یوسف علیہ السلام، مسلمان اقلیتوں کے لیے نمونہ

(1)

علی محی الدین قرۃ داغی | ترجمہ: ذکی الرحمن غازی فلاحی

قرآنِ کریم  میں بهت سے انبیائے کرام کا تذکرہ ہوا ہے ان کی زندگی کے کچھ خاص پہلوئوں کو ابھارا گیا ہے تاکہ امتِ مسلمہ کے لیے عملی نمونہ اور اسوہ سامنے آجائے۔قرآن میں مذکور انبیائے کرام کے تذکرے کامقصد یہ ہے کہ مسلمان ان کی عملی سیرت وکردار سے فیض اٹھائیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دارین کی سعادت کے مستحق بنیں۔ سابقہ انبیاء کی پیروی واقتداء اپنی مرضی اور اختیار کی چیز نہیں ،یہ اللہ کا عائد کردہ محکم فریضہ ہے ۔سورۂ انعام میں پہلے انبیائے کرام کے سلسلۃ الذہب کی کچھ کڑیوں کا ذکرہے،بعدازاں ان کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔

ارشادِ باری ہے:

(انعام،۸۳-۹۰)’’یہ تھی ہماری حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے۔ پھر ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی۔ وہی راہِ راست جو اس سے پہلے نوح کو دکھائی تھی۔ اور اسی کی نسل سے ہم نے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو ہدایت بخشی۔ اس طرح ہم نیکوکاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔ اسی کی اولاد سے زکریا،یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو راہ یاب کیا۔ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔ اسی کے خاندان سے اسماعیل، الیسع، اور یونس اور لوط کو راستہ دکھایا۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ نیز ان کے آباء واجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا۔ انہیں(دین كی ) خدمت کے لیے چن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ(منکرین) اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو پرواہ نہیں،ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ اے نبی، یہ لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے،انہی کے راستے پر تم چلو۔‘‘

اسوه یوسفی:

اللہ کی مشیت ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے تذکرے میں مسلمانوں کے لیے تقویٰ خداترسی، صبر وتحمل، وفا واخلاص اور دعوت وحکمت جیسی انبیائی صفات کا جلوہ اور پرتو ظاہر ہوجائے۔ایک خاص سبق سیدنا حضرت یوسفؑ کی زندگی کا یہ ہے کہ غیر اسلامی ملکوں میں آباد مسلمانوں كا لائحۂ عمل کیاهو۔آج  دنیا کے بیشتر غیر مسلم ملکوں میں مسلمانوں کا وجود ملتا ہے۔ان کے حالات بڑی حد تک اُن حالات سے ملتے جلتے ہیں جو حضرت یوسفؑ کو پیش آئے تھے۔ذیل میں مسلم اقلیتوں کے لیے اسوۂ یوسفی کی چند جھلکیاں پیش ہیں:

دنیا میں اس وقت بیشتر مسلم اقلیتیں وہ ہیں جن کے افراد اپنے مسلم ملکوں کے آمریت پسندانہ طرزِ حکمرانی اور سیاسی وسماجی ظلم اورناہموراری سے عاجز ہوکر یورپ اور امریکا وغیرہ پہنچے ہیں۔وہ غیر مسلم ملکوں میں بودوباش اختیار کرنے پر مجبور تھے یا کم از کم اس کے محتاج تھے۔ ان میں سے بیشتر لوگوں نے اپنے خوابوں کی دنیا یعنی امریکا اور یورپ وغیرہ پہنچنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلے۔کچھ یہی حال سیدنا یوسف علیہ السلام کا تھا۔ ان پر بھی ان کے سگے بھائیوں نے مظالم ڈھائے اور انہیں ایک اندھے کنوے میں دھکیل دیا  تاکہ وہیں بھوکے پیاسے مرجائیں یا شارعِ عام پر گزرنے والا کوئی قافلہ رک کر پانی کے لیے آئے تو انہیں نکال کر اپنا غلام بنالے اور ساتھ لے کرکہیں دور چلا جائے۔ چنانچہ اس کی جو شکل بنی وہ یہ تھی کہ حضرت یوسفؑ کو مصر میںغلاموں کی منڈی میں فروخت کیا گیا۔حضرت یوسفؑ کے حالات کے ساتھ تقابل کیا جائے تو آج مسلمان اقلیتوں کے حالات غنیمت ہیں۔وہ جہاں آباد ہیں وہاں انہیں دین اور عقیدے کی آزادی نصیب ہے،بلکہ بعض مسلم ملکوں سے زیادہ انہیں غیر اسلامی ملکوں میں اظہارِ رائے کی آزادی میسر ہے۔ انہیں بہت سے حقوق حاصل ہیں۔ قانونی ودستوری طور پر وہ بہت سارے کام کر سکتے ہیں۔ اس کے برخلاف حضرت یوسفؑ ایک غلام کی حیثیت سے غیر اسلامی ملک مصر میں لائے گئے تھے اور اس زمانے میں غلاموں کے کسی حق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

بہترین قصّہ

ہم سورۂ یوسف کا مطالعہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ اس میں ایک مومن ومسلم کا کردار اور نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ حالات اس کی مرضی کے خلاف اسے ایسے معاشرے میں پہنچا دیتے ہیں جو دین وایمان   سے بے گانہ ہوتاہے۔  وہ وہاں اپنے اخلاق وکردار ، ایمان داری اور وفاشعاری سے وہ اثر قائم کرتا ہے کہ پورا ملک اس کی عظمت کے آگے سرِ نیاز جھکا دیتا ہے۔ یہ شخص کوئی اور نہیں ،حضرت یوسف علیہ السلام ہیں۔قرآنِ کریم نے اس قصے کی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے اسے ایک حیرت انگیز وصف سے متصف کیا ہے اور وہ وصف ہے قصۂ یوسف کے ’’احسن القصص‘‘ ہونے کا۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس قصے سے اپنے لیے نصیحتیں اور عبرتیں کشید کریں۔ اس میں پنہاں روشن نشانیوں اور قدرت کی کارفرمائیوں پر غور وفکر کریں۔(لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّأُوْلِیْ الأَلْبَابِ)(یوسف،۱۱۱)’’اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل وہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔‘‘(لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوسُفَ وَإِخْوَتِہِ آیَاتٌ لِّلسَّائِلِیْن)(یوسف،۷)’’حقیقت یہ ہے کہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔‘‘

سیدنا یوسف علیہ السلام کو ایک بڑی آزمائش اور فتنے سے دوچار ہونا پڑا۔وہ فتنہ تھا عزیزِمصر کی بیوی کا جو شہوانی جذبات سے مخمور ہوکر آپ کے پیچھے پڑگئی تھی۔حالات سنگین تھے کیونکہ آپ کا دن رات کا قیام عزیزِ مصر کے محل میں تھا۔اس خاتون نے انہیں بہکانے اور پھسلانے کی جان توڑ کوشش کی،مگر حضرت یوسفؑ اس آزمائش میں سرفراز وکامران ثابت ہوئے۔ (یوسف، ۲۳)’’جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کرکے بولی:آجا۔ یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں)۔ ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔‘‘ چنانچہ اس امتحان میں کامیابی کا انعام انہیں یہ دیا گیا کہ اللہ کی تائیدو نصرت ان کے شاملِ حال ہوگئی۔

عفت كی حفاظت:

شہوت رانی اور فسق وفجور کا یہی فتنہ ہے جو آج بھی مسلمان اقلیتوں کی نوجوان نسلوں کے سامنے منھ اٹھائے کھڑا ہے۔ غیر اسلامی ملکوں میں زنااور بدکاری کے نہ صرف امکانات پورے روشن ہیں،بلکہ  اس كی سماجی پشت پناہی اور سرکاری تائید ہو رہی ہے۔آج مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو دعوتِ نظارہ دینے والی بداخلاقیوں اور بے حیائیوں کا مقابله كرنا هے۔ان كو مضبوطِ قوتِ ارادی اور اللہ سے پختہ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر مسلمان اقلیتیں نہ اپنے دین وایمان کو محفوظ رکھ سکتی ہیں اور نہ عزت اور آبرو کو۔وہ جس ملک میں سکونت پذیر ہیں ،اس ملک کی تعمیر وترقی میں شركت ان کے اخلاق وکردار کے تحفظ کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ اس کے بغیر نہ ان کا کوئی علاحدہ وجود رہے گا اور نہ کوئی امتیازی تشخص۔حضرت یوسفؑ کی زندگی کے مختلف واقعات اس پہلو سے مسلمان اقلیتوں کے لیے ایک عمدہ نمونہ اور بہترین راہِ عمل پیش کرتے ہیں۔

حضرت یوسفؑ نے ملکِ مصر میں اپنے دین،عقیدے اور اخلاق وکردار کی بھرپور حفاظت فرمائی۔ شہوتوں اور فتنوں میں کبھی نہ پھسلے اور نہ ملوث ہوئے حالانکہ مصر کے سیاسی اشرافیہ اور حکمراں طبقے کی حالت اس وقت اخلاقی لحاظ سے بڑی ابتر اور دگرگوںتھی۔ مثال کے طور عزیزِ مصر کی بیوی نہ صرف یہ کہ بھری محفل میں اپنے جنسی میلان کا اظہار کرتی ہے،بلکہ محفل میں حاضر بیگماتِ مصر بھی اُسی کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہیں اور یوسف علیہ السلام کو بدکاری پر آمادہ کرنے کے جتن کرتی ہیں۔ حضرت یوسفؑ کی عفت وعصمت کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوا جب عزیزِ مصر کی بیوی نے گھر کے دروازے بند کرکے انہیںبدکاری کا کھلا نیوتا دیا۔ یہ انتہائی کڑی آزمائش تھی۔مگر حضرت یوسفؑ کے پائے استقلال میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنے دین، عقیدے اور اخلاق وکردار کی حفاظت کی خاطر تعیشات بھری زندگی کو لات مار دی۔ سہولتوں سے دست بردار ہوگئے،بلکہ جب انہیں محسوس ہوا کہ دین وایمان بچانے کے لیے محل کے مخملیں گدوں کے بجائے جیل کی کال کوٹھری کا ٹھنڈا فرش ٹھیک رہے گا تو  اس کے لیے دعا فرمائی اور قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ صرف ماہ دو ماہ نہیں، بلکہ سالہا سال نذرِ زنداں رہے۔

اسلامی تشخص:

حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی سے مسلمان اقلیتوں کو رہنمائی ملتی ہے کہ وہ بھی اپنی کوششوں اور کاوشوں کا سب سے بڑا محور دین،عقیدے اور اخلاق وکردارکو بنائیں۔اس اعلیٰ مقصد کی تحصیل وتکمیل کے لیے تمام ممکنہ اور جائز مادی ومعنوی وسائل اختیار کریں۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ فرد اور ملت کی زندگی میں تشخص اور شناخت کے تحفظ کا مسئلہ سب سے اہم اور نازک ہے۔ بڑے سے بڑے دنیاوی مفاد اور مقصد کی کوئی قدر وقیمت نہیں اگر اس کے نتیجے میں انسان کو اپنے دین اور اخلاق سے دست بردار ہونا پڑے۔ یہی چیز ہمیں حضرت یوسفؑ کی زندگی میں سب سے نمایاں دکھائی پڑتی ہے۔ انہوںنے دعا مانگی تھی: (قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِیْ إِلَیْہِ)(یوسف،۳۳)’’اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ عورتیں مجھ سے چاہتی ہیں۔‘‘

وہ گویا کہہ رہے تھے کہ قید وبند چاہے پوری زندگی کے لیے ہو،مجھے منظور ہے،مگر میں اس کے مقابلے میں کسی ایسی معصیت کا ارتکاب نہیں کروں گا جو اللہ کے غضب کو بھڑکانے والی ہو۔ یہ صرف بدکاری کے تعلق سے ان کی نفرت کا ایک اظہار ہے،  اسوۂ یوسفی کے حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقلیتی کردار کے تحت جینے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ جان ومال خرچ کرنے کی نوبت آئے تو اس سے دریغ نہ کریں،مگر ہر قیمت پر اپنے اور اپنے بچوں کے دینی مستقبل کو یقینی بنائیں۔ فکر کریں کہ ان کا اور آنے والی نسلوں کا عقیدہ،اخلاق، کردار اور اقدار وروایات سب اسلامی سانچے میں ڈھلے رہیں۔ اس کے لیے تعلیمی وتربیتی اور روحانی وانفرادی جو بھی وسائل وذرائع استعمال کرنا ممکن ہو ضرور کریں۔

احسان شناسی:

احسان شناسی اور شکرگزاری اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔ جانوروں تک میں اللہ تعالیٰ نے یہ جذبہ اور وصف رکھا ہے۔اسلام نے بھی اس جذبے کی بڑی پذیرائی کی ہے۔اس میں مسلم وغیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔حضرت یوسفؑ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ عزیزِ مصر نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا۔ انہیں بازار سے خریدا اور گھر لاکر بیٹے کی طرح پیار سے رکھا۔(یوسف،۲۱)’’مصر میں جس شخص نے اسے خریدااس نے اپنی بیوی سے کہا: ’’اس کو اچھی طرح رکھنا،بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو،یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔‘‘

یہ حضرت یوسفؑ پر اس کا ایک احسان تھا جسے وہ کبھی نہیں بھولے۔ چنانچہ جب عزیزِ مصر کی بیوی نے انہیں زناکاری پر آمادہ کرنا چاہا تو خوفِ الٰہی کے بعد اس حرکت سے روکنے والا ایک طاقتور جذبہ یہی محسن کی احسان شناسی کا جذبہ تھا۔

گویا حضرت یوسف کہنا چاہ رہے ہیں کہ اگر میں تمہارے بہکاوے میں آکراس برائی کا ارتکاب کرلیتا ہوں تو یہ اللہ رب العالمین کی بھی ناشکری ہوگی جس نے میری پرورش وپرداخت کا اتنا اچھا انتظام فرمایا ہے اور صاحبِ بیت کے تئیں بھی کفرانِ نعمت اور ناسپاسی ہوگی جس نے میرا اکرام واعزاز کیا اور مجھے اولاد کی طرح اپنے گھر میں رکھا۔  حضرت یوسفؑ کی محسن شناسی اور سپاس گزاری کے رویے سے مسلمان اقلیتوں کو یہ سیکھ ملتی ہے کہ وہ بھی اس دنیاوی زندگی میں اپنے محسنین کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیں، ان کے شکرگزار بنیں اور ان کی خوبیوں کا اعتراف کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(ہَلْ جَزَاء  الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ) (رحمن،۶۰) ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟‘‘

معاہدے كی پابندی:

حضرت یوسفؑ کی زندگی سے ایک اور اہم سبق  ملتا ہے۔مسلم اقلیت  پروہاں کی غیر مسلم اکثریت کے بعض افراد کی طرف سےظلم ڈھایا جائے،ان تمام شکلوں میں مسلم اقلیت کے افراد اور جماعتوں کو ردِ عمل کا شکار ہوکر تشدد اور قانون شكنی کا راستہ نہیں اختیار کرنا چاہیے۔ ایک شخص یا بعض افراد یا محدود حکمراں طبقے کے ظلم کی پاداش میں پوری قوم اورتمام اہلِ وطن کو ذمے دار نہیں بنایا جاسکتا اور نہ انہیں اس وجہ سے مجرم گردانا جاسکتا ہے۔ حضرت یوسفؑ کو جب عزیزِ مصر کی بیوی نے برائی کی دعوت دی اور اپنی حد تک ان کے بچنے کے تمام راستے مسدود کرکے گویا جبر کی صورتِ حال بنا دی تھی،اس وقت بھی حضرت یوسفؑ طیش میں نہیں آئے، بلکہ اپنے قول وعمل سے برملا اس حقیقت کا اعلان کیا کہ ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔إنہ لا یفلح الظالمون۔

حضرت یوسفؑ کے اس طرزِ عمل سے  اُن  مسلمانوںكو سبق حاصل كرنا چاهیے جوغیر اسلامی ملكوں میں رهتے هیں،وہاں کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، قانون انہیں جو امن وامان فراهم كرتا ہے اس سے مستفید ہوتے ہیں،مگر جہاں اور جب موقع ملتا ہے پبلک اور سرکاری پراپرٹی(اِملاك) کو نقصان پہنچانے سے نہیں چوکتے۔ناجائز طریقوں سے بجلی استعمال کرتے ہیں اور بل نہیں دیتے۔ ریلوے اور ٹرانسپورٹ میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے سے نہیں چوکتے۔اگر کوئی انہیں ٹوکے تو کہتے ہیں کہ جناب یہ حکومت مسلمانوں پر ظلم ڈھارہی ہے،یا ماضی میں اس نے فلاں مسلم ملک پر قبضہ کرکے وہاں سے دولت لوٹی تھے۔ ہم حساب برابر کر رہے ہیں۔ قصاص اور جزا وسزا کا یہ انتہائی غلط تصور ہے۔ نہ شریعت اسے تسلیم کرتی ہے اور نہ عقل اسے قبول کر سکتی ہے۔(وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی)(انعام،۱۶۴۔ بنی اسرائیل،۱۵۔ فاطر،۱۸۔ زمر،۷)’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔‘‘

دین کی نظروں میں ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمے دار ہے اور ہر ایک پر صرف اس کے اپنے ہی عمل کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک شخص کی ذمے داری کا بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی دوسرے پر ڈال دیا جائے اور نہ یہی ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی ذمے داری کا باراپنے اوپر لے لے۔ بهت سےیورپین ممالک نے کبھی کسی مسلم ملک میں اپنا سامراج قائم نهیں کیا۔

سیرت كا سبق:

یہاں سیرتِ طیبہ کا ایک واقعہ پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔خیبر مدینہ طیبہ کے شمال میں ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں حضورﷺ کے عہدِ مبارک میں یہودی آباد تھے اور مدینہ طیبہ کی نوخیز اسلامی ریاست کے خلاف مسلسل سازشوں کے جال بُنتے رہتے تھے۔ سن سات ہجری میں حضورﷺ نے ان پر ایک فیصلہ کن حملے کا ارادہ کیا اور خیبر کا محاصرہ فرمالیا۔ یہ محاصرہ کئی روز جاری رہا اور خیبر کے یہودی باشندے قلعہ بند ہوکر مسلمانوں سے لڑتے رہے۔ خیبر میں ایک سیاہ فام چرواہا یہودی باشندوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اپنی سیاہ رنگت کی وجہ سے اس کا نام ’’اسود راعی‘‘ مشہور ہے۔ اسی محاصرے کے دوران وہ بکریاں چرانے کے لیے شہر سے باہر نکلا۔ بکریوں کو چراتے چراتے اسے سامنے مسلمانوں کا لشکر پڑائو ڈالے ہوئے نظر آیا۔ اس کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ وہ مسلمانوں اور ان کے امیرِ لشکرﷺ کو خود جاکر دیکھے اور ان کے دین ومذہب کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔ چنانچہ وہ بکریوں کو ہنکاتا ہوا مسلمانوں کے پڑائو کے پاس پہنچ گیا اور لوگوں سے پوچھنے لگا کہ آپ کے بادشاہ کا خیمہ کونسا ہے؟ مسلمانوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں بادشاہ تو کوئی نہیں ہوتا،البتہ ہمارے قائد اللہ کے آخری پیغمبر ہیں اور وہ اس معمولی خیمے میں مقیم ہیں۔ اگر آپ ان سے ملاقات کرنا چاہیں تو اندر چلے جائیں۔ چرواہے کو نہ اپنی آنکھوں پر اعتبار آیا نہ کانوں پر۔ اول تو جس خیمے کا پتہ بتایاجارہا تھا اسے خیمے کے بجائے چھپر کہنا زیادہ موزوں تھا اور اس کے لیے یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ عرب کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کا سربراہِ اعلیٰ اس چھپر میں رہ رہا ہوگا۔ دوسرے یہ بات اسے مذاق معلوم ہوتی تھی کہ ایک معمولی سے انجان چرواہے کو اس سربراہِ اعلیٰ سے اتنی آسانی کے ساتھ ملاقات کی دعوت دی جارہی ہے۔ لیکن بالآخر اس نے دیکھ لیا کہ جو بات کہی گئی تھی وہ مذاق نہیں،حقیقت تھی۔

چنانچہ چند لمحوں کے بعد ہی وہ خواب کے سے عالم میں عرب ہی کے نہیں،دونوں جہاں کے سردارﷺ کے سامنے کھڑا تھا۔ حضورﷺ سے اس چرواہے کی جو باتیں ہوئیں وہ بڑی دلچسپ  ہیں جو سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن مختصر یہ کہ آپﷺ کی زیارت کرکے اور آپ کی باتیں سن کر اسے یوں محسوس ہوا جیسے سالہا سال تک زندگی کی دھوپ میں جھلسنے کے بعد یکایک اسے اُس انجانی سی منزل کی چھائوں میسر آگئی ہے جس کی تلاش میں اس کی روح سرگرداں تھی۔ چنانچہ اس نے اس چھائوں کی آغوش تک پہنچنے میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کی اور مسلمان ہوگیا۔

امانت:

مسلمان ہونے کے بعد اس چرواہے نے حضورﷺ سے آپ کے ساتھ خیبر کے جہاد میں حصہ لینے کی اجازت چاہی۔ آپﷺ نے نہ صرف اسے اجازت دی،بلکہ بشارت بھی دی۔ لیکن ساتھ ہی فرمادیا کہ جہاد میں شامل ہونے سے پہلے ایک کام ضروری ہے اور وہ یہ کہ تمہارے ساتھ بکریوں کا جو ریوڑ ہے وہ تمہارے پاس ان یہودیوں کی امانت ہے،جہاد کی فضیلت حاصل کرنے سے پہلے تمہارا فرض یہ ہے کہ یہ بکریاں مالکوں کو لوٹا کر آئو۔ چنانچہ اسود راعی یہ بکریاں لے کر گئے اور انہیں قلعے کے اندر پہنچا کر واپس آئے۔پھر جنگ میں شامل ہوئے۔ جنگ کے خاتمے پر جب حضورﷺ شہداء کی نعشوں کے معائنے کے لیے تشریف لے گئے تو آپﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ شہداء کی قطار میں اس نومسلم چرواہے کی نعش بھی شامل ہے۔

اس واقعے کے اس آخری حصے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس میں آپﷺ نے بکریاں خیبر کے یہودی باشندوں کو واپس کرنے کا حکم دیا۔ خیبر کے ان یہودیوں کے ساتھ آپﷺ کی بالواسطہ نہیں،براہِ راست جنگ تھی۔ یہ وہی یہودی تھے جن کی سازشوں نے آپؐ اور آپ کے صحابہ کو مدینہ منورہ میں چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ جن کی معاندانہ کارروائیوں سے مسلمانوں کے دل چھلنی تھے اور اب ان کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کرکے ان کا محاصرہ کر لیا گیا تھا۔ کھلی کھلی جنگ کی اس حالت میں بلاشبہ ان کی جان اور مال کے خلاف ہر کارروائی جائز تھی۔ دوسری طرف مسلمانوں کے پاس غذائی سامان کی قلت تھی اور بکریوں کا ریوڑ جو بہت آسانی سے ہاتھ آگیا تھا مسلمانوں کے لشکر کی بہت سی ضروریات پوری کر سکتا تھا،لیکن اس حالت میں بھی حضورﷺ نے یہ گوارا نہیں فرمایا کہ ان بکریوں پر ناجائز قبضہ کر لیا جائے۔ اسود راعی یہ بکریاں یہودیوں سے ایک معاہدے کے تحت قلعے سے باہر لائے تھے اور اگر انہیں واپس نہ کیا جاتا تومعاہدے کی خلاف ورزی لازم آتی۔ جنگ کی حالت میں یہ تو جائز ہے کہ کھلم کھلا طاقت استعمال کرکے دشمن کے مال پر قبضہ کر لیا جائے،لیکن جھوٹا معاہدہ کرکے دھوکا دینے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت نہیںہے۔ نبیِ کریمﷺ نے بکریاں لوٹانے کا حکم دے کر شریعت کے اس حکم کو واضح فرمایا جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

جو مسلمان کسی غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں، خواہ وہاں کی شہریت اختیار کرکے یا عارضی اقامت کے طور پر،وہ وہاں کی حکومت سے ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت رہتے ہیں۔ اس معاہدے کی پاسداری ان کے ذمے شرعاً لازم ہے اور اس کی خلاف ورزی شرعی اعتبار سے سخت گناہ ہے۔ جہاد کے ذریعے کفر اور اسلام دشمنی کی شوکت توڑنے کا جذبہ اپنی جگہ بڑا قابلِ تعریف ہے، لیکن اس کے لیے اپنا کردار اور اپنے بازو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ عہد شکنی، چوری اور دھوکہ فریب کے ذریعے دوسرے مذہب والوں کو زک پہنچانا کفر کا شیوہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کا نہیں۔ اسلام نے جہاں جہاد کی فضیلت بیان کی ہے وہاں اس کےشرائط، مفصل احکام اور آداب بھی بتائے ہیں۔ بلکہ دنیا کی تاریخ میں اسلام نے سب سے پہلے جنگ کو ان قواعد وآداب کا پابند بنایا جو شرافت اور بہادری کا حسین امتزاج ہیں،ورنہ اس سے پہلے جنگ، قتل وغارت گری کا دوسرا نام تھا جو کسی قسم کی حدود قیود کی پابند نہیں تھی۔ اسی طرح یہ اسلام ہی تھا جس نے بین الاقوامی تعلقات کے مفصل احکام وضع کیے جو امن اور جنگ دونوں حالتوں پر حاوی ہیں۔ اگر ہم ان احکام وآداب کو نظرانداز کرکے من مانی کارروائیاں کریں گے تو اس سے ایک طرف شریعت کی خلاف ورزی کا شدید گناہ اپنے سر لیں گے،دوسرے اپنے طرزِ عمل کے ذریعے لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرکے اسلام کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کے مجرم بنیں گے۔

حُسنِ كردار:

جو مسلمان بھی اپنے روزگار کے حصول یا کسی جائز مقصد کے لیے غیر مسلم ملکوں میں جاکر آباد ہوئے ہیں،انہیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا اچھا یا برا طرزِ عمل ان کی ذات کی حد تک محدود نہیں رہتا۔ ان ملکوں کے لوگ انہیں اسلام کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور ان کے کردار کو دیکھ کر ان کے دین اور ان کی ملت کے بارے میں اچھی یا بری رائے قائم کرتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں اسلام کی نشرواشاعت زیادہ تر تاجروں کے ذریعے ہوئی جو ان علاقوں میں تجارت اور کسبِ معاش کے لیے گئے تھے،لیکن ان کا پاکیزہ کردار، انکی سچائی اور ان کی امانت ودیانت مجسم تبلیغ ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنی سیرت کی  طاقت سے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف کھینچا اور اسلام کی روشنی سے پورے خطے کو جگمگا دیا۔ اگر ہم غیر مسلموں کے سامنے جھوٹ، عہد شکنی، دھوکہ فریب اور خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو صرف اپنی ذات پر نہیں،اپنے دین ،اپنی قوم اور اپنی دعوت اور پیغام پر وہ داغ لگاتے ہیں جسے مٹانا آسان نہیں۔پھر اس طرزِ عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس کی تاویلیں کرکے اسے جائز ثابت کرنے کی کوشش عذرِ گناہ بدتر از گناہ کے مترادف ہے۔

(جاری)

جون 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau