نقد و تبصرہ

مولانا محمد جرجیس کریمی

گھریلو تشد د اور اسلام

مصنف     :               ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

صفحات     :               ۸۰          ٭ قیمت=/۳۰روپے

ناشر          :               مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی۔۲۵

موجودہ عہد کا ایک بہت سنگین مسئلہ گھریلو تشدد ہے۔ کوئی ملک اس سے محفوظ نہیں ہے۔ تمام سماجوں، نسلوں اور طبقات میں یہ وبا عام ہے۔ ۱۹۹۹    میں ۳۵ ممالک میں کرائے گئے ایک سروے سے واضح ہوتا ہے کہ ۵۲ فیصد عورتیں زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنے شوہر یا رفیق حیات کی جانب سے تشد د کا شکار ہوئی تھیں۔ مجموعی طور سے دیکھا جائے تو دنیا کی ایک تہائی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ادارہ عالمی صحت (W.H.O.) کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں مقتول ہونے والی عورتوں میں سے چالیس فیصد ایسی ہوتی ہیں جن کے قتل کرنے والے ان کے شوہر یا بوائے فرینڈ ہوتے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں عورتوں کے اسباب موت میں گھریلو تشدد کو کینسر کی طرح خطرناک قرار دیاگیا ہے۔ گھریلو تشدد کی مختلف صورتیں ہیں، جسمانی یعنی مارپیٹ ، جنسی یعنی بالجبر جنسی عمل ، مالی یعنی عورت کی کمائی یا ملکیت کی چیز پر قبضہ کرلینا اور اسے اپنی مرضی سے خرچ نہ کرنے دینا، سماجی یعنی اسے اپنے سے حقیر سمجھنا اور دوسروں کے سامنے ذلیل کرنا، جذباتی یعنی کوئی ایسا کام کرنا جس سے عورت کے جذبات مشتعل ہوں، اسے غصہ آئے یا وہ رنج وغم میں مبتلا ہو، نفسیاتی یعنی اسے ڈرانا دھمکانا یا باتوں سے اسے اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا کرنا۔ یہ تمام صورتیں گھریلو تشدد کے دائرے میں آتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب اسی موضوع سے متعلق عالمی صورت حال کے جائزے پر مشتمل ہے۔ ساتھ ہی اس میں اسلام کا نقطۂ نظر بھی پیش کیاگیا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب ایک تمہید اور چار ابواب پر مشتمل ہے۔ تمہید، مظلومیت نسواں کا تسلسل کے عنوان سے ہے ۔ اس میں زمانۂ قدیم سے دورحاضر تک عورتوں پر ہونے والے مظالم کی داستان رقم کی گئی ہے۔ باب اول ’’ گھریلو تشدد ۔ موجودہ صورت حال ‘‘سے بحث کرتا ہے اور باب دوم میں ’’گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے عصری قوانین‘‘ کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ باب سوم میں ’’گھریلو تشدد روکنے کے لیے اسلام کی تدابیر‘‘ سے بحث کی گئی ہے۔ باب چہارم ’’غیروں کے ستم ،اپنوں کی کرم فرمائیاں‘’ کے عنوان سے اس میں اسلام کی بعض تعلیمات پر وارد ہونے والے اعتراضات کا جائزہ لیاگیا ہے۔ اس طرح یہ اپنے موضوع پر ایک جامع کتاب ہے۔

علی گڑھ میں۲۰۰۹؁ءمیں ’’خاندانی نظام اور قرآنی تعلیمات‘‘ کے مرکزی موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا تھا ۔ فاضل مصنف نے یہ مقالہ اسی کے لیے تحریر فرمایا تھا۔ بعد میں اس کے مزید مشمولات کا خاکہ ان کے ذہن میں ابھرا ۔ اس طرح یہ کتاب تیار ہوگئی۔ یقینا فاضل مصنف نے عہد حاضر کے ایک سلگتے ہوئے موضوع پر اسلام کی ترجمانی کا حق ادا کردیا ہے۔ کتاب کے آخر میں ایک نازک بحث ’’عورت کی تادیب‘‘ سے متعلق ہے ،بعض حضرات اسلام کی اس تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام نے بھی عورت پر تشدد روا رکھا ہے ۔ اس اعتراض پر اسلام کے بعض نام لیوا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ فاضل مصنف نے دونوں رویوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور معتدل ومتواز ن نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔

﴿محمد جرجیس کریمی﴾

عالم انسانیت کو ﴿اسلام کی ﴾ دعوت (Calling Humanity)

مصنف     :   شمیم احمد صدیقی

صفحات : ۲۵۱+۳۴، قیمت: ۹۵ ۱ امریکی ڈالر

ناشر :         فورم فار اسلامک ورک،۲۶۵۔ فلیٹ بش اوینیو، بروک لِن، نیویارک۔۱۱۳۵۵

عالمی تحریکاتِ اسلامی کی کوششوں کے نتیجے میں کارِ دعوت سے دلچسپی پیدا ہوئی تو دنیا کی مختلف زبانوں میں دعوت کی اہمیت، ضرورت اور طریق کار کے موضوع پر کتابیں منظر عام پر آئیں۔ موجودہ دور میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں ایسی کتابوں کی ضرورت اور بھی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ زیر نظر انگریزی کتاب اس ضرورت کو پورا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس کتاب کے مصنف جناب شمیم احمد صدیقی ۴۸ سال ہندوستان اور پاکستان میں گزارنے کے بعد ۳۵ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں ۔ یہ کتاب اس موضوع سے ان کی گہری دلچسپی کی مظہر ہے اور اس میں میدانِ دعوت میں ان کے طویل تجربات کا نچوڑ آگیا ہے۔

یہ کتاب مقدمہ، چار ابواب اور چند ضمیموں پر مشتمل ہے۔ مقدمے میں مصنف نے چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کے حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانیت بھٹک رہی تھی، اسے سیدھی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ آپﷺ  نے اللہ کا دین نافذ کرکے دکھایا اور اسلام کو انسانیت کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پیش کیا۔ آگے انھوں نے لکھا ہے کہ موجودہ دور میں تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ ظلم وجبر، عدمِ تحفظ، انسانی حقوق کی پامالی، عدم مساوات ، عورتوں کی بے وقعتی اور دیگر برائیاں عالمی سطح پر عام ہیں۔ ان کی اصلاح کے لیے اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے۔ مسلمانوں کی دوہری ذمے داری ہے کہ وہ اپنے مقام ومرتبے کو پہچانیں اور دوسرے انسانوں تک اللہ کا دین پہنچائیں۔ باب اول میں بتایاگیا ہے کہ مدعوئین کون ہیں او رانھیں کیسے مخاطب کیا جائے؟ مصنف نے یہود، نصاریٰ ،روایتی مسلمان، ہندو ، بدھ مت کے پیروکار، سیکولر اور ملحدین کو مدعو قرار دیتے ہوئے ہر ایک کے امتیازات و خصائص پر روشنی ڈالی ہے۔ باب دوم کا عنوان ہے: دعوت الی اللہ: تصور، تقاضے، ترجیحات اور طریقۂ کار ۔ اس باب میں فاضل مصنف نے بتایا ہے کہ دعوت سے کیامراد ہے؟ اس کام کے لیے بنیادی طور پر کن چیزوں کی ضرورت ہے؟ اس کے کتنے مراحل ہیں؟ اس کی کیا ترجیحات ہیں؟ انھوں نے دعوت کے تین مراحل قرار دیے ہیں: اپنی ذات کو دعوت، خاندان کو دعوت اور سوسائٹی کو دعوت۔ دعوت کی مادی ضروریات میں انھوں نے دعوت لٹریچر، دعاۃ و مربّیین کی تیاری، ٹریننگ ورک شاپس اور ریفرنس لائبریری کو گنایا ہے۔ تیسرے باب میں فاضل مصنف نے امتِ مسلمہ کے مقام اور اس کے تقاضوں سے بحث کی ہے۔ اس کے تحت انھوں نے ان سوالات کے جوابات دیے ہیں: اسلام کیا ہے اور اس کا صحیح فہم حاصل کرنے کے وسائل وذرائع کیا ہیں؟ اسلام اس دنیا میں کیوں آیا ہے؟ امتِ مسلمہ کیوں برپا کی گئی؟ اقامت دین کا فریضہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن کیسے پورا کیا؟ قابل اعتماد قائدین اور دعاۃ کی ٹیم کیسے تیار کی جائے؟ مؤخرالذکر سوال کا جواب انھوں نے یہ دیا ہے کہ جہاں جہاں اسلامی تحریکات کام کر رہی ہیں وہیں ان سے رابطہ رکھا جائے اور جہاں تحریکات نہیں ہیں وہاں کور گروپ (Core Group) تیار کیے جائیں۔ کورگروپ کا ایجنڈا کیا ہو؟ اس پر بھی مصنف نے روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق صالح افراد کی تلاش، مسائل کی ر وشنی میں دعوت لٹریچر کی تیاری، سوسائٹی سے منکر کا ازالہ، مثالی مسلم امت کی تشکیل ، انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر خدمت انسانیت اور ملکی انتخابات میں شرکت اس ایجنڈے کے اہم نکات ہیں۔ باب چہارم میں مصنف نے داعی کے مطلوبہ اوصاف پرروشنی ڈالی ہے۔

کتاب کے شروع میں ڈاکٹر جاوید جمیل چیئرمین انٹرنیشنل سنٹر فار اپلائڈ اسلامکس نئی دہلی کا مقدمہ اور مصنف کے چند احباب کے تاثرات ہیں۔ ان حضرات نے بجا طور پر مصنف کی اس علمی کاوش کو سراہا ہے، میدانِ دعوت میں سرگرم لوگوں کے لیے مفید گائیڈ بک اور دعوت لٹریچر میں اہم اضافہ قرار دیا ہے۔ دوباتوں کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے: ایک یہ کہ کتاب میں امریکی پس منظر بہت ابھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پوری کتاب میں اس کی مثالیں کثرت سے ہیں۔ مثلاً مصنف نے مدعوئین کی ایک قسم روایتی مسلمانوں کی بیان کی ہے۔ اس ضمن میں ان کے پیش نظر صرف امریکی مسلمان ہیں۔ ﴿ص۳۴۔۳۶،۴۷،۵۰﴾ دعوت کی ترجیحات انھو ںنے صرف امریکی معاشرے کے تناظر میں بیان کی ہیں۔ ﴿ص ۹۱۔۹۳﴾ مراحل اورطریقۂ کار کی بحث میں انھوں نے امریکہ میں تحریک اسلامی کے مستقبل پر روشنی ڈاشلی ہے ﴿ص:۱۲۴﴾ وغیرہ۔ زیادہ بہتر تھا—جیسا کہ ڈاکٹر محمد رفعت مدیر زندگی ٔ نو نے کتاب پر اپنے تاثرات میں، جو کتاب میں شامل ہے، لکھا ہے — کہ دعوت سے متعلق تمام بحثیں اصولی طور پر الگ پیش کی جاتیں اور خاص امریکہ میں دعوتی ترجیحات اور دیگر متعلقہ مسائل کو الگ سے ایک یا ایک سے زائد ضمیموں میں بیان کیا جاتا۔ ﴿ص xx﴾دوسری بات یہ کہ عربی زبان سے مصنف کی واقفیت بس واجبی سی ہے، اس لیے حوالوں، اقتباسات اور الفاظ کے تلفظ میں ان سے کثرت سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ مثلاً ابوداؤد کو Dawood، نساء ی کو Nisaai ﴿ص ۷۹﴾مغیرہ بن شعبہ میں دوسرے لفظ کو Sheba ﴿ص ۱۳۹﴾ حدیث کے لفظ ’لاتُعْبَدْ‘ کو La tabud ﴿ص ۸۹﴾ لکھا گیا ہے۔ احادیث کے حوالے یا تو نہیں ہیں یا ناقص ہیں۔ ایک حدیث کا حوالہ مولانا مودودی کی کتاب سیرت سرورعالمﷺ  سے دیاگیا ہے ﴿ص:۸۶﴾ سیرت ابن ہشام کے حوالے ناقص ہیں۔ قرآنی سورتوں کا کہیں نام درج کیا گیا ہے تو کہیں نمبر۔ عربی الفاظ کو انگریزی میں کس طرح لکھا جائے، اس کے لیے Transliteration کے بین الاقوامی ضوابط ہیں۔ عربی حروف ث، ح، د، ص، ض، ط،ظ کے انگریزی تلفظ کے لئے کچھ Diacriticals طے ہیں۔ اس کتاب میں ان کی رعایت نہیں کی گئی ہے۔

بہ حیثیت مجموعی دعوت کے موضوع پر یہ ایک مفید کتاب ہے۔ امید ہے، مختلف ممالک میں میدانِ دعوت میں سرگرم افراد اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

﴿محمد رضی الاسلام ندوی﴾

جولائی 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau