حقیقی مسرت کی جانب ایک سفر

امریکی نو مسلمہ کریسٹن سینرر مسکی کا پہلا سفرِ حج

مترجم: ارشاد الرحمن

کریسٹن سینرر مسکی (Kristin Szremski) ۵۳ برس کی ہوچکی ہیں۔امریکی ریاست الینوی (Illinois) سے تعلق ہے۔ ریاست میسوری (Missouri) کے ایک لوتھر عقاید رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اسلام کی طرف آنے سے قبل لوتھر عقائد سے دست کش ہو کر مسیحیت کے کیتھولک مکتب فکر کو انہوں نے پرکھا۔ اِس مرتبہ کریسٹن بھی اُن لاکھوں عازمین حج میں شامل تھیں جو دنیا کے گوشے گوشے سے رب کی کبریائی کا اعلان کرنے مکہ مکرمہ آئے تھے۔ کریسٹن کے قبولِ اسلام اور سفر حج کی روداد امریکی ویب سائیٹ Huffington Post.com میں شائع ہوئی ہے۔ اس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال:آپ نے کس طرح اسلام قبول کیا اور کون سی چیز اسلام کی طرف آنے کا سبب بنی؟

جواب:سن 2000ء میں امریکی اخبار Stars کے لیے میں شکاگو کے نواح میں بطور مراسلہ نگار کام کر رہی تھی۔ میرے ذمے عرب کمیونٹی کی سرگرمیوں کی رپورٹ مرتب ہونا تھا۔ اس وقت تک میں اسلام کے بارے میں کچھ نہ جانتی تھی۔ لوتھری عقاید رکھتے ہوئے میسوری میں میں نے پرورش پائی۔ ہم نے پڑھ رکھا تھا کہ یسوع کے بعد جتنے ادیان اور انبیا آئے ہیں سب باطل ہیں۔ مجھے یہاں کام کرتے ہوئے ابھی چھے ہفتے ہی گذرے تھے کہ میں مذہب کے معاملے میں بحث و تحقیق پر مجبور ہو گئی۔ میں بہت سے مسلمان عربوں سے ملی اور ان کے ساتھ بحث مباحثہ کرتی رہی۔ میرا قبولِ اسلام کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سفر کو طے کرنے میں مجھے 18 مہینے صرف کرنا پڑے۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ اسلامی روایات بھی انھی واقعات اور کرداروں سے متعلق ہیں جو انجیل میں ہیں۔ میں لوتھر فرقے میں پروان چڑھی مگر چالیس سال کی عمر میں کیتھولک مسیحیت کو اپنا لیا۔ دراصل میں ایک بڑے گروہ سے وابستگی کو پسند کرتی تھی لہٰذا کیتھولک چرچ سے میں متاثر ہوئی۔ اس وقت میرا شوہر بھی کیتھولک مسیحی تھا۔ میںنے فیصلہ کیا کہ میں چرچ جایاکروں۔ بعدازاں میرے قبولِ اسلام پر اس چیز کا بہت گہرا اثر ہوا کیونکہ لوتھر چرچ بائبل کے حقیقی معانی پر ہی ایمان رکھتا ہے جبکہ کیتھولک چرچ تحقیق و جستجو کرنے اور سوال اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے لہٰذا اس بات نے میرا راستہ ہموار کر دیا کہ میں قرآن کے وحیِ الٰہی ہونے کا عقیدہ رکھوں۔ میرے لئے یہ اقدام آسان تھا کہ میں یہ عقیدہ بھی رکھوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول اور نبی ہیں۔ اس سفر کا مشکل مرحلہ یہ تھا کہ میں اپنے روایتی عقیدے کی اس بات پر مطمئن نہیں تھی کہ یسوع اللہ کے فرزند ہیں۔ بالآخر قرآنِ کریم کی آیت لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔(الاخلاص:4-3) نے میری دست گیری کی اور اللہ کا اپنا فرمان سامنے آ گیا کہ ’’نہ اُس نے کسی کو جنم دیا ہے اور نہ کسی نے اُسے جنم دیا ہے، کوئی چیز اس کی ہم سر اور مثیل نہیں ہے۔‘‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت عیسیٰ کو اسلام کے تصور میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ لہٰذا میںحضرت عیسیٰؑ کی ذات اور شخصیت سے بے نیاز اور لاتعلق تو نہیں ہو رہی البتہ میرے اوپر یہ لازم ہے کہ میں اس تصور اور عقیدے سے دستبردار ہو جائوں کہ عیسیٰؑ ہی اللہ ہیں۔

یہ 21 جولائی 2001ء کا دن تھا جب میرے قبولِ اسلام کا عمل مکمل ہوا۔ میں دارالحکومت واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں تھی۔ اپنے رسالے کے لیے رپورٹنگ کی غرض سے یہاں گئی تھی۔ کمرے میں نماز ادا کر رہی تھی اور میرے سامنے بیڈ پر قرآنِ مجید کھلا پڑا تھا۔ میں تشہد کی حالت میں تھی اور اللہ سے دعاگو تھی کہ وہ حقیقت تک پہنچنے میں میری رہنمائی فرمائے۔ اسی دوران بلاساختہ میری زبان سے لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے الفاظ ادا ہو گئے۔

میں اسلام کو اس کی بے آمیزی، سادگی و سچائی اور مطابق حقیقت ہونے کی بنا پر پسند کرتی ہوں۔ میں جتنے مسلمانوں سے ملی ہوں وہ واقعتا بہت نفیس اور اچھے لوگ تھے، تہذیب شائستگی اور صبر وتحمل کی خوبیوں سے آراستہ تھے۔

سوال:حج کے لیے یہ آپ کا پہلا سفر تھا، کیا آپ اس سے پریشان تھیں؟

جواب:حج کا سفر میرے لیے باعث تشویش توتھا کیونکہ یہ واقعتا ایک دشوارروحانی و جسمانی سفر ہے۔ اس بنا پر میں متفکر تھی۔ متعدد ایام پر محیط مختلف مناسک حج کی مشکلات بھی یقینا ذہن میں تھیں کہ دوبار میری گردن کا آپریشن ہو چکا ہے اور ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن سے بھی گزر چکی ہوں۔ اس کے ساتھ جس چیز نے مجھے مزید پریشان رکھا وہ میری پنڈلیوں میں نقاہت تھی۔ میں جلدی اور تیزی سے حرکت نہیں کر سکتی تھی، چلنے کے باعث مجھے بے چینی اور تھکاوٹ کا خوف بھی تھا۔ نیند پوری نہ ہو سکنے کاخدشہ بھی ذہن میں تھا۔ ان ساری چیزوں کے جمع ہو جانے کی وجہ سے صحت کا مسئلہ کھڑا ہونے کا خوف دماغ پر سوار تھا، لیکن الحمدللہ مناسک کی ادایگی میری توقع اور تصور سے بڑھ کر اچھی ہوئی۔ بلکہ میں نے تو اس دوران اپنے آپ کو پہلے سے بہتر حالت میں محسوس کیا۔ جسمانی قوتوں کے اندر آنے والی یہ بہتری اس سفر کی برکت تھی۔ میں یہاں یہ عرض کرتی جائوں کہ اسلام ایک معتدل دین ہے۔ دین کا مقصد کبھی مشکلات پیدا کرنا نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسلام مناسک حج کی ادایگی میں کچھ رخصتوں سے بھی نوازتا ہے جن سے میں نے حسب ضرورت فائدہ اٹھایا۔ وقوف عرفہ حج کا اساسی رکن ہے۔ اگرچہ عمر رسیدہ اور میرے جیسے مریضوں کے لیے کچھ رخصتیں بھی ہیں مگر اس کے باوجود میں نے وقوف کا بیشتر وقت کھڑے رہ کر گزارا او رآخری لمحات میں مجھے بیٹھنے کی ضرورت پیش آئی۔ بسا اوقات سفر کا کوئی مرحلہ جسمانی طور پر مشکل ہوتا ہے مگر وہ نہایت خوبصورت اور خوشگوار ہوتا ہے۔ غروبِ شمس کے وہ لمحات کیا ہی خوب صورت اور دل ربا تھے جب سیکڑوں لوگ ایک ٹیلے پر جمع تھے اور کعبہ کی طرف رُخ کرکے  دعا کرنے میں مگن تھے۔ یہ چند لمحوں میں جمع ہوئے اور ایک امام کی اقتدا میں دعا ہونے لگی۔ امام بلند آواز سے دعا کر رہا تھا اور بہت سے لوگ دھاڑیں مار کر رو رہے تھے۔ میں بھی ان رونے والوں میں شامل تھی۔ میں یہاں دوبارہ یہ بات کہوں گی کہ حج خاصی مشقت اور جدوجہدطالب مگر بعد میں جس سکون و سلامتی اور سرور و سرشاری کی کیفیت حاجی میں پیدا کرتا ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے۔

سوال:آپ اس حج سے کیا چیز حاصل کرنا چاہتی تھیں؟ اور کیا وہ چیز آپ کو مل گئی؟

جواب:میں ذاتی طور پر اس سفر سے جو فائدہ حاصل کرنا چاہتی تھی وہ اپنے خالق کے ساتھ گہرا تعلق دریافت کرنا تھا تاکہ میں اس پختہ یقین اور اطمینان تک پہنچ جائوں کہ اللہ ہی وہ کامل ذات ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔ میں نماز بھی اسی مقصد کے حصول کے لیے ادا کرتی تھی۔ یہ بات تو کسی شک سے بالا ہے کہ جو لوگ ایمان کی اس اعلیٰ سطح پر پہنچ جائیں انھیں کسی خوف و خطرے کا سامنا نہیں ہوتا۔ میں یقین سے کہتی ہوں کہ میں نے وہ سب کچھ پا لیا جس کی مجھے تلاش تھی۔ مجھے یہ احساس بھی ہے کہ یہ چیز میرے روزانہ کے معمول میں شامل ہونا ضروری ہے۔

مکہ مکرمہ کے اندر کعبہ کے سامنے میں نے خود کو جس طریقے سے اللہ کے حضور محسوس کیا، زندگی بھر کبھی ایسا احساس نصیب نہیں ہوا تھا۔ محبت و عقیدت سے سرشار ی کی کیفیت ملی جس میں یقین و اعتماد اِلقا ہو رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اپنادل کھول کر اپنےرب کے سامنے رکھ دوں اور ہر وہ چیز اللہ سے مانگ لوں جو میں مانگنا چاہتی ہوں۔ اب جبکہ میں رب کے ساتھ براہِ راست  ملاقات کی کیفیت کا مشاہدہ کر چکی ہوں، میں اس کیفیت کی محافظت اور نشوونما کو ضروری خیال کرتی ہوں۔ اپنے اندر ناگزیر تبدیلیاں لانے کی ذمہ داری میرے کاندھوں پر آ گئی ہے۔ میں نے روزانہ نمازِ فجر مسجد میں باجماعت ادا کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ ان شاء اللہ!

سوال:حج کے بعد آپ کو اپنی شخصیت کے اندر کس قسم کی تبدیلی کی توقع تھی؟ کیا وہ تبدیلی واقع ہوئی؟

جواب:گذشتہ دس سال کاعرصہ میرے لیے زندگی کا مشکل ترین مرحلہ تھا۔میں نے اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کر لی اور اُس کو چھوڑ کر آگئی۔ دوبارمہروں اور گردن کی جراحی کے عمل سے گزری۔ معاشی بحران میں مجھے اپنا مکان بھی کھونا پڑا۔ اسلاموفوبیا جس کا ملک میں بہت پروپیگنڈا ہوتا ہے، اُس کا احساس ہونے لگا اور اس نے مجھے بوڑھا کرکے رکھ دیا۔ سچ کہوں تو یہ حقیقت ہے کہ اسلام ایک کامل دین ہے مگر میں ابھی اس پورے دین کے مطابق زندگی بسرنہیں کرپارہی۔ رب سے شکوے کی بجائے یہ ضروری سمجھتی ہوں کہ گذشتہ چند برسوں میں جو کچھ پیش آیا اُس پر اللہ کی شکرگزار رہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ سب سے اہم چیز جو پیش آئی وہ یہ ہے کہ مجھے ایک امریکی اہمیت دی گئی گرچہ میں اسے کوئی خاص بات نہیں سمجھتی۔ میرے اوپر فرض تھا کہ میں اپنے قبولِ اسلام  پر اللہ کی شکرگزار رہتی مجھے بہترزندگی عطا ہوئی ہے لیکن میں شکرگزاری کا حق ادا نہ کر سکی۔

دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ حج کے لیے آتے ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیںجن کے پاس وسائل نہیں ہوتے، ہوٹلوں میں قیام، تو کیاخیموں کے اندر قیام کے لیے بھی اُن کے پاس  وسائل نہیں ہوتے۔ یہ لوگ اپنی حقیر سی پونجی لے کر اپنی بستیوں کو چھوڑتے اور مکہ آن پہنچتے ہیں۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ ان میں سے کئی لوگ تو میدانوں اور ٹیلوں کی چٹیل زمین یا سڑکوں پر سو جاتے ہیں۔ میں اپنے آپ سے یہ پوچھتی ہوں کہ کیا میرے اندر بھی ایسا جذبہ اخلاص موجود ہے؟ انھی لوگوںنے مجھے کعبہ کا طوافِ ثانی پیدل چل کر کرنے کی راہ دکھائی۔ واقعتا ان میں سے بہت سے لوگوںنے اس سفر میں بے حد مشقت اٹھائی تھی۔

حج دیگر اعمال صالحہ اور ارکانِ اسلام کی طرح ایک ایسا عمل ہے جس کی برکت  منفی خیالات و حرکات سے متاثر ہوسکتی ہے۔ مثلاً کسی کی غیبت کرنا اور بدگمانی کرنا۔ لہٰذا ایسی تمام منفی چیزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ کئی لاکھ انسانوں کے اس عظیم اجتماع میں دوسروں کے ساتھ تعامل کا تقاضا ہے کہ صبرو ضبط کے بڑے بڑے گھونٹ قدم قدم پر پیے جائیں۔ اس صبر اور برداشت کے مظاہرے کی ضرورت تو اُسی وقت پیش آجاتی ہے جب آپ انسانوں کے اس جم غفیر پر پہلی ہی نظر ڈالتے ہیں۔ آپ کو انھیں ایسی نظر سے دیکھنا ضروری ہے کہ یہ انسان ہیں جو احترام اور نرم روی کے مستحق ہیں۔ دوہفتوں پرمشتمل اس نوع کے صبر کی مشق نے میرے اندر انکسار وتواضع کا ایک گہرا شعور و احساس بیدار کیا۔ مجھے امید ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں یہ چیز مجھے بے حد فائدہ دے گی۔

سوال:کیا حج کا کوئی جز ایسا ہے ؏ جوآپ کے نزدیک خصوصی توجہ کا حامل ہے؟

جواب: مسلمان دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں، کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔ میرا اس مقام پر ہونا جو لوگوں کی توجہ اور رُخ کا مرکز ہے، میرے لیے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ وہ مقام ہے جو مرکز زمین مکہ مکرمہ کے اندر، واقع ہے ، جہاں جنت عدن سے اخراج کے بعد حضرت آدمؑ و حواؑ نے قدم رنجہ فرمایا، جہاں ابراہیم و اسماعیل نے بنائے کعبہ کی تعمیر کا عمل انجام دیا، جہاں محمد رسول اللہ ؐکی ولادت ہوئی، آپؐ نے پرورش پائی اور رب کریم کی وحی سے فیض یاب ہونے کا تجربہ آپؐ  کو ہوا۔ ایسا تجربہ جو تجدید و بیداری کا عظیم تجربہ ہے۔ دراصل میں اپنی زندگی کے مشکل ترین دور کے بعدکعبہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے کرنا چاہتی تھی۔ یہ  میری زندگی کا اہم تجربہ تھا، اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ میں اُسے کبھی بھول سکوں گی…!!

مارچ 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau