اصلاحِ معاشرہ: راستے کے نشانات

اصلاحِ معاشرہ سے مراد یہ ہے کہ انسانی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلوؤں کو قرآن و سنت کی رہ نمائی میں درست کیا جائے، بگاڑ اور انحراف کو دور کیا جائے اور عدل، اخلاق، تقویٰ اور خیر کو قائم کیا جائے۔ یہ محض چند سماجی رسوم کی تبدیلی یا وقتی نعروں کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر اور شعوری جدوجہد ہے جس کا مقصد انسان کے باطن سے لے کر اس کے اجتماعی نظام تک ہم آہنگی اور درستی پیدا کرنا ہے۔ اصلاح کا دائرہ دل کی نیت، فکر کی سمت، کردار کی پاکیزگی اور نظامِ زندگی کی درستی سب کو شامل کرتا ہے۔

اصلاح صرف ظاہری تبدیلی تک محدود نہیں رہتی۔ اگر معاشرے میں قوانین تو بدل جائیں ،مگر دلوں میں خوفِ خدا اور احساسِ جواب دہی پیدا نہ ہو، تو اصلاح پائیدار نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر افراد نیک ہوں مگر اجتماعی نظام ظلم اور ناانصافی پر قائم ہو تو خیر مکمل طور پر غالب نہیں آتا۔ اس لیے حقیقی اصلاح وہ ہے جو فرد کی تربیت اور نظام کی درستی دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔ دل کی اصلاح فکر کو بدلتی ہے، فکر کی اصلاح کردار کو سنوارتی ہے اور کردار کی اصلاح اجتماعی زندگی کو استحکام بخشتی ہے۔

قرآنِ مجید نے اصلاح کو انبیائے کرام علیہم السلام کے مشن کا خلاصہ قرار دیا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ اعلان اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے:

إِنْ أُرِیدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ (ہود: 88)

’’میں اپنی استطاعت بھر اصلاح کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔‘‘

اس آیت میں اصلاح کے چند بنیادی اصول نمایاں ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ اصلاح خالص نیت کا تقاضا کرتی ہے—اس کا مقصد ذاتی مفاد، اقتدار یا شہرت نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور معاشرے کی بھلائی ہوتا ہے۔ دوم یہ کہ اصلاح اپنی ’’استطاعت‘‘ کے مطابق کی جاتی ہے؛ یعنی انسان اپنی حد تک کوشش کرے، نتائج کو اللہ پر چھوڑ دے۔ سوم یہ کہ اصلاح ایک مسلسل عمل ہے، جو صبر، استقامت اور حکمت کا محتاج ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کی معاشی بددیانتی، ناپ تول میں کمی اور اخلاقی بگاڑ کو چیلنج کیا اور یہ سب اسی اصلاحی مشن کا حصہ تھا۔

یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اصلاح کا عمل بسا اوقات مخالفت کو جنم دیتا ہے، کیوں کہ وہ رائج خرابیوں اور مفادات کو چھیڑتا ہے۔ مگر اصلاح کا داعی اپنی نیت کی پاکیزگی اور مقصد کی وضاحت کے ساتھ ثابت قدم رہتا ہے۔ وہ معاشرے کی خیر خواہی کے جذبے سے کام کرتا ہے، نہ کہ تصادم یا انتقام کے جذبے سے۔

یوں اصلاحِ معاشرہ دراصل ایک ہمہ جہت عمل ہے جس میں دلوں کی پاکیزگی، افکار کی درستی، اعمال کی اصلاح اور اجتماعی نظام کی تطہیر شامل ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اصلاح انبیائے کرام علیہم السلام کے مشن کا نچوڑ ہے اور اس کے لیے خلوص، مسلسل جدوجہد اور اللہ پر توکل ناگزیر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو بگاڑ سے نکال کر خیر و عدل کی بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔

اصلاح کا تدریجی عمل

اسلام میں اصلاح کا عمل فطری، حکیمانہ اور تدریجی ہے۔ یہ نہ تو اچانک تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے اور نہ جبر و سختی کے ذریعے معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے، بلکہ انسانی نفسیات، معاشرتی حالات اور فکری ارتقا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار اصلاح کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہی تدریج اصلاح کو پائیدار اور مؤثر بناتی ہے، کیوں کہ جو تبدیلی شعور اور آمادگی کے ساتھ آئے وہ دیرپا ہوتی ہے، اور جو محض دباؤ کے تحت ہو وہ عارضی ثابت ہوتی ہے۔

قرآنِ مجید خود تدریجی اصلاح کی بہترین مثال ہے۔ اس کی آیات تیئیس برس کے عرصے میں حالات اور ضرورت کے مطابق نازل ہوئیں۔ عقیدہ، اخلاق اور بنیادی ایمانی تصورات پہلے مضبوط کیے گئے، پھر عملی احکام اور اجتماعی قوانین نازل ہوئے۔ شراب جیسے گہرے معاشرتی مرض کا خاتمہ بھی یکدم نہیں کیا گیا، بلکہ پہلے اس کے نقصانات واضح کیے گئے، پھر اس کے قریب جانے سے روکا گیا اور آخرکار قطعی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام انسانی عادات اور سماجی ساخت کو یکسر جھٹکا دینے کے بجائے انھیں بتدریج صحیح رخ پر لاتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ کی سیرت بھی اسی اصول کی عملی تصویر ہے۔ مکہ کے تیرہ سالہ دور میں آپ ﷺ نے سب سے پہلے عقیدۂ توحید، آخرت کا یقین اور اخلاقی تطہیر پر توجہ دی۔ ایمان کی بنیادیں مضبوط کی گئیں، افراد کی تربیت کی گئی اور ایک ایسی جماعت تیار کی گئی جو ہر آزمائش میں ثابت قدم رہے۔ مدینہ منورہ میں جب ایک منظم معاشرہ قائم ہوا تو احکام، حدود اور اجتماعی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ اس ترتیب سے واضح ہوتا ہے کہ اصلاح پہلے دلوں میں اترتی ہے، پھر نظام کی صورت اختیار کرتی ہے۔

اسی حقیقت کی طرف رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد رہ نمائی کرتا ہے:

إِنَّ الرِّفْقَ لَا یكُونُ فِی شَیءٍ إِلَّا زَانَهُ (مسلم)

’’نرمی جس چیز میں ہوتی ہے، اسے خوب صورت بنا دیتی ہے۔‘‘

یہ حدیث اصلاح کے منہج کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ نرمی اور تدریج دراصل ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب اصلاح صبر، تحمل اور حکمت کے ساتھ کی جاتی ہے تو وہ دلوں میں اترتی اور قبولیت پاتی ہے۔ اس کے برعکس سختی اور عجلت بسا اوقات منفی ردِّعمل پیدا کر دیتی ہے اور مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔ نرمی کا مطلب مداہنت نہیں، بلکہ حکیمانہ انداز میں حالات کو سمجھ کر قدم اٹھانا ہے۔

پائیدار اور مؤثر اصلاح ہمیشہ تسلسل کی محتاج ہوتی ہے۔ ایک وقتی جوش یا سخت اقدام وقتی تبدیلی تو لا سکتا ہے، مگر حقیقی اصلاح وہ ہے جو فکر کو بدلے، کردار کو سنوارے اور اجتماعی ڈھانچے کو مستحکم کرے۔ اس کے لیے صبر، استقامت اور مرحلہ وار پیش رفت ناگزیر ہے۔

یوں اسلام کا تدریجی منہج اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اصلاح کا راستہ حکمت، نرمی اور مسلسل جدوجہد سے ہم وار ہوتا ہے۔ یہی طریقہ انبیائے کرام علیہم السلام کا تھا اور یہی وہ اسلوب ہے جو معاشروں کو دیرپا خیر اور استحکام عطا کرتا ہے۔

موجودہ حالات میں اصلاحِ معاشرہ کی اہمیت و ضرورت

عصرِ حاضر کا معاشرہ بے شمار داخلی اور خارجی چیلنجوں سے دوچار ہے۔ فکری انتشار اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ حق و باطل کی تمیز دھندلا رہی ہے؛ اخلاقی انحطاط نے حیا، دیانت اور ذمہ داری جیسے اوصاف کو کم زور کر دیا ہے؛ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے؛ جھوٹ اور بددیانتی معمول بنتے جارہے ہیں؛ اور فحاشی و ناانصافی نے اجتماعی فضا کو مکدر کر دیا ہے۔ جدید میڈیا اور سوشل پلیٹ فارموں نے معلومات کی ترسیل کو اگرچہ آسان بنایا ہے، مگر ساتھ ہی برائی کے پھیلاؤ کو بھی غیر معمولی سرعت عطا کردی ہے۔ اب گم راہی یا فکری آلودگی کسی ایک حلقے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ لمحوں میں وسیع پیمانے پر اثر انداز ہو جاتی ہے۔

ایسے ماحول میں اصلاحِ معاشرہ محض ایک دینی شعار یا اختیاری خدمت نہیں، بلکہ اجتماعی بقا کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ اگر معاشرہ اپنی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط نہ رکھے تو اس کی تہذیبی شناخت اور اجتماعی استحکام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اصلاح کا عمل دراصل ایک حفاظتی حصار ہے جو معاشرے کو اندرونی انتشار اور بیرونی فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ فرد کے کردار کو سنوارتا اور اجتماعی نظم کو متوازن رکھتا ہے۔

قرآنِ مجید نے اجتماعی بگاڑ کے خطرے سے نہایت سنجیدہ انداز میں خبردار کیا ہے:

وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً (الأنفال: 25)

(اس فتنے سے ڈرو جو تم میں سے صرف ظالموں تک محدود نہیں رہے گا۔)

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب معاشرے میں برائی عام ہو جائے اور لوگ اس کی اصلاح کی کوشش نہ کریں تو اس کے نتائج سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اجتماعی بے حسی اور خاموشی بگاڑ کو تقویت دیتی ہے، اور بالآخر اس کا نقصان نیک اور بد سب کو پہنچتا ہے۔ اس لیے اصلاح کا فریضہ چند افراد یا مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہر صاحبِ شعور فرد اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

آج کے حالات میں اصلاحِ معاشرہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم فکری وضاحت پیدا کریں، اخلاقی اقدار کو زندہ کریں، خاندانی نظام کو مضبوط بنائیں، دیانت و امانت کو فروغ دیں اور میڈیا و سوشل پلیٹ فارموں کو خیر کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ یہ کام محض تنقید سے نہیں بلکہ مثبت کردار، شعوری تربیت اور مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور اپنے دائرے میں اصلاح کا عمل جاری رکھے تو مجموعی فضا بدلنے لگتی ہے۔

پس موجودہ دور کے پیچیدہ حالات میں اصلاحِ معاشرہ ایک فوری اور ناگزیر تقاضا ہے۔ قرآن کی مذکورہ تنبیہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اجتماعی بگاڑ کا انجام سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے اصلاح کا شعور اور اس کی عملی کوشش ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ معاشرہ اخلاقی توازن، فکری استحکام اور روحانی بالیدگی کے ساتھ اپنی راہ پر قائم رہ سکے۔

اصلاحِ معاشرہ سے روگردانی کا انجام

اصلاحِ معاشرہ کوئی اختیاری یا ثانوی عمل نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی کی بقا اور صحت کا ضامن ہے۔ جب کوئی معاشرہ اس فریضے سے غفلت برتنے لگتا ہے تو برائیاں آہستہ آہستہ معمول بن جاتی ہیں اور نیکی اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ابتدا میں جو اعمال معیوب سمجھے جاتے تھے، وہ بتدریج قابلِ قبول قرار پانے لگتے ہیں اور جو اقدار کبھی باعثِ عزت تھیں، وہ کم زوری یا سادہ لوحی سمجھی جانے لگتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اخلاقی توازن بگڑ جاتا ہے اور اجتماعی ضمیر مضمحل ہو جاتا ہے۔

ایسی کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی صورت اختیار کر سکتی ہے، کیوں کہ بگاڑ اب کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی فضا کو آلودہ کر دیتا ہے۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے نہایت تنبیہی انداز میں بیان فرمایا:

إِذَا رَأَى النَّاسُ الظَّالِمَ فَلَمْ یأْخُذُوا عَلَى یدَیهِ أَوْشَكَ أَنْ یعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ. (ترمذی)

’’جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اسے روکیں نہیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔‘‘

اس حدیث میں ’’أَنْ یعُمَّهُمُ‘‘کے الفاظ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عذاب یا سزا صرف ظالم تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خاموشی اور بے عملی بھی ایک طرح کی شرکت ہے۔ جب ظلم کو چیلنج نہ کیا جائے، تو وہ تقویت پاتا ہے اور نظامِ زندگی میں سرایت کر جاتا ہے۔

اصلاح سے روگردانی دراصل ذمہ داری سے فرار ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جس میں افراد یہ سمجھ لیتے ہیں کہ برائی سے انھیں کیا سروکار، حالاں کہ اجتماعی زندگی میں کوئی شخص مکمل طور پر الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ ایک کی بددیانتی دوسرے کے حق کو متاثر کرتی ہے، ایک کی ناانصافی پورے ماحول کو غیر محفوظ بناتی ہے، اور ایک کی بے حیائی اجتماعی اقدار کو مجروح کرتی ہے۔ جب خیر کی آواز کم زور پڑ جائے اور ظلم کو روکنے والے ہاتھ سست ہو جائیں تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اجتماعی زوال ہمیشہ اچانک نہیں آتا؛ وہ تدریجی ہوتا ہے۔ پہلے دلوں میں بے حسی پیدا ہوتی ہے، پھر زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں، اور آخرکار برائی نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ ایسے میں اصلاح کا عمل نہ ہو تو معاشرہ اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے اور تباہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

پس اصلاحِ معاشرہ سے منھ موڑنا دراصل اپنے ہی معاشرے کو تباہی کے حوالے کرنا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کی تنبیہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ظلم کو نظر انداز کرنا خود ظلم کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کا کردار ادا کرے، تاکہ معاشرہ اجتماعی عذاب، اخلاقی زوال اور فکری انتشار سے محفوظ رہ سکے۔

اصلاحِ معاشرہ کی حکمتِ عملی

اصلاحِ معاشرہ کا آغاز ہمیشہ فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے، کیوں کہ بگڑا ہوا فرد ہی بگڑے ہوئے معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی فکر، نیت اور کردار کو درست کر لے تو اجتماعی فضا خود بخود سنورنے لگتی ہے۔ اسی اصول کی جامع تصویر قرآنِ مجید میں بیان کی گئی ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا یغَیرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ یغَیرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (الرعد: 11)

’’ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت میں تبدیلی نہ لے آئے۔‘‘

یہ آیت اصلاح کے بنیادی اصول کی واضح عکاسی کرتی ہے: حقیقی تبدیلی اور اصلاح کا آغاز اندرونی اصلاح سے ہوتا ہے۔ دل کی پاکیزگی، نیت کی درستی اور فکر کی صفائی وہ ستون ہیں جن پر معاشرتی اور اجتماعی بہتری قائم ہوتی ہے۔ جب فرد اپنے اعمال، کردار اور نیتوں میں اصلاح پیدا کرے تو      اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی قوم اور معاشرے کی حالت میں بہتری بھی لے آتا ہے۔ یوں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر بیرونی اصلاح سے پہلے اندرونی صفائی اور خود احتسابی ضروری ہے، اور یہی اندرونی روشنی معاشرے میں پائیدار اور مؤثر اصلاح کے دروازے کھولتی ہے۔

فرد سے خاندان تک

فرد کی اصلاح کے بعد سب سے اہم دائرہ خاندان ہے، کیوں کہ خاندان ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر گھروں میں دیانت، حیا، عدل، باہمی احترام اور دینی شعور پیدا ہو جائے تو آنے والی نسلیں خود بخود صالح ماحول میں پروان چڑھتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے سب سے پہلے اپنے قریبی حلقے کو دعوت دی اور گھر سے اصلاح کا آغاز کیا۔

خاندان سے معاشرے تک

جب گھر سنور جائیں تو محلہ، ادارے اور سماجی ڈھانچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ تعلیم گاہیں، مساجد، بازار اور دفاتر— یہ اصلاح کے میدان ہیں۔ یہاں کردار سازی، دیانت داری، عدل و احسان اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس مرحلے میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا کردار نمایاں ہوتا ہے، لیکن یہ دونوں کام حکمت، نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ ہونے چاہییں۔

 تعلیم و تربیت اور کردار سازی

اصلاح کی حکمتِ عملی میں محض نصیحت کافی نہیں؛ منظم تعلیم و تربیت ناگزیر ہے۔ عقیدہ کی مضبوطی، اخلاق کی تربیت، اور شعور کی بیداری—یہ سب مستقل مزاجی کے ساتھ انجام پاتے ہیں۔ نبی ﷺ کا منہج یہی تھا کہ پہلے دلوں کو بدلا جائے، ایمان کو راسخ کیا جائے، پھر عملی احکام نافذ کیے جائیں۔ مکہ کے دور میں عقیدہ اور صبر کی تربیت، اور مدینہ میں عملی نظام کی تشکیل—یہ ایک واضح حکمتِ عملی تھی۔

 صبر، حکمت اور تدریج

اصلاح کبھی جلد بازی یا جبر کے ذریعے پائیدار نہیں ہوتی۔ صبر، تدریج اور حکمت اس کی اساس ہیں۔ لوگوں کی نفسیات کو سمجھے بغیر، حالات کا جائزہ لیے بغیر اور مناسب اسلوب اختیار کیے بغیر اصلاح کی کوشش اکثر ردِّ عمل پیدا کرتی ہے۔ اس لیے اصلاح کا راستہ نرمی، استقامت اور تسلسل کا تقاضا کرتا ہے۔

 مثبت متبادل کی فراہمی

محض برائی سے روک دینا کافی نہیں؛ اس کے مقابلے میں خیر کا عملی متبادل فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر فحاشی کے مقابلے میں پاکیزہ ماحول نہ ہو، سود کے مقابلے میں حلال معاشی نظام نہ ہو، اور بے راہ روی کے مقابلے میں صحت مند سرگرمیاں نہ ہوں تو اصلاح ادھوری رہ جاتی ہے۔ نبی ﷺ نے ہر باطل کے مقابلے میں ایک صالح متبادل پیش کیا—چاہے وہ معاشی اصول ہوں یا معاشرتی اقدار۔ لیکن بہرحال متبادل کے انتظار میں اور متبادل کی غیر موجودگی کو بہانا بناکر برائی سے چمٹے رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انسان جب تقوی اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔

اصلاحِ معاشرہ ایک ہمہ گیر اور تدریجی عمل ہے جس کا آغاز فرد سے ہوتا ہے اور ریاست تک پھیلتا ہے۔ یہ محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار، تعلیم، دعوت، صبر اور عملی نمونے سے پروان چڑھتا ہے۔ جب دل بدلتے ہیں تو ماحول بدلتا ہے، اور جب ماحول بدلتا ہے تو قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ یہی انبیائےکرام علیہم السلام کا منہج تھا اور یہی ہر دور میں پائیدار اصلاح کا راستہ ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

اصلاحِ معاشرہ: راستے کے نشانات

حالیہ شمارے

Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223