اکیسویں صدی میں کامیابی کا سراغ

(3)

طارق السویدان | ترجمہ : اشتیاق عالم فلاحی

بھرپور تیاری

تیاری کے چار مرحلے :

ایک بڑی حقیقت:کامیابی کی عمارت انسان کی طبعی نشوو نما، اور تدریجی ارتقاء پر کھڑی ہوتی ہے۔ بچہ پہلے بستر پر پلٹنا سیکھتا ہے، پھر بیٹھتا ہے، اس کے بعد کھسکنا سیکھتا ہے اور پھر چلنا اور دوڑنا پھرنا سیکھتا ہے۔ ہر مرحلے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ ان میں سے کسی ایک مرحلے کی تکمیل کے بغیر بعد کا مرحلہ پورا ہو جائے۔

نظریہ کے اعتبار سے تو ہم تدریج کے اصول کو قبول کر لیتے ہیں لیکن عملی سطح پر جذبات یا انسانی تعلقات سے متعلق باتوں میں اسے قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ لوگ کم سے کم وقت اور محنت کے ساتھ ہدف کو پانے کے لیے مختصر راستہ تلاش کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی کے لیے تدریجی پیش رفت ضروری ہے۔ آئیے ہم نشو و نما اور تدریجی ارتقاء کے چار مرحلوں کے بارے میں جانتے ہیں:

پہلا مرحلہ : دوسروں پر انحصار

بچہ جب اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کرتا ہے تو اس کی زندگی کا انحصار مکمل طور پر دوسروں پر ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں انسان دوسروں سے سیکھتا ہے۔ میسوری یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق انسان تین سال کی عمر میں جو الفاظ سنتا ہے اس کا دو تہائی حصہ اس کے ذخیرۂ الفاظ میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر روس کامبل (Ross Campbell) کی تحقیق کے یہ بتاتی ہے کہ انسان اپنی اخلاقیات کا 80 فیصد حصہ پانچ سال کی عمر سے پہلے سیکھ لیتا ہےاور سات سال کی عمر میں اس کی شخصیت کا 90 فیصد حصہ تشکیل پا چکا ہوتا ہے۔ بچوں کی بہتر نشوو نما ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی حدیث کے مطابق یہ ایک امانت ہے: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)۔ عمر کے ابتدائی چند سال انسان کی شخصیت میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے اثرات عمر بھر باقی رہتے ہیں۔ ایک کامیاب نسل کی تیاری کے لیے اس عمر کے بچوں کے ساتھ بھر پور محبت لٹائیں، ان کی خوب دیکھ بھال کریں اور انہیں زندگی کے اہم اصول اور بنیادی قدروں کی تعلیم دیں۔

دوسرا مرحلہ: خود اعتمادی

یہ خود اعتمادی اور خود انحصاری کا مرحلہ ہے۔ اس میں انسان کے اندر میںکا تصور فروغ پاتا ہے۔ اس مرحلہ میں نوعمروں کو جو مسائل پیش آتے ہیں ان میں سے بیشتر کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ مرحلہ اپنی ذات کو ثابت کرنے اور خود کو تسلیم کرانے کا مرحلہ ہے۔ اس احساس کی نشو ونما کے ساتھ سماج سے فرد کا ٹکراو شروع ہوتا ہے۔

وہ اس مرحلے کو بحفاظت عبور کر لیں اس میں مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے، کیونکہ ٹکراو کے نتیجہ میں احساسِ کبر پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں کو قبول نہیں کرتے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔ بہت سے والدین اس انتظار میں رہتے ہیں کہ باہر کا کوئی فرد بچے کی اصلاح میں اپنا کردا کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مرحلے میں بچے کی اصلاح کے لیے سب سے بہتر فرد باپ کی شخصیت ہے۔ اور اس کا سب سے اچھا نسخہ یہ ہے کہ باپ اس مرحلہ میں بچوں کے ساتھ بھرپور محبت کے ساتھ پیش آئیں۔ میںکا یہ مرحلہ چاہتا ہے کہ فرد لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ لوگوں کا مرکزِ توجہ بن جائے۔ اس کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ میری طرف توجہ دو۔ امام شافعی 16 سال کی عمر میں دوسروں پر انحصار چھوڑ چکے تھے اور لوگوں کی دینی رہ نمائی کا کام شروع کر چکے تھے۔ یہ وہی مرحلہ ہے جس میں طفیل بن عمر دوسی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسولﷺ کی بات سنی جو ان کے دل کو بھا گئی اور پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

کامیابی کی پہلی منزل یہی ہے کہ انسان دوسروں کے پیچھے چلنا چھوڑ کر آزادانہ موقف اختیار کرنے لگے۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خود انحصاری ایک ہدف بھی ہے اور آگے کی منزل کے لیے تیاری کا مرحلہ بھی۔ اس مرحلے میں ایک افسوس ناک صورتِ حال یہ دیکھنے میں آتی ہے کہ کچھ لوگ اس مرحلے سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ وہ دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنے اہداف حاصل کرتے ہیں۔ ان کے تعلقات وقتی اور سطحی ہوتے ہیں۔ ان کے تعلقات کی عمارت دھوکہ و فریب پر کھڑی ہوتی ہے۔ ان کا یہ طرزِ عمل دوسروں کے لیےاذیت ناک اور نقصاندہ ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو نہ صرف یہ کہ کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ انہیں صرف اور صرف اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے آلۂ کار سمجھتے ہیں۔

مشہور سائنس داں اور ماہرِ نفسیات  ہنس سیلے (Hans Selye) کہتا ہے کہ ’’ دوسروں کو نظر انداز کر کے حاصل کی گئی کامیابی نامناسب نشو و نما کو ظاہر کرتی ہے، یہ کسی اور کے نقصان کی قیمت پر پروان چڑھنے والی انانیت ہے۔ ایسی کامیابی ہمیشہ کسی اور کو نقصان پہنچاتی ہے، یہاں تک کہ اسے تباہ بھی کر دیتی ہے، حالانکہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی دوسرا شخص ہماری بقاء کا سبب ہوتا ہے۔ ایسا طرزِ عمل خود کشی ہے کیونکہ ایسی کامیابی اس بات سے وابستہ ہوتی ہے کہ زندگی میں کسی اور کا وجود بھی ہو۔ انانیت پر مرکوز کوشش ایک طرح کی خود کشی ہے، کیونکہ ہم اوپر چڑھنے کے لیے سیڑھی کو غلط دیوار پر رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ وہم ہوتا ہے کہ ہم ایک فرد ہیں، دوسروں سے بے نیاز ہیں حالانکہ یہ اصول ہمیں زندگی کے مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچاتا۔ اگر ہم نتائج میں تبدیلی چاہتے ہیں تو لازمی ہے کہ اصولوں میں بھی تبدیلی پیدا کریں‘‘۔

ہماری زندگی اسی وقت با معنی ہوگی جب ہم خود اعتمادی کے مرحلے کو عبور کرتے ہوئے اگلی منزل کی طرف پیش قدمی کریں۔

تیسرا مرحلہ : اعتمادِ باہمی

تنہا آگے بڑھنے والے افراد اپنی کوشش سے وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اجتماعی عمل پر یقین رکھتے ہیں وہ دوسروں کے ساتھ مل کر کوشش کرتے ہیں اور سب ایک ساتھ مل کر کامیابی کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں تعاونِ باہمی کی روح پھونکنے کے لیے اجتماعی جدو جہد اور ہر طرح کی صلاحیتوں اور لیاقتوں کا بھر پور استعمال مطلوب ہوتا ہے۔ یہاں ’’میں‘‘ کے بجائے ’’ہم‘‘ کی فضا پروان چڑھتی ہے۔ تنہا آگے بڑھنے والا دوسروں پر انحصار کرنے والے سے بہتر ہے۔ اور تعاونِ باہمی سے کام کرنے والا تنہا آگے بڑھنے والے سے بہتر ہے۔ اکیسویں صدی میں کامیابی کے سراغ میں نکلنے والوں کے لیے پیغام یہ ہے کہ باہمی تعاون کا طریقہ اختیار کرو۔

تعاون کا دھوکہ

تعاونِ باہمی کے اصول کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی فریب بھی چلا آتا ہے۔ ظاہری طور پر تعاون تو موجود ہوتا ہے لیکن تعاونِ باہمی کی روح مفقود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے معاملات بگڑتے ہیں اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ اجتماعی کاموں میں کس فرد کا کیا رول ہے، کسے کون سے اہداف حاصل کرنے ہیں یہ واضح ہی نہیں ہو پاتا اور غلط فہمی، اور ایک دوسرے کے ساتھ نا مطلوب رویہ کے ساتھ ہی ہم آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

ہماری کامیابی، ہماری خوشی اور ہماری تکلیف ان سب کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ لازم ہے کہ تعاونِ باہمی کا جذبہ ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑے۔ اگر اس اصول کے خوگر ہوں گے تو دوسروں سے معاملات کے وقت اس کی جھلک محسوس کی جا سکے گی۔ مہاتما گاندھی کا قول ہے: انسان سماجی مخلوق ہے۔ تعاونِ باہمی انسانی زندگی کے لیے اسی طرح لازمی ہے جس طرح خود اعتمادی ضروری ہے‘‘۔ جو لوگ اجتماعی زندگی گزارنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ قوت کے ایک بڑے ذخیرے سے محروم ہوتے ہیں۔

ایک بھولا ہوا سبق

انسان کامیابی کے راستے میں اسی وقت درست پیش قدمی کر سکتا ہے جب اسے یہ اندازہ ہو کہ اس کے پاس صلاحیتیں بھی ہیں اور کم زوریاں بھی۔ وہ جن صلاحیتوں سے مالا مال ہے ان سے وہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے اور جن معاملات میں کم زور ہے ان میں وہ دوسروں سے فائدہ اٹھائے۔ یہ احساس اگر ہو تو انسان کے اندر سچی انکساری پیدا ہوتی ہے، اور وہ پختگی اور کمال کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ پر مشکل یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنے جہل کو چھپانے کے لیے ادا کاری کا سہارا لیتے ہیں اور دوسروں سے تعاون لینے کو عیب سمجھتے ہیں۔ واقعہ تو یہ ہے کہ یہ ان کی ناپختہ اٹھان کی دلیل ہے۔ وہ یہ فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی کاموں میں تعاون حاصل کیا کرتے تھے۔ لوط علیہ السلام کا یہ قول قرآن میں بیا ن کیا گیا ہے:انہوں نے کہا ’’کاش مر ے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمھیں میں سیدھاکر دیتا،یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا۔‘‘  (سورہ ہود : 80)۔ ہر نبی کے مدد گار ہوا کرتے تھے۔ انسان کی شخصیت کے اندر اس وقت تک پختگی نہیں آسکتی جب تک وہ اس بھولے ہوئے سبق کو گرہ سے نہ باندھ لے کہ میں بعض معاملات میں جاہل ہوں۔ خاص طور پر جب کوئی بڑا چھوٹے سے معاملہ کر رہا ہو تو زبانِ حال سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں۔ اسی احساس کے تحت نہ وہ اس سے تبادلۂ خیال کرتا ہے اور نہ ہی اس سے مشورہ کرتا ہے اور نہ اس کی کوئی بات سنتا ہے کیونکہ بزعم خود وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی ادا کاری کی یہ کوشش جاری رہے لیکن ایک نہ ایک دن صحیح صورتِ حال سامنے آہی جاتی ہے۔ اور پھر یہ کم زور پہلو اس کے لیے ناکامی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

دو تصویریں

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسولﷺ کون سا خطۂ زمین سب سے بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ میں نہیں جانتا۔ آپ بھی بلا جھجک کہیں کہ میں نہیں جانتا۔

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بچہ کو کیچڑ میں کھیلتا ہوا دیکھا تو اسے منع کیا کہ پھسل کر گر جاوگے۔ اس بچے نے فوراً کہا: آپ خود کو گرنے سے بچائیں کیونکہ ایک عالِم پھسلے گا تو اس کی وجہ سے ایک جہاں پھسلے گا۔ بچے کی یہ بات سن کر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے وجود میں کپکپی طاری ہو گئی۔ اس کے بعد کوئی بھی فتویٰ دینے سے پہلے وہ اپنے طلبہ کے ساتھ مکمل ایک مہینہ تک تبادلہ خیال کرتے۔اس طرح  ایک بچہ امام کا معلم بن گیا۔

اپنی کم مایگی کا احساس قوتِ ارادی کو پختہ کرتا ہےا ور اس سے دوسروں کے ساتھ تعاون کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ دوسروں پر انحصار اور تعاون میں بڑا فرق ہے۔ دوسروں پر انحصار انسان کو دوسروں پر تکیہ کرنا سکھاتا ہے۔ اس کی زندگی دوسروں کے منصوبوں اور فیصلوں کے گرد گھومتی ہے جبکہ تعاونِ باہمی کے رویہ میں افراد دوسروں کی صلاحیتوں سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں سے فائدہ بھی پہنچاتے ہیں۔ اور مختلف نوعیت کی صلاحیتیں جب یکجا ہوتی ہیں تو اکیسویں صدی میں کامیابی کے سراغ میں نکلنے والے اپنی منزل سے قریب تر ہو جاتے ہیں۔

چوتھا مرحلہ : اللہ پر توکل

سب سے اونچا مرحلہ یہ ہے کہ انسان اس حقیقت کو جان لے کہ انسان کے پاس کتنی ہی صلاحیتیں اور کتنے ہی مدد گار ہوں وہ ایک بندہء عاجز ہے۔ اس کے دل ودماغ میں یہ صدا ضرور ہونی چاہیے کہ میری عاجزی ہی میرا خزینہ ہے۔ یہ وہ خزینہ ہے جسے انسان زندگی کی کشمکش اور بھاگ دوڑ میں فراموش کر بیٹھتا ہے۔ جب کشمکش تیز تر ہو تو بندہ زبردست ایمانی قوت کا محتاج ہوتا ہے جو توکل علی اللہ میں پنہاں ہے۔ توکل علی اللہ سے انسان کو سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے، پھر کوئی بھی چیز اسے بے چین، خوف زدہ اور مضطرب نہیں کر سکتی۔ وہ اس منظر کو یاد رکھتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے دشمن۔ لوگ چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے لیکن موسیٰ علیہ السلام نے پورے توکل کے ساتھ کہا ہر گز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہ نمائی فرمائے گا۔ اپنے اندر توکل پیدا کریں۔ اے میرے بھائی تم اپنے لیے ہر نفع بخش چیز کی خواہش اور تمنا رکھو اور اس کے حصول کے لیےاللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو،اور عاجز نہ بنو (مسلم 2664)۔

سفر اور زادِ راہ

کامیاب افراد کی چار اہم عادتیں ہوتی ہیں۔ پہلے لوگ کہا کرتے تھے کہ عادت فطرتِ ثانیہ ہے۔ انسان جس فطرت پر پیدا ہوا ہے اسی کی طرح عادتیں بھی اس پر طاقت ور اثرات مرتب کرتی ہیں۔

کامیابی کے چار وسائل

1۔ معرفت :

فرانسس بیکن کہتا ہے کہ اپنے راستے اور اپنے ارادوں کی معرفت، اپنی صلاحیتوں سے آگہی اور علمی پختگی یہ سب بذاتِ خود قوت کے ذرائع ہیں۔

کامیابی کی جدو جہد کیا ہے اس کا بھر پور شعور ضروری ہے۔ یہ شعور فرد کے اندر چھپی ہوئی ایک طاقت ہے، جس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان خطوطِ کار طے کرتا اور متعین اہداف کو حاصل کرنے کے لیے شعور کی اس قوت کو عملاً برت کر دکھا تا ہے۔

پہلا مرحلہ یہ ہے کہ آپ کو اپنے سفر کی نوعیت کے بارے میں پتہ ہو۔ آپ کی یہ معرفت آپ کے لیے حسنِ کارکردگی کی فضا فراہم کرتی ہے ’’خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا‘‘ علم و معرفت سے آراستہ ہونے کے بعد جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ثابت ہوئے۔ انسان کے اندر کا خیر برقرار رہتا ہے لیکن معرفت اس کی شخصیت کا زیور بن جاتی ہے۔

2۔ مہارت:

آپ کے لیے صرف اتنا کافی نہیں کہ اپنی صلاحیتوں سے آپ آگاہ ہوں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی صلاحیتوں کے ادراک کے بعد آپ اپنے اندر کچھ لیاقتوں کو بھی فروغ دیں۔ جن اہم لیاقتوں کی طرف توجہ ہونی چاہیے ان میں اکتساب کی تین مہارتیں بھی شامل ہیں:

الف: مثبت طرزِ فکر:یہ کامیاب افراد کی شخصیت کا خاصہ ہوتا ہے۔ مارکس اوریلیوس کہتا ہے: ہماری زندگی میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ ہماری سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ زندگی کے روشن پہلووں کو دیکھنے کی عادت متعین وقت کے اندر اہداف کے حصول میں آپ کے لیے مدد گار ہوتی ہے۔ یہ عادت انسان میں اس وقت پروان چڑھتی ہے جب وہ مثبت طرزِ فکر کا حامل ہو اور اس کے عملی اقدامات میں ہر جگہ اس کی کارفرمائی ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ کا طرزِ عمل ویسا ہی ہوگا جیسی آپ کی سوچ ہوگی۔

آپ کے ذہن میں کوئی آئیڈیا جنم لے تو اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کریں۔ اسے بار بار پڑھیں یا اپنے دوستوں سے اس پر تبادلۂ خیال کریں اور اس آئیڈیا کو خوب نکھاریں۔ اس طرح آپ اپنے وقت کے امام بخاری بن سکتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں ایک بار اسحاق بن راہویہ کے پاس بیٹھا تھا۔ اس وقت ہمارے کسی ساتھی نے ہم سے کہا کہ کاش کہ تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث کو اختصار کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دیتے۔ پہلے لکھی گئی حدیث کی کتابوں میں صحیح اور ضعیف ہر طرح کی احادیث کو جمع کر دیا گیا تھا۔ اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی چنانچہ اس کے بعد میں نے یہ کتاب یعنی صحیح بخاری کو مرتب کرنا شروع کیا۔

ب: ضمیر کی آواز کو سننے کی مہارت: رنج و غم اور امیدوں اور آرزووں کے درمیان ہر شخص کے اندرون میں کچھ آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔ اصولوں کی کشمکش، زندگی کی کشاکش، پریشانی، الجھن اور تھکن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خواب، آلام، تصورات اور ارادوں کے نتیجے میں پیدا ہونی والی امیدوں کے درمیان ایک کشمکش برپا ہوتی ہے۔ اس کشمکش کے وقت آپ کے اندرونی ضمیر کی بھی ایک آواز ہوتی ہے۔ پرسکون ماحول میں اگر غورو فکر کریں تو آپ کو ضمیر کی یہ سچی آواز سنائی دے سکتی ہے۔ اگر یہ مہارت آپ نے پیدا کر لی تو فریب خوردگی سے محفوظ رہیں گے۔ اور آپ کی شخصیت ایک باضمیر شخصیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اللہ کے رسولﷺ نے بہت پہلے ہی فرمادیا ہے: اپنے دل سے پوچھو  (مسند احمد)۔ یہ وہ آواز ہے جسے آپ دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ وہ آواز ہے جو آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہے پر اسے وہی سمجھ سکتا ہے جو سننے کے لیے اپنے ضمیر کی طرف متوجہ ہو۔ اپنے دل کی طر ف بار بار پلٹیں اور اس سے سوال کرتے رہیں۔ ان کی طرح نہ بن جائیں جن کے بارے میں قرآن نے کہا : انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ا ن نشانیوں کا انکارکیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا(النحل : 14)۔سی اے لیوئس کہتا ہے جن لوگوں نے اپنے اندر کی آواز کو نظر انداز کیا وہ راستہ بھٹک گئے اور پھر ان کے ضمیر کی روشنی مرجھا گئی۔

ج: تخلیقی خیالات :ماضی کی خوبصورت یادوں کو خیالات میں بسانے کے بجائے موجودہ وقت پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ مسقبل کو دیکھنا سیکھیں۔ مشکلات کو حل کرنے کے لیے قوتِ فکر کا ستعمال کریں۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو ہمیں خود کو اور دوسروں کو ایک مختلف زاویہ سے دیکھنا سکھاتی ہے کہ وہ آج جس مقام پر ہے کل اس سے بہتر کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ صلاحیت آپ کو اس کا اہل بناتی ہے کہ زندگی میں آپ کا مشن کیا ہے اسے طے کر سکیں اور موثر طریقے سے اس مشن کے لیے کام کر سکیں اور اپنے لیے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھیں۔ یاد رکھیں اللہ کے رسولﷺ نے صحابۂ کرام کے نفوس میں اس مہارت کو خوب پروان چڑھایا تھا: یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا، جہاں جہاں دن اور رات کی پہونچ ہے۔ اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہںا چھوڑے گا، جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کرلیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی)ذلت قبول کر لی جائے، عزت وہ ہوگی جو اللہ اسلام کے ذریعہ عطا کرے گا اور ذلت وہ ہوگی جس سے اللہ کفر کو ذلیل کرے گا ( مسند احمد)۔ اللہ کے رسولﷺ ہی کا یہ معجزہ تھا کہ انہوں نے عدی بن حاتم کے سامنے اسلام کے مستقبل کی ایسی انوکھی اور خوبصورت تصویر پیش کی کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہﷺ نے سراقہ بن مالک کے سامنے مستقبل کا کیسا خوبصورت نقشہ پیش کیا کہ ’’سراقہ تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنوگے‘‘۔ پھر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں وہ کنگن پہنائے۔ آپ اپنے خیالات کو بلند پروازی سکھائیں اور تصورات میں خود کو بہترین سے بہترین مقام پر دیکھیں۔ اس سے امید کی شمع روشن ہوگی۔ اور پھر منزل کو پانے کے لیے آپ ہر دن تگ و دو کریں گے۔ یہ اسی وقت پورا ہو سکے گا جب اس کے لیے آپ کچھ وقت فارغ کریں۔ زندگی کے ہنگاموں سے الگ ہو کر تنہائی میں بیٹھ جائیں۔ پھر آپ ہوں، حال کا شعورہو اورمستقبل کے خواب ہوں۔ یہاں مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کا سب سے بہتر وقت یہ ہے کہ وہ اب اور اسی وقت کی جائے۔

3۔ چاہت اور آمادگی :

ایڈیسن کو برقی بلب ایجاد کرنے سے پہلے سینکڑوں بار اپنے تجربات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بلکہ بعض اخبارات نے اسے پاگل قرار دیا۔ ہنری فورڈ کار بنانے کی اپنی مہم کی تکمیل سے پہلے پانچ بار دیوالیہ ہوا۔ ہارلینڈ ڈیوڈ سینڈرس کے ریستوراں کے ایف سی کو پھلنے پھولنے سے پہلے بہت سی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سب کے اندر آخر کون سے مشترک خصوصیت تھی۔

کام جاری رکھنے کی چاہت :

جن کے مضبوط ارادے بنے پہچان ان کی
منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آسان ان کی

ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق:

مردِ بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گلہ
بندۂ حر کے لیے نشترِ تقدیر ہے نوش

یہ وہ مخفی قوت ہے جو اکیسویں صدی کے کامیابی کے سفر میں آگے بڑھنے میں ہمارے لیے مددگار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دو مزید صلاحیتیں کامیابی کی خواہش کو توانا رکھنے میں مدد گار ہوتی ہیں:

اندرونی محرکات سے پیدا ہونے والا مضبوط ارادہ : یہ تخیل کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت ہے۔ اس خوبی کے مالک افراد ہار نہیں مانتے اور نہ ہی جمود کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ سوچ سمجھ کر راستہ اختیار کر تے ہیں۔ یہ اپنے اندرونی جذبہ کی تحریک سے پیدا ہونے والے ارادے کو نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ملکہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب آپ کا عہد مضبوط ہو اور اور آپ کے اندر اسے پورا کرنے کا عزم ہو۔ اس سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ عزتِ نفس کے پاس و لحاظ کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ اپنی بری عادتوں سے پیچھا چھڑاتے ہیں اور انہیں اچھی عادتوں میں تبدیل کرتے ہیں۔

ہم انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی طرح مضبوط ارادوں کے مالک بنیں۔ وہ غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تو انہوں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اب مجھے اپنے دشمن مشرکوںکے خلاف کسی جنگ میں حاضری کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ ان کے اندر جذبات کی چنگاری بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد وہ غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد جب حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کو ہم نے پایا تو تلوار نیزے اورتیر کے تقریبا اسی زخم ان کی جسم پر تھے، وہ شہید ہوچکے تھے، مشرکوں نے ان کے اعضاء کاٹ دیے تھے،اور کوئی شخص انہیں پہچان نہ سکا تھا۔ صرف ان کی بہن انہیں انگلی سے پہچان سکی۔ اہداف کو پورا کرنے کے لیے خود سے وعدے کیجیے۔ پختہ ارادہ کیجیے اور ارادہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے واضح نقشہ کار تیار کیجیے۔

اپنی ذات کا ادراک: ہماری زندگی کھلی کتاب ہونی چاہیے۔ ہم خود کو حقیقی صورت میں دیکھیں۔ اپنی کوتاہیوں کو قبول کریں تاکہ ہم میں اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کااحساس پیدا ہو اور ناکامی کے وہ اسباب جو ہماری شخصیت کا حصہ بن چکے ہیں ان کو دور کریں۔ اس کے لیے اپنی ذات کو مرکز بنا کر صحیح طریقے سے غور و فکر اور اس اصول کا اعتراف ضروری ہے کہ میں جاہل ہوں۔ اپنی کمی کا احساس تبدیلی کی طرف پیش قدمی کے لیے ہمیں مضبوط قوتِ ارادی سے مالا مال کرتا ہے۔

4۔ عقیدہ و فکر:

انسان کی شخصیت کے اندر تبدیلی پیدا کرنے میں زندگی کے بارے میں اس کے نقطہ نظر اور اس کے پسندیدہ اصول اور اقدار کا اہم کردار ہوتا ہے۔ انسان کے عقیدہ اور فکر میں تبدیلی پیدا ہو تو اس کے رویے میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ عقیدہ ان تمام غلط رویوں کو بدلنے میں ایک کارگر وسیلہ ثابت ہوتا ہے جو ہماری شخصیت میں بچپن سے اپنی جگہ بنا چکے ہوتے ہیں اور اس کی جگہ درست رویوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ آپ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو دیکھیں جو جاہلیت کے زمانے میں قتل و خونریزی بھی کرتے تھے اور شراب بھی پیتے تھے لیکن سورہ طٰہٰ کی ابتدائی آیا ت کے مطالعہ کے نتیجے میں ان کے اندر ایک نئے ارادے، نئی چاہت اور نئی فکر نے جنم لیا اور وہ ایک منفرد شخصیت کے مالک بن گئے۔

ہمارے رویوں کی بنیاد ہمارے جذبات ہوتے ہیں۔ ہمارے جذبات کو غذا ملتی ہے ہماری فکر سے۔ اور فکر پروان چڑھتی ہے انسان کے بنیادی اصول و اقدار سے۔ جب عقیدہ انسان کے اندرون میں جگہ بنا کر فکر کی آبیاری کرے تب انسان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدم کیسے بڑھائے۔

نبیﷺ کے طریقے کو دیکھیں۔ انہوں نے لوگوں کی معلومات میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے کام نہیں کیا۔ مکہ میں احکام بھی نہیں دیے گئے۔ آپﷺ نے اخلاق، عقیدہ، اصول اور اقدار کے بیج بوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب احکام نازل ہوئے تو دلوں نے انہیں فوراً قبول کیا۔ یہ وہ ہمہ جہت زبردست انقلاب تھا جو اسلام نے لوگوں کے دلوں میں برپا کیا۔ قلب و ضمیر کو بدلے بغیر اسلام کی تعلیمات روح و زندگی سے خالی محض الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ (جاری)

دسمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau