بیان کی صلاحیت

سید تنویر احمد

زمین اور آبادیوں پر حکومت کرنا آسان ہے، لیکن دلوں پر راج کرنا مشکل ہے۔ دلوں کو نہ عسکری طاقت سے جیتا جاسکتا ہے اور نہ دولت سے۔ دلوں کو شیریں کلام متاثر کرتا ہے۔

گذشتہ مضمون میں ہم نے گفتگو کی مختلف اقسام کا تذکرہ کیا تھا۔ اس کی چار اقسام کو بیان کیا گیا تھا۔ ایک پر قدرے تفصیلی روشنی ڈالی گئی تھی۔ جس پہلی کیفیت کو بیان کیا گیا تھا وہ تھی ‘‘میں جیتا، تم ہار گئے۔ ’’اس مضمون میں ہم بقیہ تین اقسام گفتگو کو سمجھیں گے۔

۲۔ ‘‘میں ہارا، تم جیت گئے’’ I am not ok; You are ok۔ اسے lose-win کی کیفیت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت پہلی کیفیت کا، جس کا ذکر ہم نے گذشتہ مضمون میں کیا ہے، اُلٹ ہے۔ اس میں متکلم شکست کی نفسیات میں مبتلا ہوتا ہے اور مخاطب کے اندر جیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

مثال نمبر ۱۔ گھروں میں یہ کیفیت اکثر خواتین اور کم عمر افراد میں پیدا ہوتی ہے۔ چھوٹی کلاس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے گھروں میں اپنے باپ سے پہلے آجاتے ہیں۔ اسکول میں جو چھوٹے چھوٹے واقعات ہوتے ہیں وہ بچوں کے لیے بڑے اہم ہوتے ہیں۔ عارف کلاس اول کا طالب علم ہے۔ اس کی کلاس میں اس کے ایک ساتھی سہیل نے عارف کے دوسرے ساتھی ماجد کی بوتل توڑ دی۔ یہ واقعہ عارف کے لیے اتنا ہی گمبھیر ہے جتنا کہ آپ کے لیے امریکہ کا عراق پر حملہ تھا۔ عارف اس واقعے کی یادیں لے کر اسکول سے گھر لوٹا ہے۔ واقعہ کو بیان کرنے کے لیے اپنے ابو کا منتظر ہے۔ اسی طرح بےچین ہے جس طرح آپ بھی امریکہ کی اس حرکت کو اپنے دوست احباب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ان دنوں بڑی دل چسپی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ عارف کے ابو شام کو گھر پہنچے، گھنٹی بجائی۔ عارف، جو ابّو کا منتظر تھاکہ اسکول میں پیش آنے والا واقعہ ابو کو بیان کرے، دوڑ کر دروازہ کھولتا ہے۔ سلام کرتا ہے۔ ابھی اس کے ابو نے سلام کا جواب مکمل بھی نہ کیا تھا کہ کہنا شروع کردیتا ہے:‘‘ابو، ابو، وہ کلاس میں میرا دوست سہیل ہے نا، اس نے ماجدکی بوتل توڑ دی’’۔ عارف کے ابو نے اس کی باتوں کو توجہ سے نہیں سنا، بلکہ کہا: ‘‘عارف! کیا تم نے ہوم ورک مکمل کیا؟ چلو پڑھنے بیٹھو، میں ابھی آتا ہوں’’۔ عارف اپنے ابو کے اس رویے اور رد عمل سے بڑا مایوس ہوا۔ اسے توقع تھی کہ اس کے ابو اسکول میں ہوئے واقعے میں دل چسپی دکھائیں گے۔ اس کے بجائے اس کے ابو نے ڈانٹا اور حسب معمول ہوم ورک کے بارے میں ہی دریافت کیا۔ اس پر عارف شکست کی نفسیات میں مبتلا ہوگیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے ابو سے واقعے کی تمام تفصیلات کو شیئر کرے۔ عارف منہ لٹکائے اپنے بستر کی طرف لوٹا، بنا ہوم ورک کیے ذہنی تناؤ کے ساتھ سوگیا۔

اس طرح کی کیفیات سے بچے ہی نہیں بلکہ تمام عمر کے افراد گزرتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کا رد عمل جدا ہوتا ہے۔ گفتگو میں جو ہار جاتا ہے وہ مختلف انداز کی نفسیاتی کیفیات میں مبتلا ہوتا ہے۔ اکثر خواتین جب اپنے شوہروں اور ساس کے ساتھ گفتگو کے نتیجہ میں شکست کا شکار ہوجاتی ہیں تو وہ اپنے آپ کو کوسنے لگتی ہیں۔ احساسِ محرومی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ خودکشی کے خیالات ذہن میں پیدا ہونے لگتے ہیں (شدید کیفیت میں)۔

گفتگو کے دوران ‘‘میں ہارا اور تم جیت گئے’’ کی کیفیت کسی بھی ایک فریق کی کم زوری سے پیدا ہوتی ہے۔ بعض افراد مخاطب یا فریق دوم کو ہار کی کیفیت میں دیکھ کر مسرت محسوس کرتے ہیں۔ گفتگو کے ذریعے سامنے والے کو شکست دینا بھی ایک انسانی کم زوری ہے۔ بیان کی صلاحیت کا صحیح استعمال نہیں ہے۔ بعض افراد میں کم زوری ہوتی ہے کہ وہ ایسی گفتگو کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو ‘‘ہار’’ کی پوزیشن میں کرلیتے ہیں۔ مثلاً کارپوریٹ ٹیم میں یا جماعتوں کے کارکنان میں بعض افراد کو اپنی رپورٹ اور کارکردگی پیش کرنے کا سلیقہ نہیں آتا۔ وہ گفتگو کا آغاز منفی جملوں سے کرتے ہیں۔ جب کہ آداب یہ ہیں کہ کلام کا آغاز مثبت انداز میں ہو۔ چند دل چسپ واقعات کو مختصراً پیش کیا جارہا ہے۔

ایک تجارتی کمپنی میں ایک ایگزیکٹو تھے جن کا نام اقبال تھا (نام تبدیل کردیا گیا ہے) وہ جب بھی اپنی رپورٹ کمپنی کے ایم۔ ڈی کے سامنے پیش کرتے تو منفی انداز ہی اختیار کرتے ۔ مثلاً ایک رپورٹ کو انھوں نے یوں پیش کیا : ‘‘سر، ٹور کے دوران میں نے دہلی سے جے پور کی فلائٹ کو مِس کر دیا تھا اس لیے میرا ٹور ادھورا رہا۔’’ حالاں کہ انھوں نے بنگلور سے روانہ ہوکر حیدرآباد، بھوپال، کانپور، لکھنؤ اور دہلی میں کام یاب کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اقبال کی کم زوری یہ رہی کہ انھوں نے اپنی رپورٹ کا آغاز منفی کام سے کیا۔ اس پر ایم۔ ڈی صاحب فوری بول اٹھے کہ ‘‘آپ کا معاملہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمیشہ لیٹ لطیف۔ ایئر پورٹ تاخیر سے پہنچے۔ پلاننگ کرتے نہیں۔ کیسے مینجر بنیں گے؟’’ اس واقعہ میں فریق اول اقبال کی بھی کم زوری ہے اور فریق دوم ایم۔ ڈی صاحب کی بھی۔ مسٹر اقبال کو مثبت انداز میں بات رکھنے کا سلیقہ سیکھنا چاہیے۔ جیسے بڑی مشہور مثال ہے۔ ایک گلا س میں آدھا گلاس پانی بھرا تھا۔ اسے دیکھ کر ایک فرد جو ہمیشہ مثبت سوچتا ہے کہتا ہے کہ ‘‘گلاس آدھا بھرا ہے’’، دوسرا جو ہمیشہ منفی سوچتا ہے اس نے کہا کہ ‘‘گلاس آدھا خالی ہے۔’’ مذکورہ واقعہ میں مسٹر اقبال کی منفی سوچ کے جواب میں اگر مسٹر ایم ڈی مثبت رویہ اختیار کرتے تو مسٹر اقبال شکست خوردنی کی کیفیت میں نہیں جاتے۔

اس کیس میں مبتلا زوجین کا ایک کیس بڑا دل چسپ ہے۔ ایک نئے دور کا جوڑا تھا۔ شوہر اور بیوی دونوں گریجویٹ۔ بیوی شدید ڈپریشن میں چلی گئی تھی۔ بیوی کونسلر سے رجوع ہوئی۔ اس نے کونسلر سے کہا، ‘‘میرے شوہر مجھے ہر چھوٹی بات پر ڈانٹتے ہیں۔ مجھ سے الفت کا اظہار نہیں کرتے۔’’ کونسلر نے کہا کہ آپ ان تمام واقعات کی ایک فہرست بنائیں جن واقعات یا آپ کی حرکات پر آپ کے شوہر نے آپ کو ڈانٹا تھا۔ خاتون تین دن بعد آئیں۔ واقعات کی فہرست پیش کی۔ تقریباً تمام واقعات میں خاتون کی کم زوری جھلک رہی تھی۔ خاتون کی گفتگو کا اسلوب اکثر منفی ہوا کرتا تھا۔ ایک واقعہ آپ بھی پڑھ لیں۔ اس خاتون کے شوہر ملک کی مشہور پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں انجینئر ہیں۔ ایک دن جب وہ شام کو آفس سے لوٹے تو بیوی نے دروازہ کھولتے ہی شوہر سے کہا ‘‘اجی، اجی، دودھ پھٹ گیا ہے۔ ذرا آدھا لیٹر دودھ لانا، میں نے شام کی چائے نہیں پی ہے۔’’ شوہر آفس کے کام سے تھک کر آیا تھا۔ ذہنی تناؤ میں تھا۔ اس نے فوری جھلا کر کہا، ‘‘کیا میں تمھارا نوکر ہوں؟ گھر آتے ہی کام پر لگا دیتی ہو’’ وغیرہ وغیرہ۔ اس کیس میں زوجین کے درمیان تلخی کی وجہ ان کے کمیونیکیشن کی کم زوری تھی۔ بیوی ایسا مکالمہ کرتی کہ وہ ہار جائے اور شوہر اس فن سے ناواقف تھے کہ اپنی بیوی کو کیسے ہارنے کے بجائے جتائیں۔

ان مثالوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ ‘‘میں ہارا، تم جیتے’’ والی پوزیشن میں تعلقات خوش گوار نہیں رہتے۔ ہارنے والا فریق ہمیشہ تناؤ اور دباؤ میں رہتا ہے۔ جو فریق غالب ہوتا ہے یا جیت حاصل کرتا ہے اکثر وہ اپنی پیٹھ تھپتھپاتا ہے لیکن وہ ایک غلط رویہ اختیار کیے ہوتا ہے۔ ایسے رویے سے افراد کی کارگزاری متاثر ہوتی ہے۔ گفتگو کے دوران نہ تو ہم کسی کو شکست دینے کی کوشش کریں اور نہ ہی ہار والی کیفیت میں خود کو مبتلا کرلیں۔

جن اداروں، جماعتوں، تجارتی کمپنیوں یا گھروں میں افراد اس پوزیشن میں آتے ہیں وہاں تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور کارکردگی بھی کم زور پڑتی ہے۔ جماعتوں میں ایسی پوزیشن افراد کے بنیان مرصوص بننے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ افراد کی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ کارکردگی کے لیے محرک ختم ہوجاتا ہے۔ ہارے دل میں مایوسی چھا جاتی ہے۔ وہ جماعت کی عددی قوت کا حصہ تو رہتے ہیں لیکن جماعت کی حرکت و کارکردگی میں ان کی شرکت نہیں کے برابر ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایسے افراد جماعتوں کے لیے بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔ جب ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو جماعت ترقی معکوس کا شکار ہوجاتی ہے۔ ایک اجتماع میں ایک صاحب نے تقریر کی۔ سوالات و جوابات کے موقع پر ایک رفیق نے مقرر پر رکیک حملے کیے۔ میں نے وقفہ کے دوران جب اس رفیق سے دریافت کیا، تو جواب میں انھوں نے کہا کہ مقرر نے کسی بات پر چار سال قبل بھری محفل میں انھیں اپنے بیان کی صلاحیت سے شکست دی  اور طنز کیا تھا۔ وہ جملہ جس سے رفیق نے ہار محسوس کی تھی اس کا گھاؤ اب بھی ہرا تھا۔ اس محفل میں رکیک لفظی حملے کے ذریعے اس رفیق نے چار سال پرانا بدلہ لینا چاہا ۔

اب آئیے گفتگو کے تیسرے اسلوب یا کیفیت کو سمجھیں۔

۳۔ ‘‘میں بھی ہارا، تم بھی ہارے’’ I am not ok; You are not ok۔ اس کیفیت کو lose-lose پوزیشن بھی کہا جاتا ہے۔ گفتگو، مکالموں اور رابطہ کے دوران یہ بڑی ہی ناپسندیدہ کیفیت سمجھی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں فریقین لفظی جنگ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں الزام تراشی ہوتی ہے۔ گڑے مردے نکالے جاتے ہیں۔ پرانے واقعات و گفتگو کو تازہ کیا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں ‘‘ضربی گفتگو’’ (cross transaction) (جس کا ذکر ہم نے اس مضمون کی پہلی قسط میں کیا ہے) ہونے لگتی ہے۔ ساس بہو کے کلاسیکی جھگڑوں میں اس کیفیت کو خوب دیکھا جا سکتا ہے۔ بحث و تکرار ہوتی ہے۔ غصہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ دوستی، رشتے اور تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔ جو افراد گفتگو کے آداب اور فن سے ناواقف ہوتے ہیں وہی اکثر اس پوزیشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر ایک فریق بھی گفتگو کے آداب و فن سے واقف ہوتا ہے تو یہ کیفیت پیش نہیں آتی۔ اس لیے کہ دوسرا فریق گفتگو کو بہتر رخ دینے میں کام یاب ہوجاتا ہے۔

اس پوزیشن میں اگر زوجین گھِر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک کو یہ جائزہ لینا ہوگا کہ فریق مخالف اگر اپنی زبان کا استعمال جاہلانہ انداز میں کر رہا ہے تو اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ جذباتی، نفسیاتی، سماجی یا علمی۔

کسی بھی خیرپسند فرد کے لیے اس کیفیت میں مبتلا رہنا یا ایسی گفتگو اور بحث و مباحثہ میں حصہ لینا مناسب نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کی رو سے ایسی گفتگو سے پرہیز عباد الرحمٰن کے اوصاف میں سے ایک اہم وصف ہے۔

سماجی اور خاندانی زندگی میں اس طرح کی کیفیت کے علاوہ وہ حضرات جو دعوت دین کے عظیم کام میں مصروف ہیں انھیں بھی lose-lose والی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کیفیت سے باہر آ نے کے لیے قرآنی نسخہ ‘‘قالوا سلاماً’’ ہے۔ حجت کرنے سے بعض اوقات رابطے اور تعلق کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ بعض داعیان حجت تمام کرنے کی روش اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے اتمام حجت کردی ہے۔ یہ اتمام حجت کا بھونڈا اور غیراسلامی طریقہ ہے۔

جب داعیان ایسی پوزیشن میں آجاتے ہیں تو انھیں کیا روش اختیار کرنی چاہیے، اس کے متعلق سورہ فرقان آیت 63 کی تفسیر ڈاکٹر اسرار احمد یوں بیان کرتے ہیں:

‘‘یہ بھی درحقیقت انسان کی شخصیت کی پختگی کی ایک بہت بڑی علامت ہے۔ بعض لوگ اپنے جذبات سے مغلوب ہوکر لوگوں سے بےکار سی بحث و تمحیص میں الجھ جاتے ہیں۔ حالاں کہ اس بحث و مباحثہ کا حاصل کچھ نہیں ہوتا ایک پختہ انسان کا لازمی وصف یہ ہوگا کہ وہ اندازہ کرے کہ اس کا مخاطب اس وقت بات سمجھنے کے موڈ میں ہے یا محض بحث و نزاع پر تلا ہوا ہے۔ اور اگر وہ یہ محسوس کرے کہ یہ شخص اس وقت افہام و تفہیم کے موڈ میں نہیں ہے، یہ میری بات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا، بلکہ ضد اور عناد میں مبتلا ہوچکا ہے، اس وقت اس پر ہٹ دھرمی مسلط ہوچکی ہے۔ یہ خواہ مخواہ مجھ سے الجھ رہا ہے۔ بات کو سمجھنا اس کے پیش نظر سرے سے ہے ہی نہیں، تو بڑی خوب صورتی سے سلام کہہ کر اس سے علیحدہ ہوجائے۔ بعض جوشیلے قسم کے مبلغین ایسے موقع پر تلخی پر اتر آتے ہیں۔ تلخ کلامی اختیار کرلیتے ہیں یا علیحدہ ہوتے بھی ہیں تو اس طور سے گویا لٹھ مار کر علیحدہ ہورہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر دوبارہ گفتگو کا موقع باقی نہیں رہتا۔ اگر آپ خوب صورتی کے ساتھ علیحدگی اختیار کریں تو موقع رہے گا کہ آپ آئندہ کسی مناسب وقت پر جب یہ محسوس کریں کہ یہ شخص سمجھنے سمجھانے کے موڈ میں ہے تو اس کے سامنے دوبارہ اپنی بات رکھنے کی پوزیشن میں ہوسکتے ہیں۔ یہ چیزیں بڑی ہی پختہ شخصیت کے نمایاں اوصاف میں ہی سےہیں۔’’

چوتھی اور آخری سچویشن مندرجہ ذیل ہے:

۴۔ میں بھی جیتا اور آپ بھی I am ok; You are ok۔ اسے win-win سچویشن بھی کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کیفیت گفتگو کے دوران پیدا ہوجائے تو گفتگو کام یاب کہلاتی ہے۔ رابطہ مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن اس کیفیت میں دونوں فریقین یا دو گروپوں کا آنا آسان کام نہیں ہے۔ گفتگو کے فن کا یہ گویا کمال ہے۔ لیکن ہاں! اسے فارسی محاورے سے تعبیر نہ کریں جس میں کہا گیا کہ ‘‘من تراحاجی بگویم تو مرا ملا بگو’’ (میں تجھے حاجی کہتا ہوں اور تو مجھ کو ملا کہہ)۔ سماجی زندگی میں گفتگو کی اس کیفیت سے رابطہ اور اعتماد بڑھتا ہے۔ خوشیاں اور مسرتیں اس کیفیت سے دوبالا ہوجاتی ہیں۔ اسلامی معاشرہ نے، زوجین، دو فریقین اور دو جماعتوں کے درمیان win-win کی سچویشن پیدا کرنے کے اصول وضع کیے ہیں اور بعض حالات میں اس کیفیت کو پیدا کرنے کے لیے بعض چیزوں کی چھوٹ دی ہے جن کی عام حالات میں اجازت نہیں ہے۔ مثلاً زوجین کے درمیان ان بن ہوجاتی ہے تو کسی ایک فریق کو مبالغہ آرائی سے کام لینے کی اجازت ہے۔ مثلاً شوہر بیوی کی خوشی کے لیے یا تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے معمولی جھوٹ بول سکتا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث کی شرح میں امام نوویؒ کہتے ہیں:

‘‘رہا خاوند کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا اور بیوی کا اپنے خاوندسے جھوٹ بولنا تو اس سے محبت کا اظہار ہے اور جو چیز لازم نہیں اس کا وعدہ کرنا مراد ہے۔ لیکن اپنے ذمہ بیوی یا خاوند کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے میں دھوکا دینا یا پھر خاوند یا بیوی کا حق غصب کرنا بالاجماع حرام ہے۔’’

دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوجاتا ہے تو ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے بھی جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ افراد اور گروہوں کے درمیان وِن وِن سچویشن پیدا ہوجائے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام بہترین، خوش گوار، خوش حال اور ایک معتبر معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے۔

وِن وِن سچویشن دباؤ، حق تلفی، ظلم اور بنیادی عقائد کو قربان کرکے حاصل کرنا درست نہ ہوگا۔ نہ یہ دیرپا ہوگی اور نہ ہی فطری۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کیفیت سے امن، چین، سکون، خوش گواری و خوش حالی حاصل نہیں ہوگی بلکہ مزید بے چینی بڑھے گی۔

فریقین اس پوزیشن میں اسی وقت آسکتے ہیں جب کہ وہ گفتگو کے ان تمام احسن پہلوؤں کو اختیار کرتے ہیں جو اس مضمون کی سیریز میں بیان کیے گئے ہیں۔

اگر کوئی فرد وِن وِن سچویشن کا متمنی ہے تو اسے مندرجہ ذیل گفتگو کے آداب کا خیال رکھنا ہوگا۔

  1. کم بولیں زیادہ سنیں
  2. گفتگو کے درمیان متکلم کی بات کو نہ کاٹیں
  3. صبر اختیار کریں
  4. متکلم کی گفتگو کا تجزیہ کریں
  5. مخاطب کے جذبات، احساسات، نفسیات اور خواہشات کا خیال رکھیں
  6. گفتگو کا اسلوب طنزیہ اور تمسخر کا نہ ہو
  7. مخاطب کی علمی صلاحیت اور اس کی زبان دانی کا خیال رکھا جائے
  8. مخاطب کی جراحی نہ کی جائے اور نہ ہی اسے کم تر تصور کیا جائے
  9. مخاطب کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے
  10. محفل میں گفتگو کے دوران تمسخر نہ اڑایا جائے اور نہ ہی غلط القاب سے مخاطب کیا جائے
  11. مخاطب کو یہ احساس نہ دلایا جائے کہ اس کی ہار ہوئی ہے
  12. مخاطب کی جیت کے لیے بعض اوقات آپ ہاریں
  13. لب و لہجہ شیریں ہو
  14. اپنی برتری ثابت کرنے کا ہمیشہ نشہ نہ ہو۔

گفتگو کے ان تمام اجزا کا نام حکمت بھی ہے۔ حکمت داعی کی اہم صفت ہے۔ سورہ نحل آیت ۱۲۵ میں دعوت کے اسلوب کو بیان کیا گیا ہے۔اس اسلوب میں پہلی اور اہم چیز حکمت ہے۔ حکمت کی تفسیر ڈاکٹر اسرار احمد یوں بیان کرتے ہیں:

‘‘حکمت علم و عقل کی پختگی کی بہت اعلیٰ سطح ہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کو خیر کثیر قرار دیا ہے۔ قرآن میں تین مقامات (سورہ بقرہ آیت ۱۲۹، آل عمران آیت ۱۶۴، الجمعہ آیت ۲) میں ان مراحل اور درجات کا ذکر کیا ہے جن کے تحت حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کی تربیت فرمائی۔ ان میں بلند ترین مرحلہ یا درجہ حکمت کا ہے۔ حکمت کےسبب کسی انسان کی سوچ اور علم میں پختگی آتی ہے۔ اس کی گفتگو میں جامعیت پیدا ہوتی ہے اور اس کی تجزیاتی اہلیت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ کسی سے بات کرتے ہوئے یا کسی کو دین کی دعوت دیتے ہوئے معروضی صورت حال، مخاطب کے ذہنی رجحان اورترجیحات کا درست تجزیہ کرنے کے بعد اپنی گفتگو کے نکات اور دلائل کو ترتیب دیتا ہے۔ اسے خوب یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت اسے کیا پیش کرنا ہے اور کس انداز میں پیش کرنا ہے۔ کون سا نکتہ بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے۔ دعوت و تبلیغ کا پہلا درجہ حکمت بیان کیا گیا ہے جس کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کا صاحب حکمت اور حکیم ہونا لازمی ہے۔’’

حکیم کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ اپنے مخاطب کو وِن وِن سچویشن پر لاتا ہے۔ یہ اسلوب ہم اس عظیم حکیم کے کلام میں دیکھتے ہیں جسے ہم قرآن مجید کہتے ہیں۔ اللہ کے انداز کلام میں وہ طاقت ہے کہ اس کو پڑھنے والا اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس نہیں کرتا بلکہ وہ کام یابی کے منازل طے کرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس کا بہترین اظہار ڈاکٹر جعفری لینگ نے اپنی کتاب اور تقریر میں کیا ہے۔

آئیے! ہم بھی اپنے بیان کی صلاحیت کو اتنا نکھاریں کہ ہم دلوں پر راج کریں اور زبان کی حفاظت کرکے جنت کے حق دار بنیں۔

مئی 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau