دین کے مطالبات کی جامع تفہیم

(دستور جماعت اسلامی کے حوالے سے)

ڈاکٹر محمد رفعت

اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان پر جو احسانات کیے ہیں  اُن میں سے ایک یہ ہے کہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلسل مخلص مجددین ، امتِ مسلمہ کی اصلاح کے لیے اُٹھتے رہے ہیں ۔ کارِ اصلاح وتجدید انجام دینے والے ان اولوالعزم اصحاب نے مسلمانوں کے دینی شعور کودوبارہ زندہ کیا ہے ، اُمتِ مسلمہ کے عوام وخواص میں پیدا ہوجانے والی بُرائیوں پر گرفت کی ہے ، ایمان کے تقاضوں کو واضح کیا ہے اور جاہلی افکار ونظریات کا ابطال کیا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلسلہ نبوت مکمل ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی جانب سے دو انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ دنیا میں خیرباقی رہے اورشرو فساد کی بیخ کُنی ہوتی رہے ۔ اللہ کی اس اسکیم کا ایک جُز اُمت مسلمہ کی موجودگی ہے ۔ یہ اُمت اس لیےبرپا کی گئی ہے کہ پوری انسانیت کوفساد سے بچائے۔ اُسے راہِ راست دکھائے اوراپنی کوشش کے ذریعے زمین میں معروف کوفروغ دے اور مُنکر کومٹادے ۔

کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ۝۰ۭ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝۱۱۰ (سورہ آل عمران آیت ۱۱۰)

’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو ، جسے اِنسانوںکی ہدایت واِصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بُرائی سے روکتے ہو اوراللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہلِ کتاب ایمان لاتے توانہیں کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیش تر افراد نافرمان ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی اِصلاحی اسکیم کا دوسرا جُز، خود اُمت ِ مسلمہ کوراہِ راست پر قائم رکھنے سے متعلق ہے۔ جس طرح انسانیت کی فلاح کے لیے ایک ایسےگروہ (یعنی اُمتِ مسلمہ ) کی موجودگی درکار ہے انسانیت عامّہ کی نگرانی کرے اور بروقت کوشش کرکے بُرائیوں کومٹائے اور بھلائیوں کوقائم کرے،اسی طرح ایک ایسا گروہ بھی ہونا چاہیے جو خود اُمتِ مسلمہ کی کیفیت پر نگاہ رکھے ۔ اگر اُمتِ مسلمہ میں خرابیاں پیدا ہورہی ہوں توفوراً اُن کا نوٹس لے اور بُرائیوں کو مٹائے ۔ اگر معروف مِٹ رہا ہو تو معروف کی تلقين کر ے اوراُمتِ کی اجتماعی زندگی میں معروف کو ازسر نو رواج دے ۔ گویا اُمت ، انسانیت کی اصلاح ورہنمائی پر مامور ہے اورمجددین اوران کے ساتھی ، اِس اُمت کی اِصلاح پر مامور ہیں۔

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۰۴ (سور ہ آل عمران : آیت نمبر ۱۰۴)

’’ تم میں کچھ لوگ توایسے ضرورہی ہونے چاہئیں جونیکی کی طرف بُلائیں ، بھلائی کا حکم دیں اور بُرائیوں سے روکتے رہیں  جولوگ یہ کام کریں گے ، وہی فلاح پائیں گے ۔ ‘‘

بیسویں صدی کی اصلاحی تحریکیں

بیسویںصدی عیسوی میں اِصلاح وتجدید کی دو اہم کوششیں ، عالمِ اسلام کے حال کی درستی کے لیے شروع ہوئیں ۔ اِن میں ایک کوشش برصغیر میں برپا ہونے والی ’’جماعت اسلامی‘‘ نام کی تحریک تھی۔ جس نے ایک باقاعدہ تنظیم کی شکل میں اپنے کام کا آغاز 1941میں کیا ۔ دوسری نمایاں تحریک اخوان المسلمون تھی جس کا آغاز جماعت اسلامی کے قیام سے تقریباً دَس سال قبل عالمِ عرب میں ہوا۔ ان تحریکوں نے دنیا کے اور اُ مت کے حالات کا تجزیہ کیا ، باطل افکارونظریات کا رد کیا اوراُن کا غلط ہونا ثابت کیا اور مسلمانوں کو اپنابے لاگ احتساب کرنے اور قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے کی جانب متوجہ کیا ۔ اِن تحریکوں نے اُمتِ مسلمہ کواُس کا منصب یاد دِلایا ، منصب کے تقاضے واضح کیے اور عصرِ حاضر میں دینی تعلیمات پر عمل کے لیے راہ ہموار کی ۔ ان تحریکوں کا امتیاز اُن کا مؤثر لٹریچر ہے جواس وقت اردو، عربی اورانگریزی زبانوں کےعلاوہ دنیا کی بہت سی زبانوں میں دستیاب ہے۔ اس لٹریچر نے اُمت کے عوام وخواص کو متاثر کیا، دعوتی جذبے کی آبیاری کی ، اسلام کی اقامت کے خوابیدہ جذبے کوجگایا اورمسلمانوں کی نئی نسل میں خود اعتمادی پیدا کی ۔ ان تحریکوں کا دوسرا بڑا سرمایہ وہ مخلص کارکن ہیں جن کی اسلامی تربیت پر ان تحریکوں نے توجہ دی ۔ خواتین اورمردوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے پیغام عمل کوقبول کیا اور سرگرم عمل ہوکر اپنی اوردنیا کی ہمہ گیر اصلاح کے لیے کوششیں شروع کردیں۔

دین کے مطالبات کا شعور

دورِ زوال میں بھی دین سے لگاؤ اور اُس سے گہری محبت، مسلمانوں کا نمایاں وصف رہی ہے ۔ اِس محبت کی علامتوں کا مشاہدہ ، پورے عالمِ اسلام میں ہر وقت کیا جاسکتا ہے ۔ اس محبت کے باوجود جن اوصاف کی کمی نے اُمت کوکمزور کررکھا ہے ، وہ شعور ، سنجیدگی ، پختہ عزم اورصبر واستقامت ہیں۔ اُمت کی صورتحال کے اس حقیقت پسند انہ تجزیے کے پیش نظر ، بیسویں صدی میں اُٹھنے والی تجدیدی کوششوں نے ایک طرف تویہ کوشش کی کہ دین سے وابستگی اورمحبت کی کیفیات ، اس اُمت کے اندر باقی رہیں اوران میں مزید ترقی ہو۔ دوسری جانب ان اصلاحی تحریکوں نے دین کے مطالبات کوصراحت اوروضاحت کے ساتھ بیان کیا تاکہ مسلمانوں کا شعور زندہ ہو اورجن افراد کے اندر ایمانی حِس موجود ہو وہ اپنے عمل کی اِصلاح بھی کرسکیں۔

دین کے مطالبات کی توضیح وتشریح ایک ایسا کام ہے جواُمت کی تاریخ میں ہمیشہ انجام پاتا رہا ہے ۔ چنانچہ ہر دور میں مسلمان اہلِ علم نے دین کے مطالبات کوبیان کیا ہے ۔ عام فہم اسلوب میں بھی کتابیں لکھی گئی ہیں اور علمی سطح پر بھی دین کے تقاضے واضح کیے گئے ہیں ۔ اِس تاریخی اثاثے سے دورِ حاضر کی اصلاحی تحریکوں نے فائدہ اُٹھایا ہے لیکن اس میں اضافے کی ضرورت بھی انہوں نے محسوس کی ہے ۔ دین کے مطالبات پیش کرتے وقت اِن تحریکوں نے دو امور کوپیش نظر رکھا ہے، ایک دینی ترجیحات کا لحاظ اوردوسرے جامعیت ۔

’’دینی ترجیحات کے لحاظ ‘‘ کے معنیٰ یہ ہیں کہ سب سے زیادہ اہمیت ایمان کی تازگی کودی جائے ۔ جن حقائق پر ایمان لانا ہے اُن کی تشریح مسلمانوں کے ذہن نشین کی جائے اورایمان کے تقاضے بتائے جائیں۔ اس کےبعد دینی فرائض ، مسلمانوں کویاد دلائے جائیں اوراُن کی ادائیگی کی جانب متوجہ کیا جائے ۔ حرام او ر ناجائز کاموں کی نشاندہی ہو اور اُن سے بچنے کی مؤثر تلقین کی جائے۔ یہ مراحل طے ہوجانے کےبعد اہلِ ایمان کو بتایا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے نوافل کابھی اہتمام کریں۔ فرائض کے اہتمام اورمعصیّت سے اجتناب کی تلقین سے پہلےنوافل پر توجہ، ایک ایسی بے اعتدالی ہے جوامت کی اجتماعی زندگی کوغیر متوازن بنادیتی ہے ۔ اصلاحی تحریکوں نے دینی تعلیمات پر عمل کی دعوت کے ساتھ، ان تعلیمات میں جو ترتیب پائی جاتی ہے ، اُس کو ملحوظ رکھنے کی تذکیر کی ہے۔ مسلمانوں میں صحیح دینی ذوق ومزاج کے فروغ کےلیے دینی تعلیمات پر شعور کے ساتھ عمل در کار ہے۔

دوسرا  پہلو جس کو دین کےمطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے ، اسلامی تحریکوں نے سامنے رکھا ہے وہ ’جامعیت‘‘ ہے۔ اِنسانی زندگی کے بہت سے گوشے اورشعبے ہیں اور ہر ایک کے  بارے میں دین نے ہدایات دی ہیں، اِن سب تعلیمات پر توجہ ضروری ہے۔ دینی ہدایات میں سے بعض پر عمل کرنا اوربعض کونظر انداز کرنا ، ایسی کمزوری ہے جوبڑی آسانی سے اہلِ ایمان گروہوں کے اندر سرایت کرجاتی ہے ۔ نتیجۃً وہ دین کی حقیقی برکات و فوائد سے محروم رہتےہیں۔ اگردینی ہدایات کے مابین اس تفریق کی روش کوجان بوجھ کر اختیار کیا جائے تواللہ تعالیٰ کی گرفت کا اندیشہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کو خبردار کیا ہے کہ وہ دینی تعلیمات کے سلسلے میں اس غیر سنجیدگی سے باز آئیں۔

ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِھِمْ۝۰ۡ تَظٰھَرُوْنَ عَلَيْہِمْ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰ۭ وَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْھُمْ وَھُوَمُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُہُمْ۝۰ۭ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ۝۰ۚ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يُرَدُّوْنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ۝۰ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝۸۵ (سورہ بقرہ ۔آیت ۸۵)

’’آج تمہارا (یعنی اہلِ کتاب کا ) یہ حال ہے کہ تم اپنے بھائی بندوں کوقتل کرتے ہو ، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کردیتے ہو ،ظلم وزیادتی کے ساتھ اُن کے خلاف جتھ بندیاں کرتے ہو اورجب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے  پاس آتے ہیں، تواُن کی رہائی کے لیے فدیہ کالین دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں اُن کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا ۔تو کیاتم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ پھر تم میں جولوگ ایسا کریں، اُن کی سزا اِس کے سوا اورکیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل وخوار ہوکر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیردیے جائیں ؟ اللہ اُن حرکات سے بے خبر نہیں ہے جوتم کررہے ہو۔‘‘

دستو ر جماعت اسلامی کی تصریحات

1941میں جماعت اسلامی نے ایک تنظیم کی شکل میں کام شروع کیا ۔ اِس تنظیم کومنضبط رکھنے کے لیے ایک تحریری دستور بھی ترتیب دیا گیا ۔ چھ سال بعد 1947میں جب ہندوستان کی آزادی کے ساتھ مُلک کی تقسیم عمل میں آئی تو ایک جماعت کی صورت میں دونوں الگ الگ ممالک کے اندر کام کرنا ممکن نہ رہا چنانچہ جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان کے جُدا  ناموں سے دومستقل اورایک دوسرے سے آزاد تنظیمیں وجود میں آئیں ۔ اِن تنظیموں نے اپنے دساتیر بھی مرتب کیے۔ جماعت اسلامی ہند کا موجودہ دستور 1956کا مرتب کردہ ہے ۔ اس کے بعد اس دستورمیں جزوی ترمیمات تو ہوئی ہیں لیکن اس کو از سرِ نو ترتیب نہیں دیا گیا ہے ۔

جماعت اسلامی ہند کے دستور کومحض تنظیمی ضوابط کا مجموعہ سمجھنا صحیح نہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مختصر دستاویز (جو دستور جماعت اسلامی ہند کی صورت میں موجود ہے ) اِصلاح وتجدید کےاُس کام کا نقشہ پوری وضاحت کے ساتھ پیش کرتی ہے ، جس کی آج کے دور میں اُمتِ مسلمہ کوضرورت ہے ۔ دین کے مطالبات کوجامعیت کے ساتھ اس دستور میں بیان کیا گیا ہے تاکہ جومخلص افراد ، دین کے احیاء کے خواہش مند ہیں وہ بیک نظر دیکھ سکیں کہ موجودتناظر میں فکر وعمل کے کن گوشوں پر مصلحین کی توجہ درکار ہے ۔ جماعت اسلامی اپنے کام کی ابتدا سے ہی اس امر کی وضاحت کرتی رہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جماعت کا پیغام وہی ہے جو اِسلام کا پیغام ہے ۔ مثال کے طور پر اپریل 1947 میں  ٹونک میں منعقد جماعت کے اجتماعِ عام میں قیم جماعت نے جورپورٹ پیش کی اُس میں جماعت کی رکنیت کی شرائط کے سلسلے میں درجِ ذیل وضاحت کی ۔

’’ہم نے (جماعت اسلامی کی رکنیت کے لیے) جوشرائط اورجو معیار مقرر کیے ہیں وہ —-کتاب وسنت کی رو سے آسان سے آسان اورکم سے کم ہیں۔ ان سے بھی اگر کوئی شخص گرجائے تو اُسے چاہیے کہ قرآن اور حدیث کی روسے اپنا مقام خود تحقیق کرلے ۔‘‘ (روداد جماعت اسلامی حصہ پنجم)

پھر قیم جماعت نے مزید تشریح کرتے ہوئے کہا :

’’ ہم اپنے ارکان اوررکنیت کے امیدواروں سے جس چیز کا مطالبہ کرتے ہیں اورجو کام اُن کے سپرد کرتے ہیں وہ مطالبہ اوروہ کام وہی ہیں جواسلام نے ہرمسلمان کے سامنے رکھے ہیں ۔ ہم نہ تواسلام  کے اصل مطالبے پر ذرہ برابر کسی چیز کا اضافہ کرتے ہیں اورنہ اس میں سے کوئی چیز کم کرتے ہیں۔

ہم ہر شخص کے سامنے پورے اسلام کوبلا کم وکاست پیش کردیتےہیں اوراُس سے کہتے ہیں کہ اس دین کوجان بوجھ کر پورے شعور کے ساتھ قبول کر و۔ اس کے تقاضوں کوسمجھ کر ٹھیک ٹھیک ادا کرو ۔ اپنے خیالات اوراعمال میں سے ہر اُس  چیز کوخارج کردو جودین کے احکام اوراُس کی روح کے خلاف ہو اور اپنی پوری زندگی سے اسلام کی شہادت دو ۔ ‘‘ (ایضاً)

چنانچہ دستور جماعت محض ارکانِ جماعت کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کے سامنے دین کے مطالبات کوپیش کرتا ہے اِن مطالبات کو ذیل میں بیان کیا جارہا ہے ۔

کلمہ طیبہ کی تشریح

مسلمانوں کے حال کی درستگی اورتجدید و احیائے دین کا پہلا قدم ایمان کی بیداری ہے ۔ اس ترتیب کے مطابق جماعت اسلامی ہند کے دستور میں سب سے پہلے کلمہ طیبہ کا مفہوم اوراس کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں ۔ کلمے کے پہلےجُز لا الہ الا اللہ کی تشریح اس طرح کی گئی ہے۔

’’ اس عقیدے کے پہلے جُز یعنی اللہ تعالیٰ کے واحد اِلٰہ ہونے اورکسی دوسرے کے اِلٰہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہی اللہ ہم سب اِنسانوں کا معبودِ برحق اورحاکم تشریعی ہے ، جوہمارا اوراس پوری کائنات کا خالق ، پروردگار ، مدبر، مالک اورحاکمِ تکوینی ہے ۔ پرستش کا مستحق اورحقیقی مطاع صرف وہی ہے اوران میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔‘‘ (دستور جماعت اسلامی ہند۔ دفعہ ۳)

ظاہر ہے کہ توحید کی جامع تشریح میں دونوں پہلوؤں کی صراحت ضروری ہے ایک یہ کہ تنہا اللہ ہی پرستش کا مستحق ہے اور دوسرا پہلو یہ کہ صرف وہی حقیقی مطاع ہے ۔ باقی جس کی اطاعت بھی کی جائے گی وہ اللہ کی اطاعت کے تحت ہوگی ۔ اس نکتے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے دستور جماعت میں کہا گیا ہے کہ :

’’انسان …..اللہ تعالیٰ کے سوا، کسی کومالک الملک اورمقتدرِ اعلیٰ نہ سمجھے ، کسی کو بہ اختیارِ خود ، حکم دینے اورمنع کرنے کا مجاز تسلیم نہ کرے، کسی کو مستقل بالذات شارع اور قانون ساز نہ مانے اوران تمام اطاعتوں کوصحیح تسلیم کرنے سے انکار کردے ، جوایک اللہ کی اطاعت اوراس کے قانون کے تحت نہ ہوں۔‘‘ ( ایضاً)

کلمہ طیبہ کا دوسرا جُز محمد رسول اللہ ہے ۔ دستورِ جماعت میں اس کی تشریح اس طرح کی گئی ہے:

’’اس عقیدے کے دوسرے جُز ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ معبودِ بر حق اورسلطانِ کائنات کی طرف سے روئے زمین پر بسنے والے تمام اِنسانوں کو، جس آخری نبی کے ذریعے قیامت تک کے لئے مستند ہدایتِ نامہ اور مکمل ضابطہ حیات بھیجا گیا اورجسے اس ہدایت اور ضابطے کے مطابق عمل کرکے ایک مکمل نمونہ قائم کرنے پر مامور کیا گیا ، وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘ (ایضاً)

کلمہ طیبہ کے دوسرے جُز کے وہ تقاضے بھی دستورِ جماعت بیان کرتا ہے جوعموماً لوگوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں مثلاً:

’’اِنسان……تمام جاہلی عصبیتیں اپنے دِل سے نکال دے خواہ وہ شخصی وخاندانی  ہو ں یا قبائلی، نسلی اور وطنی یا فرقی وجماعتی ۔ کسی کی محبت وعقیدت میں ایسا گرفتار نہ ہو کہ وہ رسولِ خدا اورآپ کے لائے ہوئے حق کی محبت وعقیدت پر غالب آجائے یا اُس کی مدِ مقابل بن جائے۔‘‘(ایضاً)

اِس طرح یہ تقاضا بھی بیان کیا گیا ہے :

’’رسولِ خدا کے سواکسی اِنسان کو معیارِ حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے ، کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو ۔ ہر ایک کوخدا کے بنائےہوئے اسی معیارِ کا مل پر جانچے اورپرکھےاورجو اس معیار کے لحاظ سے جس درجے میں ہو اس کو اسی درجے میں رکھے۔‘‘ (ایضاً)

قابلِ غوربا ت یہ ہے کہ دستور جماعت نے اپنے مندر جات کی ترتیب میں کلمہ طیّبہ کی تشریح کو اولین مقام دیا ہے ۔ یہ ترتیب بلاوجہ نہیں ہے ۔ مسلمانوں کی انفرادی سیرتوں اوراجتماعی زندگی کی مطلوبہ اِصلاح اُسی وقت ممکن ہے جب اُن کا ایمانی شعور زندہ ہو، ایمان کے تقاضـے اُن پرواضح ہوں اور ان کی فکرو نظر کے تمام گوشے ایمان کی روشنی سے منور ہوجائیں ۔ صحیح ، مؤثر اورمفید عمل کے لیے محض حُسنِ نیت کافی نہیں بلکہ دینی بصیرت بھی درکار ہے ۔ اِس بصیرت کی اساس زندہ اور شعوری ایمان ہے جس کے تقاضے اپنی پوری جامعیت کے ساتھ افراد کے قلب وذہن میں اترجانے چاہئیں تاکہ اُمت کے اجتماعی ضمیر کی تشکیل درست خطوط پر ہوسکے ۔ ایمان کے تقاضوں کا شعور ناقص ہوگا توعملی زندگی بھی دین کی ناقص تصویر پیش کرے گی ۔ ایمان میں تازگی ، تابندگی اورزندگی نہ ہوگی تواعمال بھی رسمی ہوکر رہ جائیں گے ۔ مصلحین اُمت کوایمان کی اہمیت کومستحضر رکھنا  چاہیے۔

اقامتِ دین

کلمہ طیبہ کے مفہوم اورتقاضوں کی تشریح پیش کرنے کے بعد، جماعت اسلامی ہند کے دستورمیں دین کے اساسی عملی تقاضے کوپیش کیا گیا ہے ۔ یہ عملی تقاضا ’’دین کی پیروی ہے ۔‘‘ اس تقاضے کوبیان کرنےکے لئے جامع اصطلاح ’’اقامتِ دین ‘‘ ہے ۔ اس اصطلاح کا مفہوم بیان کرتے ہوئے دستور کہتا ہے ۔

’’اِس دین کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی تفریق وتقسیم کے بغیر ، اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اورہرطرف سے یکسو ہوکر کی جائے اوراِنسانی زندگی کےانفرادی واجتماعی تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری ونافذ کیا جائے کہ فرد کا ارتقا، معاشرے کی تعمیر اورریاست کی تشکیل سب کچھ اس دین کے مطابق ہو۔‘‘(دستور جماعت اسلامی ہند دفعہ ۴)

دستورِ جماعت میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ دین کی مکمل اورمخلصانہ پیروی ہی اسوۂ رسول کا اتباع ہے ۔ چنانچہ دستور میں درج ہے :

’’اِس دین کی اقامت کا مثالی اوربہترین عملی نمونہ وہ ہے جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے قائم فرمایا ۔‘‘ ( ایضاً)

پھر دستور بتاتا ہے کہ دین کی پیروی اوراقامت کے کام کو انجام دینے کے لیے جولوگ اُٹھیں، انہیں دو کام لازماً کرنے ہوں گے ، ایک خود اپنی انفرادی حیثیت میں دین پر عمل اور دوسرے بندگانِ خدا کودین کی طرف دعوت۔ اِن کاموں کوجماعت اسلامی ہند کے ارکان کی ذمہ داریاں قرار دیا گیا ہے ۔ دستور جماعت کی دفعہ ؎۸              اِن ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتی ہے ۔ چنانچہ اس دفعہ کی آخری شق میں بندگانِ  خدا کو حق کی طرف بلانے کا ذکر ہے۔ یہ شق درجِ ذیل ہے:

’’ہر رُکنِ جماعت کے لئے لازم ہوگا کہ وہ —— اپنی استعداد اوراستطاعت کے مطابق بندگانِ خدا کو اس عقیدے اورنصب العین کی طرف دعوت دے جس کی وضاحت ، دستورِ جماعت کی دفعہ  ۳ و ۴ میں  کی گئی ہے (یعنی کلمہ طیبہ اوراقامتِ دین کی طرف دعوت دے ) ——ا ور جو لوگ اس عقیدہ ونصب العین کوقبول کرلیں ، انہیں اقامتِ دین کے لیے اجتماعی جدوجہد پر آ مادہ کرے۔‘‘ (دستورِ جماعت اسلامی ہند دفعہ۸)

دین کی  طرف دعوت کا یہ کام لازماً افراد سے آگے بڑھ کر سماج اوراُس کے اداروں کومتاثر کرتا ہے چنانچہ داعی کا خطاب محض افراد تک محدود نہیں رہتا بلکہ داعی ، معاشرے کوبھی مخاطب بناتا ہے ۔ اسی طرح اپنی دعوت کے مزاج کے عین مطابق وہ معاشرے کے اداروں کی اصلاح کی سعی بھی کرتا ہے ۔ اِن امور کے سلسلے میں دین نے بعض اصولی ہدایات دی ہیں جن کی پابندی ضـروری ہے ۔ دستور جماعت اسلامی ہند نے اِن ہدایات کو ’’طریق کار‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے کارِ تجدید کی اساس کوبیان کیا گیا ہے  یعنی ’’قرآن وسنت کی طرف رجوع۔‘‘ دستور ِ جماعت کی عبارت درج ذیل ہے:

’’قرآن وسنت ، جماعت کی اساسِ کار ہوںگی ۔ دوسری ساری چیزیں ثانوی حیثیت سے صرف اسی حد تک پیش نظر رکھی جائیں گی ، جس حد تک قرآن وسنت کی رو سے اُن کی گنجائش ہو۔‘‘ (دستور جماعت اسلامی ہند ۔ دفعہ ۵ )

اس عبارت میں اُن تمام لوگوں کےلیے اصولی رہنمائی  موجود ہے جواُمت کی اصلاح کے لیے اُٹھیں۔ انہیں لازماً اپنی ساری سرگرمیوں ، منصوبوں اور پروگراموں میں قرآن وسنت کواساس بنانا چاہیے۔اس کے بعد دستورِ جماعت میں اُن لوگوں کی غلط فہمی کودور کیا گیا ہے جواسلامی تحریکات کے خلاف باطل طاقتوں کے شرانگیز پروپیگندے سے متاثر ہوگئےہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ فرد ، سماج اور ریاست کی اِصلاح کے لیے اسلام نے کسی ایسے طریقے کے اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے جس سے زمین میں فساد پھیلے۔

 دستور جماعت اسلامی ہند میں کہا گیا ہے

’’جماعت اپنے تمام کاموںمیں اخلاقی حدود کی پابند ہوگی اورکبھی ایسے ذرائع اورطریقے استعمال نہ کرے گی ، جوصداقت ودیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فرقہ وارانہ منافرت ، طبقاتی کش مکش اورفساد فی الارض رونما ہو ۔‘‘ (ایضاً)

پوری دنیا اس امر کوتسلیم کرتی ہے کہ اجتماعی خرا بیوں کی اِصلاح کے لیے ——تلقین ، فہمائش اور نصیحت کے بعد ، آخری چارہ کار کے طور پر ——طاقت کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اسلام بھی اس کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ ضروری شرط لگاتا ہے کہ طاقت کا استعمال وہی فرد یا ادارہ کرسکتا ہے جوقانوناً اس کا مجاز ہو ۔ اوراُسی حد تک کرسکتا ہے جس حد تک قانوناً گنجائش ہو ۔اگر اس اصول کا لحاظ نہ رکھا جائے تو انتشار، بدنظمی اورفساد کا اندیشہ ہے ۔ دستورِ جماعت مزید وضاحت کرتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں تبدیلی کے لیے فکر ونظر کی تربیت اوراِصلاح افکار کی کلیدی اہمیت ہے اس لیے اصل کوشش قلب وذہن اورفکرو نظر کی اصلاح کی کرنی چاہیے ۔ چنانچہ دستور میں کہا گیا ہے کہ :

’’جماعت اپنے نصب العین (اقامتِ دین ) کے حصول کے لیے ، تعمیری اورپُر امن طریقے اختیار کرے گی یعنی وہ تبلیغ وتلقین اوراشاعتِ افکار کے ذریعے ذہنوں اور سیرتوں کی اِصلا ح کرے گی اوراِس طرح ملک کی اجتماعی زندگی میں مطلوبہ صالح انقلاب لانےکے لیے رائے عامہ کی تربیت کرے گی ۔ ‘‘ (ایضاً)

اِسلام سماج اوراُس کے اداروں کی حقیقی اصلاح چاہتا ہے تاکہ اجتماعی ادارے ، فی الواقع خیرکے علمبردار اورمعروف کے خادم بن جائیں ۔ محض رسمی اورظاہری تبدیلی سے اسلام کا منشا پورا نہیں ہوتا ۔ حقیقی اصلاح، فکری تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔

انفرادی ذمہ داریاں

جیسا کہ ذکر کیا گیا، اقامتِ دین کا ایک تقاضا ، بندگانِ خدا کو حق کی طرف دعوت ہے ۔ ظاہر ہے کہ داعی  حق کا خود اپنی  ذات اورشخصیت کودین کا تابع بنانا اقامت دین کا اولین تقاضا قرار پائے گا ۔ چنانچہ دستورِ جماعت کی دفعہ  ۸ میں ’’ذمہ داریاں ‘‘عنوان کے تحت دین کے وہ مطالبات بیان کیے گئے ہیں جن کا  پورا کرنا ، ہرصاحب ایمان فرد کے لیے فرداً فرداً ضروری ہے ۔ دین کے مطالبات کا تذکرہ کرتے ہوئے پہلے دو بنیادی نکات کا ذِ کر ہے :

’’ہر رُکنِ جماعت کے لیے لازم ہوگا کہ

۱۔ دین کے جُملہ فرائض کواُن کی شرعی پابندیوں کے ساتھ ادا کرے ۔

۲۔  کبائر سے اجتناب کرے اور اگر وقتی جذباتِ نفس سے مغلوب ہوکر کسی گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوجائے تو اس سے توبہ کرے۔ ‘‘ (دستور جماعت اسلامی ہند دفعہ ۸ )

مندرجہ بالا نکات میں اصولی طور پر دین کے تمام مطالبات  بیان کردیے گئے ہیں ۔ ایمان کاتقاضا یہی ہے کہ اللہ کے عائد کردہ فرائض کوانجام دیا جائے اورنافرمانی ، معصیت  اورگناہ سے بچا جائے ۔ مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں جن امور کا خصوصی اہتمام کیا ہے اُن میں افراد کی اِصلاح وتزکیہ کی کوششیںشامل ہیں ۔ اس مقصد کے لیے انفرادی کوشش کی گئی اور اجتماعی ادارے بھی قائم کیے گئے ۔ تز کیہ نفس کی اس سعی میں بسا اوقات ایسی جزئیات بھی شامل ہوگئیں جوقرآن وسنت سے ماخوذ نہ تھیں ۔ ایسے اجنبی عناصر کی شمولیت نے تزکیہ نفس کی کوششوں پر منفی اثرات ڈالے ۔ صحیح اِسلامی مزاج کی پرورش کے بجائے افراد کے اندر غیر معتدل رجحانات پیدا ہوئے ۔ یہ ہماری تاریخ کی ایک توجہ طلب کوتاہی ہے ۔

تاہم جوبات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ کتاب وسنت کا علم رکھنے والے مخلصین ، اس شعبے کی اصلا ح کی طرف برابر متوجہ رہے اور تزکیہ نفس کی تدابیر کو شریعت کے دائرےمیں لے آئے ۔ ایسے محقق علماء ، اِصلاح وتربیت اور تزکیہ نفس کے لیے انہی دو امور پر زور دیتے رہے ہیں جن کا تذکرہ دستورِ جماعت نے کیا ہے یعنی  فرائض کی بجاآوری اورگناہوں سے اجتناب ۔ اِن علماء کے نزدیک اس اہتمام کے بغیر روحانی ارتقاء کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔

 معیشت

دینی فرائض کے اہتمام اورمعاصی سے بچنے کی یاددہانی کے بعد دستورِ جماعت میں زندگی کے معاشی پہلو پر توجہ دی گئی ہے ۔ اس سلسلےمیں تین ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں:۔

’’اگر وہ (یعنی رُکنِ جماعت ) کوئی ایسا ذریعہ معاش رکھتا ہو جومعصیت فاحشہ کی تعریف میں آتا ہے تو اسے ترک کردے بلا لحاظ اس کے کہ اس کے ترک کرنے سے کتنا نقصان ہوتا ہے اوراگر اس کے ذرائع معاش میں اس طرح کے کسی ذریعے کا کچھ حصہ شامل ہو تواس حصے سے اپنی معیشت کوپاک کرلے۔

اگر اس کے قبضے میں ایسامال یا جائداد ہوجو حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو اس سے دست بردار ہوجائے ۔ لیکن اگروہ مال یا جائد اد  ، معلوم ومتعین نہ ہوتو توبہ واستغفار کے ساتھ تلافی کی ممکن کوشش کرے۔

اگر اس کے مال یا جائداد میں کسی حق دار کا تلف کردہ کوئی حق شامل ہوتو اُسے اس کا حق پہنچادے یہ عمل اس صورت میں ضروری ہوگا ، جب کہ حق داربھی معلوم ہواوروہ چیز بھی معلوم ومتعین ہوجو حق تلفی کرکے لی گئی ہے۔ بصورت دیگراُسے توبہ واستغفار کے ساتھ تلافی کی ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔‘‘(ایضاً)

مندرجہ بالا ہدایات کا مرکزی نکتہ، مالِ حرام سے پرہیز ہے ۔ نیکی کی راہ میں ترقی کا کوئی تصور اُس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک حرام مال سے بچنے کا اہتمام نہ کیا جائے۔ اس نکتے کا اتنی تفصیل سے بیان، اُس اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جودستورِ جماعت نے زندگی کے معاشی پہلو کودی ہے ۔ دورِ زوال میں مسلمان جن پہلوؤں میں غفلت کا شکار ہوئے اُن میں حلال روزی کااہتمام بھی ہے ۔ اُمت کی اِصلاح کے لیےضروری ہے کہ صراحت کے ساتھ معیشت کو زیرِ بحث لایا جائے، معاشی زندگی کے متعلق اسلام کی تعلیمات ضروری تفصیل کے ساتھ بیان کی جائیں اورکمانے اورخرچ کرنے کے جائز اورناجائز طریقوں کی نشاندہی کی جائے ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کورائج الوقت معاشی نظام کے بُرے اثرات سے بچا یا جائے اورا س کے لیے عملی تدابیر بتائی جائیں۔

نظامِ حکمرانی سے تعلق

دستورِ جماعت کی دفعہ ۸ کی شِق (۶) رائج الوقت نظامِ حکمرانی سے مسلمانوں کے تعلق کے سلسلے میں رہنمائی کرتی ہے ۔ یہ شق درجِ ذیل ہے :

’’(الف) اگروہ کسی غیر الٰہی نظامِ حکومت میں کوئی کلیدی منصب رکھتا ہو یا اُس کے نظامِ عدالت میں فصلِ مقدمات کے عہدے پر مامور ہوتو اس سے دست بردار ہوجائے۔

(ب ) اگروہ کسی مجلسِ قانون ساز کا رُکن ہو توشرعی حدود کے دائرے میں اپنا کام انجام دے اورایسی قانون سازی کی مخالفت کرے جو غیر منصفانہ یا شریعت سے متصادم ہو۔‘‘ (ایضاً)

مندرجہ بالا شق میں نظامِ حکمرانی کے اداروں کے مابین ، اُن کی نوعیت کے اعتبار سے فرق کیا گیا ہے ۔ ایک قسم کے ادارے وہ ہیں جن میں قانونِ الٰہی سے ٹکراؤ ناگزیر ہے مثلاً ایک جج کو جورائج الوقت قانون کے مطابق فیصلے کرنے پرمامور ہے ، بسا اوقات خلافِ شریعت فیصلے بھی کرنے پڑیں گے اِس لیے جج کا منصب قبول کرنا ، ایمانی تقاضوں کے خلاف ہوگا۔

ٹکراؤ کی دوسری مثال یہ ہے کہ ایسی حکومت جو ہدایتِ الٰہی سے بے نیاز ہو ، غیر منصفانہ قوانین بنائے گی اورپالیسیاں وضع کرے گی جو خدائی شریعت سے متصادم ہوںگی ۔ اس حکومت میں کلیدی منصب پر فائز اشخاص ان قوانین اورپالیسیوں کے نفاذ پرمجبور ہوںگے ۔ اس لیے اس طرح کے کلیدی منصب کو قبول کرنا ایمانی تقاضوں کے منافی ہوگا۔

مندرجہ بالا اداروں کے برعکس دوسری نوعیت اُن اداروں کی ہے جہاں اصولاً شریعت کی خلاف ورزی لازم نہیں آتی ۔ مثلاً ریاستی یا مرکزی مجلسِ قانون ساز کا ممبر (جوحکمراں جماعت سے متعلق نہ ہو اور کسی غیر اسلامی سیاسی پارٹی کا ممبر نہ ہو) اپنے اظہارِ خیال میں آزاد ہوتا ہے ۔وہ مجبورنہیں ہوتا کہ خلافِ شریعت قانون ساز ی کی تائید کرے ۔اس کے برعکس اُسے یہ موقع حاصل ہوتا ہے کہ وہ شریعت سے متصادم تجاویز کی مخالفت کرسکتا ہے ۔ دونوں طرح کے اداروں میں اِس فرق کی بنا پر مجلسِ قانون ساز جیسے ادارے میں شمولیت کی اجازت دی گئی ہے ۔ واضح رہنا چاہیے کہ یہ اجازت اصولی ہے ۔ شرعی حدود کا  لحاظ بہر حال کرنا ہوگا ۔ اگر مجلسِ قانون ساز کے طریقِ انتخاب میں یا مجلس کی کارروائی کے تفصیلی طریق کار میں کوئی خلافِ شریعت جُز شامل کردیا جائے جس کی پابندی  ضروری ہو تویہ اجازت باقی نہیں رہ سکے گی ۔

’’نظام حکمرانی سےمسلمان کیا تعلق رکھیں‘‘ یہ ایک اہم  سوال ہے ۔ دستورِ جماعت میں اس سوال کا جواب دیتے وقت جوتنقیح سامنے رکھی گئی ہے وہ شریعت کی خلاف ورزی کے اِمکان سے متعلق ہے ۔ اگر زیرِ بحث اجتماعی ادارے کی نوعیت ایسی ہے کہ اُس سے وابستگی میں شریعت سے تصادم ہوتا ہے تووابستگی درست نہ ہوگی۔ اگرشریعت سے ٹکراؤ سے بچا جاسکتا ہے تووابستگی کا جواز ہوگا۔

دستورِ جماعت کا پیغام یہ ہے کہ ایک مسلمان کو اپنی معیشت کی طرح اجتماعی اداروں سے تعلق کے سلسلے میں بھی باشعور ہونا چاہیے ۔ وہ اس کا اہتمام کرے کہ اس کی روزی حلال وطیب ہو۔ اسی طرح وہ اجتماعی اداروں سے وابستگی اختیار کرتے وقت بھی اُن پر تنقیدی نگاہ ڈالے۔ ان اداروں کی نوعیت ، مقصد اورطریق کار کا جائزہ لے ۔ اگر ادارے کی صور تحال ایسی ہوکہ شریعت کی خلاف ورزی کے بغیر ، اُس سے وابستگی ممکن ہوتو ایک صاحبِ ایمان فرد اُس میں شامل ہوسکتا ہے۔ لیکن اگرایسا نہ ہو تو اُسے ایسے ادارے سے الگ رہنا چاہیے ۔ دستورِ جماعت میں  صراحت کے ساتھ صرف تین اداروں کا ذِ کر ہے ، نظامِ حکومت کےکلیدی مناصب ، فصلِ مقدمات کا منصب اور مجلسِ قانون ساز کی رُکنیت ۔ تاہم شریعت کی پابندی کے بنیادی اصول کوسامنے رکھ کر ہراجتماعی ادارے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے (خواہ وہ حکومت کے تحت ہویا نجی ادارہ ہو) اورپھر اُس سے تعلق کے سلسلے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔

اُمت کا قیمتی اثاثہ

دین کی تجدید واحیاء کی تحریک کاوجود میں آنا کوئی آسان کام نہیں۔ بگڑے ہوئے سماج اورفاسد نظام کی موجودگی میں آزاد ذہن کے ساتھ سوچنا اورایمان کے تقاضوں کے ادراک پر قادر ہونا ، اللہ کے فضل ہی سے ممکن ہے ۔ اصلاح وتجدید کی تحریک شروع ہوجائے تب بھی یہ یقینی نہیں ہوتا کہ وہ جاری رہ سکے گی اورترقی کی منزلیں طے کرے گی ۔ تحریک کوباقی رکھنے اورفروغ دینے کے لیے انتھک جدوجہد ، علمی وعملی کاوش اور قربانیوں کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ درست خطوط پر اُٹھنے والی تجدیدی تحریکات اُمت کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کوانحراف سے بچانا اُمت کی ضرورت ہے ۔ دستورِ جماعت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی ہند کا دستور، اُس کی دعوتِ اصلاح اور غیر معمولی پیغام کی جامع ترجمانی کرتا ہے ۔ اِس پیغام کی صداقت کے حق میں کتاب وسنت کے دلائل موجود ہیں۔ ضرورت ہے کہ جماعت اسلامی ہند کواس دستور پر قائم رکھا جائے ،ہر انحراف سے اُسے بچایا جائے اوراُمت کے عوام وخواص کوبڑے پیمانے پر دین کے مطالبات کی اس مستند اور جامع تفہیم سے واقف کرایا جائے، جودستور ِ جماعت کے اندر موجود ہے ۔ باطل طاقتوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ، پست ہمتوں کی عافیت پسندی سے گھبرا کر ، وقت کی مقبول راہوں پر ملت کولے جانے والے نادان قائدین کی چرب زبانی سے متاثر ہوکر اورغلامی کے خوگرذہنوں کے اثرات کوقبول کرکے، اس قیمتی اثاثے کوضائع نہیں کرنا چاہیے جوجماعت اسلامی ہند کے دستورکی شکل میں اُمت کے پاس موجود ہے ۔

جماعت اسلامی کی تشکیل کے وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے جوتنبیہ کی تھی وہ یاد رکھنے کے لائق ہے ۔:

’’جماعت کی سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ اس کو راہِ راست سے نہ ہٹنے دیا جائے۔ اس میں غلط مقاصد اورغلط خیالات اور غلط طریقوں کے پھیلنے کوروکا جائے۔ اس میں نفسانی دھڑے بندیاں نہ پیدا ہونے دی جائیں۔ اس میں کسی کا استبداد نہ چلنے دیا جائے۔ اِس میں کسی دنیوی غرض یا کسی شخصیت کوبُت نہ بننے دیا جائے اوراس کے دستور کوبگڑنے سے بچا یا جائے ۔‘‘ (روداد جماعتِ اسلامی ۔ حصہ اوّل)

اگست 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau