ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّہُن

رشتۂ زوجین پر قرآنی تشبیہ کا مطالعہ

ذکی الرحمن غازی فلاحی

اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتاب قرآنِ کریم میں تقریبِ فہم اور توضیحِ مراد کی خاطر مختلف اشیائ واعمال کو تشبیہ وتمثیل کے اسلوب میں بیان فرمایا گیا ہے۔اس اسلوب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عام انسان کو آسانی سے بات سمجھ آجاتی ہے اور ایک صاحبِ علم کے غور وفکر کے لیے معانی وحکمتوں کی پوری دنیا منکشف ہو جاتی ہے۔اس سیاق میں اگر انسانیت کی دونوں صنفوں ’مرد ا ورعورت‘ کے مابین قائم ہونے والے تعلق ِ ازدواج کی قرآنی بنیادوں کو جاننے کی کوشش کی جائے ،تومعلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اس رشتے کی نوعیت کو لباس سے تشبیہ دی ہے:

ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ﴿بقرہ،۱۸۷﴾ ’’وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔‘‘

بظاہر لباس کا مطلب وہ کپڑاہے جو انسان اپنے جسم پر پہنتا ہے۔لیکن کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زوجین کے تعلقات کو لباس اور صاحبِ لباس کے تعلق کی مثال سے واضح کیا ہے؟ صورتِ مسئلہ کی تمام ابعاد واطراف کا علم تو ربِ کائنات ہی کو ہوگا،لیکن غور وفکر سے بھی ان دونوںرشتوں کی باہمی یگانگت ومماثلت سمجھ میں آتی ہے۔اس مختصر مضمون میں لباسِ انسانی کے اہم مقاصد،صفات وخصوصیات اوراس کے ساتھ برتے جانے والے طریقہ ہائے تعامل کی روشنی میں زوجین کے تعلقات کی قرآنی تشبیہ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔وباللہ التوفیق۔

چند اصولی باتیں

سب سے پہلے چند اصولی باتیں سمجھنے کی ہیں:پہلی بات تو یہ کہ لباس ایسی انسانی ضرورت ہے جس سے کسی بشرکو استغناء نہیں ہوسکتا۔مادر زاد برہنگی جس طرح ماضی میں سلیم الفطرت انسان کے لیے عیب تھی،ویسے ہی مادیت پرستی واباحیت زدگی کے اس زمانے میں بھی انسانی ضمیر وفطرت مکمل برہنگی سے گھن کھاتے ہیں۔ اس قرآنی تشبیہ سے ایک اصولی بات یہ سمجھ آتی ہے کہ قرآنی تصورِ زندگی میں شادی ونکاح،اسی درجہ ناگزیر وضروری انسانی حاجت قرار پاتے ہیں جس طرح کہ لباس۔اس بابت ہمارے لیے اسوہ حسنہ کسی بزرگ یا ولی کا طرزِ عمل نہیں،بلکہ اللہ کے آخری رسولﷺ کی سنت وعمل ہونا چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ پیدائش کے بعدبچوں کی برہنگی کو ایک معینہ عرصہ تک قابلِ انگیز مانا جاتا ہے۔لیکن ایک مناسب مدتِ عمرکے بعدبچوںکو سترپوشی کی تلقین نہ کرنا اور برہنگی سے نہ روکنا، انھیں عریانیت وبے حیائی کی تعلیم دینے کے مترادف ہوجاتا ہے۔بالکل اسی انداز میںمناسب عمرکو پہنچنے کے بعد۔جوشریعت میں قرائن وعلامات اور سن وسال سے معین ومحدد کی گئی ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں کی شادی ونکاح پر توجہ نہ دینا بھی اباحیت وفواحش کے رواج پانے کا سبب بنتاہے۔ موجودہ زمانے کی صورت حال سے زیادہ بہتر اس کی وضاحت نہیں کی جاسکتی۔ دیکھنے والی آنکھ آج فحاشی وبے حیائی کے جن مظاہر کا مشاہدہ کر رہی ہے، ان کے برپا ہونے میں ایک بڑا سبب شادی ونکاح کے معاملہ میں اس اسلامی مزاج سے انحراف کرنا بھی ہے۔

تیسری اور اہم ترین بات یہ کہ لباس کی خرید وفروخت یا تیاری وفراہمی کا مسئلہ عام انسانی زندگی میں ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ سالہا سال پہلے سے اس کے لیے تیاری ہواورلاتعداد دولت اکٹھا کی جائے۔بالکل اسی لحاظ سے نکاح اور شادی کا معاملہ بھی اسلامی معاشرہ میں ایسا مہتم بالشان مسئلہ نہیں ہوتا جس کے لیے لمبی چوڑی تقریبات اور فضول خرچیوں کا التزام کرنافرض خیال کیا جائے۔فرحت ومسرت کے موقع پر خوشی منانا انسانی فطرت ہے اور شرعی طور سے اس میںقباحت بھی نہیں،لیکن اس خوشی کے موقع پربے شمار غیر عقلی وغیر شرعی رسوم ورواج اوراعراف وتقالید کا اہتمام کرنا،اور اس کے نتیجے میںایک سیدھے سادے مسرت آمیز موقع کو باعثِ تکلیف و باعثِ غم بنادینا عقلاً اور شرعاً حرام وقابلِ نفریں ہے۔

لباس کے مقاصد واہداف

حفاظت وصیانت

انسان بمقتضائے فطرتِ سلیمہ اپنی سترپوشی کا اہتمام کرتا ہے۔اس میں مدِ نظر یہ بھی رہتا ہے کہ مختلف موسمی تغیرات وماحولیاتی انقلابات مثلاً حرارت وبرودت وغیرہ سے،زخمی کرنے اوراذیت پہنچانے والی اشیائ سے اور مختلف فضائی آلودگیوں اور جراثیم سے جسمِ انسانی کی حفاظت وصیانت ہوجائے اور وہ مختلف امراض وآفات سے محفوظ رہ سکے۔شادی کرنے میں بھی انسان اپنی نوع ونسل کو مٹنے اور منقطع ہونے سے محفوظ کرنا چاہتا ہے۔انسانی فطرت میں یہ داعیہ ودیعت ہے کہ وہ اپنے D.N.A.کو اولاد واحفاد اور نسل وذریت کی شکل میں بڑھتے اور پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتا ہے۔اس جذبہ کی درست عکاسی خود خالقِ فطرت کے کلام میں پائی جاتی ہے:

وَاللّہُ جَعَلَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً وَجَعَلَ لَکُم مِّنْ أَزْوَاجِکُم بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً وَرَزَقَکُم مِّنَ الطَّیِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللّہِ ہُمْ یَکْفُرُون                    ﴿نحل،۷۲﴾

’’اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیںاور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کودیں،پھر کیا یہ لوگ﴿سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی﴾باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں۔‘‘

حضرت انس بن مالکؓ  فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ہمیں شادی کرنے کا حکم فرماتے اور تبتل وانقطاع کرنے سے سختی سے روکتے تھے،اور فرماتے تھے:

’’ایسی عورتوں سے شادی کرو جو محبت کرنے والی اور خوب جننے والی ہوں کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری وجہ سے دیگر انبیاء پر﴿امت کی﴾کثرت میں بڑھنا چاہتا ہوں۔‘‘               ﴿مسند احمدؒ :۴۳۶۲۱۔صحیح ابنِ حبانؒ :۸۲۰۴﴾

واضح رہے عربی زبان میں تبتل کے معنی بے رغبت ہوکر شادی نہ کرنے کے آتے ہیں۔﴿المعجم الوسیط:مادۃ ب ت ل۱/۴۷﴾

شادی میں حفاظتِ نفس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان اپنے آپ کو ایسے معاصی وفحش اعمال سے محفوظ کرلیتا ہے جو دنیا میں مہلک امراض اور آخرت میں عذابِ عظیم کا موجب بنتے ہیں۔قریبی دور میں سامنے آیا’’ایڈز‘‘ نامی لاعلاج مہلک مرض بھی جنسی بے راہ روی کی پیداوار ماناگیاہے اور اس سے بچنے کا واحد راستہ شرمگاہوں کی حفاظت بتایا جاتا ہے۔قرآن کریم نے شرمگاہوں کی حفاظت کا ایک طریقہ نگاہیں نیچی رکھنا بیان کیا ہے:

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُن                                  ﴿نور،۳۰-۳۱﴾

’’اے نبیﷺ ،مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں،یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے،جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتاہے۔اور اے نبیﷺ ،مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘

آیتِ کریمہ میں شرم گاہوں کی حفاظت وعفت کے لیے غضِ بصر کو ایک وسیلہ بتایا گیا ہے،لیکن فرمانِ رسالت ﷺمیں شادی کر لینے کو، نگاہوں کے نیچے رکھنے اور شرم گاہوں کے محفوظ وپاکیزہ رکھنے کا کارگر ومؤثر ترین نسخہ قرار دیا گیا ہے۔آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

’’اے گروہِ نوجوانان! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ شادی کی وجہ سے نگاہیں نیچی اور شرمگاہیں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ البتہ جو شادی کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ روزوں کا التزام کرے کیونکہ روزہ شہوتِ نکاح کوکاٹ دیتا ہے۔ ‘‘﴿صحیح بخاریؒ :۵۰۶۵۔ صحیح مسلمؒ :۳۴۶۴﴾

ستر پوشی وپردہ داری

لباس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان اس کے ذریعہ سے اپنے قابلِ حیاجسمانی حصوںکو لوگوں سے چھپانا چاہتا ہے ۔ستر پوشی کایہ اہتمام اس لیے ہے کہ خالقِ کائنات نے انسان کے وجدان وفطرت میں حیا وشرم کا مادہ رکھا ہے، اور یہ اس کے اشرف المخلوقات یا تکریم واعزاز یافتہ مخلوق ہونے کا تقاضا بھی ہے۔اس میں ایک ضمنی مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے بعض جسمانی وخِلقی عیوب اور غیر طبعی امور کو مخفی رکھنا چاہتا ہے جن کے بارے میں اسے قطعی گوارا نہیں ہوتا کہ کوئی محرم یاقریب ترین رشتہ دار بھی اِن پر مطلع ہوجائے۔

شادی یاازدواجی زندگی میں زوجین کا ایک دوسرے کے لیے یہی کردار ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے لباس اور پردہ بن جاتا ہے۔قرآن جب زوجین کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہے﴿بقرہ،۱۸۷﴾تو اس سے مراد یہی ستر پوشی واخفا کا عمل ہے۔اس استنباط کی مزید تائید وتوثیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے رات کو بھی لباس قرار دیا ہے،کیونکہ رات اپنی تاریکی میں اشیائ واشخاص سبھی کو ڈھانپ لیتی ہے۔ارشادِ باری ہے:

وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ لِبَاساً وَالنَّوْمَ سُبَاتاً وَجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوراً﴿فرقان،۴۷﴾

’’اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس،اور نیند کو سکونِ موت اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا۔‘‘

وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ لِبَاسا﴿نبأء،۱۰﴾’’اور رات کو پردہ پوش بنایا۔‘‘

سابقہ آیات کے تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت کے نزدیک جو تعلق رات کا دنیائے انسانیت کے ساتھ ہوتا ہے،بعینہٰ وہی رابطہ یا تعلق زوجین کا آپس میں ہوتا ہے۔ایک طرف قرآن کریم لباس کے لفظ کو رات کے پس منظر میں چھپانے اور ڈھانپ لینے کے معنی میں استعمال کرتا ہے،تو دوسری طرف لباس ہی کے لفظ کو انسانی عورات کی پردہ پوشی کے لیے بھی استعمال کرتا ہے:

یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْئ َاتِکُمْ وَرِیْشاً وَلِبَاسُ التَّقْوَیَ ذَلِکَ خَیْر ﴿اعراف،۶۲﴾

’’اے اولادِ آدم،ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو،اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے۔‘‘

شایدزوجین کے مابین اسی رشتۂ ستر پوشی واخفائے عیوب کا لحاظ کرتے ہوئے شریعت نے بہت سختی سے اس بابت نکیر فرمائی ہے کہ زوجین میں سے کوئی اپنے شریکِ زندگی کے جسمانی اوصاف دوسروںکو بیان کرتا پھرے۔

زینت وآرایش

زینت کے لغوی معنی میں ہروہ چیزشامل ہے جس سے خوبصورتی حاصل کی جاتی ہے۔درحقیقت اس کے اطلاق میں وہ تمام اشیائ داخل ہیں جو انسان کوکسی طور سے بھی بھونڈا،یا بدشکل نہ بناتی ہوں۔﴿لسان العرب،ابن منظور مصریؒ :مادہ ز ی ن۳/۳۴۱﴾ہر انسان پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس دیدہ زیب ہو،باعثِ شرم وعار نہ ہو۔آرایش وزیبایش کو پسند کرنابشری جبلت ہے جس میں فی نفسہ کوئی حرج کی بات نہیں۔ارشادِ باری ہے:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّہِ الَّتِیَ أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالْطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ  ﴿اعراف،۳۲﴾

’’اے محمدﷺ ،ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟‘‘

حضرت ابنِ مسعودؓ  روایت فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:

جنت میں نہیں داخل ہوگا ایسا شخص جس کے دل میں ذرہ بھر کبر ہے۔ایک آدمی نے یہ سن کر کہا:کوئی انسان پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اور اس کا جوتا خوبصورت نظر آئے؟آپﷺ نے فرمایا:اللہ رب العزت جمیل ہیں اور جمال کو پسند فرماتے ہیں، کبر تو یہ ہے کہ حق کو جان کر نہ مانا جائے اور لوگوں کی حق تلفی کی جائے۔‘‘﴿صحیح مسلمؒ :۲۷۵﴾

یہ سب فرمودات لباسِ انسانی سے متعلق ہیں۔

زوجین کے تعلق سے دیکھیں تو مرد وعورت دونوں پسند کرتے ہیں کہ ان کا شریکِ زندگی ان کے لیے باعثِ زینت وجمال ہو،نہ کہ سببِ شرم وعار۔لیکن یہ زینت وجمال کس سطح کا ہو، اس بارے میں انسانی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔کچھ لوگ اس کو جسمانی حسن پر موقوف سمجھتے ہیں،کچھ لوگ مال وثروت پر،کچھ لوگ جاہ وعزت پر اور کچھ لوگ دینداری وتقوی پر۔ارشادِ نبوتﷺ ہے:

عورت کو چار وجوہات سے نکاح میں لیا جاتا ہے:مال کے سبب،خاندانی عزت کے سبب،خوبصورتی کے سبب اور دینداری کے سبب۔تم دیندار خاتون کو عقدِ نکاح میں لیکر کامیاب ہوجاؤ،اللہ تمہارے ہاتھ خاک آلودرکھے!۔‘‘  ﴿صحیح بخاریؒ :۵۰۹۰۔صحیح مسلمؒ :۳۷۰۸﴾

واضح رہے کہ حدیث میں عورت کے نکاح کا تذکرہ عادت وعرف کا لحاظ کرتے ہوئے آیا ہے اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک اچھے شوہر کے انتخاب میں بھی اس حدیث کو مشعلِ راہ نہ بنایا جائے۔حدیث میں مذکور چاروں چیزیں مال،عزت،حسن اور دین اپنی اپنی قسم کے تمام اجزاء واشکال پر محیط ہیں۔جس طرح مال کے مفہوم میں دولت وثروت کی تمام شکلیں شامل سمجھی جاتی ہیں،اسی طرح عزت وجاہ کے عموم میں تعلیمی لیاقت اور علمی ڈگریوں کو بھی داخل مانا جائے گا۔

سابقہ آیات واحادیث کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح کسی خوش رو انسان کی خوش لباسی اس کے حسن وکشش میں اضافہ کرتی ہے ،بالکل اسی طرح زوجین میں سے ہر ایک،دوسرے کی زینت وجمال میں اضافہ کا سبب بنتا ہے اور اسے بننا چاہیے۔

مشکلاتِ زندگی میں مدد ومعاونت

ہر انسان اپنے لیے وہ لباس اختیار کرتا ہے جو اس کی مخصوص تجارت وعمل میںممد ومعاون ہو،حارج نہ ہو۔کچھ لوگ اپنے کام اور پیشہ کے مدِ نظر تنگ اور چست لباس پہنتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی تجارت وحرفت ہی کی وجہ سے ڈھیلا ڈھالا لباس اختیار کرتے ہیں۔یہ ایک معلوم ومجرب حقیقتِ واقعہ ہے جس کو بآسانی اپنے آپ پر غور کر کے جانا جا سکتا ہے۔لباس کے اسی مقصد کو پیشِ نظر رکھ کر مختلف سرکاری محکموں وحکومتی شعبوں کی وردیوںاور پوشاکوں کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔

شادی میں شریکِ حیات کے انتخاب میں بھی انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کو ایسا ساتھی ملے جو امورِ زندگانی میں بہترین معاون ومددگار ثابت ہوسکے۔چنانچہ بسا اوقات ترجیح کا پیمانہ جائیداد وبینک بیلینس ٹھہرتا ہے،اور کبھی اونچی نوکری اور موٹی تنخواہ۔کچھ لوگوں کی نظر امورِ خانہ داری میں مہارت پر ہوتی ہے جبکہ دیگر کچھ حضرات اپنے ہم پیشہ تعلیم یافتہ ساتھی کا جوڑ پسند کرتے ہیں۔جس طرح لباس کے انتخاب میں پیشِ نظر یہ ہوتا ہے کہ امور ومعاملاتِ زندگی میں کارآمد ومفید ثابت ہو، اسی طرح انسان کو شریکِ حیات کے انتخاب میں بھی اس پہلو کی رعایت رکھنے کا حق ہے،بشرطیکہ شرعی ضوابط وحدود میں رہتے ہوئے ایسا کیا جائے۔ارشادِ باری ہے:

وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّہَ اِنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَاب                   ﴿مائدہ،۲﴾

’’جوکام نیکی اور خداترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔اللہ سے ڈرو،اس کی سزا بہت سخت ہے۔‘‘

لباس کے اوصاف

مناسبت وموافقت

انسان اپنے لباس کے لیے ایسا کپڑا اور سلائی کا ایسااندازاختیار کرتا ہے جو اس کے مقصود کو پورا کر ے اور ساتھ ہی اس کی قامت پر جچ سکے۔لباس کا بیحد لمبایا چھوٹا ہونا،بیحد تنگ یا ڈھیلا ہونا اس کو بے ہنگم ومعیوب بنا دیتا ہے۔لہٰذا لباس کا جسمِ انسانی کے موافق ومناسب ہونا حد درجہ ضروری ہے۔بالکل اسی انداز میں مرد وعورت میں سے ہر ایک کو اپنے رفیقِ حیات کے انتخاب میں مناسبت وموافقت کے اس پہلو کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔انسان بیشتر اوقات حرص وہوس میں اندھا ہوکر اپنی ذاتی مناسبت کو فراموش کر جاتا ہے اور ہر جگہ اپنی استطاعت ومناسبت سے کہیںزیادہ کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔دیگر امور ومعاملات میں بھی یہ حریصانہ رویہ نقصان دہ ہوتا ہے،لیکن رفیقِ زندگی کے انتخاب میں اس کی مضرت متعدی وکئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔حسن وجمال،دولت وغنا،عزت وجاہ اور علم وفضل میں زوجین کی باہمی عدمِ مناسبت و عدمِ موافقت بالآخر سنگین نتائج کا باعث بن جاتی ہے،جس کے مضر اثرات کئی خاندانوں اور نسلوں تک کو اپنی گرداب میں لے لیتے ہیں۔اس سلسلے میں دانش مندانہ رویہ یہی ہے کہ شریکِ سفرِ حیات کے اختیار میں پوری سچائی ودیانت داری اور کامل واقعیت پسندی وعملیت کا مظاہرہ کیاجائے۔اس قرآنی تشبیہ کا ایک پیغام یہ بھی ہے۔

نوع واصل

لباس کے لئے لوگ اپنی اپنی طبیعت،علم یادینداری کے مطابق مختلف الاصل ومختلف النوع﴿مثلاً اونی،سوتی،ریشمی وغیرہ ﴾کپڑوں کو پسند کرتے ہیں۔ہر شخص اپنے لیے خوب سے خوب تر کی تلاش ِبسیار کرتا ہے جوکہ درست بھی ہے۔شادی کے لیے بھی انسان اسی طرح تلاشِ بسیار کرتا ہے اور اہلِ علم واہلِ تجربہ سے افضل ترین رشتہ کے بارے میں صلاح مشورہ کرتا ہے۔ایک آدمی نے نواسۂ رسول حضرت حسین بن علیؓ  سے دریافت کیا:میری ایک بیٹی ہے،میں اس کی شادی کس سے کروں؟آپؓ  نے جواباً فرمایا:جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اس سے شادی کردو،کہ اگر وہ تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اکرام واعزاز میں رکھے گا اور نفرت کرے گا تو خدا کا خوف اسے ظلم نہیں کرنے دے گا۔‘‘﴿مصنف ابن ابی شیبہؒ :۱۲۸۷۱﴾

اس سلسلے میں قرآن کریم سب سے زیادہ مکرم وشریف شخص اس کو قرار دیتا ہے جو زیادہ سے زیادہ اپنے رب سے ڈرنے والا ہو۔

یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ اِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ﴿حجرات،۱۳﴾

’’لوگو،ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اورپھرتمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘

نکاح میں دینداری کو معیار قرار دینے والی حدیث کا تذکرہ اوپر گزر چکا ہے۔

شکل وصورت اور رنگ

انسان مختلف نفسیاتی وفطری داعیات کے بسبب متنوع اشکال والوان کالباس اختیار کرتاہے۔ مطمحِ نظر اس میں یہ ہوتا ہے کہ خود انسان کے دل ودماغ اس پسند سے راضی ہوجائیںاور معاشرے میںبھی اس کو مذاق وتفریح کا موضوع نہ بنایا جائے۔ماہرینِ نفسیات بھی انسان کے لباس کو اس کی داخلی شخصیت کا مظہر قرار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سلیم الفطرت ونفسیاتی لحاظ سے صحت مند انسان بھڑکیلے رنگوں کے لباس سے پرہیز کرتے ہیں۔اس پس منظر میں ایسے لباسوں سے بھی اجتناب وگریزکیا جاتا ہے جو فردِ مخصوص کی شکل وصورت سے، یا عمرا وررتبہ سے میل نہیںکھاتے ،یا اس کے خاندانی پس منظر یا سماجی مقام﴿سوشل اسٹیٹس﴾ کے منافی ہیں۔

ازدواجی زندگی میں ہر انسان ایسا ساتھی چاہتا ہے جو اس کے مناسب ہو اوراس سے میل کھاتا ہو؛بصورتِ دیگر وہ لوگوں کی چبھتی نگاہوں کا مرکز بنتا ہے اوراس کی ملامت وتنقید میں زبانیں چلنے لگتی ہیں۔غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ بڑی تاکید فرماتے تھے کہ شادی سے قبل زوجین میں سے ہر ایک اپنے مجوزہ شریکِ زندگی کو دیکھ لے۔آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

جب تم میں سے کوئی پیغامِ نکاح بھیجے، تب ممکن ہو کہ نکاح جس خاطر کیا جارہا ہے اس پر نظر ڈال لے تو وہ ضرور ایسا کرے۔‘‘﴿سنن ابو داؤدؒ :۲۰۸۴۔مسند احمدؒ :۱۴۶۲۶﴾

صحیح مسلمؒ  میں مروی ہے کہ:

ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کا عندیہ ظاہر کیا تو اللہ کے رسولﷺ نے سوال فرمایا:کیا تم نے اس کو دیکھا ہے؟اس نے نفی میں جواب دیا تو آپﷺ نے فرمایا:جائو جاکر پہلے اس کو دیکھو کیونکہ ایسا کرنا زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ تمہارے مابین کا رشتہ پائیداری ودوام پائے۔‘‘ ﴿صحیح مسلمؒ : ۳۵۵۰۔ سنن نسائیؒ : ۳۲۳۵۔ مسنداحمدؒ : ۱۸۱۷۹﴾

کمالیات وزوائد

لباس کے لیے کپڑے کی نوعیت اور سلائی کے انداز کی تعیین کے بعد بیشتر اوقات انسان اس میں مزید چیزیں لگا کر اور زیادہ حسین وجمیل بنانا چاہتا ہے۔مثلاً اس کے لیے اچھے بٹنوں کا اہتمام یا اچھی ٹائی یا ٹوپی یا مفلرا وررومال وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسمیں کوئی قباحت بھی نہیں۔ازدواجی زندگی میں بھی زوجین میں سے ہر ایک کی تمنا وآرزو ہوتی ہے کہ اس کا ساتھی دیگر صفات وصلاحیتوں کے علاوہ کچھ غیر معمولی خوبیوں کا حامل رہے۔مثلاًاعلیٰ علمی اہلیت کا حامل ہو،یا اعلی پائے کا مقرر وواعظ ہو یاحافظِ قرآن ہو یاآرائش وزیبائش میں ماہر ہو وغیرہ وغیرہ۔دوسرے لفظوں میں وہ کسی ایسی اہلیت وصلاحیت کا حامل ہو،جو اس کے ہم عصر اقران ومصاحبین میں نایاب یا کمیاب ہے اور اس کی وجہ سے انسان دوسرے امور کی طرح یہاں بھی اپنے جزبۂ افتخار کو تسکین بہم پہنچا سکے،یہ خواہش بھی اگر حدودِ دین سے متجاوز نہ ہو تو جائز ہو گی۔

لباس کی خصوصیات

اپنائیت یگانگت

انسان جب لباس زیب تن رکھتا ہے تو بڑی حد تک لباس اس کے جسم سے چمٹا ہوتا ہے یااس قدرقریب ہوتا ہے کہ دونوںمیںفاصلہ یا دوری نا کے برابر ہوتی ہے۔ازدواجی زندگی میں بھی یہی صورت مطلوب ہے۔زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ بیحد اپنائیت وہمدردی کا معاملہ برتنا چاہیے اور ہر ایک کو دوسرے کے احساسات وجذبات سے واقفیت اور نازک وحساس مسائل وحالات کا علم ہونا چاہیے۔

امام قرطبیؒ  اس قرآنی تشبیہ کے ضمن میں فرماتے ہیں:

لباس کا اطلاق اصلاً کپڑوں پر ہوتاہے۔زوجین کے باہمی امتزاج واقتران کو لباس کی تشبیہ سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ زوجین بھی لباس ہی کی مانند ایک دوسرے سے مربوط اورلازم وملزوم ہوتے ہیں۔﴿الجامع لأحکام القرآن،قرطبیؒ :۲/۳۱۴﴾

ایک دوسرے پہلو سے بھی غور کیجئے کہ انسان کے لیے ایامِ شباب جسمانی قوت وصحت مندی کا زمانہ ہوتے ہیں۔یوں تو انسان ہر موسم کے مطابق لباس میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے تاکہ وہ موسمی مضر اثرات میں مبتلا نہ ہو سکے۔ لیکن جوانی کے دور میں بڑی سے بڑی موسمی بد پرہیزی کے باوجود انسان امراض وآفات سے محفوظ رہ جاتا ہے۔مثال کے طور پر موسمِ گرما کی لو اور موسمِ سرما کے یخ بستہ جھکڑ یا بارشوں کے پانی میں خوب نہاناوغیرہ اس کے جسمانی نظام کو متاثر نہیں کرنے پاتے۔اس صورتِ حال کے برعکس ایامِ پیری میں جب کہ انسان کا دفاعی نظام کمزور ہوجاتا ہے، ذرا سی بے احتیاطی اس کو بیمار کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔اس دور میں اسے ہر موسم میں اپنے لباس سے جڑے رہنے کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اسوقت اس کے جسمانی دفاعی نظام کی کمزوری طالب ہوتی ہے کہ جسم کو زیادہ سے زیادہ لباس میں ملبوس رکھا جائے۔بالکل اسی طرح ازدواجی زندگی میں بھی پیرانہ سالی کے ایام میں زوجین کو ایک دوسرے کے ساتھ اور ایک دوسرے کی محبت ومودت کی نہایت درجہ ضرورت ہوتی ہے۔عمومی مشاہدہ کی چیز ہے کہ زوجین خواہ کتنے ہی عمر دراز ہوں ایک دوسرے کے سہارے بقیدِ حیات صابر وشاکر رہتے ہیں،لیکن جہاں کسی ایک نے اس دارِ فانی سے رحلت کی تو مشکل ہوتا ہے کہ دوسرا بھی زیادہ ایام زندہ رہ پائے۔ ﴿جاری﴾

مئی 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau