وِراقہ :  اسلامی تمدن کا درخشاں باب

محمد المختار ولد احمد | ترجمہ: محمد علی اختر ندوی

(اسلامی تمدن سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے اس مضمون میں بہت مفید مواد ہے۔ مدیر)

ابن ندیم کے نام سے مشہور نسخ نویس محمد بن اسحاق بغدادی (م: 995ء) اپنی کتاب ‘الفھرست’ میں عیسائی فلسفی یحٰیی بن عدی منطقی (م: 975ء) کے بارے میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے تفسیر طبری کے دو نسخوں کے علاوہ متکلمین کی بے شمار کتابوں کے نسخے اپنے ہاتھوں سے لکھے تھے۔

یہ بات حیرت انگیز لگ سکتی ہے، مگر اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ اسلامی تمدن میں علم و معرفت کی صنعت پختگی اور وسعتِ دامانی کے اس بلند مقام تک پہنچ گئی تھی جہاں غیر مسلموں کے لیے بھی اس پیشے سے وابستگی کا دروازہ بغیر کسی روک تھام کے کھلا ہوا تھا اور وہ بھی اس حد تک کہ وہ تفسیر ِقرآن جیسے خالص اسلامی میدان سے بھی وابستہ ہوسکتے تھے۔ اس کی وجہ صاف ہے کیوں کہ پیشہ ورانہ صنعتیں معروضی اصولوں کے تحت کام کرتی ہیں، جہاں دینی اور طبقاتی وابستگی کی جگہ مصنوعات کی عمدگی کو معیار مانا جاتا ہے؛ اچھی مصنوعات رائج ہوجاتی ہیں اور خراب ردی کی ٹوکری کی نذر ہوجاتی ہیں۔

وِراقہ (نسخ نویسی گرچہ اس کا سب سے اہم جزء ہے مگر کتابوں کی نشر و اشاعت کی صنعت سے متعلق جملہ امور جیسے کاغذ سازی، جلد سازی، کتب فروشی وغیرہ اس میں شامل ہیں) اسلام کی درخشاں تاریخ و تہذیب کا نمایاں باب اور انسانی تمدن کے لیے اسلامی تہذیب کا ایک بیش قیمت علمی تحفہ تھا۔ اس صنعت کی وسعت اور فروغ سے کتابوں کی فراوانی ہوئی اور عوامی یا ذاتی لائبریریوں کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا۔اس سے علم و فن کے ارتقا کی رفتار تیز ہوگئی۔ دور جدید تک وجود میں آنے والا انسانی تاریخ کا سب سے عظیم علمی ورثہ ہو، یا سنہ 1450ء میں جرمن نژاد یوہان گوٹن برگ(م: 1468ء) کے ہاتھوں پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد معلومات میں بے پناہ اضافہ(انفارمیشن اکسپلوژن)، اسی صنعت کا نتیجہ ہے۔

اس مضمون میں اسی صنعت کی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے جو تقریبًا بارہ صدیوں تک زندہ و متحرک رہی اور علمی و تہذیبی سرگرمیوں کے تب و تاب سے چمکتی رہی۔ ہم اس دور سے متعلق کچھ دل چسپ اور حیرت خیز حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔

ورّاقوں کی دنیا میں سیر کرتے ہوئے ہم دیکھیں گے کہ کتابوں کی صنعت کیسے ورّاقوں کی کوششوں سے، جن کی صفوں میں معاشرے کے فکری، ادبی، دینی اور مسلکی تمام حلقوں کے افراد شامل تھے، پورے عالم اسلام میں گشت کرتی رہی۔ یہی نہیں بلکہ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ اس صنعت کے تحت بڑے بڑے علما، امرا، مشاہیر، اور گھریلو خواتین نے بھی حلال روزی کی تلاش میں کتابوں کے نقل و نسخ کا پیشہ اختیار کیا۔

آغاز

اسلامی تاریخ میں دوسری صدی ہجری / آٹھویں صدی عیسوی کو عہدِ تدوین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب علم و معرفت کے چشمے ابل رہے تھے اور ضروری ہوگیا تھا کہ علم و معرفت کے خزانوں کو زبانی یادداشتوں سے تحریری نوشتوں میں منتقل کرکے انھیں آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کر دیا جائے۔ دوسری طرف عراق، و ایران، اور شام و مصر میں اسلامی فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کا اختلاط وہاں کی مختلف تہذیبوں اور ادیان سے ہوا اور مذہبی اور علمی مباحثوں کا بازار گرم ہوگیا، جس سے ترجمے کی تحریک پروان چڑھی اور تدوین و تحریر کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ تدوین و تحریر کو مزید وسعت اور فروغ دو اور اہم عوامل سے ملا۔ ایک تو وہ مقام و مرتبہ جو اموی اور عباسی دور میں دواوین لکھنے والوں یعنی سرکاری منشیوں کو حاصل تھا، اور دوسرا عباسی عہد کے آغاز میں لکھنے کے لیے کاغذ کا استعمال۔ دوسری صدی ہجری کی ساتویں دہائی میں جب ہارون رشید خلیفہ تھا، بغداد میں کاغذ کے پہلے کارخانے کی بنیاد پڑی اور پھر کاغذ کا استعمال عام ہونے لگا اور کتابوں کی صنعت کا آغاز ہوا جو تالیف و ترجمہ دونوں طرح کی کتابوں کی نشر و اشاعت پر مبنی تھی۔ جلد ہی کتابوں کی صنعت نے اسلامی تمدن میں ایک فن اور پیشے کا درجہ حاصل کرلیا جسے وِراقہ اور اس سے وابستہ افراد کو ورّاق کہا جانے لگا۔ اس سے وابستہ ہونے والوں میں فکری، ادبی، دینی اور مذہبی تمام حلقے کے افراد شامل تھے۔ اس صنعت کے اپنے اصول و قواعد اور الگ بازار بن گئے، اس کی شاخیں وجود میں آگئیں اور یہ ایک نفع بخش صنعت کے طور پر مستحکم ہوگیا۔

اولین ورّاق

تاریخ کے زاویے سے دیکھیں تو وِراقہ کی ابتداپیشے کے طور پر قرآن کریم کے نسخے نقل کرنے سے ہوئی۔ ابن ندیم نے ‘الفہرست’ میں لکھا ہے کہ لوگ اجرت پر قرآن نقل کرتے تھے۔ انھوں نے مصحف نقل کرنے والوں کے نام بھی گنائے ہیں۔ عمرؓ بن خطاب(م: 645ء)کے غلام عمرو بن نافع (م: 681ء) وہ پہلے شخص ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مصحف کے نسخے لکھ کر فروخت کرتے تھے۔ ابن ندیم نے محمد بن اسحق(م: 769ء) کے حوالے سے لکھا ہے کہ خالد بن ابی ہیاج (م: 719ء) وہ پہلا شخص ہے جس نے اسلامی دور کے آغاز میں مصحف کے نسخے تیار کیے۔ وہ خوش خطی کے لیے مشہور تھا۔ حالاں کہ ورّاق کا لفظ سب سے پہلے رجاء بن مطر بن طہمان خراسانی (م: 748ء) جو کہ مطر الورّاق کے نام سے مشہور تھا، کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسی لیے ہم بھی انھیں عمید الوراق (پیشوا ورّاق) کہیں گے۔ امام جمال الدین مِزّی(م: 1341ء) ‘تہذیب الکمال’ میں رقم طراز ہیں کہ وہ (رجاء بن مطر) بصرہ میں رہتے تھے اور قرآن کے نسخے نقل کرتے تھے، اسی لیے ‘مصحفی ‘کے لقب سے مشہور ہوئے۔ انھیں کے معاصرین میں مساور بن سوار بن عبد الحمید کوفی(م: 768ء) تھے جو ‘اکمال تہذیب الکمال’ کے مصنف امام علاء الدین مغلطای(م: 1361ء) کے مطابق ‘مساور الورّاق’ کے نام سے معروف تھے، اور حدیث بھی روایت کرتے تھے۔

دوسری صدی ہجری کے وسط سے قرآن کے ساتھ احادیث، صحابہ و تابعین کے فتاوی اور عربی زبان و ادب کی تدوین بھی شروع ہوگئی اور مختلف علوم میں کتابیں تصنیف کی جانے لگیں۔ ان ابتدائی تصنیفات میں سے جو کتابیں ہم تک پہنچی ہیں اور جن کے مصنفین کے بارے میں ہم یقینی طور پر جانتے ہیں، ان میں امام مالکؒ (م: 795ء) کی ‘مؤطا’، امام شافعیؒ (م: 819ء) کی ‘رسالہ’، امام محمدؒ (م: 805ء) کی ‘مبسوط’، نحو میں سیبویہ (م: 795ء)کی ‘الکتاب’،خلیل بن احمد فراہیدی (م: 175ء)، کی ‘قاموس العین’ اور منتخب عربی اشعار کے بعض مجموعے جیسے ‘مفضلیات’ اور ‘اصمعیات’ شامل ہیں۔

ارتقا

تشنگان علم کی کثرت، اور پاسبان علوم کی تصنیف و تالیف پر توجہ کے نتیجے میں ذاتی محرر رکھنے کی روش شروع ہوئی، ہر عالم کے ساتھ کوئی نقل نویس ہوتا، ہر شاعر اپنے اشعار کی حفاظت و روایت کے لیے ایک راوی کو ساتھ لے کر چلتا۔ حبیب بن ابی حبیب (م: 833ء) امام مالکؒ کے نقل نویس تھے۔ محمد بن سعد (م: 845ء) واقدی کے محرر تھے۔ یہ چلن نہ صر ف علما و ادباء کے حلقوں میں عام ہوا بلکہ خلفاء و امراء بھی اپنے ساتھ نقل نویس رکھنے لگے۔ اِس زمانے میں جس طرح مشہور مصنفین اپنی تالیفات کی نشر و اشاعت کے لیے کسی خاص ناشر کو پسند کرتے ہیں اسی طرح اُس زمانے میں بھی علما و ادباء مخصوص نسخ نویسوں کو ترجیح دیتے تھے۔ محمد بن ابی حاتم (م: 870ء) امام بخاریؒ (م: 870ء) کے نسخ نویس تھے جو سفر و حضر میں ساتھ رہ کر ان کی کتابیں تحریر کرتے۔ احمد بن محمد نباجی (م: 945ء) یحیی بن معین (م: 848ء) کے کاتب تھے اور ان سے احادیث روایت کرتے تھے۔ جلال الدین سیوطی (م: 1505ء) نے ‘تاریخ الخلفاء ‘میں ذکر کیا ہے کہ عباسی خلیفہ معتمد (م: 892ء) کا ایک خوش نویس تھا جو سونے کے پانی سے اس کے اشعار قلم بند کرتا۔ کبھی کبھی ایک ہی شخص کے پاس دو دو نسخ نویس ہوتے۔ واقدی اور ‘کتاب الاموال’ کے مصنف ابو عبید قاسم بن سلام (م: 839ء) کے پاس دو نقل نویس تھے۔ صاحب سنن ابو داؤد کا ایک نقل نویس بغداد میں اور دوسرا بصرہ میں رہتا تھا۔ روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاحظ (م: 869ء) کو بھی دونقل نویسوں کی خدمات حاصل تھیں۔ ایک ابو القاسم عبد الوھاب بن عیسی بغدادی (م: 839ء) جن کے بارے میں امام سمعانی (م: 1167ء) نے اپنی کتاب ‘الانساب’ میں لکھا ہے کہ وہ جاحظ کے نقل نویس تھے اور بغداد سے تعلق رکھتے تھے، اور دوسرے یحیی بن زکریا بن یحیی، جن کے بارے میں أبو علی القالی (م: 967ء) ‘الامالی’ میں ایک شعر کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ میں نے جاحظ کے نقل نویس ابن زکریا کی تحریر میں ایسا ہی پایا۔

تیسری صدی ہجری میں کتاب سازی کی صنعت ابن خلدون (م: 1406ء)کے الفاظ میں نہ صرف یہ کہ دور دور تک پھیل چکی تھی بلکہ دن بہ دن ترقیوں کے زینے طے کر ر ہی تھی۔ اس کی ذیلی شاخیں وجود میں آچکی تھیں۔ وِراقہ کا دائرہ اب صرف نسخ نویسی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں نسخ و نقل کے علاوہ، تصحیح (پروف ریڈنگ)، جلد سازی، کاغذ و کتب فروشی اور کتابوں کی نشر و اشاعت سے متعلق دیگر امور داخل ہوگئے تھے۔ جلد ہی وِراقہ کی صنعت سے متعلق دکانیں وجود میں آگئیں، بلکہ بڑے بڑے شہروں میں ورّاقوں کے بازار تھے جہاں صرف وِراقہ سے متعلق اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ بعض ورّاق حکومت کی طرف سے قائم کردہ لائبریریوں جیسے بغداد میں عباسیوں کے دار الحکمت، قاہرہ میں فاطمیوں کے دار العلم اور قرطبہ میں امویوں کے خزانة العلوم میں خدمات انجام دیتے تھے۔

ابن خلدون سے چار صدی قبل ابو حیان توحیدی (م: 1010ء) کے ایک خط میں جو کہ ‘الامتاع و الموانسہ’ میں شامل ہے، ہمیں وِراقہ کے بعض لوازمات مثلا روشنائی، کاغذ، جلد، پروف ریڈنگ، موازنہ اور تصحیح وغیرہ کا ذکر ملتا ہے ۔

مشہور ہے کہ جاحظ ورّاقوں کی دکان کرایہ پر لے کر رات بھر مطالعہ میں مصروف رہتے تھے۔ سیاح مقدسی بشاری (م: 991ء) نے اپنی کتاب ‘احسن التقاسیم’ میں اہل اندلس کی تعریف میں لکھا ہے کہ وہ وِراقہ کے فن میں سب سے فائق تھے۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وِراقہ کی صنعت نے اندلس میں حیرت انگیز ترقی کی۔ قاضی ابو مطرف عبد الرحمن بن محمد قرطبی (م: 1012ء) کے پاس جو بعد میں وزیر بنے، چھ نقل نویس تھے جن کا کام ان کے لیے کتابیں نقل کرنے کا تھا، ان سب کی تنخواہیں مقرر تھیں۔ 

ہزاروں مرد و خواتین کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ اس پیشے سے وابستہ رہے۔ مشاہیر علما، ادباء، غلام، موالی، اور سابق بادشاہوں کی اولاد سے امراء تک نے اس پیشہ کو اپنایا۔ امام احمد بن حنبل کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے بھی ورّاق کا کام کیا، شاید طالب علمی کے زمانے میں فاقوں سے بچنے کے لیے انھوں نے اجرت پر کچھ کتابیں نقل کی ہوں۔ امام ابو نعیم اصبہانی (م: 1040ء) نے ‘حلیۃ الاولیاء’ میں ایک دل چسپ قصہ نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل کو کچھ مال کی ضرورت تھی، ان کے ایک ساتھی نے چاہا کی ان کی مدد کردیں، مگر احمد بن حنبل قرض یا مفت مال لینے پر راضی نہیں ہوئے۔ ان کے ساتھی کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ بطور معاوضہ انھیں مال پیش کریں تو پوچھا کیا اجرت پر میرے لیے ایک کتاب نقل کردو گے، احمد بن حنبل نے حامی بھر لی تو اس نے ایک دینار پیش کیا (جو کہ آج کے ۲۰۰ امریکی ڈالر کے برابر تھا) اور کاغذ لے کر آئے جس پر انھوں نےکتاب نقل کر دی۔ 

علما کی وِراقہ سے وابستگی

تہذیبی طور پر وِراقہ کے پیشے کو یہ شرف حاصل ہے کہ اکابر علما نے روزگار کے لیے اس پیشے کو اختیار کیا۔ امامِ نحو معتزلی قاضی ابو سعید سیرافی(م: 977ء) کے بارے میں سمعانی نے اپنی کتاب ‘الانساب ‘میں نقل کیا ہے کہ وہ زہد کی نشانی تھے صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے۔ دار القضاء یا تدریس کے لیے جانے سے پہلے روزانہ دس صفحات نقل کرتے، جس کی اجرت دس درہم (تقریبًا ۱۲ امریکی ڈالر) ہوتی تھی، یہی ان کا کسب ِمعاش تھا۔ اپنے زمانے میں حنابلہ کے امام ابن مروان بغدادی(م: 1013ء) اس پیشے سے وابستگی کے لیے مشہور تھے یہاں تک کہ ان کا لقب ہی ورّاق بن گیا تھا۔ خطیب بغدادی نے ان کا ذکر ‘حنبلی ورّاق ‘کے لقب سے کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ اصحاب ِامام احمد کے استاذ اور اپنے زمانے میں ان کے سب سے بڑے فقیہ تھے۔ ان کی متعدد شاہ کار تصنیفات ہیں۔ امام ذہبی (م: 1347ء) ‘سیر اعلام النبلاء ‘میں رقم طراز ہیں کہ ابن مروان کا ذریعۂ معاش نقل نویسی تھا اور وہ کثرت سے حج کرتے تھے۔ ان کی طرح مسلم شریف کے راوی ابو احمد نیسابوری(م: 979ء) بھی زہد و ورع میں مثال تھے۔ ان کے وفات پر صحیح مسلم کی سماعت تمام ہوگئی۔ ان کا پیشہ بھی نقل نویسی تھا اور اس کی اجرت سے ان کا گھر بار چلتا تھا۔ ابن کثیر (م: 1372ء) نے ‘ البدایہ والنہایہ ‘میں نقل کیا ہے کہ امام ابو حامد غزالی(م: 1111ء) نے دنیا سے مکمل قطع تعلق کرکے عبادت و اخروی اعمال میں خود کو منہمک کرلیا اور نسخ نویسی کو معاش کا ذریعہ بنایا۔ ابن جوزی(م: 1201ء) ‘ المنتظم’ میں امام ابن عقیل حنبلی کا قول نقل کرتے ہیں کہ وہ تنگدستی سے دوچار تھے اور اجرت پر نقل نویسی کا کام کام کرتے تھے۔’ نہایۃ الارب فی فنون الادب’ جیسی شاہ کار تصنیف کے مصنف تاریخ داں فقیہ شہاب الدین نویری(م: 1333ء) کا شمار مشہور نسخ نویسوں میں ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں ابن تَغْرِی بَرْدی (م: 1469ء) نے اپنی تاریخ ‘النجوم الزاھرہ فی ملوک مصر القاھرۃ’ میں لکھا ہے کہ وہ ایک با وقار فقیہ اور ایک باکمال مؤرخ تھے، مختلف علوم میں خط منسوب میں لکھی ان کی کئی تصنیفات ہیں۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے آٹھ بار صحیح بخاری کی کتابت کی۔ اپنے ہاتھوں سے لکھے بخاری کا ہر نسخہ وہ ہزار درہم (آج کے تقریبًا ۲۰۰۰ ڈالر) میں فروخت کرتے تھے۔ ہر دن وہ تین کاپیاں یعنی تیس صفحات لکھتے تھے۔

امراء میں سے جنھوں نے امارت کے منصب پر فائز رہتے ہوئے وِراقہ کا پیشہ اختیار کیا سلطان شہید نور الدین زنگی (م: 1173ء) کا نام مشہور ہے۔ امام ذہبی تاریخ اسلام میں ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے، کبھی نقل نویسی کرتے تو کبھی غلاف سازی۔

اندلس کے شہزادے شرف الدین یحیی بن معتمد بن عباد لخمی (م: 1106ء) نے اشبیلیہ میں جب ان کے خاندان سے حکومت رخصت ہوگئی تو کتابوں کی نقل نویسی کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا۔ شہاب الدین مقری(م: 1631ء) ‘نفح الطیب’ میں ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ پابندی سے شعری مجموعوں کی کتابت کرتے تھے اور ان میں اپنی خوش خطی کے گل بوٹے کھلاتے۔ مؤطا کے کچھ حصے ہم تک پہنچے ہیں جنھیں شاہِ مرابطین علی بن یوسف بن تاشفین(م: 1142ء) نے تحریر کیا تھا۔

وِراقہ سےوابستہ مشہور خواتین

مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین نے بھی وِراقہ کے پیشے کو اختیار کیا اور نقل نویس یا معاون کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ مؤرخ عبد الواحد مراکشی(م: 647ھ/1249ء) اندلسی مؤرخ احمد بن سعید ابو فیاض(م: 1068ء) سے نقل کرتے ہیں کہ قرطبہ کے مشرقی حصے ربض میں ۱۷۰ خواتین ‘خط کوفی’ میں قرآن شریف نقل کرتی تھیں۔ یہ شہر کے صرف ایک حصہ کا ذکر ہے، اس سے پورے شہر کی خاتون نقل نویسوں کی تعداد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اندلس کے ‘فاس’ سے تعلق رکھنے والی ورقاء بنت ینتان(م: 1145ء) کا شمار ماہر نقل نویسوں میں ہوتا تھا۔ ابو العلا معری(م: 1058م) نے ‘رسالۃ الغفران’ میں توفیق سوداء نامی ایک باندی کا ذکر کیا ہے جو بویہی دور میں بغداد کے دار العلم میں خدمات انجام دیتی تھی، اس کی ذمہ داریوں میں وراقوں کی معاونت شامل تھی اور شاید وہ بھی نقل نویسی کرتی تھی۔

عراقی ادیب عبد اللطیف جلبی(م: 1945م) نے اپنا واقعہ نقل کیا ہے کہ انھوں نے 1347ھ/1928م میں بغداد کے جامع حیدر خانہ میں ابو نصر جوہری(م: 1004ء) کی صحاح کا ایک نسخہ دیکھا جسے مریم بنت عبد القادر نام کی (چھٹی صدی ہجری / گیارہویں صدی عیسوی کی) ایک خاتون نے نقل کیا تھا۔ اس کے اخیر میں یہ اثر انگیز جملہ لکھا تھا: ‘‘قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اگر کتابت میں انھیں کوئی سہو نظر آئے تو مجھے معاف کردیں۔ کیوں کہ میں دائیں ہاتھ سے کتابت کرتی ہوئی ساتھ میں بائیں ہاتھ سے اپنے بچے کا پالنا جھلاتی تھی۔’’

‘الوافی بالوفیات’کےمؤرخ صفدی کےمطابق ابو عباس بن حطیئہ فاسی(م: 1165ء) جنھوں نے مصر میں بے شمار کتابیں اجرت پر نقل کیں، نےاپنی اہلیہ اور بیٹی کو بھی کتابت سکھائی۔ ان دونوں کے خط بھی ان کے خط کے مماثل تھے۔ جب وہ کسی کتاب کی نسخ نویسی شروع کرتے تو آپس میں اس کے حصے بانٹ لیتے۔ کتاب مکمل ہونے کے بعد کوئی ماہر ہی بتا سکتا کہ ان کے خطوں میں فرق ہے۔

اسلامی عہد کے تمدنی مراکز میں سامان اور صنعتوں کے حساب سے مختلف انواع کے بازار تھے۔ انھی بازاروں میں وِراقہ کے بھی بازار تھے۔ مشہور جغرافیہ اور تاریخ داں یعقوبی(م: 897ء) ‘البلدان’ میں بغداد کے ایک علاقے ‘ربض وضاح’ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میں کئی بازار تھے، جن میں بیشتر اس زمانے میں (تیسری صدی ہجری / نوی صدی عیسوی) ورّاقوں کے تھے، جہاں ۱۰۰ سے زیادہ وِراقہ کی دکانیں تھیں۔

ذہبی کے مطابق ۲۶ شوال 740ھ/1339ء میں دمشق میں آگ زنی کا ہول ناک واقعہ پیش آیا جس میں ورّاقوں کا بازار جل کر تباہ ہوگیا۔ پہلے ذکر آچکا ہے کہ قرطبہ کے صرف مشرقی حصے میں سیکڑوں خواتین نسخ نویسی کرتی تھیں، غالب گمان یہ ہے کہ وہ وراقہ کی دکانوں میں کام کرتی ہوں گی۔

ایک پیشہ جس میں کسی خاص مذہب کی قید نہیں تھی

جس طرح وِراقہ کا دائرہ صرف اسلامی تہذیب و تمدن سے متعلق کتابوں کی نسخ نویسی تک محدود نہیں تھا بلکہ دوسرے ادیان اور تہذیبوں سے ترجمہ شدہ کتابوں کی بھی نسخ نویسی ہوتی تھی، اسی طرح نسخ نویسوں میں دوسرے ادیان کے پیروکار بھی شامل تھے جو اپنے دین و ملت کی کتابیں نہیں بلکہ خالص اسلامی کتابوں کی نسخ نویسی اور تجارت کرتے تھے۔ امام بیہقی (م: 1067ء)نے ‘دلائل النبوة’ میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک خوش خط تعلیم یافتہ یہودی نے خلیفہ مامون (م: 833ء) کے سامنے اپنے مشرف بہ اسلام ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے بتایا: ‘‘میں نے قرآن کریم کے تین نسخے کتابت کیے اور اس میں اپنی طرف سے حذف و اضافے کیے اور انھیں تاجروں کو پیش کیا، مگر انھیں غلطیوں کا پتہ چل گیا اور نہیں خریدا، تب مجھے یقین ہوگیا کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے اور یہی چیز میرے اسلام قبول کرنے کی وجہ بنی۔’’

یہ واقعہ اسلامی حکومت کے دورِ عروج میں خلیفہ وقت کے سامنے بیان ہوکر مشہور ہوا، مگر ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ خلیفہ نے ایک یہودی کے ہاتھوں قرآن پاک کی کتابت کو ناپسند کیا، بلکہ بیہقی جیسے جلیل القدر محدث نے اس واقعہ کو قرآن کریم کے کسی بھی تحریف سے محفوظ ہونے کے سیاق میں پیش کرنے سے اس کے باوجود کوئی حرج محسوس نہیں کیا کہ اس کا نسخ نویس ایک غیر مسلم تھا۔

کثرت اور توسیع

ہاتھ سے کتابت کرنے کا کام گرچہ پر مشقت اور وقت طلب ہے، اس کے باوجود بسیار نویسی کی صورت حال حیرت انگیز تھی۔ ایک ہی وقت میں ایک کتاب کے سینکڑوں نسخے پائے جاتے تھے۔ اس کی یہی ایک مثال کافی ہوگی کہ جاحظ کی کتاب ‘الفرق بین النبی والمتنبی’ اتنی کم یاب تھی کہ حج کے زمانے میں اعلان کرکے اسےتلاش کیا جاتا تھا، مگر یاقوت حموی (م: 1229ء) نے ‘معجم الادباء ‘میں لکھا ہے کہ میں نے اس کے سو سے زیادہ نسخے دیکھے۔

متعدد اہل علم کے بارے میں مشہور ہے کہ انھیں کسی خاص کتاب کے زیادہ سےزیادہ سے نسخے جمع کرنے کا شوق تھا۔ صوفی بزرگ ابو الغوث قشاش تونسی (م: 1622ء) کے بارے میں آتا ہے کہ وہ صرف بخاری کے نسخے ہدیے میں قبول کرتے…. ان کی ذاتی لائبریری میں بخاری کے ہزارنسخے تھے۔(خلاصة الأثر للحموی)

وِراقہ کی صنعت کا دائرہ اب علمی و ادبی کتابوں سے بڑھ کر خیالی و من گھڑت قصہ و کہانی کی کتابوں تک وسیع ہوگیا۔ یہ کتابیں یا تو بچوں کی تعلیم کے لیے ہوتی تھیں یا پھر خالی اوقات میں لطف اندوزی کے لیے۔ اس طرح کے خیالی ادب کے خاص مصنفین تھے۔ شعری مجموعوں کے ساتھ ایسے تمام ادبی کتابوں کی نسخ نویسی عام تھی، جو لوگوں کو مطلوب تھیں۔ ابن ندیم نے لکھا ہے عباسی دور اور خاص طور سے مقتدر (م: 922ء) کے دور میں حکایات و خرافات کی کتابیں ڈیمانڈ میں تھیں اور ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں۔ اسی لیے نسخ نویسوں نے بھی جھوٹے خیالی قصے لکھنے شروع کر دیے۔ کہانیاں گھڑنے والوں میں ایک شخص ابن دلّان اور دوسرا ابن عطار کے نام سے مشہور تھا۔ کچھ مصنفین جانوروں کی زبان پر کہانیاں گھڑتے تھے۔

وِراقہ کی دکانوں کا دائرہ عمل صرف کتابوں یا دستاویزوں کی نقل نویسی تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں کتابوں کی نشر و اشاعت سے متعلق جملہ امور شامل تھے۔ کاغذ سازی کی صنعت اس کا ایک حصہ تھی۔ مرابطین کے زمانے میں صرف فاس میں کاغذ سازی کی ۱۰۴ فیکٹریاں تھیں۔ موحدین کے زمانے یہ تعداد بڑھ کر ۴۰۰ سے زیادہ ہوگئی تھی۔ خوش خطی، تحریر میں نقش نگاری، جلد سازی (مراکش اور اندلس میں تسفیر کی اصطلاح مستعمل تھی) اور کتابوں کی ملمع کاری (تذھیب) وِراقہ کا حصہ تھے۔ ان فنون نے اتنی ترقی کی کہ ان کا شمار بہترین فنون لطیفہ میں ہوتا ہے۔

ابن ندیم نے سات مشہور قدیم جلد سازوں کے نام محفوظ کردئے ہیں۔ ان میں سب سے اونچا مقام ابن ابی حریش (م: 833ء) کو حاصل تھا، جو کہ مامون کے ‘خزانہ حکمت’ میں جلد سازی کرتے تھے۔ بعض ایسے بھی تھے جنھیں بیک وقت خوش خطی، جلد سازی اور ملمع کاری میں مہارت حاصل تھی۔

وِراقہ کی صنعت میں ترقی کے ساتھ، قلم، سیاہ روشنائی اور رنگین روشنائیاں تیار کرنے کی صنعت نے بھی ترقی کی اور اس میں بھی لوگوں نے نئی نئی ترکیبیں اور طریقے ایجاد کیے۔ مثلا ایک ایسی روشنائی بنائی جس سے لکھی تحریر کو رات میں پڑھا جاسکتا تھا مگر دن میں نہیں۔ اسی طرح صفدی نے لکھا ہے کہ ایک مراکشی نے ملک کامل ایوبی (م: 1237ء) کو سفید کاغذ پر ایک رقعہ لکھا، جس کی روشنائی چراغ کی روشنی میں سفید، دھوپ میں سنہری اور سائے میں سیاہ نظر آتی۔

تجارتی مسابقت

زود نویسی، کشیدہ نگاری، اور بڑے حجم کی کتابوں کی نسخ نویسی میں ورّاقوں کے درمیان مقابلہ آرائی ہوتی تھی۔ بسیار نویسی اور کتابوں کی ضخامت میں مسابقت کا اندازہ درج ذیل حکایتوں سے ہوتا ہے: ابو الفضل محمد بن طاہر مقدسی الظاهری (م: 1113ء) کہتے ہیں: ‘‘میں نے صحیح بخاری، صحیح مسلم، اور سنن ابی داؤد کی سات بار اور سنن ابن ماجہ کی دس بار کتابت کی۔’’ ابن ندیم رقم طراز ہیں کہ عیسائی فلسفی ابو زکریا یحیی بن عدی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے ایک دن اور رات میں ۱۰۰ صفحات نقل کرتے تھے۔ ابن شہاب عکبری (م: 1038ء) اپنے معاصر و مقابل نسخ نویسوں کے مقابلے میں اس بات پر فخر کرتے تھے کہ انھوں نے دیوان متنبی کو تین راتوں میں نقل کرلیا تھا۔ خطیب بغدادی نے ‘تاریخ بغداد’ میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے وِراقہ سے 25 ہزار درہم (تقریبًا ۳۰ ہزار امریکی ڈالر) کمایا۔ صفدی نے’الوافی بالوفیات’ میں ‘ابن خاضبہ الورّاق’ سے مشہور حافظ ابو بکر محمد بن احمد (م: 1096ء) کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے صرف سنہ 466ھ میں صحیح مسلم کی سات بار کتابت کی۔ ابن عبد الملک مراکشی نے ‘الذیل و التکملۃ’ میں نسخ نویس محدث اور قاضی اسماعیل محمد بن اسماعیل قرطبی (م: 968ء) کی سیرت کے ذیل میں ذکر کیا ہے کہ وہ قرآن شریف کے حاذق کاتب تھے اور دو جمعوں (دو ہفتے) میں مکمل قرآن کی کتابت کرلیتے تھے۔ ‘ابن جنان مراکشی’ کے نام سے مشہور،شاعر یوسف بن یحیی بن الحاج مہری (م: 1287ء) سب سے زیادہ تیز اور پابند نسخ نویس تھے…… بہت کم ہی کوئی مشہور کتاب ہوگی جو ان کےخطِ تحریر میں نہ ہو۔ جوانی میں ایک دن میں بڑے حجم کے بیس صفحات نقل کرلیتے تھے (جس کے ہر صفحے میں ۲۰ سطریں ہوتی تھیں)۔

ضخیم کتابوں کی کتابت جلد مکمل کرنے کے لیے بسا اوقات انھیں کئی نسخ نویسوں کے حوالے کیا جاتا تھا۔ ابن ابی شیبہ (849ء)نے اپنی ضخیم تصنیف ‘المصنف’ کی کتابت کے لیے 10 نسخ نویسوں کو اجرت پر رکھا تھا۔ ابن عساکر کی ‘تاریخ دمشق’ کے ایک نسخے کو جو کہ 80 جلدوں میں تھا، دس نسخ نویسوں نے دو برسوں میں مکمل کیا۔

مہارت میں فرق

نسخ نویسوں کی خوش خطی اور اور درستی کی سطح یکساں نہیں تھی۔ تاریخ کی کتابوں میں ہمیں ملتا ہے کہ فلاں ‘خوش خط’، یا ‘بد خط’ تھا، یا فلاں خوش خطی کا ماہر تھا، اس کی کتابت غلطیوں سے مبرا تھی۔ یا یہ کہ فلاں ‘خط منسوب’ میں لکھتا تھا یعنی اس کے خط کے نوک و پلک تناسب میں فن کا نمونہ تھے۔ خط منسوب ایک فن تھا جس کے قواعد رئیس الخطاطین ابن نواب بغدادی (1023ء) نے وضع کیے تھے۔

کچھ نسخ نویس نسخ نویسی میں اپنی اچھوتی مہارتوں کے لیے مشہور ہوئے۔ مثلا محدث تاریخ داں اور ادیب کمال الدین ابن فوطی بغدادی (م: 1323ء)کے بارے میں آتا ہے کہ وہ لیٹ کر کتابت کرتے تھے۔ ابن ایبک صفدی نے ذکر کیا ہے کہ ان کا قلم نہایت تیز اور ان کی تحریر نہایت جاذب تھی، اس جاذبِ نظر خط میں وہ لیٹے ہوئے چار کاپیاں لکھتے تھے۔ صفدی نے ہی ‘اعیان العصر و اعوان النصر’ میں لکھا ہے کہ ورّاق ناصر الدین محمد بن بکتوت (م: 1334ء) نسخ نویسی میں اتنی مہارت رکھتے تھے کہ گنگناتے ہوئے کتابت کرتے مگر مجال ہے کہ نسخ یا نقل میں کوئی غلطی ہو!

وِراقہ کی کم زوریاں

نسخ نویسی میں بسا اوقات نسخ نویسوں سے خاص طور سے جو طبقہ علما سے نہیں تھے، حذف و اضافے، تحریف، تصحیف اور غلط مصنفین کی طرف منسوب کرنے جیسی فحش غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں، جس نے قدیم مخطوطات کے معاصر محققین کو خاصا پریشان کیا ہے۔ اسی پر پہلے بھی علما نے ‘اخبار المصحفین’ اور’شرح ما یقع من التحریف و التصحیف’ جیسی کتابیں لکھیں۔ علما نے اس صورت حال کی سنگینی اور اس علمی خیانت کی وجہ سے علمی تراث میں در آنے والی غلطیوں اورتحریفوں کو گفتگو کا موضوع بنایا ہے۔ تاج الدین سبکی (م: 1369ء) ‘معید النعم و مبید النقم’ میں لکھتے ہیں: ‘‘بعض نسخ نویسوں میں اللہ کا خوف نہیں، وہ عجلت میں لکھتے ہیں اور کتاب جلد مکمل کرکے اجرت وصول کرنے کی لیے بعض چیزیں حذف کردیتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور علم کی بربادی کے ذمہ دار ہیں۔’’

وِراقہ کے پیشے کی ایک اور بڑی مصیبت رائج الوقت کتابوں کو غلط مصنفین کی طرف منسوب کردینا تھا۔ عوام کے درمیان مقبول کسی فن میں کتابیں تخلیق کی جاتی تھیں اور عوام میں انھیں رائج کرنے کے لیے اس فن کے کسی مشہور فن کار کے نام انھیں منسوب کردیا جاتا تھا۔ یاقوت حموی نے موصل کے مشہور موسیقی کاراسحق ( م: 912ء تقریبا) کے لڑکے حماد بن اسحق کا قول نقل کیا ہے: ‘‘میرے والد نے یہ کتاب (الاغانی الکبیر) نہیں لکھی۔ اسے میرے والد کے ایک نسخ نویس نے ان کی وفات کے بعد لکھا، سوائے باب ‘رخصت’ کے جو کہ میرے والد کی پہلی کتاب ہے۔’’

تہذیبی جلوہ گاہ

ورّاقوں کی دکانیں یا بازار صرف کتابوں کی نشر و اشاعت تک محدود نہیں رہیں، بلکہ جلد ہی انھوں نے ثقافتی جلوہ گاہوں کی شکل اختیار کر لیں جہاں علم و ادب اور تہذیب و فن کے ستارے جمع ہوکر سرگرمِ فکر ہوتے، بحث و مباحثے کے سوتے پھوٹتے، نقد و تجزیے کی شمعیں روشن ہوتیں، علوم ومعارف کے چشمے ابلتے، ادب و فن کے آبشار بہتے اور افادہ و استفادہ کی کشت سبزہ زار ہوتی۔ جاحظ نے ‘کتاب البغال’ میں لکھا ہے کہ کوئی بھی کتاب جو ورّاقوں کے بازار میں پہنچ جاتی مشہور ہوجاتی تھی۔ توحیدی نے بھی ‘الامتاع و المؤانسہ’ میں تحریر کیا ہے کہ اخوان الصفا کو جب اپنے فلسفے کا کوئی رسالہ پھیلانا اور عوام کی رائے کے لیے پیش کرنا ہوتا تھا تو وہ اسے ورّاقوں کے بازار میں پھیلادیتے تھے۔ ابن جوزی کے پوتے جمال الدین بن یوسف نے اپنی کتاب ‘مناقب بغداد’ میں حنابلہ کے امام زمانہ ابو وفاء ابن عقیل (م: 1119ء) کا قول نقل کیا ہے کہ بغداد میں ان کے محلے کا نام ‘باب الطاق’تھا، اسی محلے میں ورّاقوں کا ایک بڑا بازار تھا جو علما و شعرا کی آماجگاہ تھا۔ یاقوت حموی نے ‘معجم الادباء’ میں مشہور شاعر ابوبکر صنوبری (م: 945ء) سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رہا (جو ابھی جنوبی ترکیا میں واقع ہے) میں سعید نام کا ورّاق تھا اس کی دکان تمام ادیبوں کی نشست گاہ تھی…… ہم اور ہمارے جیسے شام و مصر کے شعرا اس کی دکان سے ہٹتے نہیں تھے۔ مقریزی (م: 1441ء) ‘المواعظ و الاعتبار’ میں قاہرہ کے آثار قدیمہ کے ضمن میں ورّاقوں کے ایک بازار کا بھی تذکرہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ بازار اب تک مرجعِ اہل علم ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں مذکور واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مشاہیر اہل علم و ادب جیسے اصمعی (م: 831ء)،ابو نُوَاس(م: 814ء)، ابو العیناء (م: 896ء)، جاحظ، متنبی (م: 965ء)،ابو الفرَج اصفهانی (م: 965ء، ابو سعید سیرافی، صاحب ‘الفهرست’ ابن ندیم، توحیدی، ابن سینا (م: 1037ء)، ابو العلاء المعری،‏ یاقوت موصلی (م: 1221ء)،یاقوت حموی (م: 1229ء)، یاقوت مستعصم (م: 1299ء)، فقہا ومحدّثین میں سے زرْكشی(م: 1392ء)، ابن عرفة الوَرْغَمِی تونسی (م: 1400ء) اور حافظ ابن حجر عسقلانی، سبھی اس کوچےمیں وقت گزارا کرتے تھے۔

تاریخ و سیر کی کتابوں نے جتنے چیدہ و مشہور ورّاقوں کا ذکر کیا ہے ان کا شمار بھی مشکل ہے، جب کہ ایسے ورّاقوں کی تعداد کہیں اور زیادہ ہے جن کا ان کتابوں میں ذکر نہیں ہے، ان میں ایسے ورّاق بھی شامل ہیں جو عمر کے کسی مرحلے میں وِراقہ سے وابستہ رہے تھے جیسا کہ ہمیں سیرافی، ندیم، توحیدی، یاقوت حموی، یاقوت موصلی اور یاقوت مستعصمی کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔

قانونی کنٹرول

ورّاق تمام طرح کی کتابیں، شعری مجموعے اور دستاویزوں کی کتابت کرتے تھے۔ عام طور سے انھیں ان کے مضمون یا مصنف سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ابن ندیم نے ‘الفہرست’ میں 110 ایسی طبع زاد یا ترجمہ شدہ کتابوں کے نام گنائے ہیں جو انس و جن عاشقوں کی کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ اسی لیے بارہا فقہا نے حکام سے ورّاقوں کو بعض کتابوں کے نقل اور عوام میں ان کو شائع کرنے سے منع کرنے کے درخواست کی۔ طبری (م: 922ء) نے عباسی خلیفہ معتمد کے عہد حکومت میں سن 279ھ/892ء کے واقعات کے ضمن میں بیان کیا ہے کہ سلطان نے ورّاقوں سے حلف لیا کہ علم کلام، جدل اور فلسفے کی کتابیں نقل نہیں کریں گے۔ خطیب بغدادی رقم طراز ہیں کہ صوفی فلسفی حلّاج کی سنہ309ھ/921ء میں سزائے موت کے بعد ورّاقوں کی ایک جماعت کو بلاکر حلف دلایا گیا کہ وہ حلاج کی کتابیں نہ تو خریدیں گے اور نہ بیچیں گے۔ تاج الدین سبکی نے ‘مفید النعم’ میں ورّاق کے قانونی فرائض کا خلاصہ اس طرح پیش کیا ہے: ‘‘نسخ نویس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدعت و خواہشات کے پیروکاروں کی گم راہ کن کتابیں نہیں لکھیں گے اور نہ ہی ایسی کتابیں جن میں کوئی فائدہ نہیں جیسے عنترہ کی سوانح حیات، یا دیگر ایسے موضوعات جو صرف تضییع اوقات کا سبب ہیں اور جن سے کوئی دینی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح فحاشی و بے حیائی کوفروغ دینے والی کتابیں ممنوع ہیں…… ایک ورّاق کے لیے زیبا نہیں کہ دنیا کے بدلے اپنے دین کا سودا کرے۔’’

یونین

تمام دیگر پیشوں اور صنعتوں کی طرح، وِراقہ کی صنعت کے لیے بھی ضروری تھا کہ تنظیمی طور پر اس کے قواعد و ضوابط کو منظم اور اس کی روایت و تجربات کو محفوظ کیا جائے۔ اسی کے پیش نظر ورّاقوں کی ایک یونین وجود میں آئی جسے مشیخہ الوراقین یا مشیخة الخطاطین کہا جاتا تھا۔ ہمارے علم کی حد تک ابن صائغ زین الدین عبد الرحمن بن یوسف قاہری (م: 1441ء) پہلے ایسے شخص ہیں جنھوں نے مصر میں ورّاقوں کی یونین کی صدارت کی۔ خیر الدین زرکلی (م: 1976ء) نے ‘الاعلام’ میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں ورّاقوں کے صدر تھے۔ انھوں نے بڑی تعداد میں قرآن اور دیگر کتابوں کی کتابت کی۔

ابن صائغ نے اس پیشے کے اصول و مبادی پر ‘تحفة اولی الالباب فی صناعة الخط والکتاب’ نام سے ایک کتاب لکھی۔ شاید اس فن میں یہ پہلی باضابطہ کتاب ہے جو ہم تک پہنچی ہے۔ رسالے کی شکل میں ہم تک ان کے معاصر محمد بن احمد زفتاوی(م: 1404ء) کا رسالہ ‘مناہج الاصابۃ فی معرفۃ الخطوط وآلات الکتابۃ’ پہنچا ہے۔ سخاوی نے ‘الضوء اللامع’ میں دسیوں ورّاقوں کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے ابن صائغ کی شاگردی اختیار کی۔ مشیخة الوراقین کی صدارت کرنے والوں میں ایک اور نام عبد الرحمن بن احمد حمیدی کا ملتا ہے جنھوں نے دسویں صدی ہجری کے اواخر میں مصر میں اس یونین کی صدارت کے فرائض انجام دیے۔ جبرتی (م: 1824ء) ‘عجائب الآثار’ میں اپنے زمانے میں اس یونین کی حالت اور پھر اس کے زوال پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس یونین کی صدارت کا سہرا امیر حسن آفندی ملقب بہ رشیدی (م: 1790ء).کے سر بندھا۔ رشیدی کے بارے میں جبرتی بتاتے ہیں کہ انھوں نے خوش خطی اور نقل نویسی سیکھنا شروع کیا اور اپنی تحریر اور کتابت پر توجہ دی یہاں تک کہ اس فن کی مہارت میں اپنے ہم عصروں سے بازی لے گئے اور جب شیخ الخطاطین اسماعیل وھبی کا انتقال ہوا تو امیر رشیدی کو بالاتفاق شیخ منتخب کیا گیا۔ اپنی وفات تک وہ اس منصب پر فائز رہے اور ان کی وفات کے ساتھ ہی اس فن کا سورج غروب ہوگیا۔

وِراقہ کی صنعت کے پیش رو ماہرین کے قلم سے کئی ایسی تصنیفات نکلیں جو کتابوں کی تصحیح، جلد سازی اور ملمع کاری سے متعلق اس فن کی اقدار و روایات کا احاطہ کرتی تھیں اور مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں، مگر سوائے ان کے ناموں کے بیشتر ان میں سے ضائع ہوگئیں۔ ان میں ورّاقوں کی مدح و ذم میں جاحظ کے دو رسالے، ابو زید بلخی (م: 934ء) کا ‘رسالۃ الوراقۃ’ اور عبد الرحمن بن مسک سخاوی (م: 1616ء) کی کتاب ‘تنویق النطاقۃ فی علم الوراقۃ’ شامل ہیں۔ جو کتابیں ہم تک پہنچ سکیں ان کی تعداد بہت کم ہیں۔ ان میں ابو عمرو بن ابراہیم اشبیلی (م: 1232ء) کی ‘کتاب التیسیر فی صناعة التسفیر’ اور ابن ابی حمیدہ (م: 1336ء) ‘تدبیر السفیر فی صناعة التسفیر’ سب سے اہم سمجھی جاتی ہیں۔

ورّاقوں کی ایک انوکھی کوشش اسانید کے کلچر کو جو کہ اس زمانے کے علمی تہذیب کا حصہ تھا، اپنے فن میں شامل کرنا تھا۔ امیر رشیدی نے جن کا ذکر اوپر آچکا، جب مصر میں ورّاقوں کی یونین کی کمان سنبھالی تو ان کی ایما پر سید محمد مرتضی زبیدی (م: 1790ء) نے ‘حکمۃ الاشراق الی کتاب الآفاق’ نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اسانید کے ساتھ وراقہ کے فن سے متعلق تمام امور کو جمع کردیا۔ جبرتی کے مطابق یہ اپنے باب میں ایک انوکھی کوشش تھی۔

آسمان فن پر برق پاش ضیاباریوں کے بعد وقت آگیا تھا کہ وِراقہ کا مہر تاباں بھی اب مائل بہ غروب ہو۔ اس کی ابتدا گوٹن برگ کے اس تاریخی لمحہ سے ہوئی جب چھاپہ خانہ وجود میں آیا۔ اس کے ڈھائی صدی بعد بالآخر اس قافلے کا سفر تمام ہوا۔

ستمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau