اکیسویں صدی میں کامیابی کا سراغ

(2)

طارق السویدان | ترجمہ : اشتیاق عالم فلاحی

کشمکش کامیابی کو پالینے کی

جب آپ کامیابی کی طرف پیش قدمی کریں گے تو آپ کو کامیابی کے لیے کشمکش کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ جب آپ اپنی ذات پر اور اطراف پر غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ کسی ایک نہیں بلکہ ہر جانب سے کشمکش آواز دیتی ہے۔ اگر آپ لا محدود کامیابی کو ہاتھ سے جا نے نہیں دینا چاہتے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ کامیابی کی طرف مسلسل پیش قدمی کے چار اصولوں کو برتنے میں اپنے اندر مہارت پیدا کریں۔

پہلا اصول: اندرونی خوشی

کیا میں خوش ہوں؟ انسان جب تنہائی میں ہو اور اپنی موجودہ صورتِ حال پر غور کر رہا ہو تو اس وقت اس کے لیے سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ خود سے پوچھے: کیا میں خوش ہوں؟ ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے عہدے کا مالک ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس اتنی زیادہ دولت آگئی ہو کہ لوگوں میں اس کی دولت مندی کے چرچے ہوں۔ لیکن کیا وہ واقعی خوش ہے؟ کیا اسے سچی خوشی میسر ہے یا صرف ظاہری ہے۔ کیا اسے پر سکون زندگی اور اندرونی خوشی حاصل ہے؟

یہاں توقف کریں۔ تنہائی اختیار کریں۔ لوگوں کے جھرمٹ سے باہر نکلیں۔ اپنے دلی احساسات کو سنیں اور پھر سوال کریں، کیا آپ خوش ہیں؟ ایک اور اہم سوال جو انسان کے اندر کشمکش کو جنم دیتا ہے وہ ہے: میں کون ہوں؟ کیا آپ واقعی خود کو پہچانتے ہیں؟ آپ کو خبر ہے کہ آپ کی صلاحیتیں کیا ہیں؟ کیاآپ کی زندگی میں کچھ اہداف ہیں ؟ اپنے مرنے کے بعد کیا آپ کچھ پاکیزہ نقوش چھوڑ جائیں گے؟

زندگی کی مصروفیات نے بہت سے لوگوں کو ان سوالات سے غافل کر رکھا۔ یک رنگ، روٹینی اور قاتل زندگی کے ساتھ دن بدن اور لمحہ بہ لمحہ یہ سوالات ان کے اندرون میں جڑ پکڑتے رہے۔ اور ان سب نے ان کا چَین چھین لیا۔ ایک کشمکش بپا ہوئی جس نے انسان کے اندر الجھنوں کو جنم دیا اور اسی نے مغرب میں بے چینی پیدا کی۔ امریکی سماج کے اندر 80 فیصد افراد نشہ آور اشیا یا مسکن دوائیں استعمال کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ انہیں اندرونی سکون حاصل نہیں۔

’’اسی چیز نے سویڈن جیسے ملک کو حیرت و بے چینی میں مبتلا کیا، باوجود اس کے کہ سویڈن کے عوام کو نا قابلِ یقین معاشی فارغ البالی حاصل ہے۔ انہیں فقر اور بے روزگاری کا کوئی خوف نہیں۔ پھر بھی لوگ بے چینی کی زندگی جیتے ہیں۔ ان کے اندر گھٹن، تناو، شکایت، غصہ، بے چینی، اور مایوسی ہے اور ان سب کے نتیجے میں خود کشی کا تناسب بہت زیادہ ہے ‘‘۔

یہ ایک قسم کا نفسیاتی عذاب ہے جس نے ان کو جکڑ لیا ہے۔ اس کی وجہ سے امریکہ میں ہر سال تین سو افسران (دس صرف نیویارک میں ) سالانہ خود کشی کرتے ہیں۔ اور سن 1987 ء سے وہاں پولیس افسران کی خود کشی کے تناسب میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اندرونی خوشی سے محرومی نے انہیں شک، نفسیاتی عذاب، اضطراب اور غیر فطری غم میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس غم کا مداوا صرف اسلام نے کیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’ایسے ہی لوگ ہیں جو مومن ہیں اوران کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتاہے۔ خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے‘‘۔ (سورۃ الرعد 28)

کامیابی کا راز پوشیدہ ہے سکینت اور اطمینانِ قلب کے اندر۔ اسی کی بنا پر انسان اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ وہ راز ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام ابن القیم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں: دل میں پیدا ہونے والی بے قراری کو قرار نصیب ہو سکتا ہے تو صرف اللہ کی طرف پلٹنے سے، اس کی وحشت زائل ہو سکتی ہے تو وہ صرف اللہ کی ذات سے قرب بڑھا کر، دل کا غم دور ہو سکتا ہے تو اللہ کی معرفت سے ہونے والی خوشی اور اس کے ساتھ سچی وابستگی سے۔ دل کے اندر پیدا ہونے والی الجھن کو سکون مل سکتا ہے تو صرف اللہ کو پالینے اور اس کی طرف لپکنے سے۔ دل میں حسرتوں کی آگ ہوتی ہے جو بجھ سکتی ہے اس کے اوامر و نواہی اور اس کے فیصلوں کو قبول کر لینے سے اور اسی پر قائم رہنے سے تا آنکہ اس سے ملاقات کا وقت آ جائے۔ دل کے اندر ایک بھوک ہے جو مٹ سکتی ہے اللہ کی محبت سے، اللہ سے لو لگانے سے، اس کے پیہم ذکر اور اس کے ساتھ مخلصانہ وابستگی سے۔ ورنہ یہ بھوک تو ایسی ہے کہ انسان کو دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں مل جائیں تب بھی اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔

حقیقی خوشی تعلق باللہ ہے، زمین کا رشتہ جب آسمان سے استوار ہو جائے تو انسان کو سعادت اور اطمینان کی زندگی نصیب ہوتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جس نے امام احمد بن حنبل رحمۃا للہ علیہ کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا تھا گو کہ وہ پیوند لگے کپڑے پہنتے، انہیں وہ خود سیتے، مٹی کے بنے تین کمروں میں رہتے۔ اور کھانے کے نام پر انہیں جو کچھ میسر ہوتا تھا وہ روٹی کے چند ٹکڑے اور زیتون کا تیل تھا۔ وہ مہینہ میں صرف ایک بار گوشت کھاتے۔ اور ان کے جوتے.. تو سن لیجیے سوانح نگار بتاتے ہیں کہ انھوں نے سی سی کر اور پیوند لگا کر اپنے جوتے کو سترہ برسوں تک استعمال کیا۔ دنیا کے پیمانے پر انہیں آج تولیں تو وہ مسکین اور غم کے مارے تھے۔ لیکن اس پیمانے سے دیکھنے والوں کو یہ خبر ہی نہیں کہ سچی خوشی اور اندرونی خوش حالی کو چھو کر محسوس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا مسکن تو انسان کا اندرون ہے اور اس کی وابستگی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات سے۔ یہ وہ روح ہے جو زندگی کو دھڑکن عطا کرتی ہے۔ وہ نور ہے جو انسان کے لیے نشاناتِ راہ روشن کرتا ہے۔ حقیقی کامیابی کا یہ ایک سربستہ راز ہے۔ حدیث پاک کے الفاظ ہیں: (جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتاہے توجبرئیل سے فرماتا ہے اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبرئیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر جبرئیل آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ دنیا میں سب کی آنکھوں کا تارا ہوجاتا ہے)۔ (صحیح البخاری)

بناوٹی الفاظ اور دکھاوے کی میٹھی باتیں انسان کے سر پر کامیابی کا سہرا نہیں باندھ سکتیں۔ اللہ سے تعلق اور ایمانی پختگی کے نتیجے میں ہی تمہیں اندرونی خوشی حاصل ہوسکتی ہے، تمہارے اطراف کی زندگی روشنی کی کہکشاں بن سکتی ہے، اور تمہارے ہونٹوں پر رضا کا تبسم کھیل سکتا ہے، اور تم سعادت بھری زندگی سے ہم کنار ہو سکتے ہو۔

آخری چیخ

جب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی دونوں آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ اب وہ ہمیشہ کے لیے نابینا ہو چکے ہیں، زندگی اور زندگی کے مظاہر کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکیں گے تو ان کی اندرونی رضا ان الفاظ میں ڈھل کر ظاہر ہوئی: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے میری دونوں آنکھوں کو بینائی سے محروم کر دیا ہے تو کیا ہوا، میری زبان اور میرا دل دونوں تو روشن ہیں۔ میرا دل بیدار ہے، میری عقل سمجھ سے محروم نہیں، اور میری زبان بھی موجود ہے‘‘۔  یہ وہ لوگ تھے جن کے چہروں پر اندرونی خوشی کے نتیجے میں دل کی گہرائی سے نکلنے والی سچی مسکراہٹ کھیلتی تھی۔

جب امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ کو قلعہ دمشق کے قیدخانے میں لے جایا جا رہا تھا تو بڑے اطمینان کے ساتھ مسکرا تے ہوئے انھوں نے چیخ کر بآوازِ بلند کہا: ’’ میرے دشمن مجھے کیا نقصان پہونچا سکتے ہیں، میں وہ انسان ہوں کہ میرا باغ اور میرا چمن سب میرے سینے میں ہے، میں کہیں بھی جاؤں یہ مجھ سے چمٹ کر رہتے ہیں، مجھ سے جدا نہیں ہوتے۔ مجھے یہ قید کریں تو خلوت کے لمحات میسر آئیں گے۔ اگر قتل کر ڈالیں تو شہادت ملے گی اور مجھے میرے ملک سے نکال دیں توسیاحت کے مزے لوں گا‘‘۔

میں پھر پوچھتا ہوں ان ستم زدوں اور بے خودی کے ماروں سے جو دنیا کی پکڑ میں آچکے ہیں، اس کی لذتوں میں کھو چکے ہیں، انھوں نے سب کچھ خرید لیا ہے، ہر چیزکا مزہ پا چکے ہیں، ان کے ہاتھوں میں دولت کی فراوانی ہے اور ان کے اہلِ خانہ عیش کی زندگی جی رہے ہیں: کیا تم خوش ہو؟ کیا تم اطمینان محسوس کرتے ہو؟

دوسرا اصول: سماجی ہم آہنگی

اپنی ذمہ داری متعین کریں

بحیثیتِ انسان آپ کی مختلف ذمہ داریاں ہیں۔ اپنی ذات کے تعلق سے آپ کے اوپر ذمہ داری ہے۔ آپ کے گھر والوں کے تئیں آپ کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ آپ کی ملازمت، آپ کے طلبا، دوست واحباب اور اولاد سب کے سلسلے میں آپ کے اوپر کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ اپنے اوپر سماجی، ثقافتی اور معاشی ذمہ داریوں کو بھی آپ محسوس کرسکتے ہیں۔ ہر ذمہ داری کے سلسلے میں واضح طور پر اہداف کی تعیین سماجی ہم آہنگی کو برتتے ہوئے کام کرنے میں آپ کے لیے بے حد مدد گار ہوگی۔

سب سے پہلی ذمہ داری:

آپ کی اہم ترین ذمہ داری ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اْس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر نہایت تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں‘‘۔(التحریم: 6)

یہ ذمہ داری آپ کی ذات اور آپ کے گھر والوں سے شروع ہوتی ہے۔ بحیثیتِ باپ اپنی اولاد کے تعلق سے آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ اس ذمہ داری کو ادا کر کے ہی آپ ایک ایسا بہترین گھر بنا سکتے ہیں جہاں بچوں کے دلوں میں اقدار اور اصولوں کے بیج بوئے جا سکیں اور رشتوں کے احترام کا جذبہ پروان چڑھایا جا سکے تاکہ کامیابی کی جانب بڑھنے والی ایک نسل تیار ہو۔ ان ذمہ داریوں کو انجام دیتے ہوئے شریعت کی طرف سے متعین کردہ شرعی واجبات کو آپ فراموش نہ کریں کہ یہ کم ا ز کم مطلوب ہے۔ اور انسان ان تمام ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دینے لگے تو کامیابی کی منزل کی طرف پیش قدمی کرتا چلا جائے گا۔ ’’جب ہم اپنی ان ذمہ داریوں کو خوب صورتی کے ساتھ انجام دینے کے لیے جیتے ہیں تو زندگی بڑی طویل اور گہری معلوم ہوتی ہے۔ یہ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں سے انسانیت کا آغاز ہوا اور روئے زمین سے ہمارے رخصت ہو جانے کے بعد بھی یہ جاری رہتی ہے۔ ہماری زندگی کئی زندگیوں کے برابر ہو جاتی ہے۔ ہمارے اندر اپنی ذمہ داریوں کا احساس جتنا زیادہ ہوگا اپنے زندہ ہونے کا احساس بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا‘‘ (افراح الروح۔ سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ)۔

پانچ اجتماعی اوصاف

بہتر سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر پانچ اجتماعی اوصاف موجود ہوں:

پہلی صفت: غیر مشروط محبت کریں

غیر مشروط محبت تنی ہوئی رسی کی طرح لچک دار ہوتی ہے۔ لوگوں کو پیچھے سے دھکیل کر آپ ان کی حرکات کو اپنی گرفت میں نہیں رکھ سکتے، لوگ آپ سے دور ہونے لگیں گے۔ ان سے اگر آپ غیر مشروط محبت کریں تو لوگ آپ کی بات اس طرح قبول کریں گے گویا آپ انہیں آگے سے کھینچ رہے ہیں۔ اگر انسان کے اندرون میں محبت کا چشمہ ابل رہا ہو، اس چشمے میں گہرائی ہو تو اس کی خوشبو باہر پھیل کر رہے گی، اس کی گفتگو پاکیزہ ہوگی، اس کے کام پیارے ہوں گے۔ محبت وہ عمل ہے جو حسنِ سلوک کے بہترین طریقوں کو جنم دیتا ہے۔ جب ہمارے برتاؤ میں محبت کی گرمی ہو تو اس کے ثمرات بھی محبت کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ اور اگر انسان کے رویہ میں ترشی اور چیخ پکار شامل ہو جائے تو محبت کی چنگاری دم توڑ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اوراس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہارے ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں ‘‘۔ (سورہ الروم: آیت 21) اس آیت کی روشنی میں ازدواجی رشتے کی حقیقت پر غور کریں اور اس پر دوسرے رشتوں کو قیاس کریں۔

لفظ مودت پر غور کریں۔ یہ وہ محبت ہے جس میں احترام، اعتراف، میٹھے بول اور الفت سب شامل ہیں۔ یہ سب ہوگا تو اس کا ثمر ’’رحمت‘‘ کی شکل میں ظاہر ہوگا جو کہ غیر مشروط محبت میں اساسی حیثیت رکھتی ہے۔ ـ ’اس سے کیا ملے گا؟‘ کے بجاے رشتوں کی استواری اور محبت کولٹانے پر ساری توجہ مرکوز کریں، تعلقات کو پروان چڑھانے کے لیے قرآنی طریقہ اختیار کریں۔ نتائج کے بجاے رشتوں کی پختگی خود اپنے آپ میں مقصود ہے  ’’تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ‘‘۔(سورہ الانسان: آیت 9)۔

اگر تعلقات سے ہم صرف فائدے اور نتائج ڈھونڈنے لگیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے ایک گہری چیز کو سطحی چیز میں تبدیل کر دیا اور دوسروں کو بھول کر صرف اپنی ضروریات اور اپنی پسند ہمارے لیے مرکزِ توجہ بن گئی۔ اس صورت میں دھیرے دھیرے تعلقات میں محبت کی گرمی، آواز کی نرمی اور سچائی ختم ہونے لگتی ہے۔

اپنی نگاہوں میں اس منظر کو تازہ کیجیے: پیارے نبیﷺ طائف میں ہیں۔ آپ کے اوپر پتھر برسائے جا رہے ہیں، بچے آپ کو ستا رہے ہیں، آپ کے پیر خون سے نہائے ہوئے ہیں۔ لیکن جب بدلہ لینے کا وقت آیا تو دنیا نے کیسا بڑا دل دیکھا، فرمایا: ’’ بلکہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں سے ان لوگوں کو اٹھائے گا جو ایک اللہ کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے‘‘ (بخاری و مسلم)۔ یہ وہ دل ہے جوسود وزیاں سے بے پروا ہو کر پورے خلوص کے ساتھ چاہتیں لٹا تا ہے۔ لوگ غلطی کریں پھر بھی آپ سراپا لطف و کرم بن جائیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کے دلوں کے اندر محبت کا کیسا شفاف چشمہ ہے۔ آپ محبت اور چاہت لٹائیں، بالکل سچی محبت! اور بدلےمیں کچھ بھی نہ چاہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کے اندر کیسا عظیم انسان پوشیدہ ہے۔

لوگوں کو ان کی خامیوں اور خصوصیات کے ساتھ قبول کریں:

انسان کو بے پناہ صلاحیتیں اور زبردست قوتیں حاصل ہیں۔ لیکن یہ صلاحیتیں ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتیں۔ لوگ جیسے بھی ہوں انہیں قبول کریں تاکہ سماجی ہم آہنگی برقرار رہے، ہر فرد میں اطمینان و سکون کی کیفیت پروان چڑھے اور آپ غیر مشروط محبت کا مزہ کیا ہے، اسے محسوس کریں۔ اگر باپ اپنے بیٹے سے محبت کو کسی چیز سے مشروط کر دے تو اس کے اور بیٹے کے درمیان جو جذباتی لگاؤ ہے وہ کیسے برقرار رہے گا۔ نتیجہ یہی ہوگا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تناؤ کی کیفیت پیداہوگی۔ اسے دور کرنے کا حل یہی ہے کہ آپ کی محبت غیر مشروط ہو۔ بابلیلیوس سیرس کا قول ہے: یہ ممکن نہیں کہ تم ایک ایسا جوتا بناؤ جو ہر قدم کے لیے موزوں ہو۔

ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو اس زاویے سے دیکھ رہے ہوں جس زاویے سے وہ خود کو نہ دیکھتا ہو۔ یہ اختلاف اور اس کے نتیجے میں بچے کی سرزنش باپ اور بیٹے کے درمیان دوری اور تلخی کو بڑھاوا دے گی۔ اس کا حل یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو اس پر مجبور نہ کریں کہ وہ آپ کی طرح زندگی گزارے، اسے اپنی زندگی جینے دیجیے، اسے موقع دیجیے کہ اپنی عقل اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرے۔ ہاں اس کی نگرانی ضرور کریں تاکہ بگاڑ یا نقصان کا شکار نہ ہو۔ ایک باپ کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کے لیے محبت نچھاور کیجیے، رہنمائی کیجیے اور زندگی جینے کا فن سکھائیے۔

آپ دوسروں کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ان سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں۔ افراد کی شناخت کیا ہوتی ہے، اسے سمجھنے کے لیے پیارے نبیﷺ کی اس حدیث پر غور کریں: ’’میری اْمت میں میری اْمت کے حق میں سب سے زیادہ مہربان ابوبکررضی اللہ عنہ ہیں، اللہ کے احکام کے معاملہ میں سب سے سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، ان میں سب سے زیادہ حیا والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، سب سے زیادہ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرنے والے ابیّ بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، علمِ فرائض میں سب سے ماہر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں، سب سے زیادہ حلال و حرام کا علم رکھنے والے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے، اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں) (سنن ترمذی، مسند احمد )۔

انوکھا اسلوب اختیار کریں

غیر مشروط محبت کے لیے لوگوں کو ان کی خوبی و خامی کے ساتھ وہ جیسے بھی ہیں، انہیں قبول کریں اور اس خوبی میں کمال پیدا کرنے کے لیے دوسروں کو ان کی نظر سے دیکھنا سیکھیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں یہ نہ دیکھیں، یہ دیکھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

ایک واقعہ: ’’ایک بار امریکی فلسفی رالف والڈو ایمرسن اور اس کا بیٹا دونوں مل کر ایک گھوڑے کو اصطبل کے اندرلے جا نے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن وہ ایک غلطی کر رہے تھے جو عموما لوگوں سے ہوتی ہے: ہم کیا چاہتے ہیں؟ ایمرسن گھوڑے کودھکا دے رہا تھا اور اس کا بیٹا آگے کھینچ رہا تھا لیکن گھوڑے کی بھی اپنی مرضی تھی، وہ کھیت سے جانے پر تیار ہی نہیں تھا۔ اس نے اپنے پیر زور سے جما دیے۔ ان کی خادمہ نے یہ منظر دیکھا۔ پھر گھوڑے کو اندر لے جانے کے لیے اپنے آپ کو اس کی جگہ پر رکھ کر اس نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے اپنا انگوٹھا اس کے منہ پر رکھا تا کہ وہ اسے چوسے۔ اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھتی رہی اور گھوڑا اس کے ساتھ اصطبل میں داخل ہوگیا‘‘۔ یہ واقعہ ہو سکتا ہے کہ مضحکہ خیز ہو لیکن اگر جانوروں کے ساتھ یہ ہوسکتا ہے تو انسان کے ساتھ کیا کیفیت ہوگی۔ لا محدود محبت کا راز یہ ہے کہ لوگ جیسے بھی ہوں انہیں قبول کریں۔ وہ جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی سوچیں۔

دوسری صفت: حوصلہ افزائی ان کے دل کی آواز بنادیں

بہت سے لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے رفقاے کار سے ہم آہنگی مالی حوصلہ افزائی کے ذریعے حاصل کریں۔ کچھ لوگوں کے لیے مال کی کمائی زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیسوں کی وجہ سے بظاہر یہ لوگ آپ کے سا تھ ہوں گے اور آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں گے لیکن پیسوں سے آپ لوگوں کے دل، ان کے جذبات، ان کی محبت، اور ان کی عقل کو تو نہیں جیت سکتے۔ یعنی آپ انسان کے ظاہر کو خرید بھی لیں تو اندرون کو تو نہیں خرید سکتے۔

بہت سے لوگ اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پاتے کہ ہم انسانوں کے مالک نہیں بن سکتے، ہاں ہم صرف ان کی محبت جیت سکتے ہیں۔ اور جب آپ کسی انسا ن کی محبت جیت لیں تو اس کے اندرونی جذبات میں آگ لگا سکتے ہیں۔ آپ اسے بتائیں کہ تم خود اپنے ذمہ دار ہو، اپنے فیصلوں اور اقدامات کے ذمہ دار ہو اور اسے ضروری اختیارات اور آزادی بھی دیں تاکہ خود ابجاےس کے اندر سے تحریک پیدا ہو۔

آپ کا اصل رول یہ ہے کہ اس کی مدد کریں۔ اچھی بات، تعریف اور حوصلہ افزائی، دعائ، اچھی نیت، اورنرم و مہذب گفتگو کا استعمال کریں، کسی پہلو سے اس کے اندر کوئی کمی ہو تو اس کے خلاف حکم صادر کرنے کے بجاے اس کی رہ نمائی کریں۔

تیسری صفت: Human Touch (انسانی لمس)کے دس طریقوں کو اختیار کریں

Human Touch کے دس طریقے بڑے دل والے اور نرم انسان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انگریزی میں Human Touch کے دس حروف کو یوں دس جملوں میں پھیلائیں:

1۔H –  Hear him    اس کی سنیں

2۔ U – Understand his feelings    اس کے احساسات کو سمجھیں

3۔ M – Motivate his desire    اس کے اندر رغبت پیدا کریں

4۔ A – Appreciate his efforts    اس کی کوششوں کی تعریف کریں

5۔ N – News him    ا س کو با خبر رکھیں

6۔ T – Train him    اس کی تربیت کریں

7۔ O – Open his eyes    اس کی رہ نمائی کریں

8۔ U – Understand his uniqueness    اس کی انفرادیت کو سمجھیں

9۔ C – Contact him   اس سے رابطے میں رہیں

10۔ H – Honour him    اس کو عزت دیں

چوتھی صفت: آپ دوسروں کے لیے مفید تر بنیں

امریکی مصنف زگلر (Zig Ziglar) نے تعلقات کے ایک سنہری اصول کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ’’دوسرے بہت سے لوگ جو کچھ پانا چاہتے ہیں اسے حاصل کرنے میں ان کی مدد کرتے رہیں تو اس کا امکان ہے کہ آپ اپنی زندگی میں جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کچھ پا لیں‘‘۔

کچھ لوگ دوسرے کیا چاہتے ہیں اسے نظرانداز کر کے صرف اپنی ذات پر تو جہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسرے افراد کی حیثیت ان کے اپنے مقصود تک پہنچنے کے لیے پْل یا وسیلہ کی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ہم آہنگی باقی نہیں رہتی۔ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ چلنے والی زندگی اسی وقت ممکن ہے جب دونوں طرف دینے کا اور قربانی کا جذبہ ہو، تعلقات میں اس تعلیم کی حرارت موجود ہوکہ’’اور جب تمہیں سلام کیا جائے (یا کوئی تحفہ پیش کیا جائے) تو اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو۔ یا (کم از کم) اسی کو لوٹادو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا محاسبہ کرنے والا ہے‘‘۔ (سورہ النساء: 86) پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے نام پرپناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو۔ (سنن ابو داؤود، سنن نسائی)۔

جب دونوں طرف دینے اور مل کر کام کر نے کا جذبہ ہو تو طرفین میں مہربانی، شفقت، نوازش، اور مدد کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اور اگر اس کے برعکس ہو تو نتیجہ بھی مختلف ہوگا۔ مزاج کی شدت اور رویے کی سختی سے، ایک دوسرے کو نظر انداز کرنے اور ایک دوسرے کی نا قدری سے محبت اور ہم آہنگی کی فضا ختم ہونے لگتی ہے۔ سچ ہے ’’من لایرحم لایْرحم‘‘ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پررحم نہیں کیاجاتا(بخاری )۔

پانچویں صفت: اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کریں

انسان کے اندر بہت سی خوابیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو جگائیے۔

داخلی قوتیں: ہم اپنے اندرون میں جھانکیں اور اپنے دل کی آواز سنیں تو دوسروں کے اندر کی آواز کو سن سکیں گے، اور افہام و تفہیم کی کوشش میں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔ ہم ان کی نظروں سے دیکھیں، ان کی ضروریات کو سمجھیں تو ان کے بارے میں ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ وہ بھی انسان ہیں جن کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہمیں اس کا احساس ہوگا کہ ان کی کم زوری ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ان کی مدد کر سکیں، ان سے اظہارِ محبت کریں، اور ان کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

تخلیقی اور ذہنی صلاحیتیں: ہمارے اپنے خیالات سے ہمارا تعامل اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے سلسلے میں ہمارا نقطہ نظر دوسروں کے اندر پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور نکھارنے میں ہمارے لیے مددگار ہوتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کو اختیار کرنے کے بعد ہمارے سامنے حیرت انگیز نتائج آئیں گے۔ بہت سے مناسب، عملی، تخلیقی اور حوصلہ افزا راستے کھلنے لگیں گے اور آپ’’صرف ایک ہی حل‘‘کی حد سے بہت آگے نکل جائیں گے۔

یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب آپ سامنے والے فرد کے ساتھ مسلسل انفرادی نشستوں کا اہتمام کریں، ان کی سنیں، ان سے اچھی باتیں کریں، ان کی لیاقتوں اور صلاحیتوں کو کھنگالنے کی کوشش کریں۔ ہماری یہ کوشش ایک ہم آہنگی کی فضا پیدا کرے گی۔ ہم قابلِ قبول مخلصانہ مشورے دے سکیں گے۔ دوسروں کے دل سے قریب ہو کر ہم کلام ہونے کی کوشش کریں تو دونوں ایک دوسرے سے کھلتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنی اور دوسروں کی کم زوری کو ختم کر سکتے ہیں اور موثر طریقے سے اہم اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں:

’’خلق خداکا سب سے خوب صورت منظر یہ ہے کہ مومنین ایک ہی راہ کے راہی ہوں، ایک دوسرے کے مددگار ہوں، ان کے چہروں پہ دمکتی خوشیاں ہوں، اور وہ سب ایک دوسرے کے لیے اپنا مال اور اپنی قوت لٹانے کے لیے تیار ہوں۔ اور جب دل خوشی سے معمور اور ایک دوسرے سے مربوط ہوں تو اس کی مثال یوں ہے گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں‘‘۔

اکتوبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau