’مقاصد شریعت‘پر ایک نظر

ڈاکٹر محمود حسن الہ آبادی

’زندگی نو‘ میں کچھ دنوں پہلے اجتہاد کے موضوع پر کثرت سے مضامین شائع ہوے۔ انھی دنوں ’ افکار ملی‘ میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا ایک مقالہ نظر سے گزرا تھا، جس میں ایک جملہ کچھ اس طرح تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس پر غور کیا جائے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کے نافذ کردہ کچھ احکام وقتی تو نہیں تھے۔ عقل حیران تھی کہ کیا شارع کی صراحت کے بغیر رسول ﷺ کا کوئی حکم وقتی بھی ہو سکتا ہے؟ لیکن موصوف کی کتاب ’مقاصد شریعت‘ کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ مابعد جدیدیت کے اصول فقہ کی رو سے احادیث ہی نہیں،بل کہ قرآن کے احکام میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے اور حالات کے استقرار کے ساتھ یہ تبدیلی مستقل بھی ہو سکتی ہے ۔

ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی کی کتاب ’مقاصد شریعت‘ احکام اسلامی میں مقاصد شریعت کے تعین کے ساتھ نئے حالات میں اجتہاد فکر کی دعوت پر مبنی ہے ۔ کتاب میں درج ذیل آٹھ ابواب ہیں:

﴿۱﴾مقاصد شریعت : ایک عصری مطالعہ ﴿۲﴾ مقاصد شریعت اور معاصر اسلامی فکر ﴿۳﴾ مقاصد شریعت کی پہچان اور تطبیق میں عقل اور فطرت کا حصہ ﴿۴﴾مقاصد شریعت کے فہم و تطبیق میں اختلاف کا حل ﴿۵﴾مقاصد شریعت کی روشنی میں اجتہاد کی حالیہ کوشش ﴿۶﴾مقاصد شریعت کی روشنی میں معاصر اسلامی مالیات کا جائزہ ﴿۷﴾ مقاصد شریعت اور مستقبل انسانیت ﴿۸﴾مقاصد شریعت : فہم و تطبیق ۔

مصنف نے قدیم و جدید علماء ے اسلام اور مجتہدین کے تمام افکار کو مقاصد شریعت کی میزان پر تولنے کی کوشش کی ہے ۔بادی النظر میں ان کے افکار اور دلائل کا خلاصہ یہ سامنے آتا ہے کہ حالات کے موجودہ تناظر اور گلوبلائزیشن کے اس عہد میں مقاصد شریعت کی روشنی میں فقہ کی نئی تہذیب و تنظیم کی ضرورت ہے ۔ اگر یہ کام نہ کیا گیا تو موجودہ دور میں اسلام کا مقصد وجود فوت ہوجائے گا، جس کا نقصان ملت اسلامیہ کو برداشت کرنا پڑے گا ۔مصنف چونکہ اپنی بات کو بار بار عقل اور مقصد شریعت کے دلائل سے مؤکد کرتے ہیں، اس لیے کئی جگہوں پر تکرار مطلب بھی واقع ہوا ہے ۔ مصنف نے اجتہاد میں اسلام کے شورائی نظام کے علاوہ مغربی جمہوریت کے فروغ کے لیے عوام الناس کو بھی شامل کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔

’مقاصد شریعت ‘ کے مضامین کو ہم چار عناوین میں تقسیم کر سکتے ہیں : ﴿۱﴾اسلامی بینک کاری کے معاملات ﴿۲﴾بین الاقوامی تناظر میں اسلام پر اعتراضات اور مسلمانوں کی پوزیشن ﴿۳﴾عام اخلاقیات جس کے بارے میں اسلام کی واضح ہدایات پہلے سے موجود ہیں اور ﴿۴﴾عورتوں کے خصوصی مسائل ۔ کم علمی کے اعتراف کے باوجود راقم مذکور الصدر اول الذکر تین عناوین پر مختصر اور چوتھے پر قدرے تفصیل کے ساتھ اپنے خیالات کا دوٹوک اظہار کرے گا ۔

کتاب پر ایک طالب علمانہ نظر ڈالنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ راقم تبصرہ نگار مسلکاً  اہل حدیث اور مشرباً  قطعاً غیر مقلد ہے ۔ وہ اجتہاد کے دروازے کو چوتھی صدی ہجری میں بند کردینے کو بالکل غلط سمجھتا ہے ۔ اس کے نزدیک فقہ ایک ارتقائی علم ہے۔یہ بات پہلے ہی اس لیے عرض کردی کہ راقم پر فقہی جمود کا الزام نہ آنے پائے ۔

ڈاکٹر محمدنجات اللہ صدیقی مشہور بین الاقوامی اسلامی ماہر معاشیات ہیں اور اس موضوع پر انھیں سعودی عرب میں شاہ فیصل ایوارڈ اور ہندستان میں شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب کے چھٹے باب میں ’معاصر اسلامی مالیات کے جائزہ‘ کے علاوہ دوسرے ابواب میں منتشر طور سے اس موضوع پر اشارے کیے گئے ہیں ۔ چونکہ بینک کے کاروبار سے آج کے زمانہ میں مشکل ہی سے کوئی شخص مبرا ہے، اس لیے اس سلسلے میں موصوف کی کوششیں استحسان کا درجہ رکھتی ہیں ۔ لیکن انھوں نے خود یہ بات لکھی ہے کہ کم از کم دو عقود، سود کی آمیزش سے پاک نہیں ہیں ، اور توارق کا تو انھوں نے بطور خاص ذکر کیا ہے ۔مزید یہ کہ اس میں بھی سورۃ الحشر کی آیت نمبر ۷ میں دیے گئے مقصد کے بر خلاف امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہے ہیں۔

کتاب کے ساتویں باب ’مقاصد شریعت اور مستقبل انسانیت‘ میں جن انسانی فضائل پر گفتگو فرمائی گئی ہے وہ مصنف کی بیان کردہ نصوص کی تشریحات کے مطابق تو خود ہی موجود ہیں۔ ان کے ذکر کرنے کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا ۔ایک حاصل شدہ چیز کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش تحصیل حاصل ہے ۔ مشترک انسانی مسائل کے ذیل میں سوائے عام تباہی مچانے والے اسلحوں کے اور کس مسئلے میں گفتگو کی گنجایش ہے ؟ لیکن اس موضوع پر آگے بڑھنے سے پہلے راقم یہ عرض کرنے کی جسارت کرے گا کہ موصوف کو شاید مغربی استعمار اور صہیونیت کے عالمی استیلائ اور ہر طرح کے میڈیا پر مکمل کنٹرول کا قرار واقعی احساس نہیں ہے اور اتنا عرصہ سعودی عرب میں رہنے کے با وجود مغربی ایشیا  بلکہ پورے شرق اوسط کے موجودہ حکمرانوں کی امریکہ ﴿ صہیونیت کہا جائے﴾ کے سامنے سجدہ ریز رہنے کا انہیں پورے طور پر اندازہ نہیں ہو سکا ہے ۔ بالخصوص میڈیا نے اس مسئلے کوجو معکوس شکل دے رکھی ہے، اس سے مصنف قابل افسوس طور پر مجہولیت کے ساتھ گزر گئے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے نزدیک اب یہ عہد نو : زمانہ با تو نہ سازد تو با زمانہ بساز کا ہے ۔اب جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون والوں کو دعوت دیجیے کہ آئیں اور اپنے مقصد ’اقامت دین‘ کو تلاش کریں ۔اب وہ زمانہ گزر گیا جب وَکَلِمَۃُ اللہِ ھِیَ الْعُلْیَا اور لِیُظْھِرَہ، عَلٰی الدِّیْنُ کُلِّہٰ کا نعرہ لگایا جاتا تھا ۔

موصوف کو معلوم ہونا چاہیے کہ سابق مجلس اقوام (League of Nations) اور موجودہ اقوام متحدہ (U.N.O.) دونوں کے اصل بانی یہودی اور صہیونی تھے اور امریکہ پر جو آج کل تمام طالع آزماؤں کا قبلہ و کعبہ بنا ہوا ہے ، در اصل عیسائیوں کی نہیں بلکہ یہودیوں کی حکومت ہے اور یہ نام نہاد اسرائیل کے صہیونی حکمرانوں کے زیر دام ہے ۔ یہی صہیونی پوری دنیا کے تمام منابع خیر ، مالیات ، ذرائع ترسیل و ابلاغ اور سیاست پر چھائے ہوئے ہیں ۔ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMD) پر انہیں کا قبضہ ہے اور وہ انہیں انتہائی بیدردی سے جہاں چاہیں خصوصیت سے مسلم ممالک میں استعمال کر رہے ہیں ۔ پھر اس صورت حال میں جناب ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے ’ مقاصد شریعت‘ کا کیا حکم ہے ؟ اگر دنیا میں عیسائی ، یہودی ، بودھ ، کمیونسٹ اور ہندو ایٹمی ہتھیار رکھ سکتے ہیں تو مسلمان سے یہ حق کیوں سلب کیا جاتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے : ’ اور ان کے مقابلے کے لئے جہاں تک تم سے ہوسکے طاقت مہیا کئے رہو اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو تاکہ اس کے ذریعہ تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں نیز ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے ، ہیبت زدہ کر سکو ‘ ﴿ الانفال : ۰۶﴾۔کیا بغیر ایٹمی ہتھیار کے ’اِرہاب‘ ﴿ہیبت زدہ کرنا﴾ کا یہ مقصد پورا ہو سکتا ہے ؟ واضح رہے کہ ’ارہاب‘ وہ ہتھیار ہے جس کی خاطر رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ والے عمرہ کو لوگوں سے مخفی رکھا تھا۔ کیونکہ اگر صحابہؓ  کو معلوم ہوجاتا کہ آپﷺ عمرہ کرنے جارہے ہیں تو سبھی لوگ چلنے کو تیار ہوجاتے اور اس طرح بنو ہوازن کے دوبارہ چڑھ دوڑنے کا اندیشہ تھا ۔ بہر حال ایٹمی ہتھیار اور ارہاب کے مسئلہ کو حل کرنے کی ذمہ داری جناب نجات اللہ صدیقی کی ہے ۔افسوس کہ قرآنی اصطلاح ’ارھاب‘ اب ’ہیبت زدگی‘ کے بجائے ’دہشت گردی‘ کے معنوں میں استعمال ہو رہا ہے ۔ ایسے ہی موصوف نے ماحولیاتی عدم توازن (ecological imbalance) پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ یہ تشویش بجا ہے ۔ لیکن کیا اس کا سبب پسماندہ یا ترقی پذیر قومیں ہیں ؟ کیا اس کا علاج جو قومیں ذمہ دار ہیں ان کے علاوہ کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے اور مقاصد شریعت اس مسئلے میں کیا تعاون کر سکتے ہیں ؟ ایسے ہی جب وہ کہتے ہیں کہ ’بعض اوقات ہم سوچنے لگتے ہیںکہ جب تک ہم با اقتدار اور طاقتور نہ ہوں گے تو نہ ہم ان مسائل کے حل کے لیے کچھ کر سکیں گے اور نہ کوئی اس بارے میں ہماری کسی رائے کو قابل اعتنائ سمجھے گا ‘ تو کیا مسلمانوں کا ایسا سوچنا غلط ہے ؟ مولانا مودودیؒ نے تو اسی فساد فی الارض کو دور کرنے کے لیے اقامت دین کے پہلو پر زور دیا تھا جو وقت کے اکثر علما کو راس نہیں آیا تھا ، اور اب داعیان دعوت اسلامی بھی شاید اس نظریے کو ترک کر چکے ہیں ۔

چوں کہ کتاب کا مقصد نئے عالمی تناظر میں اور نئی ضروریات کے تحت ’مقاصد شریعت‘ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اجتہاد کا شعور پیدا کرنا ہے، اس لیے مبصر میں چند بنیادی باتیں ضرورعرض کروںگا:

﴿۱﴾ کیا مقاصد شریعت کو ہم متعین کریں گے یا شارع نے خود اسے متعین کر دیا ہے ؟ اس ذیل میںعلماے متقدمین بالخصوص ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ اور شاہ ولی اللہؒ کے جو حوالے دیے گئے ہیں در اصل ان کا تعلق مصالح شریعت سے ہے ، مقاصد شریعت سے نہیں ہے ۔ اگر اس سیاق میں کہیں مقاصد کا لفظ استعمال بھی ہوگیا ہے تو یہ صرف تفہیم کی خاطر ہے ۔ علامہ شبلیؒ نے بھی یہ بات لکھی ہے ﴿ ملاحظہ ہو ’الفاروق‘ ، دارالمصنفینِ ۶۵۹۱ئ، ۲/۹۹۱﴾۔

مقاصد اور مصالح میں بنیادی فرق ہے ۔ مقاصد کو نصوص نے خود متعین کردیا ہے ، جب کہ مصالح کے بارے میں غور وفکر کرنا اہل الذکر کی ذمہ داری ہے ۔ مصالح کے فہم میں اختلاف ہو سکتا ہے اور اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن مقاصد شریعت میں تبدیلی کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ علامہ ابن تیمیہؒ تو اس باب میں اور سختی کے قائل نظر آتے ہیں ۔ انھوں نے سد ذریعہ کو بھی اسباب تشریع کا ایک سبب بتایا ہے ۔اس لیے مصنف نے اجتہاد کی شرط کے طور پر مقاصد شریعت کو متعین کرنے کی جو دعوت دی ہے، وہ بنیادی طور سے غلط ہے ۔ بنیاد کج ہونے کی وجہ سے خشتِ اول چوں نہد معمار کج۔ تاثریامی رود دیوارکج۔ کے مصداق ان کے مباحث کی پوری تعمیر کج ہوگئی ہے ۔

﴿۲﴾ احکام اور اوامر و نواہی تبدیل نہیں ہوا کرتے ۔ اگر یہ بھی تبدیل ہونے لگیں تو رسالت نبوی ﷺکا قیامت تک کے لیے واجب الاتباع ہونے کا دعویٰ غلط ہو جائے گا ۔ اوامر و نواہی زندگی کے ہر گوشے کے لیے ہیں ۔ ماضی میں اگر ان میں سے کسی پر گفتگو ہوئی ہے تو ان کے درجات مقرر کرنے کے لیے ہوئی ہے، جس کے لیے فقہائ نے فرض ، واجب ، مستحب ، مکروہ اور فاسد وغیرہ کی اصطلاحیں وضع کی ہیں۔جیسے سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۵ میں ہے: ’ انھیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو‘ ۔ اس سے فقہائ نے یہ مطلب نکا لا کہ لے پالک کو مصنوعی باپوں کی طرف نسبت دینا حرام ہے ۔ لیکن حسن سلوک جائز ہے ،جب کہ حسن سلوک کا لفظ قرآن میں نہیں ہے ۔

﴿۳﴾ سورۃ النساء  کی آیت نمبر ۳۴میں ہے کہ ’ مرد عورتوں کے سربراہ ہیں ؛ اس بناء پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اوراس بناء پر کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں ‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرد کو عورت پر قوامیت کا درجہ عطا کرنے کا مقصد عورت کا تحفظ اور اس کی کفالت ہے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کفاف کا مہیا کرنا عورت کی بنیادی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اسی کی تاکید حضرت عبد اللہ بن عمرؓ  کی مروی حدیث میں ہے: الا کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ ۔ والامام راع و ہو مسئول عن رعیتہ۔ والرجل راع و ھو مسؤل فی اھلہ۔ و المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجھا و ولدہ۔ و الغلام راع فی مال سیدہ و ھو مسؤل عن رعیتہ ﴿متفق علیہ﴾ ۔ اس میں مرد کو پورے گھر کا ذمہ دار بتانے کے بعد کہا گیا کہ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے ۔ مرد اور عورت کی ان مفوضہ ذمہ داریوں میں تبدیلی کا کسی کو اختیار نہیں ہے کیونکہ ایک مستحکم خاندان کے حصول کے لیے ذمے داریوں کی یہ تقسیم ضروری ہے۔ ذمے داریوں کی اسی لکیر کو ختم کردینے کی وجہ سے آج مغرب کا معاشرہ خاندان کی شکست سے دوچار ہو گیا ہے ۔ اور قرآن پر اگر ’مقاصد شریعت‘ کی بالادستی رہی تو خدا نخواستہ اگلے دس برسوں میں مسلم معاشرہ بھی اسی حادثے کا شکار ہوجائے گا ۔

عورتوں کے حقوق اسلام نے جس قدر فیاضی سے عطا کیے ہیں، اس کی مثال نہ کسی دوسرے مذہب میں ملتی ہے نہ کہیں کے ملکی قوانین میں ۔ لیکن حیرت نہیں بل کہ افسوس کا مقام ہے کہ عورت ہی کے حوالے سے اسلام کو سب سے زیادہ مطعون کیا جاتا ہے۔ اس کا سبب قوانین اسلامی کا نقص نہیں ہے۔ بل کہ معاشرے میں اس کے نفاذ کی قلت اور ملکی سطح پر قوت نافذہ کے عدم کا ہے ۔ جناب نجات اللہ صدیقی نے عورتوں کے مسائل کو کتاب کے دوسرے اور پانچویں باب میں جگہ دی ہے ۔ دوسرے باب میں عورت کے بغیر محرم کے سفر کرنے کے مقاصد میں وہ علامہ یوسف القرضاوی کا حوالہ دیتے ہیں۔ سورۃ المائدۃ میں جہاں اہل کتاب خواتین سے ازدواج کی اجازت دی گئی ہے وہیں یہ کہا گیا ہے:

اِذَا اٰتَیْتُمُوْھُنّ اُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلَا مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ ﴿المائدۃ : ۵﴾

’ بشرطے کہ ان کے مہر ان کو دو اور مقصود قید نکاح میں لانا ہو نہ کہ چوری چھپے آشنائیاں کرنا ‘۔

معلوم ہوا کہ کتابیہ سے نکاح کی وہی تمام شرائط ہیں جو ایک مومنہ کے لیے ہیں ۔ لیکن اس میں ایک قید بھی پوشیدہ ہے وہ یہ کہ چوری چھپے آشنائیاں کرنا ’مقصد‘ نہ ہو ۔ عورت کے بغیر محرم سفر کرنے میں خواہ کسی تیز رفتار سواری ہی سے کیوں نہ ہو اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ سفر چوری چھپے ملاقات کے لیے تو نہیں ہو رہا ہے یا اس سفر میں اس کے مواقع تو پیدا نہیں ہو رہے ہیں ؟

’مقاصد شریعت ‘کا پانچواں باب اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں مصنف نے اپنے مزعومہ مقاصد شریعت کی روشنی میں اجتہاد کی کچھ ما بعد کوششوں کا جائزہ لیا ہے ۔ ان میں عورتوں کے تعلق سے دو مسائل ہیں اور ایک مسئلہ مسلم اور غیر مسلم اکثریتی ممالک میں اپنے اپنے ملکوں میں غیر مسلموں اور مسلمانوں کی فوج میں شرکت کا ہے ۔ واضح رہے کہ ماضی میں جنگ عظیم کے زمانے میں مفتیوں نے مسلمانوں کی فوجی خدمت کو حرام قرار دیا تھا۔ کیونکہ انگریزی فوجیں ترکوں سے بر سر پیکار تھیں ۔ موجودہ زمانے میں محمد علی کلے نے اسی بنیاد پر امریکی فوج میں لازمی بھرتی کے قانون کو ماننے سے انکار کردیا تھا، جس پر اسے جیل کی بھی ہوا کھانی پڑی تھی ۔ مقاصد شریعت کا علم بلند کرنے والوں کو کیا پتا نہیں کہ اسلام کی جنگیں صرف دو مقاصد کے لیے ہوتی ہیں، جن کا ذکر سورۃ الانفال کی آیت نمبر ۹۲ میں ہوا ہے کہ ’فتنے کا استیصال ہو اور پورا دین اللہ کے لیے خالص ہوجائے۔‘ اسی کے ساتھ سورۃ النساء  کی آیت نمبر ۹۳کو شامل کرلیجیے: ’اور جس شخص نے کسی مومن کو قصداً قتل کیاتو اس کی سزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا ‘ تو ہم کو پتا چل جائے گا کہ ہم جیسے ناکارہ مسلمانوں کے مقابلے میں کلے کتنا سچا مسلمان تھا ۔

عورتوں کے مسائل میں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کتابی جوڑے میں سے بیوی مسلمان ہوجائے تو کیا وہ اپنے شوہر کے نکاح میں باقی رہے گی ؟ اس مسئلے میں مصنف نے المجلس الاروبی للافتائ والبحوث (European Council for Fatwa and Research) کا رزولیوشن نقل کیا ہے، جو چار شکلوں پر مشتمل ہے ۔ ان میں سے تین کی بنیاد رسول اللہ ﷺکا یہ عمل ہے کہ انھوں نے اپنی صاحبزادی حضرت زینبؓ  کو اپنے گھر میں روک رکھا تھا اور جب ان کے شوہر ابوالعاص مسلمان ہوکر مدینہ آگئے تو بلا تجدید نکاح انہیں رخصت کردیا تھا ۔ اس لیے یہ فتویٰ درست ہے ۔ رہی چوتھی شکل کہ اگر شوہر عرصے تک مسلمان نہ ہو تو عورت کو فسخ نکاح کرانا ہوگا تب ہی وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے، ایک قانونی شرط کو پورا کرنے کے لئے تو ہوسکتی ہے ورنہ اس کی اور کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ مصنف نے نکاح کے باقی رہنے اور اس کے اعضاء   جنسی پر مرد کے استحقاق کے جواز میں حضرات عمرؓ  و علیؓ  کے جو فتاوے نقل کئے ہیں۔ وہ قرین عقل نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ سورۃ المائدۃ کی پانچویں آیت میں دی گئی اجازت سے صریحی تجاوز پر مبنی ہیں ۔ حضرت عمرؓ  نے تو اپنی خلافت کے زمانے میں بعض مصالح کے تحت کتابیہ عورت سے نکاح کی بھی ممانعت کردی تھی ﴿ملاحظہ ہو ۔ الفاروق شبلی، دارالمصنفین ، ۱۹۶۵؁ء ، ۱۷۹/۱۷﴾ ۔ پھر ان سے خیار نکاح کے فتوے کی نسبت کیسے درست ہو سکتی ہے ؟ رہے حضرت علیؓ  اور دیگر مجتہدین کی طرف منسوب فتاوے تو وہ صریحی طور سے قرآنی اجازت سے معارض ہیں ۔ مصنف کا یہ کہنا کہ ’اگر اس ﴿عورت کی زوجیت کے باقی رہنے﴾ کے خلاف فتویٰ دیا گیا تو اس کے ذریعے ہم بندگان خدا کو اللہ کے دین سے روکنے والے ہوں گے ﴿ص:۱۷۹﴾‘ تلاعب فی الدین کے تحت آتا ہے ۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عیسائی اور یہودی عورتوں نے مسلم گھرانوں میں گھس کر مملکت اسلامیہ کو کتنا نقصان پہنچایا ہے ۔ یہاں تک کہ اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے ۔ پھر اگر شوہر مشرک یا کافر ہے تو وہ خاندان اور معاشرے پر کیا قہر ڈھائے گا، اس کا اندازہ کر لیجیے۔ سورۃ الممتحنۃ کی آیت نمبر ۰۱ میں مومن اور کافر کے مابین ازدواجی رشتے کو قطعاً حرام کر دیا گیا ہے اور سورۃ النور کی آیت نمبر ۳ میں اللہ نے ایسے رشتوں کو مشابہ بالزنیٰ قرار دیا ہے ۔

اس بات پر بڑا زور قلم صرف کیا جاتا ہے کہ عورتوں کو گھروں میںبند کرکے ان پر علم کے دروازے بند کر دئے گئے ہیں اور خود کو نوع انسانی کی پچاس فیصد اہلیت سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ یہ بات اب دینی حلقوں کی طرف سے بھی کہی جانے لگی ہے ۔ یہ ایک زبردست مغالطہ ہے ۔ عورتوں کے لیے ہر علم کے دروازے کھلے ہیں اور حسب ضرورت وہ دنیا کے کاموں میں حصہ بھی لے سکتی ہیں ۔ یہ اس کے لیے اجازت ہے ، ذمہ داری نہیں ہے ۔ لیکن یہ اجازت چند حدود کے ساتھ مشروط ہے ۔ ان شرائط کے ساتھ ہمارے مجتہدین اور آزادی پسند خواتین خود فیصلہ کرلیں کہ ان کے لیے کون کون سا علم اور کون کون سا کام (job) ممکن ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ عورتوں کو برابر کا درجہ حاصل ہے ۔ قانون الٰہی نے تو دونوں کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں رکھ کر برابر کا درجہ دے دیا ہے ۔ لیکن ہمارے ہمارے یہ متجددین تو جنس کی تفریق بھی مٹادینا چاہتے ہیں ۔ اللہ نے نوعی حیثیت سے دونوں کو برابر کے درجے میں رکھا ہے، لیکن جنسی حیثیت سے دونوں میں تفریق ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کرنا فطرت کے خلاف جنگ ہے ۔ ہم یہ بھی تسلیم کر لیتے کیونکہ اب عورتیں خلا میں بھی تیرنے لگی ہیں ، لیکن مساوات کا عمل تو علم الہندسہ کے تسویہ کی طرح ہے جس میں دونوں شکلیں ہر لحاظ سے برابر ہوتی ہیں ۔ اب عورتیں تو مردوں کے برابر ہوگئی ہیں تو کیا مرد بھی عورتوں کے برابر ہو گئے ہیں ؟ کیا مرد وہ خانگی ذمہ داریاں جو ہمیشہ سے عورتوں سے متعلق رہی ہیں پچاس فیصد ادا کرنے لگے ہیں ؟ کھانا تیار کرنا اور بچوں کی پرورش اور نگہداشت میں ان کی شرکت پچاس فیصد ہوگئی ہے ؟ اور پھر وہ اصل مقصد جس کے لیے اللہ نے عورت کو خلق کیا ہے یعنی بچے پیدا کرنا تو کیا اس فعل میں کبھی کسی مرد نے کوئی حصہ لیا ہے ؟ کیا اس نے کبھی انسان تو انسان ایک چوہے کا بچہ بھی پیدا کر کے دیا ؟ اگر یہ سب اب تک نہیں ہوا تو آخر اب عورتیں مردوں کی طرح یہ تحریک کیوں نہیں چلاتیں کہ وہ تو مردوں کے برابر ہو گئی ہیں، اب مردوں کی باری ہے کہ وہ عورتوں کے برابر ہو کر دکھائیں ۔ آخر اس حماقت کا کیا مطلب ہے کہ عورتیں تو گھر اور باہر دونوں جگہ کی ذمے داری ادا کریں اور مرد یا تو کام پر سے آنے کے بعد آرام فرمائیں یا عورتوں کی آمدنی پر گزر بسر کریں ؟ اور یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے کہ عورت گھر کی ذمے داریاں بھی ادا کرے اور گھر سے باہر غیر مردوں کی دل بستگی کا سامان بھی بنے ؟مساوات مرد و زن کے تعلق سے مصنف ہوں یا علامہ یوسف القرضاوی یا ڈاکٹر حسن ترابی ، ان لوگوں نے مشترک ذمے داریوں والی آیتوں کو صحیح طور سے سمجھا ہی نہیں ہے۔ یہ آیتیں نو عی مساوات کی ذمے داریوںکے لیے ہیں ، جنسی مساوات کے لیے نہیں ہیں۔ان سے جنسی مساوات کا عطر کشید کرنا جنسی ذمے داریوں کے مقصد کا انتفائ ہے جس کا اختیار کسی کو نہیں ہے ۔

علامہ یوسف القرضاوی نے احادیث کی جرح میں علامہ البانی کی تحقیقات کو قبول کیا ہے جو مسلکاً اہلحدیث تھے ۔ یہ مقام اصول حدیث پر کلام کرنے کا نہیں ہے بلکہ اصول فقہ کا ہے اس لیے تفصیل سے گریز کرتے ہوئے فقط اتنے پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ کہ علامہ عبد الرحمٰن مبارکپوریؒ نے ’تحفۃ الاحوذی ‘ میں کسی صحیح معارض حدیث کی غیر موجودگی میں کثیر الطرق ضعیف احادیث کے بارے میں رائے دی ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی اصل ہوتی ہے ۔ مولانا مودودیؒ نے بھی اسی رائے کو قبول کیا ہے ۔

مصنف نے اپنی بات کی تائید میں ڈاکٹر حسن ترابی اور ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے اکثر حوالے دیے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے مردوں اور عورتوں کے درمیان مصافحے کو بھی جائز قرار دے دیا ہے ۔ ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم نے بھی خطبات بھاولپور میں اس طرح کی بہت سی باتیں لکھی ہیں ۔ لیکن یہ تمام فتاوے قریبی اعزہ کی خاطراستثنائی صورت حال کے لیے تو ہو سکتے ہیں لیکن انہیں اصولیات کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ۔ یورپ اور امریکہ میں اسلام لانے کی خواستگار خواتین کی پریشانی کا نجات اللہ صاحب نے ذکر فرمایا ہے تو واقعہ یہ ہے کہ صدر اول میں اسلام لانے والی خواتین کو بھی اس صورت حال سے سابقہ پڑا تھا ۔ اسلام ایک آزمائش کا نام ہے اس کے لیے صبر ﴿نماز﴾ اور دعا سے کام لینا چاہیے ﴿ البقرۃ : ۳۵۱﴾۔ قوانین ان مصلحتوں کی خاطر نہیں بدلے جاتے۔اللہ نے فیصلہ کردیا ہے:’تم سے نہ یہودی راضی ہونے والے ہیں نہ نصاریٰ،جب تک تم ان ہی طریقے پر نہ چلو ‘﴿ البقرۃ : ۱۲۰ ﴾۔

ایک بالکل نئی اور انوکھی بات ڈاکٹرنجات اللہ صدیقی نے اور کہی ہے وہ یہ کہ عورت کے لئے سر ڈھانپنے کا کوئی واضح حکم نہیں ہے ۔ قرآن میں وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ ﴿النور : ۳۱﴾ میں سینہ پر آنچل ڈالنے کا حکم ہے سر ڈھانپنے کا نہیں ہے اور یہ کہ مشرق میں سر ڈھانکنے کا حکم محض رواجی ہے اور یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ﴿ الاحزاب : ۵۹﴾ میں جلباب ﴿چادر﴾ کا مقصد صرف جسم ڈھانپ لینا ہے۔ اس رائے کی تائید میں مصنف نے مراد ہافمین کا حوالہ دیا ہے اور ڈاکٹر حسن ترابی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ حجاب کا حکم عورتوں کے لیے ہے ہی نہیں۔ مصنف نے فرانس اور دوسرے یوروپین ممالک میں سر ڈھانپنے کے قانون کی مخالفت کرنے والی خواتین کی تحریک کو بالکل غیر ضروری قرار دیا ہے اور فیصلہ دیا ہے کہ اس سے Samuel Huntington کے نظریہ Clash of Civilizationکی بلا سبب تائید ہوتی ہے،جو ہمارے لیے قطعی نقصان دہ ہے۔ ناچیز کا خیال ہے کہ ہنٹنگٹن کی اور باتیں چاہے غلط ہوں لیکن یہی بات صحیح ہے ۔ ہم واقعی مغرب کے مقابلے میں تہذیبی جارحیت کا شکار ہیں لیکن اِن شائ اللہ یہ کشمکش اسلام کے تہذیبی احیائ پر منتج ہوگی ۔ مصنف کا یہ کہنا کہ خمار ﴿دوپٹہ﴾ سر ڈھانکنے کے لیے ہے ہی نہیں ، صرف سینہ ڈھکنے کے لئے ہے اور عرب میں سر ڈھانکنے کی رسم رواجی تھی قرآن اور سنت سے انتہائی درجے بے خبری کا نتیجہ ہے ۔اگر یہ فعل رواجی ہو تو بھی قرآن میں بار بار بالمعروف کا لفظ استعمال ہوا ہے تواس کا مطلب کیا ہے ؟ احادیث کی ایک قسم تقریری ہے۔ اس سے کیا مراد ہے ؟ دراصل مصنف اصول شرائع کو ملحوظ نہیں رکھتے ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ قرآن اور حدیث میں رائج چیزوں کے باقی رکھنے کے لیے کیا الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اس سے جو احکام مرتب ہوتے ہیں وہ دین میں کیوںحجت ہیں۔ علامہ یوسف القرضاوی نے وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ﴿الاحزاب : ۳۳﴾ ’ گھروں میں قرار پکڑو‘ کو ازواج مطہرات کے لیے خاص بتایا ہے ۔ مسلم خواتین کو بہت سی ہدایتیں ازواج مطہرات ہی کے توسط سے دی گئی ہیں، ورنہ پھر سورۃ الاحزاب کی ۰۵ نمبر کی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو چچا زاد ، پھوپھی زاد ، خالہ زاد اور ماموں زاد بہنوں سے زواج کی اجازت کو بھی صرف رسول اللہ ﷺ ہی کے لیے خاص ماننا پڑے گا جیسا کہ منکرین حدیث کا دعویٰ ہے ۔ حالانکہ پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ مذکورہ بالا رشتوں میں مسلمانوں کے لیے شادیاں کرنا جائز ہے ۔

نجات اللہ صدیقی صاحب نے فقہ کے اصول استحسان اور مصالح مرسلہ سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے حالانکہ علماے حدیث ان اصولوں کو احادیث کے قتل عام کا سبب گردانتے ہیں۔

اس مطالعے کی بنیاد پر یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ مقاصد شریعت میںنصوص کے مدلولات سے تجاوز کیاگیاہے۔ حرف آغاز میں ناشر نے وضاحت کی ہے کہ’ اس کے ہر نکتے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔ بعض امور میں اختلاف کی پوری گنجائش ہے ۔ اس کے لیے فاضل مصنف سے افہام و تفہیم کی راہ کھلی ہوئی ہے ۔ ان کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ ‘ یہ بھی ایک عجیب روش چل پڑی ہے۔ بڑی سے بڑی محلِ نظر بات کو نقطہ نظر قرار دے کر اس کی اشاعت کردی جاتی ہے اور افہام و تفہیم کے لیے مصنف سے رجوع کرنے کی دعوت دے دی جاتی ہے۔

اگست 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau