مسلمانوں کی زبوں حالی کے بعض اہم اسباب

کمال اختر قاسمی

مسلمانوں کا ایک دور تھا جب انہیںدنیا کی قیادت کا موقع حاصل ہوا، انھوں نے دنیا کو جینے کا صحیح ڈھنگ اور کھانے پینے سے لے کر انفرادی و اجتماعی غرض یہ کہ زندگی کے تمام شعبوں میں حسن تہذیب پیدا کرنے کے طریقوں سے متعارف کرایا، عدل و انصاف ،مساوات و برابری، حقوق انسانی سے واقف کرایا، اس طرح مسلمان مناسب سمت پر دنیا کی راہنمائی کرتے رہے،  ان کی عظمت و بلندی کا ڈنکا بج رہا تھا،مسلمانوں نے علمی و فکری، طبی و تحقیقی میدانوں میں بھی ترقی کی، بغداد و دمشق، قرطبہ و غرناطہ اور متعدد شہروں میں بحث و تحقیق، سائنس و طب اور دیگر علوم و فنون کے بڑے مراکز قائم کیے، جن کا اثر دنیا کے تمام خطوں پر نمایاں نظر آیا۔

مسلمانوں کی زبوں حالی پر ایک نظر

لیکن رفتہ رفتہ مسلمانوں نے  بداعمالیوں  اور ناعاقبت اندیشیوں کی وجہ سے عروج و بلندی کی نعمت کو یکسر کھودیا ، مسلمانوں کو قرآن مجید کی شکل میں جو دستور زندگی اور قرآن و سنت سے ماخوذ شریعت مطہرہ حاصل ہوئی تھی بدقسمتی سے وہ قرآن و شریعت کی حیثیت کو اپنی زندگی میںباقی نہ رکھ سکے، گوناگوں فتنوں، اختلاف و انتشار، تفرقہ بازیاں اور خانہ جنگی کے شکار ہوگئے، دنیا کی محبت غالب آگئی، وہ پرتعیش طرز زندگی کی طرف مائل ہوگئے، موت سے کراہیت اور بے پناہ خوف پیدا ہوگیا، نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دشمن بھوکے بھیڑیے کی طرح ان پر  ٹوٹ پڑے ، موت کے خوف نے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی جرأت کو ختم کردیا کہ ان پر دشمنوں کا رعب طاری ہوگیا۔

اللہ کے رسول ﷺ نے ایک پیشین گوئی  میں مسلمانوں کے زوال کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’عنقریب اقوام عالم ایک دوسرے کو تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے اس طرح بلائیں گے جیسے ایک دوسرے کو کھانے کے دسترخوان پر بلایا جاتا ہے، لوگوں نے کہا کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوںگے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: نہیں اس وقت تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی۔لیکن تمہاری حیثیت جھاگ کے مانند ہوگی، دشمنوں کے قلوب سے تمہاری ہیبت نکال دی جائے گی اور خود تمہارے دلوں میں وہن پیدا ہوجائے گا، لوگوں نے پوچھا وہن کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت‘‘۔(ابو دائود، کتا ب الملاحم، باب فی تداعی الامم علی الاسلام)

جو دنیا کی محبت اور دنیاوی لذائذ و آسائش میں لت پت ہو کب موت کا تصور کرسکتا ہے۔ دشمنوں سے مقابلے کی جرأت کیوں کر ہوسکتی ہے۔ چنانچہ وہ دشمنوں کی یلغار کی تاب نہ لا سکے اور بہت جلد خود سپردگی اختیار کرلی،  وہ ہر میدان میں زوا ل کے شکار ہوگئے۔  جبکہ قدرتی اور معدنی ذخائر مسلمانوں کے پاس ہیں لیکن وہ براہ راست ان سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ آج تو تقریباً ہر مسلم ملک عدم استحکام کا شکار ہے، بدامنی بغاوت اور خانہ جنگیاں پورے طور پر پھیلی ہوئی ہیں، مصر و تیونس، لبنان و شام، عراق و یمن، پاکستان و افغانستان اور بنگلہ دیش ہر جگہ خانہ جنگی اور بدامنی کی خوفناک فضائیں قائم ہیں،  عالمی انجمنوں اور بین الاقوامی پلیٹ فارموں میں مسلمانوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ مسلم ممالک شدید اختلاف و انتشار کے شکار ہیں، امت مسلمہ کی کوئی جامع قیادت موجو دنہیں ہے، دینی و دنیاوی قیادت کی تفریق صدیوں سے جامعیت کے تصور تک کو کھوکھلا کرتی چلی آرہی ہے۔ دینی قیادت بھی بھیانک تفرقہ بازیوں میں مبتلا ہے، حب دنیا اور حب جاہ کی تڑپ نے میدانِ سیاست تو چھوڑیے دینی اجتماعیت کو بھی شرمسار کردینے کی حد تک منتشر کرکے رکھ دیا ہے۔

مزید یہ کہ دشمنان اسلام کی طرف سے مسلمانوں پر فکری و عسکری یلغار کا طویل سلسلہ جاری ہے، صہیونیت، صلیب، ہندتوا اور طرح طرح کی قوتیں مسلمانوں کے وجود کو ختم کر دینے کے درپے ہیں، اسلامی تعلیمات میں تشکیک پیدا کرنے، دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کرنے، فسادات اور بھیانک حملوں کے ذریعہ امت مسلمہ کی کمر توڑدینے کی مکمل پلاننگ کے ساتھ طویل مدتی جد و جہد کی جارہی ہے۔ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی بات کی جائے تو یہاں بھی مسلمانوں کی مضبوط نمائندگی نہیں ۔ تہذیب و ثقافت میں مسلمان اغیار کی پیروکاری کرنے پر مجبور ہیں۔

تعلیمی میدانوں میں بھی مسلمانوں کی زبوں حالی مثال بنی ہوئی ہے۔ ناخواندگی کی شرح زیادہ  ہے، سائنس و ٹکنالوجی اور دیگر علوم میں پیچھے ہیں  تمام میدانوں میں زوا ل کا شکار ہیں۔

امت واحدہ کی جماعت سے محرومی

امت مسلمہ خلافت راشدہ کے بعد سے ہی جماعت سے محروم ہوگئی، خلفاء راشدین نبوی ذمہ داریوں ’’تلاوت آیات تزکیہ نفس، اورکتاب و حکمت کی تعلیم کی پوری طرح نیابت کرتے رہے، وہ جہاں بانی و جہاں بینی کی صلاحیتوں سے بہرہ ور تھے، ان میں صالحیت بھی کمال درجہ کی تھی اور صلاحیت و لیاقت میں کوئی ا نکا ثانی نہیں تھا، یہی وہ شرائط ہیں جن کی بنیاد پر قوموں کے لیے زمین کی وراثت طے کی گئی ہے۔

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُہَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ۝۱۰۵ اِنَّ فِيْ ھٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِيْنَالانبیاء: ۱۰۵-۱۰۶)

’’اورزبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوںگے اس میں ایک بڑی چیز ہے عبادت گذار لوگوں کے لیے‘‘۔

افسوس کہ خلفائے راشدین کے بعد امت کی یہ حالت باقی نہ رہی، فتنوں نے سر اُٹھایا، لوگ مختلف گروہوں اور پارٹیوں میں بٹتے چلے گئے، خلافت اپنی اصل حیثیت سے ہٹ کر ملوکیت اور بادشاہی میں منتقل ہوگئی، بادشاہ ملک کو اپنی مملکت سمجھ کر اس کے تمام سیاہ و سفید پر مکمل دسترس رکھنے لگا۔آخر کار منصب نبوت کے تینوں شعبے مختلف حصوں میں منقسم ہوگئے، خلیفہ یا بادشاہ حکمرانی ہیں، مجتہدین و فقہاء اجتہاد میں اورروحانی اصلاحات کے لیے الگ مستقل جماعت تیار ہوگئی، یہ تینوں قوتیں مستقل ہوگئیں ان میں ناروا مخالفتیں پیدا ہوگئیں۔ارباب اقتدار ان تینوں اداروں پر کنٹرول رکھنا چاہتے تھے ، اس طرح مسلمانوں میںانتشار آیا اصل خلافت جو منصب نبوت کی نیابت تھی، اس کا تصور تک محو ہوگیا،  امت واحدہ کی وحدت متنوع بے اثر اور باہم معارض جماعتوں میںمنشر ہوگئی۔

محرومیٔ جماعت کے جتنے سنگین نقصانات ہوسکتے تھے سب اس امت پر در آئے جن کا خمیازہ امت مسلمہ کو  زوال، ذلت و رسوائی کے ذریعہ بھگتنا پڑا  امت مسلکی جھگڑوں اور مکاتب فکر کے تنازعات میں باہم دست و گریباں ہو گئی۔

احادیث میں جماعت واحدہ کے التزام پر خاصا زور دیا گیا ہے، حضرت عمررضی اللہ عنہ کے یہاں وہ اسلام ہی معتبر نہیں ہے جو جماعت کے بغیر ہو، حضرت عمر کا مشہور قول ہے:

’’بلا جماعت کے اسلام کا کوئی تصور نہیں اور کوئی جماعت بغیر امامت کے نہیںہوسکتی اورامامت اطاعت و فرمانبرداری کے بغیر نہیں چل سکتی‘‘۔(سنن الدارمی، باب ذہاب  العلم، ۲۵۷) قرآن مجید میں لزوم جماعت کی خاص طور پر تاکید کی اور تفرقہ بازیوں کو کمزوری اور زوال کی لازمی وجہ قرار دیا گیا۔

ایک جگہ ارشاد ہے:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران: ۱۰۳)

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔

ایک جگہ ارشاد ہے: وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (الانفال: ۴۶)

’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں تنازعات پیدا مت کرو ورنہ تم کمزور ہوجائوگے اور تمہاری اکھڑ جائے گی‘‘۔

اس آیت کے ذیل میں اللہ کے رسول نے فرمایا:’’تین چیزیں ایسی ہیں جن سے ایک مسلمان کا دل خیانت نہیں کرسکتا۔ عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنا، اولیاء امور کے ساتھ خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کا لزوم‘‘۔(مسند احمد: ۱۳۳۵۰)

امام نووی ولا تفرقوا کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’یہ جماعت المسلمین کے لازم پکڑنے کا حکم ہے اور یہ کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر شیرازہ بندی کریں اور یہ اسلام کی اہم بنیاد ہے‘‘۔ (شرح النووی لمسلم ۱۷۱۵)

قرآن مجید میں تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا گیا ہے۔ ایک خلیفہ اور صالح قیادت پر بیعت کو بعینہٖ اللہ سے بیعت کرنا قرار دیا گیا اور اس کی پابندی پر کامیابی کا وعدہ کیا گیا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ۝۰ۭ يَدُ اللہِ فَوْقَ اَيْدِيْہِمْ۝۰ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰي نَفْسِہٖ۝۰ۚ وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰہَدَ عَلَيْہُ اللہَ فَسَيُؤْتِيْہِ اَجْرًا عَظِيْمًا۝۱۰(الفتح: ۱۰)

’’ا ے نبی جو لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے وہ در اصل اللہ سے بیعت کررہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا، اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا اور جو اس عہد کو وفا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا‘‘۔

مرکزیت کا خاتمہ

فطرت کا تقاضا ہے کہ جب کوئی شئے اپنے مرکز سے اس طرح الگ ہوجاتی ہے کہ اسے اپنے مرکز و مرجع کا علم تک نہیں رہتا تو اس میں اختلاف اور تفریق و انتشار پیدا ہوجاتا ہے، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بے کار اور دوسروں کی مرہون منت بن جاتی ہے، اس کا اپنا صحیح و سالم وجود تک باقی نہیں رہتا۔

قرآن مجیدپوری امت کے لیے ایک مرکز و مرجع مقرر کرتا ہے جس کی طرف تمام امور زندگی اور تمام معاملات میں رجوع کیا جائے، وہی کتاب و سنت اور آئین ربانی کو نافذ کرے، اسی کی نگرانی میں تعلیم و اجتہاد اور قضا و عدالت کے کام انجام پائے۔ اسی کی ماتحتی میں تزکیہ نفوس کی ذمہ داریاں ادا کی جائیں، ایسا ادارہ ہو جو منصب نبوت کی تمام ذمہ داریوں کی نیابت کرے۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا(النساء:۵۹)

’’اے ایمان والو!اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور ان لوگوں کی جوتم میں سے صاحب امر ہو، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے‘‘۔

مرکزیت کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی ماتحتی میں مشکلات و مصائب کے وقت مناسب حل تلاش کیا جائے، گروہ ہو کر الگ الگ حل تلاش کرنے سے مشکلات دورہونے کے بجائے اور ہی زیادہ خوفناک شکل اختیار کرلیںگی، اس لیے ایک ایسے ذمہ دار ادارہ کے سامنے بات رکھی جائے جو مناسب تجویز پیش کرسکے۔

وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ۝۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ۝۰ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا(النساء:۸۳)

’’یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلادیتے ہیں، حالاں کہ اگر اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں، تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے‘‘۔

مسلمانوں کا فرقوں میں بٹ جانا

ذاتی اغرا ض و مقاصد کے لیے امت میں تفریق پیدا کی گئی۔ امت مسلمہ و متحارب اور ایک دوسرے کے خون کی پیاسی جماعتوں میں منقسم ہوگئی، آگے چل کر کلامی منہ شگافیوں کا دور دورہ ہوا، اسی طرح فقہ کے نام پر شدید اختلافات پیدا کرائے گئے، جبکہ علم کلام یا علم فقہ، نصوص و آثار کے گہرے مطالعہ کا نام تھا جن سے دینی احکام اور ان کے جزئیات کی مناسب تہ تک پہنچا جاسکے، مخلص مجتہدین کبھی بھی کسی کی تغلیط و تضلیل نہیں کرتے تھے، بلکہ ا ن کے آپسی احترام اور قدر و منزلت کے سینکڑوں واقعات تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔

لیکن حکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان ا جتہادی اختلافات کو تشدد کا رنگ دے کر سیاسی مشنریز کے ذریعہ امت کے درمیان مسلکی دیواریں کھڑی کیں، باہمی تنازعات کو بھڑکانے اور مسلکی اختلاف کو تنازع کی شکل دینے کی کوشش کرتے رہے، تاکہ امت کا غیور طبقہ ان تنافرات میں الجھ کر ارباب اقتدار کی زیادتیوں اور ملوکیت کے مظالم سے بے توجہ رہیں ۔

حکومتیںحسب ضرورت کسی مسلک کی ترویج کرتی اور کسی کی سخت مخالفت، اس طرح مسالک کی ترویج سلطنتوں کے زور سے ہوا کرتی تھی۔علامہ شبلیؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’دو مذہبوں نے سلطنت کے زور سے ابتدا میں ہی رواج حاصل کرلیا، ایک ابوحنیفہؒ کا مذہب ، کیوں کہ قاضی ابویوسف کو جب قاضی القضاۃ کا منصب ملا تو انھوں نے صرف حنفی لوگوں کو ہی عہدہ قضا پر مقرر کیا، دوسرا اندلس میں امام مالک کا مذہب کیوں کہ امام مالک کے شاگرد یحییٰ صمودی خلیفہ اندلس کے نہایت مقرب تھے اور کوئی شخص ان کے مشورہ کے بغیر عہدہ قضا پر مقرر نہیں ہوسکتا تھا، اور وہ صرف اپنے ہم مذہبوں کو ہی مقرر کرتے تھے۔‘‘

(شبلی نعمانی، سیرت النعمان، ص:۱۴۹)

یہ مسلکی اختلافات صرف نظریات اور دلائل تک محدود نہیں رہ گئے بلکہ عقائد و ایمانیات تک جا پہنچنے اور ایک دوسرے کو کافرکہنے کا رواج چل پڑا۔ اس کے علاوہ آپسی کشمکش کا طوفان اس حد تک بڑھ گیا کہ ایک ایک مسجد میں کئی کئی مسالک کے ائمہ رکھے جاتے تھے۔ ابن بطوطہ اپنی چشم دید حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ایک مسجد میں تیرہ تیرہ امام مقرر کیے جاتے تھے، شافعی، حنبلی، حنفی، مالکی، مشہد علی والا، مشہد حسین والا، اس طرح متعدد طرز کے ائمہ نماز پڑھنے کے لیے مقرر کیے جاتے تھے۔

(رحلۃ ابن بطوطہ، بیروت ۱۹۶۴، ص: ۹۳)

امام شوکانی نے حاکم وقت سلطان برقوق کی اس طرح کی سازشی حرکت پر سخت مخالفت کی اور علی الاعلان یہ بیان کیا کہ:

’’یعنی مکہ مکرمہ میں مصلوں کا قیام بدعت ہے۔ اس پر مسلمانو ںکا اجماع ہے۔ اس بدعت کو بدترین حکمراں فرح بن برقوق نے نویں صدی ہجری کے آغاز میں رائج کیا۔ اس زمانہ کے بہت سے اہل علم نے اس کی مخالفت کی اور اس تعلق سے متعدد تصانیف لکھیں‘‘۔ (الارشاد السائل الی دلیل المسائل:ص۵۸)

آج امت کی  صورت حال گمبھیر ہے۔ شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث کی شکل میں  بھیانک اختلافات امت مسلمہ کے سینے میں خنجر گھونپ رہے ہیں انھوں نے تو بچی کھچی قوت اتحاد کو بالکل جلا کر خاکسر کردیا ہے۔ایک دوسرے کی تردید و ابطال کے لیے شعبے قائم کیے جارہے ہیں  ایک دوسرے کے خلاف  مقدمات عدالتوں میں درج کیے جارہے ہیں اور ان پر حکومتیں کاروائیں کررہی ہیں۔ رسول وا حد کی امت واحدہ کی مساجد پر مسلکی آلودگی کی وجہ سے حکومت کو تالے لگانے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ تماشہ یہ کہ ہر ایک کو اپنے حق ہونے اور دوسرے کے باطل ہونے پرشرح صدر اور مکمل یقین بھی ہے۔

قرآن مجید اختلاف و انتشار کو زہر قاتل سمجھتا ہے اور اس کو مسلمانوں کے زوال کی اہم وجہ بتاتا ہے ، قرآن مجید واضح طور پر بیا ن کرتا ہے کہ باہمی اختلاف و انتشار اجتماعی قوتوں کو اس حد تک کمزور کردیتا ہے کہ یہ جماعت دھیرے دھیرے اس حیثیت تک پہنچ جاتی ہے جیسے کسی غبارہ سے ہوا نکل گئی ہو، نہ دم نہ خم، نہ عملی کردار نہ اس میں دشمنوں کے مقابل کھڑے ہونے کی ہمت نہ اپنے بقا و تحفظ کے لیے سعی کا جذبہ اور نہ ہی اس میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی جرأت ہوسکتی ہے۔ اس پر ایسی بزدلی اور نارکارگی چھا جاتی ہے کہ اس کا وجود نہ خود کے لیے نفع بخش ہوتا ہے نہ دوسروں کے لیے۔ نہایت مشکل حالات میں اہم رہنمائی کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّہَ کَثِیْراً لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ، وَأَطِیْعُوا اللّہَ وَرَسُولَہُ وَلاَ تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْا إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ                                                                                                                                                                                                        (الانفال: ۴۵-۴۶)

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو ورنہ تمہارے اندر کمزور ی پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، صبر سے کام لو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔

قرآن مجید جہاں سبب زوال سے متنبہ کرتا ہے وہیں اس حقیقت کی طرف بھی واضح اشارہ کرتا ہے کہ جو قوم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے وہ اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر تباہ و برباد نہیں ہوسکتی۔ ہاں جو قوم اللہ کی رسی کو چھوڑ کر مسلک و مشرت کے تانے بانے میں الجھ جاتی ہے اور مسلکی تصلب اس کا امتیاز بن جاتا ہے تو پھر وہ کسی اور کے پٹے اپنی گردنوں میں ڈالنے پر مجبور ہوجاتی ہے اور اس کو گردن کی طوق نہیں بلکہ حسین زیور سمجھ کر فخر و امتیاز کا اظہار کرنے لگتی ہے۔ قرآن مجید میںارشاد ہے:

واعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران: ۱۰۳)

’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو  مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔

قرآن مجید میں ان لوگوں سے رسول اللہ کی برأت اور عدم تعلق کا واضح انداز میں اعلان کردیا گیا جو دین کے نام پر الگ الگ بٹ کر امت مسلمہ کی اتحادی قوت کو ختم کرنے کی شرارت کرتے ہیں۔

إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (الانعام: ۱۵۹)

’’جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ بن گئے یقینا ان سے تمہارا کچھ تعلق نہیں ہے، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتادے گا کہ انھوں نے کیا کچھ کیا ہے‘‘۔

تفرق و انتشار نہ یہ کہ صرف قوموں کے زوال کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ انہیں آگ میں ڈالے جانے کے اسباب بھی فراہم کردیتا ہے، اور بھیانک قسم کے دنیاوی اور اخروی عذاب میں مبتلا کردیتا ہے۔ قرآ ن مجید میں ارشاد ہے:

وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء  فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَاناً وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ (آل آعمران:۱۰۳)

’’اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دئے، اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے پر تھے اللہ نے تم کو ا س سے بچا لیا، اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے۔ شاید تمہیں سیدھا راستہ نظر آجائے‘‘۔

ایک جگہ مسلمانوں کو ان قوموں کی طرح نہ بننے کی تاکید کی گئی جنھوں نے واضح تعلیمات کے باوجود اختلاف و تفریق کی شکار ہوگئیں، ارشاد ہے:

وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَاء ہُمُ الْبَیِّنَاتُ وَأُوْلَـئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (آل عمران: ۱۰۵)

’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے او رکھلی کھلی واضح ہدایت پانے کے بعد پھر اختلاف میں مبتلا ہوگئے ایسے لوگوں کے لیے بڑا بھیانک عذاب ہے‘‘۔

قرآن مجید کی تصریحات کے مطابق اتحاد و اتفاق اتنی عظیم دولت ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے زمین کے خزانوں کے دہانے کھول دیے جائیں تب بھی یہ دولت حاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن امت مسلمہ کے ساتھ اللہ کا خصوصی فضل ہوا کہ ایک رسول کے ذریعہ عظیم اتحاد کی مضبوط بنیاد ڈالی گئی۔ افسوس آج ہم معمولی مفاد اور محض تنگ نظری اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے اتنی عظیم دولت کو تباہ و برباد کئے بیٹھے ہیں اور اختلاف و انتشار کی آلودگی میں ملوث ہو کر عروج و بلندی اور کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کی واپسی کی تمنا کئے پھر رہے ہیں ۔

لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً مَّا أَلَّفَتْ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ وَلَـکِنَّ اللّہَ أَلَّفَ بَیْنَہُمْ  (الانفال: ۶۳)

’’اگر تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کرڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل جوڑ دیئے‘‘۔

جولائی 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau