خواتین کے حقوق اور ہندستانی علما

(3)

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

احناف کے یہاں ایک مشہور مسئلہ یہ ہے کہ بیوی کا حق جماع زندگی میں ایک ہی دفعہ ہے۔ اگر ایک دفعہ شوہر نے بیوی سے ہم بستری کرلی اور اس کے بعد عنین ہوگیا تو اس کی بیوی فسخ نکاح کا دعویٰ دائر نہیں کرسکتی ۔ یہی حکم اس صورت میں بھی ہے ، جب شوہر جماع پر قادر ہو اور ایک دفعہ قربت کرچکا ہو۔ لیکن اس کے بعد اس نے قطع تعلق کر رکھا ہو : ’ ولو وطی مرۃ ثم عجز عن الوطی فی ہذا النکاح لایکون لہا حق الخصومۃ‘ ﴿۱طحطاوی : ۲/۳۱۲﴾ مگر علامہ ابن نجیم مصریؒ کے بیان کے مطابق یہ نقطۂ نظر فقہاء  کے ایک گروہ کا ہے کہ قضأً صرف ایک بار جماع واجب ہے ، اس کے بعد دیانتاً واجب ہے نہ کہ قضأً لیکن حنفیہ کے دوسرے گروہ کے نزدیک قضائ ًبھی واجب ہے ۔ علامہ شامی نقل کرتے ہیں :

قال فی البحر وحیث علم أن الوطیٔ لا یدخل تحت القسم ، فہل ہو واجب للزوجۃ ؟ وفی البدائع لہا أن تطالبہ بالوطیٔ لأن حلہ لہا حقہا کما أن حلہا لہ حقہ واذا طالبتہ یجب علیہ ، ویجبر علیہ فی الحکم مرۃ والزیادۃ تجب علیہ فی الحکم۔   ﴿ردالمحتار ، باب القسم : ۲/۸۹۳ ﴾

اس سے معلوم ہوا کہ ایک جماعت کے نزدیک عورت کی ضرورت کے مطابق جماع قضاء  بھی اس کا حق ہے۔

شقاق کی وجہ سے فسخ نکاح

مالکیہ کے نزدیک اگر مرد کی طرف سے زیادتی ثابت نہ ہو ؛ لیکن بیوی کو کسی بھی وجہ سے شوہر سے ایسی نفرت پیدا ہوگئی ہو کہ وہ اس کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو ، جس کو قرآن مجید نے ’شقاق ‘ سے تعبیر کیا ہے ، تو قاضی حکمین کا تقرر کرے گا۔ یہ حکم پوری صورتِ حال کا جائزہ لیں گے اور پہلے دونوں میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے موافقت نہ ہونے کی صورت میں اگر زیادتی شوہر کی طرف سے محسوس ہوتو بیوی پر بلا کسی عوض کے طلاق واقع کردیں گے اور اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہوتو عورت کی طرف سے مہر معاف کردیں گے اور شوہر کی طرف سے طلاق واقع کی جائے گی،یہی خلع ہے۔ مولانا عبد الصمد رحمانی نے مالکیہ کے اس قول کو قبول کرتے ہوئے اس کو ’ تفریق بہ سبب شقاق ‘ سے تعبیر کیا ہے ۔ اکیڈمی قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒنے اس مسئلے پر اپنے ایک مقالے میں تفصیل سے بحث کی ہے اور دارالقضائ میں متعدد مقدمات اس اُصول پر فیصل کیے ہیں۔

دھوکا دہی کی وجہ سے فسخ نکاح

ہندستان میں مسلمانوں کے تمام مکاتب ِفکر کا نمایندہ پلیٹ فارم ’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ‘ ہے۔ بورڈ نے عائلی قوانین کا ایک مجموعہ مرتب کیا ہے۔ تاکہ وہ حوالے کی کتاب کا کام دے سکے۔ اس کتاب میں ’ تغریر ‘ کو بھی ایک سبب فسخ مانا گیا ہے ۔ تغریر سے مراد یہ ہے کہ شوہر نے نکاح سے پہلے اپنی حیثیت کے بارے میں غلط باور کرایا ہو ، مثلاً اس نے اپنے آپ کو ڈاکٹر ، معلم یا کسی باعزت پیشے سے متعلق شخص بتایا ہو، مگر یہ بات غلط ثابت ہوئی ، تو عورت فسخ نکاح کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ اس کی بنیاد فقہاء  کی بعض صراحتیں ہیں ، جیسے علامہ شامی کا بیان ہے :

لکن ظہر لی الآن أن ثبوت حق الفسخ لہا للتغریر لا لعدم الکفائۃ ؛ بد لیل أنہ لو ظہر کفوا یثبت لہا حق الفسخ ، لأنہ غرہا ولا یثبت للاولیائ ؛ لأن التغریر لم یحصل لہم ، وحقہم فی الکفائ ۃ وہی موجودۃ ۔  ﴿ردالمحتار: ۵/۶۷۱،کتاب الطلاق﴾

مفقود الخبر کی بیوی

اول یہ کہ اگر مفقود الخبرکا نکاح فسخ کردیا جائے ، اس نے دوسرا نکاح کرلیا پھر اس کا شوہر اوّل واپس آجائے تو اب وہ عورت کس کی زوجیت میں رہے گی ؟ امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک وہ شوہر اول کی بیوی سمجھی جائے گی اور اسی کی طرف واپس کردی جائے گی۔ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک اگر شوہر ثانی کے دخول سے پہلے شوہر اوّل آجائے تب تو بیوی شوہر اوّل کی طرف لوٹائی جائے گی اور اگر اس کے بعد آیا تو شوہر اول کا اس پر کوئی حق نہیں ہوگا۔ ﴿دیکھیے : المیزان الکبریٰ: ۲/۱۹ ، رحمۃ الامۃ : ۳۱۳﴾جب کہ ربیعۃ الرایٔ کے نزدیک جب قاضی نے شوہر اول کا نکاح فسخ کردیا تو اب شوہر ثانی کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔ ﴿المحلی : ۱/۸۳۱ ﴾ اس سلسلے میں حقیر کی راے یہ ہے کہ اس ذیل میں امام مالکؒ اور امام احمدؒ کی رائے زیادہ قابل قبول ہے اور یہ اس صورت میں جب کہ مفقود الخبر شخص کوئی ایسی جائیداد چھوڑ کر گیا ہو ، جس سے عورت کا نفقہ ادا ہوجاتا ہو۔ اگر شوہر نے نفقہ نہیں چھوڑا اور عدم نفقہ کی بنیاد پر نکاح فسخ ہوا ہو تو چوں کہ عدم نفقہ کی بنیاد پر تفریق فقہاء  کے نزدیک طلاق بائن کے حکم میں ہے، اس لیے عورت کا دوسرا نکاح ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ، شوہر اول کا اب اس عورت پر کوئی حق نہیں ۔

باپ دادا کے کیے ہوئے نکاح میں خیارِ بلوغ

دوسرا مسئلہ خیارِ بلوغ کا ہے ۔ مالکیہ ، شوافع اور حنابلہ کے نزدیک صرف باپ یا باپ اور دادا ہی کو نابالغ بچوں کے نکاح کا حق حاصل ہے اور اس طرح باپ یا دادا جو نکاح کردیں ، وہ ان پر لازم ہے۔ حنفیہ کے یہاں باپ اور دادا کے علاوہ دوسرے اولیائ بھی نابالغ کا نکاح کرسکتے ہیں۔ لیکن انھیں ولایت لزام حاصل نہیں ہے۔ یعنی ان کا کیا ہوا نکاح لازم نہیں ہوگا۔ بل کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو بالغ ہونے کے بعد اس نکاح کو رد کردینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ البتہ باپ یا دادا کا کیا ہوا نکاح لازم ہوگا ، سوائے اس کے کہ وہ معروف بسوء الاختیار یا فاسق متہتک ہو یا نشے کی حالت میں نکاح کردے :

أحدہما: اذا زوجہم الأب والجد ، فلا خیار لہا بعد بلوغہا بشرطین: أن لا یکون معروفاً بسوئ الاختیار قبل العقد ، ثانیہما: أن لا یکون سکرانا فیقضی علیہ سکرہ بتزویجہا بغیر مہر المثل أو فاسق أو غیر کفوئ۔  ﴿کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ : ۴/۳﴾

نعم ، اذا کان متہتکا لا ینفد تزویجہ ایاہا بنقص عن مہر المثل ومن غیر کفوئ . وحاصلہ أن العنین وان کان لا یسلب الأہلیۃ عندنا لکن اذا کان الاب لا ینفذ تزویجہ الا بشرط المصلحۃ۔ ﴿ردالمحتار : ۳/۳۲۰ ، باب الولی﴾

لیکن قاضی ابو شریح کے نزدیک اگر باپ دادا نے نکاح کیا ہو تب بھی لڑکے اور لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد دعویٰ تفریق کا حق حاصل ہے :

اذا الرجل زوج ابنہ أو ابنتہ، فالخیار لہما اذا شبا﴿مصنف ابن ابی شیبہ : ۴/۱۴۱ ﴾

حقیر کی رائے میں موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے قاضی شریح کی رائے قابل ترجیح معلوم ہوتی ہے ۔

خیارِ بلوغ اور باکرہ

خیار بلوغ میں لڑکے کو اس وقت تک تفریق کے دعوے کا حق دیا گیا ہے ، جب تک اس کی جانب سے نابالغی کے اس رشتے پر رضامندی کا اظہار نہ ہوجائے۔ لیکن باکرہ لڑکی پر یہ بات ضروری قرار دی گئی ہے کہ وہ بالغ ہونے کے ساتھ ہی اپنی ناپسندیدگی کو ظاہر کردے ۔ ورنہ اس کا حق خیار ختم ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ بعض فقہاء  نے تو لڑکی کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر وہ بروقت کسی کو گواہ بنانے پر قادر نہیں ہے توبعد میں جب گواہ میسر آئے جھوٹ بولتے ہوئے کہہ دے کہ وہ ابھی بالغ ہوئی ہے اور حق خیار کا استعمال کرنا چاہتی ہے:

لا تصدیق فی الاشہاد جاز لہا أن تکذب کی لا یبطل حقہا ۔ ﴿عمدۃ الرعایۃ : ۲/۴۳ ﴾

مشرقی معاشرے میں کسی باکرہ لڑکی سے اس بات کی توقع نہیں کہ وہ حیض آتے ہی اس بات کا اعلان کردے کہ میں ابھی بالغ ہوئی ہوں اور فلاں نکاح کو ناپسند کرتی ہوں ۔اس لیے لڑکوں اور ثیبہ عورتوں کی طرح باکرہ لڑکیوں کو بھی یہ حق ہونا چاہیے کہ جب تک قول یا فعل کے ذریعے سابقہ نکاح پر اس کی رضامندی ظاہر نہ ہوجائے ، اس کو خیارِ بلوغ حاصل ہو۔

گزرے ہوئے دنوں کا نفقہ

نفقے کے باب میں ایک قابل ذکر مسئلہ یہ ہے کہ اگر مر دنے ایک عرصے تک نفقہ ادا نہیں کیا، حالاں کہ بیوی نے نفقہ معاف نہیں کیا تھا، تو سوال یہ ہے کہ گزرے ہوئے دنوں کا نفقہ شوہر پر واجب ہوگا یا نہیں ؟۔اس سلسلے میں فقہاء  احناف کا عمومی رجحان یہ ہے کہ نفقہ اصل میں تبرع ہے نہ کہ عوض ۔ اس لیے گزرے ہوئے دنوں کا نفقہ دو ہی صورتوں میں واجب ہوگا ، یا تو پہلے سے قاضی نے نفقے کا فیصلہ کردیا ہو اور فیصلے کے باوجود شوہر نے نفقہ ادا نہ کیا ہو تو گزشتہ ایام کا نفقہ بھی واجب ہوگا ۔ یا زوجین کے درمیان پہلے نفقے کی ادائی کے سلسلے میں کوئی معاہدہ ہوا ہو اورشوہر نے اس معاہدے کے مطابق عمل نہ کیا ہو ، اگر قضائ قاضی یا صلح بالتراضی پہلے سے موجود نہ ہوتو گزرے ہوئے دنوں کا نفقہ واجب نہیں ہوگا۔﴿دیکھیے : ردالمحتار : ۵/۱۲۳ – ۳۱۱ ، مجمع الانہر : ۱/۱۹۴﴾ دوسرے فقہاء  نفقہ کو شوہر کو حاصل ’حق احتباس ‘ کا عوض قرار دیتے ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک گزرے ہوئے وقت کا نفقہ بھی واجب ہوگا۔ ﴿دیکھیے : حاشیۃ الدسوقی : ۳/ ۲۹۴ ، روضۃ الطالبین : ۹ /۵۵ ، المغنی : ۱۱/ ۶۶۳ ﴾ چنانچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مرتب کردہ ’مجموعۂ قوانین ‘ میں گزرے ہوئے دنوں کا نفقہ بھی واجب قرار دیا گیا ہے ۔

علاج

اسی طرح ایک مسئلہ علاج کے نفقے میں شامل ہونے اور نہ ہونے کا ہے۔ فقہاء  عام طورپر یہ لکھتے آئے ہیں کہ بیوی کے علاج کی ذمے داری شوہر پر نہیں ہوگی ؛ کیوںکہ یہ نفقے میں شامل نہیں ہے۔ چنانچہ حنفیہ میں علامہ ابن عابدین شامی کا بیان ہے:

کما لا یلزمہ مداواتہا أءاتیانہٰ بدوائ المرض ولا أجرۃ الطبیب۔

﴿ردالمحتار : ۵/۵۸۲ ﴾

یہی بات فقہاء  مالکیہ میں علامہ دردیر ﴿دیکھئے : الشرح الصغیر : ۲/۲۳۷ ﴾فقہاء  شوافع میں امام نوویؒ ﴿دیکھیے: روضۃ الطالبین : ۹/۵﴾اور فقہاء  حنابلہ میں علامہ ابن قدامہ و علامہ شرف الدین موسیٰ نے لکھی ہے ۔ ﴿دیکھیے : الاقناع : ۵/ ۸۴۹ ﴾لیکن فقہاء  کی یہ رائے غالباً اس زمانے کے حالات کے اعتبار سے تھی۔ کیوں کہ اس زمانے میں علاج معالجے میں کثیر اخراجات نہیں آتے تھے اور معمولی جڑی بوٹیوں سے علاج ہوجاتا تھا۔ فقہاء  نے نفقے کی تعریف ایسی چیزوں کی فراہمی سے کی ہے ، جن پر انسان کی بقاء کا مدار ہو۔ چنانچہ علامہ داماد آفندی نفقے کی شرعی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ما یتوقف علیہ بقائ شییٔ من نحو مأکول وملبوس و سکنی۔   ﴿مجمع الأنہر : ۱/۴۸۴ ﴾

جس پر کسی چیز کی بقائ موقوف ہو ، جیسے کھانا ، لباس اور رہائش ۔

اسی طرح علامہ شامیؒ فرماتے ہیں :

الادرار علی شییٔ بما فیہ بقائ ۔﴿ردالمحتار : ۱/۷۷-۵۷۲ ﴾

کسی کے لیے وہ چیز فراہم کرنا جس میں اس کی بقاء ہو ۔

ظاہر ہے کہ انسان کی بقائ اور اس کی زندگی کے تحفظ میں دوا و علاج کی اہمیت غذا اور لباس سے بھی زیادہ ہے ، اس لیے یقینا علاج بھی نفقے میں شامل ہوگا اور جس طرح خوراک اور پوشاک کا مہیا کرنا مرد کی ذمے داری ہے ، اسی طرح علاج کا نظم کرنا بھی بدرجۂ اولیٰ اس کی ذمے داریوں میں شامل ہوگا۔ علماء  ہند میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے یہی نقطۂ نظر پیش کیا ہے اور اس حقیر نے بھی دارالقضائ میں بعض فیصلے اسی اُصول پر کیے ہیں کہ علاج نفقے میں شامل ہے اور شوہر کے بہ شمول جن لوگوں پر کسی شخص کا نفقہ واجب ہو ، ان کے ذمّے زیرپرورش شخص کا علاج بھی واجب ہے ۔

دارالقضاء کا نظام

ایک اہم مسئلہ خواتین کے لیے اپنے حقوق کے حصول کا ہے۔ عدالت کی طویل کارروائیوں اور غیر مسلم قاضی کی جانب سے فسخ نکاح کے معتبر نہ ہونے کی وجہ سے ہندستان جیسے مسلم اقلیت ممالک میں خواتین کے لیے اپنے حقوق کا حاصل کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے۔ مسلمان غالباً پہلی بار اس صورتِ حال سے اسپین میں دوچار ہوئے، جہاں حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی ؛ لیکن مسلم آبادی کے چھوٹے چھوٹے جزیرے خاص خاص شہروں میں باقی رہ گئے۔ ان حالات میں غالباً سب سے پہلے علامہ ابن ہمام نے فتویٰ دیا کہ مسلمانوں کے لیے اپنے طورپر امیر اور قاضی کا تقرر واجب ہے :

و اذا لم یکن سلطان ولا من یجوز التقلد منہ کما ہو فی بعض بلاد المسلمین غلب علیہم الکفار کقرطبۃ فی بلاد المغرب الآن وبلنسیۃ وبلاد الحبشۃ وأقروا المسلمین علی مال عندہم یؤخذ منہم یجب علیہم أن یتفقوا علی واحد منہم یجعلونہ والیاً فیولی قاضیا أو یکون ہو الذی یقضی بینہم ۔﴿ فتح القدیر : ۶/ ۵۶۳﴾

یہی بات بعد کے فقہاء  میں علامہ محمد کردری نے ’ الفتاویٰ البزازیہ علی ہامش الہندیہ ‘ ﴿کتاب السیر : ۶/ ۱۱۳ ﴾ امام ابن نجیم مصریؒ نے البحر الرائق ﴿ ۲/ ۸۹۲ ﴾ علامہ طحطاویؒ نے حاشیہ طحطاوی علی الدر ﴿ ۱/۹۳۳ ﴾ علامہ ابن عابدین شامیؒ نے ردالمحتار ﴿ کتاب القضائ : ۴/۸۰۳ ، باب الجمعہ : ۱/۵۴۰ ﴾ میں لکھی ہے۔ ہندستان کے  علماء  نے برطانوی استعماری دور میں عملی طورپر ہندستان میں اس کو نافذ کیا۔ چنانچہ مولانا سید ابوالمحاسن محمد سجادؒ نے ہندستان کی ایک بڑی ریاست بہار میں امارت شرعیہ کی بنیاد رکھی اور اس کے تحت دارالقضائ کا مستحکم نظام قائم فرمایا ۔ رفتہ رفتہ ہندستان کی مختلف دوسری ریاستوں میں بھی اسی نظام کو اختیار کیا گیا۔ اب مسلم پرسنل لا بورڈ پورے ملک میں اس نظام کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے ایک مستقل ذیلی کمیٹی قائم ہے۔ دارالقضائ کا یہ نظام اگرچہ مسلمانوں کے تمام ہی نزاعات کو حل کرنے کے لیے ہے ۔ لیکن اس کی وجہ سے سب سے زیادہ سہولت خواتین کو حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مسائل کم وقت میں بہتر طورپر حل ہوجاتے ہیں ۔

خواتین کی ملازمت

گلوبلائزیشن کے موجودہ دور میں تجارت اور کاروبار نے غیر معمولی وسعت اختیار کرلی ہے۔ اس لیے صنعتی انقلاب کے بعد مغرب اس بات پر مجبور ہوا کہ عورتوں کو گھروں سے باہر نکالا جائے اور انھیں بھی مزدوری میں اپنا حصہ ادا کرنے کو کہا جائے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ۱۸۱۴؁ء میں پہلی فیکٹری قائم ہوئی اور ۱۸۵۹؁ء تک فیکٹریوں میں مزدوروں کی تعداد میں ۲۴فیصد حصہ خواتین کا ہوگیا ، ۲۰۰۰؁ء کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں ۱۶ سال سے اوپر کی۰ ۶ فیصد خواتین کسی نہ کسی معاشی سرگرمی سے جڑی ہوتی ہیں اور امریکا کی قوت کار میں ان کا حصہ۴۷ فیصد ہے۔ ۱۹۹۰ میں سویڈن میں کام کرنے والے افراد میں خواتین کا تناسب ۵۵ فیصد تھا ، کم و بیش یہی صورتِ حال دوسرے مغربی ممالک میں ہے ۔

سستے مزدور مہیا ہونے کے سبب اب تیزی سے کارخانے مشرقی اور ترقی پزیر ملکوں کی طرف منتقل ہورہے ہیں ۔ اس کی وجہ سے انٹرنیشنل کمپنیوں کو سستا مال حاصل ہوتا ہے اور غریب ملکوں کو روزگار ۔ ہندستان بھی ان ملکوں میں ہے ، جو اس وقت معاشی ترقی کے اعتبار سے انتہائی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اس ترقی نے افرادی وسائل کی ضرورت کو بڑھایا اور شخصی زندگی کے معیار میں اضافہ کیا ہے۔ چنانچہ افرادی وسائل کی کمی کو پورا کرنے اور معیارِ زندگی میں مسابقت سے ہم آہنگ رہنے کی غرض سے ہندستان میں بھی خواتین کے ملازمت کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ مسلمان خواتین اگرچہ اس طرح کا رجحان کم رکھتی ہیں ۔ لیکن اب بڑھتے ہوئے معاشی معیار کی وجہ سے مسلم خواتین بھی اس میدان میں قدم رکھ رہی ہیں ۔اس پس منظر میں ’ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ‘ نے اپنے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ ۱۴۳۰؁ء میں ’ خواتین کی ملازمت ‘ کا عنوان بھی رکھا اور خواتین کی ملازمت کے سلسلے میں ایک ایسی متوازن تجویز منظور کی جس میں شرعی اُصولوں کی رعایت بھی ہے اور خواتین کے لیے معاشی جدوجہد کی گنجائش بھی۔ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ شرعی حدود و شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے عورت کے لیے معاشی جدو جہد جائز ہے۔ البتہ اگر شوہر یا ولی عورت کی کفالت کررہا ہو تو کسب ِمعاش کی غرض سے گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں اس کی اجازت ضروری ہے ۔

کلمۂ آخریں

یہ چند مسائل ذکر کیے گئے ہیں ، جن کا تعلق موجودہ حالات اور  علماء  کے فقہی اجتہادات سے ہے ۔ ورنہ ان کے علاوہ بہت سے کام وہ ہیں جو عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سماجی سطح پر کیے گئے ہیں ، جیسے ہندو سماج سے متاثر ہونے کی وجہ سے بہت سے مسلمان مطلقہ اوربیوہ عورتوں کو منحوس سمجھتے ہیں اور ان کا نکاح نہیں کرتے۔ شاہ اسماعیل شہید اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند نے اس کے خلاف تحریک چلائی اور اس رسم کو توڑنے کی مؤثر کوشش کی۔ اسی طرح رواج کی بنا پر جہیز ، لڑکے والوں کی طرف سے رقم یا اشیاء  کا مطالبہ اور نکاح میں اسراف اور خواتین کو ان کا حق میراث نہ دینا اور معاشرے میں عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک کا ارتکاب ۔ یہ وہ موضوعات ہیں جو اس وقت ہندستان میں  علماء  کی اصلاحی کوششوں میں خصوصی ایجنڈے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح مغرب کی طرز سے خواتین کے ناموس سے کھیلنا، انھیں بے لباس کرکے اشتہار کی زینت بنانا اور ان کا استحصال کرنا وہ مسائل ہیں ، جن پر ہمیشہ گفتگو کی جاتی ہے۔ غرض کہ یہ حقیقت ہے کہ  علماء  ہند نے خواتین کے حقوق کے تحفظ میں علمی اور اصلاحی جہت سے بڑی اہم خدمات انجام دی ہیں ۔

فروری 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau