بین المذاہب مذاکرے

امیدیں، اندیشے اور وضاحتیں

ڈاکٹر عنایت اللہ اسد سبحانی

ادھر کچھ عرصے سے دنیا بھر میں بین المذاہب مذاکروں کا بڑا چرچا ہے اور مختلف ملکوں میں یہ مذاکرے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ان مذاکروں کے سلسلے میں دوطرح کے تأ ثرات سامنے ا ٓرہے ہیں۔ ایک طبقہ ان مذاکرات کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتاتا ہے اور عالمی حالات کے سدھار کے سلسلے میں ان سے بڑی اچھی امیدیںقائم کیے ہوئے ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ اس وقت دنیا میں جو ہلچل مچی ہوئی ہے اور ہر طرف ظلم و تشددکے جوواقعات ہو رہے ہیں،اس کی بنیادی وجہ آپس کی دوریاں اور ایک دوسرے کے سلسلے میں غلط فہمیاں ہیں۔ لہذا اس صورت حال کو ختم کرنے اور دنیا کو امن اور شانتی کا گہوارہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام مذاہب اور تمام تہذیبوں کے علمبردار آپس میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے، دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ ملانے اور اسلام اور دوسرے مشرقی ادیان کے درمیان محبت کے پل تعمیر کرنے کے طریقوں پر غو ر کریں۔ان کے با لمقابل دانشوروں کا ایک دوسرا طبقہ ہے جس کا سوچنے کا انداز اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ان مذاکروں سے نہ صرف یہ کہ کوئی اچھی امید نہیں رکھتا، بلکہ ان کو اغیارکی طرف سے اپنے گھٹیا مقاصد کے لیے ایک سیاسی چال قرار دیتا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ عالمی پیمانے پر ہونے والے ان مذاکروں کا مقصد مسلم امت پر اس طرح کا ذہنی دباؤ ڈالنا ہے،کہ وہ اپنے تمام انسانی اور بنیادی حقوق سے یکسر دست بردار ہوجائے۔ دشمن چاہے اسے تاراج کرتے رہیں، اس کی نسلوں کو تباہ اور بستیوں کو ویران کرتے رہیں، وہ اف نہ کرے ،وہ ان کے ہر ظلم کو اپنی قسمت اور اپنا مقدر سمجھے اور اگر وہ شدت کرب سے اف بھی کرے تو اسے دہشت گردی اور تشدد پسندی کا نام دیا جائے، اور بالآخر اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔نہ صرف اسے مجرم قرار دیا جائے،بلکہ اس کے دین اور اس کے قرآن کو دہشت گردی کا دین اور دہشت گردی کی کتاب قرا دے کر اسے اپنے دین اور اپنے قرآن پر نظر ثانی کرنے اور اس میں  تحریف کرنے کی دعوت دی جائے۔اس پرالزامات کی اس طرح بوچھار کی جائے کہ وہ بری طرح احساس کمتری کا شکار ہوجائے،اور اس کی ساری قوت اپنے دامن سے تشدد کے الزام کو دھونے میں ہی صرف ہو جائے ،یا کم از کم وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے کہ بے شک ہم سے اور ہماری قوم سے تشدد کے واقعات سر زد ہوئے ہیںلیکن ہمارا دین اس سے بری ہے۔ یقین مانو، ہمارا دین دین ِرحمت اور ہمارا قرآ ن قرآنِ رحمت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آج عملاً مسلم امت کو اسی صورت حال کا سامنا ہے ۔آج دنیا میں جگہ جگہ بین المذاہب مذاکرے ہو رہے ہیں ،ان مذاکروں کی جو روداد سامنے آرہی ہے وہ اسی قسم کی ہے ۔ ‘‘کزاقستان’’میں پہلی ،دوسری ،جولائی۹۰۰۲ئ میں بین المذاہب مذاکرہ تھا۔اسرئیل کے سب سے بڑے پیشوا [Chief of Rabbis]نے اسرئیلی فوجی ﴿Gilad Shalit ﴾کی پکچر سب کے سامنے لا کر یہ سوال کیا کہ اس کو اس سے ملاقات کی اجازت کیوں نہیں ہے ؟اور اسے آزاد کیوں نہیں کیا جاتا؟اس کے لیے حماس پر ہر ممکن دبائو کیوں نہیں ڈالا جاتا؟ اوراس نے نہایت ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کے ساتھ حماس کے رہ نمائوں کو تشدد پسندی اور انتہا پسندی کا الزام دیاکہ وہ اسے رہا نہیں کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کو بھول گیاکہ حماس کے قبضے میں تو ان کا بس ایک فو جی ہے، جس پر وہ اس قدر چراغ پا ہے اور وہ ان کے ہزاروں آدمیوں کو ، جن میں مرد بھی ہیں ، عورتیں بھی ہیں،قیدی بنا ئے ہوئے ہیںاور ان کے ساتھ نہایت وحشیانہ اور ذلت ناک سلوک کر رہے ہیں۔

ہمیں یہ بات بھولنی نہیں چاہییے کہ مسٹر بش نے اپنے دو ر صدارت میںمسلمان حکمرانوں سے یہ مطالبہ کیا تھا، کہ وہ اس اسلام کو بدل ڈالیں،جو دوسروں سے نفرت کرنا سکھاتا ہے۔ ان کا کہناہے کہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ برطانیہ کی سابق وزیر اعظم تھیٹچر {Thatcher} نے [NATO North Atlantic] کی ضرورت پر زور دیتے ہوے کہا تھا: کمیونزم سے بھی زیادہ سنگین ایک خطرہ ہے ، جو مغربی تہذیب کو در پیش ہے، اور وہ ہے اسلام !

جو شخص بھی مشرق و مغرب کی طویل تاریخ اور ان کے ما بین تعلقات کے اس پس منظر سے واقف ہو اور موجودہ ظلم و بربریت کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو ، وہ کیوں کر باور کر سکتا ہے کہ اس وقت مغرب کی طرف سے مذہبی مذاکرات کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے ،اس کے پیچھے کو ئی اچھی نیت یا اچھا جذبہ کار فرما ہوگا۔ ہمارا دین دشمنوں سے در گزر کرنے ،یا ان کے سلسلے میں عالی ظرفی کا ثبوت دینے کی تو تعلیم دیتا ہے مگر اس کی تعلیم ہر گز نہیں دیتاکہ ہم ان سے جانتے بو جھتے دھوکا کھائیںاور انھیں اپنے اوپر ہنسنے کا موقع دیں۔

مذاکرے کے محرّکات

یہ دو انداز فکر ہیں جو ان ما بین المذاہب مذاکرات کے سلسلے میں پائے جاتے ہیں، ان دونوں میں کون سا انداز فکر صحیح اور مبنی بر حقیقت ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے سے قبل دوبنیادی باتوں کی طرف توجہ دلانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

پہلی بات  ان مذاکرات میں حصہ لینے کا محرک اگر ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنا ،سمجھنا اور صحیح معلومات حاصل کرناہے،تو یہ مبارک قدم ہے ،جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔لیکن اگر ان مذاکرات میں شرکت کامحرک اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان سمجھوتا کرانا ہے،کہ فرزندانِ اسلام دوسرے مذاہب کی بھی کچھ باتوں کو قبول کر لیںیا ان کے ساتھ اپنے کچھ اصولوں کا سودا کر نے پر راضی ہو جائیں،تو یہ چیز مسلم امت کے لیے ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام مسلم علمائ یا مسلم دانشوروں کا بنایا ہوا دین نہیں،بل کہ یہ اللہ کا بھیجا ہوا دین ، اور اس کا بھیجا ہوا نظام ہے۔جس پر ایمان لانا ، اور اس کے مطابق زندگی گزارنا ہی ہمارا کام ہے ۔ اس میں کسی طرح کی تبدیلی ،یا کمی زیادتی کا ہمیں اختیار نہیں۔ جس وقت قرآن پاک نازل ہورہا تھا،اس وقت بھی قوم کے سرداروں نے ہمارے نبی سے اسی طرح کی خواہش کی تھی ،مگر یہ خواہش نہ اس وقت قابل قبول تھی نہ آج قابل قبول ہوسکتی ہے۔قرآن پاک میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَـٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيم  ﴿یونس :۵۱﴾

’’انھیںجب ہماری واضح آیات سنائی جاتی ہیں،تو کہتے ہیں وہ لوگ جو ہماری ملاقات کا یقین نہیںرکھتے،اس کے علاوہ اور کوئی قرآن لے آئو،یا اسی کو بدل دو۔کہو،مجھے اس کا اختیار نہیںکہ اپنی طرف سے میں اسے بدل دوں۔میں اسی کی پیروی کرتا ہوںجس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے۔مجھے ڈر ہے ،اگر میں نے اپنے رب کی نا فرمانی کی ،ایک بڑے دن کے عذاب کا‘‘۔

معلوم ہواقرآن پاک میں،دوسرے لفظوں میںدین اسلام میں کسی طرح کی تبدیلی کا کو ئی سوال نہیں،اسلامی عقائد اور اسلامی اصولوں میںکسی مصالحت کا کو ئی امکان نہیں۔

تشدد کی روک تھام

دوسری بات یہ ہے کہ ان ما بین المذاہب مذاکروں کے پیچھے اگر یہ ذہن کام کر رہا ہے کہ آئے دن تشدد کے جو واقعات ہوتے رہتے ہیں،ان کا اصل سبب مذہب ہے ،لہذا اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ، مذہبی مذاکرے کرا ئے جائیں تو یقین مانیے کہ بیماری کی یہ صحیح تشخیص نہیں ہے اور نہ اس کا وہ علاج صحیح ہے جو عالمی پیمانے پر اپنایا جارہا ہے۔ ظلم و تشدد کے واقعات محض مذہب کی وجہ سے نہیں ہوتے۔تشدد کے واقعات کی اگر یہ وجہ ہوتی تو کبھی ایک ہی مذہب کے لوگوں میں آپس میں جنگ نہ ہوتی۔ کبھی مسلمانوں کی مسلمانوںسے جنگ نہ ہوتی،کبھی ہندئوں کی ہندئو ں سے جنگ نہ ہوتی، کبھی عیسائیوں کی عیسائیوں سے جنگ نہ ہوتی، کبھی یہودیوں کی یہودیوں سے جنگ نہ ہوتی،کبھی بھائی بھائی کو نہ مارتا ،کبھی چچا بھتیجے کو نہ مارتا ، یا بھتیجا چچا کو نہ مارتا،کبھی ایک ہی خاندان کے افراد اسی خاندان کے دوسرے افراد کو نہ مارتے۔

جدید ٹکنا لوجی کو اس بات پر ناز ہے کہ اس نے آج ایسی سٹ لائٹیں ایجاد کر لی ہیں ،جو دبیز سے دبیز پردوں میں چھپی ہوئی چیزوں کو بے نقاب کر سکتی ہیں۔مگر اسے یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے جس وقت یہ دنیا بنائی ہے ،اسی وقت سے اس میںایسی کارکن طاقتیں متعین کر دی ہیں،جونہ صرف ہمارے تمام کا موںکو محفوظ کر لیتی ہیں ،بل کہ ہمارے دماغ میں رینگنے والی اسکیموں اور ہمارے دلوں میں مچلنے والے جذبات کو کیچ کر لیتی ہیںاور ایک دن ہر انسان کا پورا ریکارڈ اس کے سامنے آجائے گا :

وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا  (الکہف ۴۹)

’’اور اعمال نامہ سامنے رکھ دیا جائے گاتو تم مجرموں کو دیکھو گے ،کہ وہ کانپ رہے ہوں گے،اس سے جو اس میں ہوگا۔وہ کہہ رہے ہوں گے،ہائے ہماری بربادی،یہ کیسا نامۂ اعمال ہے کہ وہ نہیں چھوڑتا کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز،نہ کو ئی بڑی سے بڑی چیز، مگر یہ کہ اس نے اسے محفوظ کر رکھا ہے۔ انھوں نے جو کچھ بھی کیا ہوگا،سب اس کے اندر مو جود پائیں گے اور تمہا را رب کسی پر ظلم کرنے والا نہیں‘‘

ہر انسان کو یقینی طور پر اس دن کا سامنا کرنا ہے اور وہی دن اس کی اصل کا میابی یا ناکامی کا دن ہوگا۔ اگر آج دنیا کی سمجھ میں یہ با ت آجائے تو ہر ایک اپنے جائز حدود اور جائز حقوق پر قناعت کرے ،اور ہر شخص اور ہر قوم کو اس کا جائز حق با عزت طریقے سے مل جائے۔

اسلام کی اصل حیثیت

اس دنیا کو بنا نے والے نے ان ساری باتوں سے ہمیںاپنی آخری کتاب قرآن پاک میں آگاہ کر دیاہے اور اس قرآن میں جو کچھ بتایا گیا ہے ،اسی کانا م اسلام ہے۔یہ اسلام مسلمانوں کا بنایا ہوا دین نہیں ہے،یہ اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے ، یہ قرآن مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہے ،بلکہ یہ اللہ کی کتاب ہے، جو اس نے اپنے آخری رسول              ﷺ پر نازل کی ہے، اللہ کی یہ کتاب سارے انسانوں کے لیے آئی ہے ،اور جس زمانے میں یہ کتاب نازل ہوئی ہے،اس وقت سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کا اسی کتا ب کے لحاظ سے حساب ہوگا،جو اس کتاب کو مانے گا ،وہی کامیاب اورفلاح یاب ہوگا،جو اس کا انکار کرے گا وہ خدا کا باغی و نافرمان قرار پائے گا،وہ سزا کا مستحق ہو گا ،اور اس کا انجا م بڑا درد نا ک ہوگا ۔

اسی خدا نے سارے انسا نوں کے لیے یہ کتاب اتاری ہے ،جس سے وہ دل کا سکون اور آتما کا سکھ حاصل کر سکتے ہیں۔جس سے وہ اس زندگی میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیںاور مرنے کے بعد آخرت میں سر خ رو ہو سکتے ہیں۔آج اسی کتاب کی پیروی کرکے ہم اس بگڑئے ہوے سماج کو سدھار سکتے ہیں اوراس سلگتی ہوئی دنیا کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی چیزدلوں کو جوڑ سکتی ہے اور ظلم وبر بریت اور دہشت گردی سے روک سکتی ہے تو وہ صرف اپنے رب سے محبت اور اس کی ناراضی کا خوف ہے ، جو قرآن پاک کی سب سے بنیادی تعلیم ہے اور اگر انسان اپنے رب کو بھولا رہے ،تو پھر کوئی چیز اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتی۔

انسانی آزادی

اسلام ان ظالموں اور دہشت گردوں سے مقابلہ کرتاہے ، جو لوگوں کو اپنی طاقت کے بل پر غلام بناتیہیںاور ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلو ک کرتے ہیں۔ اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر ؒ کے اس جملے کو کبھی انسانی تاریخ فرامو ش نہیں کر سکتی:

’’تم لوگوں نے ان انسانوں کو غلام کب سے بنا لیا ،جب کہ ان کی مائوں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا‘‘

متی استعبدتم الناس وقد ولد تھم امھاتھم اَحرارا؟   ﴿ابن جوزی،مناقب عمر بن الخطاب:۹۹،ابن اعثم الکو فی،الفتوح:۲/۲۸﴾

اس دنیا میں عام آزادی کا صور سب سے پہلے اسلام نے ہی پھونکاتھا۔ ورنہ اس سے پہلے انسانوں کی اکثریت غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی اور اسی صور کی یہ تاثیر ہے کہ آج دنیا ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت کی بجائے ڈیمو کریسی یا جمہوریت پر یقین رکھتی ہے،اور اسی میں عزت سمجھتی ہے ،جبکہ آج کی جمہوریت یا ڈیموکریسی بھی انسان کو وہ آزادی اور وہ عزت دینے کے لیے تیار نہیں،جو اسلام ہر انسان کو دینا چاہتا ہے۔

اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ انسانوںکے درمیان نسل و نسب قوم ووطن رنگ و زبان کی بنیاد پر کسی طرح کی اونچ نیچ اور کسی طرح کا بھید بھائو نہ رہے ۔ہر انسان مکمل طور سے اپنے آپ کو آزاد محسوس کرے۔ہر انسان کو سارے حقوق حاصل ہوں،جو انسانوں کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں،ہر انسان کو جان و مال اور عزت وآبرو کا پورا تحفظ حاصل ہو ۔ان چیزوں کے سلسلے میں اسے کسی طرح کاخطرہ نہ لاحق ہو ۔ ہر انسان کو وہ عزت حاصل ہو جو اس کے پیدا کرنے والے نے اسے عطا کی ہے۔جیسا کہ قرآن پا ک کا اعلان ہے’’ولقد کرمنا بنی ادم ‘‘ ‘‘ ہم نے آدم کی تمام سنتان کو عزت کی قبا پہنائی ہے‘‘

قرآن پاک میں واضح لفظوں میںکہا گیا ہے،کہ دین و مذہب کے معاملے میںکسی طرح کی زبردستی نہیں۔یہ بات واضح ہو ہوجانے کے بعد،کہ کیا حق ہے ؟اور کیا باطل ہے؟ ہر انسان کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے لیے جو چاہے پسند کرے۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ، قَدْ تَبَیّنَ الرُّشْدُ مِنَ الغَنِیّ

البتہ یہ ظاہر ہے کہ انسان جو بو ئے گا ،وہی کاٹے گا،اگر وہ اس دنیا میں پھلوں اور پھولوں کی کاشت کرے گا، تو مرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں پھولوں کے چمن اور پھلوں کے باغ اس کے سامنے آئیں گیاور اگر اس دنیا میں کانٹے بوئے گا ،یا آگ دہکائے گا،تو آخرت کی زندگی میںوہی کانٹے اور آگ کے انگارے اس کے حصے میں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ سمجھنے کی توفیق دے۔اور دنیا وآخرت کی رسوائیوں سے محفوظ رکھے۔

مئی 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau