مسلمانوں سے جو بات مجھے کہنی ہے، وہ یہ ہے کہ اقامت دین کا جو کام جماعت لے کر کھڑی ہوئی ہے اُسے وہ بھی انجام دینے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ کام آپ ہمارے ساتھ مل کر ہی انجام دیں۔ اگر آپ کو ہم پر اعتماد نہیں ہے تو آپ شوق سے ہم سے علٰیحدہ رہیں اور کسی ایسی جماعت میں شریک ہوجائیں جو اس کام کو انجام دے رہی ہو اور اس پر آپ کو اعتماد ہو۔ اور اگر آپ کی نگاہ میں سرے سے کوئی ایسی جماعت موجود ہی نہ ہو جو اس کام کو کر رہی ہو اور جس کے ساتھ مل کر آپ یہ کام کر سکیں تو اس کے لیے آپ اپنی کوئی علیحدہ جماعت قائم کریں، ہمیں اس سے مطلق اختلاف نہیں ہوگا بلکہ جہاں تک ہوسکے گا ہم اس بارے میں آپ کی مدد کریں گے بلکہ صحیح سمت سفر کرتے ہوئے اگر آپ کو پائیں گے تو ہمیں خود آپ کے پیچھے چلنے میں مطلق عار نہ ہوگا۔ ان باتوں میں سے جو بھی آپ کو پسند ہو آپ اُسے اختیار کرسکتے ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ بات کسی طرح آپ کے لیے جائز نہیں ہوسکتی کہ آپ ان صورتوں میں سے کوئی ایک صورت بھی اختیار نہ کریں۔ اور اپنی زندگی یوں ہی گزارتے رہیں۔
اقامت دین کا کام انفرادی طور سے بھی ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور اجتماعی طور پر بھی اس فریضے کو انجام دینے کی ذمے داری پوری امت پر عائد ہوتی ہے اور اس کام کے ہونے پر در حقیقت ان کی دنیاوی کامیابی کا بھی دار و مدار ہے۔ آج مسلمانوں کو دینی یا دنیوی حیثیت سے جو بدبختیاں بھی پیش آرہی ہیں وہ درحقیقت اس فرض سے غفلت اختیار کرنے کا نتیجہ ہیں۔
(جماعت اسلامی کا مقصد اور طریقہ کار، ص ۵۱، جماعت اسلامی ہند کے اجتماع رامپور (۱۹۵۱) میں خطاب)
مشمولہ: شمارہ اگست 2025