مشترکہ خاندانی نظام کی خرابیاں

اسماء عثمان

همارے ملك میں آج یکساں سول کوڈ کے جبراً نفاذ کا بیڑا بعض لوگوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ مسلم خواتین سے ہمدردی کی آڑ میں شریعت اسلامی ان كے  نشانے پر ہے ۔ ان كے اِن بے جا حركتوں كے باوجود ’طلاق ثلاثہ‘ بل کے خلاف امت نے پورا زور شریعت کے دفاع میں لگا دیا جو کچھ ممکن تھا خلوص کے ساتھ کیا۔ الحمدللہ، مسلم غیور خواتین بھی شریعت مطہرہ سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ مگر باطل طاقتوںنے اپنی نادانی پر اِصرار كیا۔

اب دفاعی پوزیشن ترک کرکے مسلم معاشرے میں عملی اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اصلاح معاشرے کے ضمن میں بورڈ کی کوششیں قابل قدر و لائق تحسین ہیں مگر کافی نہیں۔ شاخیں کاٹنے سے کام نہیں چلے گا۔ گمراہی کی جڑوں پر تیشہ چلانا وقت کا تقاضا ہے۔

کلمہ طبیبہ کی تربیت کے مطابق باطل نظام معاشرت کا اصولی انکار ، اهل ایمان كے لیے لازم ہے تاکہ شریعت کے عطا کردہ اسلامی نظام معاشرت کو بے کم وکاست نافذ کیا جا سکے۔

ان اہل علم ودانش کے ناقص ہیں سارے منصوبے

انساںکا بنانے والا ہی انساں کے مسائل جانے ہے

ان الدین عند الله الاسلام اسلام محض چند عقائد کے مان لینے یا عبادات کو رسمی طور پر ادا کر لینے کا نام نہیں ۔ یہ مکمل نظام حیات ہے انسانوں کے خالق و مالک کی مرضی کے مطابق دنیاوی زندگی گزارنے کا پسندیدہ طریقہ ہے۔

گھر معاشرے کی بنیادی اکائی ہے جہاں اگلی نسلیں پروان چڑھتی وتربیت پاتی ہیں، اسے باطل نظام معاشرت سے بچانا چاہیے۔

’مشترکہ خاندانی نظام‘(Joint Family System)سے مسلم معاشرے کو نجات پانی چاہیے۔

باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے

شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

اس ناقص نظام نے اسلامی نظام معاشرے کے توازن كو متاثر کر دیا ہے۔

یہ عورت کو اپنا گھر بسانے کی فطری خواہش و حق سے محروم کرکے شوہر کے خاندان کا ضمیمہ بنا دیتا ہے حق تلفی جس گھر کی بنیادہو وہاں اگلی نسل کی اسلامی تربیت نہ ہوسکے گی۔ حق کی سربلندی کا مقصد عظیم لے کر اٹھنے والی نسل اب تک مفقود وندارد نظر آتی ہے۔

ظلم و ناانصافی

عورت کو بعد از نکاح شوہر کے گھر کے ہر سیاہ و سفید کی ملکہ بننے کا شرعی حق حاصل ہے۔ اس سے محرومی اس کے ساتھ حق تلفی ہے بلکہ ظلم کے مترادف ہے آزادی و خود مختاری کے بغیر مسئولیت کے کیا معنی۔۔۔۔؟

جوائنٹ فیملی سسٹم فرسودہ خانگی نظام ہے عورت کو اپنے مقصد حقیقی سے بیگانہ رکھ کر خاوند اور اس کے تمام متعلقین کی محض خدمت پر مامور و مجبور کرتا ہے۔یه استحصالی نظام بھی ہے جبکہ اسلامی نظام معاملات کو بہتر طور پر انجام دینے والا ہے۔ اور اخروی کامیابی کے حصول کا ذریعہ ہے۔

پردے کے حکم کی خلاف ورزی

اسلام معاشرے میں پردے کا فطری قانون رائج کرتا ہے۔ مسلم عورت کو سترو حجاب کے احکامات کا پابند بناتا ہے۔ محرم و نامحرم کے حدود متعین کرتا ہے۔ بے حیائی کی راہیں مسددو کرکے پاکدامنی و پاکیزگی کو یقینی بناتا ہے جبکہ روایتی معاشرت نے پردہ کو نظر انداز کیا۔ اکٹھے رہنے کا طریقہ اپنایا تو پردے کے خدائی قانون کی دھجیاں اڑانے کا راستہ کھلا۔ مسلم گھرانے میں آنکھ کھولنے والی بچی نہ جانے کتنے نامحرم رشتہ داروں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوتی ہے پھر شادی کے بعد سسرال میں (شوہر کے علاوہ) نامحرم رشتہ داروں کی خدمت بجالانا اس کا اولین فریضہ مانا جاتا ہے افسوس کہ ہمارے گھروں میں رات دن حدود اللہ کی پامالی ہو رہی ہے۔ جس نے پردے کے نظام کو ناکارہ کرکے رکھ رہا ہے۔

تخریبی نظام

جوائنٹ فیملی سسٹم ایک ڈھکوسلہ و فریب ہے۔ رشتوں کے حوالے سے اسلامی معاشرتی نظام میں جوائنٹ فیملی سسٹم جیسے کسی اضافی وخارجی دباؤ کی چنداں ضرورت نہیں ۔ قریبی رشتہ داروں کا اکٹھا رہنا تعلقات کی باہمی کشش و محبت کو ختم کرتا ہے۔ مستقل گلے اور شکوے کا ماحول بناتا ہے آپسی رنجشوں کی فضا استوار کرتا ہے، غیروں کے لیے تو دل دھڑکتے ہیں مگر اپنوں کے لیے دھڑکنا بھول جاتے ہیں ۔

اسلام عورت کو اپنے خاوند کے گھر کی ملکہ ، منتظمہ ، نیز اگلی نسلوں کی معلمہ و مربیہ کے اعلیٰ ترین مناصب سے سرفراز کرتا ہے۔ اس کی صلاحیتوں کو مقصد کی تکمیل کی خاطر بروئے کار لاتا ہے، جبکہ جوائنٹ فیملی سسٹم خواتین کو افراد خانہ کی محض خدمت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جھنجلاہٹ تناؤ ودباؤ کا ماحول ان کے دین و اخلاق کی تباہی کا مؤجب ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ شدید مایوسی (Frustration) سے دوچار ہوکر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں۔ اسلام کی مطلوبہ شخصیت و کردار مسخ هو جاتا هے۔ اس پس منظر میں ان سے تربیت اولاد کے فریضے کی بہتر ادائیگی کی امید رکھنا عبث ہے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کا شر

بعض حضرات یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اکٹھے رہنے سے بہت سی ذمہ داریوں كی ادائیگی اور مشکلات كے مقابلے میں باہمی تعاون آسان ہوجاتا ہے۔ اس جیسے كچھ فوائد گنوائے جا سکتے ہیں لیکن اگر اس میں واقعی خیر ہوتی تو رسول اللہ اس كی هدایت فرماتے۔

ضروری ہے کہ ہم اپنی معاشرت پر اسلامی خانگی نظام کو نافذ کریں تاکہ اسلام کا مقصد و مشن پایۂ تکمیل کو پہنچے اور چند برسوں کی محنت سے ایسی نسل تیار ہوجائے جو اسلام کے فطری نظام کا عملی مظاہرہ کرنے لے لائق ہو اور ساری انسانیت کے لیے ربانی پیغام کو عام کیا جا سکے۔

تعدد ازدواج

تعدد ازدواج کی اجازت کا از سر نو احیا لازمی ہے۔ ایک زبر دست کا یا پلٹ درکار ہے معاشرتی انقلاب(Social Revolution) برپا کرنے کا یہ کام جو ئے شیر لانے کے برابر ہے تاہم مخلصانہ جد و جہد سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔

پولی گیمی کا نظریہ ’عورت مخالف‘ (Anti Women) ہر گز نہیں، بلکہ اس کے جملہ فطری حقوق اور مقام کا نگہبان و ضامن ہے ۔ اس سے عورت کو کبھی نقصان نہ ہوگا۔ ’عدل‘ کے ساتھ ایک سے زائد بیویاں رکھنے کی اجازت مسلم مرد کی عیش و عشرت کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داریاں دوبالا کردینے والا شرعی طریقہ ہے۔ مشاہدہ کہتا ہے کہ آج بھی یہ موقع جس معاشرے میں موجود ہے وہاں عورت بہتر مرتبہ ومقام پر فائز ہے۔ بیوہ ، مطلقہ ، بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل کا معقول حل اسی الٰہی قانون کے عملاً نفاذ میں مضمرہے۔

تین طلاق کے خلاف احتجاج بن جانے والے انصاف پسند حضرات جان لیں کہ شریعت نے مرد کو عورت سے کسی وقت رشتہ توڑ دینے کا شرعی حق دیا ہے تو متاثرہ مطلقہ کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا بلکہ پولی گیمی کے شرعی قانون کے ذریعہ نکاح ثانی کا موقع دیا۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب معاشرے میں ’پولی گیمی‘ عملاً جاری و ساری ہو۔ مرد کو نکاح ثانی کا اختیار دینے سے مختلف النوع مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

مرد ایک وقت میں چار نکاح کر سکتا ہے۔ جب کہ عورت ایک وقت میں ایک ہی نکاح میں رہ سکتی ہے۔ (یہی اس کے لیے فطری ، جذباتی، اخلاقی ، طبعی اور نفسیاتی طور پر مناسب و صحیح ہے)۔

حکومت بلا نکاح کے ساتھ رهنے یعنی لیو ان ریلیشن شب (live in relationship) کی واہیات اجازت دیتی ہے۔ مرد کو ایک عورت کی موجودگی میں دوسری عورت سےنا جائز رشتے کی اجازت دے دی گئی  ہے تو وہ جائز رشتے کو چیلنج کیسے کرسکتی ہے؟ مسلمان ،دوسری بیوی سے نکاح کرکے اسے شریک حیات کار تبہ دیتا ہے۔ تمام بیویوں میں مکمل انصاف کا شرعاً پابند و عند اللہ جوابدہ ہے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کا خاتمہ ہویا پولی گیمی ، کورواج دینے کا معاملہ ہو ، غالب امکان یہ ہے کہ بہت سے نادان مسلم مرد وخواتین اس کو قبول نہیں کریں گے لہٰذا ایک ملک گیر سطح پر زبر دست مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ مسلم امۃ اس ہمہ گیر تبدیلی کو شریعت مطہرہ کے تحفظ کا ضامن سمجھے۔ ’تعدد ازدواج‘ کے معاملے میں خاصی باشعور، خواتین تک تذبذب (Confusion) کا شکار ہیں۔ ہر سطح پر افہام و تفہیم کے ذریعے ، غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہوگا ، اگرحکومت پولی گیمی پر پابندی کا بل لائے تو مسلم خواتین مکمل قلبی اطمینان کے ساتھ باطل کی چالوں کے خلاف سینہ سپر ہوسکیں۔ ہماری ادنیٰ رائے یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اسلام پسند فعال خواتین کا ایسا نمائندہ گروہ تشکیل دیا جائے جو آگے بڑھ کر شریعت کی تفہیم کرے۔  حکومت سے شرعی قوانین میں عدم مداخلت کا مطالبہ کرے۔ ’تعدد ازدواج‘ کے معاملے میں ’عدل‘ سے متعلق شرط ہر حال میں دفاکرنے کی فضا سازگار کرنا ہوگی۔ حکومت وقت شرعی عدالتوں کو مؤثر انداز میں کام کرنے کا پورا موقع دے۔ شرعی قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔

اگر یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ اس ساری کوشش کے بغیر تحفظ شریعت ممکن ہے تو یہ غلط خیال ہے حق و باطل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اندھیرا اور اجالا ساتھ نہیں رہ سکتے ایک نظام کو مسترد کئے بغیر دوسرے کی بحالی کا تصور محال ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم سے عورت کواس کا جائز اسلامی مقام نہیں مل سکتا ۔ باطل روایات نے ہر مسلمان کو اپنے حقیقی مقصد و مشن سے یکسر بیگانہ کر دیا۔

باطل نظام اختیار کرکے اسلام کے عطا کردہ مقام ومرتبہ سے محرومی ہوگئی۔ ہمارے ملک کی قدیم معاشرت میں لڑکی کو شادی کے وقت ’کنیا دان‘ کی رسم ادا کرتے ہوئے والدین کے گھر سے وداع کر دیا جاتا ہے۔ ’ڈولی یہاں سے اور ارتھی وہاں سے ‘ كے باطل نظریے کے تحت میکے کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں ۔ اب شوہر کے گھر ہی اسے ہر حال میں جینا یا حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے مر جانا ہے۔ چاہےشوهراسے معلق رکھے یا پھر جو جی میں آئے برتاؤ کرے مگر طلاق دے کر علیحدہ نہیں کر سکتا۔ یہی ’جبروا کراہ‘ عورت کا ’’بڑا تحفظ‘‘ سمجھا جا تا ہے۔ اور اسی کا مطالبہ مسلم عورت سے بھی مسلسل جاری ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ طلاق کے اعداد وشمار کیا کہتے ہیں۔

نادانوں کو اصل اعتراض شریعت کے قوانین پر ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم مرد کو کل اختیار حاصل هوگیا هے کہ وہ جب چاہے بیوی سے رشتہ توڑ کر اسے سڑک پر بے سہارا چھوڑدے۔ اس کے خلاف مسلم عورت نه شرعاً کوئی کارروائی کرسکتی ہے اور نہ کسی نان نفقہ کی شرعاً حقدار ہے۔

جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے بلکہ شارع نے طلاق سے پہلے مصالحت کی صورتیں اختیار کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس نے عورت کی معاشرتی حالت کومضبوط و مستحکم کیا ہے۔

(الف)  مسلم خاتون اپنے والدین کے گھر میں پرائی امانت کے طور پر نہیں بلکہ مستقل ممبر کی حیثیت سے پرورش پاتی ہے جس کو وراثت میں شریک رکھا گیا ہے۔ شادی کے بعد شوہر کے نام کا  لاحقہ لگا کر عورت کی شناخت بدلنے کا طریقہ غیر اسلامی ہے۔

(ب) عورت عقد نکاح کے مقدس معاہدے کے تحت مسلم مرد سے رشتہ بناتی ہے وہ شروع سے آخر تک تمام اخراجات برداشت کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے عقد کو توڑنے یا برقرار رکھنے کا کلی اختیار اسے دیا ہے۔

(ج) لڑکی کے گھر والوں پر شریعت نے بارات، جہیز یا کھانے کا کوئی بوجھ نہیں رکھا کیوں کہ لڑکی پر کمانے کی ذمہ داری نہیں ہے۔

(د) والدین کے گھر سے لڑکی کا تعلق باقی رہتا ہے۔ جہاں وہ طلاق ملنے یا بیوہ ہوجانے کی صورت میں بے جھجھک واپس لوٹ سکتی ہے۔ اس پر خرچ کرنے کو بہتر صدقہ قراردیا ہے۔

(ہ) شریعت نے نکاح ثانی کا حق دے کر دوبارہ  نئی زندگی شروع کرنے کی راہ کھول دی ۔ مرد طلاق دے کر اخراجات کا بڑا خسارہ اٹھاتا ہے ، اس لیے طلاق دیتے وقت وہ دس بار سوچتا ہے۔ دوسری طرف عورت کا کوئی خرچ نہیں ہوتا۔

انسانی رشتے نازک پرندوں کی مانند ہیں۔ رشتے ناتوں کو حد سے زیادہ مسلط کر لینے سے وہ اپنی فطری کشش و جاذبیت کھودیتے ہیں ۔ اور ایک بار گراں بن جاتے ہیں ۔حدود میں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی انہیں زندہ و جاویداں رکھتی ہے:

انسانوں کے لیے نبی کریمﷺ کی تعلیمات ہر بوجھ ، طوق دجکڑن سے نجات دلانے کا اصل ذریعہ ہیں۔

ارشاد بادی تعالیٰ ہے:

يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ(سوره اعراف 157)

’’ وہ انہیں معروف کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔ پاکیزہ چیزیں ان کے لیے حلال کرتے، ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان کے بوجھ ، اور ان کے طوق جوان کے گلے میں پڑے ہیں ان سے اتار تے ہیں۔‘‘

خواتین کو یہ باور کرانا ہوگا کہ رشتوں کو اپنے مقام پر رکھیں ، رضائے الٰہی کے لیے نبھائیں، بوجھ و طوق نہ بنائیں۔ نہ خود شوہروں کی جائز آزادی سلب کرکے ان کی زندگی پر مسلط ہوں اور غیر ضروری طور پر انہیں مسلط کریں۔ دین و ایمان کی سلامتی کے ساتھ خوشگوار ماحول میں رشتہ نبھائیں اپنے گھروں کی ملکہ بنیں۔ انسان سازی جیسی اعلیٰ خدمات کی ذمہ دار بن کر دکھائیں۔

اسلامی معاشرت میں واقعتا عورت حقیقی معنوں میں عزت ووقار سے ہمکنار ہوتی ہے۔ اسے اس پر اعتراض نہیں ہوتا کہ اس کا شوہر کسی دیگر خاتون سے جائز رشتہ قائم کرنے کا خواہاں ہے ۔ آج تک عرب دنیا میں نه ’پولی گیمی‘ پر اعتراض ہوا نہ عرب خواتین میں اس تعلق سے کوئی اضطراب پایا گیا۔ اسلامی طرز معاشرت اپنا کر عورت احساس کمتری ومحرومی سے آزادی حاصل کرتی ہے۔ آسودہ زندگی جیتی ہے یہ ہم اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

جولائی 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau