کتاب نما

تنویر آفاقی

تعارف: تنویر آفاقی

فریضۂ دعوت دین  از محمد اقبال مُلّا

اسلام ایک تبلیغی مذہب ہے اور مسلمان داعی قوم، لیکن فریضۂ دعوت سے عمومی غفلت مسلمانوں کا مزاج بن گیا ہے۔ فریضۂ دعوت کے تعلق سے مسلمانوں کی اس عمومی غفلت نے خود مسلمانوں کی حیثیت ومقام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور انھیں اس دنیاوی انجام سے دوچار کیا ہے جس سے اللہ کے رسولﷺ نے امت کو ڈرایا ہے۔

’فریضۂ دعوتِ دین‘ ایک ایسی کتاب ہے جو دعوتِ دین کی اہمیت اور خاص طور سے ملک کے موجودہ حالات میں اس کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ کتاب کے مصنف جناب محمد اقبال مُلّا دعوت کے عملی میدان سے وابستہ ہیں۔ ایک طویل عرصے سے انھوں نے خود کو دعوتِ دین سے متعلق عملی سرگرمیوں کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔ فریضہ دعوت سے عملی وابستگی کی وجہ سے اس میدان میں جو تجربات انھوں نے محسوس کیے ہیں، اور جو عملی دشواریاں اور کمیاں مسلمانوں کے تعلق سے انھوں نے محسوس کی ہیں، ان کی روشنی میں ہی اس کتاب کو مرتب کیا ہے۔ کتاب کو مرتب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنے اس اولین فریضے سے نہ صرف آگاہ ہوں، بلکہ وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اس کو عملی زندگی کا حصہ بھی بنائیں۔

انھوں نے اس کتاب کے ذریعے عام مسلمانوں کو بالعموم اور خاص طور سے دعوتی کام سے وابستہ لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ مسلمانوں کو ملک کی آزادی کے بعد سے ہی فریضہ دعوت کی ادائیگی کے لیے بہترین مواقع میسر آتے رہے ہیں، لیکن انھوں نے اپنی غفلت کے سبب کبھی بھی ان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔وہ کہتے ہیں کہ ملک میں جو بھی دعوتی کام ہو رہا ہے کہ اس کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہاں دعوتی کام کے مواقع کسی طرح کم نہیں ہیں۔بعض عملی تجربات بھی انھوں نے بیان کیے ہیں اور دعوت دین سےمتعلق ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے جو خود مسلمانوں کے ذہن میں گھر کر چکی ہیں۔ بعض عملی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ملک میں جو بھی انفرادی یا اجتماعی سطح پر دعوتی کوششیں ہو رہی ہیں، برادران وطن بالعموم ان کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں، ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور اس طرح کا تاثر دیتے ہیں کہ اب تک آپ نے یہ پیغام ہم تک کیوں نہیں پہنچایا۔ اسی قسم کا ایک تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ایک پولیس تھانے میں آفیسر نے ایک داعی سے کہا کہ مولوی صاحب! آپ کی باتیں اچھی ہیں، مسلمان یہاں مختلف مسائل او رشکایات کے لیے تھانے میں آتے ہیں، لیکن وہ ہمیں یہ باتیں نہیں بتاتے۔ یہ باتیں بتانے کے لیے آپ کو دوہزار کلو میٹر دور سے آنا پڑا۔ یہاں کے مسلمان ہمیں کیوں نہیں بتاتے؟ آخر ایسا کیوں ہے؟‘‘

مسلمانو ں کے اندردین کا جو محدود تصور جگہ پا چکا ہے اس نے دین کے عملی تقاضوں کو بھی محدود کر دیا ہے اور بہت سے اہم اور ضروری کاموں کو انھوں پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے اندراس فریضے کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں، ان کو بھی بیان کیا ہے۔مثال کے طور پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح ہو جائے اور وہ اعلی سیرت و کردار کے مالک ہو جائیں تو اسلام خود بخود پھیلنے لگے گا، اس کے لیے دعوت کا کام کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس لیے پہلے مسلمانوں کی اصلاح ہونی چاہیے۔ اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اللہ کے رسولﷺ کا کامل ترین نمونہ موجود تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا کہ مکہ اور مدینہ کے لوگوں نے آسانی سے دین قبول کر لیا ہو۔ آپ کو اس کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑی۔ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ مسلمان دعوت کا کام کریں گے تو ملک کے لوگ ان کے دشمن بن جائیں گے، ان پر ظلم و ستم ڈھائیں گے اور فسادات کا دور شروع ہو جائے گا۔ اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں کہ ملک کی آزادی سے لے کر اب تک مسلمان فرقہ وارانہ فسادات اور نسل کشی جیسے اقدامات کا سامنا کرتے آرہے ہیں، کیا یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ وہ دعوتِ دین کا کام کر رہے ہیں؟جب کہ تاریخ کا مطالعہ یہ کہتا ہے کہ اگر مسلمان دعوت کے فریضے کو انجام دیں تو حالات بہتر سے بہتر ہوں گے۔

کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک ہندستان میں دعوت دین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ غیر مسلم نہیں، بلکہ خود مسلمان بنے ہوئے ہیں۔مسلمان اپنے غیر مسلم بھائیوں کے تعلق سے بدگمانیوں اور غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کو مسلمانوں نے اپنا دشمن تصور کر لیاہے، حالاں کہ برادران وطن کی اکثریت نہ ’اسلام دشمن ہے، نہ مسلم دشمن۔‘‘ ایک بڑی رکاوٹ اس راہ میں مسلمانوں کا بگڑا ہوا معاشرہ بھی ہے۔غیر مسلموں کے سامنے جب اسلام کی تعلیمات پیش کی جاتی ہیں تو وہ پوچھتے ہیں کہ ان تعلیمات پر عمل کرنے والے لوگ (مسلمان) کہاں ہیں؟غیر مسلموں کی طرح مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے اونچ نیچ اور ذات پات کے نظام نے بھی دعوت کی راہ کو مشکل بنا رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان ان تمام پہلؤوں سے اپنی اصلاح کر لیں اور اسلام کی تعلیمات اور خاص طور سے دعوتی فریضے کے تعلق سے اپنی غلط فہمیو ں کو دور کر لیں تو یہاں دعوت کا کام زیادہ مشکل نہیں ہے۔

کتاب آٹھ ابواب مشتمل ہے، جن میں دعوت دین کی اہمیت کے علاوہ ملک کے موجودہ حالات میں دعوتی کام کی اہمیت، نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ کا اسوہ، ملک کے اندر پیش آنے والی مشکلوں اور رکاوٹوں کو دور کرنے کا حل، اور دعوت دین کے تعلق سے خواتین کی ذمے داری کو موضوع گفتگو بنایا گیاہے۔

ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

 

مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت  از پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی

تاریخ دعوتِ اسلامی کے دو پہلو بہت نمایاں اور اہم ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان جس علاقے میں بھی فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے، وہاں کے غیر مسلموں کو ان کے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی اور انھیں جبراً اپنا دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا۔ دوسرے یہ کہ مذہبی افہام و تفہیم کا خوش گوار ماحول پیدا کیا، جہاں غیر مسلموں کو اسلام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی اور دوسرے مذاہب کے بارے میں جاننے اور ان کا جائزہ لینے کی بھی کوشش کی جاتی تھی۔ ان دونوں پہلؤوں نے مذہبی مکالمے (dialogue) کی ایک شکل پیدا کر دی تھی۔ مغرب کی موجودہ علمی دنیا میں مذہبی مطالعہ و تحقیق کو خاص موضوع کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن مغرب کا اسلوب اس معاملے میں متعصبانہ اور جانب دارانہ ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں نے مذاہب کے مطالعہ و جائزے کی جو روایت قائم کی ہے وہ بہت مضبوط اور صداقت و دیانت داری پر مبنی ہے۔

’مطالعۂ مذاہب کی اسلامی روایت‘ مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی اسی صحت مند روایت کا ایک واضح عکس پیش کرتی ہے۔کتاب کے مولف پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی گذشتہ تقریباً ۳۲ برس سے تدریس و تحقیق سے وابستہ ہیں۔ فی الوقت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فیکلٹی آف تھیولوجی کے ڈین ہیں اور کئی اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔ متعدد دینی وملی اداروں سے بھی ان کی وابستگی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے گذشتہ تیرہ صدیوں (عہدِنبوی [ساتویں صدی] سے انیسویں صدی) تک کی تاریخ پیش کی ہے جو مطالعۂ مذاہب اور مذاہب کے درمیان مکالمے کی صحت مند روایت کو اجاگر کرتی ہے۔ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے۔پہلے دو ابواب میں عہد نبوی سے بعد کے زمانےتک دیگر اہلِ مذاہب کے ساتھ جو مذہبی مکالمے مسلمانوں کے ساتھ ہوئے ہیں ان کا مفصل ذکر کیا گیاہے۔ ایسے ۳۲ مکالموں کا ذکر کتاب میں کیا گیاہے۔بقیہ ابواب میں سے ہر باب میں ایسی کسی ایک کتاب کا تعارف اور اس کا مکمل جائزہ پیش کیا گیا ہے جس میں مختلف مذاہب کا مطالعہ و جائزہ پیش کیا گیا ہے۔البیرونی کی کتاب ’فی تحقیق ما للہند‘، ابن حزم کی کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل‘، علامہ عبدالکریم شہرستانی کی کتاب ’کتاب الملل والنحل‘، علامہ ابن تیمیہ کی کتاب ’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘، علامہ ابن قیم کی کتاب ’ہدایۃ الحیاریٰ فی اجوبۃ الیہود والنصاریٰ‘، عہد جہاں گیر میں مرتب شدہ کتاب ’دبستان مذاہب‘، سر سید احمد کی کتاب ’تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ والانجیل علی ملۃ الاسلام‘اور مولانا عنایت اللہ چریاکوٹی کی کتاب ’بشریٰ‘ کا تفصیلی تعارف و تجزیہ اس کتاب کے اندر پیش کیا گیا ہے۔

مصنف کا کہنا ہے کہ مسلم علما و محققین کی جانب سے مطالعہ مذاہب پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں–مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ ان میں سے کچھ کا ذکر کتاب کے پیش لفظ میں بھی کیا ہے۔ہندستانی علما نے بھی اپنے یہاں اس روایت کو زندہ رکھا اور اس مقصد سے سنسکرت زبان بھی سیکھی۔

مصنف نے ایک بات یہ کہی ہے کہ مسلمانوں کے یہاں مطالعۂ مذاہب اور دیگر اہلِ مذاہب سے مکالمے کی روایت کسی دوسری قوم کی نقل نہیں ہے، بلکہ یہ روایت انھیں قرآن وسنت سے ملی ہے۔اسے مغرب کی ایجاد کہنا درست نہیں ہے، کیوں کہ مغرب نے تو یہ مطالعہ انیسویں صدی میں شروع کیا ہے۔ کتاب کا تعارف کراتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’ایک عرصے سے مجھے یہ خیال تھا کہ دوسرے مذاہب کے مطالعے کی جو تحریک قرآن سے مسلمانوں کو ملی ہے اور رسول پاکﷺ نے جس طرح دوسرے مذاہب کے علما سے مکالمہ کیا، سلف صالحین نے جس محنت سے دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا اور ان کے پیشواؤں سے مکالمہ اور مناظرہ کیا، نیز دوسرے مذاہب پر جو تحقیقی کتابیں لکھیں، ان کا تعارف اورتجزیہ کیا جائے۔‘‘

موجودہ دور میں اس جیسی کتاب کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی کے بقول ’غیر مسلم حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے مطالعے میں دل چسپی نہیں رکھتے۔ چناں چہ اس کی سخت ضرورت تھی کہ اس موضوع پر مسلمان علما نے جو عظیم الشان لٹریچر یادگار چھوڑا ہے اس سے واقفیت کے وسائل فراہم کیے جائیں۔‘

مسلمانو ں کے درمیان مطالعہ مذاہب کے اس ذوق وروایت کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ان کے درمیان اب تو خود اپنے مذہب کے مطالعے کا بھی شوق کم ہوگیا ہے۔ مغرب نے جس طرح سے ’استشراق‘ کے نام پر اسلام اور اسلامی تہذیب کو تعصب پر مبنی بحث و تحقیق کا موضوع بنایا ہوا ہے، اس کے پیشِ نظر مذاہب کے مطالعے کے سلسلے میں قدیم مسلم روایت کو دوبارہ ان کے سامنے متعارف کرانا بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مطالعۂ مذاہب کے سلسلے میں مغربی و اسلامی اپروچ کے درمیان موازنے کام بھی ہونا چاہیے۔

ناشر: دار المصنفین، شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ

احکامِ ہجرت وجہاد  از مولانا سید جلال الدین عمری

ہجرت اور جہاد اسلامی اصطلاحات ہیں جو قرآن و حدیث، دونوں جگہ بیان ہوئی ہیں۔ اس میں سے ایک،’جہاد‘، ایسی اصطلاح ہے جسے موجودہ دور میں سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ یوں تو تاریخ کے تقریباً ہر دو رمیں اقوام کے درمیان مزاحمتی کشمکشیں جاری رہی ہیں، جن کے اسباب و محرکات مختلف رہے ہیں۔ صلیبی ایک طویل عرصے تک مسلمانوں کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث رہے، مسلمانوں نے بھی ان کے خلاف مسلح مزاحمت کی۔امریکہ نے عراق اور افغانستان پر مسلح حملے کیے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے قدرتی ذخائر پر قبضہ جمانا تھا۔ اس سے عمومی طور پر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اپنے مفادات و مصالح کا دفاع کرنے کے لیے جنگ یا مزاحمت انسان کی جبلت کا حصہ ہے اور کوئی بھی قوم اس سے خالی نہیں ہے۔ لیکن مسلمانو ں کی سیاسی قوت کو زوال آجانے کے بعد جہاد کی اصطلاح کو انتہائی نازیبا اور غلط انداز سے متعارف کرایا جانے لگا، جس کا محرک شاید وہ خوف تھا جو اسلامی قوت کے دوبارہ بحال ہوجانے کی صورت میں اسلام مخالفوں کو ہمیشہ سے لاحق ہے۔اپنے اس خوف کی ترجمانی کے لیےمخالف نے جو ہتھیار چنا، وہ جہاد ہے۔ جہاد کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے جوڑ دیا گیا۔ اسلام سے ناواقف ذہن کو جہاد کے غلط تصور میں اتنا پختہ کر دیا گیا کہ جہاد کالفظ سنتے ہی اس کے ذہن میں دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی تصویر ابھرنے لگتی ہے۔

جہاد کے خلاف اسی غلط پروپیگنڈے کے پیش نظر جہاد کے صحیح مفہوم کو متعارف کرانے کے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ’احکامِ ہجرت و جہاد‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ہجرت کیوں کہ جہاد سے پہلے کا مرحلہ ہے اور قرآن کی ترتیب بھی یہی ہے کہ پہلے ہجرت کا ذکر ہوا اور اس کے بعد جہاد کا۔ اسی مناسبت سے کتاب میں ہجرت اور جہاد دونوں اصطلاحات کا مفصل تعارف کرایا گیاہے۔

کتاب کے مولف مولانا سید جلال الدین عمری ہندستان کی معروف و ممتاز شخصیت ہیں۔ طویل عرصے تک انھوں نے جماعت اسلامی ہند کی قیادت و رہ نمائی فرمائی ہے۔آج کل شریعہ کونسل کے صدر ہیں اور دیگر کئی دینی وملی اداروں کی ذمے داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ زیرنظر کتاب ان کے ان مقالات کا مجموعہ ہے جو گذشتہ تقریباً اٹھارہ برس کے دوران سہ ماہی تحقیقات اسلامی، علی گڑھ میں شائع ہو چکے ہیں۔ کتاب کا تعارف کراتے ہوئے مولف لکھتے ہیں:

’’میں نے ارادہ کیا کہ جہاد سے متعلق قرآن و حدیث کی تعلیمات کوا س طرح مرتب کر دیا جائے کہ ان کے ہی الفاظ میں جہاد کا مفہوم، اس کا مقصد، اس کے شرائط، اصول و آداب اور قواعد و ضوابط تفصیل سے سامنے آجائیں اور کوئی پہلو زیر بحث آنے سے نہ رہ جائے۔‘‘

جہاد کے موضوع پر اگرچہ مولف نے اپنی دوسری کتابوں میں بھی بحث کی ہے، لیکن اس کتاب کے اندر بعض نئے پہلؤوں پر ر وشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔دشمنوں کے خلاف جہاد، جہاد کا تعلق اسلامی ریاست سے، جہاد کی غرض و غایت اور اس کی تیاری، جہاد کے مقاصد، غلبہ دین (اظہارِ دین)، احکامِ جہاد، جہاد کی فرضیت اور عدم فرضیت، جہاد سے پہلے کا مرحلہ (دعوتِ اسلام)، غیر اسلامی ریاست میں جہاد کا حکم وغیرہ جیسے اہم پہلؤوں پر گفتگو کی گئی ہے۔

جہاد کو عام طور پر مسلح جدوجہد تصور کیا جاتا ہے، اس بارے میں مولانا جلال الدین عمری اسی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’قرآن مجید نے مکہ میں بھی ’جہاد‘ کا حکم دیا تھا، لیکن یہ ’جہاد بالسیف‘ نہیں، بلکہ ’جہاد بالحجۃ‘ تھا۔ دوسرy لفظوں میں یہ حکم تلوار کے ذریعے جہاد کا نہیں تھا، بلکہ دلائل کے ذریعے جہاد کا حکم تھا۔‘‘

جہاد کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد فتنے کا خاتمہ اور کم زوروں کی مدد کرناہے۔ اور یہ جہاد کے خلاف غلط پروپیگنڈا ہے کہ جہاد کا مقصد کفر کا خاتمہ کرنا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کفر کے مکمل طور پر استیصال کے مقصد سے تاریخ میں کبھی بھی جہاد نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس مفتوحہ علاقوں میں موجود کفار اور غیر مسلموں کو تمام بنیادی حقوق فراہم کیے گئے ہیں، حتی کہ انھیں اپنے مذہب (کفر) پر عمل کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

آخر میں مولف نے جہاد کے موضوع پر دو اہم کتابوں — الجہاد فی الاسلام اور فقہ الجہاد — کا مختصر تعارف بھی پیش کیا ہے۔

ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز

قرآن مجید اور اسلامی جدوجہد  از پروفیسر خورشید احمد

محترم پروفیسر خورشید احمد کی شخصیت ہندستان کے تحریکی حلقے میں بھی اتنی ہی معروف و محترم ہے جتنی بیرون ملک میں ہے۔ انھیں اللہ تعالی نے خاص علمی وفکری مقام اور مرتبے سے نوازا ہے۔ تحریک اسلامی کے بانی و موسس مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ سے خصوصی فیض حاصل کیا ہے۔ علاوہ ازیں اس زمانے کی دیگر علمی شخصیات مثلاً مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے سمندر علم سے بھی خوب استفادہ کیا ہے۔ اس وقت ان کی حیثیت تحریک اسلامی کے لیے بنیادی فکری رہ نما کی ہے۔ ان کے بہت سی کتابیں اہل علم میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹیوں کے نصاب میں داخل ہیں۔ ماہنامہ ترجمان القرآن میں ان کے اشارات ہر ماہ علمی تشنگی دور کرنے کا ذریعہ تو بنتے ہی ہیں،ساتھ ہی ذہن وفکر کے مختلف گوشوں کو روشنی بھی عطا کرتے ہیں۔ اشارات کی شکل میں ان کے بیش تر مضامین کتابچے کی صورت میں شائع کیے جاتےہیں۔ ہندستان میں ان کتابچوں کی فراہمی آسان نہیں ہوپاتی۔ محدود پیمانے پر اس تشنگی کو دور کرنے کے لیے برادرم ابوالاعلی سبحانی نے ان کے بعض اہم مضامین کو یکجا کرکے شائع کیا ہے۔ ’قرآن مجید اور اسلامی جدودجہد‘ کے نام سے مرتب شدہ اس مجموعے میں ان مضامین کو شامل کیا گیا ہے جوقرآنی تعلیمات کے ان پہلؤوں سے متعلق ہیں جو دعوتی جدوجہد کے سلسلے میں ہماری رہ نمائی کرتے ہیں۔اس میں کل چھے مضامین (قرآن و سنت کا پیغام، قرآن کریم اور ہماری ذمہ داری، نبی اکرمﷺ بحیثیت داعی الی الحق، قرآن، اقامت دین اور مولانا مودودیؒ، دعوت، تربیت اور اقامت دین، اسلام کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی خواہش، اور تفہیم القرآن: فہم قرآن کا چراغ راہ) شامل ہیں۔ ماہنامہ ترجمان القرآن کے نائب مدیر محترم سلیم منصور خالد کےمختصر لیکن جامع مقدمے سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔

مضامین کا تعارف چند لفظوں میں یہ ہے کہ قرآن سنت کا ہمارے لیے پیغام یہ ہے کہ انسان اللہ کا بندہ بن کر رہے، رب کی رضا اس کا مطمح نظر ہو اور رب کی رضا کے لیے اس کے دین کو غالب کرنے کی کوشش ہو اور اللہ کے بندوں کو طاغوت کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے دعوت اور جہاد کو عملاً اختیار کیا جائے۔ قرآن کریم کے تعلق سے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ اس سے تعلق کو مضبوط کیاجائے، اس کا فہم اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، اس سے رہ نمائی حاصل کی جائے اور جو دعوت وہ لے کر آیا ہے اسے پھیلانے اور اس کے نظام کو قائم کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔نبی اکرم کی بنیادی حیثیت بھی داعی کی ہی تھی او ران کا مشن یہی تھا کہ قرآن کی شکل میں جو خدائی ہدایت ان کے پاس آئی ہے اسے عام لوگوں تک پہنچا دیں۔بعد کے مضامین بھی اسی پیغام ومشن کے سلسلے میں بنیادی رہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔

ناشر: ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، نئی دہلی

نومبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau