نقد وتبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

نام کتاب:  دعوتِ دین کا انبیائی طریقۂ کار

مصنف:  ڈاکٹر محمودحسن الٰہ آبادی

صفحات:  ۴۲۲،

قیمت: ۵۶ روپے

ناشر:  مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی۔۵۲

بھٹکے ہوئے انسانوں کو سیدھی راہ دِکھانا، انھیں اللہ کے دین کی طرف بلانا، ان تک حق کاپیغام پہنچانا اور انھیں معروفات کاحکم دینا اور منکرات سے روکنا، ان کاموں کی ضرورت و اہمیت ہر دور میں محسوس کی گئی ہے اور انھیں امتِ مسلمہ کے فرائض منصبی میں شمارکیاگیا ہے۔ چنانچہ علماے حق نے اپنے مواعظ و ارشادات اور خطبات و تصانیف میں اس پہلو پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیاہے اور اس کے اصول وآداب پربہت وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔ ماضی قریب میں اس موضوع پر عرب دانش وروں کے قلم سے چھوٹی بڑی متعدد کتابیں منظرعام پر آئی ہیں، جن کے اردو زبان میں ترجمے بھی ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر محمود حسن الٰہ آبادی کی پیش نظر کتاب ’’دعوت دین کا انبیائی طریقۂ کار‘‘ بھی اس موضوع پر ایک مفید اضافہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک اپناپیغام پہنچانے کے لیے انھی میں سے کچھ انسانوں کو منتخب کیا اور انھیں اپنا نبی اور رسول بنایا۔ دعوتِ دین انبیاے کرام کا مشن رہاہے۔ انھوں نے بہ راہِ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اس کام کو انجام دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دعوتِ دین کا وہی طریقۂ کار اختیار کیاجائے جو انھوں نے اختیار کیاتھا، انھی آداب کی رعایت کی جائے جو انھوں نے ملحوظ رکھے تھے اور وہی صفات اپنے اندر پیدا کی جائیں جن سے ان کی پاکیزہ زندگیاں مزین تھیں۔ زیر نظر کتاب میں اس موضوع کے مختلف پہلووں پرشگفتہ اسلوب اور عالمانہ استدلال کے ساتھ اظہارِ خیال کیاگیا ہے۔ ابتدا میں دعوت کی اہمیت اور ماہیت کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایاگیا ہے کہ ایک داعی کے اندرکیا بنیادی اوصاف ہونے چاہئیں؟ پھر دعوتِ دین کے انفرادی اور اجتماعی طریق کار کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے اورانبیاے کرام اور اصحاب رسول کا نمونہ پیش کیاگیا ہے۔ اگلی بحث اقامتِ دین کے عنوان سے ہے۔

فاضل مصنف نے آیاتِ قرآنی کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ دین کا اطلاق عقائد پر بھی ہوتا ہے اور عبادات پر بھی۔ اس کے علاوہ قانونِ حلت و حرمت اور حدود تعزیرات بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ غرض پوری انسانی زندگی میںاللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے کا نام دین ہے اوراس کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ذات پر بھی قائم کیاجائے اور تعلیم و تلقین کے ذریعے دوسروں کوبھی اس کا پابند بنایاجائے۔ ایک باب میںانبیاے کرام کی دعوتی سرگزشت بیان ہوئی ہے اور اس ضمن میںاحکام دین میں جو تدریج رہی ہے اسے نمایاں کیاگیا ہے۔ ایک بحث مصنف نے استخلاف کے موضوع پر کی ہے۔ استخلاف کا مطلب ہے روے زمین کے اقتدار کا مالک ہونا۔ یہ اقتدار کبھی اللہ کے نیک بندوں کو حاصل ہوتاہے اور کبھی ظالموں اور فسادیوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، لیکن دونوں میں بیّن فرق ہے۔ نیک بندے جب حکومت و اقتدار پر فائز ہوتے ہیں تو دنیا میں خیرو برکت عام ہوتی ہے، جب کہ اشرار اسے فتنہ وفساد کو پھیلانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔

اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمودحسن الٰہ آبادی ﴿پ:۲۳۹۱﴾ جو عرصے سے مشہور صنعتی شہر بھیونڈی میں مقیم ہیں، اگرچہ پیشۂ طب سے وابستہ ہیں، لیکن اسلامیات اور اردو ادب کا صاف ستھرا ذوق رکھتے ہیں۔ ان کے علمی و تحقیقی مضامین سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ ، ماہنامہ معارف اعظم گڑھ، ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی، سہ ماہی مطالعات نئی دہلی، سہ ماہی افکار عالیہ مؤ، ماہ نامہ برہان دہلی، سہ ماہی اقبال ریویولاہور وغیرہ اور ادبی و تنقیدی مضامین سفیر نعت کراچی، سہ ماہی نواے ادب ممبئی، ماہ نامہ پیش رفت نئی دہلی وغیرہ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ زیرنظر کتاب بھی ان کے علمی و تحقیقی ذوق کی آئینہ دار ہے۔ بہ حیثیت مجموعی یہ کتاب دعوتِ دین کے خط وخال نمایاں کرتی ہے، اس کے مطلوبہ طریقۂ کار کی وضاحت کرتی ہے اورقارئین کو عمل پرابھارتی ہے۔ امید ہے راہِ دعوت میں کام کرنے والے اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھائیں گے۔

اپریل 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau