آدابِ سفر

سعید الرحمن نور العین سنابلی

سفر انسانی زندگی کے لیے بہت ہی ضروری ہے۔ انسان روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل، معاش کی حصولیابی اور رشتہ داروں سے ملاقات کی غرض سے نقل مکانی کرتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے اس کے لیے بہت سی رخصتیں دے رکھی ہیں۔ اس سلسلے میں چند آداب درج ذیل ہیں:

٭سفر شروع کرنے سے پہلے نمازاستخارہ ادا کی جائے۔نماز استخارہ کاصحیح طریقہ یہ ہے کہ انسان دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے بعد مسنون دعا پڑھے۔  ﴿صحیح البخاری، کتاب الاستخارہ﴾

٭مسافرکے لیے مستحب ہے کہ سفر سے پہلے وصیت لکھ لے ، جس کے اندر آپسی حقوق و معاملات کی وضاحت کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’کوئی بھی مسلمان جو وصیت کرنا چاہتاہو، اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ رات گزارے، مگر یہ کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی ہو۔‘‘

﴿صحیح بخاری:۲۷۳۸، صحیح مسلم :۱۶۲۷﴾

٭مسافرسفر کرنے سے پہلے اہل خانہ کے نان و نفقہ کاانتظام کردے۔جمہور علمائ اس بات پر متفق ہیں کہ بیوی اور بچوں کا نان ونفقہ شوہر پر واجب ہے۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ اس سلسلے میں کوتاہی کرے۔ ارشاد نبوی ہے: ’’انسان کے گنہ گار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کردے، جن کی خانگی کفالت کرتاہے۔‘‘ ﴿سنن ابوداؤد، :۱۶۹۲،سنن نسائی ۹۱۷۷ وغیرہ﴾

٭مسافر پر ضروری ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے والدین سے اجازت طلب کرے۔ اگر والدین اجازت دیں تو سفر شروع کرے ورنہ سفر سے باز رہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یمن سے ہجرت کرکے آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ’’کیایمن میں تمہارا کوئی ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’ہاں! وہاں میرے والدین ہیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’کیا تمہارے والدین نے ہجرت کرنے کی اجازت دی ہے؟‘ اس نے کہا: نہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیفرمایا: ’ان کے پاس جاؤ اور اجازت طلب کرو ، اگر اجازت دے دیں تو جہاد کرو ،ورنہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘﴿سنن ابوداؤد :۲۵۳۰ وغیرہ﴾

ایک دوسری روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اوربیعت کرنے کی خواہش ظاہر کی اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے والدین کو روتا چھوڑکر آیاہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنے والدین کے پاس جاؤ اور جس طرح سے تم نے ان کو رلایاہے ویسے ہی ہنساؤ۔‘‘﴿سنن ابوداؤد :۲۵۲۸﴾

٭انسان جب سفر کاارادہ کرے اور اس کے پاس ایک سے زائد بیویاں ہوں اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ سفر کرناچاہتاہو تو ان کے مابین قرعہ اندازی کرے اور جس بیوی کا نام قرعہ میں آئے، اس کو اپنے ہمراہ لے جائے۔ جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ تھاکہ جب آپ سفر کاارادہ کرتے تو آپ امہات المؤمنین کے مابین قرعہ اندازی کرتے اور قرعہ میں جس کا نام آتا، اس بیوی کو اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے تھے۔ ﴿صحیح بخاری :۲۵۹۳، صحیح مسلم :۲۴۴۵﴾

٭مسافر کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے خویش و اقارب کو الوداع کہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’استودعکم اللہ الذی لاتضیع ودائعہ‘‘ ﴿سنن ابن ماجہ :۲۸۲۵﴾

٭مسافر بحالت سفر بہتر ساتھی کی مصاحبت اختیار کرے۔ ارشاد نبوی ہے: ’’انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتاہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص جس سے دوستی کرتاہے، اسے دیکھے۔‘‘

﴿سنن ابوداؤد :۴۸۳۳﴾،

دوسری حدیث میں ارشاد نبوی ہے: ’’تم مومن کی ہی صحبت اختیارکرو اور تمہارا کھانا صرف متقی شخص ہی کھائے۔‘‘﴿سنن ابوداؤد :۴۸۳۴،سنن ترمذی،۲۳۹۵﴾

اسی طرح سے ایک حدیث کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے ساتھی کی مثال عطرفروش اور بُرے ساتھی کی مثال لوہار سے دی ہے۔‘‘ ﴿صحیح بخاری :۵۵۳۴، صحیح مسلم:۲۶۲۸﴾

٭انسان تنہا سفر کرنے سے گریز کرے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’اگر لوگوں کو تنہائی کی مشکلات کا علم ہوجائے تو میں نہیں سمجھتاکہ کوئی سوار رات میں تنہا سفر کرے گا۔‘‘

﴿صحیح بخاری:۲۹۹۸﴾

٭جمعرات کے دن سفر کاآغاز مستحب ہے۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ دیگر ایام میں بہت ہی کم سفر کے لیے نکلاکرتے تھے۔﴿صحیح بخاری:۲۹۴۸﴾

٭مسافر کے لیے ضروری ہے کہ اپنے قافلے کے ساتھ گھنٹی، بانسری یا اس طرح کا دوسرے آلات ضرب اور کتا وغیرہ نہ رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’فرشتے اس قافلے کے ہمراہ نہیں ہوتے، جس میں کتے یا گھنٹیاںہوں۔‘‘﴿ صحیح مسلم:۲۱۱۴﴾

مسافروں کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنالیں تاکہ اس کی رہ نمائی میں منزلِ مقصود بحسن خوبی پہنچاجاسکے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب لوگ سفر پر نکلیں تو اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنالیں۔‘‘﴿سنن ابوداؤد :۲۶۰۹﴾

جب سفر کے لیے گھر سے نکلے تو یہ دعا پڑھے:

بسم اللّٰہ توکلت علی اللّٰہ، ولاحول ولاقوۃ الاباللّٰہ، الہم انی اعوذبک أن أضلَّ أو أُضََّ ، أو اُزَلَّ ، أو أظلم أو اُظلم، أوأجھل أویجھل علیّ‘‘   ﴿سنن ابوداؤد:۵۰۹۴، سنن ترمذی:۳۴۲۷﴾

٭سواری پربیٹھنے کے بعد یہ دعا پڑھے:

﴿اللّٰہُ اکبر، اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر، ﴿سبحان الذی سخرلنا ہذا وماکنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون﴾ اللہم انا نسألک فی سفرنا ہذا البرو التقویٰ من العمل ماترضی، اللھم ھوِّن علینا سفرنا ہذا ولہو عنا بعدہ، اللھم أنت الصاحب فی السفر، والخلیفۃ فی الأھل، اللھم ان أعوذبک من و عثائ السفر وکآبۃ المنظر وسوئ المنقلب ، فی المال والأہل…﴾

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی کی صورت میں بھی یہی دعا پڑھتے تھے۔ ان کلمات ﴿آیبون تائبون عابدون، لربنا حامدون﴾ کے اضافے کے ساتھ۔ ﴿صحیح مسلم:۱۳۴۲﴾

٭مسافروں کو بحالت سفر آرام کے غرض سے کسی جگہ رکنا ہوتو اکٹھا رہیں اور دور متفرق نہ ہوں۔ کیونکہ بعض صحابہ کرام بحالت سفر آرام کے غرض سے کسی جگہ رکتے تو دور وادیوں میں پھیل جاتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان گھاٹیوں اور وادیوں میں تمہارا پھیلنا شیطان کی جانب سے ہے۔ اس کے بعد صحابہ کرام اس کیفیت سے قیام کرتے تھے کہ اگر ان پر ایک کپڑا پھیلادیاجائے تو اس کپڑا تلے تمام افراد آجائیں۔﴿ سنن ابوداؤد :۲۶۲۸﴾

٭مسافر کو بحالت سفر کسی جگہ آرام کی غرض سے ٹھہرنا ہوتو ثابت شدہ دعائیں پڑھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دورانِ سفر کسی جگہ آرام کی غرض سے اترتے تو یہ دعا پڑھتے: اعُوذُ بکلمات اللّٰہ التامات من شرما خلق اور اس کا فائدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایاہے کہ جب تک انسان اس جگہ سے کوچ نہ کرجائے اس کو کوئی بھی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی ۔﴿صحیح مسلم :۲۷۰۹﴾

٭مسافر کے لیے ایک مستحب امر یہ ہے کہ سواری جب بلندی پر چڑھے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کہے اور پست زمین یا وادی میں اترے تو ’’سبحان اللہ‘‘ کہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ’’جب ہم دورانِ سفر بلند جگہ پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور پست زمین یا وادی میں اترے تو سبحان اللہ کہتے۔ ﴿صحیح بخاری :۲۹۹۳﴾

٭اسی طرح سے اگر مسافروںکا گزر کسی گاؤں یا بستی سے ہوتو گاؤں یا بستی میں داخل ہونے کی یہ دعا پڑھے:

﴿’’اللھم رب السموٰت السبع وماأظللن، ب رب الأرضین السبع وما أقللن، رب الشیاطین ومأ أضللن، ورب الریاح و ماذرین، أسالک خیرہذہ القریۃ و خیرأھلھا، و خیرمافیہا، وأغوذبک من شرھا و شرأھلھا و شرما فیہا ﴾

٭بحالت سفر رات کے وقت خصوصاً ابتدائی رات میں چلنا مستحب ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ’’رات کی تاریکی کو لازم پکڑو کیونکہ رات میں زمین سمیٹ دی جاتی ہے۔‘‘﴿سنن ابوداؤد:۲۵۷۱﴾

٭بحالت سفر انسان کو بکثرت دعا کرنی چاہیے۔ کیوں کہ دعا سفر کی قبولیت کا ایک اہم وقت ہوتاہے۔ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں، اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی بددعا، مسافر کی دعا اور لڑکے کے حق میں اس کے والد کی بددعا۔‘‘ ﴿سنن ابو داؤد:۱۵۳۶﴾

٭ضرورت کی تکمیل کے بعد انسان اپنے آبائی وطن کی واپسی میں جلدی کرے۔

ارشاد نبوی ہے: ’’سفر عذاب کاایک حصہ ہے جو انسان کو کھانے پینے اور نیند سے روکتا ہے۔ جب تمہاری ضرورت پوری ہوجائے تو اپنے اہل خانہ کی طرف جلد واپس آجاؤ۔‘‘ ﴿صحیح بخاری :۱۸۰۴﴾

٭مسافر کے لیے سفر سے واپسی کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعاؤں کو پڑھنا چاہیے۔ مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو ہر اونچی زمین پر تین بار تکبیر پکارتے اور کہتے :

﴿لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ‘ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیٔ قدیر، آیبون تایبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق اللّٰہ وحدہ و نصرعبدہ وھزم الأحزاب وحدہ﴾﴿صحیح بخاری :۱۷۹۷﴾

٭مسافر جب لمبے سفر سے واپس آئے تو بلاضرورت رات کے وقت گھر نہ جائے۔ الا یہ کہ اہل خانہ کو اس نے اپنے رات میں آنے کی خبر دے دی ہو۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے: ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کو رات کوگھرجانے سے روکا ہے۔‘‘ ﴿صحیح بخاری:۱۸۰۱﴾

دوسری روایت سے اس ممانعت کی حکمت کا علم ہوتاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ’’تاکہ پراگندہ بال والی عورت کنگھی کرے اور جس عورت کا شوہر بہت دنوں سے غائب تھا وہ استرا استعمال کرے۔‘‘ ﴿صحیح مسلم :۱۹۷۸﴾

٭مسافر کے لیے ایک مستحب امر یہ ہے کہ سفر سے واپسی کے وقت اپنے محلے کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کرے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے مسجد تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے۔ ﴿صحیح بخاری :۴۴۳﴾

شہر کو واپس آئے تو اس صورت میں معانقہ ﴿گلے ملنا﴾ مستحب ہے۔ صحابہ کرام کے بابت وارد ہے کہ جب ان کی آپس میں ملاقات ہوتی تو ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو ایک دوسرے سے گلے ملتے۔‘‘

٭سفرسے واپسی کے وقت احباب کو جمع کرنا اور کھانا کھلانا بھی مستحب ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے، آپ نے اونٹ یا گائے ذبح کیا۔‘‘﴿صحیح بخاری :۳۰۸۹﴾

واضح ہو کہ اس کھانے کو نقیعہ کے نام سے جانا جاتاہے اور یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام یاسردار جب کسی سفر سے واپس آئے تو اپنے ماتحتوں کو کھانا کھلائے اور اسلاف کرام نے اسے مستحب قرار دیاہے۔

٭مسافرکو چاہیے کہ دورانِ سفر شریعت کی رخصتوں کو اختیارکرے۔ جیسے نمازوں کا قصر کرنا، موزوں پر مسح کی مدت میں اضافے کو اختیارکرنا، جمع بین الصلوتین اور ایّامِ صوم میں افطار کرنا اور روزے سے نہ رہنا وغیرہ وغیرہ۔

کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’اللہ تعالیٰ رخصتوں کو اختیار کرنے کو اسی طرح پسند کرتاہے جس طرح سے معصیت کے کاموں کی انجام دہی کوناپسند کرتا ہے۔‘‘ ﴿مسند احمد:۲/۱۰۸﴾

اگست 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau