شریعت اور اِنسانی آراء

مولانا محمد یاسین پٹیل فلاحی

زندگی نواگست ۰۱۰۲ کے شمارے میں امریکا کے جناب عمرافضل کی تحریر کو دیکھ کر تعجب ہوا۔ وہ فرماتے ہیں:

’’شریعت کے عنوان کے تحت آج جو کچھ موجود ہے، اس میں انسانی آراءبھی شامل ہیں۔ کیا آج کسی مسلمان مملکت کی نمائندہ حکمراں مجالس کو یہ اختیار دیاجاسکتاہے کہ وہ ‘شریعت’ کے اس جُز کو بدل سکے۔‘‘

یہ عجیب بات ہے، جو انھوں نے کہی ہے۔ اب تک یہ الزام پچھلی شریعتوں پر ہی لگتاتھاکہ اس میں انسانی آراء کی آمیزش ہے۔ مگر عمر افضل صاحب یہ کہتے ہیں کہ اپنا دامن بھی داغ دار ہے۔ مندرجہ بالا استفسار کی کمزوری ذیل کے سوالات سے واضح ہوجاتی ہے:

۱- کسی مسلم مملکت کی نمایندہ حکمراں مجالس بااختیارہوکر شریعت میں موجود ‘انسانی آراء’ والے جز کو بدل دیں تو اس بدلے ہوءے جُز کو کیا نام دیاجاءے گا؟ آیا وہ بھی انسانی آراء کے زمرے میں رکھی جاءیںگی یا ان کاشمار شریعت مطہرہ کے جز کے طورپر ہوگا؟ اگر انھیں بھی انسانی آرا ء قرار دیاجائے گا تو ایک انسانی رائے کی جگہ دوسری انسانی رائے لانا تحصیل حاصل ہے اور اگر بدلی ہوءی راءے شریعت کا جزسمجھی جاءے گی تو پہلی انسانی راءے کو شریعت قرار دینے میں کیا قباحت ہے؟

۲- پچھلی انسانی آراء کا تعین کرنے اور انھیں تبدیل کرنے کا کیا پیمانہ ہوگا؟ آیا شریعت مطہرہ کی روشنی میں کسی راءے کا انسانی ہونا قرار پائے گا یا کسی مسلمان مملکت کی نمایندہ حکمراں مجالس کے احباب کی ووٹنگ کے ذریعے وہ رائے انسانی قرار پائے گی؟ اور یہ بھی کہ اس راءے کی تبدیلی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ہوگی یا کسی مسلمان مملکت کی نمایندہ حکمراں مجالس کے احباب کی اکثریتی رائے پر؟

۳- پچھلی انسانی آراء کی تبدیلی کی کی وجہ قرار پائے گی؟ محض اس وجہ سے کہ وہ پرانی ہے اسے تبدیل کیاجائے گا؟ یا اس کا شریعت سے متصادم ہونا مجلس کے ذریعے طے کیاجائے گا؟ یا جدید دور کی نیرنگیوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر اس کو ترک کرنے کا اعلان کیاجائے گا؟

۴- کیا کسی غیرنمایندہ، غیرحکمراں مگرعلمی مجلس کو بھی اس قسم کاکوئی اختیار حاصل ہوگاکہ وہ پچھلی اور اگلی انسانی آراء میں سے کسی ایک کی تائید یا تردید کرسکے؟ کیوں کہ ہمارا فقہی ذخیرہ غیرنمایندہ، غیرحکمراں علمی مجالس وافراد ہی کاعطیہ ہے۔ بلکہ پوری اسلامی تاریخ میں غیرنمایندہ، غیر حکمراں علمی شخصیات ہی کو شریعتِ مطہرہ کاترجمان تسلیم کیاگیا اور حکمرانوں کے ذریعے اٹھاءے گءے فتنوں ،جبری طلاق یا خلق قرآن وغیرہ کو ننگی پیٹھ پر کوڑے کھاکر بھی مسترد کردیاگیا۔

مندرجہ بالا سوالات پر غورکیاجاءے تو یہ واضح ہوجاءے گاکہ حکمراں مجالس کو جو اختیار دینے کی بات کہی جارہی ہے ،وہ انتہاءی ناقص اور کم زور ہے۔ عمرافضل صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایاہے کہ جمہوری نظام میں سماجی تبدیلی کی راہیںکیاہیں؟اِس سلسلے میں پہلے اِس پر غورکرناچاہیے کہ کیا جمہوری نظام کوءی مسلمہ حقیقت ہے۔ پھر آخر کون سا جمہوری نظام مراد ہے؟ کیا وہ جو قانون سازی کے ذریعے مسلمان عورت کو بے پردہ کردے ﴿فرانس﴾، یا وہ جو قانوناً اللہ کے گھر ﴿بابری مسجد﴾ میں بت پرستی کی اجازت دے اور کسی مسلمان کو اس کے ۲۰۰ میٹر کے داءرے سے قریب نہ آنے دے ﴿ہندستانی سپریم کورٹ﴾ یا وہ جو فوج کشی کے ذریعے جمہوری راستے سے آنے والے اسلامی نظام کو بھی بالجبر روک دے ﴿امریکا﴾

مزید برآں کیا سماجی تبدیلی کا انبیاءی طریقہ کار جمہوری نظام کے لیے ناقص قرار پائے گا یا جدید دور میں انبیاءی طریقہ کار سے بہتر کوءی راہ نکال لی گئی ہے؟ ہمارے نزدیک کسی بھی سماجی تبدیلی کی راہ یہی ہوسکتی ہے کہ داعی متبادل پیش کرے اور اس کے نافع ہونے اور موجودہ نظام کے ناقص اور نقصان دہ ہونے کو بہ دلائل واضح کرے۔ صالح طبیعت اس کی جانب ماءل ہوگی مگر جن کے مفادات اِس باطل نظام سے وابستہ ہوں گے، وہ لاؤلشکر کے ساتھ اس تبدیلی کے خلاف ہوجاءیں گے۔ خواہ وہ زمانۂ قدیم کے فراعنہ ہوں یا آج کے حکمراں۔ دعوت کش مکش کو جنم دے گی اور اسی منتھن سے انسانیت کا Cream نکل کر آئے گا۔ شریعت مطہرہ نے ابتداءی پُرآشوب دور میں ہی یہ اعلان کردیاتھا: فلا تطع المکذبین ودوالوتدھن فیدھنون ﴿القلم﴾ ‘تو ﴿اے نبیﷺ!﴾ آپ ﴿اللہ کی آیات کو﴾ جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیے۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ آپ مداہنت کریں تو وہ بھی نرم پڑجائیں۔’

جناب عمرافضل صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایاہے کہ‘آج حاکمیت پر اصولی بحث کے ساتھ ساتھ ربط و ارتباط کی عملی شکل کیاہو، اس پر تجربات کی روشنی میں غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً ان مسلمانوں کے لیے جو مغربی ممالک میں رہنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔’ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اصولی بحث الگ ہوگی اور عملی شکل الگ۔ہمارا خیال اِس کے برعکس یہ ہے کہ اگر کسی ریاست کی اصولی حیثیت متعین ہوگءی تو اسی کی روشنی میں عملی ربط و ارتباط کاخاکہ بنے گا۔ مثلاً اگر کسی ریاست کو طاغوت تسلیم کرلیاگیاتو تجربات کی روشنی میں غورو فکر کرکے اس سے گلوخلاصی کی تدبیریں کی جاءیںگی نہ کہ اس سے پینگیں بڑھاءی جاءیںگی۔ رہے وہ مسلمان جو مغربی ممالک میں رہنے کا فیصلہ کرچکے ہیں تو سب سے پہلے تو یہ غور کیاجاءے گا کہ نقلِ مکانی کرکے ایک اجنبی ملک میں رہنے کا فیصلہ کن وجوہ کی بناپر کیاگیا۔ کیوں کہ ہمارے آقا حضور سرورِ کاءنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیاہے: فمن کان ھجرتہ الی اللّٰہ ورسولہ فھجرتہ الی اللّٰہ ورسولہ ومن کان ھجرتہ الی دنیاً یصیبھا او امراۃ یتزوجہا فھجرتہ الی ماھاجرالیہ‘تو جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول(ص) کی طرف قبول ہوگی ﴿اور وہ ہجرت کے ثواب کا حق دار ہوگا﴾ اور جس کسی کی ہجرت کسی دُنیوی غرض کے حصول کے لیے تھی یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے تھی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے سمجھی جاءے گی۔ ﴿اس کے مقصد کاحصول ہو یا نہ ہو ہجرت کاکوءی ثواب نہ مل سکے گا﴾۔’

اب اگر انھوں نے دُنیوی اغراض سے نقلِ مکانی کی ہے تو ہجرت کے ثواب سے تو محروم ہوہی گئے۔ البتہ ان کی یہ نقل مکانی ناجائز یا حرام نہیں بہ شرطے کہ وہ اپنی اسلامی شناخت کے ساتھ وہاں رہ سکیں اور اپنی نسلوں کو آزادانہ پروان چڑھاسکیں۔ بہ صورت دیگر عذاب جہنم کی وعید ہے:‘جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں‘یہ تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ اپنی جگہ کم زور اور مغلوب ﴿اقلیت؟﴾ تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم ہجرت کرجاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کاٹھکانا دوزخ ہے۔’

اس دھمکی کی شدت دوچند ہوجاتی ہے جب یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے پیدایشی وطن میں رہ کر جبرو ظلم کی وجہ سے اپنی دینی و تہذیبی شناخت کھودیںاور دُنیوی مفادات سے اس قدر بندھ جاءیں کہ دین کی حفاظت کے لیے ہجرت نہ کریں۔ پھر ان کا کیا حال ہوگا جو دُنیوی اغراض سے ترکِ وطن کرکے ایسے دین دشمن ملک میں جابسیں کہ دین و تہذیب کے تانے بانے ایک ایک کرکے بکھرتے چلے جاءیں اور ایک جدید اسلام کی ضرورت محسوس ہونے لگے۔ بدلا ہوا اسلام تو مشرکین بھی قبول کرنے کو تیار تھے۔ ‘اس قرآن کو چھوڑکوءی دوسری کتاب لاءو پھر اس میں کچھ تبدیلی کردو﴿تو ہم ایمان لے آئیں گے﴾’

اسلام نہ صرف یہ کہ ایڈجسٹمنٹ ﴿ اصولوں میں سمجھوتے﴾کاقائل نہیں، بلکہ وہ کسی بھی صورت میں تکثیری سماج میں تحلیل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر یہ نقل مکانی داعیانہ ہجرت ہے تو اس کے لیے پہلے یہ ثبوت پیش کرناہوگاکہ اپنے وطن میں حق دعوت اداکردیاگیا۔ جہاں کی زبان سے تم واقف تھے، جس کی خوبو میں تم رچے بسے تھے، جہاں تمھاری عملی ،نسبی اور صہری پہچان تھی۔ کیاوہاں کی خیرخواہی کاحق ادا ہوگیا؟ ورنہ جلیل القدر پیغمبر حضرت یونس علیہ السلام کی پکڑ کرنے والا رب ہمیں کیوں چھوڑدے گا۔ موجودہ داعیان میں سے ایک بزرگ شخصیت جناب م-نسیم صاحب مرحوم نے برسرِ منبر یہ فرمایاکہ میں نے امریکا ﴿جہاں وہ ہمہ وقت داعی تھے﴾ جاکر اپنی زندگی کے ستاءیس سال ضائع کردیے۔ دعوتی کام کے لیے تو یہی سرزمین میرے لیے موزوں ترین تھی۔ ان کی یہ کسک اشارہ کررہی ہے کہ دعوتی کام کے نام پر اس طرح کے مزید تجربات کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ستائیس سال کی غلطیوں کو تو اِن شاء اللہ معاف کردے گا لیکن وہ گزرے ہوئے ستاءیس سال واپس کیسے آسکتے ہیں۔

حاصل کلام یہ کہ کہیں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کرنے کے لیے مسلمان بالکلیہ آزاد نہیں ہے۔ زندگی کے دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی مسلمان شریعت مطہرہ کا پابند ہے۔

نومبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau