اسلامی تحریک میں خواتین کی فعال شرکت

(قارئین کی آراء اور مشورے)

ابو عمکاف

گذشتہ شمارے میں بعض اہم اقتباسات کے حوالے سےدرج بالا موضوع پر غور وفکر کی دعوت دی گئی تھی، یہ موضوع سوشل میڈیا پر بھی موضوع گفتگو بنا، اور ادارے کو بھی مراسلے موصول ہوئے، ذیل میں کچھ منتخب تحریریں پیش کی جارہی ہیں، اس موضوع پر مزید آراء کا استقبال ہے۔ مدیر(

 

ابوعمکاف ظفراللہ خان (جدہ(

پھینکا جانے والا بے قیمت کوڑا کرکٹ بھی آج استعمال کیا جارہا ہے، اس لیے کہ اس میں افادیت کے پہلو نکل آئے ہیں، ہماری خواتین زندہ ہستیاں ہیں، محترم وجود ہیں، انتہائی قیمتی جانیں ہیں، انھی سے دنیا میں رنگ ہے، ان کی سوچ، ان کے عزائم ان کے حوصلے بہت بلند ہوتے ہیں، اگر ان کو جمع کیا جائے اور صحیح رخ دیا جائے تو بلاشبہ انسانیت چمک اٹھے گی۔

شیطان اپنی اسکیم کے مطابق انسانیت کے پیچھے لگارہتا ہے، مردوں کی طرح خواتین کو استعمال کرنے کے بھی اس کے پاس نت نئے دل فریب حربے ہیں، لیکن جب خواتین شیطان کے مکروفریب اور چالبازیوں سے واقف وچوکنا ہوجاتی ہیں، تو ان کی ساری صلاحیتیں اور اوقات تعمیری رخ اختیار کرتے ہیں، اور دیکھتے دیکھتے پورا معاشرہ انسانیت کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔ بھلائیوں کا چرچا ہوتا ہے، باہمی تعاون کی فضا پیدا ہوتی ہے اور برائیاں دم توڑنے لگتی ہیں۔

پینتالیس سال سے اوپر کی خواتین عام طور سے بچوں کی پیدائش اور ان کی ہمہ وقت نگہداشت کے عظیم فرض سے فارغ ہونے لگتی ہیں۔ ایسی خواتین کی صلاحیتیں اب تک صرف خاندان کے لیے وقف تھیں اور اب ملک وملت کی تعمیر کے لیے وہ وقت نکال سکتی ہیں۔ البتہ اس کام کے آغاز سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ایسی خواتین اپنی آزادانہ نسائی تحریک قائم کریں یا اپنے ساتھ مردوں کو شریک کریں، یا موجودہ تحریک میں شامل ہوجائیں۔

قابل مبارک باد ہے موجودہ نظم کی دور اندیشی اور زندگی نو کی اس موضوع پر گفتگو کے لیے دعوت۔ تاہم اس کام کی اہمیت کے پیش نظر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اعلی صلاحیتوں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دے کر کام کا ایک مفصل خاکہ تیار کیا جائے۔

زکات کا اجتماعی نظم (فرضیت، ضرورت، اہمیت) پر سہ روزہ دعوت کی خصوصی اشاعت 22 اگست 2009 میں مضامین کے ساتھ مختلف دانش وران ملت سے گفتگو کرکے ان کی باتوں کا خلاصہ پیش کیا گیا تھا، یہ ایک مناسب طریقہ تھا، ملت کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے، ملت سے مشورہ اور تائید سے کام میں سہولت وبرکت ہوگی۔

ہماری رائے ہے کہ خواتین کی آزاد علیحدہ تنظیم ہو، اور تحریک اسلامی اس تنظیم کی بھرپور رہ نمائی اور نگرانی کے ساتھ ہر قسم کا تعاون جاری رکھے۔■

 

ڈاکٹر محمد سمیع الزماں  (حیدرآباد، ایڈمن آئیڈیا ریپبلک واٹس اپ گروپ(

دیگر غیر اسلامی تحریکوں کے برخلاف اسلامی تحریک میں خواتین کی فعالیت اسلامی شرائط کی پابند ہے، اس لیے یہ احتیاط لازم ہے کہ ایک طرف ان کی اصل ذمہ داری، گھر، شوہر، اور آنے والی نسل کی تربیت جیسے اہداف متاثر نہ ہوں، دوسری طرف ان کی عزت اور عصمت کے تحفظ کا پورا انتظام ہو، ان چیزوں کے اہتمام کے ساتھ ان کی صلاحیتوں کا استعمال تحریک اسلامی کی اہم ضرورت ہے، بالخصوص ایک ایسے ملک میں جہاں اسلام کی دعوت کا کام غیر مسلم خواتین میں کرنا ہو اور خود مسلمان خواتین میں دین کا صحیح شعور پیدا کرنا ہو، مسلمان خواتین کے لیے حیدرآباد میں تحریک اسلامی (بالخصوص جماعت اسلامی، شعبہ خواتین) اچھے انداز میں کام کررہی ہے، امومت سوسائٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے، جہاں خواتین کے لیے تعلیم و تربیت کے سرٹیفیکیٹ کورسس چلاے جاتے ہیں، ازدواجی اور دیگر خانگی مسائل میں کونسلنگ سنڑس قائم ہیں، اس نمونے کو سارے ملک میں قائم کیا جاسکتا ہے، تبلیغی جماعت اور IREF وغیرہ بھی مسلم خواتین میں دینی شعور کی بیداری کا کام کررہی ہیں۔

البتہ تعلیم یافتہ اور ورکنگ خواتین میں کام کے لیے تعلیم یافتہ، انگریزی سے واقف اور میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا میں فعال خواتین کی ضرورت ہے.. غیر مسلم خواتین میں کام کے لیے ایسی خواتین کی تیاری کی ضرورت ہے جو مختلف مقامی زبانوں میں بات کرسکیں، کونسلنگ سنٹرس چلاسکیں، خود روزگار تربیتی سنٹرس چلاسکیں، خدمت خلق کے جذبے سے سرشار خواتین سلم ایریا میں کام کریں ۔ مختلف شعبہ جات سے متعلق خواتین میں کام کے لیے اسی فیلڈ کی خواتین کی ضرورت ہے مثلاً ڈاکٹرس میں ڈاکٹر خواتین، پروفیشنلز میں پروفیشنلز، ٹیچرس میں IITA کے طرز پر خاتون ٹیچرس کی تنظیم کا قیام۔

یہ اور اس طرح کے اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ خواتین ہی کسی معاشرے میں تبدیلی کا اہم ترین ذریعہ ہوتی ہیں۔■

 

عطیہ صدیقہ ( مرکز جماعت اسلامی ہند، دہلی(

مئی 2020 کے ماہنامہ زندگیِ نو کا آن لائن مطالعہ کیا۔ اس میں ایک مضمون ’’اسلامی تحریک میں خواتین کی فعال شرکت‘‘ کا مطالعہ ہوا۔ ادارے کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے، موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر کچھ توجہ طلب نکات اور قابل عمل تجاویز پیش ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ آج خواتین کے ایک بڑے طبقے کو اب پہلے سے زیادہ فرصت کے اوقات میسر ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کے باعث معلومات کے حصول میں وہ کسی پر منحصر نہیں ہیں۔

ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین اور غیر سرکاری تنظیموں اور این جی اوز سے وابستہ مسلمان خواتین آزادیِ نسواں کے مغربی تصور سے مرعوب ہیں۔

ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ مسلم معاشرے کے مرد حضرات دین کے محدود تصور کی وجہ سے خواتین کو کام کرنے کے مواقع نہیں دیتے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ ابھی چند دنوں قبل شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف جو مظاہرے ہوئے ہیں اور اس میں خواتین میں پورے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں خواتین کے مظاہروں کو جس طرح منظم کیا ہے اور میڈیا کو جس طرح فیس کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے اندر صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ البتہ جیسا کہ مضمون میں توجہ دلائی گئی کہ عورت کی حقیقی و فطری آزادی کے لیےاور بڑی تبدیلیاں لانے والی نسائی تحریک چلانے کی کوشش ہو، جس کے ذریعے عورتوں کو ان کاحقیقی مقام بھی مل سکےاور حقیقی رول بھی۔ اس کے لیے منظم طریقے سے ناخواندہ، درمیانی طبقے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

این جی اوز کی ذمہ داران سے مسلسل ربط رکھ کر ان کے ساتھ تعاون و اشتراک عمل ہو ااور ان کے اندر اسلامی تعلیمات کو وقتاً فوقتاً زیرِ بحث لایا جائے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔اس طرح کے تجربات گجرات اور دہلی جیسی ریاستوں میں ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے پالیسی پروگرام میں شعبۂ خدمت خلق کے تحت ایک جھگی جھونپڑی کے محلے کو اڈوپٹ کر کے اس میں تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے مکمل کام ہو اور ایک محسوس تبدیلی دیکھنے کو ملے، ایک محلے کو مثالی بستی بنانے کے منصوبے پر عمل ہو جہاں مرد وخواتین دونوں مل کر اس بستی کو نمونے کی بستی بنائیں۔

تحریک میں بھی کچھ خواتین صرف ہفتہ واری درس قرآن کو ہی سب کچھ سمجھ لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرگرمیوں سے نہ خود دلچسپی لیتی ہیں اور نہ ہی کسی کو کرنے دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے سماجی فعالیت پیدا نہیں ہوتی۔

لیڈرشپ کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے، اس کو دور کرنا ضروری ہے، بدلاؤ کا خوف بھی رکاوٹ بن کر آگے نہیں بڑھنے دیتا، تبدیلی لانا ہو خواہ وہ سرگرمیوں میں ہو یا مناصب میں، تو ایک انجانا خوف ہوتا ہے، اسے قابومیں کرتے ہوئے آگے بڑھنےکی ضرورت ہوتی ہے۔

مرد حضرات کے مزاج کا بھی دخل ہوتا ہے، اگر ان کا مزاج خواتین کو آگے بڑھانا اور انھیں منظم کرنا ہو تو وہاں خواتین میں سماجی فعالیت آتی ہے۔ اگر نہ ہو تو مواقع سامنے آئیں بھی تو ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اورہر کام میں خواتین کو اپنے اوپر منحصررکھا جاتا ہے۔

تحریک میں صلاحیتوں کو پہچاننے کا پیمانہ تقریری صلاحیت ہوتی ہے اور خاص طور سے خواتین کو ایکسپوژر بھی وہیں سے ملتا ہے۔ ہماری تحریک میں اس سلسلے میں توازن درکار ہے۔ اپنے مافی الضمیر کا اظہار ایک فن ہے، لیکن صرف اسی ایک صلاحیت پر پرکھنا بھی درست نہیں۔ اس کے علاوہ ایسی خواتین جو دعوتی کام، اصلاح معاشرہ اور خدمت خلق کے کاموں میں عملاً کچھ سرگرمیاں انجام دے رہی ہوں، تو انھیں بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ ہماری صفوں میں صرف تقریری ماحول پروان چڑھے گا اور عملی میدان کی مثالیں بہت کم ملیں گی۔

پالیسی پروگرام میں کچھ کاموں کو حالات کے مطابق انجام دینے کی گنجائش ہو۔ مقامی سطح پر رفقا میں اکثر اس بات پر بحث ہو جاتی ہے کہ کھینچی ہوئی لکیروں کے مطابق ہی کام انجام پائیں۔ ان سے سے ذرہ برابر بھی ہٹنا گوارانہیں کیا جاتا۔

ارکان خواتین اپنے میں ایک نمایاں شخصیت بن کر ابھریں۔ تعلیم، تعلیم بالغات کا مرکز اپنے گھر کو بنائیں۔ محلے کے ضرورت مند افراد کی ضرورتوں کو پورا کریں۔ اپنے گھر کو کونسلنگ سینٹر بنائیں۔

ایک فرد پرکئی کئی ذمہ داریوں کے بوجھ سے بھی کسی ایک ذمہ داری کا حق پوری طرح ادا نہیں ہو سکتا۔ نئے افراد کو کام دے کر تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ کارکنان اور متفقات میں سے ایسی خواتین کو تلاش کیا جا سکتا ہے، جو عملی میدان سے دلچسپی رکھتی ہیں۔

آخر میں میرا مشورہ ہے کہ ہم الگ نسائی تحریک کے بارے میں نہ سوچیں، بلکہ موجودہ جماعت اسلامی ہند کی تحریک میں اسے یقینی بنائیں کہ مرد و خواتین دونوں کی شمولیت پوری پوری ہو اور دونوں اپنے اپنے دائرۂ کار میں اصلاح و دعوت کی کوشش کریں۔ کیوں کہ دونوں سے مل کر معاشرہ بنتا ہے۔ محض عورت کی اصلاح یا محض مرد کی اصلاح سے معاشرہ نہیں بدلے گا۔

مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے رفیق و مدد گار ہیں، ساتھی ہیں۔ دونوں مل کر اصلاح و دعوت کی کوشش کریں گے تو ان شاء اللہ تبدیلی آئے گی۔

یہ ایک الگ سے منصوبہ بندی کا کام ہے کہ خواتین کو کیسے زیادہ سے زیادہ مواقع دیے جائیں اور کہاں تک وہ خود فیصلہ کرتے ہوئے اپنے دائرۂ کار میں کام کو آگے بڑھا سکتی ہیں، اس پر سوچا جا سکتا ہے۔■

 

ناز آفرین (چترپور، جھارکھنڈ(

جہاں تک خواتین کی اسلامی تحریک میں فعال شرکت کی بات ہے تو اولاً اس کی ریاستی سطح پرماحول و مسائل اورامکانات پر توجہ دینی ہوگی۔ اس پر خواتین کے ساتھ مل کر ان کے مشورے کو بھی عمل لاتے ہوئے منصوبہ بندطریقے سے لائحہ عمل تیار کرنے ہوں گے۔ ایسی خواتین و طالبات پر مشتمل ٹیم تیار کرنی ہوگی جو اعلی تعلیم یافتہ، جدید تکنیک سے واقف، مختلف زبانوں سے واقف، توانا، مخلص، باصلاحیت، تصنیف و تالیف میں ماہراور تحریک اسلامی کے لیے تڑپ رکھتی ہوں۔ ان کے مشاہدات و تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے۔ خواتین و طالبات کے معاشرتی مسائل پر قابو پا لیا گیا تو تحریک کو بہت تقویت پہنچے گی، واضح ر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اقامت دین کی جدوجہد میں خواتین کو نہ صرف تعلیم سے آراستہ کرنے کا انتظام کیا تھا بلکہ خصوصی طور پر معاشرتی مسائل کو عائلی نظام میں تبدیل کر کےماحول کو پاکیزہ بنایا تھا۔ ان مسائل پر تحریک کی توجہ ضرور ہے لیکن اس کے لیے وہ کوششیں ناگزیر ہیں جو خواتین کو تحریک سے محبت کرنے کے لیے آمادہ کرے۔ خواتین چاہتی ہیں کہ وہ کام کریں مگر بیشتر کے نزدیک عبادات سے ملک کی دینی اورو طنی بہنوں کو جوڑ دینا اقامت دین سمجھا جاتا ہے۔ خواتین پر ظلم و استحصال شاید ثانوی درجے میں بھی ان کےپیش نظرنہیں ہوتا۔خواتین اندر سے تحریک کو لے کر خوف زد ہ ہیں۔ ان کے شکوک و شبہات دور کیے جائیں۔ جن کا گھرانہ تحریکی ہے وہ اپنے گھروں کی خواتین سے شروعات کریں۔ باقاعدہ اس کی لسٹنگ ہو۔ تحریکی گھرانے والے باپ، بھائی اور شوہر کی حیثیت سے انھیں سراہیں، اپناسپورٹ دیں مگر تحریک کے ساتھ بیوی یا بہن کا جو رشتہ ہے اسے بھی رکن کی نظر سے دیکھیں اور اس کی انجام دہی میں معاون ہوں، نہ کہ غیر ضروری پابندی عائد کی جائے۔بعض افراد حقیقتاً ایسا کرتے ہیں۔ بعد ازاں پوری تحریک ایک مختصر ٹریننگ کے بعد اس میں شامل ہو جائے۔وابستگان تحریک کو معلوم ہو کہ داعی حق اور سماجی کارکن میں فرق ہے۔ داعی حق سماجی کارکن ہو سکتی ہے مگر سماجی کارکن داعی حق کے مقام کو نہیں پا سکتی۔ انٹرنیٹ پر ساری سرگرمی ممکن نہیں زمینی سطح کی کوششیں نا گزیر ہیں۔ تحریک اسلامی سے وابستہ طالبات کی اگر مکمل طور سے ان ایشو ز پر رہ نمائی کی جائے، ان کے کو بہ طور ٹاسک کچھ اہداف میقات میں دیے جائیں توامکان ہے کہ تحریک اسلامی کو خواتین سے جس سعی و جہد کی امید ہے وہ پوری ہو۔■

 

شیما نظیر (حیدرآباد(

اللہ رب العزت نے مرد و خواتین کو جسمانی اعتبار سے جدا رکھا اور اسی لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی علیٰحدہ رکھیں..لیکن جہاں مرد قوام کہلاتے ہیں وہیں خواتین مضبوط معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی گود میں قومیں پلتی ہیں۔

عورت جہاں اپنے گھر اور بچوں کی نگہبان ہے وہیں اگر کسی معاشرتی ذمہ داری کو اس کے سپرد کیا جائے تو بحسن و خوبی اسے بھی انجام دے گی ۔ تاریخ نے دیکھا کہ بڑی بڑی تحریکیں جب اٹھیں تو خواتین نے ان میں بھرپور حصہ لیا..اور انھیں کامیاب بنایا ۔ یہ تحریکیت کا جذبہ نہ صرف اپنے اندر رکھتی ہیں بلکہ مردوں کے شانہ بہ شانہ چل کر انھوں نے بڑے بڑے معرکے سر کیے۔اس وقت ضرورت ہے انھیں یکجا کرنے کی، ان کے سوئے ہوئے جذبات جگانے کی، انھیں بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی، تاکہ اپنی تحریکی صلاحیتوں کو وہ خود بروئےکار لاکر اسلامی تحریک کا ایک حصہ بنیں خاص طور پر اس ملک میں اس کی اشد ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔

قرآن نے ہمیں ایک اسپرٹ دی ہے اور وہ اصول و قوانین بتادیے ہیں جن کا بدل نہیں ہے. مسلمان عورت کو اکیسویں صدی کےتقاضوں اور امت کو درپیش چیلنجوں کو محسوس کرتے ہوئےایک طرف قرآن سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے تو وہیں اپنی قوتِ فکر و نظر کو صحیح سمت میں گامزن رکھنااور اپنے شعور و آگہی کو بھی اپنے خاندان سمیت عوام الناس تک پہنچانے کی بھرپور سعی کرناہے۔ باصلاحیت خواتین کی ذمہ داری ہوگی کہ اپنے افکار و عمدہ تجزیوں کو مرتب کریں یہ وقت ہے کہ ہم اسلام کو ایک زبردست پیغام کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔

تاریخ کا گہرا مطالعہ ہو فکری و نظری بلندی پیدا کریں تمام تعصبات سے پاک مصفا ذہن رکھیں، مثبت اندازِ فکر ہو.اب جب کہ ملتِ اسلامیہ اپنی تہذیب و تمدن اور اپنی ثقافت کے دفاع کی لڑائی لڑرہی ہے توخواتین و حضرات کا مکمل اجتماعی قوت سےدفاع کرنا حکمتِ عملی کا تقاضہ ہوگا، اسکی مثالیں عہدِ رسالت میں بھی ملتی ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ام سلیم اور دوسری خواتین آپﷺ کے ساتھ جنگِ احد اور دوسرے غزوات میں شریک رہیں انھوں نے نہ صرف مجاہدین کی.مدد کی انھیں پانی پلایا ان کے زخموں کی مرہم پٹی کی بلکہ جنگ احد میں تو زخمیوں کو اٹھا اٹھا کر مدینہ لےگئیں ۔

الحمدللہ آج کی خواتین بھی ان صحابیات جیسا جذبہ اپنے اندر رکھتی ہیں بس انکی صلاحیتوں کو ابھارنے کی ضرورت ہے انھیں اسلامی تعلیم و تربیت سے سنوارنے کی ضرورت ہے تو آج کے اس بے دین معاشرہ کی ہر عورت ایسی ہی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کرے گی جو تحریکِ اسلامی کو درکار ہے۔

غرض یہ کہ اس وقت ملتِ اسلامیہ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے خلاف ایک عالمی جنگی صورتحال پیدا ہوچکی ہے تو ہماری خواتین کو بھی اس میں حصہ لیتے ہوئے اپنے اپنے کردار کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی ہوگی۔ اور حیا اور حجاب و ثقافت کی علم بردار خواتین سے بہتر بھلا یہ کون جان سکتا ہے کہ یہ کردار کن حدود میں رہ کر سر انجام دینا ہے۔

اس ضمن میں جو کام تحریکی تنظیمیں ملک گیر یا عالمگیر سطح پر انجام دے رہی ہیں وہ قابلِ تحسین ہےلیکن اس میں خواتین کی شرکت و شمولیت کو بھی زیادہ فعال بنانے کی ضرورت بھی محسوس کی گئی، کیونکہ سماج کا ایک بڑا حصہ خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے وہ اس بڑے حصے کو از حد متاثر کرسکتی ہیں.اس ضمن میں خواتین کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر شریعت کے قوانین کی پابندی کے ساتھ تحریکی امور میں شرکت کو لازم بنانے کیلیے اس کا دائرہ کار اور پھر فعالیت کیلیے طریقہ کارکیا ہو اسے ذیل میں درج کیا جارہا ہے اس میں کئی قسم کے چیلنج خواتین کو پیش آسکتے ہیں، ان تمام کا سامنا کرتے ہوئے ہی ایک تحریکی خاتون اپنی شرکت تحریکی امور میں درج کروائے یہی اس کی فعالیت گردانی جائے گی۔

۱)خواتین کے لیےدعوت و تبلیغ نصیحت و اصلاح کا اولین دائرہ ان کا اپنا گھر ہے ۔ ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح ان کی ذمہ داری ہے۔

۲) دوسرا دائرہ کار گھر سے نکل کردوسری خواتین میں دعوت و تبلیغ اور درس و تدریس ہے اس کے لیے منظم کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے ، البتہ ایسی خواتین کو زیادہ فعال ہونا چاہیئے جو ادھیڑ عمر کی ہوں یا جن پر گھریلو ذمہ داریاں زیادہ نہ ہوں اس کے علاوہ ایسی خواتین جن پر اولاد وغیرہ کی ذمہ داریاں نہ ہوں یا ان کو ادا کرنے کے بعد ان کے پاس فارغ وقت بچتاہو تو وہ بھی ان تحریکی سرگرمیوں میں حصہ لیں ۔

۳)خواتین کی دعوتی، تعلیمی، تربیتی اور تبلیغی سرگرمیوں کا تیسرا دائرہ ان کا خاندان ہے جس میں خاص طور پر ان کے خاندان کے محرم مرد شامل ہوں گے، ان تمام دائرہ کار میں رہتے ہوئے خواتین زیادہ سے زیادہ تحریکی امور میں اپنی شرکت کو فعال بنا سکتی ہے۔

جون 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau