ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ

رشتۂ زوجین پر قرآنی تشبیہ کامطالعہ (2)

ذکی الرحمن غازی فلاحی

مصاحبت وتلازم:انسان دنیا کے کسی گوشے میں سفر کر جائے اس کا لباس اس کے ساتھ رہتا ہے اور دونوںمیں کسی صورت مفارقت پیدا نہیں ہونے پاتی۔ازدواجی زندگی میں بھی یہی فطری حالت مطلوب ومستحب ہے اور باہمی افتراق یاچند روزہ دوری کی اجازت حالتِ اضطرار ومجبوری ہی میں دی جا سکتی ہے۔انسان غریب الوطن ہو یا مقیم،ہر حالت میں سکون واطمنان اور محبت ورحمت کا خواستگار ہوتا ہے،جسکا وجود اسی طور ممکن ہے کہ اسکارفیقِ زندگی ہر آن وہر مکان اس کے ساتھ پایاجائے۔ارشادِ ربانی ہے:

وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا الَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً انَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ﴿روم،۱۲﴾

’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔یقینا اسمیں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔‘‘

اللہ کے رسولﷺ  کا معمول بھی یہی تھا کہ آپﷺ  اسفار وغزوات میں امہات ؓ المومنین کو ساتھ رکھتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں:اللہ کے رسولﷺ  جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہلِ خانہ میں قرعہ اندازی فرماتے اور جس کا نام نکلتا انھیں ساتھ لے جاتے۔﴿صحیح بخاریؒ :۳۹۵۲۔صحیح مسلمؒ :۶۹۱۷﴾یہاں غور طلب بلکہ سنگین مسئلہ مسلمانوں کے اس نوکری پیشہ طبقہ کاہے جو زیادہ کمائی کی خاطر بیرونی ممالک یادور دراز علاقوں میں کام کرتے ہیں اور سالہا سال تک اپنے اہلِ خانہ کو زیارت وملاقات سے محروم رکھتے ہیں۔بعض خلیجی ممالک کا حال تو یہ ہے کہ اس میں جانے کے بعد سہ سالہ مدت گزارے بغیر واپسی کے بارے میں سوچنا بھی ناممکن ہے۔فقہی موشگافیاں کرکے اس طرزِ عمل کو جائز ٹھہرانے یا مجبوریِ حالات کے بہانے اس کو قابلِ انگیز قرار دینے سے ،یہ غیر شرعی دنیا پرستانہ رویہ کس قدر درست قرار پاتا ہے،یہ دوسری بات ہے۔لیکن جو بات مسلّم ہے وہ یہ کہ ایسا طرزِ عمل رشتۂ زوجین کے قرآنی تصور کے بالکل خلاف ہے۔

قابلِ اجتناب امور:فطری طور پر ہرانسان اپنے لباس کی حفاظت وصیانت کرتا ہے اور متعدد امور واشیائ سے اس کو دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ان میں سے چند کا تذکرہ درج ذیل ہے:

گندگی وآلائش: ہر انسان چاہتا ہے کہ لباس کو خراب کرنے یا ناپاک کر دینے والی کوئی معنوی ومادی گندگی اس کے لباس کو نہ لگے۔وہ کوشش کرتا ہے کہ کوئی چیز اس کے لباس کو بدرنگ وبدبودارنہ کرے۔ازدواجی رشتہ میں بھی زوجین سے مطلوب ہوتا ہے کہ وہ اس رشتہ کی ہمہ وقتی حفاظت ونگرانی رکھیں تاکہ انکا یہ رشتہ ورابطہ ہمیشہ خوش شکل،خوش مذاق،اور خوشبودار باقی رہے۔زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے کی شخصیت کا اعتراف واحترام کرتے ہوئے،حسنِ معاشرت کو مکدر کرنے والی تمام غلط فہمیوں اور خامیوں کو نرمی وہمدردی کے ساتھ سدھار دینا چاہیے۔اللہ کے آخری رسولﷺ کا اسوہ اس بارے میں مشعلِ راہ ہے۔آپﷺ  ہمیشہ ازواجِ مطہراتؓ  کی ناروا باتوں پر ضبط وتحمل اور اہلِ خانہ کی ناراضگی کا سبب بننے والی چیزوں سے احتراز فرماتے تھے۔ازواجِ مطہراتؓ  کی چھوٹی چھوٹی پسند وناپسند کو نوٹس میں رکھنے کی مثال یہ واقعہ ہے:

ایک مرتبہ آپﷺ  نے حضرت عائشہؓ  سے فرمایا:میں تمہاری رضامندی وعدمِ رضامندی کو پہچان لیتا ہوں۔حضرت عائشہ ؓ کے استفسار پر آپﷺ  نے فرمایا:تم رضامندی کی حالت میں قسم کھاتے ہوئے کہتی ہو کہ قسم محمدﷺ  کے معبود کی،جبکہ ناراضگی کی حالت میں کہتی ہو کہ قسم ابراہیمؑ کے معبود کی۔یہ سن کر حضرت عائشہؓ  نے فرمایا:میں صرف آپکا نام لینا چھوڑتی ہوں﴿آپﷺ  کو نہیں۔﴾﴿صحیح بخاریؒ :۶۰۷۸﴾

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زوجین میں سے ہر ایک کو خانگی رشتے میں کسی بھی شک وشبہ یا غلط فہمی کے شائبہ کو جگہ نہیں دینی چاہیے اور خدا نخواستہ اگر ایسی صورتحال واقع ہوجائے تو فوری طور پر اس کے ازالہ وتلافی کی سبیل کرلینا چاہیے۔اس اصول کو مدِ نظر رکھنے سے ازدواجی رشتہ ہمیشہ سرسبز وشاداب رہتا ہے۔حضرت عمران بن حطانؓ  کے بارے میں آتا ہے کہ آپؓ  کی اہلیہ نہایت شکیل وجمیل تھیں،جبکہ خود آنجنابؓ کا حال ایسا نہ تھا۔روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنی بیوی کو مخاطب فرما کر کہا:تم اور میں انشاء اللہ جنتی ہیں۔اس پر اہلیہ نے تعجب ظاہر کیا تو آپؓ  نے فرمایا:اس کی وجہ یہ ہے کہ تم حسن وجمال میں مجھ سے بہتر ہو،جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اور میں تم سے شکل وصورت میں فروتر ہوں جس پر تم صبر واحتساب رکھتی ہو۔اس لیے انشاء اللہ ہم دونوں اہلِ جنت میں سے ہوںگ ے۔‘‘﴿العقد الفرید،ابن عبد ربہؒ :۲/۴۳۱﴾معلوم ہوا ہے کہ زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے کی خوبی اورواقعی حیثیت کا اعتراف کرنا چاہیے،کیونکہ اس کی وجہ سے بے تکلفی ومحبت اوراحسان مندی و محسن شناسی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے،جو کسی بھی ازدواجی رشتہ کے لیے ازحد ضروری ہے۔

انقباض و انکماش:بسا اوقات انسان کا لباس تو صاف ستھرا ہوتا ہے لیکن دھونے یا کثرت سے استعمال کرنے کی وجہ سے اس میں سکڑاؤ اور انکماش پیدا ہوجاتا ہے۔اس قسم کے سکڑے ہوئے کپڑے کا علاج استری کے ذریعہ اسکوپھیلا کر کیا جاتا ہے۔خانگی سعادت وخوشحالی کے حصول کی را ہ میں بھی بسا اوقات چھوٹی چھوٹی چیزیں اختلافات اورہلکی پھلکی جھڑپ کا سبب بن جاتی ہیں۔ایسے میں خانگی رشتہ کو بھی ایک قسم کا انقباض وانکماش لاحق ہو جاتا ہے، جس کے بعد ضرورت ہوتی ہے کہ ازدواجی رشتہ کی تازگی بحال کرنے کی کوشش کی جائے۔اس کا بہترین راستہ آپسی تفاہم،بے غرضی وانکارِ ذات اور بعض غلطیوں سے اغماض واعراض کرنا ہے۔اس وسیلہ سے ازدواجی رشتہ کو لاحق انقباضی کیفیت ختم ہوکر فرحت وانبساط میں بدل جاتی ہے۔واضح رہے جس طرح بروقت سکڑے ہوئے کپڑے کو درست نہ کرنے پر دھیرے دھیرے یہ حالت کپڑے کا جزوِ لازم بن جاتی ہے اورپھر اس کا ازالہ مشکل تر ہو جاتا ہے،اسی طرح خانگی رشتہ میں بھی وقتی انقباض وناراضگی کو طول دینے سے بسا اوقات یہ چیز مستقل دردِ سر بن جاتی ہے اورصورت حال کی اصلاح بیحد مشکل ہوجاتی ہے۔

انقطاع وانخراق:بسا اوقات انسان کا لباس کٹ یا پھٹ جاتا ہے جسکے بعد اس کو رفو کرنے اور سینے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس طرح لباس کو صحیح سالم باقی رکھا جاتا ہے۔اگر پھٹے کپڑے کو جلد از جلد سینے کا اہتمام نہ کیا جائے تو اس پھٹن کادائرہ وسعت اختیار کرجاتا ہے اور کبھی کبھار اس حد کو پہونچ جاتا ہے جہاں اس کو بحیثیتِ لباس استعمال میں لانا محال ہوجاتا ہے۔ ازدواجی زندگی میں بھی بسا اوقات بڑی مشکلات اور گہرے اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں جنکا بروقت ازالہ وخاتمہ نہ کیا جائے تومستقل انقطاع ولاتعلقی کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عربی زبان میں رفو کرنے کا لفظ سلائی کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور شادی کے بعد اتفاق ویگانگت کے معنی میں بھی۔﴿المعجم الوسیط:مادۃ ر ف أ۱/۱۱۴﴾احادیث میں بھی یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ  فرماتے ہیں کہ:

اللہ کے رسولﷺ  کسی انسان کو شادی میں اتفاق واتحاد کی دعا ﴿رفّأ﴾دیتے ہوئے فرماتے تھے:اللہ تمہارے لیے برکت مقدر کرے اور تم پر برکت رکھے اور تم دونوں کے مابین خیر میں اجتماع فرمائے۔‘‘﴿سنن ابوداؤدؒ :۲۱۳۲۔سنن ترمذیؒ :۱۰۹۱۔ مسند احمدؒ :۸۹۴۴۔سنن ابن ماجہؒ :۱۹۰۵﴾

بے نیازی واستغنا:اگر انسان بڑی کد وکاوش کے بعد کسی بے عیب وخوبصورت لباس کا انتخاب کرے،لیکن پھر اچانک ہی اس کو اتار کر پھینک دے اور خود کو اس سے مستغنی ظاہر کرنے لگے،یا کہے کہ میں برہنہ رہنا پسند کرتا ہوں یا یہ کہ میں اپنے لیے دوسرا لباس منتخب کروں گا،توعقلِ عامہ ایسے انسان کو پاگل قرار دیتی ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے اپنے انتخاب میں غلطی کی تھی؟کیا تم نے یہ لباس محنت کی حلال کمائی سے نہیں خریدا تھا؟کیا اس لباس میں پایا جانے والا عیب یانقص ناقابلِ اصلاح وتحمل ہے؟کیا تم نے اس عیب یا نقص کی اصلاح وتلافی کرنے کی کوشش کی؟ان تمام اعتراضات وسوالات کا تسلی بخش جواب نہ دینے پرایسے شخص کو متکبر ونخوت پسند اور فضول خرچ ومسرف کے خطاب سے موسوم کیاجاتا ہے۔ازدواجی امور میں بھی زوجین میں سے کسی ایک کا دوسرے کے تئیں تعامل اگر بے نیازی ولاتعلقی کا ہے تو اس پر بھی یہی اعتراضات وارد ہوتے ہیں اور یہی حکم اس پربھی لگایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں جواز کی صورت تب ہی ہے جبکہ معاملہ اس حدکو پہونچ جائے کہ کسی طور گزارے کا امکان باقی نہ رہے اور علیحدگی وانفصال کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ ہو۔اللہ کے رسولﷺ  کا ارشادِ گرامی ہے:

حلال چیزوں میں اللہ کو ناپسندیدہ ترین شے طلاق ہے۔‘‘﴿سنن ابوداؤدؒ :۲۱۸۰۔سنن ابن ماجہؒ :۲۰۱۸﴾

یہ چند بنیادی باتیں ہیں جو قرآن کی اس تشبیہ کی روشنی میں بظاہر سمجھ آتی ہیں۔یہاں ایک تنبیہ ضروری یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں وارد مختلف تمثیلات وتشبیہات کے تضمنات میں کسی ایسے امر کوشامل کرنا جس کی تائید قرآن وسنت کی دیگر واضح نصوص سے نہیں ہوتی،یااس کے معارض شرعی نصوص پائے جاتے ہیں ،تو ایسا استنباط کسی نے بھی انجام دیا ہو غلط قرار پائے گا۔مثلاً اس قرآنی تشبیہ کی روشنی میں یہ کہنا کہ لباس ہی کی طرح زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے پر حقوقِ مالکانہ حاصل ہوجاتے ہیں یا لباس ہی کی طرح زوجین کو بھی ہر ماہ وسال میں شریکِ زندگی تبدیل کرتے رہنا چاہیے،برخود غلط ہوگا۔اللہ سے دعا ہے کہ ہم سبھی کوصحیح فہمِ قرآن کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رحمن ورحیم!

جون 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau