اُمت کے نظامِ اجتماعی کی تعمیر

ڈاکٹر محمد رفعت

دین پر عمل کرنے اور اُمت کے مسائل حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اُمت کا نظامِ اجتماعی، اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ، ایک بار پھر دنیا میں جلوہ گر ہو، چنانچہ اگر کسی علاقے کے اہلِ ایمان سیاسی اعتبار سے اس پوزیشن میں ہوں کہ اپنے اجتماعی امور کو دینی تعلیمات کی روشنی میں انجام دے سکیں توانھیں اس آزادی کی قدر کرنی چاہیے اور پوری اجتماعی زندگی کو ہدایتِ الٰہی کے مطابق منظم کرنا چاہیے۔ اگر اہلِ ایمان اقتدار سے محروم ہو ں تب بھی اُن کو اپنی اجتماعی سماجی قوت کے ذریعے ممکن حد تک اُمت کے نظامِ اجتماعی کی تعمیر کرنی چاہیے۔ اس نظامِ اجتماعی کے بنیادی فوائد دو ہیں:

(الف)    اجتماعی نظام کے ذریعے سے دین کی تعلیمات پر کما حقہ عمل کیا جاسکتا ہے۔

(ب)       اجتماعی نظام کے ذریعے اُمت کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

اُمت کے نظامِ اجتماعی کی تعمیر کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ اجتماعی نظام کا مفہوم ذہنوں میں واضح ہو۔ اسلامی معاشرے کی ماہیت کو پیشِ نظر رکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اُمت کا مطلوبہ اجتماعی نظام درج ذیل عناصر سے تشکیل پاتا ہے:

(الف)    دینِ حق پر ایمان و یقین کی کیفیت جو بحیثیت مجموعی پورے معاشرے میں پائی جائے۔

(ب)       اسلامی تصورِ کائنات، اقدار اور آداب کا شعور جس کو معاشرے میں قبولِ عام حاصل ہو۔

(ج)        افراد کی بحیثیتِ مجموعی احکامِ شریعت سے واقفیت۔

(د)          معاشرے میں ایسی قیادت کی موجودگی جو علم اور تقویٰ کی صفات سے متصف ہو اور دین کے قیام اوراِنسانوں کے مسائل کے حل کے لیے درکار صلاحیتیں رکھتی ہو۔

(ہ)          ایسے تمام ضروری اجتماعی اداروں کی موجودگی جن کے ذریعے دینی فرائض کو انجام دیا جاسکے اور اُمت کے مسائل حل کیے جاسکیں۔

زیرِ نظر تحرير میں، نظامِ اجتماعی کی سمت پیش قدمی کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے۔ اس مثال کے ضمن میں دین کی ایک اساسی تعلیم ایتائے زکوٰۃ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ صحیح معنوں میں اس فریضے کی انجام دہی کے لیے ضروری ہے کہ زکوٰۃ کااجتماعی نظم قائم کیا جائے۔ اس اجتماعی نظم کے بعض پہلو برائے غوروفکر، ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں۔ اُمت کے اجتماعی نظام کا جامع خاکہ ترتیب دینے کے لیے، اسی انداز میں دیگر فرائضِ دینی کی انجام دہی کے سلسلے میں غور کیا جاسکتا ہے۔

اہل علم کا اِس امر پر اتفاق ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی مطلوب شکل اُس کااجتماعی نظم ہے (اگرچہ انفرادی طور پر ادا کرنے پر بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی لیکن یہ مجبوری کی بناپر ہوگا۔) پورے مسلم معاشرے کی اجتماعی ذمے داری بہرصورت یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کے جمع وصَر ف کا اجتماعی نظم کرے۔ اصولاً مطلوب ہونے کے علاوہ اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کے دیگر فوائد بھی ہیں جن میں قابل ذکر درجِ ذیل ہیں:

(الف)    اجتماعی نظم اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ مستحقین کی حقیقی ضرورت کے مطابق ان کی مدد کرسکے۔ انفرادی طور پر ہر فرد اس کی سکت نہیں رکھتا۔

(ب)       اجتماعی نظم کی صورت میں دینے والے افراد کے اندر عموماً وہ جذبات پیدا نہیں ہوتے جو ناپسندیدہ ہیں مثلاً نمودونمائش، احسان جتانا وغیرہ۔

(ج)        لینے والے شخص کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی اور اُس کو جگہ جگہ جاکر درخواست نہیں کرنی پڑتی۔

(د)          مستحقین کی امداد کے علاوہ اُن اجتماعی کاموں پر خرچ کرنا آسان ہوجاتا ہے جو فی سبیل اللہ کی مد کے تحت آتے ہیں۔

(ہ)           اجتماعی نظم کے پاس عموماً وہ ذرائع ہوتے ہیں جن سے وہ کم مستحق اور زیادہ مستحق کی درجہ بندی کرکے خرچ کی ترجیحات متعین کرسکتا ہے۔ افراد کے لئے ایسا کرنا مشکل ہے۔

نظامِ اجتماعی کی جانب پیش قدمی:

لیکن زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کا قیام اُمت کے نظامِ اجتماعی کی تعمیر کی سمت میں ایک قدم ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ارکانِ اسلام میں سے ہر ایک کی صحیح ادائیگی اجتماعی توجہ چاہتی ہے مثلاً

(الف)     پہلا رُکن شہادت ہے۔ اس گواہی کا مطلوب درجہ شہادت علی الناس ہے۔ یہ کام اجتماعی توجہ اور منصوبہ بندی چاہتا ہے۔

(ب)        دوسرا رکن اقامت صلوٰۃ ہے۔ اقامت صلوٰۃ میں مساجد کا نظم اور نماز باجماعت کا اہتمام لازماً شامل ہے۔

(ج)         تیسرا رکن ایتائے زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کے مطلوب فوائد کے حصول کے لئے اُس کا اجتماعی نظم ضروری ہے۔

(د)           چوتھا رکن حج ہے۔ یہ فریضہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اجتماعی نظم کا تقاضا کرتا ہے۔

(ہ)           آخری رکن صوم ہے ۔ یہ گرچہ بظاہر انفرادی عبادت ہے لیکن سارے مسلمانوں کے لئے رمضان کے مہینے کے تعین نے اسے اجتماعی بنادیا ہے چنانچہ رمضان کے دوران پورا مسلمان معاشرہ تقویٰ کے حصول کی اجتماعی کوشش کرتا ہے۔

اگراسلامی ریاست قائم ہو تو اقامت صلوٰۃ (خصوصاً اقامت جمعہ) ، ایتائے زکوٰۃ اور اقامت حج جیسے کام اُس کی ذمے داریوں میں شامل ہوں گے(بلکہ صحیح تر الفاظ میں یہ کام اُس ریاست کے اہم ترین فرائض ہوں گے) اگر اسلامی ریاست نہ ہو تو مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ پورا معاشرہ اِن فرائض کی ادائیگی کے لئے اجتماعی نظم قائم کرے۔

اقامت صلوٰۃ:

اللہ کا فضل ہے کہ اقامت صلوٰۃ کے سلسلے میں ہمارے مُلک کے مسلمان عام طور پر متوجہ ہیں۔ مساجد کی تعمیر کی جاتی ہے اُن میں ائمہ اور مؤذن مقرر کئے جاتے ہیں اور نماز باجماعت کا اہتمام ہوتا ہے۔ لیکن اِن قابل تحسین پہلوؤں کے علاوہ بعض پہلو قابل توجہ بھی ہیں۔ یہ پہلو انتظامی اور تربیتی دونوں ہیں۔

(الف)    انتظامی اعتبار سے دین کی اسپرٹ یہ تقاضا کرتی ہے کہ مسجد کے امور کا انتظام کرنے والے (جن کوہمارے ملک میں ’’مسجد کی کمیٹی‘‘ کہاجاتا ہے) اہل علم اور خدا ترس لوگ ہوں۔ عملاً اس کا اہتمام کم ہوتا ہے اور بسااوقات کمیٹی کے ذمہ دار گھٹیا کردار کے افراد ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے  مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

(ب)       کمیٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ مشورے سے کام کرے اکثر اس کااہتمام نہیں ہوتا اور افراد من مانی کرتے ہیں۔

(ج)        کمیٹی کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ حسابات کو منضبط رکھنے کااہتمام کرے اور عام مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً متعلقہ تفصیلات سے آگاہ کیاجاتا رہے۔ اس ضمن میں اکثر کوتاہی ہوتی ہے۔

تربیتی پہلو کے ضمن میں درج ذیل  نکات قابل توجہ ہیں:

(الف)    امام مسجد ایسا شخص ہونا چاہئے جو علم اور کردار کے اعتبار سے آبادی کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ عموماً ائمہ کے تقرر میں یہ معیار سامنے نہیں ہوتا۔

(ب)       امام مسجد کو اس کے منصب کے اعتبار سے، اتنا کفاف دیا جاناچاہئے کہ وہ ایک معقول معیار کے مطابق (دوسروں کا دست نگر ہوئے بغیر) اپنی گزربسر کرسکے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو اعلیٰ کردار کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔

(ج)        عموماً امام مسجد کو کمیٹی یا اس کے ذمہ داروںکو ملازم سمجھا جاتا ہے اور اُس کی حیثیت یہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے علم وضمیر کے مطابق، عام مسلمانوں کی اصلاح وتربیت کے لئے اپنی زبان کھول سکے۔ یہ صورتحال امام کے منصب کے بھی منافی ہے اور مسجد کا جو رول، مسلمانوں کی تربیت کے ضمن میں مطلوب ہے، اس کو بھی مجروح کرتی ہے۔

(د)          عموماً امام مسجد نماز باجماعت میں امامت کرتا ہے اور بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اس کا کام اِن دو امور کی انجام دہی پر ختم ہوجاتا ہے۔ یہ غیر اطمینان بخش صورتحال ہے۔

ایک باشعور اسلامی معاشرے میں امام مسجد کو چاہیے کہ وہ درس قرآن وحدیث کا اہتمام کرے، دینی مسائل میں لوگوں کی رہنمائی کرے، برائیوں سے منع کرے اور نیکیوں کی تلقین کرے اور خصوصاً خطباتِ جمعہ کے ذریعے مسلمان معاشرے کے دینی شعور کو بیدار کرے۔

چنانچہ اقامت صلوٰۃ کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

ایک اہم رُکاوٹ:

جماعت اسلامی ہند کی پالیسی میں مساجد کے کردار کی بحالی کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔

مسلمان معاشرے میں مساجد کا مطلوبہ رول یہ ہے کہ :

(الف)    وہ مسلمانوں کی اصلاح وتربیت کا مرکز بن جائیں اور

(ب)       مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر ہوں۔

اس  سلسلے میں ہمارے ملک کے اندر ایک بڑی رکاوٹ درپیش ہے۔ وہ رُکاوٹ یہ ہے کہ بہت سی مسجدیں مختلف مسالک کی نمائندہ بن چکی ہیں اور وہ مسلمانوں کی اجتماعیت کے بجائے مسلکی انتشار کی علامت بن گئی ہیں۔مسلمان معاشرے کی اصلاح کے لئے ایک ضروری قدم یہ ہے کہ مساجد کو فی الواقع مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر بنایا جائے۔ یہ قدم  متعدد ذیلی اقدامات چاہتاہے:

(الف)    سب سے پہلے مسلمان علماء وعوام کو اِس امر پر مطمئن کیاجانا چاہیے کہ( کتاب و سنت کو سند قرار دینے والے) اُمت کے تمام معروف مسالک ، دائرہ حق کے اندر ہیں اور اُن میں سے کسی کو بھی اُمت سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔

(ب)       موجودہ مرحلے میں یہ بات برداشت کی جاسکتی ہے کہ مسجد کا نظم چلانے والے (یعنی کمیٹی کے افراد) کسی ایک مسلک سے متعلق ہوں۔ لیکن بتدریج اس کی کوشش کی جانی چاہئے کہ مسجد کی انتظامیہ بستی کے سارے مسلمانوں کی نمائندہ ہو۔

(ج)        انتظامیہ کمیٹی کے افراد خواہ کسی مسلک  سے تعلق رکھتے ہوں لیکن مسجد کے معاملات میں مشورہ اور تعاون سارے مسلمانوں کا حاصل کیاجاناچاہیے۔

(د)           ہر مسلمان کو مساجد میں نماز ادا کرنے اور نماز باجماعت میں شریک ہونے کی پوری آزادی ہونی چاہیے اور اُس کی مسلکی شناخت زیر بحث نہیں آنی چاہیے۔

(ہ)          مسجد کے اندر ہونے والے خطابات میں کسی مسلک کا نام لے کر اُس کی جانب بلانے کے بجائے مسلمانوں کو دین کی طرف بلایا جانا چاہئے اور مسلمانوں کے عام دینی شعور کی سطح کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ کام کئے جائیں تو مساجد فی الواقع مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر بن سکتی ہیں۔

مسلکی شناخت پراصرار اور مسلکی تعصب کے ساتھ ساتھ اب مسلمانوں میں تنظیمی تعصب بھی شروع ہوگیا ہے اور اسلامی شناخت کے بجائے تنظیمی شناخت  اُن کے لئے اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے چنانچہ مساجد مسلکوں کے بجائے تنظیموں سے منسوب ہونے لگی ہیں۔ یہ صورتحال بھی قابل اصلاح ہے۔ یہ بات تو گوارا کی جاسکتی ہے کہ مسجد کا نظم وانصرام، کسی تنظیم  کے ہاتھ میں ہو لیکن

(الف)    مسجد کے معاملات میں مشورہ وتعاون سارے مسلمانوں کا حاصل کیاجانا چاہیے۔

(ب)       ہر مسلمان کو (بلالحاظ تنظیمی وابستگی ) مسجد میں نماز ادا کرنے اور دینی سرگرمیوں سے استفادہ کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔ اور

(ج)        تنظیم کی طرف دعوت دینے کے بجائے معاشرے کے اسلامی شعور کو بلند کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

اجتماعی نظم زکوٰۃ:

اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے زکوٰۃ کے مطلوبہ اجتماعی نظم کی نوعیت اقامت صلوٰۃ کے نظم کے مماثل ہے۔ اِس اجتماعی نظم کو سارے مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر ہونا چاہیے اور اِس نظم کا قیام مکمل اسلامی معاشرے کے قیام کی جانب پیش رفت میں مددگار ہوناچاہیے۔ عملی اعتبار سے کسی علاقے یا بستی میں  اجتماعی نظم کے قیام کے لئے درج ذیل صورت اختیار کی جاسکتی ہے:

(الف)    مسلمانوں کی کسی معروف تنظیم یا ادارے کو اجتماعی نظم زکوٰۃ کے قیام کا کام اپنے ذمّے لینا چاہیے۔ اُس ادارے یا تنظیم کی امانت ودیانت نیز انتظامی صلاحیت پر عام مسلمانوں کو اعتبار ہوناچاہیے۔

(ب)       اس اجتماعی نظم زکوٰۃ کو شورائیت کے اصول کی پابندی کرنی چاہیے اور بتدریج اُس کے دائرے کو وسیع کرکے بستی کے تمام صالح افراد کی نمائندگی کو مشاورت میں یقینی بنانا چاہیے۔

(ج)        اِس اجتماعی نظم کے لئے ضروری ہوگا کہ تمام صاحب نصاب مسلمانوں سے ربط قائم کرکے انہیں زکوٰۃ کی ادائیگی پر آمادہ کرے۔

(د)           اجتماعی نظم کو اپنے حسابات باقاعدہ رکھنے چاہئیں اور وہ حسب ضابطہ تمام لوگوں کے علم میں آنے چاہئیں۔

(ہ)          اس اجتماعی نظم کے لئے ضروری ہوگا کہ تمام مستحق مسلمانوں کی، بلحاظ استحقاق مدد کرے اور ان کے درمیان (استحقاق کے علاوہ، کسی اور بنیاد پر) کوئی تفریق نہ کرے۔

(و)          اِس نظم کے لئے یہ بھی ضروری ہوگا کہ جو اجتماعی کام (مثلاً تعلیمی ادارے) فی سبیل اللہ کی مَد سے متعلق سمجھے جائیں اُن کی انجام دہی کے لئے بھی زکوٰۃ کی رقم، مناسب حد تک (باہمی مشورے کے بعد) خرچ کرے۔

(ز)          مستحق افراد کی مدد کرنے کے لئے آبادی کے ضرورت مندوں کا سروے (Survey) ضروری ہوگا تاکہ صحیح معلومات کی روشنی میں ترجیحات طے کی جاسکیں۔

یہ وہ ابتدائی خاکہ ہے جس کو سامنے رکھ کر آغاز کیاجاسکتاہے اور تفصیلی نقشہ کار مرتب کیاجاسکتاہے۔ اِس وقت ہمارے ملک میں مختلف مقامات پر اجتماعی نظم زکوٰۃ کے تجربات کئے جارہے ہیں ۔ اُن سے سیکھ کر انہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اس طرح کے ہر اجتماعی نظم کو مندرجہ بالا اصولوں کاپابند ہونا چاہیے۔ یعنی امانت ودیانت، شورائیت، سارے مسلمانوں سے وسائل حاصل کرنا، سارے مسلمانوں پر خرچ کرنا، شفافیت، اجتماعی کاموں ( فی سبیل اللہ ) پر توجہ اور مستحقین کا سروے (Survey)۔ اجتماعی نظم زکوٰۃ کے قیام اور اُس کے درست نظم وانصرام کے لئے بعض تیاریوں کی بھی ضرورت ہے۔ ذیل میں اُن کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔

محرکات و تصورات:

مسلمانوں کی موجودہ دینی زندگی میں پیش قدمی اور حرکت  نہیں پائی جاتی۔ اس لئے وہ ایسے کام کرنے سے گھبراتے ہیں جو منصوبہ بندی اور مستقل جدوجہد چاہتے ہوں۔ اس لئے کسی مفید منصوبے کے آغازسے قبل مسلمانوں کے تصورات میں تازگی پیداکرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے دین کا مطالبہ صرف اتنا نہیں ہے کہ ہم انفرادی طور پر باعمل مسلمان بن جائیں بلکہ اُس کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر بھی دین پر عمل کریں۔ اس اجتماعی عمل کی مکمل، مطلوب اور مثالی شکل تو اسلامی ریاست ہے لیکن جب تک اسلامی ریاست قائم نہ ہو اُس وقت تک مسلم سماج، ریاست  کا قائم مقام ہے اور اِس سماج کو وہ سارے کام انجام دینے چاہئیں (جس حد تک ممکن ہو) جو ریاست انجام دیتی ہے۔

اجتماعی کاموں کی یہ انجام دہی اقامت دین کے مفہوم میں شامل ہے۔ عملاً یہ کام کرنے کے لئے اداروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لئے مسلم قیادت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ضروری اداروں کی بنیاد رکھے اور اُن کے لئے منصوبہ بندی کرے نیز وسائل فراہم کرے۔

انتظامی تربیت:

مسلمان جو دینی سرگرمیاں شروع کرتے ہیں عموماً اُن کو بلا کسی تربیت وتیاری کے انجام دینے لگتے ہیں۔ مسلمانوں کی اصلاح ، وعظ وتلقین، دین کی دعوت، خدمتِ خلق، رائے عامہ کی تربیت کے لئے ذرائع ابلاغ کااستعمال اور اِس طرح کے دیگر کاموں کو لوگ بلاکسی تربیت کے شروع کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میدانِ کار خود تمام ضروری باتیں سکھادے گا۔

ایک حد تک یہ خیال صحیح ہے کہ تربیت میدان میں ہوتی ہے۔ لیکن پورے طور پر یہ بات صحیح نہیں ہے۔ تمام دینی کام (جوسماج میں انجام دیئے جائیں) بہرحال ضروری معلومات چاہتے ہیں۔ جو افراد دین کے کسی شعبے کی خدمت انجام دے رہے ہوں انہیں دین کے اس پہلو کی بنیادی معلومات ضرور حاصل ہونی چاہئیں۔ اِسی طرح سماجی کام فنی اور انتظامی تربیت بھی چاہتے ہیں۔چنانچہ زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کو چلانے والے افراد کی تربیت اس نظم کو اچھے ڈھنگ پر چلانے کے لئے ناگزیر ہے۔ قرآن مجید میں ایسے افراد کو عاملین علیہا کہاگیاہے۔ اُن کے کام کے ضمن میں ہونے والے اخراجات (جِن میں اُن کو پیش کئے جانے والا کفاف اور انتظامی اخراجات شامل ہیں) زکوٰۃ کی رقم سے ادا کئے جاسکتے ہیں۔ اِن افراد کو زکوٰۃ کی حیثیت، دین میں اس کے مقام اور زکوٰۃ کے ضروری مسائل سے واقف ہوناچاہیے اس کے علاوہ حسابات رکھنے، فیلڈورک اور سروے کرنے، ضروری معلومات کاریکارڈ رکھنے اور منصوبہ بندی کرنے کی تربیت بھی دی جانی چاہیے۔

اخلاقی تربیت:

انتظامی اور فنی تربیت سے زیادہ ضروری، اخلاقی تربیت ہے۔ جو لوگ خلق خدا کی خدمت کریں اُن کو کردار کی خوبیوں سے آراستہ ہوناچاہیے امانت ودیانت کے علاوہ جو بنیادی او صاف درکار ہیں اُن کا تذکرہ قرآن مجیدمیں تفصیل سے کیاگیاہے۔ سورہ بقرہ کی آیات ۲۶۱تا ۲۷۴میں انفاق کے ضمن میں ذیل کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان ہدایات کی پابندی کرنے والے کارکنان ہی اجتماعی نظم زکوٰۃ قائم کرسکتے اور اس کو چلاسکتے ہیں۔ان ہدایات کا خلاصہ یہ ہے:

(i)          خرچ کرکے احسان نہ جتایاجائے اور مستحق فرد کو دُکھ نہ دیاجائے۔

(ii)         لوگوں سے میٹھی بات کہی جائے اور اُن کی ناگوار باتیں گوارا کرلی جائیں۔

(iii)       اپنا رویہ اُن لوگوں جیسا نہ بنایا جائے جو ریاکاری کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔

(iv)        اپنا اچھا مال اللہ کی راہ میں صَرف کیا جائے اور بری چیزیں چھانٹ کر اللہ کی راہ کے لئے نہ نکالی جائیں۔

(v)         اپنی نذر بہرحال پوری کی جائے۔

(vi)        حاجت مندوں کی پوشیدہ مدد بہتر ہے۔ (گرچہ علانیہ دینے کی بھی اجازت ہے۔)

(vii)       لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمے داری تم پر نہیں ہے (اِس لئے مدد دینے میں صرف استحقاق کو معیار بنایا جائے۔)

(viii) خاص طور پر مدد کے مستحق وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنا وقت لگاتے ہیں اور ذاتی کسب معاش کے لئے زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔

(iv)        کچھ لوگ خود دارہوتے ہیں اور لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے پھرتے۔ اُن کی خود داری دیکھ کر ناواقف لوگ اُن کو خوش حال سمجھ لیتے ہیں ۔ لیکن اُن کے چہروں سے اُن کی اندرونی حالت کو جانا جاسکتا ہے۔ بسااوقات یہ لپٹ کر مانگنے والوں سے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔

 این جی او کلچر اور دفتري ذہنیت سے پرہیز:

اجتماعی نظم زکوٰۃ کے تجربات ہمارے ملک میں ہورہے ہیں۔ بسااوقات یہ کام شروع کئے گئے پھر یہ جاری نہ رہ سکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ضروری منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور کام کرنے والوں میں لگن اور مستقل مزاجی کی کمی تھی۔ لیکن زیادہ اہم وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے سماج کا عام تعاون حاصل نہیں کیا گیا اور شفافیت و شورائیت کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ ناکام تجربات کو سامنے رکھ کر اُن کی غلطیوں سے بچنا ضروری ہے۔

غیر مستقل مزاجی اور محنت وجذبے کی کمی کے علاوہ ایک عام کمزوری نامطلوب دفتری ذہنیت کامظاہرہ ہے۔ سرکاری دفاتر کے کارکن اصولاً تو عوام کے خادم ہوتے ہیں لیکن عملاً اُن کا رویہ کام چوری اور بددیانتی نیز فرض ناشناسی کاہوتا ہے۔ وہ کاموں کو ٹالنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ جو شخص اُن کی طرف رجوع کرتا ہے اُس کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اُسے یہ بتاتے ہیں کہ آج فائل نہیں مل رہی ہے۔ یا متعلقہ فرد چھٹی پر ہے۔ یا لنچ کے بعد آنا۔ ایسے سرکاری کارکنوں کو کاموں کو ٹالنے میں بڑی مہارت حاصل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یہی رویہ ہمارے بعض دینی اداروں میں خدمت خلق سے متعلق کارکنوں کا بھی ہوتاہے۔ وہ مستحقین کو بار بار آنے پر مجبور کرتے ہیں اُن کو جھڑکتے اور اُن کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں، اُن کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں اور بسااوقات اُن کا استحصال تک کرگزرتے ہیں۔ اِس طرح ایک کارِ خیر دورِ حاضر کی دفتری ذہنیت سے متاثر ہوکر ضرورت مندوں کو تنگ کرنے اور دُکھ پہنچانے والا عمل بن جاتا ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ سائل یا مستحق اپنی درخواست پیش کرنے کے بعد مطمئن ہوجائے کہ ضروری کارروائی کردی جائے گی۔ دینی ادارے کے کارکنوں کو چاہیے کہ ضروری تحقیق کرکے خود اُس شخص کے پاس پہنچیں اور اُس کی ضروری مدد کردیں۔ کم از کم اِتنا تو ہونا ہی چاہیے کہ اُس کو بار بار دوڑنے پر مجبور نہ کریں۔

دوسری بڑی خرابی این جی او کلچر سے متاثر ہونے کی ہے۔ پچھلی ربع صدی میں ہندوستانی  حکومت گلوبلائزیشن کے فساد انگیز نعرے سے متاثر ہوئی ہے اور اُس نے فلاحی ریاست ہونے کی ذمے داری اصولاً بھی چھوڑ دی ہے۔ چنانچہ عوام کی خدمت کے تمام کام وہ این جی او (غیر سرکاری تنظیموں) کے سپرد کرتی جارہی ہے۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں حقیقی خدمت کے بجائے نمائشی کام کرتی ہیں اورعموماً ناتجربہ کار اور اخلاق سے عاری کارکنوں سے کام لیتی ہیں۔ این جی اوز رقم بڑے سرمایہ داروں یا حکومتی وبین الاقوامی ایجنسیوں سے حاصل کرتی ہیں۔ (سرمایہ داروں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں جن کے تحت وہ یہ چاہتے ہیں کہ وسیع پیمانے پر اپنا کاروبارِ استحصال تو جاری رکھیں البتہ کچھ نمائشی خدمت بھی کردیاکریں۔)

اس فضا سے متاثر ہوکر بسا اوقات دینی ادارے بھی کاموں کے بجائے اُن کی نمائش کی طرف مائل ہونے لگے ہیں اور سرمایہ داروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں ۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ این جی او کلچر کے تمام اثرات سے سختی سے بچا جائے اور اپنے اجتماعی اداروں کو اِن مُضر اثرات سے بچایاجائے۔ اللہ کی رضا کے لئے، پاکیزہ وسائل کے ساتھ، صاف سُتھرے طریقوں سے، خدا ترس کارکنوں کے ہاتھوں جو کام انجام پائے گا وہ فلاح وکامرانی کا موجب ہوگا۔ دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی۔

مارچ 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau