قافلہ کیوں لٹا

محمد ذکی کرمانی

اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی دل چسپ  پہلو یہ ہے کہ یہاں عملاً اقتدار کی دو سطحیں موجود رہیں ایک وہ جس کی ذمہ داری خزانہ اور سرحدوں کی حفاظت و ارتقاکے ساتھ قانون کی حکمرانی کے ذریعہ امن و امان قائم رکھنا تھا اور دوسری سطح کا تعلق ذہن و فکر کی قلم رو سے تھا۔ خلافت راشدہ کے بعد ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ یہ دونوں سطحیںیکجا ہوگئی ہوں اور حکمران وقت ذہن و فکر کی دنیا کا بھی حاکم تسلیم کرلیا گیا ہو۔ عہد اسلامی کی تاریخ بحیثیت مجموعی ان دونوں سطحوں اور ان پر حکمراں طبقوں کے درمیان ایک ایسے تعلق کی تاریخ ہے جس میں غالب فضا تو افہام و تفہیم سے عبارت تھی لیکن کبھی کبھی ذہن و فکر کی دنیا کی حکمرانی منقسم دکھائی دی اور ایک گروہ یہ سمجھنے لگا کہ اس کا نقط نظرہی صحیح ہے اور دوسرا غلط اور یہ بھی کہ صحیح نقطہ نظر کی حفاظت اور اس کی آبیاری کے لیے ہم خدا کی طرف سے مأمور ہیں۔ خوارج، احمد بن جنبل کا رویہ، یا ابن تیمیہ (جو بہت بعد میں متعارف ہوئے) اور جدید دور میں محمد بن عبد الوہاب اورپھر احیائے اسلام کی کوششوں میں ان عناصر کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اور کیونکہ یہ وہ سطح ہے جو مسلمانوں کی بنیادی شناخت کی تشکیل کرتی ہے اس لیے اسلامی تاریخ یا تو سرحدوں کی توسیع کی تاریخ ہے یا پھر اس مذکورہ شناخت کے ارتقااور اس کی حفاظت کی جدوجہد سے متعلق ہے۔ مسلمان علماو مفکرین نے اس تاریخ کی ہر دو سطحوں کو مرتب کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا۔ چنانچہ سیاسی تاریخ بھی لکھی گئی اور فکر اسلامی پر مشتمل تصورات کے ارتقاکی بھی لیکن کوئی ایسی تاریخ تصنیف نہ کی جاسکی جسے ہم تاریخ تہذیب کہہ سکیں یعنی سیاسی سرحدوں کے زیر سایہ اور فکر اسلامی کے زیر اثر مسلمانوں نے دنیا کے معاملات اور اس کے وسائل کے ساتھ تعامل و تفاعل کس طرح کیا۔ مراد یہ ہے کہ اسلام کے زیر سایہ سیاسی و فکری ارتقاکو تو مرتب کیا گیا لیکن تہذیبی سطح پر کیا ہوا؟ یہ مسلمان مورخین کی توجہ نہ حاصل کرسکا۔ اس تاریخ پر مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم متوجہ ہوئے۔ سائنس اور تہذیب کے مختلف میدانوں میں اسلام کا کیا رول رہا ہے، ہمارے یہاں مخطوطوں ہی میں محفوظ رہا ہے ایسی کوئی تصنیف نہیں پائی جاتی جو یہ بتاتی ہو کہ علوم الوحی کا اثر تہذیب کے ارتقاپر کیا ہوا تھا اور اس کے اظہار میں سیاسی اور فکری مقتدرہ کیا رول ادا کرتی رہی تھی۔ اس میدان میں ایک خاصی موثرکتاب افغان نژاد تمیم انصاری کی Destiny Disrupted ہے جس کا ترجمہ قافلہ کیوں لُٹا؟ کے نام سے ایروز اکیڈمی شائع کرچکی ہے۔

یہ کتا ب بیک وقت تین سوالوں کے جواب مہیا کر نے کی کوشش پر مشتمل ہے۔ اول یہ کہ اسلام کی جغرافیائی توسیع میں اہم کردار کن لوگوں نے، کس پس منظر میں اور کن مقاصد کے لیے ادا کیا؟ دوسرا یہ کہ سرحدوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی شناخت کس کس طرح متاثر ہوئی اور دوسروں کو کس طرح متاثر کیا۔ بالفاظ دیگر فکر اسلامی نے نئے اور بدلتے منظر نامہ میں فی زمانہ کس طرح اپنے آپ کو ظاہر کیا اور اس اظہار میں اسلام کی مقامیت اور عالمگیریت کے پہلو کس طر ح اپنا امتیاز برقرار رکھے رہے۔ تیسرا پہلو یہ کہ اپنے اس تیرہ صدیوں کے سفر میں اسلامی تہذیب یعنی بودو باش، ذرائع حمل و نقل، اشیاکی پیدوار میں تنوع کے ارتقامیں موجود وسائل و ذرائع کے استعمال اور اس کے نتیجہ میں انسانی زندگی کے ارتقاکے میدان میں مسلمان کس طرح ممتاز ہوئے ۔اور یہ بھی کہ حق حکمرانی پر آزادی فکر قربان کرتے ہوئے بنوامیہ کے غاصبانہ قبضہ کے نتیجہ میں جو اثرات انسانی فکر وآزادی پر مرتب ہوئے تھے، وہ بتدریج موثر ہوتے گئے تو عالم اسلام میں کس طرح ظاہر ہوئے کہ ہم آج تک ان سے جانبر نہ ہوسکے ۔ اس کتاب نے بعض بنیادی سوالات کھڑے کیے۔اولاً یہ کتاب جس پیراڈائم کے گرد تصنیف کی گئی ہے اس کا بنیاد ی نکتہ یہ ہے کہ معلوم زمانہ سے دنیا کی تاریخ کا اصل ڈرامہ اس علاقے میں ہی رچا گیا ہے جسے ہم مڈل ایسٹ کہتے ہیں۔ گویا یہ علاقہ دنیا کا مرکز تھا اور یہیں سے علمی فکری مذہبی اور تہذیبی و سیاسی ارتقاکی تاریخ کے تانے بانے بنے گئے تھے۔ یہ تصور قرآن کے بیانیہ سے میل کھاتا ہے جس میں مڈل ایسٹ ہی کے حوالے پائے جاتے ہیں۔ جدید غالب تہذیب نے علاقوں کے نام بھی اپنے اعتبار سے رکھے ہیں۔ چنانچہ اہل مغرب کے لیے مذکورہ علاقہ مشرقی ہے اور ہم مشرق میں رہنے والوں کے نزدیک یہ مغربی ہے لیکن مڈل ایسٹ ہی زبان زد عام ہے ۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جس پر مصنف نے توجّہ مبذول کراتے ہوئے بتایا ہے کہ مغربی استعمار نے عالمی تاریخ کا منظرنامہ کس طرح شعوری یا غیر شعوری طور پر تبدیل کیا ہے۔دوراوّل جسے ہم خلافت راشدہ کہتے ہیں اسلام کا بہترین دور کہا جاتا ہے۔ اس دور کے واقعات جہاں ایسے ہیں جنھیں مشعل راہ سمجھا گیا ہے وہیں ایسے واقعات بھی ہیں جو نہ ہوئے ہوتے تو اچھا تھا۔ واقعات سے ہٹ کر مجموعی فضا کو دیکھا جائے تو یہ آزادیِ فکر و اظہار سے معمور نظر آتی ہے۔ متعدد اور بعض اوقات مختلف تصورات اور نقطہائے نظر کی آبیاری جو پہلی ہی صدی میں ہونے لگی تھی اس ابتدائی دور میں ہی اس کی جڑیں پھیلی تھیں اور یوں اسلام بو قلمونی کے عناصر سے آراستہ ہوا تھا۔ لیکن اسی دورکے بعض واقعات ایسے بھی ہیں اصلاً جن کی نوعیت اور اہمیت سیاسی تھی یعنی انتظامی اور مقتدرہ سے متعلق تھی لیکن آج امت نے انھیں مذہبی درجہ دے دیا ہے اور آج تک ان واقعات کو مذہبی نظر ہی سے دیکھتی ہے۔ چنانچہ خلیفہ اوّل کے زمانہ کی وہ جنگیں ہوں جو حکومت کو زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے نتیجہ میں برپا ہوئیں۔ خلیفہ دوئم کا شراب پینے کی سزا کے سلسلہ میں فیصلہ اور عراق کی زمینیں مجاہدین میں تقسیم نہ کرنے کا فیصلہ، حضرت عثمان کا ترقیاتی پروگراموں کے آغاز میں خلیفہ دوئم کے بعض اقدامات سے اختلاف اور حضر ت علیؓ کے دور کا خلفشار اور مسلمانوں کا مسلمانوں ہی کے ذریعہ خون بہانا وغیرہ جہاں قرآن کے مقامی اور عالمگیرپہلوئوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیںوہیں ایک بنیادی سوال بھی کھڑا کردیتے ہیں کہ آخر کارِ نبوت واقعتا کیا ہے؟ رسول اﷲ اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اس کا مطلب کیا ہے ؟انتظامی امور سے متعلق فیصلے اور ان کے واقعاتی اظہار کو کیا ہم سیاسی اور دینی فیصلوں میں تقسیم کرسکتے ہیں؟ اگر یہ تقسیم صحیح تسلیم کرلی جائے تو کیا اس باہم متصادم تاریخ میں اسلام چلتا پھر تا نظر آتا ہے اور کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تصادم بھی اسلام کے اظہار کے لیے شاید ضروری تھا۔ اگر یہ نہ ہوا ہوتا تو جانے کتنی اقدار اپنے عملی اظہار سے محروم رہتیں۔

اسلام کی ایک بنیادی قدریعنی حق ِ آزادیِ اظہار کوجب اقتدار اعلیٰ کے انتخاب میں سلب کرلیا گیا تو مقتدرہ شدّت سے متاثر ہوئی۔ ایک طرف تو وہ مستقل طور پر عوام سے محبت اور خیر خواہی کے رشتے اور اس کے پُر جوش اظہار سے محروم ہوگئی اور دوسری طرف اس کے تئیں خلاقانہ وابستگی جو خلافت راشدہ کے زمانہ میں موجود تھی بتدریج ختم ہوتی گئی اور اس کی جگہ تقلیدی ذہنیت نے لے لی اور وہی معتبر ٹھہری ۔ چنانچہ بنو امیہ کے دور سے جن خود حفاظتی سرگرمیوں کا آغاز ہوا وہ آج تک جاری ہیں۔ اور یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ حفاظتی فکر اور اس پر مشتمل سرگرمیوں میں شدت کا پایا جانا فطری ہے۔ چنانچہ خوارج سے شروع ہوکر معتزلہ اورا شاعرہ کے مباحثہ عظیم کے بڑے کرداروں میں امام احمد بن حنبل پھرامام غزالی اور پھر ابن رشد، ابن تیمیہ اور پھر محمد بن عبد الوہاب کے اظہارمیں شدت پسندی ڈھونڈ نکالنا ذرا بھی مشکل نہیں۔ اور کیونکہ مذہبی حساسیت اس میں شامل تھی اس لیے اس پورے مباحثہ کو مرتب کرنے اور اس کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کی کوشش اس عظیم الشان طریقے سے ہوئی کہ ایسا لگا کہ عالم اسلام کی پندرہ سو سالہ تاریخ میں علمی و فکری کام انھیں مباحث کے تحت گھومتا رہا ہے۔ حالانکہ اس مباحثہ کے جن بنیادی نکات مثلاًخلق قرآن، کائنات کی قدامت اور علت و معلول کے مسائل ایسے اہم نہ تھے کہ کئی صدیوں تک یہ امت کے عبقریوں کو الجھائے رہیں۔ آج دیکھیں تو بعض مسائل تو مضحکہ خیز ہی ہیں۔

انیسویں اور بیسیوں صدی سے جب اصلاحی تحریکوں کا آغاز ہوا تو بدقسمتی سے ان کی فکر اور اپروچ پر بھی انھیں مذکورہ بالا بحث اور رویوں کا سایہ پڑا رہا اور کوشش یہی رہی کہ فی زمانہ افکار و خیالات کی تصحیح ضروری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فکر کی تصحیح کو اس کے عصری بیان ہی سے متعلق سمجھا گیا ۔ اور اسلام کے شارح صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت کے اس پہلو کو کوئی جگہ نہ مل سکی جہاں ہم آپ کو ایک تہذیب کی تشکیل کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلام کے تہذیبی پہلو سے صرف نظر اتنا واضح نظر آتا ہے کہ ہماری تاریخ یا تو سیاسی تبدیلیوں کا بیانیہ رہی یا پھر نظریہ کے فی زمانہ اظہار کی کوششوں کا۔یہ بات کہ اس نظریہ نے زمین و آسما ن کو کس طرح متاثر کیا اور انسانی زندگی کس کس طرح متاثر ہوتی اس کی تاریخ ہمارے مورخین کا موضوع نہ بن سکی۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میدانوں میں کام نہیں ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلی صدی ہجری ہی سے یہ ہمارے ذہین افراد کی توجہ مبذول کرچکے تھے۔ دانش یونان کے عربی میںمنتقل ہونے سے کوئی ڈیڑھ سوسال قبل ہی یہ جڑیں پکڑ چکی تھی اور خود فارسی اور اس علاقے کی دوسری زبانوں سے عربی ترجمے کی تحریک کا آغاز ہوچکا تھا۔ بد قسمتی سے اس نوع کی سرگرمیاں اور ان کے اثرات جنھوں نے روبہ ترقی مسلم معاشرہ میں ایک نئی تہذیب کی بنیاد پر رکھی اس کے جمع کرنے کا کام اہل مغرب ہی نے کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی و فکری سرگرمیوں کے شانہ بشانہ سائنس و فلسفہ اور ٹکنولوجی کے میدان میں راہنمایانہ کردار کی حامل یہ سرگرمیاں پورے جوش و خروش سے جاری رہیں اور اِنھوں نے دنیاکے ارتقاکے رخ کو متعین کیا۔

پیش نظر کتاب کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے اسلام کی ہمہ جہت تاریخ کو مرتب کرنے کی اس طرح کوشش کی ہے کہ اس عصرمیں اسلام کے قرب و جوار میں کیا ہورہا تھا اس کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جہاں عالم اسلام میں تہذیب ترقی کر رہی تھی اس وقت چین میں ٹکنولوجیکل ترقی کا حال کیا تھا؟ اسلام کی بہت تیز رفتار ترقی میں محض نظریہ کی قوت ہی نہیں بلکہ تجارتی حمل و نقل کا زبردست کردار بھی تھا جو ایک طرف تو اسلام میں بو قلمونی کی وجہ بنا اور دوسری طرف اسلام کے بڑی تیز رفتاری سے پھیلنے کا ذریعہ بھی۔ لیکن اس کتاب کا اہم ترین حصہ وہ ہے جس میں مصنف نے یہ واضح کیا ہے کہ تاریخ اسلام میں مغرب کے دورِ جدید کی آمد سے ذرا قبل جب ہندوستان میں اکبر اعظم اور اس کی اولاد، ایران میں عباس اعظم اور عثمانی خلافت میں سلیمان اعظم کے ا دوار گذرنے کے بعد ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ان تمام علاقوں پر مغرب اس طرح غالب ہوتا گیا کہ ان کے وسائل

مکمل طور پر ان کی تحویل میں چلے گئے اور اکثرو بیشتر اہم سیاسی و انتظامی فیصلے بھی ان کے اشاروں پر ہوتے تھے۔ ان ممالک پر مغربی غلبہ کسی جنگ کے نتیجہ میں نہیں بلکہ جنگ کے بغیر محض knowledge-based industry اور اس کی تجارت کے ذریعہ قائم ہوا۔ اور یہ وہ وقت تھا کہ عالم اسلام قوت کے اس نئے منبع کی طرف بالکل بھی متوجہ نہ تھا۔

یہ کتاب بعض اہم سوالات سے اپنے قاری کو دوچار کرتی ہے۔ جن میں سے چند کی طرف ہم پہلے ہی اشارہ کرچکے ہیں۔ اور ایک آخری سوال یہ ہے کہ فکر کا احیا ء ہو یا اس کا غلبہ کیا تہذیبی ارتقاکے بغیر ممکن ہے ۔ یعنی کیا ہم محض اپنی ذات اور بین الا نسانی تعلقات اور معاشرہ کو خد ا سے متعلق کرکے اقامت دین کا مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا زمین و آسمان میں موجود وسائل سے ہمارے تعلق کو اُسی الٰہی اساس کی ضرورت نہیں ہے جو انسانی تخلیقی قوتوں کو مہمیز کرتی ہو؟ ہماری گذشتہ دو سو سالہ اصلاحی کوششیں اس آخری عنصر سے بالکل خالی نظر آتی ہیں اور امت مسلمہ استعمار کے دور سے نکل آنے کے باوجود آج بھی استعمار میں جکڑی ہوئی ہے ۔اس کی ایک بنیادی وجہ اس مذکورہ تعلق کی طرف سے شدید بے توجہی ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اور خود رسول اﷲ کی سیرت میں اس مذکورہ بالا تعلق کی اہمیت واضح نظر آتی ہے لیکن کیا وہ آج کے ان اداروں، تنظیموں اور تحریکوں میں پائی جاتی ہے جو اسلام کو پھر سے عروج پر دیکھنا چا ہتے ہیں؟۔

اس قسم کے سوالات کو یہ کتاب بخوبی اٹھاتی ہے اور قاری کے ذہن کو ایک فکر ی تموّج سے دو چار کردیتی ہے اور شاید یہی اس کتاب کی اہمیت ہے اور اسی بنا پر اسے قبول عام حاصل ہوا ہے ۔

اکتوبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau