بنگلہ دیش میں سیکولر یلغار

سلیم منصور خالد

اسلامی چھاتر وشبر کے تین کارکن شہید اور : ‘‘سیکڑوں کارکنوں کوگرفتارکرلیاگیا۔ یہ گرفتاریاں ڈھاکہ، سلہٹ، چٹاگاگن، راج شاہی، پبنہ، تنگائل، برہمناباڑیہ، چاند پور، رنگ پوروغیرہ سے عمل میں لائی گئیں۔’’﴿دی ڈیلی اسٹار، ۱۳/فروری ۲۰۱۰؁﴾۔ فروری کامہینہ بنگلہ دیش میں طالب علموں کی اسلامی تحریک اور جماعت اسلامی کے لیے ابتلاو آزمایش کاکڑاموسم لے کر آیا۔

اگرچہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران میں عوامی لیگ کابنیادی ہدف بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر ہی رہی ہے، لیکن یہ ساری یلغار منفی پروپیگنڈے ، بیانات اور دھمکیوں تک محدود تھی۔ تاہم فروری ۲۰۱۰؁ کے پہلے عشرے میں لیگی حکومت نے ان پر دائرۂ حیات کو تنگ کرنے کے لیے گوناگوں اقدامات شروع کیے۔ ان واقعات کے ذکر سے ذرا پیچھے نظردوڑاتے ہیں تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں۔

تھنک ٹینک سائوتھ ایشین اینلسز گروپ (SAAG)اپنی ۷۲/جون ۲۰۰۷؁ کی تحقیقی رپورٹ نمبر ۲۲۷۵میں بھارت اور بنگلہ دیش کی حکومتوں کو خبردار کرتاہے: ’’بنگلہ دیش میں جمہوریت کے لیے خطرہ: اسلامی چھاترو شبر ہے۔‘‘ اسلامی چھاتروشبر فروری ۱۹۷۷؁ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کی جامع مسجد میں تشکیل دی گئی اور اس نے ۱۹۸۲؁ میں چٹاگانگ یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کاالیکشن جیت کر تعلیمی اداروں میںاسلامی فکر کی ترویج کاکام شروع کیا۔ آج وہ بنگلہ دیش میں جمہوریت اور سیکولرزم کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔‘‘ اس طرح واضح ہدف دیاگیاکہ آیندہ کیا کرنا مطلوب ہے، یعنی شبر اور جماعت اسلامی کو نشانہ بنانا۔ یہ ہے وہ کھیل جو قدم بہ قدم آگے بڑھتا ہوا آج کے بنگلہ دیش کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا منظر بھی دیکھیے۔ ۲۰۰۸؁ سے بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور چھاترو شبر مسلسل عوامی لیگ کے نہایت زہریلے بلکہ گالیوں اور بے ہودہ الزامات سے آلودہ پروپیگنڈے کی زد میں رہیں، کیونکہ وہ سال انتخابات کا سال تھا۔ اسی سال الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی سے مطالبہ کیاکہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ سے متعلق اپنے دستور، منشور اورلائحہ عمل میں تبدیلی کرے۔ یہ نفسیاتی، ابلاغی اور ادارتی سطح پر عجیب نوعیت کادبائو تھا، جس نے جماعت اور اس کی برادر تنظیمات کے لیے پریشانی پیدا کی۔

۲۴/جنوری کو بنگلہ دیش الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل کو خط لکھاکہ وہ جماعت اسلامی کا چارٹر تبدیل کریں، اپنے پروگرام میں سے اس نکتے کو حذف کریں کہ جماعت ، بنگلادیش میں منظم جدوجہد کے ذریعے اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔ پھر جماعت اسلامی کے دستور کی ان بہت سی دفعات کو ختم کیاجائے جواپنے وابستگان کو اسلامی نظام کے نفاذ کی راہیں دکھاتی ہیں۔ ایسا لائحہ عمل ریاستی دستور کے مزاج کے یک سر منافی ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی نے اپنے دستور میں اور تمام تنظیمی سطحوں پر قائم شدہ کمیٹیوں میںعورتوں کو ۳۳ فیصد نمایندگی دینے کا بھی اہتمام نہیں کیاہے۔ پھر جماعت اسلامی نے غیرمسلموں کو پارٹی ممبر شپ دینے کے اعلان کے باوجود انھیں پارٹی پروگرام کاپابند بنایاہے، اور وہ پروگرام اسلامی نظام کا نفاذ ہے، یہ بات ان غیرمسلموں سے امتیازی سلوک روا رکھنے کی دلیل ہے۔ ان تما م نکات کی روشنی میں اگر جماعت اسلامی نے اپنے معاملات کو دی گئی ہدایات کے مطابق درست نہ کیا تو ری پریزنٹیشن آف دی پیپلزآرڈر (RPO)کے تحت جماعت اسلامی کی موجودہ حیثیت تحلیل کردی جائے گی۔‘‘ ﴿ڈیلی اسٹار، ۲۵/جنوری ۲۰۱۰؁ ﴾

ابھی الیکشن کمیشن کے اس نادر شاہی حکم کی صداے بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ آناً فاناً ۳/فروری کوڈھاکہ یونی ورسٹی میں ایم اے کے طالب علم اور اسلامی چھاتروشبر کے کارکن ابوبکر صدیق کو شہید کردیاگیا۔ ۱۱/فروری کو پولیس ہی کی موجودگی میں اسٹوڈنٹس لیگ کے غنڈا عناصر نے راج شاہی یونی ورسٹی میں اسلامی چھاترو شبر کے کارکن اور ایم اے فائنل کے طالب علم حفیظ الرحمن کو گردن میں گولی مارکرقتل کیا اور دیر تک میت کو گھیرے رکھا مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی۔ ۱۲/فروری کو چٹاگانگ یونی ورسٹی میں اسلامی چھاتر وشبر کے کارکن محی الدین کو قتل کردیاگیا اور تادم تحریر تدفین کے لیے میت نہیں دی گئی۔ ساتھ ہی اسلامی چھاترو شبر کے ۹۶کارکنوں کو جیل میں دھکیل دیاگیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن، اخبارات، وزرائ او ر پولیس افسران کے بیانات نے فضا کو مزید دھواں دار بنادیا۔ داخلہ امور کے وزیر مملکت شمس الحق ٹوکو نے کہا: ‘‘ہم راج شاہی یونی ورسٹی اور راج شاہی شہر سے اسلامی چھاترو شبر اور جماعت اسلامی کو ختم کرکے دم لیں گے۔’’ اس کے پہلو بہ پہلو یہ خبر بڑے تسلسل کے ساتھ نشرکرناشروع کی گئی : ‘‘امریکا ، اسلامی چھاتروشبر کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کررہاہے۔‘‘

جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی اور جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے بیانات میں مطالبہ کیاکہ ’’راج شاہی یونی ورسٹی کے الم ناک واقعے کے ساتھ دیگر تعلیمی اداروں میں قتل و غارت گری کے تمام واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمے داران کا تعین ہوسکے۔ اس منفی پروپیگنڈے سے پیدا شدہ فضا کو صاف کیاجاسکے اور حقائق کو منظرعام پر لایاجاسکے۔ جماعت اسلامی پُرامن، جمہوری، عوامی اور دعوتی پروگرام پر یقین رکھتی ہے، جس میں تشدد کا راستہ اپنانے کی کوئی گنجایش نہیں۔ ﴿ایضاً، ۱۲/فروری ۲۰۱۰؁﴾

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمن نظامی نے اس کرب ناک صورت حال پر ۱۷/فروری کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا: ‘‘۱۱/فروری کو جہاں ایک طرف اسلامی چھاترو شبر کے کارکنوں کو ماراگیا، وہاں دوسری جانب راج شاہی میں جماعت اسلامی کے امیر اور اسکول ٹیچر عطائ الرحمن کو گرفتارکیاگیا اور پانچ روز تک ٹارچر سیل میں رکھاگیا۔ ۱۲/فروری کو جماعت اسلامی چٹاگانگ کے امیر اور ممبر پارلیمنٹ شمس الاسلام کو پُرامن احتجاجی جلوس کی قیادت کرنے پر اس حالت میں گرفتار کیاکہ عوامی لیگ کے مسلح کارکنوں نے پولیس کی موجودگی میںجلوس پر دھاوا بول دیا اور ۰۰۱ سے زیادہ کارکنوں کو مارتے پیٹتے ہوئے جیل میں دھکیل دیا۔ ۱۲/فروری کو ہی جماعت اسلامی سلہٹ کے پُرامن اجلاس پر لاٹھی چارج کیاگیا اور عوامی لیگ کے مسلح افراد نے حملہ کرکے بیسیوں کارکنوں کو پکڑپکڑکر پولیس کے حوالے کیا۔ مسلح غنڈوں نے جماعت اسلامی اور اسلامی شبر کے کارکنوں کے گھروں پر حملے کیے، دکانوں اور تعلیمی اداروں میں گھس کر کارکنوں کو سڑکوں پر لایاگیا اور تشدد کانشانہ بنایاگیا۔ اس موقعے پر پولیس خاموشی سے تماشا دیکھتی رہی۔ یہ واقعات فسطائیت کی تصویر اور جمہوریت کی توہین اور انسانیت کی تذلیل ہیں، جنھیں کوئی باشعور فرد برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘

ان واقعات کی کڑیوں کو ملانے سے پیدا شدہ صورت حال، مستقبل کے ایک سنگین منظرنامے کی طرف توجہ دلاتی ہے:

۱- سیکولرقوتیں، موجودہ عالمی فضا سے فائدہ اٹھاکر، دینی قوتوں کو میدان سے باہر نکالنے کے لیے ہر منفی حربہ استعمال کریںگی۔

۲- اس شاطرانہ عمل کے لیے امریکا سے ہمدردی کا دم بھرتے ہوئے ڈپلومیٹک فائدہ اٹھائیںگی۔

۳-مسلم دنیا کی ایسی پٹھوحکومتوں کو چوں کہ امریکا، اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے، اس لیے ان کے اختیار کردہ فسطائی ہتھکنڈے سلامتی کونسل کی نظر میں جائز قرار پائیں گے۔

۴- اسلام اور اسلامی پروگرام کی اشاعت و ترویج کے جملہ اداروں کے خاتمے کے لیے مسلم قومی حکومتیں کسی بھی انتہاتک جاسکتی ہیں۔

۵- یہ حکومتیں، اسلامی پارٹیوں کے پروگرام کے اُن چھوٹے سے چھوٹے اجزائ تک کے خاتمے کی کوششیں کریںگی جہاں دین سے تعلق نظرآتا ہو۔ جہاں جہاںاسلامی تحریک، مقتدر قوتوں کے لیے سیاسی چیلنج بنے گی۔ وہ پر اسے اسی نوعیت کے اقدامات کاسامناکرناپڑسکتا ہے۔

۶-مسلم اُمہ میں اس صورتِ حال کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا گیا تو یہی ماڈل دیگر مسلم ممالک میں بھی روبۂ عمل آسکتا ہے۔

اندریں حالات بنگلہ دیش میںاسلامی تحریک کے مظلوم کارکنوں اور حامیوں کو اس سوال پر غور و فکر کرنا ہے کہ ایسے کسی خطرے کا مداوا کس طرح کیاجائے؟ اس سوال کا جواب ایک ہی ہے: اور وہ یہ ہے: ’’ایمان اور کردار کی مضبوطی ، تنظیم کی پختگی، دعوتِ دین کا شوق، علم وفضل کی گہرائی اور اپنے دائرے میں سمٹنے کے بجائے معاشرے کے اندر پھیل جانے کاجذبہ۔‘‘ اگر یہ چیزیں وافرمقدار میں موجود ہوںگی تو یقینا ایسی کسی یلغار کو روکا بلکہ پسپا ہونے پر مجبور کیاجاسکتا ہے۔

﴿بہ شکریہ ترجمان القرآن، لاہور﴾

جون 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau