فرشتوں پر ایمان

دعوت وتربیت کا سامان

محی الدین غازی

عالم بالا کی عظمت وعبودیت کا علم اللہ تعالی کی عظمت ومعبودیت کا شعور عطا کرتا ہے 

ایمان کے تمام ارکان کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے، اللہ پر ایمان لانے کے بعد انسان اپنے رب کا عبادت گزار اور مطیع وفرماں بردار بن جاتا ہے۔ آخرت پر ایمان لانے کے بعد وہ اپنی زندگی آخرت کی تیاری میں گزارنے لگتا ہے۔ کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے نتیجے میں اسے بہترین ہدایت اور کامل نمونہ حاصل ہوجاتا ہے۔ لیکن فرشتوں پر ایمان لانے سے انسان کی زندگی میں کیا تبدیلی ہوتی ہے؟ دوسرے لفظوں میں فرشتوں پر ایمان لانے کی انسانوں کے لیے کیا معنویت ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ قرآن مجید میں فرشتوں پر ایمان کو بہت اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں جہاں تفصیل سے یہ تذکرہ ہے کہ ایمان کس کس پر لانا ہے، وہاں فرشتوں کا ذکر کتابوں اور رسولوں سے پہلے آیا ہے:

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ (البقرة: 285(

“رسول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اِس رسول کے ماننے والے ہیں، انھوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اوراس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں”

وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ (البقرة: 177(

“بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو آخرت کو، ملائکہ کو، اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے”

اسی طرح کفر کے حوالے سے کہا گیا:

وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا (النساء: 136(

“جس نے اللہ، اس کے ملائکہ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا”

کلام نبوت میں بھی فرشتوں پر ایمان کے تذکرے کا وہی اہتمام ملتا ہے:

الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَلِقَائِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ (صحيح بخاری(

“ایمان یہ ہے کہ ایمان لاؤ اللہ پر اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اس سے ملاقات پر، اور ایمان لاؤ دوبارہ اٹھائے جانے پر۔”

ان شواہد کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ ارکان ایمان میں دوسرا نمبر فرشتوں پر ایمان کا ہے۔ قرآن وحدیث کی اس ترتیب سے اشارہ ملتا ہے کہ فرشتوں پر ایمان کی بڑی اہمیت اور معنویت ہے، اور قرآن مجید کا مطالعہ اس معنویت کو بڑی خوبی سے آشکارا کرتا ہے۔

روایتی حلقوں میں “فرشتوں اور انسانوں میں کون افضل ہے؟” جیسے غیر ضروری سوالوں پر گفتگو زیادہ ہوتی ہے۔ اور فلسفہ وکلام کی درس گاہوں میں فرشتوں کو فلسفیانہ موشگافیوں کا موضوع بنایا جاتا ہے، اور ان کی ساخت وہیئت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں، ان بحثوں کے انبار میں فرشتوں پر ایمان لانے کی معنویت دب کر رہ جاتی ہے۔ قرآن مجید فرشتوں سے متعلق وہ باتیں بتاتا ہے جن کی انسانوں کے لیے بہت زیادہ معنویت ہے۔ ہر موضوع کے سلسلے میں قرآن مجید کی یہ خوبی اسے انسانی کلام سے بہت ممتاز رکھتی ہے۔

انسانوں کے یہاں فرشتوں کا مقام

فرشتے انسانوں کے لیے روز اول سے مثالی اور محبوب نمونہ اورsource of inspiration رہے ہیں، ابلیس نے حضرت آدم کو ممنوعہ درخت کا پھل کھانے کے لیے آمادہ کرنا چاہا تو انھیں یہ کہہ کر بھی اکسایا کہ اس درخت کا پھل کھانے والا فرشتہ بن جاتا ہے۔ حضرت آدم نے اپنے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرتے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، پھر بھی فرشتہ بن جانے کی خواہش نے ان کے دل میں راہ پالی۔

حضرت یوسف کو بہکانے میں جب مصر کی عورتیں ناکام ہوگئیں تو انھوں نے کہا یہ انسان نہیں یہ تو شریف النفس فرشتہ ہے۔

مشرکین کسی انسان کو نبوت کے مرتبے کا اہل نہیں مانتے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ نبی تو کسی فرشتے کو ہونا چاہیے۔

عام محاورے میں بھی فرشتہ صفت ہونے کو انسانوں کے درمیان شرافت کی معراج مانا جاتا ہے۔ رحمت کا فرشتہ ہونے کا اعزاز اس انسان کے حصے میں آتا ہے جو بہت مشکل وقت میں کسی کو بچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

فرشتوں کے وجود پر دلیل

خاص بات یہ ہے کہ فرشتوں پر ایمان پورے طور پر اللہ کی دی ہوئی خبر پر مبنی ہے، اللہ کے وجود لا شریک پر انفس وآفاق کی ساری نشانیاں گواہ ہیں۔ آخرت کے واقع ہونے پر اللہ کی صفات اور نوع انسانی کی تخلیق گواہ ہے۔ کتابوں اور رسولوں کی صداقت وحقانیت پر نشانیوں اور دلائل کی ایک قطار ہے۔ تاہم فرشتوں کے وجود پر اللہ کی خبر کے علاوہ کوئی اور دلیل نہیں ہے۔ اور توحید ورسالت پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یہی کافی وشافی دلیل ہے۔ کیوں کہ عالم بالا کے سلسلے میں وہی حق ہے جس کی خبر اللہ کی طرف سے آئے اور معتبر ذریعے سے آئے۔

یہ بھی واقعہ ہے کہ جس وقت قرآن نازل ہورہا تھا، ایمان کے مختلف ارکان کی مخالفت کرنے والے کسی بھی گروہ نے فرشتوں کے وجود کا انکار نہیں کیا۔

قرآن مجید جب فرشتوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، تو اس طور سے کرتا ہے کہ لوگ ان کے وجود کو مانتے ہیں، البتہ ان کے سلسلے میں غلط فہمی اور گم رہی کا شکار ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے سے انسانوں کے درمیان فرشتوں کا تذکرہ بہت زیادہ رہا، اور آخری نبوت سے پہلے فرشتوں کی زمین پر محسوس آمد ورفت بھی رہی ہے، اس لیے ان کا وجود انسانوں کے درمیان ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

فرشتے انسانوں کو نظر نہیں آتے، لیکن وہ انسانوں کے نزدیک ایک وجود کے طور پر مانے جاتے رہے ہیں، رسولوں اور کتابوں کا انکار کرنے والے بھی فرشتوں کے وجود کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔

ایک اور بات یہ ہے کہ اللہ، رسول، کتاب اور آخرت کا راست تعلق انسانوں سے ہے، انسانوں کے لیے ناگزیر ہوتا ہے کہ ان کے سلسلے میں وہ کوئی ایک موقف اختیار کریں، چنانچہ کوئی یقین کے ساتھ مانتا ہے اور کوئی صاف انکار کردیتا ہے۔ انسان سے مطالبہ ہوتا ہے کہ وہ دلیل کی بنا پر مانے اور دلیل کی بنا پر ہی رد کرے۔ جب کہ فرشتوں کا راست تعلق انسانوں سے نہیں ہے۔ توحید ورسالت کو مان لینے کے بعد انھیں ماننے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہ جاتی ہے، ضرورت صرف اتنی رہتی ہے کہ ان کے سلسلے میں تصور درست رکھا جائے، اور وہی تصور رکھا جائے جو اللہ کی طرف سے ملے۔

قرآن مجید میں اللہ کی وحدانیت، اس کی الوہیت اور ربوبیت کے دلائل دیے گئے ہیں، رسول اور کتاب کی صداقت وحقانیت کے دلائل دیے گئے ہیں، یوم آخرت کے واقع ہونے کے دلائل دیے گئے ہیں، تاہم فرشتوں کے وجود پر دلائل نہیں دیے گئے، فرشتوں کی ساخت کی تفصیلات بھی ذکر نہیں کی گئیں، البتہ فرشتوں سے متعلق لوگوں کے غلط خیالات کی تردید کی گئی اور فرشتوں کی اعلی صفات کو بیان کیا گیا ہے۔

فرشتوں کے صحیح تعارف کی اہمیت

قرآن مجید میں فرشتوں کا تعارف دراصل عالم بالا کا تعارف ہے، عالم بالا کے سلسلے میں انسانوں کے تصورات اعتقادی پہلو سے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ عالم بالا کے سلسلے میں گم رہی سیدھے اللہ کے سلسلے میں گم رہی کا سبب بنتی ہے۔ دنیا بھر کے مذاہب میں خرابی در آنے کی بہت بڑی وجہ عالم بالا کے سلسلے میں پیدا ہونے والے غلط تصورات ہیں۔

عالم بالا کے سلسلے میں غلط تصورات اللہ کی وحدانیت کے تصور کو مجروح کرتے ہیں اور اللہ کی عظمت کے تصور کو نقصان پہونچاتے ہیں۔ یا تو عالم بالا کی ہستیوں کو بڑھا چڑھا کر انھیں اللہ کا شریک بنادیا جاتا ہے، یا پھر عالم بالا کی ایسی خراب تصویر پیش کی جاتی ہے جو اللہ کی عظمت کے منافی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم بالا کے سلسلے میں صحیح تصور کے بعد ہی اللہ کی ذات وصفات کا شایان شان تعارف ہوتا ہے۔

عالم بالا کے سلسلے میں غلط تصورات اس دنیا کے اخلاقی بگاڑ میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ بہت سی قوموں نے اپنی برائیوں کی ملمع کاری کے لیے عالم بالا کی طرف برائیوں پر مشتمل حکایتیں منسوب کردی ہیں۔ ان حکایتوں کو پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے گویا عالم بالا کا ماحول بھی اتنا ہی خراب ہے جس قدر خراب اس دنیا کا ماحول ہے۔ برائیوں کی ملمع کاری کی یہ بہت خراب شکل ہے، اس کے عام ہوجانے کے بعد برائیوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں، اور آسمانی تعلیمات کا حوالہ دے کر انسانوں کی اصلاح مشکل ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ آسمانی تعلیمات کے علی الرغم آسمان سے منسوب حکایتیں دوسری ہی تصویر پیش کرتی ہیں۔

قرآن مجید عالم بالا کو پاکیزگی سے متصف قرار دیتا ہے۔ وہاں برائی کو ایک لمحہ ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے، قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ (الأعراف: 13) “فرمایا، “اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں گھمنڈ کرے” وہ عالم بالا کو تسبیح سے معمور دکھاتا ہے۔ تسبیح سے معمور اس عالم میں اللہ کی شان کے خلاف کسی تصور کا داخلہ ممکن نہیں ہے۔

فرشتوں کے حوالے سے توحید کی دعوت

فرشتوں کا یہ پہلو کہ وہ کامل عبودیت کی تصویر ہیں، اور عالم بالا کی یہ خوبی کہ وہ شرک سے بالکل پاک ہے، توحید کی دعوت کا طاقت ور موضوع ہیں۔

فرشتوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرنا شرک کا سب سے آسان طریقہ ہے، مادی دنیا کا بے بس اور مخلوق ہونا بہت واضح ہے، مادی دنیا میں کسی کو معبود بنانے میں جو رکاوٹیں پیش آتی ہیں، وہ عالم بالا کی ہستیوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے میں پیش نہیں آتی ہیں، اس لیے شرک کی یہ صورت بہت سے مذاہب میں پائی جاتی ہے، بلکہ زمینی بتوں کی پوجا بھی فلسفیانہ طور پر اس وقت زیادہ مستحکم ہوجاتی ہے جب اس کا رشتہ عالم بالا کی ہستیوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

فرشتوں سے متعلق شرک کی تردید کے قرآنی دلائل ان مشرک سماجوں میں توحید کی دعوت کے لیے بہت مفید ہوسکتے ہیں جہاں شرک کا بہت بڑا حصہ مابعد الطبیعاتی دنیا سے جڑا ہوا ہے، اور جہاں اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی مورتیوں کو عالم بالا کی ہستیوں (دیوی دیوتاؤں) کا روپ بتاکر پوجا جاتا ہے۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا محرک اللہ کی دی ہوئی ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ عالم بالا کی ہستیوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی ہدایتوں پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، اور ساری توجہ ان ہستیوں کو راضی کرنے میں لگ جاتی ہے جن کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں آئی ہوتی ہے۔ عالم بالا کی ہستیوں کے بارے میں یہ تصور ہوتا ہے کہ ان کی تعظیم کرنا ہی ان کو خوش کرنے کے لیے کافی ہے، اور ان کا خوش ہوجانا کامیابی اور نجات کے لیے کافی ہے۔ غرض شرک کی ہر قسم کی طرح یہ قسم بھی اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں سے فرار اور بنا کوشش کامیابی اور نجات کی توقع رکھنے کے لیے ہوتی ہے۔

قرآن مجید عالم بالا کے سلسلے میں کسی بھی تصور کے لیے یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ملا ہو۔ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہونا چاہیے کہ یہ وہ معاملہ ہے جس میں کوئی خیال گھڑنے یا قیاس کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ عالم بالا کا جو حال قرآن مجید دکھاتا ہے وہ کامل اطاعت وعبادت سے عبارت ہے۔ اس عالم میں شرک کے لیے کوئی گنجائش موجود ہی نہیں ہے۔

قرآن مجید کا یہ بیان کہ عالم بالا کی تمام ہستیاں اللہ کی تسبیح میں مصروف ہیں، وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایک لفظ نہیں بول سکتی ہیں، اور وہاں استکبار کا گزر نہیں ہے، عالم بالا کے سلسلے میں ذہن کو روشن اور خیالات کو پاکیزہ بنا دیتا ہے۔

عالم بالا کی جو توصیف قرآن مجید میں کی گئی ہے، اسے انسانوں کے سامنے پیش کرنا توحید کی دعوت میں بہت معاون ہوسکتا ہے۔ اور یہ توحید کی دعوت کا اہم حصہ ہے۔

پرلوک یا عالم بالا کے سلسلے میں دنیا کی مختلف اقوام اور مذاہب کے یہاں جو تصورات پائے جاتے ہیں، وہ جدید ذہن کے لیے ذرا کشش نہیں رکھتے، کیوں کہ وہ تصورات توہمات سے قریب تر ہوتے ہیں، اور اوہام پرستی کا سرچشمہ تصور کیے جاتے ہیں۔

اس کے بالمقابل قرآن مجید فرشتوں کے حوالے سے عالم بالا کا جو تعارف پیش کرتا ہے وہ اوہام وخرافات سے بالکل پاک ہے، نیز اس تصور میں ایسی پاکیزگی اور معقولیت ہے جو اس سے متنفر نہیں ہونے دیتی بلکہ اس سے متاثر کرتی ہے، اور اس سے inspiration فراہم کرتی ہے۔

عالم بالا اور مسلمان

یہ عظیم حقیقت ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو محفوظ کرکے اسے دین کی بنیادوں کا محافظ بنادیا ہے۔ مسلمانوں کے یہاں عام طور سے عالم بالا کے سلسلے میں کسی طرح کی نازیبا باتیں نہیں ملتی ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ قرآن مجید عالم بالا کی ہر نازیبا تصور سے حفاظت کرتا ہے۔ قرآن مجید نے فرشتوں کا بہت صاف اور واضح تعارف پیش کیا ہے۔ اس تعارف کے ہوتے ہوئے کسی نازیبا بات کو ماننے کی گنجائش رہتی نہیں ہے۔

فرشتوں کے بارے میں مسلمانوں کا یہ تصور بہت پختہ ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور پورے طور پر عبودیت کا پیکر ہیں۔ اور اس طرح شرک کا یہ بہت بڑا دروازہ مسلمانوں کے یہاں مضبوطی سے بند ہے۔

البتہ فرشتوں کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان کچھ ایسے تصورات عام ہیں جو فرشتوں پر ایمان کے ثمرات سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھانے دیتے۔ جیسے یہ تصور عام ہے کہ وہ عبادت واطاعت کے لیے مجبور محض ہیں، اور گویا ایک بے شعور وبے ارادہ روبوٹ مشین کی طرح تسبیح میں مصروف ہیں۔ اس تصور کے ہوتے ہوئے فرشتوں کی عبادت واطاعت میں انسانوں کے لیے متاثر کن نمونہ نہیں رہ جاتا، جب کہ قرآن مجید فرشتوں کی اس خوبی کو بہت نمایاں کرکے پیش کرتا ہے۔ وہ یہ تو کہتا ہے کہ فرشتے نافرمانی نہیں کرتے اور ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں کہتا کہ وہ اس کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔ کیوں کہ مجبور کی اطاعت قابل تعریف اور قابل تقلید خوبی نہیں ہوتی ہے، جب کہ قرآن اسے ایک بڑی خوبی کے طور پر ذکر کرتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اعلی خوبیوں کے پیچھے کمال درجے کا شوق اور رغبت موجود ہوتی ہے۔ اور اس وجہ سے وہ انسانوں کے لیے قابل رشک ولائق تقلید نمونہ ہیں۔

اسی طرح مسلمانوں میں یہ تصور بھی عام ہے کہ انسان بحیثیت ایک نوع کے فرشتوں سے افضل واشرف ہے، یا یہ کہ نیک انسان فرشتوں سے افضل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں اور فرشتوں کے درمیان مقابلے کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔ اور اس مقابلے سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ یہ تصور کہ انسان فرشتوں سے افضل ہیں انسانوں کو فرشتوں کی خوبیوں سے inspire اور بہرہ مند ہونے سے روک دیتا ہے۔

قرآن مجید انسانوں کے سامنے فرشتوں کی خوبیاں بیان کرتا ہے تاکہ انسانوں کے اندران خوبیوں کو اختیار کرنے کا جذبہ ترقی پائے، مزید وہ فرشتوں کی اللہ سے قربت کا ذکر کرتا ہے تاکہ اس قربت کا شوق انسانوں میں بھی پیدا ہو۔

غرض قرآن مجید میں فرشتوں کی جو عظمت بیان کی گئی ہے، افضلیت کی بحث سے پرہیز کرتے ہوئے، اس عظمت کو دل میں بٹھانا فرشتوں پر ایمان لانے کا تقاضا ہے، اور یہ انسانوں کے لیے سود مند ہے، اس سے انسانوں کو اپنی اصلاح اور ترقی کا جذبہ اور سامان ملتا ہے۔

قرآن مجید میں فرشتوں کا ذکر خاصان خدا کے طور پر کیا گیا ہے، ان کے مقام پر رشک آنا ایمان کی خوبی ہے۔

فرشتوں پر ایمان میں تزکیہ وتربیت کا سامان

قرآن مجید میں فرشتوں کا تعارف بہت ایمان افروز ہے، یہ تعارف تزکیہ وتربیت کے مدارج طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

فرشتوں کے اوصاف مومنانہ اوصاف ہیں:

قرآن مجید میں مومنوں کو اعلی اوصاف اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اس کے لیے تفصیل سے مومنوں کے اوصاف ذکر کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ قرآن مجید میں اللہ کی بہت سے صفات، نبیوں کی صفات اور فرشتوں کی صفات بھی اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ اہل ایمان کے اندر ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا کا اشتیاق پیدا ہو۔

قرآن مجید میں فرشتوں کی صفات بہت اہتمام کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، ان صفات کی خاص بات یہ ہے کہ وہ فرشتوں کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ مومنوں سے جو خوبیاں مطلوب ہیں فرشتوں کی خوبیاں انھی کی اعلی اور مثالی شکلیں ہیں۔

پانچ صفاتی گلدستہ

درج ذیل آیتوں میں فرشتوں کے حوالے سے عالم بالا کا تعارف کرایا گیا ہے، اور مقصد یہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی بھی شرکیہ تصور کا دروازہ بند کردیا جائے، ساتھ ہی اس تعارف میں اہل ایمان کے لیے اپنی تربیت کا وافر سامان بھی موجود ہے، ان دونوں پہلوؤں سے ان آیتوں پر غور کریں:

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ (26) لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ (27) يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (28) وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ (الأنبياء: 26–29(

’’یہ کہتے ہیں ’رحمان اولاد رکھتا ہے‘ سبحان اللہ، وہ تو بندے ہیں جنھیں عزّت دی گئی ہے۔ اُس کے حضور بڑھ بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اُس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ جو کچھ اُن کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اُس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں۔‘‘

یہاں فرشتوں کی پانچ خوبیاں بیان کی گئی ہیں:

  1. بندگی کا پیکر ہیں، اور اللہ کے یہاں عزت کا مقام رکھتے ہیں۔
  2. اس کے آگے بات میں پہل نہیں کرتے، اللہ کی بات کو ہمیشہ آگے رکھتے ہیں۔
  3. وہ بس اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
  4. شفاعت اسی کی کرتے ہیں جس کے لیے اللہ راضی ہو، گویا اللہ کی پسند ان کی پسند ہوتی ہے۔
  5. اللہ کی خشیت سے لرزاں رہتے ہیں۔

آپ اگر ذہن سے یہ نکال دیں کہ یہاں فرشتوں کے اوصاف کا ذکر ہے تو آپ بول اٹھیں گے کہ یہ تو ایمان والوں کی خوبیاں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ پانچ خوبیاں جس انسان میں پیدا ہوجائیں اس کے مثالی مومن ہونے میں کون شبہ کرسکتا ہے!!۔

سہ صفاتی گلدستہ

سورۃ الصافات کے شروع میں فرشتوں کی تین صفات بتائی گئیں، اور پھر آخر میں بھی وہی تین صفات لفظ وترتیب بدل کر ذکر کی گئیں:

وَالصَّافَّاتِ صَفًّا (1) وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ (165) (صف بستہ ہونا(

فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا (2) وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ (164) (اپنی ذمہ داری ادا کرنا(

فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا (3) وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ (166) (اللہ کا ذکر وتسبیح کرنا(

تین صفات کا یہ گلدستہ مومنوں کی مثالی جماعت کا بہترین شعار بن سکتا ہے۔ اللہ سے گہرا تعلق، اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے بے تکان کوشش اور صف بستہ منظم اجتماعیت، جس جماعت میں یہ خوبیاں پیدا ہوجائیں وہ بے شک اللہ کی جماعت قرار پائے گی، فرشتوں کی ہو یا انسانوں کی۔

ہر لحظہ ہر آن تسبیح

قرآن مجید میں فرشتوں کی تسبیح کا ذکر بار بار اور بہت شوق آفریں اسلوب میں کیا گیا ہے، اس سے ہر مومن کے دل میں یہ شوق پیدا ہونا فطری ہے کہ وہ بھی فرشتوں کی طرح تسبیح کرنے والا بن جائے۔

تسبیح دین کی روح ہے۔ تسبیح اس بات کی علامت ہے کہ ایمان روح میں سرایت کرگیا ہے اور انسانی روح کو وہ کام مل گیا جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا اور جس کے لیے وہ بیتاب رہتی ہے۔

تسبیح اس بات کا اظہار ہے کہ بندے کو اللہ کی عظمت کا ادراک ہوگیا ہے، اللہ اور بندے کا اصل تعلق تسبیح کا ہے، اللہ کو ایک معبود ماننا اللہ سے تعلق کا پہلا زینہ ہے، اور اس کے بعد پھر اللہ کی عظمت کے گن گاتے ہوئے اللہ کی طرف مسلسل زینہ بہ زینہ بڑھتے جانا ہی تسبیح ہے۔

عبودیت کا سب سے اعلی مرتبہ تسبیح واستغفار ہے، اقامت دین اور نصرت حق کا سفر از اول تا آخر ذکر وتسبیح ہے۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (1) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (2) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (3) (النصر(

تکبر سے مکمل بیزاری

تکبر کے ساتھ تسبیح ممکن نہیں ہے، تسبیح کے لیے تکبر سے پاک ہونا ضروری ہے، اگر تکبر کسی کے لیے جائز ہوتا تو فرشتوں کے لیے ہی ہوتا۔ انھیں غیر معمولی قوت دی گئی ہے، ساتھ ہی انھیں بہت اونچا مقام ومرتبہ حاصل ہے، اور انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ بہت سے انسان ان کی پوجا کرتے ہیں، اس سب کے باوجود تکبر ان پر حرام ہے، وہ تکبر سے بالکل پاک ہیں، ان کے جذبہ عبودیت کا عالم یہ ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کرلیا، کوئی ایک فرشتہ بھی تکبر کے فریب میں نہ آیا۔ تکبر کیا تو اس نے جو فرشتوں سے بہت کم تر تھا۔

فرشتوں کی تکبر بیزاری میں انسانوں کے لیے بڑا سبق ہے۔ فرشتوں کے مقابلے میں تو انسانوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، نہ طاقت ہے اور نہ رتبہ ہے۔ پھر انھیں تکبر کیسے زیبا ہوسکتا ہے۔ فرشتے اگر تکبر سے دور رہتے ہیں اور تکبر کرتے ہوئے اللہ کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے تو انسانوں کے دل میں تو اس جسارت کا خیال بھی نہیں آنا چاہیے۔

خرابیوں کی دو بڑی وجہیں ہیں، تکبر کا شکار ہوجانا اور اللہ کی تسبیح سے غافل رہنا۔ ان دونوں کم زوریوں پر قابو پاکر انسان تزکیہ وتربیت کے اونچے مدارج طے کرسکتا ہے۔ فرشتوں کا نمونہ اس سلسلے میں ہماری مدد کرتا ہے، اگر فرشتوں جیسی تسبیح کرنی ہے تو فرشتوں کی طرح تکبر سے پاک رہنا ہوگا۔

غیر مشروط اطاعت شعاری

اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں، تمام فرشتوں نے سجدہ کرلیا، یہ آدم کی عبادت کا سجدہ نہیں، اللہ کی اطاعت کا سجدہ تھا۔ فرشتوں کے اس سجدہ کرنے میں انسانوں کے لیے قیمتی نصیحت ہے، اس سجدے سے ان کے اندر مسجود ملائک ہونے کا فخر پیدا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فرشتوں جیسی تعمیل حکم کی ترغیب پیدا ہونی چاہیے۔ فرشتوں نے تعمیل حکم کی زبردست مثال قائم کی۔ اللہ کے حضور سجدہ کرنے میں انا رکاوٹ نہیں بنتی ہے، لیکن اللہ کے حکم سے آدم کو سجدہ کرنے میں انا کی رکاوٹ بہت بڑی تھی۔ انا کی رکاوٹ کو ٹھوکر مار کر اللہ کی اطاعت کرنا فرشتوں سے سیکھیں۔

کمال درجے کی فرض شناسی

فرشتے اللہ کے ہر حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اور اس اطاعت کی خاص خوبی کمال درجے کی فرض شناسی اور مستعدی ہے۔ اس کی ایک جھلک درج ذیل مناظر میں دیکھی جاسکتی ہے:

إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (17) مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق:17، 18(

“جب کہ دو وصول کرنے والے وصول کرتے رہتے ہیں، ایک دائیں اور ایک بائیں ڈٹے ہوئے۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو”

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ (الأنعام: 61(

“اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں کوتاہی نہیں کرتے”

اللہ تعالی اپنے مومن بندوں کو بھی اپنی طرف سے کچھ خاص ذمہ داریاں دیتا ہے، یہ اللہ کے اپنے کام ہوتے ہیں، جو وہ اپنے مومن بندوں کے ذمے کرتا ہے، جس طرح وہ اپنے کام فرشتوں کے سپرد کرتا ہے۔ اللہ کو اپنے کاموں کی انجام دہی کے لیے کسی کی حاجت نہیں ہوتی ہے، مگر یہ اس کی طرف سے اپنے بندوں کی عزت افزائی اور تکریم ہوتی ہے۔ مومنوں کو اللہ کا دیا ہوا ہر کام کرنے سے پہلے یہ تصور کرنا چاہیے کہ یہ کام فرشتے کرتے تو کیسی فرض شناسی اور مستعدی کے ساتھ کرتے۔

نا قابل شکست جوش وجذبہ

قرآن مجید میں فرشتوں کے بارے میں بتایا گیا کہ “اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے اس میں وہ نافرمانی نہیں کرتے، اور جو حکم دیا جاتا ہے وہ بجا لاتے ہیں۔” اور “تکبر کرتے ہوئے اللہ کی عبادت سے کنارہ نہیں کرتے” گویا فرشتے اطاعت وعبادت کی انجام دہی میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔

اس کے علاوہ قرآن مجید یہ بھی بتاتا ہے کہ فرشتے اللہ کی اطاعت وعبادت اور حمد وتسبیح کمال درجے کے جوش وجذبے کے ساتھ کرتے ہیں۔ فرشتوں کے جذبہ عبادت اور جوش اطاعت کا اندازہ کرنے کے لیے ان کے متعلق قرآن مجید کی تین تعبیریں سامنے رکھی جائیں تو بہت شان دار تصویر سامنے آتی ہے:

  1. لَا يَسْتَحسِرُونَ: وہ سست نہیں پڑتے
  2. لَا يَفْتُرُونَ: وہ دم نہیں لیتے
  3. لَا يَسْأَمُونَ: وہ اکتاتے نہیں

ایک مومن کے لیے یہ تینوں تعبیریں بہت ایمان افروز اور حوصلہ بخش ہیں۔ اللہ کی عبادت، اس کی اطاعت اور اس کے دین کی نصرت جیسے ایمانی تقاضوں کی ادائی میں سست پڑجانا، رک کر دم لینا، اور کرتے کرتے اکتا جانا ایک مومن کو زیب نہیں دیتا۔ یہ تو وہ راہ ہے جس پر اٹھنے والا ہر قدم نئی ہمت اور نیا جوش دے کر اگلے قدم کے لیے تازہ دم کردیتا ہے۔

صف بندی کا دلکش نمونہ

صف بندی اجتماعی اطاعت کی شان دار علامت ہے۔ صف بندی کے ساتھ کام کرنے میں اشارہ ہوتا ہے کہ ٹیم کا ہر فرد کام کے جذبے سے سرشار ہے، اور ان کے درمیان زبردست قسم کا اتحاد واتفاق ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ایک منظم اجتماعیت ہے۔ فرشتوں کی توصیف میں صف بستہ ہونے کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔

يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا (النبأ: 38(

“جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے”

اللہ تعالی مومن بندوں کو بھی اپنے مشن کی خاطر صف بستہ دیکھنا پسند کرتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ (الصف: 4(

“اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں”

اللہ کے رسول ﷺ صحابہ کو اپنے اندر فرشتوں کی خوبیاں پیدا کرنے کی تلقین کرتے تھے، صف بندی کے سلسلے میں آپ کی تعلیم ملاحظہ کریں:

جابر بن سمرۃ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس آئے اور کہا: سنو، اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صف بستہ ہوتے ہیں؟ ہم نے کہا: اللہ کے رسول، فرشتے اپنے رب کے حضور کیسے صف بستہ ہوتے ہیں؟ فرمایا: پہلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں باہم مل مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔” (صحیح مسلم(

ایمان والوں سے گہری دوستی

قرآن مجید میں فرشتے ایمان والوں سے بہت محبت کرتے نظر آتے ہیں، وہ دنیا کی زندگی میں ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرتے ہیں، اور آخرت میں مومنوں کی کامیابی پر بہت زیادہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (غافر: 7(

“عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے آس پاس حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہوتے ہیں وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: “اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو محیط ہے، پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے پر چل رہے ہیں”

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (30) نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (31) (فصلت: 30، 31(

“جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر انھوں نے راست روی اختیار کی، اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ “نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ تمھیں بشارت ہو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھیں حاصل ہوگی”

ایک طرف مومنوں کے لیے اس میں تسلی کا بڑا سامان ہے کہ اللہ کے مقرب ومکرم بندے جنھیں اللہ نے بڑی قوت وقربت سے نوازا ہے، وہ ان کے دوست، خیر خواہ اور پشت پناہ ہیں۔

دوسری طرف مومنوں کے لیے اس میں بڑا سبق بھی ہے کہ وہ اپنے مومن بھائیوں کے لیے فرشتہ صفت دوست، خیر خواہ اور پشت پناہ بن جائیں۔

خاص بات یہ ہے کہ فرشتوں کا جو تعلق ایمان والوں کے ساتھ بتایا گیا ہے، وہی دوسرے مقامات پر ایمان والوں کا ایمان والوں کے ساتھ بھی بتایا گیا ہے۔

فرشتے ان سے محبت کرتے ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے، اور ان سے نفرت کرتے ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے۔ یہ ایمان کا اونچا درجہ ہے، اللہ کے مومن بندے بھی اسی درجے کی جستجو میں رہتے ہیں۔

قرآنی مناظر میں فرشتے ایک طرف نافرمانوں اور سرکشوں پر لعنت بھیجتے نظر آتے ہیں، دوسری طرف اللہ کے مومن اور نیک بندوں کے لیے دعائیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

قیادت کی اعلی مثال

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں میں حضرت جبریل کو سرداری کا مقام حاصل ہے۔ درج ذیل آیتوں میں اس کا ذکر ہے، ان آیتوں کا اصل مقصود تو قرآن مجید کی حقانیت کو مدلل کرنا ہے، تاہم ان میں جو تعبیر اختیار کی گئی ہے اس سے قیادت کا مثالی ماڈل سامنے آتا ہے:

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ (19) ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (20) مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ (التكوير: 19–21(

“بے شک یہ ایک کریم رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ وہ بڑا ہی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک اونچے رتبے والا ہے، وہاں اس کی بات سنی جاتی ہے اور وہ امین بھی ہے۔”

کریم ہونا تمام اخلاقی خوبیوں کا سرچشمہ ہے، قیادت کے لیے قوت اور امانت دو بنیادی اوصاف ہیں، قیادت کا اصل میں مستحق وہ ہے جسے عرش والے کے پاس عزت وقربت کا مقام حاصل ہو، اس کی تائید کے بغیر کوئی کوشش حقیقی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتی، اور ایسے قائد کا یہ حق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ اجتماعی تنظیم کا یہ اسلامی ماڈل ہے، اہل اسلام کے لیے اس میں رہ نمائی کا سامان ہے۔

خلاصہ یہ کہ فرشتوں کو مفوضہ کام اور اس کے لیے عطا کردہ قوتیں تو انسانوں سے بہت مختلف ہیں، لیکن فرشتوں کے اوصاف اور اہل ایمان کے اوصاف میں غیر معمولی توافق پایا جاتا ہے۔ کاموں کے سلسلے میں بھی دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں کے ذمے اللہ اپنے کچھ کام دیتا ہے۔ فرشتے اپنے ذمے کا کام کیسے کرتے ہیں یہ قرآن بتاتا ہے، اہل ایمان اپنے ذمے کا کام کیسے کریں یہ ان کے حوصلے اور عزم کا امتحان ہے۔

یہ درست ہے کہ فرشتے انسانوں کے لیے اس طرح نمونہ نہیں ہیں جس طرح رسول ہوتا ہے، تاہم فرشتوں کے جو اوصاف قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں وہ انسانوں کے اندر زبردست جوش اور جذبہ بڑھانے والے ہیں۔

ستمبر 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau