کتاب نما

تنویر آفاقی

قواعد زبانِ قرآن  از  پروفیسر خلیل الرحمن چشتی

عوام الناس کے لیے قرآن کو ترجمے سے پڑھنے، یا براہ راست سمجھنے کی استطاعت پیدا کرنے کے سلسلے میں امت کی اکثریت کے اندر جو منفی رجحان پایا جاتاتھا، اب اس کا زور ٹوٹنے لگا ہے۔ قرآن کوترجمہ و تفسیر کی مدد سے سمجھنے کے ساتھ ساتھ اب یہ رجحان بھی کافی حد تک عام ہو چلا ہے کہ عربی زبان وقواعد کی کم از کم اتنی استطاعت پیدا کر لی جائے کہ قرآنی آیات کے مفہوم کو بآسانی سمجھا جا سکے۔ مختلف اداروں اور حلقوں کی جانب سے دروس و مطالعہ قرآن کے سلسلے چلتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض کتابیں بھی خاص اسی مقصد سے لکھی گئی ہیں تاکہ لوگ ان کی مدد سے عربی کی بنیادی صلاحیت پیدا کرکے قرآنی آیات کا ترجمہ سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔اب تک اردو اور انگریزی زبانوں میں بے شمار کتابیں اس طرح کی منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحق انصاری (سابق امیر جماعت اسلامی ہند) کی کتاب ‘قرآنی عربی سیکھیے’ جو انگریزی میں Learning the language of the Holy Qur‘anکے نام سے شائع ہوئی ہے۔ عبدالعزیز عبدالرحمن کی کتاب ‘۸۰ فی صد قرآنی الفاظ’بھی بہت معروف ہے جو سہل انداز میں قرآنی الفاظ کے معنی و مفہوم کو سمجھنے میں معاون سمجھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم حافظ اسمعیل سورتی کی کتاب ‘قرآنی عربی’ کی اپروچ بھی یہی ہے۔بعض ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل بھی قرآنی عربی سکھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔

‘قواعد زبان قرآن’ ڈاکٹر خلیل الرحمن چشتی نے ترتیب دی ہے، جوبڑے سائز کی دو جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ پروفیسر خلیل الرحمن قرآن اور حدیث کے موضوع پر کئی اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس سے پہلے ان کی ایک کتاب ‘درس قرآن کی تیاری کیسے کریں’ بھی آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ‘قرآنی سورتوں کا نظم جلی’ اور ‘حدیث کی اہمیت’ بھی ان کی اہم کتابوں میں سے ہیں۔

‘قواعد زبانِ قرآن’ خاص طور سے ان بڑی عمر کے لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو قرآن کا فہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کتاب کے پہلے صفحے پر اس کا تعارف اس طرح کرایا گیاہے:

‘‘یہ کتاب بالغ مبتدیوں کے لیے، قرآنی مثالوں کے ساتھ مرتب کی گئی ہے، تاکہ تعلیم یافتہ افراد کو فہمِ قرآن میں مدد مل سکے۔’’

کتاب کی بعض خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ مصنف نے اسے خود کئی مرتبہ طلبا کو پڑھایا ہے۔ اس دوران انھیں کتاب کو بہتر اور زیادہ مفید بنانے کے لیے جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی تبدیلی کرتے گئے ہیں۔ اسی غرض سے اس کی ترتیب میں بھی بعض تبدیلیاں کرکے اسے بہتر بنایا ہے۔ کتاب میں تکرار سے کام لیا گیا ہے تاکہ پچھلے اسباق کا اعادہ ہوتا رہے۔ عربی گرامر کا اہم جز گردان (صرف) ہوتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے ایسے چارٹس اور جدول ترتیب دیے ہیں کہ طالب علم کو پوری گردان نہ رٹنی پڑے اور تمام صیغوں پر عبور بھی حاصل ہو جائے۔

مصنف نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے کہ اس کتاب کی مدد سے بڑی عمر کے طلبائے قرآن، بالخصوص خواتین کو محض بارہ دن کے اندر قرآنی آیات کی نحوی اور صرفی تحلیل کرنے کے قابل بنا دیا گیا۔کتاب جدید تعلیم یافتہ افراد کی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ اس لیے اس کا اسلوب عربی زبان و قواعد کی ان کتابوں سے مختلف اور آسان ہے جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسی لیے قواعد کو آسانی سے سمجھانے کے لیے انگریزی مترادفات کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

اولاً اس کتاب کو الفوز اکیڈمی، اسلام آباد نے شائع کیا تھا۔ زیرنظر اشاعت ملت پبلی کیشنز، سری نگر کی ہے۔کتاب میں جدید طریقہ تدریس کو اختیار کیا گیا ہے، یعنی پہلے اصول بتایا گیا ہے اور پھر اس اصول کی مثالیں دی گئی ہیں اور پھر چند مثالوں کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ مثالیں زیادہ تر قرآن سے دی گئی ہیں۔

 

ناشر:  ملت پبلی کیشنز حیدرپورہ، سری نگر

ڈاکٹر محمد رفعت:  ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

مرتب:  اشہد رفیق ندوی

‘محمد رفعت’ ایک عظیم شخصیت کا مختصر سا نام ہے، لیکن اسم بامسمی کہیے۔ ان کی شخصیت سے غائبانہ تعارف رکھنے والا انھیں پہلی بار دیکھتا تو ایک عجیب کشمکش سے دوچار ہو جاتا۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا کہ ان کی شخصیت کا وہ خاکہ جو اس کے ذہن میں بنا ہوا ہے وہ صحیح ہے یا وہ جو آنکھوں کے سامنے نظر آ رہا ہے۔ سادہ طبیعت، سادہ لباس، سادہ انداز گفتگو، چلنے کا انداز کسی بھی قسم کے استکبار اور بڑکپن کے احساس سے پاک۔ ان کی ذہانت و فطانت اور تبحر علم اور اس پر یہ سادگی لوگوں کا دل جیت لیتی تھی۔ اسی لیے جب ڈاکٹر محمد رفعت اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان سے قلبی تعلق رکھنے والا ہر شخص ان کے جنازے میں شرکت کے لیے کھنچا چلا آیا۔ سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے ان کی شخصیت کا خاکہ اس طرح کھینچا ہے:

‘‘ڈاکٹر محمد رفعت صاحب کی تیسری خصوصویت ان کی قلندرانہ شان تھی۔ علم و عہدہ، عزت و شہرت سب کچھ ہونے کے باوجود سادگی کے پیکر تھے۔استکبار کی کہیں جھلک نہیں، جاہ وجلال کا ادنی مظاہرہ بھی نہیں، طبیعت سادہ، لباس سادہ، غذا سادہ اور چال ڈھال تو نہایت ہی سادہ۔ جب تک اندرونی جوہر کامشاہدہ نہ ہو جائے مرعوبیت کے لیے ظاہر میں کچھ بھی نہ تھا۔ لیکن اگر کسی محفل میں انھیں سائنس، فلسفہ، اخلاق، اقدار کسی موضوع پر اظہار خیال کرتا کوئی سن لے تو مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ خطاب کی شان بھی بالکل نرالی تھی۔ نوٹ پیڈ سے بے نیاز ڈائس پر کھڑے ہوتے اور مقررہ موضوع پر نہایت وقیع مواد اس حسن ترتیب کے ساتھ ڈلیور کرتے کہ کیا کوئی لکھ کر اس ترتیب سے پڑھ سکے گا۔ وقت کے اتنے پابند، مجال نہیں کہ ایک دو منٹ بھی وقت مقررہ سے آگے بڑھ جائیں۔ ان کی یہی علمی شان جوانوں کے دلوں میں گھر کر جاتی او ریہ نسل ہمیشہ انھیں سننے کو مشتاق رہتی۔’’

مرحوم شخصیات کیا، اب تو زندہ شخصیات پر ضخیم کتابیں شائع کرنے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانا کارِخیر اس لیے ہے کہ اس میں قارئین کے لیے زندگی کو سنوارنے اور بنانے کا کافی سامان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رفعتؒ کی شخصیت بھی ایسے بہت سے قابل تقلید نمونوں سےمزین تھی۔ ان کے طلبا کی بڑی تعداد سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ ان کی شخصیت کے کس پہلو نے آپ کو زیادہ متاثر کیا، آیا ان کے علم و انداز تدریس نے یا ان کی سادہ و بے لوث شخصیت نے ؟ تو شاید اکثر کےلیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ دونوں میں سے کس کو اولیت دی جائے۔

ڈاکٹر رفعت مرحوم کے انھی مختلف پہلؤوں کو سامنے لانے کی غرض سے ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ یہ سیمینار (ویبینار) ادارے کے کانفرنس ہال میں ہی ۳۱ جنوری ۲۰۲۱ کو منعقد ہوا تھا۔ اس میں ۲۲ مختلف مقالہ نگاران نے مقالات پیش کر کے ان کی شخصیت کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا تھا۔ بعد میں انھی مقالات کو ادارے کے اعزازی سکریٹری جناب اشہد رفیق ندوی نے ‘ڈاکٹر محمد رفعت:  ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا’’ کے نام سے مرتب کرکے شائع کیا ہے۔ اس میں دو قسم کے مقالات جمع کیے گئے ہیں۔ ایک وہ مقالات جو مرحوم کی دعوتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ایسے مقالات کی تعداد دس ہے۔ دوسرے وہ مقالات جو ان کے علم و فکر پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان مقالات کی تعداد بھی دس ہی ہے۔ایک مضمون ان کے چھوٹے صاحب زادے محمد رشاد کا بھی ہے جس میں انھوں مرحوم کی گھریلو زندگی کے اہم اور قابل تقلید گوشے بیان کیے ہیں۔

ناشر:  ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ

اقامت دین:  مطلوبہ اوصاف اور تقاضے

از مولانا سید جلال الدین عمری

اقامت دین کوئی نیا موضوع نہیں ہے۔ اس موضوع پر پہلے سے بھی بعض اہم کتابیں موجود ہیں، جن میں اس موضوع کے ہر پہلو پر مفصل گفتگو کی گئی ہے، اس کے فلسفے اور حقیقت و اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ البتہ ہر موضوع وقت کے ساتھ ساتھ نئے تقاضے پیش کرتا ہے۔ اس لیے ان پہلؤوں پر گفتگو ضروری ہو جاتی ہے۔ مولانا سید جلال الدین عمری کی یہ کتاب اگرچہ اس موضوع پر کوئی مستقل کتاب نہیں ہے،بلکہ ان مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، جو مختلف مواقع پر سیمینار، کانفرنس یا خطبات کی شکل میں پہلے سے موجود تھے۔ انھی مضامین پر نظر ثانی کرکےکتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔اس میں بہت سے دیگر موضوعات کے علاوہ اقامت دین پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

۱۰۷ صفحات کی اس کتاب میں درج ذیل مضامین شامل ہیں:  ۱) اقامت دین، ۲)مطالعۂ سیرت:  قرآن کی رہ نمائی، ۳) حالات حاضرت میں مکی عہد نبوی سے راہ نمائی، ۴) علما امت۔ وارثین انبیا، ۵) داعیانِ دین کا کردار، ۶) ذمہ دارانِ جماعت کا ذاتی تزکیہ، ۷) انابت الی اللہ، ۸)ملک کے حالات اور ہماری ذمہ داری، ۹) امت مسلمہ سے خطاب، ۱۰)ملک کے حالات بدلنے کے لیے مسلمان آگے آئیں اور ۱۱) ملکی انتخابا ت اور امت مسلمہ کی ذمہ داری۔یہ تمام مضامین کسی نہ کسی پہلو سے اقامت دین کے تقاضوں کو ہی واضح کرتے ہیں، اس لیے انھیں یک جا شائع کیا گیا ہے۔مولانا ایک عرصے تک مرکز جماعت اسلامی کی مسجد میں عیدین کی امامت اور خطبہ دیتے رہے ہیں۔ کتاب کے اندر ان کے بعض خطبات عیدین کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔

ناشر:  مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

دسمبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau