں جنم لیتی ہیں اورروح کو بری طرح آلودہ کردیتی ہیں۔شرک کی جڑ مادہ پرستی ہے، خواہ وہ کیسا ہی روحانی بھیس اختیار کرلے۔ شرک دراصل روحانیت کے مقابلے میں مادیت کو اختیار کرلینا اور روح کو مادیت کی غلامی میں دے دینا ہے۔

ایمان روح کو کامل طہارت عطا کرتا ہے۔ خواہ ایمان لانے سے پہلے اس پر کتنی ہی گندگی کیوں نہ جمی رہی ہو۔حدیث پاک میں ہے: ’’اسلام پچھلے تمام گناہوں کو منہدم کردیتا ہے‘‘ (مسلم)

اس عظیم الشان طہارت کو محسوس کرنے کے لیے اسلام میں داخل ہونے والا غسل کرتا ہے، اور اس طرح روح کو پاکیزگی کا احساس عطا ہوتا ہے۔ بعض واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے صحابہ نئے اسلام لانے والوں کے سلسلے میں اس کا اہتمام فرماتے تھے، آپ نے قیس بن عاصمؓ اور ثمامة بن اثالؓ کو غسل کی ہدایت دی۔ حضرت عمرؓ کی بہن نے انھیں پہلے غسل کرنے کو کہا بعد میں قرآن کا صحیفہ پڑھنے کو دیا۔ ایمان لاتے وقت غسل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ گندگی اور ناپاکی والی زندگی پاکیزہ زندگی میں تبدیل ہورہی ہےاور آئندہ جسم وروح کی پاکیزگی کا خیال رکھنے والی زندگی بسر کرنی ہے۔

شرک کے علاوہ بھی عقیدہ و ایمان کی خرابیاں روح کو گندا کردیتی ہیں۔ اللہ کی کتاب سے تعلق انسان کو عقیدہ وایمان میں در آنے والی خرابیوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس طرح روح پاک و صاف رہتی ہے۔

پانی جسم کو صاف اور روح کو پاک کرتا ہے

اللہ پاک نے کائنات کی تخلیق اور اس کے انتظام میں طہارت کو خاص مقام دیا۔ آسمان سے نہایت پاک اور پاکیزگی بخش پانی برسایا اور زمین کو پاک بنایا۔ پانی جسم و روح دونوں کی پاکی کا اہم ذریعہ ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے:

وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا (الفرقان: ۴۸) ’’اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں‘‘

سید قطب لکھتے ہیں:

اللہ تعالی ان آیتوں میں یہ بتارہا ہے کہ ہم نے پانی میں زندگی رکھی ہے، ہم اس کے ذریعے مردہ شہر کو زندگی دیتے ہیں اور مویشیوں اور انسانوں کو سیراب کرتے ہیں۔ تاہم یہاں پاک پانی کی تعبیر نے زندگی پر ایک خاص چھاپ ڈال دی ہے، پاکیزگی کی چھاپ۔ اللہ پاک زمین کے چہرے کو پاک پانی سے دھوتا ہے۔ یہ پاک پانی مردہ زمین میں زندگی دوڑاتا ہے اور جان داروں کو سیراب کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ زندگی طاہر اور پاکیزہ ہو۔( فی ظلال القرآن)

غسل و وضو سے روح پاک ہوتی ہے

قرآن مجید میں غسل و وضو اور تیمم کو انسان کی پاکی کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ یہ حقیقت میں جسم کے ذریعے روح کی پاکی ہوتی ہے۔درج ذیل آیت میں وضو، غسل اور تیمم کا مقصد روح کی طہارت قرار دیا گیا ہے:

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَیدِیكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَینِ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَیمَّمُوا صَعِیدًا طَیبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَیدِیكُم مِّنْهُ مَا یرِیدُ اللَّهُ لِیجْعَلَ عَلَیكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَٰكِن یرِیدُ لِیطَهِّرَكُمْ وَلِیتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. (المائدة: ۶)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، تاکہ تم شکر گزار بنو‘‘

قرآن کی اس آیت کا اسلوب صاف بتارہا ہے کہ وضو کا تعلق وضو ٹوٹنے سے زیادہ نماز پڑھنے سے ہے۔ آدمی جب نماز کے ارادے سے اٹھے تو وضو کرے، یہ نہ سوچے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا یا باقی ہے۔اس کی نیت یہ ہو کہ اللہ تعالی کے حضور روح کی حاضری سے پہلے روح کی طہارت کا سامان کرلے۔

پاک پانی سے وضو اور پاک مٹی سے تیمم کے ذریعے روح کو طہارت حاصل ہوتی ہے اور اس طہارت کے بعد ہی روح اللہ کی نعمت کے اتمام کی اہل ہوتی ہے۔نماز کی توفیق مل جانا اللہ کی نعمت کا تمام ہوجانا ہے۔ نماز ایک مومن روح کی معراج ہے، اس معراج سے پہلے روح کی پاکیزگی شرط ہے۔ وضو اور غسل کرتے ہوئے جسم کی پاکی کے ساتھ روح کی پاکی پر خاص دھیان رہنا چاہیے۔ اسی طرح نماز کے دوران جسم کے اعمال اور زبان کے اقوال کے ساتھ زیادہ توجہ ان سے صادر ہونے والے روحانی پیغامات پر ہونی چاہیے۔ وضو کے بعد پڑھی جانے والی مسنون دعا وضو کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے:

أشْهَدُ أنْ لا إله إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِیك لَهُ، وأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی مِنَ التَوَّابِینَ، واجْعَلْنی مِنَ المُتَطَهِّرِینَ، سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلاَّ أنْتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَیكَ (ترمذی)

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اے اللہ مجھے بار بار اپنی طرف پلٹنے والا بنا اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔ یا اللہ میں تیری اور تسبیح کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع ہوتا ہوں۔‘‘

وضو کی معنویت کو سمجھنے کے لیے درج ذیل حدیث پر غور کریں: نبی پاکﷺ نے فرمایا:

جب مسلم بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے چہرےسے ہر وہ گناہ جھڑ جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ بہہ جاتا ہے جو اس کے ہاتھوں نے کیا تھا، اور جب وہ اپنے دونوں پیر دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس کے قدم بڑھے تھے۔یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔(مسلم)

وضو اصل میں روح کا وضو ہوتا ہے، اسی لیے وضو کرتے ہوئے گناہ صاف ہوتے ہیں۔یہ جسم کے راستے روح کو لاحق ہونے والے گناہ ہوتے ہیں۔

مسجد پاکیزگی کا گھر ہے

مسجد دنیا کا سب سے پاکیزہ مقام ہے۔ دنیا کے تمام ہنگاموں، خرابیوں اور شور وشغب سے الگ یہ ایک روح افزا مقام ہے۔ یہاں انسان کو پاک فضا اور پاکیزگی بخش ماحول میسر آتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

لمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ یوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِیهِ فِیهِ رِجَالٌ یحِبُّونَ أَن یتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ یحِبُّ الْمُطَّهِّرِینَ(التوبة: ۱۰۸) ’’ جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عباد ت کے لیے) کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں‘‘

انسان خود کو پاک کرنے کی نیت سے اللہ کے گھر میں بیٹھ کر اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرے تو اس کی روح پر لگے ہوئے تمام داغ دھبے دھل جاتے ہیں۔اللہ سے لو لگانے والے مسجد میں اس لیے رہتے ہیں کہ ان کی روح کو پاکی حاصل ہوجائے۔ روح جب پاکیزہ ہوتی ہے تو وہ اللہ کی محبوب ہوجاتی ہے اور اسے اللہ کے محبوب ہوجانے کا فرحت بخش احساس بھی ہوتا ہے۔رسول پاکﷺ نے فرمایا:

زمین کا بہترین مقام مسجدیں ہیں اور بدترین مقام بازار ہیں۔(حاکم)

اس کی وجہ یہ ہے کہ بازار مادیت کو فروغ دیتے ہیں اور مسجدیں روحانیت کو فروغ دیتی ہیں۔ جو صرف بازار کا ہوجاتا ہے اس کی روح مادیت میں دب جاتی ہے۔ بازار انسانی زندگی کی ضرورت ہے انسان کی منزل نہیں ہے۔ مطلوب یہ نہیں ہے کہ آدمی بازار سے کٹ کر صرف مسجد کا ہوجائے۔ مطلوب یہ ہے کہ بازار میں رہتے ہوئے بھی مسجد سے وابستہ رہے۔ تاکہ بازار کی آلودگی مسجد میں جاکر اچھی طرح دھل جایا کرے۔ انسانی ضرورتوں کے تحت وہ رہے تو بازار میں لیکن روحانی تقاضوں کی تکمیل کے لیے اس کا دل مسجد میں اٹکا رہے۔مسجد سے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے بازار محض زر گاہ نہیں بلکہ ذکر گاہ بھی ہوتا ہے۔وہ اللہ کا رزق اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کماتا ہے۔

نماز روحانی غسل ہے

نماز کے متعدد روحانی پہلو ہیں، اس سے روح کو قوت ملتی ہے، مسرت وراحت ملتی ہے، تاہم یہاں جس پہلو کی طرف متوجہ کرنا ہے وہ یہ کہ نماز سے روح کو طہارت حاصل ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب سے پوچھا: سوچو اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو جس سے وہ روزانہ پانچ بار غسل کرتا ہو، کیا اس پر کوئی میل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ نے کہا: اس پر تو کچھ بھی میل نہیں رہ جائے گا۔ آپ نے فرمایا: یہ پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے خطائیں مٹادیتا ہے۔ (متفق علیہ)

نماز میں آدمی دنیا سے کٹ کر اللہ کی طرف یکسو ہوتا ہے۔ اللہ کی کبریائی بیان کرتا ہے۔ اس کی حمد و تسبیح میں مصروف ہوتا ہے۔ اس کے حضور رکوع وسجود کرتا ہے۔ اللہ کے حضور اپنی عاجزی اور وارفتگی کا اظہار کرتا ہے۔نماز کی یہ عالی شان کیفیتیں روح پر چھائی گرد کو صاف کرتی ہیں۔نماز کی واقعی کیفیت سے گزرنے کے بعد انسان خود کو ایک نیا اور صاف ستھرا انسان محسوس کرتا ہے۔

نماز روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے اور جسم کو فحاشی اور برائی کے کاموں سے منع کرتی ہے۔

صدقہ کرنے سے روح پاک ہوتی ہے

قرآن مجید میں زکات کا لفظ زیادہ تر زکات وصدقات کے معنی میں آیا ہے۔ زکات کا معنی پاکیزگی حاصل کرنا ہے۔ زکات سے انسان کی روح کو پاکیزگی ملتی ہے۔ اس حقیقت کو ذیل کی آیت میں کھول کر بیان کردیا گیا۔

خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّیهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَیهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ وَاللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ (التوبة: ۱۰۳) ’’ آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعے سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجئے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے ‘‘

صدقہ وزکات انسانی روح کو پاک وصاف کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ مال کی محبت روح کو آلودہ کرتی ہے، روح کو اس محبت سے بچانے کی ایک تدبیر یہ ہوسکتی تھی کہ آدمی کمانا بند کردے۔ لیکن عملًا یہ ممکن نہیں ہے، کیوں کہ جسم کی بقا روح کے لیے ضروری ہےاور جسم کی بقا مال و دولت پر رکھی گئی ہے۔ دوسرے یہ کہ دولت سے کنارہ کشی کے روح پر وہ اثرات نہیں ہوسکتے ہیں جو دولت کو خیر کی راہوں میں خرچ کرنے سے ہوتے ہیں۔ دولت سے کنارہ کشی روح کو مادیت کی کچھ آلودگی سے محفوظ کرتی ہے، لیکن محنت و مشقت کرکے دولت حاصل کرنے اور اس پر ملکیت کا احساس حاصل کرلینے کے بعد اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردینا وہ عمل ہے جو نفس پر نہایت شاق گزرتا ہے مگر روح کو صاف وشفاف اور صیقل کردیتا ہے۔قرآن مجید میں کہیں بھی دولت سے کنارہ کشی کی ترغیب نہیں دی گئی ہے، ہر جگہ دولت کو خیر کی راہوں میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

یہاں ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ زکات آدمی کے مال کو پاک نہیں کرتی ہے، وہ تو آدمی کی روح کو پاک کرتی ہے۔مال کو پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مال کے اندر موجود حرام حصے سے چھٹکارا پایا جائے۔

حج روحانی طہارت کا سفرہے

حج کا سفر بھی روحانی طہارت کے لیے اہم سنگ میل ہوتا ہے۔ آدمی اپنی تمام نفسانی خواہشات سے دامن جھاڑ کر لمبے سفر پر نکل پڑے اور ایسے ماحول میں پہنچ جائے جہاں روحانیت کے ہر طرف جلوے ہیں۔ یقینًا روح پر اس کے گہرے اثرات واقع ہوتے ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

جس نے حج کیا اور کوئی برائی اور نافرمانی کی بات نہیں کی، وہ اس حالت میں واپس آتا ہے جس حالت میں اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔(متفق علیہ)

حج کا یہ عالمی کردار بہت اہم ہے، کہ دنیا بھر کی روحیں وہاں جاتی اور پاکیزگی کا سامان لے کر لوٹتی ہیں اور پوری دنیا میں پاکیزگی کا پیغام عام کرتی ہیں۔

گناہ روح کو گندا کردیتے ہیں

انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے، تو ایک طرف تو وہ اس کے اعمال نامے میں درج کردیا جاتا ہے، دوسری طرف وہ گناہ اس کی روح پرایک سیاہ دھبّہ بن جاتا ہے۔ رسول پاک ﷺ نے اسے بڑے بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے:

مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے، باز آجائے اور استغفار کرے تو وہ صاف کردیا جاتا ہےاور اگر وہ مزید گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بڑھتا جاتا ہےیہاں تک کہ اس کے پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے۔(ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

ہر گناہ اپنے آپ میں خبیث اور مضر ہوتا ہے۔ اس کی گندگی اور ضرر رسانی آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔ بہت سے گناہوں سے دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے، بہت سے گناہ مقامِ آدمیت سے نیچے پستی میں ڈھکیلنے والے ہوتے ہیں، بہت سے گناہ زندگی کی ساز گاری کو خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر گناہ اللہ کو ناراض کرنے والا ہوتا ہے۔ روح کے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک بات یہ ہوتی ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہے۔ گناہوں کے برے اثرات سے روح کو پاک کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔

ہم، ہماری روح اور گناہ

گناہوں کے ساتھ ہمارا تعامل ہماری روح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ گناہوں کے لیے دل کے دروازے کھول دینے اور گناہوں کی دستک پر دل کے دروازے بند رکھنے کا ہماری روح پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ گناہوں کی بار بار آمد اگر روح کو سیاہ اور گناہوں کا رسیا کردیتی ہے، تو گناہ کو بار بار رد کردینے سے نہ صرف یہ کہ روح صاف اور سفید رہتی ہے، بلکہ گناہوں کے خلاف اس کے اندر قوت مزاحمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ رسول پاک ﷺ نے درج حدیث میں اس حقیقت کو بیان فرمایا:

چٹائی کے ایک ایک تنکے کی طرح فتنے دل سے چپکے جاتے ہیں، جس دل میں وہ سرایت کرجاتے ہیں اس میں سیاہ نقطہ پڑجاتا ہےاور جو دل انھیں دھتکار دیتا ہے، اس پر سفید نقطہ پڑجاتا ہے۔یہ سلسلہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ دو طرح کے دل ہوجاتے ہیں: ایک مرمر کی طرح سفید دل ہوتا ہے، اسے قیامت تک کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچاسکتا ہے اور دوسرا دل سیاہ میلا اور اوندھے گھڑے کی طرح ہوتا ہے، اسے اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی، بس اس کی خواہش اس پر سوار رہتی ہے۔(مسلم)

حرام کمائی سوہانِ روح ہے

حرام مال میں جب انسان ملوث ہوتا ہے تو اس کے روحانی اعمال بھی قبول نہیں کیے جاتے ہیں، کیوں کہ حرام مال سے روح ناپاک ہوجاتی ہے اور ناپاک روح کو اللہ کے یہاں باریابی نہیں ملتی ہے۔

رسول پاک ﷺ نے بتایا:

آدمی یا رب یارب پکارتا ہے، لیکن اس کا کھانا پینا اور پہناوا ،سب حرام ہوتا ہے، تو اس کی دعا بھی رد کردی جاتی ہے۔ (مسلم)

معلوم ہوا کہ جب جسم حرام کمائی میں ملوث ہوتا ہے اور روح پر حرام مال کا گندا سایہ ہوتا ہے تو روحانی ارتقا کی ساری کوششیں رائیگاں جاتی ہیں، چاہے وہ دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا ہو، راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھنا ہو یا حج کے سفر پرنکلنا ہو۔ سفیان ثوریؒ کہتے ہیں: ’’جس نے اللہ کی اطاعت کے کام میں حرام مال خرچ کیا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی کپڑے کو پیشاب سے دھوکر پاک کرے، کپڑے کو تو پاک پانی ہی پاک کرتا ہے، اسی طرح گناہوں کا کفارہ حلال مال ہی بن سکتا ہے۔‘‘ وہب بن وردؒ کہتے ہیں: ’’ اگر تم ستون کی طرح عبادت کے لیے کھڑے رہو تو بھی تمھیں کچھ حاصل نہیں ہو گا جب تک یہ نہ جان لو کہ تمھارے پیٹ میں حلال گیا ہے یا حرام۔‘‘

حرام غذا روح کو ناپاک کردیتی ہے

جسم غذا سے تشکیل پاتا ہے اور روح جسم میں سکونت پذیر ہوتی ہے۔ جب حرام غذا سے جسم کی تشکیل ہوتی ہے تو اس کا سیدھا اثر روح پر پڑتا ہے۔ اللہ پاک نے جسم پر ہر وہ چیز حرام کی ہے جو خبیث اور گندی ہوتی ہے۔ فرمایا:

قُل لَّا أَجِدُ فِی مَا أُوحِی إِلَی مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ یطْعَمُهُ إِلَّا أَن یكُونَ مَیتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِیرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ۔(الأنعام: ۱۴۵)

’’کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب رجس ہیں‘‘

ابن عاشور لکھتے ہیں: رجس کا مطلب ہے خبیث اور گندا۔‘‘ (التحریر والتنویر)

جسمانی تقاضوں کی پاکیزہ تکمیل

جسم کو لاحق ہوکر روح میں سرایت کرجانے والی گندگیاں زیادہ تر وہ ہوتی ہیں جو جسم کے فطری تقاضوں کی تکمیل کے راستے سے آتی ہیں۔ آدمی اپنی بھوک پیاس نیز لطف اندوزی کی مختلف خواہشات کو اس طرح پورا کرتا ہے کہ اس کا جسم ناپاکی کی پستی میں جاگرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات جسمانی تقاضوں کی پاکیزہ طریقے سے تکمیل کے راستے دکھاتی ہیں۔ بھوک پیاس مٹائی جائے لذت کام ودہن کا حصول کیا جائے لیکن پاک غذا کے ذریعے، لطف اندوزی کی خواہش پوری کی جائے مگر پاک جوڑے کے ساتھ، غرض ہر فطری جذبے کی تکمیل کی جائے لیکن پاکیزہ طریقے سے کی جائے۔ اس طرح جسم بھی پاک رہتا ہے اور اس میں ساکن روح بھی پاک رہتی ہے۔

قرآن مجید میں نہایت اعلی اصول سے باخبر کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ صرف پاکیزہ چیزیں حلال ہیں۔ فرمایا:

قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّیبَاتُ (المائدة: ۴) ’’کہہ دو کہ تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہے۔‘‘

جب اللہ تعالی نے اس دنیا میں پاکیزہ چیزوں کا بہترین انتظام کیا ہے، تو خبیث چیزوں سے دور رہنا ہی دانش مندی ہے۔ ارشاد فرمایا:

وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیثَ بِالطَّیبِ(النساء: ۲) ’’پاکیزہ چھوڑ کر خبیث مت اختیار کرو۔‘‘

ہر قسم کی گندگی سے دوری ضروری ہے

شراب انسانی عقل کو گندا کردیتی ہے۔ جوا انسان کے مال کو گندا کردیتا ہے۔ انصاب و ازلام سے انسان کا عقیدہ گندگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ تینوں طرح کی چیزیں روح کو ناپاک کرتی ہیں۔ درج ذیل آیت میں ان چیزوں کو شیطان کا گندا کام قرار دیا گیا ہے۔

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(المائدة: ۹۰) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمھیں فلاح نصیب ہوگی۔‘‘

جھوٹ نہ سنو ، حرام نہ کھاؤ

قرآن مجید میں گم راہ لوگوں کی حالت بتائی گئی کہ انھوں نے اپنے دل کو ایمان سے خالی رکھا، جھوٹ سننا ان کا شیوہ اور حرام کھانا ان کا پیشہ بنا، اس کے نتیجے میں ان کی روح پاکیزگی سے محروم کردی گئی۔ ناپاک روحوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔(دیکھیں: سورة المائدة: ۴۱، ۴۲)

معلوم ہوا کہ جو ایمان زبان تک رہے، دل میں نہ اترے وہ روح کا ایمان نہیں صرف جسم کا ایمان ہوتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جھوٹ پر کان دھرنے سے صرف سماعت آلودہ نہیں ہوتی ہے بلکہ روح بھی ناپاک ہوتی ہے، اور حرام کھانے سے صرف جسم میں دوڑنے والا خون گندا نہیں ہوتا بلکہ روح بھی گندی ہوجاتی ہے۔

آدمی کی روح کو گندا کرنے والی یہ دو بڑی چیزیں ہیں جو دو مختلف راستوں سے انسان کے اندر پہنچتی ہیں، کانوں کے راستے سے جھوٹ دماغ تک پہنچتا ہے اور افکار و خیالات میں رچ بس جاتا ہے، منھ کے ذریعے حرام غذا معدے میں پہنچتی ہے اور خون کی رگوں میں سرایت کرجاتی ہے، جب ذہنی قوی اور جسمانی قوی ان گندگیوں سے آلودہ ہوجاتے ہیں تو پھر روح بھی ناپاک ہوجاتی ہے۔

گناہوں سے دور رہیں

کسی گناہ کی شدید رغبت بھی ہواور اس کے ارتکاب کا موقع بھی حاصل ہو، لیکن انسان اللہ کے ڈر سے اس سے دور ہوجائے، تو وہ صرف اس گناہ سے دور نہیں ہوتا ہے، بلکہ بہت سے گناہوں سے دور ہوجاتا ہے۔ شدید تر ترغیب والے ایک گناہ سے دوری کے نتیجے میں ہر طرح کے گناہوں سے دور رہنے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ گناہوں کے خیال کو سختی سے جھڑک دینے سے انسان کی روح کو سخت جھٹکا لگتا ہے اور روح پر چپکے ہوئے بہت سے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔اس کے نتیجے میں روح کو پاکیزگی کا فرحت بخش احساس ہوتا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:

إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَیئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِیمًا (النساء: ۳۱) ’’اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمھیں منع کیا جا رہا ہے تو تمھاری برائیوں کو ہم تم سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے‘‘

توبہ سے روح پاک ہوجاتی ہے

روح کو پاک کرنے کا بہت ضروری طریقہ توبہ واستغفار ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے:

اللہ کی قسم میں اللہ کے حضور دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔(بخاری)

آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا: لوگو اللہ کی طرف رجوع کرو، میں دن میں سو بار اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔(مسلم)

استغفار کرتے ہوئے اصل طلب تو یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی معاف کردے اور نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹادے، ساتھ ہی یہ طلب بھی ہونی چاہیے کہ روح کو لاحق ہونے والی گناہوں کی گندگی دور ہوجائے۔ اس نیت کے ساتھ جس قدر استغفار کیا جائے گا، روح کی پاکیزگی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ استغفار دراصل گناہوں سے بے زاری کا اعلان ہے۔ استغفار راست روح پر اثر انداز ہوتا ہے، شرط یہ ہے کہ استغفار محض زبان سے نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے ہو۔ استغفار میں دل کا سوز اور روح کی تڑپ شامل ہو۔استغفار میں آہ و زاری اور تضرّع ہوگا، تو روح پر پڑی ہوئی گناہوں کی گرد بالکل صاف ہوجائے گی۔

توبہ کے آنسو روح کو ایسا غسل دیتے ہیں کہ روح پر کوئی دھبہ باقی نہیں رہ جاتا اور روح کی لطافت و شفافیت بحال ہوجاتی ہے۔ جسم کتنا ہی گندا اور ناپاک ہو، ایک بار کی عمدہ صفائی اسے بالکل پاک صاف کردیتی ہے۔ اسی طرح روح پر آلودگی اور گندگی کتنی ہی زیادہ چھائی ہوئی ہو، ایک بار کی تطہیر سب کچھ صاف کردیتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ واقعی مکمل تطہیر ہو۔

روحانی طہارت کو یقینی بنانے والی چیز وہ خالص توبہ ہے جو خود پاکیزہ اورہر آلائش سے پاک ہو۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے:

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن یكَفِّرَ عَنكُمْ سَیئَاتِكُمْ وَیدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ(التحریم: ۸) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، بعید نہیں کہ اللہ تمھاری برائیاں تم سے دور کر دے اور تمھیں ایسی جنتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔‘‘

سید قطب نے توبة النصوح کی بڑی دل کش تفسیر کی ہے، وہ لکھتے ہیں:

یہی راستہ ہے، خالص توبہ، وہ توبہ جو دل کی خیرخواہ ہو اور اسے خالص بنادے، پھر اسے کسی فریب یا دھوکے میں مبتلا نہ کرے، گناہ اور معصیت سے توبہ، جو ماضی کی روش پر ندامت سے شروع ہوتی ہے، اور عمل صالح اور اطاعت پر ختم ہوتی ہے، اس وقت وہ دل کو خالص کردیتی ہے،اسے گناہوں کی آلائشوں اور خرابیوں سے پاک کردیتی ہے، اور پھر اسے عمل صالح پر اکساتی رہتی ہے، یہ توبة نصوح ہے، وہ توبہ جو آئندہ دل کو یاد دلاتی رہے، اسے پاک کرتی رہے، کہ وہ گناہوں کی طرف دوبارہ نہ پلٹے۔(فی ظلال القرآن)

نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں

انسان گناہ کرتا ہے اور اس کا جسم گناہوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، بعد میں جسم کو تو لذتِ گناہ بھی یاد نہیں رہتی تاہم وہ گناہ روح پر چپک جاتے ہیں۔ پاکیزہ روح کے لیے یہ گناہ شدید اذیت کا سبب بنتے ہیں۔ روح کی طہارت کے لیے گناہوں کا جھڑنا ضروری ہے۔ یہ گناہ روح کے لیے گندا بوجھ ہوتے ہیں۔ گناہوں کے جھڑجانے سے روح کو بے پناہ راحت کا احساس ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں گناہوں کے حوالے سے مغفرت اور تکفیر سیئات کی دو تعبیریں زیادہ آئی ہیں۔ مغفرت کا مطلب تو پردہ ڈال دینا اور معاف کردینا ہے جب کہ تکفیر سیئات کا مطلب گناہوں کو جھاڑ دینا اور روح کو پاکیزگی عطا کردینا ہے۔کئی مقامات پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ بندوں کے گناہ جھاڑ دے گا اور انھیں جنت میں داخل کرے گا۔ گویا جنت میں داخل ہونے سے پہلے انھیں پاک وصاف کرکے جنت میں داخلے کے لائق بنادے گا۔ جنت پاکیزہ مقام ہے وہاں انھی پاک روحوں کو داخلہ ملے گا جن کے گناہ پہلے سے جھڑچکے ہوں گے۔

روح کو یہ احساس کیسے حاصل ہو کہ اس کے گناہ جھڑ چکے ہیں؟ یہ مشکل سوال ہے۔ لیکن اسلام میں اس کا آسان جواب موجود ہے۔ رسول پاک ﷺ کی حدیث میں ہے: وأتبِعِ السیئةَ الحسَنةَ تَمْحُها ’’برائی سرزد ہوجانے کے بعد نیکی کردو، وہ نیکی اس برائی کو مٹادے گی‘‘ (ترمذی)۔ توبہ کرنے کے بعد جب آدمی نیک اعمال کرنے لگتا ہے تو گناہ کے نشان مٹنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے وہ نیکیوں میں آگے بڑھتا ہے، نیکیاں اس کی روح پر چسپاں برائیوں کو مٹاتی جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ توبہ کے بعد نیکیوں کا عمل برائیوں کے دور ہوجانے کا فرحت بخش احساس عطا کرتا ہے۔ جب برائی کو مٹانے کی نیت سے نیکی کی جائے تو روح کو پاکیزگی کا پرکیف احساس ہوتا ہے۔

دل کی پاکی سے روح کی پاکی ہے

روح کی سب سے زیادہ قربت دل سے ہے۔ دل کی خوبی یا خرابی کا سب سے زیادہ اثر روح پر پڑتا ہے۔ دل میں پائی جانے والی ہر گندی کیفیت روح کو گندا کردیتی ہے۔ حسد، بغض، کینہ اورنفرت ہو یا لالچ، خود غرضی، تنگ دلی ہو، غرور،گھمنڈاور احساس برتری ہو یا بے غیرتی اور احساس کم تری ہو، غرض دل کی ہر ایسی کیفیت جو مقام آدمیت کے شایان شان نہیں ہے روح کو آلودہ کردیتی ہے۔ روح کی پاکی کے لیے دل کو پاک و صاف کرتے رہنا بے حد ضروری ہے۔

نگاہ کی طہارت کا خیال رکھنے والوں کا دل پاک رہتا ہے، اور دل کی پاکی روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ(الأحزاب: ۵۳) ’’اگر ان سے تمھیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمھارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ ‘‘

پردے کی پابندی میں رہنا الگ چیز ہے اوردل کی پاکیزگی کی خاطر پردے کا خیال رکھنا ااس سے بہت اعلیٰ  چیزہے۔مومن کا مقصود پاکیزہ زندگی ہوتا ہے۔ اسی کے لیے وہ نگاہیں نیچی رکھتا ہے اور اسی کے لیے وہ پردے کا اہتمام کرتا ہے۔ روح کی طہارت کے لیے یہ تدبیریں بےحد مفید ہوتی ہیں۔

روح کی طہارت کے لیے ضروری ہے کہ دل پر نفسانی خواہشات کا ڈیرہ نہیں رہے۔ اور جس طرح انسان اللہ سے قریب ہونے کے لیے بار بار وضو کرتا ہے،اسی طرح نفس کی ہر فطری خواہش طہارت حاصل کرتی رہے۔ ہر خواہش رضائے الہی کے طاہر پانی سے وضو کر کے پاکیزہ خواہش بن جائے۔

پاکیزگی کی دعا کریں

اللہ تعالی سے روح کی پاکیزگی کی خاص طور سے دعا کرنی چاہیے۔ اگر یہ دعا قبول ہوجائے تو اس سے بڑی سعادت اور کیا ہوگی۔ اس کے علاوہ خود دعا مانگنے کے روح پر اچھے اثرات پڑیں گے، اللہ کے رسول ﷺ پاکیزگی کا پیکر تھے، اس کے باوجود اللہ پاک سے پاکیزگی عطا کرنے کی دعا مانگتے تھے، روایت کے مطابق آپ کی دعاؤں میں ایک دعا یہ تھی:

اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاءِ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَیءٍ بَعْدُ اللهُمَّ طَهِّرْنِی بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللهُمَّ طَهِّرْنِی مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَایا، كَمَا ینَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْیضُ مِنَ الْوَسَخِ۔ (مسلم)

’’یا اللہ تیرے لیے آسمان بھر اور زمین بھر حمد ہے، اور اس کے بعد بھی جو تو چاہے اتنی حمد ہے۔ اے اللہ مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے پاک کردے، یا اللہ مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کردے جس طرح سفید کپڑا گندگی سے پاک کردیا جاتا ہے۔‘‘

اس دعا میں برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کی تعبیریں ان کی روح پر اثر انگیزی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔

پہلے خود کو پھر دوسروں کو پاک کریں

قرآن مجید میں اللہ کے رسول ﷺ کو حکم دیا گیا:

وَثِیابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدثر: ۴,۵) (اور اپنے کپڑے پاک رکھو، اور گندگی سے دور رہو)

ہدایت و نجات کے داعیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی روح کو پاک وصاف رکھنے پر خاص دھیان دیں، جس کی اپنی روح پاکیزہ ہوتی ہے، وہی دوسری روحوں کو پاکیزگی کے راستے کی طرف بلانے کا اہل قرار پاتاہے۔ سید قطب لکھتے ہیں:

عربی محاورے میں کپڑوں کی پاکی دل، اخلاق اور عمل کی پاکیزگی کا کنایہ ہے۔ کپڑوں میں ملبوس ذات کی طہارت، اس سے متعلق ہر چیز کی طہارت، طہارت ہی ملأ اعلی سے پیغام وصول کرنے کے لیے مناسب حالت ہے، یہی اس رسالت کے مزاج سے قریب تر چیز ہے، انذار و تبلیغ کے کام سے اس کا لازمی رشتہ ہے، جب مختلف رجحانوں، خواہشوں، راستوں اور طریقوں کے درمیان دعوت کی صدا بلند کی جائے، اور وہاں چار سو غلاظتیں، گندگیاں، آلودگیاں، اور آمیزشیں ہوں، اس وقت دین کے داعیوں کے لیے کامل طہارت پر رہنا ضروری ہوجاتا ہے، تاکہ وہ خود آلودگی سے بچتے ہوئے آلودگی زدہ انسانوں کے نجات دہندہ بن جائیں، گندگی میں لت پت لوگوں کو باہر نکالیں اور اپنے دامن پر گندگی کی چھینٹ نہ آنے دیں۔ یہ نہایت باریک اور گہرا پہلو ہے، جو بتاتا ہے کہ رسالت و دعوت کی اپروچ اور اس کا رنگ روپ کیا ہوتاہے، جب مختلف سماجوں، مختلف ماحولوں، مختلف حالتوں اور مختلف دلوں کے درمیان اس فریضے کو انجام دیا جاتا ہے۔(فی ظلال القرآن)

روحانی طہارت کے طاقت ور محرکات

روح کو پاکیزگی پر ابھارنے والا سب سے طاقت ور محرک یہ ہے کہ روح کا خالق رب کائنات سبّوح قدّوس ہے، پوری کائنات اس کی پاکی کی گواہی دیتی ہے اور تسبیح کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کررہی ہے۔ وہ پاک ہے اور اس کی بارگاہ میں صرف پاک چیزیں ہی قبولیت کا شرف حاصل کرسکتی ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاکیزہ چیزیں ہی قبول کرتا ہے۔ (مسلم)

محض یہ احساس کہ اللہ کو پاکی پسند ہے، روح کی پاکیزگی کے لیے بہت بڑا محرک ہے۔

دوسرا محرک یہ ہے کہ پاکیزہ زندگی کا آخری انجام ناپاک زندگی سے یکسر مختلف ہوگا۔ جنت نہایت پاکیزہ مقام ہے، اس مقام کی اہل پاک روحیں ہی ہوسکتی ہیں۔ گندی اور نجس روحوں کے لیے وہاں داخلہ ممکن نہیں ہے۔

تیسرا محرک یہ ہے کہ روح کی پاکی کی برکتیں دنیا میں ہر طرف دیکھنے کو ملتی ہیں۔ روح کو پاکیزہ رکھنے والے پوری زندگی پاکیزہ فضا میں بسر کرتے ہیں اور یہ وہ سعادت ہے جس کا اندازہ برائیوں میں لت پت رہنے والے نہیں کرسکتے۔ فرمایا:

الْخَبِیثَاتُ لِلْخَبِیثِینَ وَالْخَبِیثُونَ لِلْخَبِیثَاتِ وَالطَّیبَاتُ لِلطَّیبِینَ وَالطَّیبُونَ لِلطَّیبَاتِ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا یقُولُونَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِیمٌ (النور: ۲۶)

’’خبیث باتیں خبیث لوگوں کے لیے ہیں اور خبیث لوگ خبیث باتوں کے لیے۔ پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ لوگ پاکیزہ باتوں کے لیے۔ ان کا دامن پاک ہے اُن باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔‘‘ (ترجمہ: مولانا امانت اللہ اصلاحی)

جو پاکیزہ روحیں ہوتی ہیں انھیں پاکیزہ باتیں اور پاکیزہ کام ہی راس آتے ہیں، اور ان کی انھیں خاص توفیق ملتی ہے، جب کہ جو خبیث روحیں ہوتی ہیں انھیں گندی باتیں اور گندے کام راس آتے ہیں اور وہی راستہ ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ انسان کی روح پاکیزہ ہوتی ہے تو اس کی زبان سے اچھی باتیں ادا ہوتی ہیں اور اس کے جسم سے اچھے کام صادر ہوتے ہیں۔

آخری سفر اور آخری انجام

قرآن مجید پاکیزہ چیزوں کے لیے طیب کا لفظ استعمال کرتا ہے، اور گندی چیزوں کے لیے خبیث کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ انسان جب طیب چیزوں کو اختیار کرتا ہے تو جسم بھی پاکیزہ رہتا ہے اور روح بھی پاکیزہ رہتی ہے۔جب کہ انسان اگر خبیث چیزوں کو اختیار کرتا ہے تو جسم بھی خبیث ہوجاتا ہے اور روح بھی خبیث ہوجاتی ہے۔ مرنے کے بعد جسم تو زمین میں تحلیل ہوجاتا ہے، البتہ روح باقی رہتی ہے۔ پاکیزہ روح کو اعلی مقام حاصل ہوتا ہے اور ناپاک روح کسی پستی میں دفن کردی جاتی ہے۔اس دنیا کے تمام احوال بتاتے ہیں کہ اللہ تعالی گندگی کو اس کے انجام بد تک ضرور پہنچائے گا، فرمایا: لِیمِیزَ اللَّهُ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیبِ وَیجْعَلَ الْخَبِیثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَیرْكُمَهُ جَمِیعًا فَیجْعَلَهُ فِی جَهَنَّمَ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (الأنفل: ۳۷) ’’ تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں ‘‘

نماز اللہ سے ملاقات کی تعبیر ہے اور وضو اس ملاقات کے لیے پاک ہوجانےکی علامت ہے۔ اللہ سے ملاقات کی آرزو رکھنے والی روحیں اپنی پاکیزگی کے لیے فکر مند رہتی ہیں، کیوں کہ اس عظیم سعادت کا پہلا زینہ روح کی طہارت ہے۔

جنوری 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau