نظامِ تعلیم پر ایک نظر

ڈاکٹر ابو ذر اصلاحی

آج ہمارا معاشرہ تیزی کے ساتھ بگاڑ کی طرف جارہا ہے اس کے اسباب پر غور کرنے سے دو چیزیں سامنے آتی ہیں ۔ ایک تو بے خدا تعلیم اوردوسرے مخلوط تعلیم۔ اب نظامِ تعلیم سے انسان محض مادی مخلوق بن کر نکلتا ہے۔ جس نظامِ تعلیم سے ایسی مخلوق تیار کی جارہی ہوتو ان کے اندر ایمان، اخلاق، کردارکہاں دکھائی دے گا۔ ان کے اندر تو دغابازی اور جھوٹ، عام ہوگا تاکہ وہ اپنی دنیا شاندار بناسکیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف توجہ دلانے والے شخص سرسید احمد خاں ہیں۔ سرسید یک گونہ آزاد خیالی کے مالک تھے۔ انھوں نے اپنی تعلیمی تحریک کی بناء ڈالی تاکہ جدید ذہنیت کے زیر اثر طلباء اپنی دنیا بنائیں، دوسروں کی تہذیب سیکھیں اور ان کے افکار کی تشہیر کریں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ اس سے انکار نہیں کہ ان کے اندر خلوص تھا۔ لیکن انھوں نے محض دنیاوی پہلو پرنظر رکھی اور دینی اساس کو نظرانداز کیا۔ جو فکرپھیلی اس کے اندر گمراہی کے سامان چھپے ہوئے تھے۔ سرسید کی غلطی تو تاریخی سیاق میں قابل معافی ہے ۔ غلام ہندوستان میں غالباً کوئی اورراستہ نہ تھا، لیکن اب ایسا خاکہ دیا جانا چاہئے کہ قوم کو مخلوط اور بے خدا نظام سے نجات مل سکے۔ انسان اگر عقل سے کام لے تو وہ ہر مسئلے کا جائز حل تلاش کرسکتا ہے۔ اگر سرسید اور ان کے رفقاء نے اتنا کردیا ہوتا کہ بااخلاق اساتذہ مہیا کئے ہوتے اور قرآن کی تعلیم لازمی قرار دی ہوتی توتردد کی کوئی وجہ نہ تھی۔ علی گڑھ کے فارغین میں کوئی نازی تحریک کے گن گانے لگا، کوئی اشتراکیت سے رشتہ جوڑنے لگا، کوئی مارکس کا مقلد بننے لگا، کوئی فرائڈکو پیشوا بنانے لگاجو بےچارے اس بیماری سے بچ گئے وہ لگے اپنے ہی دین کی مرمت کرنے۔ مثال کے طور پر علی گڑھ کے ایک مسلم پروفیسر ’’حیدرخاں‘‘ (معلم علم کیمیا) کے خیالات ملاحظہ فرمائیے پھر سوچئے کہ ہماری اس یونیورسٹی کا رخ کدھر ہے۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں:

’’انسانی سوسائٹی کے ابتدائی مرحلۂ ارتقاء میں وحی بہ حیثیت ایک اساسِ مذہب کے نہایت کارآمد تھی۔ کیونکہ اس سے تنقید کا سدباب کیاجاسکتا تھا۔ لیکن حق وصداقت کے حصول کا ذریعہ ہونے کی حیثیت سے وہ صرف یہی نہیں کہ ناقابل اعتبار ہے بلکہ فوق الفطری (Super Nature) ہونے کی وجہ سے جدید انسان کو متاثر کرنے میں ناکام بھی ہوتی ہے۔ جب مذہبی نظریات کو قانونِ علیت کےنقطۂ نظر سے جانچا جاتا ہے تو بہت جلدی ان کے پرخچے اڑنے لگتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بات واضح ہے کہ اخلاق کو جنت اور دوزخ پر مبنی نہ ہونا چاہئے بلکہ اسے ایک ترقی پذیر سائنس ہونا چاہئے اور عام انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھنا چاہئے‘‘۔ (متاع گمشدہ۔ ص۴۷(

یہ ایک نمونہ ہے کج فکری کا۔ ظلم یہ کہ آپ ہیں کیمسٹری کے پروفیسر اور کلام مذہب پر فرما رہے ہیں۔ حالانکہ اگر ایسوںسے صرف اتنا پوچھ لیا جائے کہ دین کی تعریف کیا ہے اور وحی کامفہوم کیا ہے تو پسینے آجائیں گے۔ آپ نے کتنا قرآن پر غور کیا ، کتنا دینیات کی کتابوں کا مطالعہ کیا کہ فتویٰ دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ’’حق وصداقت کے حصول کا ذریعہ ہونے کی حیثیت سے صرف یہی نہیں کہ (وحی) ناقابل اعتبار ہے بلکہ فوق الفطری ہونے کی وجہ سے جدید انسان کو متاثر کرنے میں بھی ناکام ہے‘‘۔ اب اس سے بڑھ کر قرآن اور رسالت کی کیا تکذیب ہوسکتی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مغربی کلچر کے خادم آپ کےجگرگوشوں کو کیا بنا رہے ہیں۔

بے خدا تعلیم کے اثرات

آج دنیا میں حیوانیت کا راج ہے یہ بے خدا تعلیم کا ثمرہ ہے جو خدا سے بیزار کرتی ہے، مادہ پرستی (Materialism) کو پروان چڑھاتی ہے اور انسان کو ایک ایسی مشین بناتی ہے جس کامشن صرف مادہ کے پیچھے بھاگنا ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ تیزی کے ساتھ دنیا میں بے حیائی، دروغ گوئی اور دھاندلی  فروغ پارہی ہے۔ شرافت، صداقت  اور خلوص ختم ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کریلے کی بیل سے انگور کہاں برآمد ہوگا ۔ جس جگہ آپ نئی نسل کو تعلیم وتربیت کے لئے بھیجتے ہیں وہ ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو حیوان بنایا جاتا ہے۔ جب وہ پڑھ چکتا ہے  تو آپ شکایات کا دفتر کھول کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اس کے اندر انسانیت نہیں ہے، شرافت نہیں ہے۔ لیکن آپ نے کیا کیا؟ وہ تعلیم جو انسان کو انسان بنانے کا ذریعہ تھی اسے پس پشت ڈال دیا اور مغرب کی اندھی تقلید شروع کردی۔

آج بھی قدیم ڈھرے پر تعلیم کی طرف توجہ دلانے والے بڑی تیزی کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ دھڑا دھڑ انگلش میڈیم اسکول کھل رہے ہیں۔ نصاب میں کوئی اصلاح نہیں ہوئی۔ تمام غیر اسلامی علوم بلاتنقید پڑھائے جاتے ہیں، صرف ایک دینیات کا گھنٹہ برائے نام رکھ لیتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمارے بچوں کو غیرمسلم بنا رہے ہیں۔ ٹیچر جانتے ہی نہیں کہ اسلام اور کفر میں فرق کیا ہے۔ اسکولوں کے نام پر غور کیجیے کوئی جوزف وادی ہے، کوئی سینٹ وادی ہے، کوئی مانیسٹری وادی ہے تو کوئی کانوینٹ وادی ہے۔ اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ آپ کو تمام علوم سیکھنے کی آزادی ہے۔ لیکن مسلم کی اساس اسلام کے افکارپر ہونی چاہئے۔ اسی لئے اسلامی تعلیم سب پر مقدم ہے۔ انسان جب اساسیات دین کی تعلیم حاصل کرلے گا تو وہ ہر چیز کو خدا پرستانہ زاویے سے دیکھے گا، اس کے اندر خدا کا خوف اور اچھائی اور برائی کی تمیز پیدا ہوجائے گی۔ وہ ہرنظریے کو قرآن پر پرکھے گا، سنت رسول ؐ کو کسوٹی بنائے گا اور سمجھ جائے گا کہ اس میں کھرا کتنا ہے اور کھوٹا کتنا۔ قرآن حکیم آخری ہدایت نامہ  ہے۔آج جو علوم انسان کوگمراہ کر رہے ہیں ان کی گمراہی سے قرآن ہی آگاہ کرے گا اور بتائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔مسلمانوں نے کالج اور یونیورسٹی سے اس مقدس صحیفے کو بے دخل کردیا ہے جس نے سوفیصد ہدایت کی ضمانت لے رکھی ہے۔ جس کتاب کا علم حاصل کرنا فرض تھا، اسے چھوڑ دیا اور ہر طرح کے رطب ویابس علم کو لے کر بیٹھ گئے۔

ضروری ہے کہ تعلیم کو ایک اسلامی سسٹم دیا جائے۔ ٹیچر کا انتخاب ایسا ہو جو اسلام سے واقف ہوتاکہ وہ تمام علوم کاتنقیدی زاویے سے درس دے۔ قرآن اور اسلامی تاریخ کی تعلیم لازمی ہو۔ تب ہی ہمارے بچے لائق انسان بن کر نکلیں گے۔ اگر اسلام اور اپنے بچوں سے دلچسپی ہے تو اپنے اداروں کے رخ کو نری مغربیت کی طرف سے موڑ کر اسلامیت کی طرف لانا ہوگا۔

مخلوط تعلیم کا نتیجہ

مخلوط تعلیم کا فروغ مغرب سے ہوا ہے۔ اس کی آبیاری یہودی ذہن نے کی ہے۔ ان کا پلان تھا کہ کالج اور یونیورسٹی کے نام سے اختلاط کا ایسا اڈہ قائم کردیاجائے جہاں انسان اخلاقی قیود سے آزاد ہوکر ایک رنگین دنیا میں گم ہوجائے۔ یہ تعلیم گاہ کم ، حیوان خانہ زیادہ ہے۔ خود اس بات کی گواہی یہودی پروٹوکول اس طرح دیتے ہیں: ’’ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم اس کے لئے کوشاں رہیں کہ ہرجگہ اخلاقیات پر ڈاکے ڈالیں۔ اور زمین پر اپنا غلبہ حاصل کرنے کی راہ ہموار کریں۔ اور اس کے لئے سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ مخلوط نظام تعلیم کو رائج کریں تاکہ آغاز ہی سے لڑکوں اور لڑکیوں کے دماغ کو پھیر کر مادہ پرستی اور ہوس پرستی کا غلام بنا دیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم مغربی طرز کے لادین اسکولوں کے کھولنے میں بھرپور مدد کریں۔ اس لئے کہ جب مسلمانوں نے اس جانب رخ کیا ہے تو ان کے اندر اسلام اور قرآن کے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں‘‘۔(اسلام اور تربیت اولاد۔ ص ۲۹۵(

جس مقام پر بچہ تعلیم کی غرض سے جاتا ہے وہاں کتابوں سے پہلے لڑکیوں کے چہروں اور ان کی کھلی بانہوں کا درشن کرتا ہے اور آنکھ لڑانے کا فن سیکھتا ہے۔ لڑکیاں بن سنور کر آتی ہیں کہ پتہ نہیں چلتا وہ کلاس میں آئی ہیں ۔ یہ تعلیم کیسا گل کھلا رہی ہے ذرا اس کی ایک جھلک دیکھیں:

’’آکسفورڈ یونیورسٹی کے ۷۶ فیصد طلبہ شادی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہیں۔ ۳۴ فیصد طالبات نے تسلیم کیا ہے کہ وہ یہاں آنے کےبعد کنواری نہیں رہیں۔ اور اب بھی ان کے باقاعدہ جنسی تعلقات ہیں۔ پچیس فیصد طالبات مانع حمل گولیاں استعمال کرتی ہیں۔ ۲۱ فیصد فحش و عریاں جرائد خریدتے ہیں ۔ ۳۴ فیصد خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔ ۴۸ فیصد ہم جنسی کے قائل ہیں۔ ۵۵ فیصد طلبہ شراب خانوں میں جاتے ہیں‘‘۔(Jung, London-5, March 1990)

یہ ہے وہ تعلیم جسے ہر درد کا درماں قرار دیاجارہا ہے ۔ اب یہی ساری آفتیں ہماری  سوسائٹی میں رہی ہیں۔ انسانیت بڑی تیزی کے ساتھ حیوانیت میں تبدیل ہورہی ہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ بالکل لغو ہے کہ یہ تعلیم انسانیت کے عروج اور دنیا کی ترقی کی ضمانت ہے۔

ایک مغربی مصنفہ ’’ڈونتھی ہال‘‘ (Donthi Hall) بڑی حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے لکھتی ہے: ’’مخلوط طریقۂ تعلیم میں دعویٰ کتنا بھی کیاجائے ان جذباتی دقتوں کا ازالہ نہیں ہوتا جو نوجوانوں میں صنفی شعور کی ابتداء سے پیدا ہوجاتی ہیں۔ نوجوان لڑکی اور لڑکوں کے درمیان روزانہ کے اختلاط کے نتیجے میں نہ صرف جذباتی تعلقات پیدا ہوسکتے ہیں بلکہ  زیادہ تباہ کن بات یہ ہے کہ شاگرد استادوں سے بھی جذباتی وابستگی پیدا کرلیتے ہیں‘‘۔(Educational Problem of Women-P,35, London-1992)

جو تعلیم شرافت اور حیا کی ہرحد کو توڑ دے اور بے حیا بنا دے اُسے بڑے پیمانے پر بہیمیت سے تعبیر کرناچاہئے۔ اس طرح کی رپورٹیں ہندوستان میں بھی دستیاب ہیں۔ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ ان کے بچے اور بچی جہاں پر تعلیم حاصل کرنے گئے ہیں وہ کتنا محفوظ ہیں۔ اس پر کسی طویل تبصرے کی حاجت نہیں ہے۔  عام لوگ بھی کس قدر بے حس ہوگئے ہیں کہ اپنے بچے اور بچیوں کو ایسی جگہ حوالے کرتے ہیں۔ جدید تعلیم جن پالیسیوں پر قائم ہے اسلام اسے ایک لمحے کے لئے بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔ دین اتنا محتاط ہے کہ مخلوط سوسائٹی کو عبادت خانے سے لے کر قبرستان تک برداشت کرنے کو تیار نہیں۔  ارشادِ نبوی ہے:

’’عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کےگھروں کے اندرونی حصے ہیں‘‘۔

اسلام کو ایسے سماج کی ضرورت نہیں ہے جہاں حیوانیت سکھائی جاتی ہو۔ اسلام کو ایسے سماج کی ضرورت ہے جہاں انسان  سب سے پہلے انسان بنے۔  بے خدا تعلیم روحانی حیثیت سے انسان کو تباہ کر رہی ہے اور مخلوط تعلیم روحانی و جسمانی دونوں حیثیت سے انسان کو برباد کر رہی ہے۔ لہٰذا ایسے تمام مسلم ادارے غور کرلیں کہ ہم مستقل کتنی غلطی پہ غلطی کئے چلے جارہے ہیں۔ قوم کے ان نونہالوں کے مستقبل کو بگاڑ رہے ہیں جن کے کندھوں پر کل اسلام کی ذمے داری آنے والی ہے، ہم انہیں اتنا ناتواں بنا رہے ہیں کہ وہ صرف کلائیوں کی چوڑیوں کا بوجھ اٹھانے کے سوا کچھ کرہی نہیں سکتے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جرم میں ہم خدا کے یہاں ماخوذ ہوجائیں۔ لہٰذا اپنے اداروں کے رخ کو مغربی سمت کے بجائے اسلام کی طرف لے آئیے ۔ ایسا اسلامی  نظام اور نصاب تشکیل دیجیے کہ خود غیر آپ کی تعلیم وتہذیب دیکھ کر ششدر رہ جائیں۔

آخر میں اہل مدارس سے گزارش ہے کہ یہاں بھی تعلیم کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ اس نظام میں وہ روح اور طاقت نہیں رہ گئی ہے جو پہلے کبھی تھی۔ اس سے اب جو لوگ نکلتے ہیں وہ دنیا بنانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔الّا ماشاء اللہ  اگر قوم کا معیار بلند کرنا ہے تو دوسرے علوم بھی اسلامی بصیرت اور تنقیدی نظر سے پڑھائے جائیں اور قرآن کی محققانہ اور مجتہدانہ تعلیم دی جائے۔ محض یہ نہ ہوکہ مفسرین، محدثین ،فقہا جو لکھ کر چلے گئے ہیں اس کو حرف آخر مان کر اس لکیر پر چلتے رہیں۔ بلکہ اس میں اجتہادی پہلو نمایاں کرناچاہیے۔ طلباء کو نئے علوم سے بھی روشناس کرائیے، آیات کی سائنسی تفسیر بھی بتائیے اور اس ڈھنگ سے بتائیے کہ ان کی سمجھ میں  آجائے کہ قرآن حکیم سارے علوم کاسرچشمہ ہے۔

مارچ 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau