انسانی وجود کا سب سے نمایاں وصف اس کا شعور ہے۔ یہی شعور انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے اور اسے محض ایک حیاتیاتی وجود کے بجائے ایک فکری اور اخلاقی ہستی بناتا ہے۔ انسان نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ اپنے احساسات پر غور بھی کر سکتا ہے، نہ صرف دیکھتا ہے بلکہ اپنے مشاہدے کے معنی بھی دریافت کرتا ہے اور نہ صرف عمل کرتا ہے بلکہ اپنے اعمال کا محاسبہ بھی کر سکتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے اس مقام تک پہنچاتی ہے جہاں علم، شعور اور فہمِ ذات ایک دوسرے سے جڑ کر انسانی شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ قرآن مجید انسان کی تخلیق کے بیان میں اسی حقیقت کو نہایت بامعنی انداز میں پیش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کی ایسی بنیاد عطا کی جو اسے کائنات کو سمجھنے اور اپنے وجود کی معنویت دریافت کرنے کے قابل بناتی ہے۔
قرآنِ مجید میں حضرت آدمؑ کے واقعے کے ضمن میں ارشاد ہوتا ہے ۔۔ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ۔۔ (اور اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ۔ ) (البقرہ: 31)
مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ” اسماء “ سے مراد محض الفاظ کا علم نہیں بلکہ اشیاء کی حقیقت، ان کے باہمی تعلق اور ان کے معانی کو سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:
” انسان کے علم کی صورت دراصل یہی ہے کہ وہ ناموں کے ذریعے سے اشیاء کے علم کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ لہٰذا انسان کی تمام معلومات دراصل اسمائے اشیاء پر مشتمل ہیں۔ آدم کو سارے نام سکھانا گویا ان کو تمام اشیاء کا علم دینا تھا۔ “
گویا انسان کو وہ فکری استعداد عطا کی گئی جس کے ذریعے وہ کائنات کے مظاہر کو سمجھ سکے اور ان میں موجود حکمت کو دریافت کر سکے۔ یہی صلاحیت انسان کے شعور کی بنیاد ہے۔ اسی بنیاد پر انسان زمین میں ایک ذمہ دار مخلوق کی حیثیت اختیار کرتا ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کا شعور رکھتا ہے۔
قرآن میں علم اور شعور کا تصور محض ذہنی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اخلاقی اور روحانی عمل بھی ہے۔ قرآن انسان کو بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اسے کائنات کے مظاہر پر تدبر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس تدبر کے ذریعے انسان کے اندر حقیقت کی تلاش کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے وجود کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔۔۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ۔۔۔ (زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں کےلیے بہت نشانیا ں ہیں۔ (آل عمران: 190)
اللّٰہ رب العزت نے اس فرمان کے ذریعے عقل کو متحرک کردیا ہے اور انہیں دعوت دی ہے کہ وہ کائنات کے نظم و ضبط پر غور کریں۔ جب انسان اس کائناتی نظم کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر سوالات پیدا ہوتے ہیں، اور یہی سوالات اسے علم کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسی تلاش کے ذریعے انسان کے شعور کی گہرائی بڑھتی ہے اور وہ حقیقت کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی انتہائی لطیف نکتہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
” کائنات کی قدرت و حکمت پر غور کرنے والا شخص نہ صرف خدا تک بلکہ اقرار آخرت تک خود پہنچ جاتا ہے اور جس کا ذہن اس حقیقت تک پہنچ جائے گا ظاہر ہے کہ جزا و سزا کے تصور سے اس کا دل کانپ اٹھے گا اور اس کے اندر شدید داعیہ اس بات کے لیے پیدا ہوگا کہ وہ اس عذاب اور اس رسوائی سے پناہ مانگے جو ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو اس دنیا کو بس ایک کھلنڈرے کا کھیل سمجھتے رہے اور اس طرح انہوں نے اپنی ساری زندگی بالکل بطالت میں گزار دی۔ “
انسانی شعور کا ایک بنیادی پہلو خود آگہی ہے۔ خود آگہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے وجود، اپنے جذبات اور اپنے اعمال کا ادراک رکھے۔ قرآن انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اللہ کی نشانیاں صرف کائنات میں ہی نہیں بلکہ انسان کے اپنے نفس میں بھی موجود ہیں۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ. (اور تمہارے اپنے نفسوں میں بھی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟) (الذاریات: 21)
اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودی لکھتے ہیں:
” باہر دیکھنے کی بھی حاجت نہیں، خود اپنے اندر دیکھو تو تمہیں اسی حقیقت پر گواہی دینے والی بے شمار نشانیاں مل جائیں گی۔ کس طرح ایک خورد بینی کیڑے اور ایسے ہی ایک خورد بینی انڈے کو ملا کر ماں کے ایک گوشۂ جسم میں تمہاری تخلیق کی بنا ڈالی گئی۔ کس طرح تمہیں اس تاریک گوشے میں پرورش کر کے بتدریج بڑھایا گیا۔ کس طرح تمہیں ایک بے نظیر ساخت کا جسم اور حیرت انگیز قوتوں سے مالا مال نفس عطا کیا گیا۔ کس طرح تمہاری بناوٹ کی تکمیل ہوتے ہی شکم مادر کی تنگ و تاریک دنیا سے نکال کر تمہیں اس وسیع و عریض دنیا میں اس شان کے ساتھ لایا گیا کہ ایک زبردست خود کار مشین تمہارے اندر نصب ہے جو روز پیدائش سے جوانی اور بڑھاپے تک سانس لینے، غذا ہضم کرنے، خون بنانے اور رگ رگ میں اس کو دوڑانے، فضلات خارج کرنے، تحلیل شدہ اجزائے جسم کی جگہ دوسرے اجزاء تیار کرنے، اور اندر سے پیدا ہونے والی یا باہر سے آنے والی آفات کا مقابلہ کرنے اور نقصانات کی تلافی کرنے، حتیٰ کہ تھکاوٹ کے بعد تمہیں آرام کے لیے سلا دینے تک کا کام خود بخود کیے جاتی ہے بغیر اس کے کہ تمہاری توجہات اور کوششوں کا کوئی حصہ زندگی کی ان بنیادی ضروریات پر صرف ہو۔ ایک عجیب دماغ تمہارے کا سۂ سر میں رکھ دیا گیا ہے جس کی پیچیدہ تہوں میں عقل، فکر، تخیل، شعور، تمیز، ارادہ، حافظہ، خواہش، احساسات و جذبات، میلانات و رجحانات، اور دوسری ذہنی قوتوں کی ایک انمول دولت بھری پڑی ہے۔ بہت سے ذرائع علم تم کو دیے گئے ہیں جو آنکھ، ناک، کان اور پورے جسم کی کھال سے تم کو ہر نوعیت کی اطلاعات بہم پہنچاتے ہیں۔ زبان اور گویائی کی طاقت تم کو دے دی گئی ہے جس کے ذریعہ سے تم اپنے ما فی الضمیر کا اظہار کرسکتے ہو۔ اور پھر تمہارے وجود کی اس پوری سلطنت پر تمہاری انا کو ایک رئیس بنا کر بٹھا دیا گیا ہے کہ ان تمام قوتوں سے کام لے کر رائیں قائم کرو اور یہ فیصلہ کرو کہ تمہیں کن راہوں میں اپنے اوقات، محنتوں اور کوششوں کو صرف کرنا ہے، کیا چیز رد کرنی ہے اور کیا قبول کرنی ہے، کس چیز کو اپنا مقصود بنانا ہے اور کس کو نہیں بنانا۔ “
جب انسان اپنے نفس کے اسرار پر غور کرتا ہے تو اسے اپنے وجود میں ایسی پیچیدگی اور حکمت نظر آتی ہے جو اسے اپنے خالق کی معرفت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں فہمِ ذات کا آغاز ہوتا ہے۔ انسان اپنے اندر جھانک کر اپنے کمزور پہلوؤں کو پہچانتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسلامی فکری روایت میں اس عمل کو محاسبۂ نفس کہا گیا ہے۔ محاسبۂ نفس دراصل شعور کی بیداری کا ایک مستقل عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انسان کو اس بات کی تلقین فرمائی کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے اور اپنی زندگی کو مقصد کے ساتھ جوڑے۔ اس عمل کے ذریعے انسان اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے اور اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
امام ابو حامد الغزالی نے اس موضوع پر گہری گفتگو کی ہے۔ اپنی معروف تصنیف احیاء علوم الدین میں وہ لکھتے ہیں:
” انسان کے دل کی مثال ایک آئینے کی مانند ہے۔ اگر اس آئینے پر خواہشات اور غفلت کی گرد جم جائے تو حقیقت کا عکس اس میں واضح نہیں رہتا، لیکن جب انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنے دل کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہی آئینہ حقیقت کو صاف طور پر منعکس کرنے لگتا ہے۔“
امام غزالی کے نزدیک علم کا اصل مقصد یہی ہے کہ وہ انسان کے دل کو بیدار کرے اور اسے اپنے رب کی معرفت تک پہنچائے۔ اس تصور میں علم، شعور اور روحانیت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی فکری نظام کے مختلف پہلو ہیں۔
جدید علمِ نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر میں خود آگہی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ نفسیات میں Self-awareness اور Reflection کو شخصیت کی نشوونما کا اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے۔ جب انسان اپنے خیالات اور اپنے رویوں کا شعوری جائزہ لیتا ہے تو وہ اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسی عمل کو نفسیات میں Metacognition کہا جاتا ہے، یعنی اپنی سوچ کے عمل کو سمجھنا اور اس کا تجزیہ کرنا۔ یہ تصور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان اپنی ذہنی سرگرمیوں کو بھی شعوری طور پر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قرآن اسی فکری عمل کی طرف دعوت دیتا ہے اور انسان کو غور و فکر کی ترغیب دیتا ہے۔ ارشاد ہوا ہے: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ۔ (کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟)(النساء: 82)
یہ سوال دراصل ایک فکری چیلنج ہے۔ قرآن انسان کو صرف احکام کا مجموعہ نہیں دیتا بلکہ اسے غور و فکر کی راہ دکھاتا ہے۔ یہی غور و فکر انسان کے شعور کو بیدار کرتا ہے اور اسے حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔
انسانی شعور کے ارتقا میں جذبات کا بھی اہم کردار ہے۔ جدید نفسیات میں اس پہلو کو Emotional Intelligence کے نام سے بیان کیا جاتا ہے۔ جذباتی ذہانت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کو پہچانے، ان پر قابو رکھے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ قرآن میں صبر، حلم، عفو اور رحمت جیسی صفات پر زور دیا گیا ہے جو دراصل انسانی جذبات کو توازن میں رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس حوالے سے بہترین مثال پیش کرتی ہے۔ آپ کی زندگی میں ہمیں صبر، بردباری اور رحم دلی کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جو انسانی شخصیت کے توازن کو ظاہر کرتی ہیں۔
علم کی اصل قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ انسان کے کردار میں تبدیلی پیدا کرے۔ قرآن ایسے علم کو بے فائدہ قرار دیتا ہے جو انسان کی زندگی میں اخلاقی اصلاح پیدا نہ کرے۔ اگر علم صرف ذہن تک محدود رہ جائے اور انسان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو وہ محض معلومات کا بوجھ بن جاتا ہے۔ اسی لیے اسلامی روایت میں علم اور عمل کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا گیا۔ علم کا مقصد انسان کو حقیقت سے روشناس کرانا اور اس کے کردار کو سنوارنا ہے۔
ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں علم اور معاشرے کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علم انسانی تمدن کی بنیاد ہے، لیکن جب علم کا تعلق اخلاق اور مقصد سے منقطع ہوجائے تو وہ معاشرتی زوال کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ابن خلدون کے نزدیک علم کا حقیقی فائدہ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ انسانی زندگی کو نظم اور مقصد عطا کرے۔ ان کے نظریۂ عمران میں علم کو انسانی تہذیب کی ترقی کا ایک بنیادی محرک قرار دیا گیا ہے۔
انسانی زندگی میں سکون اور توازن کا تعلق بھی شعور کی بیداری سے ہے۔ جدید دور میں ذہنی اضطراب اور بے معنویت کے احساس نے بہت سے لوگوں کو نفسیاتی مسائل کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ماہر نفسیات وکٹر فرانکل نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی بہت سی نفسیاتی مشکلات کا بنیادی سبب زندگی کے مقصد کا فقدان ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو کسی بلند مقصد سے جوڑ لیتا ہے تو اس کے اندر معنی اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔
قرآن اس بے چینی کا حل اللّٰہ رب العالمین سے تعلق میں بتاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (آگاہ ہوجاؤ! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ ) (الرعد: 28)
یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللّٰہ سے تعلق انسان کے اندرونی اضطراب کو سکون میں بدل سکتا ہے۔ ذکر اور عبادت دراصل انسان کے شعور کو منتشر ہونے سے بچاتے ہیں اور اسے ایک مرکز فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی عبادات میں باقاعدگی اور نظم کو اہمیت دی گئی ہے۔ نماز، دعا اور ذکر انسان کو بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اس کی زندگی ایک بڑے مقصد کا حصہ ہے۔
انسانی شعور کا سفر دراصل مسلسل تربیت کا عمل ہے۔ انسان اپنی زندگی میں تجربات سے گزرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، سیکھتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہے۔ یہی تجربات اس کی شخصیت کو پختگی دیتے ہیں۔ جب انسان اپنے تجربات کا شعوری جائزہ لیتا ہے تو اس کے اندر بصیرت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے وجود کے معنی کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے لگتا ہے۔
قرآن میں نفسِ مطمئنہ کا تصور اسی پختگی کی علامت ہے۔ یہ دراصل انسانی شعور کی تکمیل کا مقام ہے جہاں علم، ایمان اور عمل ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ ایسے انسان کے اندر خوف اور اضطراب کی جگہ سکون اور اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی محض ذاتی مفادات تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ اپنے وجود کو خیر اور بھلائی کے وسیع تر مقصد سے جوڑ دیتا ہے۔
انسانی شعور کی یہی تکمیل دراصل فہمِ ذات کی معراج ہے۔ جب انسان اپنے وجود کو سمجھ لیتا ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ علم کا مقصد صرف جاننا نہیں بلکہ جینا ہے۔ شعور کا مقصد صرف سوچنا نہیں بلکہ بہتر بننا ہے۔ اور فہمِ ذات کا مقصد صرف خود کو پہچاننا نہیں بلکہ اپنے وجود کو خیر اور عدل کے لیے وقف کرنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی زندگی ایک وسیع معنویت اختیار کرلیتی ہے اور وہ اپنے وجود کو ایک امانت کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔
اسی شعور کے ساتھ انسان اپنی زندگی کو دیکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق بے مقصد نہیں ہوئی۔ قرآن انسان کو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اس کی زندگی ایک ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ علم کو بصیرت میں، شعور کو کردار میں اور فہمِ ذات کو خدمتِ انسانیت میں تبدیل کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو محض ایک حیاتیاتی وجود سے بلند کر کے ایک بامقصد اور باوقار ہستی بنا دیتا ہے۔







