عالمی قوتوں کي بدلتی پوزيشنيں اور عالمِ اسلام کا مستقبل

محمد المختار الشنقیطی | ترجمہ: ڈاکٹر محی الدین غازی

خود کار قوت مدافعت کی تشکیل 

جب ہم عالمی قوتوں کی بدلتی ہوئی پوزیشنوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہم بڑی بڑی تہذیبی فضاؤں کے زمانے میں رہ رہے ہیں جن کے ثقافتی شیرازے عسکری اور سیاسی قوت کی شکل اختیار کرتے ہیں اور عالمی میدان میں بھرپور حاضری درج کراتے ہیں۔ امریکہ کے معاملے پر غور کرلینا کافی ہوگا۔ اس کے مشرقی اور مغربی پہلو کی حفاظت دو بحر اعظم کرتے ہیں۔ اس کے شمال اور جنوب میں کم زور پڑوسی رہتے ہیں جو اس کے قہر سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی ذاتی قوت پر مطمئن نہیں ہے۔ بلکہ اس نے اپنے ارد گرد مغربی تہذیبی فضا کی تشکیل کی ہے، جس کا شیرازہ مسیحی عقائد (پروٹسٹنٹ اور کیتھولک) اور یونانی و رومانی ثقافت کی جڑیں ہیں۔ مزید برآں چین اور روس کے معاملے میں بھی غور کیا جاسکتا ہے جو آج مغربی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں، حالاں کہ ان میں سے ہر کوئی بہت زیادہ قد آور اور زبردست قوتوں کا مالک ہے۔ 

مشرق کے طلوع ہونے اور مغرب کے غروب ہونے کی کیفیت جس کی ابتدا آج ہمارے سامنے نظر آرہی ہے، عالمِ اسلام پر لازم کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر خود کار قوتِ مدافعت کی تشکیل شروع کردے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک عالمی اسلامی قوت تشکیل پائے جو نہ شرقی ہو اور نہ غربی ہو اور وہ عالمِ اسلام سے اس خطرے کو دور کرے کہ وہ بڑی بری قوتوں اور بڑی بحری قوتوں کے درمیان مڈبھیڑ کا نیا میدان بن جائے۔ اس خود کار قوتِ مدافعت کی تشکیل اور اسٹریٹیجک ارادے کی وحدت کو یقینی بنائے بغیر عالمِ اسلام مشرقی قوتوں اور مغربی قوتوں کے بیچ چکناچور ہوجانے والا خطہ (crush zone) بن جائے گا۔ سیاسی جغرافیہ کے برطانوی ماہر جیمس فیرگریف (1870-1953 James Fairgrieve) نے یہ اصطلاح وضع کی، دنیا کے ان ناتواں علاقوں کی عکاسی کے لیے جن پر بڑی بری قوتیں اور بڑی بحری قوتیں ٹوٹی پڑتی ہیں(91)۔ 

مسلمان اس حوالے سے اپنی تاریخ سے سبق لے سکتے ہیں۔ اسلام کا قد آور پرندہ، مشرق و مغرب کے درمیان میں رہنے کی وجہ سے، اپنی طویل تاریخ میں سمٹنے اور پھیلنے کی حالتوں سے مسلسل گزرتا رہا۔ طاقت کے زمانے میں وہ پھیلتا اور اپنے بازوؤں کو مشرق و مغرب کی طرف پھیلادیتا، جیسا کہ اولین اسلامی فتوحات کے زمانے میں ہوا، پھر عثمانی سلطنت کی قوت کے دوران ہوا، جب کہ کم زوری کے زمانے میں وہ سمٹ اور سکڑ کر رہ جاتا۔ مشرق کی طرف سے بڑی بحری قوتیں اور مغرب کی طرف سے بحری قوتیں اسے پیچھے ڈھکیل دیتیں، کبھی کبھی تو دشمن اس کے قلب تک جاپہنچتا، جیسا کہ منگولی آندھی، صلیبی یلغار اور جدید استعمار کے دوران ہوا۔ گویا عالمِ اسلام کے لیے درست اسٹریٹیجی ہمیشہ ایک ہی ہے اور وہ ہے قوت اور پھیلاؤ، نہ کہ کم زوری اور سکڑاؤ۔ 

یہ حقیقت ہے کہ شایانِ شان اسلامی عالمی قوت کی تشکیل کے لیے ایسی شرطیں لازم ہیں جن کا پورا ہونا بہت مشکل ہے۔ جیسے مسلم ممالک کا اپنی متعدد اندرونی مشکلوں سے آگے نکلنا، اس کے اہم ملکوں کا اسٹریٹیجی بنانے اور فیصلہ لینے میں خود مختار ہونا اور ان کے درمیان گہرا تعاون ہونا، اسی طرح جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یوروپ میں ہوا۔ یہ بھی یقینی ہے کہ ان شرطوں کے پورے ہونے میں وقت لگے گا، لیکن یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ آج اسلامی سیاسی جغرافیہ میں جو امکان اور حقیقت پذیری کے درمیان چوڑی خلیج پائی جاتی ہے وہ ناقابل تبدیل مقدر نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی پتھر کی انمٹ لکیر ہے۔ یہ تو ایک تاریخی سفر کا حاصل ہے جس میں بیک وقت ایک طرف دوسری قوتوں کو ابھرنے کا موقع ملا اور دوسری طرف مسلمانوں کی عسکری قوت کو زوال آیا، ان کے سیاسی عزائم کو گھن لگا اور ان کا اسٹریٹیجک حاسہ کم زور ہوتا گیا۔ بہرحال جنگ تو جاری رہتی ہے اور زمانہ ایک سا نہیں رہتا۔ عالمی قوتوں کے پلڑوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ عظیم تاریخی تبدیلیاں ہمیشہ ان خوابوں سے شروع ہوتی ہیں جن کا پورا ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس میدان میں سیکھ اور سبق سے بھرپور مثال یوروپی یونین کا تجربہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تجربہ بڑی زبردست کام یابی سے ہم کنار ہوا ہے، خاص طور سے اگر ہم کس مپرسی کے ان حالات کو سامنے رکھیں جو اس وقت یوروپ پر طاری تھے، یعنی دونوں عالمی جنگوں کے حالات۔ یوروپی یونین کی ابتدا ایک خواب کی شکل میں ہوئی جو اٹھارویں صدی سے فلسفیوں اور اہل ثقافت نے دیکھنا شروع کیا۔ اس خواب کے ذریعے انھوں نے اس یوروپی وحدت کی یاد تازہ کی، جو بادشاہ شارلمان (ت 814م) کے زمانے میں وجود میں آئی تھی۔ اس بادشاہ نے سن 476 میں مغربی رومن سلطنت کے سقوط کے بعد پہلی مرتبہ مغربی اور وسطی یوروپ کو اتحاد سے ہم کنار کیا تھا۔ بیسویں صدی میں دونوں عالمی جنگوں کے صدمے اور مزید سوویت خطرے کا اثر یہ ہوا کہ یوروپی وحدت کا یہ خواب دیکھتے دیکھتے ایک عملی سفر میں تبدیل ہوگیا۔ بیسویں صدی کے نصف میں یوروپی وحدت اور اس کے لیے کوشش کے حوالے سے تین اسکول سامنے آئے: 

فیڈرل اسکول جو اس بات کا داعی تھا کہ ایسی مکمل وحدت وجود میں آئے جس میں سارے ملک ضم ہوجائیں اور یوروپی ملکوں کے درمیان سرحدیں محو ہوجائیں۔ 

کنفیڈرل اسکول جس کے پیش نظر یہ تھا کہ لچک دار رابطے کی ایک وحدت قائم ہو اور مکمل خود مختار ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کی صورت بنے۔ 

فنکشنل اسکول جس کی ترجیح یہ تھی کہ ابتدا میں ملکوں کی سرحدوں سے پرے معاشی سیکٹروں کا اتحاد عمل میں آئے۔ 

تاہم فنکشنل اسکول نے جس عملی راہ کو تجویز کیا اسی کو بالآخر قبولیت حاصل ہوئی، معاشی سیکٹروں کے اتحاد کے راستے سے یوروپی وحدت بتدریج آگے کی طرف بڑھی۔ سن 1951 میں کوئلے اور لوہے کے سیکٹروں سے ابتدا ہوئی۔ پھر ٹھوس اور تہ بہ تہ اینٹوں کی صورت میں یہ دیوار اوپر اٹھتی رہی، یہاں تک کہ وحدت پختگی کے مرحلے تک پہنچ گئی۔ سرحدیں ایک دوسرے کے لیے کھول دی گئیں اور آپس میں اسٹریٹیجکل رابطے قائم ہوگئے۔ یوروپی یونین کے آئیڈیا کی کام یابی کے پیچھے شاید اہم ترین سبب یہ تھا کہ ’’یہ خیال بنیادی طور پر باہمی رضامندی سے تھا اور مسلسل ترقی پذیر تھا اور اس کی بنا اس امر پر تھی کہ مشترک قدروں کے دائرے کو پرامن انداز سے وسعت دی جائے‘‘(92)۔ 

یوروپی یونین کی کام یابی کی داستان ایک اس سے بھی بڑی کام یابی کی داستان کا حصہ ہے۔ اور وہ ہے مغربی تہذیب کی فضا کی وحدت، جس میں مغربی یوروپ کے ممالک، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ یہ وہ ملک ہیں جن کو بہت بڑے رقبے ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں، ان دوریوں کی نظیر اسلامی جغرافیہ میں نہیں ملتی۔ مغربی تہذیب کا مجموعہ اپنے ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک ارادے کی وحدت قائم کرنے میں کام یاب ہوگیا، وہ بھی اس طرح کہ ہر ملک اپنی سیاسی خود مختاری کو باقی بھی رکھے۔ مغرب کا اپنے اسڑتیٹیجک ارادے کو وحدت عطا کرنے میں کام یاب ہوجانا جب کہ اس کے اجزا کے درمیان بڑی بڑی مسافتیں حائل ہیں اور معاصر عالمِ اسلام کا اس میں ناکام ہوجانا یہ بتاتا ہے کہ وحدت کا معاملہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی ارادے اور ثقافتی حیویت پر موقوف ہوتا ہے۔ 

اس سے پہلے ہم نے بری عالمِ اسلام اور بحری عالمِ اسلام کے درمیان جس بڑے فاصلے کا ذکر کیا ہے، وہ بھی اسٹریٹیجک ارادے کی وحدت میں مانع نہیں ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ وسیع و عریض بحر اعظم جو شمالی امریکہ کو یوروپ سے جدا کرتے ہیں اور آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کو باقی مغرب سے جدا کرتے ہیں اس میں رکاوٹ نہیں بن سکے۔ ایسی بڑی مسافتیں عالمِ اسلام کے اجزا کے درمیان پائی بھی نہیں جاتی ہیں۔ اس کی وضاحت کے لیے ہمارا یہ جاننا کافی ہے کہ آسٹریلیا جو کہ مغربی مجموعے کا ایک حصہ ہے وہ برطانیہ اور امریکہ سے پندرہ ہزار کیلومیٹر سے بھی زیادہ دوری پر واقع ہے، جب کہ یہ دونوں ملک ثقافتی اور سماجی رشتوں کے لحاظ سے آسٹریلیا والوں سے سب سے زیادہ قریب ہیں اور ان کے سب سے زیادہ مضبوط سیاسی و عسکری حلیف ہیں۔ 

معلوم ہوا کہ اسٹریٹیجک ارادے کی وحدت مسافتوں کی دوریوں کے باوجود ممکن ہے، شرط یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ہو اور عملی ہو اور اس کی مضبوط تہذیبی بنیاد ہو۔ اس مفہوم میں اسلامی وحدت کے موضوع پر سب سے زیادہ سنجیدہ نظریہ سازی شاید وہ ہے جو عبد الرحمن الكواكبی (1849-1903)، عبد الرزاق السنهوری (1895-1971)، اور مالك بن نبی (1905-1973) نے پیش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں ہی مفکرین نے وحدت کی فکر وحدت کی معاصر عملی مثال سے کشید کی تھی، وہ اسلامی اخوت کے بارے میں نظریاتی تقریریں دہرانے میں مصروف نہیں ہوئے اور نہ ہی انھوں نے اسلامی تاریخ کی کسی گزری ہوئی ختم شدہ سلطنت کی نقل کرنے کی کوشش کی۔ 

 کواکبی نے امریکہ اور جرمنی کے فیڈرل کی وحدت سے خیال اخذ کیا، انھوں نے اسلامی وحدت کا نظریہ پیش کیا کہ وہ ’’ایک ایسے اسلامی اتحاد کی شکل میں ہو جو باہم تعاون پر قائم ہو اور جو جرمنوں اور امریکیوں کے اتحاد کی بنیادوں کو سامنے رکھ کر اپنے لیے نقشہ کار مرتب کرے‘‘(93)۔ سنہوری انجمنِ اقوام سے متاثر ہوئے، (وہ بین الاقوامی تنظیم جو دونوں عالمی جنگوں کے درمیانی وقفے میں تشکیل پائی تھی) انھوں نے ’’مشرقی اقوام کی انجمن‘‘ قائم کرنے کی دعوت دی جس میں مختلف مسلم اقوام شامل ہوجائیں، اس کا عالمی سطح پر ایک مقام ہو، اور اس میں تمام مسلم اقوام کی لسانی اور ثقافتی خصوصیات کا احترام ملحوظ رہے (94)۔ پھر مالک بن نبی نے برطانوی کامن ویلتھ سے خیال اخذ کیا، اور’’اسلامی کامن ویلتھ‘‘ کے قیام کا خیال پیش کیا، اس کی شکل یہ ہو کہ جغرافیائی پڑوس اور ثقافتی قرابت کی بنیاد پر مسلم ممالک کے گروپ تشکیل پائیں، پھر ان گروپوں کے کو ایک اسلامی عالمی تنظیم کی صورت میں مربوط کیا جائے(95)۔ 

تنظیم برائے اسلامی تعاون (OIC) نصف صدی سے پہلے قائم ہوئی، اور اس کے سائے تلے مسلم اکثریت والے تمام ممالک جمع ہوئے، وہ خود کو ’’عالمِ اسلامی کی اجتماعی آواز‘‘ قرار دیتی ہے(96)۔ تاہم یہ تنظیم وہ کچھ حاصل نہیں کرسکی جس کا خواب اسلامی وحدت کا نظریہ پیش کرنے والے مفکرین نے دیکھا تھا۔ اس پر خراب کارکردگی، داخلی اختلافات اور عمومی کم زوری کا غلبہ رہا۔ اس کی وجوہات میں ایک وجہ یہ تھی کہ تنظیم کے بیشتر ممالک پر استبداد ی نظام، سیاسی خود غرضی اور عالمی قوتوں کی تابعداری کا سایہ چھایا رہا۔ مزید یہ کہ تنظیم نے وحدت کی حصولیابی کے لیے منصوبہ بند عملی تدریجی طریقے اختیار نہیں کیے۔ اس کے کاموں پر نعرے بازیاں اور انبوہ سازی کا رنگ حاوی رہا اور جوہری اقدامات کا فقدان رہا۔ اس سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ اسلامی تہذیب کی فضا سے وابستہ اقوام کی وحدت کا معاملہ نئی تفکیر چاہتا ہے۔ 

یہ خوش آئند بات ہے کہ مستقبل میں عالمِ اسلام کو وحدت عطا کرنے کے لیے ایک ٹھوس اساس موجود ہے۔ یہ وحدت اس معنی میں نہیں ہوگی کہ ہمہ گیر خلافت کی صورت میں ایک سیاسی مرکزیت ہو، بلکہ اس معنی میں ہوگی کہ وہ اقوام و ممالک جو ایک تہذیبی فضا میں رہتے ہیں ان کے درمیان باہمی مدد و نصرت اور اسٹریٹیجک وحدت کا رشتہ ہو۔ اس سے ملتا جلتا رشتہ جو آج مغربی تہذیب کی فضا میں رہنے والے ممالک و اقوام کے درمیان قائم ہے۔ آج مغرب میں جو وحدت ہے جس کے عملی مظاہر میں کھلی سرحدیں، قوموں کا اختلاط، عسکری معاہدے اور معاشی تعاون شامل ہے، وہ دراصل مغربی تہذیب کی وحدت کے تاریخی اور ثقافتی شعور، اور اس شعور کو سیاسی پیکر دینے کی عملی کوششوں کا حاصل ہے۔ 

اپنے اندر سب کو سمولینے والی تہذیبی فضا کا جوہر دراصل کائنات، انسان اور بنیادی قدروں کے بارے میں ایک نقطہ نظر میں مشترک ہونا اور ساتھ ہی ایک خاص تاریخی تجربے میں مشترک ہونا ہے۔ عالمِ اسلام کو یہ چیز حاصل ہے۔ اور اگر اس میں ایک جغرافیائی وسعت بھی شامل ہوجائے تو اسٹریٹیجک وحدت کے ابھرنے کے امکان قوی تر ہوجاتے ہیں۔ تہذیبی فضا کی وحدت زبان یا نسل کی وحدت سے نہیں بنتی ہے، جیسا کہ معاصر قوم پرستوں کا نظریہ ہے۔ آپ خود دیکھیں کہ مغربی تہذیبی فضا کی وحدت وجود میں آئی جب کہ اس کی آبادی کی کوئی ایک قومیت یا ایک زبان نہیں ہے۔ صرف یوروپی یونین ہی میں چوبیس آفیشیل زبانیں اور متعدد قومیتیں پائی جاتی ہیں۔ ابن خلدون نے صدیوں پہلے اس کی طرف متوجہ کیا تھا اور کہا تھا: ’’نسب ایک واہمہ ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اس کا فائدہ ایک ربط و تعلق سے زیادہ نہیں ہے‘‘(97)۔ معاصرین میں مالک بن نبی بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے، اور مغرب کی صورت حال سے استدلال کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 

’’تاریخ لازمی طور پر زبان یا جنس سے متعین نہیں ہوتی ہے، مغربی تہذیب جسے ہم نے اس معاملے میں پیمانہ بنایا ہے، کسی زبان یا جنس کا ثمرہ نہیں ہے، بلکہ ہم قومی سطح کی حد تک اس قاعدے سے استثنا پاتے ہیں، مثال کے طور پر ہم سویزر لینڈ کی حالت دیکھتے ہیں، وہاں اس کے عناصر کے درمیان نہ تو جنس رابطہ بنتی ہے اور نہ ہی زبان۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زبانوں اور جنسوں کے اختلاف کے باوجود حل کا امکان موجود ہے۔۔۔لفظ (مغرب) محض لفظ نہیں ہے، یہ کوئی لغوی یا ڈپلومیٹک ایجاد نہیں ہے، یہ کچھ مغالطوں کی پردہ داری نہیں ہے، یہ تو حقیقت میں مغرب کے انسان کی سوچ اور ثقافت اور اس کی شخصیت کے تسلسل کی اساس ہے۔ یہ ایک مکمل تہذیب کے کردار کی تعبیر ہے، یہ دو ہزار سالہ تاریخ کا خلاصہ ہے جو مغربی انسان کی ذات پر نقش ہے، آخر کار یہ ایک لفظ ہے جو اس کے انجام کا بوجھ سنبھالے ہوئے ہے‘‘(98)۔ 

اسی طرح عقیدے، بنیادی قدروں اور تاریخی تجربے کی مشترک باتوں نے عالمِ اسلام کو ایک عالم بنایا ہے، ’’تیرہ صدیوں نے ایک مسلم سماجی نمونہ تشکیل دیا ہے، وہ تصرف کرتا اور سوچتا ہے ایسی کیفیتوں کے ساتھ جن میں ہم طنجہ سے جکارتا تک اس کے مشترک خد و خال کو دیکھ سکتے ہیں‘‘(99)۔ اس کی وجہ ’’وہ مشترک قاسم ہے جو ان دونوں کے بیچ پایا جاتا ہے، اس کا تعلق ان کے ملک کی آب و ہوا یا مٹی سے نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص وراثت سے ہے‘‘(100)۔ اس تہذیبی شعور کے بغیر جو زمان و مکان کے سیاقوں کا ادراک رکھتا ہو اور زبان و نسل کی عصبیتوں سے آگے بڑھ جاتا ہو، اسلامی وحدت محض ایک جذباتی نعرہ رہے گا، ایک بے سوچا سمجھا عمل رہے گا ’’جو بڑوں کی سازشوں اور ان کے چھوٹے شاگردوں کی تخریب کاریوں کا نشانہ بنا رہے گا‘‘(101)۔ مالک بن نبی کی یہ معنی خیز تعبیر بڑی حد تک تنظیم برائے اسلامی تعاون پر صادق آتی ہے۔ 

اسٹریٹیجکل کشش ثقل کا مرکز 

مغربی اسٹریٹیجکل وحدت کی کام یابی کا ایک اہم سبب ایک مرکزی ریاست کی موجودگی ہے، وہ اس سفر کی قیادت بھی کرتی ہے اور نگہبانی بھی، اور وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے، جو پہلے بھی تھی اور اب بھی معاصر مغربی تہذیب میں اسٹریٹیجکل کشش ثقل کا مرکز ہے۔ امریکہ نے یوروپ کو پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں فنا ہونے سے بچایا، نازی اور فاشسٹ ہاتھوں میں جانے سے بچایا، دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال یوروپ کو (مارشل منصوبے) کے تحت معاشی مدد پیش کی اور ناٹو قائم کرکے اور اس کی قیادت کرکے ایک محافظ عسکری چھتری فراہم کی۔ اس سے یہ اہم سبق ملتا ہے کہ اسلامی تہذیبی فضا کو اس کے موجودہ دلدل سے نکالنے کے لیے ایک طاقت ور مرکزی ریاست (یا ریاستوں کا مجموعہ) سامنے آئے، جو لیاقت و اہلیت کی بنا پر اس سفر کی پیشوائی کرے۔ 

یہاں ایک جوہری سوال سر اٹھاتا ہے، وہ زبردست ارضی اور ثقافتی پھیلاؤ جسے آج ہم عالمِ اسلام کہتے ہیں، اس کی اسٹریٹیجکل کشش ثقل کا مرکز کہاں ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ عالمِ اسلام کا ایک سر، ایک قلب اور ایک ہی کشش ثقل کا مرکز ہو، یا اپنی فطرت میں وہ ایسا عالم ہے جس کے متعدد ابعاد ہیں، وہ کئی قطبوں میں تقسیم ہے اور اس کے پاس ایک سے زیادہ قلب، سر اور کشش ثقل کے مرکز ہیں؟ اس حوالے سے تین نظریے ہیں جو سنجیدہ غور وفکر چاہتے ہیں، ایک مالک بن نبی کا سماجی نظریہ ہے جو یہ مانتا ہے کہ اسلام کی کشش ثقل کا مرکز ایشیا کے جنوب مشرق میں ہوگیا ہے، دوسرا محمد مبارک کا تہذیبی نظریہ ہے جو اسلامی تہذیبی فضا میں عالم عرب کی مرکزیت پر اصرار کرتا ہے، اور تیسرا سیموئل ہنٹنگٹن کا ارضی اسٹریٹیجی کا نظریہ ہے جو عالمِ اسلام میں مرکزی ریاست کے کردار کے لیے ترکی کا نام پیش کرتا ہے۔ 

مالک بن نبی ایک تجزیہ پیش کرتے ہیں جو سماجی نوعیت کا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ معاصر عالمِ اسلام کی کشش ثقل کا مرکز ایشیا کے جنوب اور مشرق میں منتقل ہوگیا ہے۔ وہ متعین طور پر پاکستان، ہندوستان، انڈونیشیا اور ملیشیا کا نام لیتے ہیں۔ عالمِ اسلام میں جو مشہور بیانیہ ہے اور جو کہ استعماری بیانیے کی احمقانہ نقالی ہے، جس کا کہنا ہے کہ عالمِ اسلام میں معاصر بیداری 1798 میں مصر پر نیپولین کے حملے سے شروع ہوئی، مالک بن نبی اس کے برعکس یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیداری اس کے ساٹھ سال بعد شروع ہوئی اور وہ بھی ایشیا میں شروع ہوئی مشرق وسطی میں نہیں۔ مالک بن نبی کے مطابق اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ہندوستانی مسلمان فوجیوں نے 7185 میں انگریزی استعمار کے خلاف بغاوت کی، وہ بغاوت جس نے مسلم ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، بعد میں جمال الدین افغانی (1838-1897)، اور پھر ان کے شاگرد محمد عبده (1849-1905) نے اسے جمود کے شکار مسلم عوام کو جھنجھوڑنے اور باشعور کرنے کا ذریعہ بنایا(102)۔ 

مالک بن نبی کا یہ خیال بھی ہے کہ بیسویں صدی میں ہونے والی سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کا ایک ثمرہ یہ بھی ہے کہ ’’خود اسلام ایک ایشیائی صورت واقعہ بن گیا‘‘(103)، اسلام کی صورت حال یہ ہے کہ ’’اس کی آبادی کی کشش ثقل کا مرکز مشرق کی طرف بڑھتا ہی جارہا ہے‘‘(104) اب عالمِ اسلام کا مرکز بحیرہ روم کے کنارے پر نہیں رہا، جیسا کہ ماضی میں تھا بلکہ وہ ایشیا کے جنوب مشرق میں ہوگیا، یا کم از کم اتنا تو ہوا کہ اس کا ایشیائی قطب اس کے متوسط میدان سے زیادہ وزن دار ہوگیا۔ ان کے مطابق: ’’عالمِ اسلام جکارتا کی جاذبیت کے زیر اثر رہنے لگا جس طرح وہ قاہرہ یا دمشق کی جاذبیت کے زیر اثر رہتا تھا۔ ایشیائی مرحلے کی طرف یہ منتقلی ضرور کچھ نفسیاتی، تہذیبی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی نتائج پیدا کرے گی، یہ نتائج اس کی حرکت اور اس کے مستقبل پر اثر انداز ہوں گے، بلکہ پہلے اور سب سے پہلے اس عالمِ اسلام کے اجتماعی ارادے کی تشکیل پر ان کا اثر ہوگا۔‘‘ (105)۔ مالک بن نبی نے یہ تجزیہ سماجی اسباب کو بنیاد بناکر کیا، جن میں سے ایک اسلامی ایشیا میں آبادی کی کثرت ہے، اور دوسرا سبب جو ان کے نزدیک زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ ایشیا کی اسلامی اقوام نے اپنی فطرت کی حفاظت کی ہے اور وہ تاریخ کے اس بوجھ (baggage) سے دور ہیں جو بحیرہ روم کے ساحلوں کے مسلمانوں کے کندھوں کو بوجھل کیے ہوئے ہے۔ وہ تفصیل کے ساتھ اپنے خیال کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں: 

’’ اس دور کا خاتمہ جس میں اسلامی جاذبیت بحیرہ روم پر مرکوز تھی، عالمِ اسلام کی اپنی داخلی رکاوٹوں اور بندشوں سے آزادی کو درج کرتا ہے۔ یہ رجحان پاکستان میں نمایاں ہے، اسی طرح یہ جاوا (انڈونیشیا) میں بھی نمایاں ہے، یہ وہ سرزمین ہے جسے اسلام نے نسبتاً بعد میں اپنا وطن بنایا ہے۔ یعنی وہ نیا اور تازہ دم ملک ہے، اس میں فکر و عمل کا پہلو نظر بند تقلیدی علم پر غالب ہے۔۔۔جاوا میں آدمی لطافتِ احساس رکھتا ہے، وہ نظام و تنظیم کا احترام کرتا ہے، وہ چیزوں کی جزئیات کی گہرائی میں جانے کا شوق رکھتا ہے، اس طرح وہ ایجابی مادی انسان ہے، زبردست توانائی رکھتا ہے، وہ عملی بھی ہوتا ہے، اپنے پیشے میں ماہر ہوتا ہے اور مختلف طرح کے فنون کا ذوق رکھتا ہے‘‘(106)۔ 

شام کے اسلامی مفکر محمد مبارک (1912-1981) نے اس نقطہ نظر پر اپنے تحفظ کا اظہار کیا، جب انھوں نے مالک بن نبی کی کتاب وجهة العالم الإسلامی پر مقدمہ لکھا، اور اس میں اس پر زور دیا کہ اسلامی تہذیبی فضا میں عالم عرب کو بہرحال مرکزیت حاصل ہے، کیوں کہ عربی زبان دین اسلام سے گہرا رشتہ رکھتی ہے، اسلام کے علمی مصادر اور مذہبی شعائر دونوں ہی کے حوالے سے۔ محمد مبارک کہتے ہیں: 

’’مالک بن نبی کا ماننا ہے کہ عالمِ اسلام میں کشش ثقل کا مرکز بحیرہ روم سے ایشیا کی طرف منتقل ہوگا۔۔۔میں اس شان دار بیداری کی ستائش کرتا ہوں جو انڈونیشیا اور بعض ایشیائی مسلم ملکوں میں ظاہر ہورہی ہے، تاہم میرا خیال ہے کہ عالم عرب کا اپنا مقام اور زندگی سے بھرپور کردار ہے عالمِ اسلام کے قلب میں۔ اسے اس کی صلاحیت دی گئی ہے کہ وہ مادی اور روحانی قدروں کو ہم آہنگ کرے اور ان میں توازن قائم کرے۔ وہ قرآن کریم کی زبان کو خوبی کے ساتھ سمجھنے اور زندگی کے پیغام کو سمجھنے کی وجہ سے جو مادی اور روحانی قدروں اور مادی و اخلاقی کوششوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے، ہمیشہ امید کا مرکز اور توقعات کا محور رہے گا، اس سے دوسری مسلم اقوام کی قدر و قیمت کم نہیں ہوتی ہے اور ان کی عبقری خصوصیات کا انکار نہیں ہوتا ہے‘‘(107)۔ 

استاذ مبارک اسلامی دینی جغرافیہ کا بھی اضافہ کرسکتے تھے، تب ان کا تجزیہ اور زیادہ مضبوط ہوجاتا، یعنی مکہ مدینہ اور قدس کی عالم عرب میں موجودگی۔ بہرحال یہ وہ لسانی تہذیبی نقطہ نظر ہے جو عالم عرب کو عالمِ اسلام میں صدارت کا مقام عطا کرتا ہے۔ 

اسلامی کشش ثقل کے مرکز کے بارے میں تیسرا نظریہ سیموئل ہنٹنگٹن کا ہے، جس کا خیال ہے کہ عالمِ اسلام کا مرکز و مستقبل ترکی میں ہے، ہم نے اس س قبل اشارہ کیا تھا کہ ترکی کی جائے وقوع عظیم الجثہ اسلامی پرندے کے سر والے حصے میں ہے۔ یہ بات اس کی سیاسی تاریخ سے ہم آہنگ بھی ہے، کہ وہ اسلامی تاریخ کی آخری عظیم سلطنت یعنی عثمانی سلطنت کا گہوارا تھا۔ تو اگر مالک بن نبی سماجی نقطہ نظر رکھتے ہیں اور محمد مبارک تہذیبی نقطہ نظر تو ہنٹنگٹن ان کے برعکس جیو اسٹریٹیجی کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ 

ہنٹنگٹن نے بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں ایک خاص نظریہ تشکیل دیا، جو تہذیبی اور دینی عوامل کو، یا ہمارے الفاظ میں مشترک تہذیبی فضا کو اس کی اساس قرار دیتا ہے۔ ہنٹنگٹن نے ایک تہذیب سے وابستہ ممالک کے درمیان ’’تہذیبی قرابت‘‘(108) کی اسٹریٹیجکل اہمیت کو نمایاں کیا۔ وہ یہ کہ ’’تہذیب ایک پھیلا ہوا خاندان ہے، اور خاندان کے سب سے بڑے فرد کی طرح مرکزی ریاستیں قرابت دار ریاستوں کی مدد کرتی ہیں اور انھیں ڈسپلن کا پابند رکھتی ہیں۔ اس قرابت داری کے نہ ہونے کی صورت میں، طاقت ور ملک کے لیے اس کے امکانات کم ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں ہونے والے جھگڑوں کو نپٹاسکے یا وہاں ڈسپلن قائم رکھ سکے‘‘(109)۔ اس بنا پر، ہنٹنگٹن نے دنیا کے ممالک کو آٹھ بڑے تہذیبی مجموعوں میں تقسیم کیا اور اس پر زور دیا کہ ہر تہذیبی مجموعے میں ایک طاقت ور مرکزی ریاست کا ہونا ضروری ہے، جس کی حیثیت قائد و پیشوا کی ہو، وہ اس مشترک تہذیبی فضا میں نظم و ضبط قائم رکھے، اور دشمنوں سے اس کی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ 

ضروری نہیں ہے کہ یہ مرکزی ریاست اپنی تہذیبی فضا کی ریاستوں کے ساتھ قومیت یا زبان میں اشتراک رکھتی ہو، تہذیبی قرابت اس کی تلافی کردیتی ہے، کیوں کہ ’’مشترک تہذیبی عوامل مرکزی ریاست کو قیادت کرنے اور دیگر رکن ممالک کے تعلق سے اور بیرونی طاقتوں اور اداروں کے معاملے میں ڈسپلن قائم کرنے کا جواز و کردار عطا کرتے ہیں‘‘(110)۔ ہنٹنگٹن نے اسلامی تہذیبی فضا کی وحدت کا بھی ادراک کیا، اور اسے ان آٹھ تہذیبی مجموعوں میں شامل کیا جن میں آج کی دنیا تقسیم ہے، لیکن اس نے یہ نوٹ کیا کہ اس دور میں اسلامی تہذیب بے مائیگی کی کیفیت سے گزر رہی ہے، کیوں کہ اس کے پاس ’’مرکزی ریاست‘‘ نہیں ہے جو قدرت و ارادے کی مالک ہوتی، تاکہ وہ عالمِ اسلامی کی پیشوائی کرتی، اس کے داخلی اختلافات کو منضبط کرتی اور دشمنوں کے حملوں سے اس کی حفاطت کرتی۔ 

ہنٹنگٹن نے چھ مسلم ملکوں کا جائزہ پیش کیا، اور اس کا اندازہ لگایا کہ ان میں سے کس کے اندر معاصر اسلامی تہذیب میں مرکزی ریاست کا کردار ادا کرنے کا کتنا امکان ہے۔ یہ ممالک ہیں: سعودی عرب، ایران، مصر، پاکستان، انڈونیشیا اور ترکی۔ اس نے پایا کہ ان میں سے پانچ وہ ہیں جن کے سامنے اس کردار کو ادا کرنے میں رکاوٹیں حائل ہیں، یا تو کسی کی آبادی کی تعداد نسبتًا کم ہے اور جغرافیائی حفاظتی حصار کم زور ہے (سعودی عرب) یا اس کے اور جمہور مسلمانوں کے درمیان مذہبی دوریاں ہیں (ایران)، یا وہاں قدرتی وسائل کی کمی ہے (مصر)، یا وہاں سیاسی استقرار نہیں پایا جاتا ہے (پاکستان)، یا وہ عالمِ اسلام کے مرکز سے دور ہے (انڈونیشیا)۔ اس طرح ان چھ ملکوں میں سے صرف ترکی بچتا ہے، جس کے بارے میں ہنٹنگٹن نے یہ مانا کہ وہ عالمِ اسلام میں مرکزی ریاست کا کردار ادا کرسکتا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ’’ترکی کے پاس تاریخ ہے، آبادی ہے، معاشی ترقی کی متوسط سطح ہے، داخلی وطنی استحکام ہے، عسکری روایات ہیں، اور اہلیت ہے۔۔۔جس کی بنا پر وہ مرکزی ریاست بن سکتا ہے۔۔۔‘‘ (111)۔ 

ہم نہیں سمجھتے کہ ان تینوں نظریات میں تضاد ہے، کیوں کہ علمائے منطق کی تعبیر کے مطابق وہ ایک محل پر وارد نہیں ہوتے، بلکہ ہر ایک اسلامی کشش ثقل کے مرکز کو مخصوص زاویہ نظر سے دیکھتا ہے۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ یہ تینوں نظریات اسلامی سیاسی جغرافیہ کی حقیقت کا ایک جز پیش کرتے ہیں۔ مالک بن نبی کا یہ کہنا کہ ایشیا کے جنوب مشرق کی مسلم اقوام میں آبادی کی کثافت کے ساتھ سماجی حیویت اور عمل کا جذبہ پایا جاتا ہے، درست بات ہے، محمد مبارک کا عالم عرب کی جاذبیت کو اجاگر کرنا بھی صحیح ہے کیوں کہ اس کی زبان کا اسلامی وحی سے تعلق ہے اور اس کی سرزمین پر اسلامی مقدسات پائے جاتے ہیں۔ ہنٹنگٹن نے ترکی کی جو جیو اسٹریٹیجی اور تاریخی اہمیت بیان کی ہے وہ بھی بجا ہے، ترکی ایک تازہ دم ابھرتی ہوئی قوت ہے، اور ترکی قوم کے پاس عالمِ اسلام کی قیادت کی طویل تاریخ ہے اور وہ مستقبل میں اس اعزاز کو دہرانے کی قدرت بھی رکھتی ہے۔ 

ہمارا میلان ہنٹنگٹن کی رائے کی طرف ہے کہ آج ترکی دوسرے کسی بھی ملک سے زیادہ اس کا اہل ہے کہ وہ عالمِ اسلام میں مرکزی ریاست بن سکے۔ ہم اس سے پہلے ایک مطالعہ میں ترکی کی پیشوائی اور اس کی تاریخی جڑوں پر تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں(112)۔ لیکن عالمِ اسلام کو ایک سے زیادہ مرکزی ریاستیں اور ایک سے زیادہ ابھرتے ہوئے اسٹریٹیجکل ٹھکانے درکار ہیں، تاکہ وہ اپنے قدموں پر اچھی طرح کھڑا ہوسکے۔ ملیشیا اور انڈونیشیا اس سمت میں لمبا سفر طے کرچکے ہیں۔ اسی طرح دوسری اسلامی ریاستوں کے پاس بھی اس کا امکان ہے کہ وہ اس دہائی میں اور اگلی دہائی میں بھی عالمِ اسلام میں مرکزی ریاستیں بن سکیں۔ ان ملکوں میں مصر، پاکستان، سعودی عرب اور الجیریا شامل ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سات ممالک مستقبل میں متوازی طور سے ایک نئی اسلامی بیداری کے اسٹریٹیجکل علم بردار بنیں، شرط یہ ہے کہ ان میں ضروری حد تک داخلی سیاسی پختگی اور بیرونی اسٹریٹیجکل شعور پیدا ہوجائے۔ 

عالمِ اسلام اس سے بڑا ہے کہ وہ کسی ایک ریاست یا اقلیم کے گرد گردش کرے۔ یہاں تک کہ یوروپ جس کا رقبہ اور آبادی دونوں عالمِ اسلام کے مقابلے میں بہت کم ہے، اس میں بھی ایک مرکزی ریاست نہیں ہے بلکہ تین ریاستیں ہیں جنھیں یوروپی قوت کا مثلث کہا جاتا ہے، یعنی فرانس، جرمنی اور برطانیہ (113)۔ اس لیے عالمِ اسلام میں اسٹریٹیجکل کشش ثقل کے مرکز کو لے کر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ وہ وسیع جہان ہے جو آج ایک سے زیادہ کشش ثقل کے مراکز کی گنجائش رکھتا ہے، جس طرح سے ماضی میں وہ بڑے بڑے ممالک اور متعدد اقوام کے لیے وسعت رکھتا تھا اور اسلامی تہذیب میں ہر ایک کا عظیم رول تھا۔ 

آنے والے زمانے کے لیے کچھ خلاصے 

عالمی قوتوں کی بدلتی پوزیشنیں اور عالمِ اسلام پر ان کی اثر اندازی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد، اب یہ کچھ چوڑی لائنیں ہیں جو اس جائزے سے ابھر کر آتی ہیں اور کچھ آنے والے وقت کے لیے خلاصے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بڑی بری طاقتوں اور بڑی بحری طاقتوں کے درمیان تاریخی کشمکش ان دنوں ایک نیا موڑ لے گی۔ اس کشمکش میں ابھرنے والی قوتوں اور غالب قوتوں کے درمیان تعلق کی مساوات فیصلہ کن ہوگی۔ اس کشمکش کا آج نمایاں ترین مظہر یہ ہے کہ چین کی قیادت میں ( مع اپنے حلیف روس کے) ایشیائی، یوریشیائی مشرق مسلسل اوپر اٹھ رہا ہے، اور اس عروج کی قیمت ادا کرتے ہوئے امریکہ کی قیادت میں (مع اپنے یوروپین حلیفوں کے) اٹلانٹک مغرب پسپا ہورہا ہے۔ 

یوکرین کی حالیہ جنگ نے اس کشمکش کو شدید کردیا ہے اور اس کی تیزی میں اضافہ کردیا ہے۔ ہمارے اندازے کے مطابق اس جنگ کے اسٹریٹیجکل نتائج ایشیائی، اوریشیائی مشرق کے حق میں ہوں گے، گو کہ آج روس بڑی صعوبتوں اور دقتوں کا سامنا کررہا ہے، اور جنگ کی بھاری قیمت ادا کررہا ہے۔ ہم نے واضح کیا ہے کہ چین کی اٹھان کو لے کر اسٹریٹیجکل نظریہ سازوں میں اختلاف ہے، بعض اس سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں، جیسے محبوبانی ہے وہ اسے عالمی نظام میں ایک پسندیدہ توازن کی نظر سے دیکھتے ہیں، میرشایمر کی طرح کچھ اندیشہ ناک ہیں، وہ اسے عالمی ٹکراؤ کی طرف کھلا راستہ قرار دیتے ہیں، کچھ لوگ کیون رڈ (Kevin Rudd) کی طرح ہیں جو ابھرتی ہوئی قوتوں اور غالب قوتوں کے درمیان ہم آہنگی اور بقائے باہم کے لیے کوشاں ہیں۔ 

عالمِ اسلام کی حیثیت ابھی بھی ایک منفعل کی ہے جو دوسروں کی بنائی ہوئی اسٹریٹیجی اور دوسروں کے اختیار کیے ہوئے اسٹریٹیجکل اقدامات کے زیر اثر رہتا ہے، وہ ابھی تک فاعلیت کے مقام کو نہیں حاصل کرسکا ہے، کہ اس کے پاس ارضی سیاسیات کا واضح شعور ہو۔ حالاں کہ اسلامی سیاسی جغرافیہ کی ہیئت اور جائے وقوع اسے دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسٹریٹیجکل پوزیشن فراہم کرتے ہیں، اسے ثمر آور بنایا جاسکتا ہے اگر عالمِ اسلام شکستہ خطے کی اس پوزیشن سے باہر آجائے جس میں وہ آج مبتلا ہے۔ آج عالمِ اسلام اس مقام پر ہے جہاں ابھرتے ہوئے مشرق اور غالب مغرب کے درمیان شعلوں کا تبادلہ ہوگا۔ اسے اس بات کا شدید خطرہ لاحق ہے کہ اس جنگ میں وہ چکناچور خطہ (crush area) بن جائے جس میں ایک طرف بالادستی کے لیے بے تاب مشرق ہے تو دوسری طرف استعمار کی تاریخ سے چمٹا ہوا مغرب ہے۔ 

بڑی طاقتوں کے درمیان جب کشمکش ہوتی ہے تو وہ کم زور اقوام کو پینترے چلانے  کے لیے حاشیہ دے دیا کرتی ہیں۔ عالمِ اسلام نے عراق اور افغانستان میں اور بہار عرب کے انقلابات میں یک قطبی قوتوں کے لیے بھاری قیمت ادا کی۔ نئی عالمی تقسیم عالمِ اسلام کے سامنے مزید راستے کھولے گی جہاں اسے بڑے عالمی کھلاڑیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ ان کے شر سے محفوظ رہ سکے۔ بہرحال طویل مدتی درست اسٹریٹیجی یہی ہوگی کہ اسلامی اسٹریٹیجکل قوت تشکیل پائے جو اسلامی تہذیب کی اقوام کو خود کار قوت مدافعت عطا کرے اور اسے بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھ سکے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ وحدت کے بغیر کوئی قوت مدافعت نہیں ہوتی ہے۔ اور اسلامی اسٹریٹیجکل ارادے کی وحدت ممکن ہے، جس طرح مغربی اسٹریٹیجکل ارادے کی وحدت ایک واقعاتی حقیقت بنی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ رضامندی کے طریقے سے ہو اور میسر زمان و مکان اور امکان کے مطابق ہو۔ وحدت اور اسٹریٹیجکل تحفظ کے حصول میں اس چیز سے کافی مدد مل سکتی ہے کہ کوئی ایک مرکزی ملک (یا ملکوں کا مجموعہ) اوپر اٹھ کر عالمِ اسلام کی قیادت کرے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترکی اس مشن کی اہلیت کے لیے بہترین ملک ہے۔ دوسرے کچھ اسلامی ملک بھی ہیں جو اس راہ میں بڑی پیش قدمی کرچکے ہیں، اسی طرح کچھ ملک اور ہیں جن کے پاس اس کردار کے لیے پوشیدہ امکان موجود ہے، اگر ان میں کچھ سیاسی اور اسٹریٹیجکل پختگی آجائے۔ عالمِ اسلام میں ایک ہی وقت میں کئی اسٹریٹیجکل ٹھکانوں کی اٹھان ضروری ہے نئی تہذیبی پرواز کے لیے۔ 

تمام مسلم ملکوں سے یہ مطالبہ سیاسی حکمت کے خلاف ہے کہ وہ مطلق طور سے مشرق یا مغرب کی طرف جھک جائیں، لیکن اسٹریٹیجکل ارادے کی وحدت عالمِ اسلام کو یہ قدرت عطا کرے گی کہ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ برابری کی سطح پر کھڑے ہوکر معاملہ کرے۔ ہمیں لگتا ہے کہ چین کے ساتھ ٹیکٹیکل قربت عالمِ اسلام کو آنے والے وقت میں مطلوب پینترے اختیار کرنے کے لیے زیادہ گنجائش دے گی، جیسا کہ بیسویں صدی کے نصف میں آزادی کی جنگوں کے دوران ہوا تھا۔ اس ٹیکٹیکل قربت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چین اپنے آپ میں مغرب سے بہتر ہے، یا وہ مغرب کے مقابلے میں اسلامی ثقافت اور قدروں سے قریب تر ہے۔ واقعہ تو یہ ہے کہ مغرب اسلامی تہذیب کے ساتھ بعض دینی ورثوں میں اشتراک رکھتا ہے، اسی طرح جمہوری سیاسی قدروں کے جوہر میں بھی وہ شریک ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ مغرب کے پاس عالمِ اسلام میں اسٹریٹیجکل دخل اندازی کے وہ وسائل ہیں جو اسے چین کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور زیادہ نقصان دہ بنادیتے ہیں، جس کے پاس عالمِ اسلام کے ساتھ تعلقات خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس کا اپنی مسلم اقلیت کے ساتھ قابل مذمت سخت گیر رویہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ با وزن مسلم ملکوں کے ساتھ بڑے سمجھوتوں کے ضمن میں اس خرابی کی اصلاح ممکن ہے۔ مغرب کی طرح روس کا بھی عالمِ اسلام میں اسٹریٹیجکل دخل اندازی کا معاملہ ہے۔ گوکہ مغرب سے کم درجے کا ہے۔ ماضی میں اس کا وسطی ایشیا میں نفوذ، اسّی کی دہائی میں افغانستان میں سنگین جرائم کا ارتکاب اور آخری دہائی میں شام میں اس نے جو کچھ کیا وہ پیش نظر رہنا چاہیے۔ 

یہ بات یقینی ہے کہ اسلامی اسٹریٹیجکل فیصلے کو آزادی ہی حاصل نہیں ہوسکتی ہے، چہ جائے کہ اسلامی اسٹریٹیجکل ارادے کی وحدت وجود میں آئے، جب تک مغربی اور روسی اسٹریٹیجکل دخل اندازی باقی ہے جس کی عمر دو صدیوں کو محیط ہے۔ تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نے اس مطالعہ کے شروع میں احمد حسن زیات کی یہ بات ذکر تھی کہ سرزمین فلسطین پر اسلامی مشرق دو بار طلوع ہوا اور مسیحی مغرب دو بار غروب ہوا، پہلی بار خلیفہ عمر بن خطابؓ (586-644م) کے دور میں اور دوسری بار قائد صلاح الدین ایوبیؒ (1138-1193م) کے ہاتھوں۔ ابھی بھی قدس عالمِ اسلام اور مغرب کی کشمکش کے عین وسط میں واقع ہے، مغرب کی ضد ہے کہ اس کی قائم کردہ اور زیر سرپرستی یہودی ریاست کے گرد و پیش میں اسلامی اسٹریٹیجکل ماحول کو گھاس پھوس کی طرح بے اثر رکھا جائے، اور عالمِ اسلام اور خاص کر عالم عرب کو شکستہ خطے کی حیثیت میں ہمیشہ باقی رکھا جائے۔ 

مغرب مسلسل مسلم اقوام کے مستقبل سے کھلواڑ کررہا ہے۔ اس کے لیے وہ عہد استعمار سے وراثت میں ملے اثرات و نفوذ کو استعمال کرتا ہے جو عالمِ اسلام کے اندرون میں اسے حاصل ہے اور وہ مشرقی عالمی طاقتوں کو اس طرح حاصل نہیں ہے۔ وہ ان اقوام کو ایسی ہر جمہوری تبدیلی سے محروم رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو انھیں اسٹریٹیجکل ارادے کی آزادی عطا کردے، جیسا کہ ہم نے دیکھا اور مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ عرب بہار کی انقلابی کوششوں میں اس کا کیسا منافقانہ کردار رہا۔ اس لیے عالمِ اسلام کا کوئی مستقبل نہیں ہے جب تک مغرب کے اس کھلواڑ پر روک نہ لگائی جائے جو وہ عالمِ اسلام کی اقوام کے مستقبل اور اس کے ملکوں کے امکانات کے ساتھ کررہا ہے۔ اس کے بعد ہی اسلامی مشرق کے طلوع کا آغاز ہوگا، (جس طرح ہمارے اس زمانے میں ایشیائی، یوریشیائی مشرق طلوع ہونا شروع ہوا ہے)، اور تبھی مسلمان عالمی قوتوں کے درمیان ہونے والے بڑے اتار چڑھاؤ میں اپنی صحیح پوزیشن بناسکیں گے۔ 

عالمِ اسلام کا مستقبل اس پر موقوف ہے کہ اس کی سیاسی اور تہذیبی قیادت موجودہ زمانے میں عالمی قوتوں کی بدلتی پوزیشنوں سے صحیح آگہی حاصل کرے، نیز گہرے سیاسی شعور اور لطیف اسٹریٹیجکل حس کے ساتھ ان کے ساتھ بہتر تعامل کرے۔ میری آرزو ہے کہ اس مطالعہ میں عالمی نظام میں ہونے والی جن بڑی تبدیلیوں پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے، اور اسلامی سیاسی جغرافیہ کی جس وحدت کو سامنے لایا گیا ہے، اس سے مزید شعور پانے کا اور مزید کوشش کرنے کا جذبہ ملے، تاکہ اسلامی اسٹریٹیجکل ارادے کی وحدت کا خواب پورا ہو، اس کے ذریعے مسلمانوں میں باہم نصرت و تقویت کا رشتہ قائم ہو، جس کی بنیاد مضبوط تہذیبی قرابت داری اور ٹھوس ارضی حقائق ہوں۔ میری آرزو یہ بھی ہے کہ اس مطالعہ کے ثمرات مزید غور و فکر پر ابھاریں جس سے عالمِ اسلام کو حاصل مواقع اور درپیش چیلنج مزید بے نقاب ہوں۔ اس وقت عالمِ اسلام کو شدید ضرورت ہے کہ اسے اپنے سامنے کھلنے والے ہر روزن اور دروازے کی خبر رہے اور اس کے پاس ملنے والے ہر موقع کو استعمال کرلینے کی استعداد رہے، ایسے عالمی حالات میں جو کم زوروں اور نکمّوں کے اوپر ذرا ترس نہیں کھاتے۔ 

حوالہ جات: 

 (91)
James Fairgrieve, Geography and World Power (London: University of London Press, 1927), p. 329. 

(92)
عبد المنعم سعید، الجماعة الأوروبیة: تجربة التكامل والوحدة (بیروت: مركز دراسات الوحدة العربیة، 1986)، ص 16. 

(93)
عبد الرحمن الكواكبی، أم القرى (بیروت: دار الرائد العربی، 1982)، ص 237. 

(94)
دیکھیں: عبد الرزاق السنهوری، فقه الخلافة وتطورها لتصبح عصبة أمم شرقیة (دمشق: مؤسسة الرسالة ناشرون، دون تاریخ)، ص 340. 

(95) مالك بن نبی، فكرة كمنویلث إسلامی، ترجمة الطیب الشریف (دمشق: دار الفكر، 2000)، ص 15. 

(96)
18-04-2023 تک کے مشاہدے کے مطابق اس تنظیم کی ویب سائٹ پر اس کے تعارف میں یہی بات مذکور ہے: 

https: //www.oic-oci.org/page/?p_id=56’p_ref=26’lan=ar 

(97)
ابن خلدون، المقدمة، كتاب العبر ودیوان المبتدأ والخبر فی أیام العرب والعجم والبربر ومن عاصرهم من ذوی السلطان الأكبر (بیروت: دار الفكر، 1988)، ج1، ص 162. 

(98) مالك بن نبی، فكرة الإفریقیة الآسیویة، ص 126. 

(99) بن نبی، فكرة كمنویلث إسلامی، ص 70. 

(100) حوالہ سابق، ص 71. 

(101) بن نبی، فكرة الإفریقیة الآسیویة، ص 126. 

(102) دیکھیں: مالك بن نبی، القضایا الكبرى (دمشق: دار الفكر، 2000)، ص 46. 

(103) مالك بن نبی، فكرة الإفریقیة الآسیویة، ص 255. 

(104) حوالہ سابق، ص 255. 

(105) بن نبی، وجهة العالم الإسلامی، ص 182. 

(106) حوالہ سابق، ص 183. 

(107) حوالہ سابق، ص 13 من تقدیم محمد المبارك. 

(108) هنتنغتون، صدام الحضارات، ص 254. 

(109) حوالہ سابق، ص 255. 

(110) حوالہ سابق، ص 254. 

(111) حوالہ سابق، ص 291. 

(112)
Mohamed El-Moctar El-Shinqiti, “Defensive Jihad: Islamization of the Turks and the Turkification of Islam.” İnönü University International Journal of Social Sciences, Turkey, (June 2017), p.1-21. 

(113)
یوروپی قوت کے مثلث اور اس کے روایتی توازن کے لیے دیکھیں: حمدان، استراتیجیة الاستعمار والتحریر، ص 147. 

 

اکتوبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau