یوسف علیہ السلام، مسلمان اقلیتوں کے لیے نمونہ

علی محی الدین قرۃ داغی | ترجمہ: ذکی الرحمن غازی فلاحی

اچھا كردار

سورۂ یوسف میں عزیزِ مصر کا کردار ایک بھلے اور شریف غیر مسلم سرکاری اہل کار کا کردار نظر آتا ہے جس نے  ایک غیر ملکی اجنبی غلام کے ساتھ انسانی بنیادوں پر حسنِ سلوک کیا۔  حضرت یوسفؑ کو خرید کر وہ جس دم گھر میں داخل ہوا،اسی وقت اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اس کو اچھی طرح رکھنا۔ پھر ایک دن جب وہ اپنے دفتر سے لوٹا تو گھر کے دروازے پر دیکھتا ہے کہ حضرت یوسفؑ اور اس کی بیوی ،دونوں دوڑتے ہوئے گھر سے باہر نکل رہے ہیں۔ وہ جلد بازی اور جذباتیت سے کام نہیں لیتا۔ اس کے خاندان کا ایک شخص قرینۂ حال کی گواہی پیش کرتا ہے جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ جرم اور خیانت کا ارادہ زلیخا کا تھا، حضرت یوسفؑ بے گناہ ہیں۔ اس پر وہ حضرت یوسفؑ سے درخواست کرتا ہے کہ اس معاملے سے درگزر کریں اور بات کو یہیں  دبا دیں۔ بلاوجہ بات پھیلے گی تو سب کی بدنامی ہوگی۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تو اپنے قصور کی معافی مانگ،تو ہی اصل مجرم ہے۔

اس نے فی الفور بیوی کی باتوں میں آکر کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا۔ زلیخا نے اسے ورغلانے کی کوشش کی اور حضرت یوسفؑ پر تہمت دھرنی چاہی ۔ اس نے دروازے پر اپنے شوہر کو دیکھتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلااور کہنے لگی کہ کیا سزا ہوگی اس شخص کی جو تیری گھروالی پر نیت خراب کرے؟ اس کے سوا کیا سزا ہو سکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے۔مگر عزیزِ مصر نے جذباتیت اور اندھے پن کے بجائے پختہ عقلی کا ثبوت دیا اورقرینۂ حال کی گواہی کے تحت جب اس نے یوسفؑ کی قمیص کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو بیوی کو تیز لہجے میں ڈانٹا اور اس کے مگرمچھی آنسوئوں کو اس کا سوانگ اور مکاری قرار دیا۔ قرآن کے مطابق اس نے کہا کہ یہ تم عورتوں کی چالاکیاںہیں،واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ اے عورت،تو اپنے قصور کی معافی مانگ،توہی اصل میں خطاکار ہے۔ (دیکھیں سورۂ یوسف:۲۸-۲۹)

حق تلخ اور سخت ہوتا ہے،مگر  آج كے مسلمانوں كااپنا جائزه لینا چاهیے۔ اگر اس طرح کا واقعہ آج کسی مسلمان سربراہِ مملکت یا کسی  سرکاری اہل کار کو پیش آجائے تو وہ كیا طرز اختیار كرے گا۔ اس طرح کے نہ جانے کتنے واقعات آتے رہتے ہیں جن پر خاموشی سے پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت كیا جاتا هے۔

شاهِ مصر كا كردار

حضرت یوسفؑ کی زندگی میں بھلے اور انصاف پسند غیر مسلم کا کردار ہمیں شاہِ مصر کے اندر بھی نظر آتا ہے۔ قرآنی اشارات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہن کا صاف و دانش مند ہوشیار اورمشاق تھا۔ ذاتی مفادات واغراض پر وہ قومی مصلحت اور ملکی فائدے کو ترجیح دیتا تھا۔علم اور اہلِ علم کی اس کے دربار میں پذیرائی اور قدر افزائی ہوتی تھی۔حضرت یوسفؑ نے اس کے خواب کی تشفی بخش تعبیر بیان کر دی۔ اس خواب کی روشنی میں آئندہ سالوں کا واضح نقشۂ کار بھی بیان کر دیا۔ اگر شاہِ مصر ناشناسِ جوہر ہوتا تو اس پر اکتفا کرکے بیٹھ جاتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اصرار کرکے حضرت یوسفؑ کو ملاقات کے لیے بلایا۔

شاہِ مصر نے معاملے کو پردۂ خفاء میں نہیں رکھا،بلکہ درست تعبیر کے ذریعے ملک اور قوم کو تباہی سے بچانے کا سہرا اس نے ایک اجنبی غلام کے سر باندھنا پسند کیا حالانکہ وہ غلام اس وقت جیل کی کال کوٹھری میں بند تھا۔آج نہ جانے کتنے عظیم الشان آئیڈیاز اور اسکیمیں ہیں جو وزیرِ بے تدبیر کسی مشیر کی رہنمائی میں سمجھ اور جان پاتے ہیں مگر پبلک(عوام) میں انہیں اپنی اختراعی صلاحیتوں کا شاہکار بناکر پیش کرتے ہیں۔ کیا سورۂ یوسف میں بادشاہِ مصر کا کرداراعلیٰ دکھائی نہیں دیتا؟

شاہِ مصر کی عظمت کا نقش مزید ایك واقعے سے گہرا ہوجاتا ہے ۔ حضرت یوسفؑ نے سرکاری بلاوے پرملنے سے انکار کر دیا اور شرط رکھی کہ پہلے ان عورتوں کے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیق وتفتیش کی جائے جن کی وجہ سے انہیں قید وبند کی صعوبتیں جھیلنا پڑی ہیں۔حضرت یوسفؑ کے اس پختہ اصولی موقف کے مقابلے میں بادشاہ نے سبکی محسوس نہیں کی۔ وہ ناراض نہیں ہوا۔بلکہ اس نے ان کی درخواست قبول کی اور بہ ذاتِ خود ان کے کیس کی فائل کھلواکر تحقیق وتفتیش کی اور جلد ہی اس کے سامنے حضرت یوسفؑ کی بے گناہی اور عظمت چڑھتے سورج کی طرح بے غبار ہوگئی۔چنانچہ اس کے بعد حضرت یوسفؑ کو بلایا گیا تو وہ تشریف لائے۔ بادشاہ نے خواہش ظاہر کی کہ حضرت یوسفؑ اس کے مشیرِ خاص بن جائیں۔

بادشاه كی پیش كش

سرکاری صلاح کار کا منصب بھی کوئی معمولی نہیں ہوتا۔ بادشاہ نے درباریوں سے کہا کہ انہیں پورے اعزاز سے میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں۔ مگر جب براہِ راست گفت وشنید کا موقع ملا تو اسے پتہ چلا کہ حضرت یوسفؑ کے اندر  غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ چنانچہ اس کی نگاہِ جوہر شناس میں حضرت یوسفؑ کی قدر ومنزلت کئی گنا بڑھ گئی۔ اس نے کہا اب آپ ہمارے ہاں بڑی عزت ورسوخ رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر ہمیں پورا بھروسا ہے۔یعنی اب آپ کو یہ اختیار ہے کہ جس اعلیٰ حکومتی منصب پر آپ چاہیں متمکن ہوجائیں اور منصوبوں اور اسکیموں کو روبہ کار لائیں۔آپ کے پاس اعلیٰ علمی وعقلی صلاحیت بھی ہے اور امانت ودیانت بھی ۔

یه باتیں سن کر حضرت یوسفؑ نے اپنے لیے وہ منصب تجویز کیا جس کے تعلق سے ان کا خیال تھا کہ اس کے ذریعے وہ بہترخدمت کر سکیں گے اور اپنی اچھی کارکردگی کی بدولت بڑی تعداد میں عوام وخواص کو دینِ ابراہیمی کی عظمت وبرکت کا قائل کر پائیں گے۔چنانچہ فرمایا کہ ملک کے خزانوں کا نظم وانصرام میرے سپرد کر دیجیے۔ میں حفاظت بھی کروں گا اور علم بھی رکھتا ہوں۔ حقیقتاً یہ منصب جدید دور کی اصطلاح میں چار وزارتوں کا مجموعہ تھا۔ اس کے دائرے میں وزارتِ مالیات، وزارتِ زراعت وباغبانی، وزارتِ تجارت وکاروبار اور وزارتِ تغذیہ اور سماجی بہبود آتی ہیں۔بادشاہ نے یہ منصب تفویض کر دیااور ان شعبوں میں ان کی کارکردگی سے متاثر ہوکر جلد ہی وزارتِ داخلہ یا عزیزِ مصر کا منصب بھی ان کے حوالے کر دیا۔ دستوری لحاظ سے شاہِ مصر پھر بھی علی حالہ مصر کی بادشاہی کے منصب پر باقی رہا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ کریم میں بادشاہ کے خواب کا تذکرہ کیا ہے جو ایک سچا خواب تھا۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ بادشاہ غیر مسلم تھا،مگر اس کا خواب قرآن کی روشنی میں سچا ثابت ہوا۔ اس سے یہ دلیل نکلتی ہے کہ بسااوقات کافر اور مشرک بھی سچے خوابوں کو دیکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔

یہ قرآنی قصہ پوری وضاحت کے ساتھ بتارہا ہے کہ کسی بھی ملک کی مسلمان آبادی اس وقت تک وہاں کی غیر مسلم اکثریت کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتی اور  ملک کے اعلیٰ عہدوں اور منصبوں تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ وہ علم کے جوہر سے آراستہ نہ ہو اور سماج کی فلاح وبہبود کے لیے اس کی خدمات ناقابلِ انکار حد تک نمایاں نہ ہوجائیں اور انفرادی واجتماعی ہر سطح پر وہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ نہ کرنے لگے۔ حضرت یوسف علیہ السلام كا كردار یہی تھا۔

وطن كی خیر خواہی

مسلمان جہاں کہیں رہے وہ زندگی،زندہ دلی اور امن وآشتی کا نقیب ہوتا ہے۔ضرر رسانی اس کی ذات کا خاصہ نہیں ہواکرتی۔سورۂ یوسف کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے ایک نیك بندے نے  ملک اور قوم کی بڑی مفید خدمت کی، انہیں موت کے منھ میں جانے سے بچایا اور قحط کی تباہ کاریوں سے نجات دی۔انہوں نے نہایت معقول تدابیر اختیار کرکے ملک کی فلاح وبہبود کے لیے کوشش کی۔ یقینا یہ اللہ کا ان پر اور اہلِ مصر پر بڑا انعام تھا۔

اسی طرح مسلمان اقلیت کے اوپر وطن کے ساتھ خیر خواہی کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔انہیں اپنے وطن کو بچانے اور ترقی و تعمیر کے راستے پر آگے بڑھانے کے لیے استطاعت بھر خدمات انجام دینی چاہئیں۔ جو علمی وسائنسی خدمت بن پڑے کرنی چاہیے۔نئے خطوط پر عوامی فلاح وبہبود کے منصوبے سوچنے چاہئیں۔حضرت یوسفؑ نے یہی کیا تھا۔انہوں نے مصر اور اطراف ونواح کے علاقوں کو شدید قحط کے نقصانات سے بچایا۔ اگرپیشگی تیاری نہ کر لی گئی ہوتی تو شاید ملک کی بڑی آبادی لقمۂ اجل بن جاتی اور بستیاں سنسان اور ویران ہوجاتیں۔مگر یوسفؑ نے وسیع معلومات، اختراعی صلاحیت اور نظم وانصرام کے بل پرمسئلے كو حل كیا۔

کسی دوسرے ملک میں جاکر بس جانے اور وہاں کی شہریت لے لینے کے باوجود انسان کو ہمیشہ اپنے وطنِ اصلی کی یاد آتی ہے۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام نے اسے تسلیم کیا ہے۔ سورۂ یوسف سے سبق ملتا ہے کہ انسان کو پردیس میں جاکر اپنے لوگوں اور اپنے شہر کو نہیں بھولنا چاہیے۔ جس حد تک ممکن ہو سکے اپنی قوم اور علاقے کی محبت کا جذبہ دل میں باقی رکھا جائے اور ان کی بھلائی اور ترقی کے لیے جو کچھ خدمت بن پڑ سکتی ہے ضرور کی جائے۔حضرت یوسفؑ نے یہی کیا۔ انہوں نے مصر میں متوطن ہونے کے باوجود گھروالوں کو یاد رکھا۔ بھائیوں کی مدد کی اور رسد وخوراک کا  سامان دیا۔ بعد ازاں اپنے بھائیوں اور والدین کو پورے اعزاز کے ساتھ مصر بلا لیا جہاں انہوں نے زندگی کے باقی ماندہ ایام امن وامان کے ساتھ گزارے۔’’پھر جب یہ لوگ یوسفؑ کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور (کنبے والوں سے) کہا: چلو، اب شہر میں چلو،اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے۔‘‘

استغناء

سورۂ یوسف میں کہیں نہیں ملتا کہ حضرت یوسفؑ نے بادشاہ کے دربار میں یا مصری عوام کے سامنے کبھی ان مصائب ومشکلات کا تذکرہ کیا ہو جو ملکِ مصر آنے کے بعد انہیں پیش آئے تھے۔انہوں نے کنعان میں اپنے گھریلو حالات کا رونا بھی کبھی کسی کے آگے نہیں رویا۔اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ وه دعوت الی اللہ کی فکر لے گئے۔جہاں انہیں موقع ملا انہوں نے عقیدۂ توحید اور اسلامی اخلاق کا تذکرہ بڑے مؤثر انداز میں کیا۔ انہوں نے مصر کے لوگوں کو توحید کا پیغام اور آخرت کی فکر دی۔ان کے ہاتھوں میںمعاشی اور سماجی مسائل اور مشکلات کی فہرست نہیں تھمائی۔ کسی بھی غیر اسلامی ملک میں آباد مسلمانوں کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس ملک میں اپنے آبائی وطن کا ذکرِ خیر ہی کریں۔ ان کے سابق وطن کے اندر اگر کچھ تعمیری اور ایجابی پہلو ملتے ہیں تو انہیں سراہیں۔ پردیس میں اپنے اصل ملک کی برائی اور تحقیر نه كریں۔مغربی اور خلیجی ممالک میں جانے والوں کو اپنے ساتھ اپنے ملک کے مسائل کا پلندہ نہیں لے جانا چاہیے۔ مسلمان مثبت ذہنیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت وعمل سے تعمیری رجحان مترشح ہوتا ہے۔

کسی دوسرے ملک جاکر رہنے والے مسلمان کو اپنے ملک کی تکلیفیں بھلا دینی چاہئیں۔ اب اللہ نے اسے دوسرا وطن دے دیا ہے جہاں وہ  سکون واطمینان کے ساتھ جی رہا ہے۔اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔  اگر وہ اپنے ملک کی اصلاح اور ترقی میں کچھ مدد کر سکتا ہے تو ضرور کرے،مگر اپنے وطن کی سلبی یادیں ذہن سے کھرچ کر پھینک دے۔اس سلسلے میں حضرت یوسفؑ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔

انہیں ان کے وطن میں بھائیوں نے دن رات زک پہنچائی تھی، قتل کی سازش کی تھی اور اندھے کنویں میں لے جاکر پھینکا تھا جہاں سے انہیں ایک قافلے نے نکال کر غلام بنا لیا اور مصر کے بازار میں فروخت کر دیا۔ مصر میں جن مصائب سے انہیں دوچار ہونا پڑا اس کا بالواسطہ سبب ان کے بھائی تھے۔ ان مصائب میں   دامنِ عفت پر تہمت بھی لگی اور ان کی شرافت ودیانت کو لے کر انگلیاں اٹھائی گئیں۔ پھر بھائیوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا تھا۔انہوں نے حضرت یوسفؑ کے بعد ان کے چھوٹے بھائی بنیامین کو بھی پریشان کیا۔ سرِ عام انہوں نے حضرت یوسفؑ کو چور کہا۔بھائیوں نے کہاتھا: ’’یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے۔مگر حضرت یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گئے،حقیقت ان پر نہ کھولی۔ بس زیرِ لب اتنا کہہ کر رہ گئے کہ بڑے ہی برے ہو تم لوگ۔ میرے منھ در منھ مجھ پر جو جھوٹا الزام تم لگارہے ہو اس کی حقیقت اللہ خوب جانتا ہے۔‘‘

انتقام سے گریز

حضرت یوسفؑ نے جیسے کو تیسا والی پالیسی اختیار نہیں کی،حالانکہ اگر وہ ایسا کرتے تو بالکل حق بہ جانب ہوتے۔ غور کیجئے ان کے زیرِ لب جواب پر۔ اس میں بھی وہ اپنے بھائیوں کو ملامت نہیں كرتے۔ان کے الفاظ ہیں:بل أنتم شر مکانا۔جس کا لفظی ترجمہ ہوگا کہ مقام ومرتبے کے لحاظ سے تم لوگ برے ہو۔یہاںوہ چاہتے تو شر کی نسبت ان کے قول وفعل اور دیگر چیزوں کی طرف کر سکتے تھے،مگر اس کے بجائے انہوں نے مقام اور جگہ کی طرف اس کی نسبت کی جس سے بات بہت ہلکی ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ حاکمِ وقت تھے اور چاہتے تو فی الفور مطالبہ کر سکتے تھے کہ ابھی تم نے یوسفؑ کے بارے میں چوری کی جو بات کہی ہے اسے ثابت کرو،ورنہ جھوٹی تہمت لگانے کی سزا کے لیے تیار ہوجائو۔ حضرت یوسفؑ نے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی اور سارا معاملہ اللہ کے اوپر چھوڑ دیا۔فرمایا:’’جو کچھ تم الزام لگاتے ہو اس کی حقیقت سے اللہ خوب واقف ہے۔‘‘ واللّٰہ أعلم بما تصفون۔

بعد میں جب حقائق بے نقاب ہوئے اور شک کی بدلیاں چھنٹ گئیں اور اندھے کو بھی دکھائی دینے لگا کہ برادرانِ یوسف سخت پشیمان ہیں اور ندامت کا احساس ان پر غالب ہے،اس وقت حضرت یوسفؑ نے نفسیاتی اور عملی ہر دو سطح پر ان کے ساتھ نہایت درجہ اعزاز واکرام کا معاملہ کیا۔ ایک لفظ بھی زجر وتوبیخ کا زبان سے نہیں نکالا۔(قَالَ ہَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِیُوسُفَ وَأَخِیْہِ إِذْ أَنتُمْ جَاہِلُون٭قَالُواْ أَإِنَّکَ لَأَنتَ یُوسُفُ قَالَ أَنَاْ یُوسُفُ وَہَـذَا أَخِیْ قَدْ مَنَّ اللّہُ عَلَیْنَا إِنَّہُ مَن یَتَّقِ وَیِصْبِرْ فَإِنَّ اللّہَ لاَ یُضِیْعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِیْن ٭قَالُواْ تَاللّہِ لَقَدْ آثَرَکَ اللّہُ عَلَیْنَا وَإِن کُنَّا لَخَاطِئِیْن٭قَالَ لاَ تَثْرَیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّہُ لَکُمْ وَہُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن اذْہَبُواْ بِقَمِیْصِیْ ہَـذَا فَأَلْقُوہُ عَلَی وَجْہِ أَبِیْ یَأْتِ بَصِیْراً وَأْتُونِیْ بِأَہْلِکُمْ أَجْمَعِیْنَ) (یوسف،۸۹-۹۳) ’’اس نے کہا: تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب کہ تم نادان تھے۔‘‘ وہ چونک کر بولے:ہائیں،کیا تم یوسفؑ ہو؟ اس نے کہا: ہاں،میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا: بہ خدا تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطاکار تھے۔ اس نے جواب دیا: آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے،وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ جائو میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے منھ پر ڈال دو،ان کی بینائی پلٹ آئے گی اور اپنے سب اہل وعیال کو میرے پاس لے آئو۔‘‘ان آیات پر غو رکرنے سے چند باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔

عفوو در گزر

(۱) حضرت یوسفؑ نے بھائیوں کے ماضی کی سیاہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اس کی یہ علت بھی ذکر کر دی کہ اس زمانے میں تم لوگ جاہل اور نادان تھے۔ یعنی جو کچھ تم لوگوں نے کیا وہ جان بوجھ کر اور بری نیت کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ بس نادانی اور طیش کی ایک ہیجانی کیفیت تھی جس میں یہ غلط افعال تم سے سرزد ہوتے چلے گئے۔’’تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب کہ تم نادان تھے۔‘‘

(۲) انہوں نے اس موقعے پر اللہ کے الطاف وعنایات کے ذکر سے گفتگو کا آغاز کیا۔ چنداں ذکر ان مصائب ومشکلات کا نہیں کیا جو راہِ حق میں انہیں پیش آئے تھے۔ ’’ انہوں نے کہا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔‘‘ حضرت یوسفؑ کے اس اندازِ گفتار میں بھائیوں کے لیے نفسیاتی طور پر تسلی کا بڑا سامان ہے۔

(۳) بھائیوں نے اعترافِ تقصیر کیا کہ واقعی ہم خطاکار تھے تو حضرت یوسفؑ نے جواب دیا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔لاتثریب علیکم الیوم۔ یعنی میری طرف سے تمہارے حق میں نہ ملامت کے کلمات نکلیں گے اور نہ عتاب کا رویہ ظاہر ہوگا۔ گویا بین السطور میں بھائیوں سے کہاگیا ہے کہ معافی تلافی کا مسئلہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔ تم اپنے بھائی کے ساتھ ہو۔ یہ موقع گلے لگ جانے کا ہے،نہ کہ چھوٹی موٹی غلطیوں کو بڑا تصور کرکے ان کی معافی طلب کرنے کا۔اس اندازِ بیان میں بھی برادرانِ یوسف کے لیے نفسیاتی طور سے دل دہی اور دل آسائی کا پہلو ناقابلِ اخفاء ہے۔گویا کہا جارہا ہے کہ یہ موقع ملامت اور عتاب کا نہیں ہے،جشن اور خوشی کا ہے۔

(۴) حضرت یوسفؑ اس کے بعد بھائیوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تمہیں معاف کرے وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔اس طرح سے بھی گویا انہیں احساس دلایا ہے کہ مجھے کو تم سے محبت ہے اور میں تمہارا بدخواہ نہیں، خیر خواہ ہوں۔ تم نے جو کیا اس کا علم اللہ کو ہے، میری طرف سے تمہیں معافی ہے اور اللہ سے بھی میں تمہاری مغفرت کا خواستگار ہوں اور چونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے،اس لیے قوی امید ہے کہ وہ بھی معاف فرمادے گا۔

خواب كی تفسیر

(۵) اللہ کی صفت ارحم الراحمین کا تذکرہ کرکے حضرت یوسفؑ نے گویا اشارہ کر دیا کہ مجھ ایسے محدود قوتِ تحمل رکھنے والے انسان نے جب تمہیں معاف کرنے کاحوصلہ کر لیا ہے اور تمہاری غلطی نظرانداز کر دی ہے تو اللہ رب العزت کی رحمت کا کیا پوچھنا۔ وہ تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ وہ بھی یقینا تمہیں معاف فرمادے گا۔

گھروالے کنعان سے مصر آئے تو شاہی محل میں داخل ہونے کے بعد والدین اور بھائیوں نے سجدہ کیا۔ اس موقع پر حضرت یوسفؑ نے جو فرمایا وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے:{یَا أَبَتِ ہَـذَا تَأْوِیْلُ رُؤْیَایَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَہَا رَبِّیْ حَقّاً وَقَدْ أَحْسَنَ بَیْ إِذْ أَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاء  بِکُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ إِخْوَتِیْ إِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَاء ُ إِنَّہُ ہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ} (یوسف،۱۰۰) ’’ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا،میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا۔ اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا،اور آپ لوگوں کو صحراء سے لاکر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے،بے شک وہ علیم اور حکیم ہے۔‘‘

ان کے اِن الفاظ میں بھی بھائیوں کے دلوں کو ڈھارس بندھانے کے کئی پہلو نکلتے ہیں۔ یہاں اس بیان کے چند درخشاں پہلو اختصار کے ساتھ درج کیے جاتے ہیں:

پہلی بات یہ قابلِ لحاظ ہے کہ حضرت یوسف نے گفتگو کا مرکزی نقطہ حسنِ خاتمہ کو بنایا۔ گویا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ خاتمہ بالخیر ہوا،آخر میں خاندان کا شیرازہ متحد ہوگیا،سب جڑ گئے، سب کو برکت اور سعادت کا وافر حصہ مل گیا،یہی سب سے بڑی بات ہے۔ پہلے جو کچھ ہوا، وہ اتنا اہم نہیں کہ اس کا بار بار تذکرہ کیا جائے۔اس بیان میں دور دور تک اشارہ ان مصائب اور تکالیف کی طرف نہیں ہے جو حضرت یوسفؑ کو یہاں تک پہنچنے میں پیش آئے تھے۔

حضرت یوسفؑ نے ہرگفتگو کا افتتاح اس طرح فرمایا کہ یہ اسی خواب کی تعبیر ہے جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا اور جسے میرے رب نے سچ کر دکھایا ہے۔یہ گویا اشارہ اس طرف ہے کہ جو کچھ ہوا وہ اللہ کی تدبیر اور طے شدہ اسکیم تھی اور اس طرح وہ مجھے اِس مقام تک لانا چاہتا تھا جس پر آج میں ہوں۔

اس بیان میں حضرت یوسفؑ نے اچھے نتائج اور اللہ کی نعمتوں اور احسانات ہی کا تذکرہ کیا ہے۔فرمایا:’’میرے رب کا یہ احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحراء سے لاکر مجھ سے ملایا۔‘‘اس جگہ بھی انہوں نے ماضی کے المناک واقعات اور دلخراش حادثوںکو یاد نہیں کیا۔ قید وبند، ظلم وستم، ابتلاء وآزمائش وغیرہ کے بارے میں ایک حرف بھی زبان سے نہیں نکالا۔نعمتوں کے تذکرے کا آغاز ہی اس بڑی نعمت سے کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے قید خانے سے نکال دیا اور ملک میں اقتدار اور رسوخ بخش دیا۔

بھائیوں کے ہاتھوں جو بھی غلط حرکات سرزد ہوئیں،اس کی نسبت شیطان کی طرف کی۔ ہلکا سا اشارہ بھی اس طرف نہیں ہوا کہ وہ کیا جرائم وقبائح تھے جو بھائیوں نے انجام دیے تھے۔ چنانچہ فرمایا کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا،مگر اللہ نے اس کے باوجود یہ اور یہ احسان فرمایا۔قابلِ غور بات ہے کہ شیطان کے زیرِ اثرآنے اور فساد ڈالنے کا جہاں تذکرہ ہے،وہاں بھائیوں سے پہلے اپنا ذکر کیاہے،حالانکہ حضرت یوسفؑ اُس وقت کم عمر اور معصوم تھے، جو کچھ ہوا اس میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔تاہم خود کو شامل کرکے وہ بھائیوں کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہوں اور شیطان نے جس طرح تم پر غلبہ پایا تھا،اسی طرح وہ مجھ پر بھی پاسکتا تھا۔پھر اس جگہ انہوں نے ابنائے یعقوب کے لیے ’’اخوتی‘‘ یعنی میرے بھائیوں کا لفظ استعمال کیا۔ یہ بتانے کے لیے کہ واقعی میں تمہیں اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور تمہارے تئیں میرے دل میں محبت اور ہمدردی کے سچے جذبات ہیں۔

قرآن کا بیان کردہ یہ وہ کامل اور عظیم اسوہ اور نمونہ ہے جو دنیا بھر میں پھیلی مسلم اقلیتوں کے لیے ہمیشہ ایک منارۂ نور اور مشعلِ راہ بنارہے گا۔قرآن کا پیش کردہ یہ رول ماڈل اقلیتی مسلمانوں کو دعوت دیتا رہے گا کہ وہ جس وطن میں آباد ہیں وہاں ویسا ہی طرزِ عمل اختیار کریں جیسا حضرت یوسفؑ نے کیا تھا۔

زریں مواقع

اگر دنیا کی مسلمان اقلیتیں حضرت یوسفؑ کے اسوے کو اپنا لیں تو زیادہ دن نہ گزریں گے کہ دنیا کے بیشتر ممالک دار الاسلام بن جائیں گے۔ شرق ایشیا کی قومیں اور آبادیاں صرف مسلمان تاجروں کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہوکر ان کے دین میں داخل ہوگئی تھیں۔ان مسلم ملکوں کے اندر کوئی فاتح مجاہد نہیں گیاتھا۔ اخلاق کی تلوار نے یہاں مقامی آبادیوں کے دل جیتے ۔ان ملکوں میں آباد مسلمانوں کی تعداد فی الوقت چالیس کروڑ سے متجاوز ہے۔ وہ ممالک جنہیں غازیانِ اسلام نے فتح کیا تھا،وہاں کے باشندوں کو بھی کبھی اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا گیا۔اسلامی فتوحات اور جنگی پیش قدمیوں کا واحد مقصد یہ تھا کہ ان ملکوں کی زمامِ اقتدار ان طاغوتوں اور جابروں سے چھین لی جائے جو عقیدے وعمل کی آزادی پر سانپ بنے بیٹھے ہیں۔ چنانچہ جیسے ہی یہ رکاوٹ دور ہوئی مصر،شام،عراق اور فارس وغیرہ ممالک کے لوگ پورے شرحِ صدر اور اطمینانِ قلب کے ساتھ دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ایمان لانا اور نہ لانا،دل کی دنیا میں انقلاب اور تبدیلی پر منحصر ہے۔ اس میں جبر سے کام لیا ہی نہیں جاسکتا۔ علاوہ ازیں قبولِ اسلام كے لیے جبر واکراہ کی دین میں کوئی گنجائش بھی نہیں ہے۔

اگست 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau