حکمتِ دعوت کے چند نمونے

غلام رسول دیشمکھ

دعوت نہایت اہم اور وسیع موضوع ہے۔ یہ آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ یہ موضوع عوام کی نفسیات، رجحانات اور جذبہ عبودیت کی تسکین کے بے شمار طریقوں ، عقائد ،رسومات میں بٹا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں مجھے جو تجربات ہوئے ہیں، اُنھیں عوام کا ذہن جلد سمجھ لیتا ہے۔ اس لیے چند باتیں پیش خدمت ہیں۔

اسلام کے تعلق سے بہت سارے دانشوروں ،مفکروں اور سیاست دانوں کی رائے مثبت اور قابل قدر ہیں۔ چاہے وہ گاندھی جی ہوں ،و نوبابھاوے یاراجگوپال آچاریہ یا جارج برنارڈ شاہ اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر سب رائے اور تبصرے ملیں گے۔ انھوں نے اسلام اور عیسائیت کا نام دباؤ کی سیاست کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ ہندورہتے ہوئے ہی اپنے مفادات اور ریزرویشن حاصل کرسکتے تھے۔ حکومت اور ہندو دانشور بودھ، جین اور سکھ تمام کو ہندو مذہب فرقہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عوام میں دین اسلام کے داخلے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ مناکشی پورم یا کریور Kariyurجیسے واقعات کہیں کم کہیں زیادہ جاری ہیں۔ اللہ نے جن کی قسمت میں ہدایت لکھی ہے وہ بہرحال آئیں گے ہی اور اسی کا فضل ہے کہ ملک یا بین الاقوامی دُنیا میں یہ سلسلہ تمام تر پابندیوں کے باوجود جاری ہے۔

ایمرجنسی میں پورے ملک کی جیلوں میں برادران وطن کے ساتھ رفقاے جماعت نے سنت یوسفی ؑ  ادا کی اور اپنے کردار ، قول و عمل تبادلہ خیال، لٹریچر اور ترجمہ قرآن مجید وغیرہ کے ذریعے ہر ممکن طریقے سے اسلام کا تعارف پیش کیا۔ اس کام کے لیے اللہ نے جماعت کے رفقاء  کا انتخاب کیا تھا۔ باہر تو زبان پرتالے پڑے ہوئے تھے ،لیکن جیل میں پوری آزادی تھی۔ قبل ازیں وطن عزیز میں اس سے بہتر مواقع کبھی میسر نہیں آئے۔ رہائی کے بعد انعام الرحمن خاں صاحب کو مدھولمئے ﴿سماج وادی رہنما﴾ نے بہت سراہا۔ ان کی تعریف میں پریس، میڈیا وغیرہ میں عمدہ طریقے سے تعارف کرایاگیا۔ جب مدھیہ پردیش میں ۱۹۷۷؁ء جنتا پارٹی کی حکومت بنی تو انعام الرحمن خاں صاحب کو وزارت اوقاف کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔

میں سن ۱۹۵۰ ؁ءکے بعد جماعت سے وابستہ ہوا۔ اس وقت کا ماحول مثالی تھا ۔جماعت کے افراد کی تعداد بہت معمولی تھی۔ لیکن یہ جب بھی آپس میں ملتے بڑی یگانگت وخوش دلی کااظہار کرتے۔ گفتگو کاموضوع دعوت اور اسلامی معاشرہ ہی ہوا کرتا تھا۔ ہر رفیق اپنے کام کا تذکرہ کرتا اور اِس سلسلے کے اپنے تجربے بیان کرتا تھا۔ عمل اور ردعمل بھی سامنے آتا اور اس پر تبادلہ خیال ہوتا۔ ان باتوں کی وجہ سے دعوت اور اصلاح کے کام کرنے کا جذبہ پروان چڑھتا تھا۔ آپس میں فکری ہم آہنگی پیدا ہوتی تھی، خلوص اور جذبۂ اپنائیت کی پرورش فطری طریقے سے ہوا کرتی تھی۔ ایک دوسرے کے کام میں سبقت کا جذبہ اُبھرتا تھا۔ حوصلہ بیدار رہتا تھااور اس طرح اپنے مقصد سے لگن ، وابستگی ، ایثار اورقربانی میں اضافہ ہوتا رہتاتھا۔ افسوس کہ اب وہ ماحول اور کیفیت نظر نہیں آتی۔ رپورٹیں کاغذ کی زینت بن گئی ہیں۔ دعوتی اور اصلاحی کاموں کی اہمیت اور تقاضے پیش کرتے ہوئے چنئی ﴿تامل ناڈو﴾ کے جمیل احمد صاحب نے ایک کتاب مرتب کی ہے۔ جو میدان عمل میں کام کرنے والے رفقاء  کے لیے مفید ہے۔ اس کا مطالعہ ہر اس فرد کو کرناچاہیے، جو مندرجہ بالاباتوں سے دلچسپی رکھتاہو۔ میں طوالت سے بچتے ہوئے اس کتاب سے دو دعوتی نمونے حاضر خدمت کررہاہوں۔

پکتھال کا نام انگریزی ترجمہ قرآن کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ صاحب ملازمت کے سلسلے میں عرب ملک میں تھے۔ ایک روز اپنے بالاخانے سے انھوں نے دیکھا کہ ایک صحت مند نوجوان بکریاں چرارہا تھا۔ اس وقت ایک بوڑھا کمزور شخص اس نوجوان کے پاس آیا اور اسے مارنے پیٹنے لگا لیکن وہ نوجوان خاموش تھا۔ پکتھال کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ انھوں نے دونوں کو بلوا کر معاملے کی نوعیت معلوم کی۔ نوجوان نے کہا کہ میں نے ان بڑے میاں سے کچھ رقم اُدھار لی تھی۔ اب تک میں رقم کو ادا نہیں کرسکا ہوں۔ اس پر وہ خفا ہورہے ہیں اور ڈانٹ رہے ہیں۔ پکتھال نے کہا کہ تم جواب دے کر ان کو روک سکتے ہو۔ اس پر اس اس اَن پڑھ چروا ہے نے کہا کہ ’’ہمارے نبیﷺ  کی تعلیم یہ ہے کہ قرض لو تو وقت پر ادا کردو۔ لیکن میں وقت پر ادا نہیں کرسکا یہ میری کوتاہی ہے اور میرا گناہ ہے۔ چونکہ قرض دینے والے کا یہ حق ہے کہ وہ مجھ پر تنبیہ کرے۔ اگر میں اسے روکوں اور الٹا جواب دوں تو یہ دوہرا گناہ ہوتا۔ یہ دوہرا وبال میں اپنے سر کیوں لوں۔‘‘ یہ باتیں سن کر پکتھال سکتے میں آگئے۔ سیرت اور قرآن کامطالعہ کیا اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ پھرقرآن کا انگریزی ترجمہ کیا جو انھیں کے نام سے مقبول اور مشہور ہے ۔ یہ ترجمہ سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور اس کو پڑھ کر لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔

شمالی ہند میں ایک شخص ملازمت کے سلسلے میں ریل کا سفر کیا کرتے تھے۔ جب کوئی طالب علم ملتا تو اس کو کتابیں دیتے یا حکمت کے تحت اُسی سے پڑھوا کرسنتے تھے۔ اس طریقہ سے توحید، رسالت اور آخرت کی باتیں ذہن نشین کروادیتے۔ ان میں سے چند اسلام کے زیر سایہ بھی آگئے۔ انھی کوششوں میں بانکے رام نامی ایک لڑکا بھی ملا۔ اپنے معمول کے مطابق انھوں نے اسے بھی کتابیں دیں۔ یہ سلسلہ کچھ دن جاری رہااور وہ لڑکا ایمان لے آیا۔ گھر والے مخالفت پر اُترآئے تو اسے شمالی ہند کی درس گاہ سے نکال کر جنوب کی درس گاہ جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخل کردیاگیا۔ وہاں سے مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ہوئے تو جامعہ ازہر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس وقت وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ میں شعبۂ حدیث کے استادہیں اور دین کی اشاعت اور فروغ میں منہمک ہیں۔

ماہنامہ افکار ملی نے بھی اگست ۲۰۰۷؁ء کی خصوصی اشاعت میں ’’ہندستان میں اسلام کی دعوت- مسائل اور امکانات ‘‘ پر مضامین شائع کیے ہیں۔ اس طرح تجربات، نمونے اور حکمت کی باتیں شائع ہوتی رہنی چاہئیں۔ اس سے میدان عمل میں کام کرنے والے رفقاء  کو بڑا حوصلہ ملتا ہے۔ کس ماحول میں، کس وقت اورکس طرح دعوت پہنچائی جائے اس سلسلے میں پوری رہ نمائی حاصل ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : ’’اے نبیﷺ ! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت وحکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔ تمھارا رب ہی بہترجانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پر ہے۔‘‘ ﴿النحل﴾

مارچ 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau