اولاد کے حقوق

عتیق احمد شفیق

جب کوئی انسان کاشت کاری و زراعت کا پیشہ اختیار کرناچاہتاہے تو وہ پہلے یہ فیصلہ کرتاہے کہ کس چیز کی کھیتی کرنی ہے۔ یا کون سی فصل اگائی جائے۔ اسی کے مطابق وہ اگلا قدم اٹھاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی ناریل کی فصل کے لیے پیڑ لگانا چاہتاہے تو اس کو سمندر کے ساحلی علاقے کی زمین حاصل کرنی پڑے گی۔ اسی طرح اگر کوئی چائے کی کاشت کرناچاہتا ہے تو اس کو چراپونجی اور آسام کی پہاڑیوں اور ایسے مقامات جو ڈھال دار اور بارش والے ہوں، دھان اور گیہوں کی فصل کے لیے میدانی زمین اور ایسی زمین کا انتخاب کرناہوگا جہاں پانی روکاجاسکتاہو اور بارش ایک خاص مقدارمیں ہوتی ہو۔ خربوز وتربوز کی پیداوار کے لیے ریتیلی جگہ ہونی چاہیے،تاکہ اُسے نمی مل سکے۔ ہماری اگلی نسل کیسی ہو؟ اس کادارومدار نکاح پر مبنی ہے۔ نکاح ایک بہت اہم قدم ہے۔ ہم اپنی نسل جیسی دیکھنی چاہتے ہیں اس کے لیے ویسی ہی عورت ﴿ہونے والی ماں﴾ کا انتخاب کیاجائے۔ بچے کی پرورش وپرداخت اور تربیت کا پہلا مرحلہ ماں ہی سے شروع ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی جتنی عظیم ہستیاں گزری ہیں، ان میں ان کی ماں کااہم رول رہاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تنکح المرأۃ لاربعٍ لما لہا و لحبہا لحمالہا ولدینہا فانظربذات الدین تربت یداکَ ﴿بخاری کتاب النکاح﴾

’’کسی بھی عورت سے چار بنیادوںپر نکاح کیاجاتاہے ﴿۱﴾اس کی جائیداد کی وجہ سے ﴿۲﴾اس کی خاندانی شرافت کے سبب سے ﴿۳﴾حسن وجمال کی وجہ سے اور ﴿۴﴾دین داری کی بنیاد پر۔تم دیندار عورت کو حاصل کرو، یہ بات گرہ میں باندھ لو۔‘‘

نکاح کا ایک مقصداگرچہ جنسی خواہش کی تکمیل بھی ہے لیکن صرف یہی مقصود نہیں ہوتاہے۔ اولاد بھی مطلوب ہوتی ہے۔ اولاد کی تربیت اور نشوونما میں مرد و عورت دونوں ذمے دار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اولاد کاپہلا حق یہ ہے کہ نکاح سے قبل ایسی عورت تلاش کی جائے جو بہترین ماں کا رول اداکرسکے۔ اطاعت گزار، فرماں بردار، قناعت پسند، سادہ مزاج، دینی شعور رکھنے والی اور آخرت کے یقین سے بھرپور ہو۔

اولادکا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کوزندہ باقی رکھاجائے۔ اس کی حیات و موت کافیصلہ ماں باپ اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ قتل ایک عظیم جرم ہے، پھر معصوم بچے اور خاص طور سے اپنے ہی بچے کا قتل اسلام میں نہ صرف حرام ہے بلکہ اس گھناؤنی حرکت پر اللہ کی جانب سے سخت وعیدیں ہیں۔ اولاد کے قتل کی بات آتی ہے تو عام طور سے ذہن لڑکیوں کے قتل کی طرف جاتاہے۔ جانابھی چاہیے اس لیے کہ زیادہ تر وہی اس کا شکارہوتی ہیں۔ لیکن آج کے نام نہاد ترقی یافتہ دور میں، روشن خیالی کے نام پر لوگ نہ صرف بچیوں بلکہ بچوں کو بھی اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی قتل کردیتے ہیں۔ پہلے نعرہ دیاگیاتھا‘ہم دو ﴿۲﴾ہمارے دو’، پھر ‘ہم دو﴿۲﴾ ہمارا ایک’ اب صرف ہم دو ہی کے اکتفاپر زور دیاجارہاہے۔ یہ سب ترقی کے نام پر ہے۔ ‘ہم دو’ کے نعرے کے نتیجے میں ہم جنسی جیسی بے حیائی کی تحریک زور پکڑتی جارہی ہے۔انڈیا شائننگ کے بانگ و بلند کھوکھلے نعروں کی طرح یہ نعرہ بھی نہ صرف نہایت بے وزن ہے بلکہ انسانیت کے قتل کو جائز ٹھہرانے کی نہایت گھناؤنی حرکت ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان کھوکھلے نعروں کا شکار اب مسلمان بھی ہوتے جارہے ہیں۔قتل اولاد کے درج ذیل اسباب ہوتے ہیں:

۱-  ان کی تعلیم و تربیت اور رزق کا مسئلہ

۲-  دیوی دیوتاؤں کی نذر کا مسئلہ

۳-   اولاد کی کثرت پر تعیش زندگی سے محرومی کااندیشہ

۴- لڑکیوں سے متعلق یہ سوچ کہ وہ کماکر تولا نہیں سکتی محض بوجھ ہیں، شادی کی صورت میں دوسرے کے حوالے کرنا پڑے گا اور جس کے حوالے کرنا پڑے گا اس سے دب کر رہنا پڑے گا۔ مزید شادی کے وقت جہیز کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑیں گے اور بعد میں بھی دینے کا سلسلہ جاری رکھنا پڑتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قتل اولاد کو سنگین جرم بتاکر نہ صرف اس سے روکاہے، بلکہ جس بڑے سبب سے عام طور سے اولاد کو قتل کیاجاتاہے اس کی بھی ذمے داری اللہ نے اپنے ذمّے لے لی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَلاَ تَقْتُلُوآْ أَوْلادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَاِیَّاکُم انَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْئ اً کَبِیْرا  ﴿الاسراء:۳۱﴾

’’رزق کی کمی و تنگی کے اندیشے سے اولاد کو قتل نہ کرو ہم تم کوبھی رزق دیتے ہیں اور ان کوبھی دیںگے۔ بیشک اولاد کا قتل ایک بڑا گناہ ہے۔‘‘

اولادکا تیسرا حق اس کا تحفظ ہے۔ جس کی اولاد ہو اسی کی طرف نسبت کی جائے۔ اسلام اس بات کو بالکل پسند نہیںکرتاہے کہ اولاد کا تعارف باپ کے علاوہ کسی اور کی نسبت سے کیاجائے۔ خواہ وہ قبیلہ ہو یاکوئی فرد یا کوئی پیر و بزرگ:

ادْعُوہُمْ لِآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّہِ ﴿الاحزاب:۵﴾

’’تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیاکرو۔ اللہ کے نزدیک یہ انصاف کی بات ہے۔‘‘

اولادکا چوتھا حق یہ ہے کہ والدین ان کی پرورش اور نشوونما کاپورا خیال رکھیں۔ اس سے کسی طرح بھی غفلت نہ برتیں۔

ابتدائی مرحلے میں بچے کی غذا کاانحصار ماں کے دودھ پر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو واضح فرمادیا اور یہ ذمے داری ماں ہی کی نہیں ہے۔ بلکہ باپ کو بھی اس بات کاذمے دار ٹھہرایاگیا ہے کہ وہ اس کا انتظام کرے ۔ ارشاد ربانی ہے:

وَعلَی الْمَوْلُودِ لَہُ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوف  ﴿البقرہ۲۳۳﴾

’’بچہ جس کا ﴿باپ﴾ہے اس کے ذمّے ﴿ماؤںکا﴾ کھانا اور کپڑا ہے۔‘‘

باپ کی ذمّے داری ہے کہ وہ بچے کی خوراک ﴿دودھ یا دوسری متعلقہ چیز﴾ کاانتظام کرے۔کسی وجہ سے ماں دودھ پلانے سے قاصر ہو یا ماں کا انتقال ہوجائے اور ماں کے دودھ کاانتظام نہ ہونے کی صورت میں کسی دودھ پلانے والی کابندوبست کرے۔ آیت میں رزقہن کے لفظ سے کھانا ﴿روٹی، چاول، سبزی، سالن وغیرہ﴾ ہی مراد نہیں ہے بلکہ عربی میں رزق کا اطلاق ان تمام چیزوں پرہوتاہے جو حلال اور کھانے کی چیزیں ہیں۔ مثلاً پھل، میوہ، مشروبات اور وہ تمام چیزیں جو غذائیت پہنچاتی ہوں۔ باپ کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بچے کی ماں کی صحت برقرار رکھنے کاپورا پورا انتظام کرے۔ تاکہ دودھ میں کسی طرح کی کمی نہ آئے۔

روزہ رکھنے سے اگر اندیشہ ہوکہ دودھ میں کمی واقع ہوجائے گی تو اس کو موخر کرنے کی اجازت اسلام نے دے رکھی ہے۔ اگر عورت بغیر کسی شرعی عذر کے بچے کو دودھ پلانے سے منع کردیتی ہے تو اسلامی عدالت اپنے فیصلے اور طاقت سے اُسے دود ھ پلانے پر مجبور کرے گی۔

آج اس ترقی یافتہ دور میں عام طور سے ماؤں کا یہ مزاج بنتاجارہاہے کہ اگر وہ بچے کو دودھ پلاتی ہیں تو ان کو کمزوری لاحق ہوجائے گی، ان کے پستان ڈھیلے ہوجائیں گے اور ان کی خوبصورتی وکشش ختم ہوجائے گی۔ اس لیے وہ بچوں کو دودھ پلانے سے اعتراض کرتی ہیں۔

ان کی یہ غلط سوچ قدرت الٰہی کے نظام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ایک عورت کی چھاتی میں بچہ جننے کے بعد ہی دودھ جاری ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کسی بھی بالغ عورت کے پستانوں سے دودھ نہیں نکلتا ہے۔ سائنسی تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ:

﴿الف﴾ بچے کی جسمانی ، ذہنی، نفسیاتی نشوونما کے لیے اور روحانی تسکین کے لیے سب سے مفید چیز ماں کا دودھ ہی ہے۔ ہرباپ یہ چاہتاہے کہ اس کی اولاد کی جسمانی وذہنی لحاظ سے بہتر طورپر پرورش ہو۔ جو بچے ماں کے دودھ سے محروم رہتے ہیں وہ ذہنی لحاظ سے کمزور رہتے ہیں۔

﴿ب﴾    جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں، وہ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔

﴿ج﴾     جومائیں اپنے بچوں کو دودھ سے محروم رکھتی ہیں وہ ایک غیرمحسوس بے چینی میں رہتی ہیں۔

پیدایش کے وقت بچے کی بنیادی غذا ماں کادودھ ہوتاہے اور بچہ بے زبان ہوتاہے۔ محض ایک گوشت کالوتھڑا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح انداز میں اس کا حکم دیاہے کہ بچے کو پورے دو سال دودھ پلایاجائے۔

اولاد اللہ کی طرف سے والدین کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ گھر کی زینت و رونق اولاد سے ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں سہارا بنتی ہے۔ دین و ایمان کی جانشیں، دینی وراثت کی وارث ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد جب کہ اعمال کا سلسلہ بند ہوجاتاہے تو نیک و صالح اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔

اولاد کے حقوق میں ایک اہم حق یہ ہے کہ اولاد کی تربیت اسلامی اصولوں پر کی جائے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ ا س کی اولاد پروان چڑھے ۔ایک مسلمان والدین کے سامنے صرف یہ دنیا ہی مقصود نہیں ہوتی بلکہ آخرت بھی مطلوب ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مسلمان والدین کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اولاد کی تعلیم وتربیت اسی نہج پر کریں کہ ان کی دنیا وآخرت دونوں کامیاب ہوسکے۔ آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے، وہاں کی آسائش دائمی ہے۔ وہاں کا آرام باقی رہنے والا ہے اوراصل کامیابی وہاں کی کامیابی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بہت ہی واضح انداز میں والدین کو حکم فرمایا:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُوا قُوآ أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیْکُمْ نَاراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ  ﴿تحریم:۶﴾

’’اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس ذمے داری سے آگاہ فرمایا:

الرجل راعٍ علی اہل بیتہٰ وہو مسؤلٌ عنہم، والمرأۃُ راعیۃٌ علیٰ بیتِ بعلہا ولولہٰ ولہی مسؤلۃٌ عنہم ﴿بخاری کتاب الاحکام﴾

’’آدمی اپنے گھروالوں کانگراں ہے اور وہ ﴿قیامت کے دن﴾ ان کے بارے میں ﴿اللہ کے ہاں﴾ جواب دہ ہے۔ بیوی اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگراں ہے، اس سے ان کے متعلق بازپرس ہوگی۔‘‘

بچہ ایک سادہ کاغذ کی طرح ہے۔ اس پر جوچاہیں لکھ دیں۔ بچہ ہری شاخ کی طرح نرم ہوتاہے جدھر چاہیں ادھر موڑدیں جب کہ سوکھی لکڑی موڑنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں ان کے اندر خیرو شر کے امتیاز کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے وہ خیروشر سے واقف ہی نہیں ہوتے ہیں، ان کے اندر دونوں کو قبول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ اپنے بڑوں کو جیسا کرتے دیکھتے ہیں اس کی نقالی کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کو خیرکاعادی بنانے کی کوشش کرناضروری ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کل مولودِ یولدُ علی الفطرۃِ فابواہُ یُھوِدانِہٰ أوَیُنصِّرانِہٰ ﴿بخاری﴾

’’ہرپیدا ہونے والا اپنی فطرت پر پیداہوتاہے پھر اس کے والدین اس کو یہود ی یا نصرانی بنادیتے ہیں۔‘‘

فطرت سے مراد ہر چیز کی وہ اصل صفات ہیں، جن پر اللہ نے اس کو پیدا کیاہے۔ مثلاًانگور اصل میں پھل ہے۔ مگر اس کو سڑاکر شراب بنائی جاتی ہے۔ گویا انگور کی اصل ﴿فطرت﴾ کو تبدیل کردیا جاتا ہے۔اسی طرح ہر انسان کی فطرت توحید کو تسلیم کرتی ہے۔ ایک بچہ مسلم ہی پیدا ہوتاہے بچے کی تربیت صحیح رخ پر نہ کی جائے، اچھی تہذیب کاخوگرنہ بنایاجائے تو اس کالازمہ مخرب اخلاق کا عادی بننا ہے۔ اور آج کے دور میں ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ نے ساری کسر پوری کردی ہے۔ یہ اخلاق کو بگاڑنے، عقائد کو خراب کرنے، شیطانی عمل کا خوگر بنانے کے لیے نہایت آزمودہ نسخہ ہے۔

اچھی باتوں کی وصیت و تلقین کرناہر مسلمان کی ذمے داری ہے۔ خصوصی طورپر یہ ذمے داری ماں باپ کی ہے ﴿اور اولاد کا یہ حق ہے﴾ کہ اسے اچھی باتوں کی تلقین کی جائے۔ اس سلسلے میں قرآن واضح رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن کریم میں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی ہے ان کے تذکرے سے ہر ماں باپ کو رہنمائی ملتی ہے کہ وہ ان باتوں کی نصیحت اپنی اولادکوکریں۔حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو درج ذیل نصیحت فرمائی تھی:

وَاِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِہِ وَہُوَ یَعِظُہ’ یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ oوَوَصَّیْْنَا الْاِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ حَمَلَتْہُ أُمُّہ’ وَہْناً عَلَی وَہْنٍ وَفِصَالُہ’ فِیْ عَامَیْْنِ أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْْکَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ oوَاِن جَاہَدَاکَ عَلی أَن تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہٰ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِیْ الدُّنْیَا مَعْرُوفاً وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ أَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ oیَا بُنَیَّ اِنَّہَا اِن تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُن فِیْ صَخْرَۃٍ أَوْ فِیْ السَّمَاوَاتِ أَوْ فِیْ الْأَرْضِ یَأْتِ بِہَا اللَّہُ اِنَّ اللَّہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ oیَا بُنَیَّ أَقِمِ الصَّلَاۃَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنکَرِ وَاصْبِرْ عَلَی مَآ أَصَابَکَ اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ oوَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِیْ الْأَرْضِ مَرَحاً اِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ oوَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ اِنَّ أَنکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْر ﴿لقمان:۱۳-۱۹﴾

’’اد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہاتھاتو اس نے کہا: ‘بیٹا! اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اُس کی ماں نے ضعف بر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دوسال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ ﴿اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ﴾ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو اُن کی بات ہر گز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیاہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے۔ اُس وقت میں تمھیں بتادوںگا، کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو۔ اے میرے بیٹے! کوئی چیز رائی کے دانے برابر بھی ہو اورکسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو اللہ اسے نکال لائے گا۔ وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔ بیٹا! نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے اورلوگوں سے منھ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میںاکڑکر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز پست رکھ سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہوتی ہے۔‘‘

۱-توحید کی دعوت شرک سے پرہیز کی وصیت

ان آیات میں سب سے پہلی نصیحت توحیدکو اختیار کرنے کی ہے اور شرکت سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے۔توحیدہی وہ سرچشمہ صافی ہے جس کی بنیاد پر انسان کامیاب ہوسکتاہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے لیے انبیائ کاسلسلہ جاری کیاگیا اور انھوںنے ساری انسانیت کو اسی کی دعوت دی:

وَاعْبُدُواْ اللّہَ وَلاَ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً ﴿النساء :۳۶﴾

’تم سب اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔‘

أَلاَّ تَعْبُدُوآْ اِلاَّ اللّہ ﴿ہود:۲﴾ ’تم کسی کی بندگی نہ کرو مگر صرف اللہ کی۔‘

حضرت نوح علیہ السلام نے توحید کی دعوت دیتے ہوئے کہاتھا:

أَن لاَّ تَعْبُدُوآْ اِلاَّ اللّہَ اِنِّیَ أَخَافُ عَلَیْْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ أَلِیْمٍ ﴿ھود:۲۶﴾

’اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا۔‘

تمام انبیاء   کی تعلیم ایک ہی تھی جو بھی نبی آیاتوحید ہی کی تعلیم لے کر آیا۔ ہر نبی نے اپنی اولاد کو بھی توحیدکی دعوت دی :

وَوَصَّیٰ بِہَآ اِبْرَاہِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ اِنَّ اللّہَ اصْطَفیٓ لَکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوتُنَّ اَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ oأَمْ کُنتُمْ شُہَدَآئ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِیْ قَالُواْ نَعْبُدُ اِلٰ ہَکَ وَاِلٰ ہَ آبَائِکَ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ وَاِسْحَاقَ اِلَ ہاً وَاحِداً وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ oتِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُم مَّا کَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ o ﴿البقرہ:۱۳۲،۱۳۳﴾

’ابراہیم نے اپنی اولاد کو اسی طریقے ﴿اسلام﴾ پر چلنے کی ہدایت کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوب اپنی اولادکو کرگیاتھاکہاتھاکہ میرے بچوں اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا، پھر کیا تم اس وقت موجود تھے، جب یعقوب اس دنیا سے رخصت ہورہاتھا؟ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا:بچو! میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے؟ ان سب نے جواب دیا: ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریںگے جس پر آپ اور آپ کے بزرگوں ابراہیم، اسماعیل اوراسحاق ﴿علیہم السلام﴾ نے خدا ماناہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں۔ وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے جو کچھ انھوںنے کمایا وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤگے وہ تمھارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھاجائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔‘

ان آیات میں انبیاء کاآخری وقت میں نصیحت کرنا غورطلب ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ نبی تھے اور اسی وجہ سے انھوں نے بچوں کی تربیت توحید کی بنیاد پر کی ہوگی۔ لیکن پھر آخری وقت میں اس کا اعادہ کیااور اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ اس کا تذکرہ آیت نمبر ۴۳۱ میں کیاگیاہے۔ عام طور سے اپنی نسبت کی وجہ سے گمراہ ہوتے ہیں ۔آخری وقت میں توحید کے درس یاددہانی اسی غرض سے تھی دیکھو اپنی آخرت کی فکرخود کرو جیساکروگے ویسا ہی انجام ہوگا۔ شرک ایک عظیم گناہ ہے اور اِس کی معافی کسی صورت میں نہیں ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

اِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَائ  ﴿النساء :۸۴﴾

’اللہ بس صرف شرک کو ہی معاف نہیں کرتا اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتاہے معاف کردیتا ہے۔‘

اِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَار﴿المائدہ:۷۲﴾

’جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایااُس پر جنت حرام کردی گئی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموںکا کوئی مددگار نہیں۔‘

۲-والدین کے ساتھ حسن سلوک

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی نسبت اللہ تعالیٰ نے خود اپنی طرف کرلی ہے تاکہ اولاد میں غلط فہمی مبتلا نہ ہو کہ شایداس میں ان کا اپنابھلا ہے اسی لیے یہ تلقین کررہے ہیں۔ اللہ کے بعد سب سے زیادہ حقوق اور احسان ماں باپ کا ہی اولاد پر ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس کے حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیاجائے:

وَقَضَیٰ رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوآْ اِلاَّ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ اِحْسَاناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْما oوَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرا  ﴿بنی اسرائیل:۲۳،۲۴﴾

’تیرے رب نے حکم دیاکہ تم لوگ صرف اسی کی بندگی کرو اور کسی کی نہیں، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر تمھارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں، بوڑھے ہوکر رہیں تو انھیں اُف تک نہ کہو نہ انھیں جھڑک کر جواب دو۔ بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات چیت کرو اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کیا کرو کہ پروردگار! اِن پر رحم فرما، جس طرح انھوںنے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالاتھا۔‘

۳-استحضار باللہ

اللہ کے استحضار کایقین دراصل نیک اعمال کرنے اور بُرے اعمال سے بچانے میں بڑا اہم رول ادا کرتاہے۔ جب انسان کو یہ یقین ہوکہ جو کچھ وہ کررہاہے اس کا رب اس کو دیکھ رہاہے۔ دیکھنے میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ اعمال کے مطابق جزائ و بدلہ بھی دے گا۔ تاریکی و تنہائی میں کسی کی مدد پر ابھارنے والا جذبہ اسی یقین کے طفیل پیدا ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہاہے۔ وہ ضرور اس کاصلہ دے گا۔ اسی طرح بُرائی کے تمام مواقع و وسائل فراہم ہونے کے باوجود اللہ کا استحضار ہی انسان کو بُرائی سے بچاتاہے۔کوئی اس کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا:

فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْراً یَرَہُ oوَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً یَرَہ

﴿الزلزال:۷،۸﴾

’جس نے ذرہ برابرنیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔‘

اِنَّہ‘ کَانَ بِعِبَادِہٰ خَبِیْراً بَصِیْرا ﴿بنی اسرائیل:۹۶﴾

’وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہاہے۔

وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ اِلاَّ کُنَّا عَلَیْْکُمْ شُہُوداً اِذْ تُفِیْضُونَ فِیْہِ وَمَا یَعْزُبُ عَن رَّبِّکَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ فِیْ السَّمَائ وَلاَ أَصْغَرَ مِن ذَلِکَ وَلا أَکْبَرَ اِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْن    ﴿یونس:۶۱﴾

’لوگو! تم جو کچھ بھی کرتے ہو اس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ چھوٹی نہ بڑی جو تیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو۔‘

۴-نماز قائم کرنا

نماز اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ اسلام کی علامت ومظہر ہے۔ بغیر اس کے قیام کے کوئی سچا مومن ہوہی نہیں سکتا۔ سچے مومن ہوئے بغیر کوئی انسان کامیاب نہیںہوسکتا۔ اسی وجہ سے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نماز قائم کرنے کی تلقین کی۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کاذکر کرتے ہوئے قرآن کہتاہے:

وَکَانَ یَأْمُرُ أَہْلَہ‘ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَکَانَ عِندَ رَبِّہِ مَرْضِیّا ﴿مریم:۵۵﴾

’وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتاتھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔‘

مومنین کو تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:

وَأْمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلَاۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْْہَا ﴿طہٰ:۱۳۲﴾

’اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو اور خودبھی اس کے پابند رہو۔‘

نماز قائم کرنے سے انسان کامیاب ہوگا۔ ارشاد ربانی ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ oالَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلَی صَلَوَاتِہِمْ یُحَافِظُونَ oأُوْلٰئِکَ ہُمُ الْوَارِثُونo الَّذِیْنَ یَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُون ﴿المومنون:۱،۹-۱۱﴾

’اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میںفردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘

نماز سے سے غفلت ساری گمراہی کے راستے کھولتی ہے۔ گمراہی کانتیجہ ناکامی ہے:

فَخَلَفَ مِن بَعْدِہِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَنیّا ﴿مریم:۵۹﴾

’پھران کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشیں ہوئے جنھوںنے نماز کو ضائع کیا اور نفسانی خواہشوں کی پیروی کی۔ پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں۔‘

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے لے رحمت بناکر بھیجے گئے اور آپ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی بچے کو نہیں مارا مگر نماز کے تعلق سے آپﷺ نے سختی کرنے کی ہدایت فرمائی۔ فرمایا:

مُروا اولادکم بالصلوٰۃ وفرقوا بینہُمْ فی المضاجع ﴿ابوداؤد، کتاب الصلوۃ﴾

’تم اپنی اولاد کو ﴿چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں﴾ نماز ادا کرنے کا حکم دو جب کہ سات برس کے ہوں اور دس برس کی عمرمیں نماز ادا نہ کرنے پر ان کی پٹائی کرو اور تم ان کی خواب گاہیں الگ کردو۔‘

﴿جاری﴾

نومبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau